موسمیاتی تبدیلیاں اور ہماری زمین: قرآن کریم اور سیرت النبیﷺ سے اخلاقی زاویہ نظر

موسمیاتی تبدیلیاں اور ہماری زمین: قرآن کریم اور سیرت النبیﷺ سے اخلاقی زاویہ نظر

موسمیاتی تبدیلیاں اور ہماری زمین: قرآن کریم اور سیرت النبیﷺ سے اخلاقی زاویہ نظر

مصنف: صاحبزادہ سلطان احمد علی فروری 2026

آج دنیا میں کسی بھی جاندار (Living being) یا حتیٰ کہ بے جان (Non-living) شے کی بات کی جائے ، تو ہر چیز کے اوپر ایک وجودی خطرہ (Existential threat) مسلّط (Imposed) ہے- اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانوں نے فطرت کے ساتھ غیر محتاط چھیڑ چھاڑ کی ہے- ہم نے فطرت کو نقصان پہنچایا ہے اور اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ فطرت یا تو ہم سے انتقام لے رہی ہے، یا پھر وہ خود کو ازخود بحال (Rehabilitate) کرنے کے عمل میں ہے اور اس عمل کی نوعیت کو ہم پوری طرح سمجھ نہیں پا رہے- ظاہر ہے کہ جو لوگ اس میدان کے ماہر ہیں، جو اس سائنس کو جانتے ہیں، وہی بہتر طور پر ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں کہ اصل میں یہ سب کیا ہے؟

اقوامِ متحدہ کے تحت حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) سے متعلق معاہدے، جنگلی جانوروں کی ہجرت کرنے والی اقسام کے تحفظ کا کنونشن(Convention on the Conservation of Migratory Species of Wild Animals) کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، مہاجر اقسام (Migratory Species) میں سے تقریباً 44 فیصد ایسی ہیں جو ختم ہونے یا معدومیت (Extinction) کے سنگین خطرے سے دوچار ہیں- ان مہاجر اقسام میں نیلی وہیل (Blue Whale)، گریٹ ہیمرہیڈ شارک (Great Hammerhead Shark)، بیلوگا (Beluga) اور اس طرح کی کئی دوسری اہم اقسام شامل ہیں، جو مختلف خطوں کے درمیان نقل مکانی کرتی ہیں-

اسی کنونشن کے مطابق، ان مہاجر انواع میں شامل مچھلیوں (Fishes) کی تقریباً 97 فیصد اقسام ایسی ہیں جو معدومیت کے خطرے (Threatened with Extinction) سے دوچار ہیں- مزید یہ کہ گزشتہ 50برسوں میں ان مچھلیوں کی مجموعی تعداد میں 90 فیصد تک کمی آ چکی ہے-

اسی طرح (Intergovernmental Science-Policy Platform on Biodiversity and Ecosystem Services) کی 2019ء کی رپورٹ کے مطابق، 1900ء سے لے کر 2019ء تک کے عرصے میں، سمندری حیات (Marine Life) اور زمین پر موجود زندگی کی مجموعی اقسام میں سے تقریباً 40 فیصد انواع ختم ہو چکی ہیں- یعنی صرف 119 برسوں میں قدرتی حیات کو ایسا نقصان پہنچا ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ملتی ہے-مزید وہ ممالیہ جانور جو پانی میں زندگی گزارتے ہیں لیکن انڈوں کے بجائے بچوں کو جنم دے کر اپنی نسل بڑھاتے ہیں، جیسے ہاربر سیلز (Harbor Seals)، ایلیفنٹ سیلز (Elephant Seals) اور سی لائنز (Sea Lions) وغیرہ، ان کی مجموعی تعداد میں تقریباً ایک تہائی کمی آ چکی ہے- اسی طرح ریڑھ کی ہڈی والے جانور (Vertebrate Species) میں سے تقریباً 680 اقسام گزشتہ 200برسوں کے دوران مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں- مزید یہ کہ جو ممالیہ جانور گھریلو سطح پر پالے جاتے ہیں (Domestic Mammals)، ان میں سے بھی تقریباً 9 فیصد اقسام ختم ہو چکی ہیں، جبکہ قریباً ایک ہزار ایسی اقسام موجود ہیں جو اس وقت معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں-  اگر ہم حشرات الارض (Insects) کی بات کریں، تو اس عرصے میں ان کی مجموعی تعداد میں بھی تقریباً 10 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے-

کورل ریف (coral reef) سمندری حیات کا ایک نہایت پیچیدہ اور قدیم نظام ہے، جو مرجان(coral) نامی جانداروں کے ذریعے تشکیل پاتا ہے- یہ جاندار اپنی حفاظت کے لیے کیلشیم کاربونیٹ کا خول بناتے ہیں، اور ہزاروں برسوں میں یہی عمل مل کر وسیع کورل ریف کی صورت اختیار کر لیتا ہے- اس کے نتیجے میں ایک مکمل ایکوسسٹم (ecosystem) وجود میں آتا ہے، جس میں بے شمار سمندری انواع آ کر رہائش اختیار کرتی ہیں- اسی وجہ سے کورل ریف کو ’’Rainforest of the Sea‘‘ کہا جاتا ہے-کورل ریف کی بقا ایک خاص ماحول سے وابستہ ہے، جس میں پانی کا مناسب درجۂ حرارت، شفافیت، نمکیات کا توازن اور آلودگی سے پاک ماحول شامل ہے- ماحول میں معمولی تبدیلی بھی اس نازک نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے نہ صرف کورل ریف بلکہ اس سے وابستہ پوری سمندری حیات خطرے میں پڑ جاتی ہے- عالمی رپورٹس کے مطابق سمندری حیات اس وقت شدید خطرات سے دوچار ہے- ورلڈ اکنامک فورم کے اندازوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث کورل ریف اس صدی کے وسط تک بڑے پیمانے پر ختم ہو سکتی ہیں، حالانکہ سمندری زندگی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ کورل ریف پر منحصر ہے- جبکہ اس صدی کے اختتام تک دنیا بھر سے کورل ریف ختم ہونے کا خدشہ ہے- اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2009ء سے 2018ء کے درمیان دنیا بھر میں تقریباً 14 فیصد کورل ریف پہلے ہی ختم ہو چکی ہیں، جو اس نازک ایکوسسٹم کے تیزی سے بکھرنے کی علامت ہے-

اقوامِ متحدہ کی 2025ء کی رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ 1974 میں عالمی سطح پر اوور فشنگ تقریباً 10 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 35 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اور یہ سطح فشریز کی پائیدار حد (Sustainable Range) سے کہیں زیادہ ہے- پائیدار حد سے مراد یہ ہے کہ جتنی مچھلیاں پکڑی جائیں، قدرتی نظام میں اتنی ہی مچھلیاں تعداد میں  دوبارہ پیدا ہو جائیں- لیکن جب اس حد سے تجاوز کیا جائے تو نظام وقتی طور پر تو چلتا ہے، مگر بالآخر تباہ ہو جاتا ہے- آج عالمی فشنگ انڈسٹری اسی حد سے باہر جا چکی ہے-

اسی طرح سطحِ سمندر میں مسلسل اضافہ مالدیپ، مارشل آئی لینڈ، سولومن آئی لینڈ اور دیگر کئی جزائر کے وجود کے لیے خطرہ بن چکا ہے- ورلڈ اکنامک فورم اور اقوامِ متحدہ سمیت متعدد اداروں کی رپورٹس کے مطابق ان میں سے بعض جزائر آئندہ 5سے 7دہائیوں میں رہائش کے قابل نہیں رہیں گے اور مکمل طور پر زیرِ آب آ جائیں گے-

مزید یہ کہ 2000ء کے بعد سے پانی سے متعلق قدرتی آفات، جیسے سمندری طوفان، سیلاب اور ساحلی علاقوں میں شدید طغیانی میں تقریباً 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے- یہ تمام حقائق اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ سمندری ایکوسسٹم ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے اور انسانی غفلت اس توازن کو تیزی سے بگاڑ رہی ہے-

انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (IPCC) کی 2023ء کی رپورٹ کے مطابق 1970ء کے بعد پیش آنے والی قدرتی آفات میں سے تقریباً 44 فیصد آفات پانی سے متعلق ہیں، جن میں سیلاب، طوفان اور ساحلی تباہ کاریاں شامل ہیں- یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی محض ایک نظریہ نہیں بلکہ انسان کی فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا براہِ راست نتیجہ ہے، جس کا ردِعمل موسم کے بگاڑ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے-

رپورٹس کے مطابق 2021ء کے بعد بڑے پیمانے پر بڑے گلیشیئر کیچمنٹس (Large Scale Glacierised Catchments)  کو سالانہ تقریباً 10 فیصد کمی کا سامنا ہوگا اور اس پگھلاؤ اور پانی کے بے قابو بہاؤ سے دنیا بھر میں تقریباً ڈیڑھ ارب افراد متاثر ہو سکتے ہیں- اس تناظر میں پاکستان کو خاص طور پر شدید خطرات لاحق ہیں، کیونکہ دنیا کے بڑے گلیشیئر ذخائر میں ایک نمایاں حصہ پاکستان میں موجود ہے- 2025ء کو عالمی سطح پر گلیشیئر پریزرویشن کا سال قرار دیا گیا، اس مناسبت سے اگرچہ بعض جگہ پہ انفرادی کوششیں ہوئیں، لیکن بطور قوم جس سطح کی ذمہ داری اور سنجیدہ اقدام درکار تھا، وہ نظر نہیں آ سکا-

مزید یہ کہ اگر عالمی درجۂ حرارت میں 2 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہوا تو دنیا کی تقریباً 3 سے 4 ارب آبادی کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا- اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی ایک رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی ساحلی سیلابی صورتحال(coastal flooding) کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار مربع کلومیٹر زمین زیرِ آب آ سکتی ہے، جبکہ 7 کروڑ سے زائد افراد براہِ راست اس سیلابی زمین (expanding floodplains) کی زد میں آئیں گے-

موجودہ دور کے اے آئی ریولوشن کو بجا طور پر تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے- اس نے انسانی زندگی میں بے شمار سہولیات پیدا کی ہیں-مثلاً: تحقیق کی رفتار تیز ہوئی ہے، تجارت اور سفر آسان ہوئے ہیں، طبی شعبے میں نمایاں انقلاب آیا ہے اور خیالات کی ترسیل پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہو گئی ہے- زندگی کا شاید ہی کوئی شعبہ ہو جہاں مصنوعی ذہانت کا مثبت کردار واضح نہ ہو- لیکن اس کے ساتھ یہ پہلو بھی قابلِ توجہ ہے کہ اے آئی کا یہ پھیلاؤ ماحول پر کس حد تک اثر انداز ہو رہا ہے- ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق اوسط سیمی کنڈکٹر انڈسٹری اتنا پانی استعمال کرتی ہے جتنا تقریباً 33 ہزار عام امریکی گھرانے استعمال کرتے ہیں- عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹرز سالانہ تقریباً 560 بلین لیٹر پانی استعمال کر رہے ہیں، اور اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ مقدار 1200 بلین لیٹر تک پہنچ جائے گی، جو ایک سال میں تقریباً سوا ارب انسانوں کے پینے کے پانی کے برابر ہے-

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق ڈیٹا سینٹرز اس وقت تقریباً 415 ٹیراواٹ گھنٹے بجلی استعمال کر رہے ہیں، اور ان کی توانائی کی طلب سالانہ 12 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے، جو 2030ء تک دوگنی ہو جائے گی- جتنا زیادہ اے آئی ٹولز کا استعمال بڑھتا ہے، اتنا ہی زیادہ بوجھ ڈیٹا سینٹرز پر پڑتا ہے- حتیٰ کہ اے آئی کے ساتھ غیر ضروری طویل یا غیر مربوط تعامل بھی توانائی کے اضافی استعمال کا باعث بنتا ہے، جبکہ سادہ اور براہِ راست استعمال نسبتاً کم توانائی خرچ کرتا ہے-

اس سارے تناظر میں مجھے یہ احساس ہوا کہ ایک محقق کو جو بنیادی تربیت دی جاتی ہے، اس میں واضح طور پر بتایا جاتا ہے کہ تحقیق کے اپنے مخصوص ٹولز ہوتے ہیں: ریفرنس بکس، انسائیکلوپیڈیاز، کیٹلاگز، لائبریری کے جرنلز وغیرہ- تحقیق کے وقت انہی مصادر کی طرف عمومی طور پہ رجوع کیا جاتا ہے- لیکن ہم نے ایک عادت یہ بنا لی ہے کہ کوئی بھی کام ہو، فوراً چیٹ جی پی ٹی یا کسی اے آئی ٹول کو کھول لیا جائے، گویا وہی ہمارا انسائیکلوپیڈیا بھی ہے، ریفرنس بک بھی، کیٹلاگ بھی اور ریسرچ جرنل بھی-

اس طرزِ عمل میں ایک عام آدمی یہ نہیں سوچتا کہ وہ بالواسطہ طور پر ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی پانی اور بجلی کی کھپت میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے، حالانکہ اس کے پاس زیادہ مستند اور نسبتاً ماحول دوست متبادل موجود ہیں، جیسے یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود انسائیکلوپیڈیاز اور تحقیقی جرنلز- جب یہ ذرائع دستیاب ہوں تو ہر معاملے میں اے آئی پر انحصار کرنا نہ علمی ضرورت ہے اور نہ اخلاقی مجبوری-

اگر ہم واقعی اس کرۂ ارض سے محبت کرتے ہیں، جس پر ہم زندگی بسر کر رہے ہیں، اور جس پر ہم سے پہلے سینکڑوں نسلیں آ چکی ہیں، تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہمارے بعد آنے والی نسلوں کے لیے ہم کیسی زمین چھوڑ کر جا رہے ہیں- کسی یتیم سے اگر یہ کہا جائے کہ تمہارے والد تمہارے بارے میں بُرا سوچتے تھے، تو کوئی اسے قبول نہیں کرتا- ہر انسان اپنے باپ، دادا اور بزرگوں کے بارے میں اچھا ہی سننا اور کہنا چاہتا ہے- میں اکثر سوچتا ہوں کہ آنے والی نسلیں ہمیں موسمیاتی بحران کے تناظر میں کیسے یاد کریں گی؟کیا وہ یہ کہیں گی کہ ہمارے آباؤاجداد نے ہمارے حصے میں ایسی زمین چھوڑ دی جہاں نہ توانائی بچی، نہ پانی، نہ فطرت؟

وہ یہ بھی ضرور سوچیں گے کہ انہوں نے زمین کو امانت نہیں بلکہ بطور مالِ غنیمت کےاستعمال کیا،تو اب خود فیصلہ کر لیں کہ آنے والی نسلیں ہمیں معمار کہیں گی یا مجرم؟ یہ جملہ محض ایک شکوہ نہیں،یہ انسانی ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا ایک سوال ہے، ایسا سوال جس کا جواب الفاظ میں نہیں، بلکہ عمل میں دینا ہوگا-

والدین خود مشکلات برداشت کرتے ہیں تاکہ ان کے بچے سہولت سے زندگی گزار سکیں- اسی اصول کو اگر ہم اجتماعی سطح پر اپنائیں تو لازم ہے کہ ہم اپنی سہولت کیلئے زمین کو ناقابلِ رہائش نہ بنائیں- اس لیے جن معاملات میں ہم اے آئی ٹولز کے بغیر کام چلا سکتے ہیں، وہاں ہمیں ضرور ایسا کرنا چاہیےتاکہ ترقی بھی برقرار رہے اور فطرت کو بھی محفوظ بنایا جائے-تاکہ ہم آنے والی نسلوں کے آگے سرخرو ہو سکیں-

اگر درختوں کی بات کی جائے تو Botanic Gardens Conservation International (BGCI) کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں درختوں کی تقریباً ایک تہائی انواع معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں- اسی طرح اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے مطابق ہر سال تقریباً ایک کروڑ ایکڑ جنگلات زمین سے ختم ہو رہے ہیں، جو ماحولیاتی توازن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے-

وائلڈ لائف کے حوالے سے صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے- وائلڈ لائف سوسائٹی کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پرندوں کی 61 فیصد انواع میں واضح کمی واقع ہو چکی ہے، اور پرندوں کی 48 ہزار سے زائد انواع  معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں- پاکستان کے تناظر میں انڈس فلائی وےجو پرندوں کی ہجرت کا ایک اہم عالمی راستہ ہے، پر صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے- سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں سندھ کے علاقوں میں ہجرت کرنے والے پرندوں کی تعداد میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے-

اعداد و شمار کے مطابق 2023ء میں مہاجر پرندوں کی تعداد تقریباً 12 لاکھ تھی، جو 2024 میں کم ہو کر 6 لاکھ 3 ہزار 900 رہ گئی، اور 2025 میں یہ مزید گھٹ کر 5 لاکھ 45 ہزار تک پہنچ چکی ہے- یہ کمی مسلسل ہے اور اس سے نمٹنا ہمارے لیے ایک بڑا ماحولیاتی اور اخلاقی چیلنج بن چکا ہے-یہ تمام حقائق محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک واضح تنبیہ ہیں-

 اسی تمہید کے ساتھ میری گفتگو کا دوسرا حصہ اس بنیادی سوال کی طرف لے جاتا ہے کہ ہم، بحیثیت فرد اور بحیثیت معاشرہ، اس بحران سے نکلنے کیلئے کون سا راستہ اختیار کر سکتے ہیں اور اپنی ترقی کو فطرت کی تباہی کے بغیر کیسے ممکن بنا سکتے ہیں؟

اگر ہم ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور اس پورے خطۂ زمین  کو درپیش موجودہ چیلنجز کو سامنے رکھتے ہیں، تو قرآنِ مجید کی یہ آیت ہمارے لیے ایک اہم تناظر  پیدا کرتی ہے-ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ‘‘[1]

’’فرما دیجئے: تم زمین میں (کائناتی زندگی کے مطالعہ کے لئے) چلو پھرو، پھر دیکھو (یعنی غور و تحقیق کرو) کہ اس نے مخلوق کی (زندگی کی) ابتداء کیسے فرمائی ‘‘-

اس آیت کریمہ سے سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ زندگی یہاں کیسے پھیلائی گئی اس کی ابتدا کیسے ہوئی؟ مزید ان سوالات کو اگر سورۂ رحمن کی آیت نمبر 7 اور 8 کے تناظر میں دیکھیں -جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:

’’ وَ السَّمَآءَ رَفَعَہَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَ‘‘[2]

’’اور اسی نے آسمان کو بلند کیا اور میزان قائم کر دی‘‘-

یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ترازو قائم کر رکھی ہے،اعتدال قائم کر رکھا ہے،توازن پیدا کر دیا ہے،ہر چیز کو ایک ناپ، ایک وزن اور ایک حد میں رکھا ہے-یہ پوری کائنات، یہ فطرت، یہ زمین، سب ایک میزان میں بندھی ہوئی ہیں- پھر اس کے بعد انسان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ:

’’اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ ‘‘[3]

’’تاکہ تم اس میزان میں زیادتی نہ کرو‘‘-

گویا قرآن کریم ہمیں یہ سبق دے رہا ہے کہ جس توازن پر یہ زندگی قائم ہے، اگر انسان نے اسی توازن کو توڑا، اسی میزان کو پامال کیا، تو اس کے نتائج فطرت کے بگاڑ اور خود انسان کے لیے تباہی کی صورت میں سامنے آئیں گے-

ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح پیدا کیا؟

اس سوال کی طرف سب سے پہلے سورۂ عنکبوت میں ہمیں دعوت دی گئی ہے، جہاں انسان کو کہا گیا ہے کہ وہ زمین میں چل پھر کر دیکھے اور غور کرے کہ تخلیق کا آغاز کیسے ہوا؟ جب ہم اس دعوت پر غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات اور زندگی کے پورے نظم کو عدل، اعتدال اور توازن پر قائم کیا ہے-یہ کائنات کسی انتشار پر نہیں، بلکہ ایک مضبوط نظم پر کھڑی ہے-ایک ایسے توازن پر جس میں ہر چیز کا ایک مقام، ایک حد اور ایک کردار ہےاور انسان کے لیے اس میں بنیادی ہدایت یہ ہے کہ وہ فطرت کے اندر عدم توازن پیدا نہ کرے، اس نظامِ توازن کو بگاڑنے کا سبب نہ بنے-

اسلام کی تعلیمات کو اگر ہم وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو کوئی بھی آسمانی کتاب (Divine Scripture) فطرت کی نفی نہیں کرتی- اس کے برعکس، ہر الہامی تعلیم انسان کو فطرت کے تحفظ اور اس کی بقا کی طرف رہنمائی کرتی ہے-

قرآنِ مجید کی ایک خاص بلاغی شان یہ ہے کہ اس کی متعدد سورتوں کے نام ہی فطرت (کائنات، مخلوقات، قدرتی نظام) کی ترجمانی کرتے ہیں-یہ نام محض عنوان نہیں بلکہ قرآنی منہج ہیں جو انسان کو فطرت سے ربط، غورو فکر ، محبت اور تعظیم کی دعوت دیتے ہیں-قرآنی سورتوں کے نام براہِ راست یا بالواسطہ فطرت کی نمائندگی کرتے ہیں:

آسمانی و کونیاتی مظاہر پر سورتیں

  • الشمس — سورج
  • القمر — چاند
  • اللیل — رات
  • الضحیٰ — چاشت/دن کی روشنی
  • الفجر — صبح
  • العصر — زمانہ / وقت/عصر
  • النجم — ستارہ

اسی لئے اقبال کہتے ہیں کہ:

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گِرہ کُشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشّاف

قرآن مجید کی جتنی بھی تفسیریں لکھی گئی ہیں، ان میں سب سے مشکل اور گہری تفسیر کشّاف ہے جو علامہ زمخشری کی ہے- اس تفسیر میں زیادہ تر قرآنی لسانیات اور گرائمر کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے- اگرچہ علامہ زمخشری معتزلہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے، لیکن ان کی تفسیر آج بھی تمام مکاتب فکر میں ایک اہم مقام رکھتی ہے، خاص طور پر جب قرآن کریم کی گرامر کو سمجھنا اور سیکھنا ہو-

دوسری اہم تفسیر امام فخر الدین رازیؒ کی تفسیر ہے، جو تفسیرِ کبیر اور مفاتیح الغیب کے نام سے مشہور ہے- امام رازیؒ محض ایک مفسر نہیں تھے، بلکہ وہ بیک وقت فلسفی، متکلم اور قرآن کریم کے عظیم شارح تھے- ان کی علمی شخصیت کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے قرآنِ مجید کی تفسیر کو محض لغوی یا روایتی دائرے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے عقلی، فلسفیانہ اور کلامی مباحث سے جوڑ دیا-

اس لئے اقبال نے کہا ہے کہ اگر انسان قرآن کریم کی یہ دونوں مشکل ترین تفسیریں پڑھ بھی لیں تب بھی قرآن کریم سمجھ نہیں آتا جب تک انسان اس کا نزول اپنے دل پہ محسوس نہ کرے-

زمین اور اس کے نظام پر سورتیں

  • الزلزال — زمین کا ہلنا

یہ پوری سورۃ زمین پر ہے-

  •  العادیات—دوڑتے گھوڑے (قدرتی قوت)
  • البلد — شہر / زمین کا مسکن
  • الکہف — غار
  • الحجرات —حجرے/کمرے
  • الناس— لوگ

نباتات، زراعت اور رزق پر سورتیں

  • النحل — شہد کی مکھی
  •  التین — انجیر
  • الزیتون — زیتون

یہ سورتیں واضح کرتی ہیں کہ رزق، نباتات اور خوراک سب فطرت کے ذریعے عطا ہوتی ہیں-

حیوانات اور مخلوقات پر سورتیں

  • البقرۃ — گائے
  • الاَنْعام — مویشی
  • النمل — چیونٹی
  • العنكبوت — مکڑی
  • الفيل — ہاتھی

قرآن کریم جانوروں کو حقیر نہیں بلکہ تعلیم، عبرت اور نظمِ فطرت کی علامت بناتا ہے-

قدرتی عناصر پر سورتیں

  • الحديد — لوہا
  • الدخان — دھواں
  • الرعد — گرج
  • النور — روشنی

قرآن کریم کی سورتوں کے ناموں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم ہمیں صرف انبیاء کرام اور ان کی اقوام ، فتح، قیامت یا قصص سے نہیں جوڑتا، بلکہ فطرت کے مظاہر سے بھی ہمارا تعلق مضبوط کرتا ہے-ہر سورت ہمیں انسانی تجربات اور قدرت کی آیات کے درمیان گہرا ربط دکھاتی ہے، تاکہ ہم دنیا کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور نشانیاں دیکھ سکیں-کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو جو بھی جس جس مقام پہ بیان فرمایا ہے وہ حکمت سے بھرپور بیان کیا ہے-پھر وہ چاہے قرآن کریم کی سورتیں ہوں یا انبیاء کرام (علیھم السلام) کو ان کی صفت کے ساتھ یاد کرنا ہو-الغرض! ایک ایک لفظ اور بات کو اللہ تعالیٰ نے جس جس مقام پہ بیان فرمایا ہے اس کی ایک وجہ اور حکمت ہے -

قرآن کریم کئی مقامات پر یہ پیغام دیتا ہے کہ انسان فطرت کا مالک نہیں، بلکہ اس کا حصہ ہے- اسی لیے فطرت کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، چاہے وہ پانی کی شکل میں ہو، فصلوں کی صورت میں، گلیشیئر کے روپ میں، یا کسی جاندار کی صورت میں- ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ہم فطرت کے قریب رہیں اور اس کی قدر کریں-

کھاد سے فصل تو بڑھی لیکن
مر گئیں اس سے تتلیاں میری

ہم اپنی پیداوار بڑھانے کی کوشش میں اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ کرہ ٔارض پر کئی انواع معدومیت کے خطرے میں ہیں اور دنیا کا ایکوسسٹم خطرے کی زد میں آ گیا ہے- یہ سب اس غفلت کی وجہ سے ہے کہ ہم خود کو فطرت کا حصہ سمجھنے کی بجائے اس کا مالک تصور کرتے ہیں- اس لیے فطرت کی حفاظت ہماری بنیادی انسانی اور بطور مسلمان ہماری ایمانی ذمہ داری ہے-

قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی‘‘[4]

’’(زمین کی) اسی (مٹی) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوسری مرتبہ (پھر) نکالیں گے‘‘-

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے تخلیق کیا ہے اور اسی سے ہماری تخلیق کا سلسلہ شروع ہوا-اس تخلیق میں فطرت کے اجزاء شامل ہیں تو اس لئے ہم فطرت کا حصہ ہیں-اس لئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَاللهُ أَنْبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا‘‘[5]

’’اور اﷲ نے تمہیں زمین سے سبزے کی مانند اُگایا‘‘-

’’وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِنْ سُلاَلَةٍ مِّنْ طِيْنٍ‘‘[6]

’’اور بیشک ہم نے انسان کی تخلیق (کی ابتداء) مٹی (کے کیمیائی اجزاء) کے خلاصہ سے فرمائی‘‘-

لہذا! ہم اس فطرت کا حصہ ہیں ہم خود کو فطرت سے الگ نہیں کر سکتے-

قرآن کریم مختلف مقامات پر درختوں کا ذکر یوں فرماتا ہے کہ ہر لفظ اور بیان کے انداز کا اثر سامع یا قاری کے ذہن پر واضح ہوتا ہے- زبان کے ماہرین دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہر لفظ کس لہجے میں استعمال ہوا ہے اور وہ لہجہ پیغام کو کس طرح پروجیکٹ کرتا ہے- جیسے دوزخ کی وضاحت میں زبان کا اثر خوف اور سنجیدگی پیدا کرتا ہے، فرشتوں کے ذکر میں سکون اور تقدس کا اثر مرتب ہوتا ہے اور قرآن کریم کے اپنے بارے میں بیان میں وقار اور عظمت جھلکتی ہے- اسی طرح جب قرآن درختوں کو بیان کرتا ہے، تو ہر لفظ، ہر تفصیل، قاری کے ذہن میں ایک خاص نقش اور احساس پیدا کرتی ہے، جو نہ صرف فطرت کی اہمیت بتاتا ہے بلکہ اس کی حفاظت کی ضرورت بھی اجاگر کرتا ہے- جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’فَأَنبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا‘‘[7]

’’پھر ہم نے اس میں اناج اگایا‘‘-

’’وَاَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا ‘‘[8]

’’اور بھری بدلیوں سے زور کا پانی اتارا ‘‘-

’’ لِّنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًا ‘‘[9]

’’کہ اس سے پیدا فرمائیں اناج اور سبزہ ‘‘-

’’وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا‘‘[10]

’’اور گھنے گھنے باغات (اگائیں)‘‘-

قرآن کریم میں درختوں کے بارے میں اظہار نہایت قابل تحسین ہے- خالق نے انہیں پیدا کیا اور خود اپنے کلام کے ذریعے ان کی تعریف بیان فرماتا ہے، بالکل ایسے جیسے انسان اپنی محبت یا تعلق کی بنیاد پر کسی چیز کی تعریف کرتا ہے- یہ انداز قاری یا سامع کے ذہن میں ان مناظر کا ایک خوشنما نقش چھوڑتا ہے- اللہ تعالیٰ، جو مالک اور خالق ہے، درختوں، اناج اور گھنے باغات کو اس قدر تحسین کے ساتھ بیان فرماتا ہے کہ ہم بھی ان ہرے بھرے مناظر سے مانوس ہوں، ان کی قدر کریں اور فطرت کے ساتھ محبت اور تعلق پیدا کریں-

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کردہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے فطرت کی تعظیم اور محبت سکھائی ہے-

انجیر

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَالتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ‘‘[11]

’’انجیر کی قَسم اور زیتون کی قَسم‘‘

اللہ تعالیٰ نے انجیر کی قسم کھائی یعنی یہ محض پھل نہیں، قابلِ تعظیم فطری نعمت ہے-فطرت کی بعض چیزیں ایسی ہیں جو انسان کی صحت، عقل اور مزاج پر گہرا اثر رکھتی ہیں-

کھجور

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيْدٌ‘‘[12]

’’اور لمبی لمبی کھجوریں جن کے خوشے تہ بہ تہ ہوتے ہیں‘‘-

باغات اور انگور

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ‘‘[13]

’’(ان کے لئے) باغات اور انگور (ہوں گے)‘‘-

انار

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’فِيْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ‘‘[14]

’’ان دونوں میں (بھی) پھل اور کھجوریں اور انار ہیں‘‘-

خوشبودار پودا / پھول

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ الْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانُ‘‘[15]

’’اور بھوسہ والا اناج ہے اور خوشبودار (پھل) پھول ہیں‘‘-

سبزہ اور گھاس

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَقَضْبًا‘‘[16]                               اور چارہ

بیری کا درخت

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنتَهٰى‘‘[17]    ’’سِدرۃ المنتہٰی کے قریب‘‘-

کھیتی

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ‘‘[18]

’’تو کیا اُس (سے کھیتی) کو تم اُگاتے ہو یا ہم اُگانے والے ہیں‘‘-

دنیا کے پھول

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا‘‘[19]

’’(عارضی) لطف اندوزی کے لئے دے رکھی ہیں‘‘-

اللہ تعالیٰ سورہ البقرۃ میں  ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْہَا وَ یُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ط وَ اللہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ‘‘[20]

’’اور جب وہ (آپ سے) پھر جاتا ہے تو زمین میں (ہر ممکن) بھاگ دوڑ کرتا ہے تاکہ اس میں فساد انگیزی کرے اور کھیتیاں اور جانیں تباہ کر دے، اور اﷲ فساد کو پسند نہیں فرماتا‘‘-

قرآن کریم میں واضح ہے کہ کھیتیاں جَلانا، نباتات کو نقصان پہنچانا، یا پودوں کو جَلانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک فساد ہے- اسی طرح جانوں کو تباہ کرنا بھی فساد ہے- اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جگہ دونوں کو ذکر کر کے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ ’’یُہْلِکَ الْحَرْثَ‘‘ یعنی زمین اور فصلوں کو تباہ کرنا،’’وَالنَّسْلَ‘‘ یعنی انسانوں کو نقصان پہنچانا، دونوں ہی گناہ کے زمرے میں ہیں- اگر کوئی انسان لوگوں کو مار رہا ہے تو وہ بھی فساد کر رہا ہے، اور اگر کوئی درختوں یا فصلوں کو نقصان پہنچا رہا ہے تو وہ بھی فساد کر رہا ہے- قرآن کریم کے نزدیک یہ دونوں اعمال اللہ تعالیٰ کی نظر میں جرم ہیں-

ایک بہت دلچسپ بحث فارسی ادب کے عظیم شاعر عبدالقادر بیدل کی مثنوی ’’سنگ و شرر‘‘ میں ملتی ہے-بیدل کہتے ہیں کہ پتھر میں بھی ایک زندگی ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز اپنی مخصوص زندگی اور شعور رکھتی ہے- اس بات کو اسلامی تعلیمات کے تناظر میں یوں دیکھا جا سکتا ہے جیسا کہ جامع ترمذی کی حدیث مبارکہ ہےکہ:

حضرت علی المرتضیٰ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ :

’’كُنْتُ مَعَ النَّبِىِّ (ﷺ) بِمَكَّةَ فَخَرَجْنَا فِىْ بَعْضِ نَوَاحِيْهَا فَمَا اِسْتَقْبَلَهٗ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلاَّ وَهُوَ يَقُوْلُ اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّهِ‘‘[21]

’’میں رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ مکہ مکرمہ میں تھا تو ہم مکہ کے کسی گوشہ میں تشریف لے گئےتو کوئی درخت اور کوئی پہاڑ ایسا نہ تھا جس نے آپ (ﷺ) کو ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ‘‘نہ کہا ہو‘‘-

اگر پتھر میں شعور نہیں ہے تو پتھر کو کیسے پتہ چلا کہ میرے قریب سے اس وقت اللہ تعالیٰ کا نبی گزرا ہے؟

حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ :

’’رسول اکرم (ﷺ) کھجور کے ایک تنے کے ساتھ کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے پھر صحابہ کرام (علھیم السلام) نے آپ (ﷺ) کے لئے منبر بنوایا، جب آپ (ﷺ) اس پر تشریف فرما کر خطبہ ارشاد فرمایا تو وہ کھجور کا تنا اس طرح رونے لگا جس طرح اونٹنی کا بچہ روتا ہے-پس حضور نبی کریم(ﷺ) منبر شریف سے نیچے تشریف لائے اور اس پر اپنا دستِ شفقت پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا‘‘-

’’الخصائص الكبرى للسیوطی‘‘ اور ’’دلائل  النبوة للبيهقي ‘‘ میں روایت ہے کہ:

پس رسول اللہ (ﷺ) منبر شریف سے اترے اور اسے چمٹایا (گلے سے لگایا)اور تسلی دی اور فرمایا:

’’وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَوْ لَمْ أَلْتَزِمْهُ لَمَا زَالَ كَذَا إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حُزْنًا عَلٰى رَسُوْلِ الله (ﷺ) ثُمَّ أَمَرَ بِهٖ رَسُوْلُ اللہ(ﷺ) فَدُفِنَ‘‘

’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہےاگر میں اسے نہ چمٹاتا تو وہ قیامت تک مجھ سے جدائی کے فراق میں اسی طرح روتا رہتا- پھر رسول اللہ (ﷺ) نے اس کے بارے میں حکم فرمایا پس اس کی تدفین کی گئی‘‘-

اگر کھجور کا کھوکھلا تنا زندگی اور شعور نہیں رکھتا تو وہ حضور (ﷺ) کے ہجر میں رو کیوں رہا تھا؟اس سے ثابت ہوتا ہے کہ درخت کے اندر صرف زندگی نہیں ہے بلکہ اس کے اندر اپنی نوعیت کا ایک شعور بھی ہےاور اسے یہ پتا ہے کہ اس وقت میرے قریب کون ہے اورمجھ سے دور کون ہے-

آگہی کے سفر میں گوتم نے
پائی ہے آشتی درختوں میں
کوئی پوچھے کلیمِ سینا سے
کس کی ہے روشنی درختوں میں
رو کے بولا ستونِ حنانہ
عشق ہے یا نبی درختوں میں

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وادیٔ طویٰ میں جو نور نظر آیا تھا وہ بھی ایک درخت سے نظر آیا تھا- اس لیے قرآن مجید درخت کاٹنا اور انسانی نسل کو کاٹنا دونوں کو فساد کہتا ہے اور دونوں کے بارے میں کہا ہے کہ :

’’إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ‘‘[22]

’’بے شک اﷲ فساد کو پسند نہیں فرماتا‘‘-

حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا :

’’مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللهُ رَأْسَهُ فِي النَّارِ‘‘[23]

جو شخص بلا ضرورت بیری کا درخت کاٹے، اللہ اس کا سر جہنم میں جھکا دے گا-

رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’لَا تَقْطَعُوْا الشَّجَرَ، فَإِنَّهٗ عِصْمَةٌ لِّلْمَوَاشِيْ فِي الْجَدْبِ‘‘[24]

’’درختوں کو نہ کاٹو، اس لیے کہ وہ خشک سالی کے وقت جانوروں کے لیے ڈھال اور ذریعۂ بقا ہوتے ہیں ‘‘-

کئی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مالیاتی بینک ایسی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرتے ہیں جو جنگلات کی کٹائی میں ملوث ہیں، اور اس سے کئی بلین ڈالر کماتے ہیں- مثلاً 2016 سے اب تک بینکوں نے ڈی فورسٹیشن(deforestation) میں ملوث کمپنیوں کو تقریباً 429 بلین ڈالر فراہم کیے ہیں- یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ انسانی سرگرمیاں کس طرح فطرت کے لیے خطرہ بن رہی ہیں- اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے درختوں اور جنگلات کی حفاظت کریں اور فطرت کے ساتھ تعلق کو سنجیدگی سے سمجھیں-کیونکہ قرآن کریم ہمیں فطرت کی تعظیم اور اس سے محبت کرنا سکھاتا ہے جیسا کہ سورۃ الکہف میں کتے کو دیکھیں،جس کو انتہائی قابل تحسین انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ:

’’وَكَلْبُهُم بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيْدِ‘‘[25]

’’اور ان کا کتا (ان کی) چوکھٹ پر اپنے دونوں بازو پھیلائے (بیٹھا) ہے‘‘-

حالانکہ اس طرح بھی کہا جا سکتا تھا ، غار کے منہ پر ، غار کے دہانے پر کتا بیٹھا تھا، لیکن اس طرح نہ کہنا اور اس طرح بیان کرنا کہ ’’ وَكَلْبُهُم‘‘ ا ورا ُن کا کتا ، یہ انداز بیاں ، اپنے اندر کئی اسرار و رموز تو رکھتا ہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کس طرح نفیس انداز میں فطرت کے ساتھ جوڑتا بھی ہے - حالانکہ انسان اور کتا ایک Species کے نہیں ہیں، ایک پاک ہے اور دوسرا ناپاک ، لیکن فطرت کس انداز میں اصحابِ کہف کے ساتھ ان کے تعلق کو جوڑ کر سمجھا رہی ہے کہ کہیں اس ناپاک کو ناپاک سمجھ کر اس کے دشمن نہ ہو جائیں-دراصل قرآن کریم اس نفرت کا خاتمہ کر رہا ہے جو فطرت کے حسن کیلئے خطرہ بن سکتی ہے –

قرآن کریم کی ایک اور مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں ، آپ فطرت کے اصولوں کو سمجھیں کہ فطرت ہمیں کس طرح چیزوں کے ساتھ جوڑتی ہے اور ان کی قدر کو واضح کرتی ہے - ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’وَانْظُرْ اِلٰی حِمَارِکَ ‘‘[26]

’’اور اپنے گدھے کو دیکھ (کہ جس کی ہڈیاں تک سلامت نہ رہیں) ‘‘-

دیکھیں کہ فطرت کس طرح ہمیں چیزوں کے ساتھ جوڑتی ہے ’’حِمَارِکَ‘‘میں گدھے کی نسبت حضرت عزیر (علیہ السلام) کی طرف کی جا رہی ہے اور پھر دوسری بات کہ وہ گدھا گل سڑ گیا تھا-لیکن قرآن کریم کہہ رہا ہے:

’’وَانْظُرْ اِلٰی حِمَارِکَ‘‘

’’اور اپنے گدھے کی طرف دیکھ ‘‘-

تو فطرت کے حسن کو برقرار رکھنے کیلئے چیزوں کے ساتھ جڑے رہنا ، لازم ہے، قرآن کریم ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے - انسان کی اشیائے کائنات سے کنارہ کشی فطرت کی زندگی اور حسن کیلئے خطرہ ہے-سورۃ النمل میں چیونٹی کو دیکھیں کہ کس طرح انتہائی خوبصورتی سے اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ:

’’قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسَاكِنَكُمْ ؁ فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّن قَوْلِهَا‘‘[27]

’’ایک چیونٹی کہنے لگی: اے چیونٹیو! اپنی رہائش گاہوں میں داخل ہو جاؤ-تو وہ (یعنی سلیمان ) اس (چیونٹی) کی بات سے ہنسی کے ساتھ مسکرائے‘‘-

یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) فطرت کی حکمت کو تسلیم کرتے ہیں اور چیونٹی کے شعور کی توہین نہیں کرتے-

قرآن کریم میں فطرت کی اہمیت کو کئی واقعات کے ذریعے اجاگر کیا گیا ہے- حضرت موسیٰ اور حضرت یونس (علیہ السلام)  کے مچھلیوں کا واقعات ، ہدہد کا واقعہ جو حضرت سلیمانؑ کیلئے ملکہ بلقیس کی خبر لاتا ہے، ابابیل کا واقعہ جو حق کے محافظ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، اور شہد کی مکھی، جس کے بارے میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے، یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ ہر مخلوق اپنی حیثیت میں اللہ تعالیٰ کے تخلیق کائنات کےمنصوبے کا حصہ ہے اور ہر مخلوق میں ایک مخصوص کردار اور اہمیت موجود ہے-اسی طرح ایک اور مقام پہ آتا ہے کہ:

’’وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ لِتَرْكَبُوْهَا وَزِيْنَةً‘‘[28]

اور (اُسی نے) گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو (پیدا کیا) تاکہ تم ان پر سواری کر سکو اور وہ (تمہارے لئے) باعثِ زینت بھی ہوں-

اسی طرح ہوا کے بارے میں فرمایا:

’’وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا‘‘[29]

اور وہی ہے جو اپنی رحمت (یعنی بارش) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے-

الغرض! جتنی بھی سپیشیز ہیں قرآن مجید انہیں قابل تحسین انداز میں بیان کرتا ہے-بلکہ قرآن کریم نے جانوروں کو محض مخلوق نہیں بلکہ امّتیں قرار دیاہے:

’’وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُکُمْ‘‘[30]

’’اور نہیں کوئی زمین میں چلنے والا اور نہ کوئی پرند کہ اپنے پروں اڑتا ہے مگر تم جیسی اُمّتیں ‘‘-

جانوروں کا احترام فطرت سے محبت کا لازمی جز ہے اور مخلوقات کی قدر اور حفاطت کرنا محبتِ فطرت کا قرآنی تصور ہے-

رزق کی ضمانت فطرتی کفالت کا منہ بولتا ثبوت ہے - جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا‘‘[31]

’’اور زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا (جاندار) نہیں ہے مگر (یہ کہ) اس کا رزق اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے‘‘-

فطرت میں رزق کی تقسیم متوازن ہے اور یہ توازن اس وقت بگڑتا ہے جب انسان مداخلت کرتا ہے تو انسان کی فطرت میں بے جا مداخلت سے قحط پیدا ہوتے ہیں -

قرآن کریم میں جن انبیاء کرام (علیھم السلام) کا ذکر کیا گیا وہ تمام انبیاء کرام فطرت سے محبت کرتے ہیں اس کو سراہتے ہیں-اور کسی نبی نے کبھی بھی ان چھوٹی اور بے جان چیزیں جنہیں ہم مویشی، چیونٹی، درخت، پتھر ، ہوا، پھول کہتے ہیں، اس کی توہین نہیں کی اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ   ان کے شعور کو نہ سمجھا ہو-اسی طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہےکہ جب وہ تسبیح کرتے تھے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے-

اسی فطرت کے متعلق سورۃ العنکبوت میں اللہ تعالیٰ انسان کو دعوت دیتا ہے کہ غور وفکر کرو کہ اس نے کیسے فطرت کو ابتداء میں پھیلایا-جس کی رہنمائی سورۃ الرحمٰن میں ملتی ہے کہ اس نے اس کائنات میں میزان کو قائم کیا-کیونکہ کوئی بھی آسمانی صحیفہ (divine scripture) فطرت کی نفی نہیں کرتا بلکہ وہ ہمیشہ فطرت کو محفوظ بنانے کی ترغیب دیتا ہے- اللہ عزوجل کا آخری نبی (ﷺ) اور آخری کتاب قرآن کریم ہمیں فطرت سے جوڑتے ہیں اور اس فطرت پہ ہماری آئندہ نسلوں کی زندگی کا دار و مدار ہے- یہ موضوع ایک بہت بڑا پراجیکٹ ہے  اگر ہم لوگوں کی تربیت کرنا چاہتے ہیں کہ کس طرح ہم ایک مذہب کے ماننے والے ہو کر اس کی تخلیق اور اس فطرت کی حفاظت کر سکتے ہیں-

٭٭٭


[1](العنکبوت:20)

[2](الرحمٰن:7)

[3](الرحمٰن:8)

[4](طٰہٰ:55)

[5](نوح:17)

[6](المؤمنون: 12)

[7](عبس: 27)

[8](النباء:14)

[9](النباء: 15)

[10](النباء:16)

[11](التین: 1)

[12](ق: 10)

[13](النبأ: 32)

[14](الرحمٰن: 68)

[15](الرحمٰن: 12)

[16](عبس: 28)

[17](النجم: 14)

[18](الواقعہ: 64)

[19](طٰہٰ: 131)

[20](البقرۃ: 205)

[21](سنن ترمذی، ابواب المناقب)

[22](البقرة: 205)

[23]( سنن ابی داود، کتاب الادب)

[24](المصنف عبدالرزاق)

[25](الکہف: 18)

[26] (البقرۃ : 259)

[27](النمل:18-19)

[28](النحل:8)

[29](الأعراف: 57)

[30](الأنعام: 38)

[31](هود: 6)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر