نمازِ خوف کےاحکام و مسائل

نمازِ خوف کےاحکام و مسائل

نمازِ خوف اس خاص نماز کو کہتے ہیں جو جنگ، دشمن کے خوف، یا کسی شدید خطرے کی حالت میں پڑھی جاتی ہے- اس کا مقصد دشمن کے مقابلے کے ساتھ ساتھ نماز کی پابندی بھی برقرار رکھنا ہے-

نمازِ خوف اور قرآن پاک:

اللہ رب العزت نے ارشادفرمایا:

’’وَ اِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَ وَلْیَاْخُذُوْٓا اَسْلِحَتَہُمْقف فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِکُمْ ص وَلْتَاْتِ طَآئِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ وَلْیَاْخُذُوْا حِذْرَہُمْ وَ اَسْلِحَتَہُمْ ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَاَمْتِعَتِکُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْکُم مَّیْلَۃً وَّاحِدَۃً ط وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِّنْ مَّطَرٍ اَوْکُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَنْ تَضَعُوْٓا اَسْلِحَتَکُمْ ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَکُمْ ط اِنَّ اللہَ اَعَدَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّہِیْنًا‘‘[1]

’’اور اے محبوبِ مکرم(ﷺ)! جب آپ (ﷺ) ان میں تشریف فرما ہوں پھر نماز میں ان کی امامت کرو تو چاہئے کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہواور وہ اپنے ہتھیار لیے رہیں پھر جب وہ سجدہ کرلیں تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہوجائیں اور اب دوسری جماعت آئے جو اس وقت تک نماز میں شریک نہ تھی اب وہ تمہارے مقتدی ہوں اور چاہئے کہ اپنی پناہ اور اپنے ہتھیار لیے رہیں کافروں کی تمنا ہے کہ کہیں تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے اسباب سے غافل ہو جاؤ تو ایک دفعہ تم پر جھک یعنی جھپٹ پڑیں اور تم پر مضائقہ نہیں اگر تمہیں بارش کے سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو کہ اپنے ہتھیار کھول رکھو اور اپنی پناہ لیے رہو بیشک اللہ نے کافروں کیلئے خواری کا عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘-

شان نزول:

’’حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت جابر (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ غزوۂ ذاتُ الرِّقاع میں جب رسولِ اکرم (ﷺ) کو مشرکین نے دیکھا کہ آپ(ﷺ) نے تمام صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)کے ساتھ نمازِ ظہر باجماعت ادا فرمائی تو انہیں افسوس ہوا کہ انہوں نے اس وقت میں کیوں نہ حملہ کیا اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ کیا ہی اچھا موقع تھا- ان میں بعضوں نے کہا کہ اس کے بعد ایک اور نماز ہے جو مسلمانوں کو اپنے ماں باپ سے زیادہ پیاری ہے یعنی نمازِ عصر، لہٰذا جب مسلمان اس نماز کے لیے کھڑے ہوں تو پوری قوت سے حملہ کرکے انہیں قتل کردو- اس وقت حضرت جبریل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور انہوں نے آقاکریم(ﷺ) سے عرض کیا :یا رسول اللہ(ﷺ) ! یہ نماز ِخوف ہے یعنی اب یوں نماز پڑھیں‘‘- [2]

خوف كى دواقسام ہيں:ايك قسم ميں صف بنانى ممكن ہے، ليكن نماز ميں مشغول ہونے كى بنا پر خدشہ ہے كہ دشمن حملہ نہ كردے-ليكن خوف كى دوسرى قسم ميں نہ تو استقرار ممكن ہے اور نہ ہى صف بنانى ممكن ہے یعنی لڑائی اپنے زوروں پہ ہوتی ہے تو اس شخص کو چاہیے كہ اس كے ليے جس طرح بھى ممكن ہو نماز ادا كر لےاس کی طرف رہنمائی فرماتے ہوئے اللہ رب العزت نے ارشادفرمایا:

’’فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًاج فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوا اللہَ کَمَا عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ‘‘[3]

’’اگر تم خوف كا شكار ہو تو پيدل يا سوار ہو كر پھر جب اطمینان سے ہو تو اللہ کی یاد کرو جیسا اس نے سکھایا جو تم نہ جانتے تھے ‘‘-

’رِجَالًا‘‘ پيدل ’’رُکْبَانًا‘‘گھوڑوں اور اونٹوں اور باقى ہر قسم كى سوارى پر- اس حالت ميں قبلہ رخ ہونا لازم نہيں، چنانچہ خوف كى بنا پر معذور شخص كى يہ نماز ہو گى- یعنی جب شديد قسم كا خوف ہو اور دشمن كى تعداد زيادہ ہو اور اس وجہ سے منقسم ہونے كا خدشہ ہو تو اس وقت جس طرح ممكن ہو سكے نماز ادا كى جائے چنانچہ قيام سے ركوع اور ركوع و سجود سے اشارہ كى طرف منتقل ہو جائيں گے، جمہور علماء كرام كا يہى مؤقف ہے-

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں امام مجاہدؒ فرماتے ہیں:

’’یہ حکم اس وقت ہے جب گھمسان کی لڑائی اور بھگدڑ کی حالت ہوتواس وقت سوار اور پیدل دونوں جس طرح ممکن ہو دو رکعت نماز پڑھیں، جدھر بھی ان کا رخ ہو، اور سر کے اشارے سے رکوع و سجدہ ادا کریں‘‘- [4]

حضرت جابر بن عبداللہ(رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ

’’جب تلواروں سے جنگ ہو رہی ہو تو اپنے سرکے اشارہ سے نماز پڑھے خواہ اس کا منہ جس طرف بھی ہو ’’فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا‘‘ کی یہی تفسیر ہے‘‘- [5]

نماز خوف اور احادیث مبارکہ :

صلوۃ خوف کے بارے میں کم وبیش سولہ(16) صحیح روایات مبارکہ مذکورہیں جو سب کی سب درست ہیں -یہاں دو احادیث مبارکہ لکھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں :

’’ابو عیاش الزرقی (رضی اللہ عنہ)بیان فرماتے ہیں کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) مقامِ عسفان(مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے) پر دشمن کے مقابل صف آرا تھے اور مشرکوں کی طرف سے خالد بن وليد(جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ) لشکر کے سردار تھے- پس سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کو ظہر کی نماز پڑھائی- پھر سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے انہیں عصر کی نماز پڑھائی- آپ( ﷺ) نے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کو اپنے پیچھے دو صفوں میں کھڑا کیا - پس رسول اللہ (ﷺ )نے سب کے ساتھ رکوع کیا - جب سب نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ (ﷺ) کے قریب والی صف نے آپ (ﷺ) کے ساتھ سجدہ کیا، جبکہ دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کھڑے رہے (تاکہ دشمن پر نظر رکھیں)-پھر جب پہلی صف والے سجدے سے سر اٹھا چکے تو پچھلی صف نے، جس نے رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ رکوع کیا تھا، اب سجدہ کیا-اس کے بعد اگلی صف پیچھے ہٹ گئی اور پچھلی صف آگے آ گئی، یہاں تک کہ ہر شخص اپنے ساتھی کی جگہ پر آ گیا-پھر رسول اللہ (ﷺ) نے سب کے ساتھ (دوسری رکعت کا) رکوع کیا- جب صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ (ﷺ )کے قریب والی صف نے آپ (ﷺ) کے ساتھ سجدہ کیا اور صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)  (جو دوسری صف میں تھے) کھڑے رہے -پھر جب یہ لوگ اپنے سجدوں سے فارغ ہو گئے تو دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) نے سجدہ کیا،اس کے بعد حضور نبی کریم (ﷺ) نے سب کے ساتھ سلام کیا‘‘- [6]

جیساکہ پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے کہ نمازِ خوف باجماعت تواس وقت ادا کی جاتی ہے جب اتنی فرصت ملے کہ انسان امام کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرسکے لیکن اگر سخت جنگ ہو اور مسلمانوں کے لیے باقاعدہ صف بندی کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرناممکن نہ ہوتو انسان چلتے ہوئے یا سواری پر بھی نماز ادا کر سکتاہے -جیساکہ امام بخاریؒ حضرت عبد الله بن عمر (رضی اللہ عنہ)سے ایک طویل روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’اگر خوف زیادہ شدید ہو تو لوگ پیدل کھڑے ہو کر یا سوار ہو کر نماز پڑھ لیں، خواہ قبلہ رخ ہوں یا قبلہ رخ نہ ہوں‘‘- [7]

نماز ِ خوف اور فقہاء کرام :

 تقریباً ہر فقیہہ نے نماز خوف کے بارے میں الگ باب باندھا ہے اوراس کے احکام کو تفصیل سے لکھنے کی کوشش فرمائی ہے زیادہ تر چونکہ نما زخوف سفر کی حالت میں ہوتی ہے اس لیے اس کے احکام تفصیلاً ہیں لیکن بعض اوقات بعض مجاہدین مقیم، بعض مسافر، اسی طرح امام بھی مقیم یا مسافر ہو سکتا ہے تو ایسی صورت حال پیش ہوتو فتاوٰ ی ہندیہ میں ان ساری صورت حال کو سامنے رکھ کر اس کا طریقہ تفصیلاً درج فرمایا ہے جس کی تفصیل و خلاصہ کچھ یوں ہے :

اگر امام اور قوم کے لوگ سب مسافر ہوںتو امام کے لیے افضل یہ ہے کہ قوم کے دو گروہ کرے ایک گروہ دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہو اور ایک گروہ کے ساتھ ایک رکعت پڑھے پھر یہ گروہ دشمن کے مقابلہ میں چلا جائے اور دوسرا گروہ جو دشمن کے مقابلے میں ہے وہ آئے اور امام اتنی دیر تک بیٹھا ہوا ان کا انتظار کرتا رہے پھر ان کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر تشہد پڑھے اور سلام پھیرے- جماعت کے لوگ جو اس کے پیچھے ہیں اس کے ساتھ سلام نہ پھریں اور دشمن کے مقابلہ پر چلے جائیں- پھر پہلا گروہ اپنی نماز کی جگہ پر آئے اور ایک رکعت بغیر قرات کے پڑھے (کیونکہ وہ لاحق ہے ) اور جب ایک رکعت پڑ ھ چکے ہے تو بقدر تشہد قعدہ کر کے سلام پھیرے اور دشمن کے مقابلہ پر چلا جائے پھر دوسرا گروہ اپنی نماز کی جگہ پر آئے اور رکعت قرات کے ساتھ پڑھے(کیونکہ یہ مسبوق ہیں )

اگر امام اور قوم دونوں مقیم ہوں اور نماز چار رکعتوں کی ہو تو ایک گروہ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھ کر بقدر تشہد قعدہ کرے پھر یہ گروہ دشمن کے مقابلہ پر چلا جائے اور دوسرا گروہ جو دشمن کے مقابلہ پر ہو وہ آئے اور امام بیٹھا ہوا ان کے آنے کا انتظار کرتا رہے پھر ان کے ساتھ دو رکعتیں پڑھے پھر تشہد پڑھے اور سلام پھیرے اور اس کے ساتھ دوسرا گروہ سلام نہ پھیرے اور دشمن کے مقابلہ پر چلا جائے پھر پہلے گروہ کے لوگ آئیں اور بغیر قرأت کے پڑھیں اور اگر امام مقیم ہو اور جماعت کے لوگ مسافر ہوں اور بعض مقیم ہوں اور بعض مسافر ہوں تو حکم وہی ہے جو سب مقیم کے ہونے کی صورت میں ہوتا ہے-

اگر امام مسافر ہو اور قوم کے لوگ مقیم ہوں تو ایک گروہ کے ساتھ ایک رکعت پڑھے پھر دشمن کے مقابلے پر چلے جائیں پھر دوسرے گروہ کے ساتھ ایک رکعت پڑھے اور سلام پھیرے پھر پہلا گروہ آئے اور تین رکعت بغیر قرأت کے پڑھیں اس لیے کہ وہ اوّل سے نماز میں شریک تھے پھر جب وہ اپنی نماز پوری کر چکیں تو دشمن کے مقابلے پر چلے جائیں اور دوسرا گروہ اپنی نماز کی جگہ پر آئے اوروہ تین رکعتیں پڑھیں- پہلی رکعت میں الحمد اور سورت پڑھیں اس لیے کہ وہ مسبوق ہیں اور اخیر کی دو رکعتوں میں صرف الحمدپڑھیں اور اگر امام مسافر ہو اور قوم کے کچھ لوگ مقیم ہوں اور بعض مسافر ہوں تو امام پہلے گروہ کے ساتھ ایک رکعت پڑھے پھر وہ دشمن کے مقابلے پر چلے جائیں اور دوسرا گروہ آئے اور امام ان کے ساتھ ایک رکعت پڑھے پھر پس جو امام کے پیچھے مسافر تھا اس کی نماز میں صرف ایک رکعت باقی ہے اور جو مقیم تھا اس کی نماز میں تین رکعت باقی ہیں پھر وہ دشمن کے مقابلے پر چلے جائیں اور پہلا گروہ امام کے پاس آئے اور جو مسافر ہے وہ ایک رکعت بغیر قرأت کے پڑھ لے کیونکہ وہ لاحق ہے اور جو مقیم ہے ظاہر روایت کے مطابق تین رکعتیں بغیر قرأت کے پڑھے اور پھر جب پہلا گروہ اپنی نماز پوری کر چکے تو وہ دشمن کے مقابلے پر چلا جائے اور دوسرا گروہ اپنی نماز کی جگہ پر آئے اور جو ان میں سے مسافر ہو وہ ایک رکعت قرأت کے ساتھ پڑھے اس لیے کہ وہ مسبوق ہے اور جو مقیم ہو وہ تین رکعتیں پڑھیں پہلی رکعت الحمد اور سورت کے ساتھ پڑھے اور اخیر کی دو رکعتیں سب روایتوں کے مطابق صرف الحمد پڑھے ‘‘- [8]

آج کے دور میں بھی اگرایسی صورت حال بنتی ہے توقرآن پاک،احادیث مبارکہ اورفقہاءکرام کی تصریحات کی روشنی میں اس کی تفصیل کچھ یوں بنے گی -

امام اپنے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کرے، پھر لشکر کا ایک حصہ امام کی اقتدا میں ہو جبکہ دوسرا حصہ دشمنوں کے سامنے- پہلا حصہ امام کی اقتدا میں دو رکعت والی نماز ہونے کی صورت میں پہلی رکعت پڑھے (یعنی سجدے تک) اور دو سے زیادہ رکعت والی نماز ہونے کی صورت میں شروع کی دو رکعتیں پڑھے (یعنی قعدۂ اولی کے تشہد تک) پھر پہلا حصہ دشمن کے سامنے چلا جائے اور دوسرا حصہ امام کے پیچھے مسبوق بن کر اقتدا کرے- دوسرا حصہ امام کی نماز مکمل ہونے پر امام کے ساتھ سلام نہ پھیرے بلکہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد دشمن کے سامنے چلا جائے اور پہلا حصہ نماز کی جگہ لوٹ آئے اور لاحق کی حیثیت سے نماز مکمل کرے -پہلے حصے کے نماز مکمل کرنے کے بعد یہ حصہ دشمن کے سامنے جائے اور دوسرا حصہ نماز کی جگہ آکر مسبوق کی حیثیت سے نماز مکمل کرے-

مسبوق و لاحق کی وضاحت:

مذکورہ عبارت میں لاحق ومسبوق کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں مناسب ہوگا ان کی وضاحت کردی جائے -مسبوق اُس شخص کو کہتے ہیں جس کی شروع کی رکعتیں چھوٹ گئیں اور بعد میں جماعت میں شامل ہوا-مثلاًدورکعت کی جماعت میں دوسری رکعت میں شامل ہو،تو وہ مسبوق کہلائے گا-مسبوق کو امام کے ساتھ جتنی نماز مل جائے وہ ادا کرےگاجو رکعت امام کے ساتھ مل جائے وہ اس کی نماز کا حصہ شمار ہوگی-امام کے سلام کے بعد باقی رکعتیں پوری کرے،امام سلام پھیر دے تو مسبوق کھڑا ہو کر اپنی چھُوٹی ہوئی رکعتیں ادا کرے گا-اپنی باقی رکعتوں میں قرأت کرے گاکیونکہ وہ اب منفرد (اکیلا نماز پڑھنے والا) کی طرح نماز مکمل کر رہا ہوتا ہے-مثلاًایک شخص مغرب کی نماز میں آخری رکعت میں شامل ہوا،امام کے ساتھ ایک رکعت ملی-امام کے سلام کے بعد وہ کھڑا ہوگا اور دو رکعتیں مزید پڑھے گا-لیکن ہررکعت کے بعد تشہد پڑھے گا اور التحیات پڑھے گا کیونکہ دوسری رکعت قرأت کے لحاظ سے پہلی اور تعداد کے لحاظ سے دوسری ہے اور آخری رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورہ اخلاص وغیرہ بھی پڑھے گا کیونکہ یہ تعداد کے لحاظ سے تو آخری لیکن قرأت کے لحاظ سے دوسری ہے-

لاحق: شروع سے امام کے ساتھ تھا، درمیان میں کچھ حصہ رہ گیا-جب امام سلام پھیر دے تو لاحق فوراً کھڑا ہو کر اپنی باقی نماز پوری کرے گا، امام کے ساتھ سلام نہیں پھیرے گا-مثال کے طور پہ ایک شخص امام کے ساتھ نمازِ عصر میں شامل ہوا- دوسری رکعت میں وضو ٹوٹ گیا- اس نے وضو کیا اور واپس آ گیا جبکہ امام آخری رکعت میں تھا-اب یہ شخص امام کے سلام کے بعد اپنی فوت شدہ رکعتیں ادا کرے گا، وہ اپنی فوت شدہ رکعتیں اسی ترتیب سے پوری کرے گا جس ترتیب سے نماز رہ گئی تھی-لیکن سورۂ فاتحہ اور سورت نہیں پڑھے گا یعنی قرأت نہیں کرے گا کیونکہ وہ حکماً امام کے پیچھے مقتدی ہی ہے اور فقہ حنفی کی رو سے مقتدی قرأت نہیں کرتا-لیکن اگر امام نے سجدۂ سہو کیا تو لاحق بھی امام کے ساتھ کرے گا-

البتہ سوال یہ ہے کہ قرأت کی مقدار کے برابر کیا کرے؟اس کا حکم یہ ہے کہ وہ اتنی دیر خاموش کھڑا رہے گا جتنی دیر میں سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھی جاتی ہے-پھر رکوع میں چلا جائے گا-یاپھر بعض علماء کرام نے تسبیح، ذکر یا دعا میں مشغول ہو نے کی اجازت دی ہے لیکن وہ قرأت کی نیت سے قرآن نہیں پڑھے گا یہ حکم اس لیے ہے کیونکہ اب بھی وہ مقتدی کے حکم میں ہے جیساکہ امام کاسانیؒ  (المتوفیٰ: 587ھ)لکھتے ہیں:

’’بہرحال لاحق تو گویا یہ امام کے پیچھے یعنی مقتدی ہے، اسی وجہ سے اس پر قرأت اور سجدہ سہو نہیں، جیساکہ حقیقتاً مقتدی ہونے کی صورت میں ہوتا ہے ‘‘- [9]

 نوٹ:نماز کے دوران بھی سپاہی اپنا اسلحہ ساتھ رکھیں گے-اگرچہ یہ عمل عملِ کثیر ہے اس نماز میں دشمن کی نقل و حرکت کے پیش نظر ایسے اعمال (چلنا، پھرنا) جائز ہیں-

٭٭٭


[1](النساء:102)

[2](تفسیر خازن زیرِ آیت، النساء:102)

[3](البقرۃ:239)

[4](تفسیر تبیان القرآن، زیر آیت، البقرۃ:239)

[5](تفسیر مجاہد، زیر آیت، البقرۃ:239)

[6](سنن النسائی، کتاب الخوف)

[7](صحیح بخاری، بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {’’فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا)

[8](فتاوٰی عالمگیری، باب صلوٰۃ الخوف)

[9](بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فَصْلٌ الْكَلَامُ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر