فکرِ حسین(رضی اللہ عنہ ) کی ترویج میں صوفیائےکرام کا کردار

فکرِ حسین(رضی اللہ عنہ ) کی ترویج میں صوفیائےکرام کا کردار

فکرِ حسین(رضی اللہ عنہ ) کی ترویج میں صوفیائےکرام کا کردار

مصنف: لیئق احمد جون 2026

فکرِ حسین(رضی اللہ عنہ):

فکرِ حسین دراصل یہ ہے کہ حق ہی طاقت ہے جبکہ یزیدیت اس زعم کا نام ہے کہ طاقت ہی حق ہے- یزید لعین نے سیاست، مال اور اخلاق کو کرپشن سے آلودہ کیا- اس کے برعکس امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ)نے عدل، تقویٰ اور ایثار کو جلا بخشی- یزید تخت بچا کر بھی تاریخ میں مردہ ہوا، امام حسینؓ سر کٹا کر بھی ابدی زندگی پا گئے- دنیا میں حق کے ساتھ اور باطل کے خلاف کھڑے ہونے والا ہر شخص حسینی فکر کا قائل ہے جبکہ وہ لوگ جن کے دلوں اور دماغوں پر دنیا زنار، نفس و شیطان اور ہوا و ہوس نے زنگ پھیر دیا ہے یہاں تک کہ وہ ظلم و جبر اور حق تلفی پر اتر آئے ہیں وہ یزیدی لشکر کے پیرو ہیں-

فکرِ حسین (رضی اللہ عنہ)کی ترویج:

خاتم النبیین (ﷺ) کی امت کے صوفیاء کرام نے فکرِ حسینؓ کے جوہر کو مشعلِ راہ بنایا- ان بزرگوں نے خانقاہوں کے ذریعے امن، انسانیت اور حق گوئی کا وہ پیغام عام کیا جس کی بنیاد نواسۂ رسول (ﷺ) نے کربلا کے تپتے صحرا میں رکھی تھی- اصفیاء و اتقیاء کی جماعت نے امن کے ماحول میں حسینی لب و لہجے سے میدانِ عمل میں قلوب و اذہان کو تعصب، نفرت اور تمام تر بداخلاقیوں سے آزاد کرنے کی منصوبہ بندی کی اور جب میدانِ جنگ میں اترے تو حسینی تلوار اور حق کی یلغار سے دشمنوں کے مذموم مقاصد کو پاش پاش کرکے رکھ دیا-

یزید بربریت، جبر اور خیانت کا استعارہ تھا، ہے اور رہے گا مگر حسین پاک سراپا حق، انسانیت، صبر اور امانت ثابت ہوئے- کربلا کا اصل سبق ہار اور جیت کے مفہوم کی تبدیلی ہے- یہاں ظالم اپنی تمام تر خونریزی کے باوجود مٹ گیا اور مظلوم اپنی حق پرستی کی بدولت زندہ و تابندہ رہا- یزید نے معاشرے میں سیاسی، معاشی، مذہبی و اخلاقی بگاڑ پیدا کیا جسے مٹانے کے لیے خانوادۂ رسول (ﷺ) نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا- اسی فکرِ حسین کے ساتھ صوفیاء کرام رحمہم اللہ اجمعین نے اقتدار کی بندگی کے بجائے مساواتِ ایمانی کا درس دیا- فکرِ حسینؓ کی ترویج میں صوفی بزرگان کا کردار اسی ابدی سچائی کو نسل در نسل منتقل کرتا چلے آرہا ہے- آئیں تاریخ کے دریچوں سے جانیں کہ میدانِ تصوف کے شہسواروں نے کس طرح کربلا کے میدان کے شہسواروں کی رِیت کو اپنایا اور اپنے قول و فعل سے فکرِ حسینؓ کی ترویج و تبلیغ کی-

صوفیاء کرامؒ کے حسینی فکر سے مزین کردار:

اسلام کی تاریخ میں پیغامِ الٰہی کی حفاظت اور اسے نسلِ نو تک منتقل کرنے میں جماعتِ صحابہ (رضی اللہ عنھم) کے بعد تابعین و تبع تابعین، علماء و مشائخ، فقہاء و محدثین و صاحبانِ تصوف کا کردار نہایت کلیدی رہا ہے- امام حسین پاکؓ نے کربلا کے میدان میں جس عادلانہ نظام، ظلم کے خلاف انکار اور انسانی وقار کی بحالی کا علم بلند کیا تھا، صوفیاء کرام نے اسی فکرِ حسینی کو خانقاہوں سے نکال کر سماج کے پسے ہوئے طبقات تک پہنچایا- ان نفوسِ قدسیہ نے نہ صرف روحانی تربیت کی بلکہ اسلام کے معاشی اور سیاسی نظام کو ملوکیت کے جبر کے خلاف ایک ڈھال بنا کر پیش کیا-

فکرِ حسینؓ اور داتا علی ہجویریؒ (المتوفی: 465ھ)

حضرت سید علی بن عثمان ہجویری المعروف بہ داتا گنج بخشؒ نسبی اور فکری دونوں اعتبار سے خانوادۂ اہلِ بیت کے چشم و چراغ اور فکرِ حسینی کے عظیم علمبردار ہیں- آپ کا سلسلۂ نسب آٹھ واسطوں سے امام حسنؓ اور بالواسطہ امام حسینؓ سے ملتا ہے، جس کے اثرات آپ کی زندگی، زہد و تقویٰ اور تبلیغِ دین میں نمایاں نظر آتے ہیں- امام حسین پاکؓ نے کربلا کے میدان میں جس عادلانہ نظام اور حق کی سربلندی کا عملی نمونہ پیش کیا، داتا گنج بخشؒ نے اسے برصغیر میں اپنی علمی تصنیفات بشمول کشف المحجوب اور عملی کردار کے ذریعے دوام بخشا- آپؒ کی گفتگو کے ہر پہلو میں رضائے الٰہی اور عقائد و اعمال کی اصلاح کے جو پھول مہکتے ہیں وہ دراصل اسی حسینی گلشن کی خوشبو ہے جس نے ملوکیت کے اثرات کو زائل کر کے دلوں میں عشقِ رسول (ﷺ)، ادب و محبتِ اہلِ بیتِ اطہار اور حریتِ ایمانی کی شمع روشن کی- جس طرح امام حسینؓ نے ظاہری اقتدار کے مقابلے میں اصولوں کی پاسداری کو ترجیح دی، اسی طرح سید علی ہجویریؒ نے صوفیاء کے مروجہ لبادوں اور محض ظاہری شعار کے بجائے خودداری، عاجزی اور اخلاقِ حمیدہ کو تصوف کی بنیاد قرار دیا- آپؒ درویشوں کو دنیا دار (جس کا دل رغبتِ دنیا سے معمور ہوگیا ہو) کی صحبت سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں جو درحقیقت اسی حسینی استغناء کا پرتو ہے جو کسی جابر یا مادی قوت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتا ہے-

فکرِ حسینؓ اور امام غزالیؒ (المتوفی: 505ھ)

حجت الاسلام امام ابو حامدمحمد غزالیؒ کی علمی و اصلاحی تحریک دراصل اس ’’فکرِ حسینیؑ‘‘ کا فکری تسلسل ہے جس کا مقصد شریعت کی ظاہری روح کو باطنی طہارت اور اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ کرنا تھا- امام غزالیؒ نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف احیاء العلوم میں جس تزکیہ نفس اور اخلاقی انقلاب پر زور دیا، اس کا سرچشمہ وہی حسینیت ہے جو باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق کی خاطر جان کی قربانی کو ترجیح دیتی ہے- امام غزالیؒ کے نزدیک دین محض فقہی موشگافیوں کا نام نہیں بلکہ یہ اس باطنی طہارت کا عنوان ہے جو انسان کو ملوکیت اور یزیدیت کے اثرات سے پاک کر کے بندگیِ رب کے اعلیٰ مقام پر فائز کرتی ہے- آپ نے یونانی فلسفے کے خشک عقلی غلبے کے سامنے اس ’’عشقِ الٰہی‘‘ اور ’’استقامت‘‘ کی شمع روشن کی جو سید الشہداء کا خاصہ تھی- امام حسینؓ کے قاتلان اور یزید کے بارے میں امام غزالیؒ کا مؤقف ان کے کمالِ تقویٰ اور عدل پر مبنی ہے- انہوں نے یزید کے کردار کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) کا قتل سراسر ظلم اور ناحق تھا جس نے حریتِ فکر کے حلق میں زہر انڈیلنے کی سعئِ بد کی- امام غزالیؒ نے جدید دور کے یزیدی حمایتیوں کے برعکس، معرکہ کربلا کو کسی سیاسی جنگ کے بجائے حق و باطل کا ابدی معیار قرار دیا -  حقیقت یہ ہے کہ ’’تلقینِ غزالی‘‘ دراصل ’’فلسفۂ حسینؓ ‘‘ کی ہی وہ علمی شرح ہے جو امت کو جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے اور شریعت و تصوف میں توازن برقرار رکھنے کا درس دیتی ہے-

فکرِ حسینؓ اور سیدنا غوث الاعظم دستگیرؒ(المتوفی: 561ھ)

سیدنا غوث الاعظم حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کا شجرہ نسب والد کی طرف سے نواسۂ رسول، خلیفۃ الاسلام سیدنا حضرت امام حسنؓ اور والدہ کی طرف سے سید الشہداء امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ سے ملتا ہے، جس سے آپ حسنی و حسینی سید بنتے ہیں- آپؒ نے امت کی کامل تربیت کرکے ان میں فکری و عسکری لحاظ سے فکرِ حسینی کا احیاء فرمایا- آپ نے امام عالی مقام سیدنا امام حسین پاکؓ کےاسوۂ مبارک کی روشنی میں حق کی بالادستی اور نفس کی تطہیر کو اپنا مشن بنایا- آپ نے ایک ایسی علمی چھاؤنی بنائی جہاں سے باطل نظریات اور ظالم حکمرانوں کے خلاف فکری مزاحمت پیدا کی گئی- مؤرخین کہتے ہیں کہ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے مدارس اور خانقاہوں کے ذریعے ایک ایسی ہمہ گیر اصلاحی تحریک چلائی جس نے ملوکیت کے اثرات کو زائل کر کے حریتِ ایمانی کو زندہ کیا جو کہ عین روحِ حسینی ہے-[1]

فکرِ حسینؓ کی ایک بنیادی جہت استغناء اور جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے- سیدنا غوثِ پاکؒ کے دربار میں وقت کے خلفاء اور سلاطین جب دنیوی جاہ و حشم کے ساتھ حاضر ہوتے تو آپ کا رویہ ان کے ساتھ ایک ناصحِ مشفق مگر نہایت جری مصلح کا ہوتا- امام الشطنوفی ’’بہجۃ الاسرار‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ جب خلیفہ المستنجد باللہ نے اشرفیوں کی تھیلیاں پیش کیں تو آپ نے انہیں نچوڑ کر ان سے مظلوموں کا خون ٹپکا کر دکھا دیا- یہ واقعہ دراصل اس حسینیؑ فکر کی علامت ہے کہ ظلم کے مال سے کبھی روحانیت کی آبیاری نہیں ہو سکتی- [2]

شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے بغداد میں جس مدرسے کی بنیاد رکھی، وہ فقہ و حدیث کے مرکز کے ساتھ ساتھ حطین اور بیت المقدس کی فتح کا پہلا زینہ تھا- آپ کے اس مدرسے میں زیرِ تربیت علماء نے جہاں عوام کے عقائد کی اصلاح کی وہیں وقت پڑنے پر وہ مجاہدینِ حریت بن کرجو میدانِ جنگ میں باطل سے بھی ٹکرائے- سلطان صلاح الدین ایوبی کی فتوحاتِ اسلامیہ کا باب تاریخِ عالم کا وہ درخشندہ ورق ہے جس کے باطنی اسباب سے بہت کم لوگ واقف ہیں- حقیقتِ حال یہ ہے کہ معرکہِ بیت المقدس میں جس لشکری قوت نے فتح کا علم بلند کیا، اس کی اکثریت حضور غوثِ اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی قدس اللہ سرہ کے مدرسہ عالیہ کے فیض یافتہ تلامذہ اور مریدین پر مشتمل تھی- یہ مجاہدینِ صفِ شکن محض عسکری مہارت کے حامل نہ تھے بلکہ شب بیدار زاہد اور تقویٰ کے اس مرتبے پر فائز تھے کہ گویا ایک پوری خانقاہ میدانِ کارزار میں اتر آئی تھی- تاریخی شواہد اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایوبی فوج کا نصف سے زائد حصہ غوثِ اعظم کے مدرسے کے فارغ التحصیل طلبہ پر مبنی تھا، جبکہ بقیہ دستوں میں امام غزالی کے مدرسہ نظامیہ کے فیض یافتگان شامل تھے- مزید برآں، سلطانِ وقت کے معتمدِ خاص اور چیف ایڈوائزر، امام ابن قدامہ المقدسی الحنبلی بذاتِ خود ایک جلیل القدر فقیہ اور محدث تھے، حضور غوثِ پاک کے براہِ راست شاگرد اور خلیفہ تھے- ان کے ہمراہ ان کے برادرِ نسبتی امام عبدالغنی المقدسی الحنبلی بھی اسی روحانی و علمی شجرے سے وابستہ تھے-

معاصر مؤرخین کے مطابق نور الدین زنگی کے قادریہ سلسلے کے مشائخ سے گہرے مراسم تھے اور وہ غوث الاعظم کے لائے ہوئے اصلاحی منشور کو اپنی ریاست میں نافذ کرتے تھے- بیت المقدس کی فتح محض ایک عسکری کامیابی نہ تھی بلکہ یہ اس فکرِ حسینی کی جیت تھی جس نے مصلحت کو ٹھکرا کر حق کے لیے قیام کرنا سکھایا- شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے امت کو وہ فقرِ غیور عطا کیا جس نے صدیوں سے چھینی ہوئی آزادی کو دوبارہ مسلمانوں کا مقدر بنا دیا-[3]

آپ قدس اللہ سرہ کی تصنیفات بشمول الفتح الربانی، فتوح الغیب، سرالاسرار شریف سب تعلیماتِ حق کا پیش خیمہ ہیں جو علوم و عرفانِ سیدنا حسین پاکؓ کا منبع ہیں-

فکرِ حسینؓ اور حضرت معین الدین چشتیؒ(المتوفی: 633ھ)

ہندوستان کی سر زمین پر فکرِ حسینی کے اولین علم برداروں میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کا اسمِ گرامی سرِ فہرست ہے- 1166ء میں جب آپ اجمیر تشریف لائے تو یہاں کا معاشرہ طبقاتی تقسیم اور اچھوت پن کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا- آپ نے امام عالی مقام کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے مظلوم طبقات کو گلے لگایا اور انہیں اسلام کے عادلانہ نظام سے متعارف کروایا- آپ کی دعا کے نتیجے میں رائے پتھور کی گرفتاری اور جابر اقتدار کا خاتمہ دراصل اسی حسینی اصول کی عملی تفسیر تھی کہ ’’حق آ گیا اور باطل مٹ گیا‘‘-

فکرِ حسینؓ اور حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ (المتوفی: 661ھ)

ملتان اور سندھ کے خطے میں حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ نے نہ صرف قرامطہ جیسے گمراہ فرقوں کا قلع قمع کیا بلکہ زراعت، تجارت اور نہروں کی تعمیر کے ذریعے ایک خوشحال اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی- آپ کا سیاسی ذوق بھی حسینی بصیرت کا حامل تھا- جب منگولوں نے ملتان کا محاصرہ کیا تو آپ نے اپنی جیب سے خطیر رقم ادا کر کے انسانی خون بہنے سے بچایا- آپ نے ثابت کیا کہ ولی اللہ وہی ہے جو وقت پڑنے پر عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ڈھال بن جائے-

فکرِ حسینؓ اور حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ(المتوفی: 664ھ)

سلسلہ چشتیہ کے عظیم بزرگ بابا فرید الدین گنج شکرؒ نے پاکپتن (اجودھن) کو فیضانِ حسینی کا مرکز بنایا- آپ کی زندگی اس حسینی فقر کا نمونہ تھی جو مادی جاہ و جلال کو پائے استحقار سے ٹھکرا دیتی ہے- جب سلطان ناصر الدین محمود نے جاگیر اور نقد رقم پیش کی تو آپ نے اسے مسترد کر کے ثابت کر دیا کہ صوفی ملوکیت کا کاسہ لیس نہیں بلکہ حق کا نقیب ہوتا ہے- آپ کے اخلاق اور انسان دوستی کی بدولت پنجاب کے بڑے قبائل نے اسلام کے عادلانہ نظام میں پناہ لی جو کہ فکرِ شبیری کی خوشبو کا ہی تسلسل تھا-

فکرِ حسینؓ اور مولانا رومیؒ (المتوفی: 672ھ)

مولانا جلال الدین رومی کی صوفیانہ فکر میں معرکۂ کربلا روح کے سفر کی ایک عظیم تمثیل اور نفسِ امارہ کے خلاف جہادِ مسلسل کا استعارہ ہے- رومی کے نزدیک خرقۂ درویشی دراصل انھی نجیب الطرفین نسبتوں کا مجموعہ ہے جو ائمۂ اہل بیت کی دہلیز سے پھوٹتی ہیں- مولانا رومی اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ جو بھی ان کی فکر اور پیغام سے وابستہ ہے وہ حسنین کریمین کے اسوہ سے مستغنی نہیں ہو سکتا-

مولانا رومی عشق کی معراج اور انتہائے منزل کربلا کو قرار دیتے ہیں- ان کی نظر میں سچا عاشق وہ ہے جو موت کے خوف سے آزاد ہو کر میدانِ فنا میں رقص کرے کیونکہ شہید کبھی موت سے نہیں ڈرتا بلکہ وہ تو بقائے دوام کا طالب ہوتا ہے- دیوانِ شمس تبریزی میں وہ اہل حقوق اور اہل پارسائی کو جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر تم محض ظاہری عبادات اور مصلحت پسندی کے حصار میں مقید رہے تو کبھی کربلا کی اس حقیقت کو نہیں پا سکو گے جہاں جان کا نذرانہ پیش کر کے حق کو زندہ کیا جاتا ہے- مولانا رومی فرماتے ہیں:

کاین شھیدان ز مرگ نشکیبند
عاشقانند برفنا بودن
ششہ می گیر و روز عاشورا
تو نتانی بہ کربلا بودن

’’یہ شہید موت سے نہیں گھبراتے،کیونکہ وہ فنا میں بقا پانے والے عاشق ہوتے ہیں-ہوش سنبھال اور سمجھ لے کہ روزِ عاشوراہر شخص کے بس کی بات نہیں کہ کربلا والا بن سکے‘‘-

فکرِ حسینؓ اور حضرت نظام الدین اولیاءؒ (المتوفی: 725ھ)

حضرت نظام الدین اولیاءؒ نے دہلی میں بیٹھ کر اشاعتِ اسلام کا وہ جال بچھایا جس نے بنگال سے دکن تک انسانیت کو فیض پہنچایا- ان کے جانشین حضرت نصیر الدین چراغِ دہلیؒ کی فکری بصیرت کا عالم یہ تھا کہ جب وزیرِ مملکت نے عبادت کی بابت پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تمہاری عبادت حاجت مندوں کی حاجت روائی ہے-یعنی فرائض و عبادات کی پابندی کے ساتھ حاجت مندوں کی حاجت روائی بھی عظیم عبادت ہے، کیونکہ مخلوقِ خدا کی خدمت شریعتِ مطہرہ کی روح اور رضائے الٰہی کا ذریعہ ہے- یہ وہی فکر ہے جو امام حسینؓ نے سکھائی کہ دین فقط تسبیح و مناجات نہیں بلکہ انسانی حقوق کی پاسداری اور سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا نام ہے-

فکرِ حسینؓ اور سلطان حق باھوؒ (المتوفی: 1102ھ)

سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ قبیلۂ اعوان سے ہیں جو سادات کے معاون و مددگار و جاں نثار ہیں- سلطان حق باھُو کی تعلیمات میں امام عالی مقام سیدنا حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کی ذاتِ اقدس وہ پیمانہ ہے جس پر علم اور عمل کی سچائی کو پرکھا جاتا ہے- آپؒ کے نزدیک دین حق کیلئے ڈٹ جانے اور جان کا نذرانہ پیش کر دینے کا نام ہے- آپؒ اس عظیم فلسفے کو اپنے عارفانہ کلام میں بیان فرماتے ہیں کہ اگر دین محض ظاہری علم میں ہوتا تو امام حسین کا سرِ انور نیزے پر بلند نہ ہوتا- آپؒ کے نزدیک اٹھارہ ہزار عالموں کی موجودگی میں امام حسین کی قربانی یہ ثابت کرتی ہے کہ حقیقی علم وہی ہے جو اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ لٹا دینے کا حوصلہ دے-حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:

جے کر دین علم وچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھو ُ
اٹھارہ ہزار جو عالم آہا اوہ اگے حسینؑ دے مردے ھو ُ
جے کجھ ملاحظہ سرور(ﷺ) دا کردے تاں خیمے تمبو کیوں سڑدے ھو
جیکر مندے بیعت رسولی تاں پانی کیوں بند کردے ھو
پر صادق دین تنہاں دے باھو ُؒ جو سر قربانی کردے ھو

حضرت سلطان باھوؒ اپنے ابیات میں جابجا ان 'علمائے سُوء' کا سخت محاسبہ کرتے ہیں جنہوں نے یزیدی درباروں سے وابستہ ہو کر دین کو اپنی معیشت اور دنیاوی مراعات کا ذریعہ بنا لیا تھا- آپؒ کے اشارے واضح طور پر ان علماء کی طرف ہیں جنہوں نے مال و دولت کی ہوس میں عترتِ رسول(ﷺ) سے اعتصام ترک کر دیا تھا- آپؒ فرماتے ہیں کہ ایسا علم جو بادشاہوں اور حکمرانوں کو خوش کرنے کے لیے ہو وہ ہرگز خیر کا چشمہ نہیں بن سکتا بلکہ اس سے تفرقہ اور نفرت ہی جنم لیتی ہے- آپؒ نے ان علماء کو پھٹے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی جس سے مکھن نہیں نکل سکتا-

پَڑھ پَڑھ عِلم مَلوک رَجھاون کیا ہویا اُس پَڑھیاں ھو
ہرگِز مکھن مُول نہ آوے پھَٹے دُودھ دے کَڑھیاں ھو

آپؒ مزید فرماتے ہیں کہ ان دنیا پرست علماء کا مطمحِ نظر معرفتِ حق نہیں بلکہ فیسیں اور ویلیں ہیں-

جِتھے ویکھن چنگا چوکھا اُتھے پڑھن کلام سوائی ھو

سلطان العارفینؒ کے نزدیک ساداتِ کرام کی محبت و تعظیم ایمان کا جزوِ لاینفک اور معرفتِ الٰہی تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے- آپ اپنی تصنیف نور الہدیٰ میں صراحت کے ساتھ لکھتے ہیں کہ سادات کا دشمن دراصل حضور نبی کریم (ﷺ) اور اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے جبکہ ان کا دوست جنتی اور سنتِ نبوی کا حقیقی پیروکار ہے- آپؒ کے نزدیک جو شخص آلِ نبی(ﷺ)اور اولادِ علی و فاطمہ کا منکر ہے وہ زندگی بھر ریاضت کے پتھر سے سر پھوڑتا رہے لیکن کبھی معرفتِ الٰہی نہیں پا سکتا- حضرت سلطان باھوؒ نور الھدٰی  شریف میں لکھتے ہیں:

دشمنِ سادات دشمنِ مصطفٰیٰؐ
ہر کہ دشمن مصطفٰیٰؐ دشمن خدا

’’سادات کا دشمن مصطفےٰ (ﷺ) کا دشمن ہے اور مصطفےٰ (ﷺ) کا دشمن اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے‘‘-

دشمنِ سیّد بود اہل از بلشت
دوست دارِ سیّداں اہل از بہشت

’’سادات کا دشمن جہنمی ہے اور سادات کا دوست جنتی ہے‘‘-

ایک اور مقام پہ لکھتے ہیں:

دشمنِ سیّد بود اہل از خبیث
دوست دارِ سیّد اں اہل از حدیث

’’ سادات کا دشمن خبیث ہے اور سادات کا دوست سنت کی پیروی کرنے والا ہے‘‘-

حضرت سلطان باھوؒ ساداتِ کرام کو بارگاہِ خداوندی سے عطا کردہ عزت و شرف کا وارث قرار دیتے ہیں اور ان کی دشمنی کو ہوا پرستی سے تعبیر کرتے ہیں- آپؒ کی پوری زندگی اور کلام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ سادات کو نبی (ﷺ) کا نور اور سیدہ فاطمہؓ و حضرت علیؓ کی آنکھوں کی ٹھنڈک سمجھتے تھے- آپؒ کی فکرِ حسین سے وابستگی ان اشعار سے عیاں ہے-

دوست دارم سیّداں نورِ نبیؐ
نور دیدۂ فاطمہ حضرت علی

’’ مَیں سادات سے دوستی رکھتا ہوں کہ وہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نور ہیں اور حضر ت علی اور حضرت فاطمۃ الزہرہ(رضی اللہ عنہا) کے نورِ نظر ہیں‘‘-

سیّداں را عزّت و شرف از خدا
دشمنِ سیّد بود اہل از ہوا

’’ بارگاہِ خداوندی سے سادات کو شرف وعزت سے نوازا گیا ہے، سادات کا دشمن کوئی ہوا پرست ہی ہو سکتا ہے‘‘- (اہل ایمان نہیں )

حضرت سلطان باھوؒ نے یزیدی علماء کے مقابلے میں امام حسین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حق، سچائی اور قربانی کے اس آفاقی شعور کو عام کیا جو کسی مصلحت یا مادی لالچ کا اسیر نہیں ہوتا- المختصر یہ کہ سلطان العارفین نے کم و بیش 140 تصانیف مرقوم فرمائیں جن میں سے آج جتنی منظرِ عام پر ہیں، ان سب کا مطالعہ کیا جائے تو روزِ روشن کی طرح واضح ہوتا ہے کہ آپؒ نے فکرِ حسین کی ترویج کا صحیح معنوں میں حق ادا کیا-

فکرِ حسینؓ اور حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ (المتوفی: 1165ھ)

شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی صوفیانہ شاعری میں معرکۂ کربلا حق و باطل کے ابدی ٹکراؤ اور رضا کے فلسفے کا عکاس ہے- شاہ صاحب نے اپنے کلام میں پورا ایک ’’سر‘‘ (باب) جس کا نام ’’کیڈارو‘‘(میدانِ جنگ) رکھا ہے، شہدائے کربلا اور امام عالی مقام کی جرات و استقامت کیلئے وقف کیا ہے- آپؒ کے نزدیک محرم الحرام کا چاند سادات کے شہزادوں کے لیے اس عظیم آزمائش کے استقبال کا پیغام لاتا ہے جس کا فیصلہ روزِ ازل سے اللہ کی رضا میں ہو چکا تھا- شاہ صاحب ان شہزادوں کے عزم کو یوں بیان کرتے ہیں-

ڏٺو محرَّم ماھ، ٿئو سنڪو شھزادن ۾،
ڄاڻي ھيـڪ ﷲُ، پاڻ وڻنديون جو ڪري

’’جب ماہِ محرم آیا تو شہزادوں کے دلوں میں اضطراب پیدا ہوا،اور وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے گا، وہی ہوگا ‘‘-

آپؒ کے نزدیک یہ میدانِ جنگ دراصل میدانِ عشق تھا جہاں سادات کے شیروں نے بھوک، پیاس اور کوفیوں کی بے وفائی کے باوجود اللہ کی رضا کو ہر شے پر مقدم رکھا- شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ محرم تو واپس آ گیا مگر مدینے کے وہ سردار واپس نہ آئے جن کی یاد میں مکہ اور مدینہ آج بھی سوگوار ہیں- شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے ’’سر کیڈارو‘‘ میں سادات کی شجاعت اور یزیدی لشکر کے سامنے ان کے بے مثال جوہرِ جرأت کو نہایت پر زور انداز میں بیان کیا ہے- آپؒ کے نزدیک کربلا کے میدان میں اہل بیت کی آمد ایسی تھی جیسے شیر اپنی کچھار سے نکل کر باطل کو للکار رہے ہوں- جب سادات نے کربلا میں خیمے نصب کیے تو انہوں نے تلواروں کی تاب دیکھ کر پیٹھ نہیں موڑی بلکہ تقدیر کے اٹل فیصلے کو مسکراتے ہوئے قبول کیا- شاہ صاحب اس منظر کی عکاسی یوں کرتے ہیں:

ڪربلا جي پڙ ۾، مرڪي اُڀا مير
وڙهي ويرن سامھان، تکا ھنيائون تير
ھئي ايءَ تقدير، اصل امامن سين

’’کربلا کے میدان میں سرفروش بہادری سے کھڑے تھے- دشمنوں کے مقابل ڈٹ کر لڑے اور تیز تیر برسائے -یہی تقدیر ابتدا ہی سے اماموں کے ساتھ وابستہ تھی‘‘-

حضرت مخدوم جہانیاںؒ اور شیخ رکن الدینؒ

سلطان محمد بن تغلق کے غیظ و غضب سے اہلِ ملتان کو بچانے کیلئے حضرت شیخ رکن الدینؒ کا ننگے پاؤں سلطان کے دربار میں جانا اس جراتِ رندانہ کی یاد دلاتا ہے جو کربلا کا خاصہ ہے- اسی طرح حضرت مخدوم جہانیاںؒ کا فیروز شاہ تغلق کو عوامی حاجات کی فہرست تھمانا اس بات کی دلیل ہے کہ صوفیاء نے ہمیشہ بادشاہوں کے سامنے عوامی مفادات کی ترجمانی کی اور اقتدار کو انسانیت کی خدمت کیلئے استعمال کرنے پر مجبور کیا-

فکرِ حسینؓ اور علامہ محمد اقبال (المتوفی: 1357ھ)

حکیم الامت علامہ محمد اقبال کی فکر کا اساسی محور حرکت، حرارت اور تسلسلِ ارتقاء ہے- اقبال کے نزدیک انسانی زندگی کا کمال اس میں ہے کہ وہ کائناتی مقاصد کی تکمیل میں خالق کا دست و بازو بن جائے اور یہ تبھی ممکن ہے جب انسان حق و صداقت کی آفاقی اقدار کے احیاء کے لیے باطل کے سامنے صف آرا ہو جائے- اقبال کے نزدیک اسلام کی اصل روح ’’رسمِ شبیری‘‘ کی ادائیگی میں پنہاں ہے جو ایک دائمی طرزِ حیات ہے- اقبال معرکہ کربلا کو کسی سیاسی یا خاندانی جنگ کے طور پر بیان نہیں کرتے ہیں، ان کے ہاں یہ ’’عقل‘‘ اور ’’عشق‘‘کے ابدی معرکے کا عنوان قرار پایا ہے- ان کے نزدیک امام عالی مقامؓ ’’امامِ عاشقان‘‘ ہیں جنہوں نے عقلِ مصلحت اندیش کے برعکس عشقِ الٰہی کے تقاضوں کو پورا کیا- عقل جہاں اپنے مفاد اور بقاء کی فکر میں رہتی ہے وہیں عشق اپنی آزمائش اور قربانی سے حیاتِ نو تخلیق کرتا ہے- اقبال فرماتے ہیں کہ اسلام کی پوری عمارت اسی عشقِ حسینی سے عبارت ہے جس نے حق کو باطل سے ہمیشہ کیلئے جدا کر دیا-

عقل می گوید کہ خود را پیش کن
عشق گوید امتحان خویش کن
آن امامِ عاشقان پور بتول
سرو آزادے ز بستانِ رسول
سرخ رو عشق غیور از خون او
شوخی این مصرع از مضمون او

’’عقل کہتی ہے کہ پہلے اپنے آپ کو محفوظ کر،مگر عشق کہتا ہے کہ خود کو آزمائش میں ڈال -وہ امامِ عاشقاں، سیدۂ بتولؓ کے لعل،رسولؐ کے گلشن کا آزاد و سربلند سرو تھے-عشقِ غیرت مند اُن کے خون سے سرخ رو ہوااور اس شعر کی شوخی بھی اُنہی کے مضمون سے ہے ‘‘-

اقبال کی نگاہ میں مقامِ شبیری، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام)کے اس اجمالی خواب کی مفصل تعبیر ہے جسے قرآن مجید نے ’’ذبحِ عظیم‘‘ سے تعبیر کیا- امام حسین پاکؓ نے اپنے خون سے اس شجرِ اسلام کی آبیاری کی جسے ملوکیت اور استبداد کے زہر نے مرجھا دیا تھا- اقبال کے نزدیک امام حسین خلافتِ راشدہ کی ان اقدار کے محافظ تھے جن کا رشتہ قرآن کریم سے ٹوٹ چکا تھا- امام حسینؓ کی تکبیر نے نہ صرف اس وقت کی ملتِ خوابیدہ کو بیدار کیا بلکہ رہتی دنیا تک کے لیے حریت اور آزادی کا ایک نیا باب روشن کر دیا-

سر ابراہیم و اسمعیل بود
یعنی آن اجمال را تفصیل بود
اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر
معنی ذبحِ عظیم آمد پسر
در میان امت آں کیواں جناب
ہمچو حرفِ قل ھو اللہ در کتاب

’’وہ حضرت ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ کے راز کا مظہر تھے،یعنی جو حقیقت اجمال میں تھی، وہ اُن میں تفصیل بن کر ظاہر ہوئی-سبحان اللہ! باپ گویا بسم اللہ کی “باء” تھا،اور بیٹا “ذبحِ عظیم” کے معنی کا کامل ظہورامت کے درمیان وہ بلند مرتبہ ہستی ایسی تھی،جیسے قرآن میں سورۂ’’قُلْ هُوَ اللّٰهُ‘‘کا مقام‘‘-

اقبال کے ہاں فقر کے مختلف درجے ہیں لیکن ’’فقرِ شبیری‘‘ وہ کیمیا ہے جو انسان میں مٹی کو سونا کر دینے کی خاصیت پیدا کر دیتا ہے- وہ عصرِ حاضر کے مسلمانوں کو خانقاہوں کی بے عملی سے نکل کر میدانِ عمل میں آنے کی دعوت دیتے ہیں اور اسے حیاتِ ابدی کا راز قرار دیتے ہیں- اقبال کے کلام میں امام حسینؓ کا ذکر اس عزمِ مصمم کے حصول کے لیے ہے جو کسی فرعون کے سامنے سر نہیں جھکاتا- ان کا پیغام یہ ہے کہ اگر امت اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے پھر سے کوفہ و شام کی فضاؤں میں خونِ حسینؓ سے شادابی پیدا کرنی ہوگی-

اک فقر ہے شبیری، اس فقر میں ہے میری
میراثِ مسلمانی، سرمایہء شبیری
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

حرفِ آخر:

صوفیاء کرام کی زندگیوں، ان کے اعمال اور ان کی تعلیمات بلاشبہ فکرِ حسین (رضی اللہ عنہ) کی عملی ترویج تھیں جو آج کے انسان کو بھی وہی جرأت، بہادری، حق گوئی و بیباکی کا درس دیتی ہیں جسے امام عالی مقام، سید الشہداء سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ)نے دیا- اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں سچا حسینی بنائے- آمین!

٭٭٭


[1](ہکذا ظہر جیل صلاح الدین و ہکذا عادت القدس، اردو ترجمہ: صلاح الدین ایوبی کی نسل کیسے تیار ہوئی)

[2](امام ا بوالحسن الشطنوفی، بهجة الاسرار، ص: 171)

[3](تاریخِ دعوت و عںزیمت، جلد اول, ذکر شیخ عبد القادر جیلانیؒ)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر