جمہوریہ یمن (Republic of Yemen) یایمن جزیرہ نمائے عرب کے جنوب مغربی کونے میں واقع ایک ملک ہے جس کا رقبہ تقریباً 527968مربع کلومیٹر ہے اور یہ بحیرہ احمر، خلیجِ عدن اور بحیرہ عرب سے گھرا ہوا ہے - یمن کی آبادی عرب نسل کی اکثریت پر مشتمل ہے جس کی رسمی زبان عربی ہے- یہاں کے لوگ مختلف عربی بولیاں بھی بولتے ہیں اور یمن کی تقریباً تمام آبادی مسلمان ہے- یمن کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر صنعاء (Sanaa) ہے-
تاریخی اور جغرافیائی و تزویراتی (Strategic) اہمیت:
تاریخی طور پر یمن ایک قدیم تہذیب کا حامل ملک ہے اور اسے قدیم زمانے میں عربیہ سعیدہ (Arabia Felix) کہا جاتا تھا کیونکہ یہ خطہ زرخیز اور خوشحال تھا- یہاں سبا، معین، قتبان، حضرموت اور حمیر جیسی عظیم سلطنتیں قائم رہیں جن کی معیشت خوشبوؤں (لوبان اور مُر) کی تجارت اور زراعت پر مبنی تھی- ان سلطنتوں میں سبا کی ملکہ بلقیس کا ذکر تاریخ اور مذہبی روایات خصوصا ً قرآن حکیم میں ملتا ہے- یمن میں مارب ڈیم جیسا عظیم آبی ذخیرہ اور اس سے متصل آبی نظام اس بات کی دلیل ہے کہ قدیم یمنی تہذیب بہت ترقی یافتہ تھی- بعد ازاں یہاں یہودیت اور عیسائیت کا اثر ہوا اور پھر حبشی اور فارسی طاقتوں نے بھی کچھ عرصہ یمن میں حکومت کی- ساتویں صدی میں اسلام کی روشنی یمن میں پھیلی اوریہ خطہ اسلامی خلافت کا حصہ بن گیا- بعد کے سیاسی حالات کے پیش نظر یہاں حکومتیں بدلتی رہیں- سولہویں صدی میں عثمانی ترکوں نے یمن کے بڑے حصے پر حکومت قائم کی - پہلی جنگ عظیم کے بعد عثمانی سلطنت ختم ہوئی اور شمالی یمن الگ ہوا جبکہ جنوبی یمن خاص طور پر عدن برطانوی تسلط میں آ گیا-
یمن جغرافیائی و تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ملک دو براعظموں ایشیا اور افریقہ پر واقع ہے- یمن کے جنوب میں بحیرہ عرب اور مغرب میں بحیرہ احمر واقع ہے جبکہ شمال میں سعودی عرب اور مشرق میں عمان کی سرحدیں ہیں- اس منفرد محلِ وقوع کے ساتھ یمن صدیوں سے تجارت، بحری راستوں اور عالمی سیاست میں نمایاں حیثیت میں رہا ہے- قدیم زمانے میں بھی یمن تجارت کا بڑا مرکز تھا اور آج بھی اس کی جغرافیائی پوزیشن اسے عالمی طاقتوں کے لیے نہایت اہم بناتی ہے-یمن کی تزویراتی اہمیت کی وجہ آبنائے باب المندب ہے- یہ تنگ بحری راستہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور پھر بحرِ ہند سے ملاتا ہے، ایک بہت بڑی تعداد میں دنیا کی تجارت اور تیل کی آمد و رفت اسی راستے سے ہوتی ہے - اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے- اسی لیے امریکہ، چین، یورپی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی و معاشی طاقتیں یمن میں ہونے والی صورتِ حال پر گہری نظر رکھتی ہیں-
یمن کی تزویراتی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ خلیج فارس کے قریب واقع ہے جہاں دنیا کے بڑے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں- یمن کی سرزمین اور ساحل بحیرہ احمر و بحیرہ ِ عرب تک رسائی فراہم کرتے ہیں، جو عسکری اور تجارتی دونوں لحاظ سے نہایت اہم ہے- اسی وجہ سے سعودی عرب، ایران اور دیگر علاقائی طاقتیں یمن میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں- یمن کی موجودہ خانہ جنگی کو بھی بڑی حد تک علاقائی اور عالمی طاقتوں کی تزویراتی کشمکش سے الگ نہیں کیا جاسکتا - دوسری طرف یمن افریقہ کے بالکل سامنے واقع ہے، جس سے افریقی ممالک کے ساتھ تجارتی، ثقافتی اور عسکری روابط آسان ہو جاتے اور افریقی منڈی تک رسائی کم خرچ اور مستحکم انداز میں فروغ پا سکتی ہے- اپنے منفرد محل وقوع کے باعث ماضی میں بھی یمن افریقہ سےہونے والی تجارت اور بحری نقل و حرکت کے لئے ایک قدرتی گیٹ وے کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جہاں یہ عرب دنیا اور افریقہ کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا تھا -اس گیٹ وے کی اہمیت موجودہ دور میں اور بھی بڑھ گئی ہے -
مختصر یہ کہ یمن کی جغرافیائی پوزیشن اسے صرف ایک عرب ملک نہیں بلکہ ایک عالمی اسٹریٹجک مرکز بناتی ہے- باب المندب کی آبنائے، بحیرہ احمر اور بحرِ عرب تک رسائی، خلیج فارس کی قربت ہونا یہ سب عوامل یمن کو عالمی سیاست، تجارت اور عسکری حکمتِ عملی میں غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں- اسی تزویراتی اہمیت کی وجہ سے یمن ہمیشہ سے بڑی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے-
انیسویں اور بیسویں صدی میں یمن دو حصوں میں بٹ گیا تھا -شمالی یمن اور جنوبی یمن- 1962ء میں شمالی یمن میں بادشاہت ختم ہوئی اور جمہوریت قائم ہوئی جبکہ 1967ء میں جنوبی یمن نے برطانیہ سے آزادی حاصل کر کے ایک مشترکہ ریاست قائم کی- آخرکار 1990ء میں دونوں یمن متحد ہو کر جمہوریہ یمن بن گئے- تاہم 2011ء کے بعد سیاسی بحران اور خانہ جنگی نے ملک کو شدید عدم استحکام کا شکار کر دیا- آج یمن دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے جہاں جنگ، بھوک اور بیماریوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے-
یمن کی موجودہ سیاسی و انسانی صورتحال:
یمن ایک طویل عرصے سے انتہائی پیچیدہ اور کثیرالجہتی بحران کا شکار ہے جس میں داخلی سیاسی انتشار، مسلح گروہوں کی تقسیم، انسانی بحران اور علاقائی و عالمی طاقتوں کی مداخلت شامل ہیں- یمن کی موجودہ حکومت جسے Presidential Leadership Council کے نام سے جانا جاتا ہے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ ہے- اس کی قیادت رشاد علیمی کے پاس ہے اور یہ جنوبی و وسطی علاقوں خاص طور پر عدن میں محدود اثر و رسوخ رکھتی ہے - تاہم اس حکومت کی طاقت داخلی اختلافات، کمزور فوجی کنٹرول اور عیدروس الزبیدی کی زیرِ قیادت جنوبی علیحدگی پسند گروپ Southern Transitional Council کی مز احمت کے سبب محدود ہے-یہ گروپ جنوبی یمن میں ایک علیحدہ ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس کے زیرِ اثر علاقے اکثر حکومتی فوج کے ساتھ مسلح تصادم میں رہتے ہیں-[1] اس کے علاوہ شمالی اور شمال مغربی یمن پر حوثی تحریک کا کنٹرول برقرار ہے- الجزیرہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق انہیں ایران کی طرف سے عسکری، مالی اور تکنیکی مدد حاصل ہے-[2] اسی طرح یمن میں القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں نے بھی اپنے نیٹ ورک قائم کر رکھے ہیں جو جنوب اور مشرق میں عسکری کارروائیوں، خودکش حملوں اور علاقائی عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں- ان گروہوں نے موجودہ حکومت اور حوثیوں دونوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہیں جس سے ملکی سلامتی مزید کمزور ہوئی ہے- [3]
علاقائی اور عالمی سطح پرسعودی عرب اور متحدہ عرب امارات PLC کو سپورٹ کر رہے ہیں تاکہ حوثیوں اور STC کی علیحدگی پسند کارروائیوں کے اثرات کو محدود کیا جا سکےجبکہ ایران حوثیوں کی حمایت کے ذریعے اپنے اسٹریٹجک مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے- امریکہ، برطانیہ اور اقوامِ متحدہ کے ادارے انسانی بحران اور امن مذاکرات کے لیے ثالثی کر رہے ہیں، لیکن عسکری کارروائیاں اور سیاسی انتشار مذاکرات کو متاثر کر رہی ہیں - [4]مختلف گروہوں کے درمیان مسلسل مسلح جھڑپیں، جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور سرحدی حملے یمن کو دنیا کے سب سے بدترین انسانی بحرانوں میں شامل کر چکے ہیں- ملک میں لاکھوں بے گھر افراد، بچوں اور خواتین کی غذائی قلت، صحت کے نظام کی تباہی اور بنیادی سہولیات کی کمی ایک واضح مظہر ہیں- یمن کی موجودہ صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح گروہوں کی داخلی سیاست، علاقائی طاقتوں کی مداخلت اور انسانی بحران ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور ملکی استحکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں-
یونیسف (UNICEF) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق:
’’یمن میں سالوں پر محیط تنازعہ کے ساتھ اقتصادی بحران بھی جڑا ہوا ہے جس نے بنیادی سماجی سہولیات اور روزگار کو تباہ کر دیا ہےجس کی وجہ یمن میں موجود بچے انتہائی ہنگامی انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں- لاکھوں بچوں کو صاف پانی، حفظان صحت اور صفائی کی سہولیات تک رسائی میسر نہیں ہے اور ملک میں مسلسل کولرا، خسرہ، ڈپتھیریا اور دیگر ویکسین سے بچاؤ والی بیماریوں کے پھیلاؤ کے واقعات جاری ہیں‘‘-
حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مسئلہ یمن پہ بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ :
’’سالوں پر محیط اِس تنازعے نے یمنی عوام پر زبردست تکالیف مسلط کی ہیں- سیاسی انتشار، اقتصادی بحران اور ماحولیاتی تباہی نے یمن میں عوام کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے- مسئلہ یمن جو ابتدا میں داخلی نوعیت کا تھا مگر اب یہ وسیع تر علاقائی جہت اختیار کر چکا ہے جس کے عالمی امن سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں‘‘-
یمن بحران کے اثرات و نتائج:
یمن میں 2014ء سے جاری خانہ جنگی نے بڑے پیمانے پر انسانی تباہی کو جنم دیا ہے جو 2026ء تک پہنچتےپہنچتے نہ صرف ملکی بحران کا باعث بنا ہے بلکہ علاقائی و عالمی سطح پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے- یمن میں تنازعوں، سیاسی انتشار اور مسلح گروہوں کی کارروائیوں کے باعث اب تک لاکھوں افراد براہِ راست متاثر ہو چکے ہیں-یہی وجہ ہے کہ اب یمن کا شمار دنیا کےبڑے بحرانوں میں ہوتا ہے- اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (WHO) کی رپورٹ کے مطابق یمن کی تقریباً 21.6 ملین آبادی یعنی دو تہائی سے زائد لوگ انسانی امداد کے محتاج ہیں اور 17 ملین لوگ روزانہ غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں- اسی طرح 4.5 ملین لوگ داخلی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں جس سے ملک کی سماجی و خاندانی تشکیل بری طرح متاثر ہوئی ہے -[5]
صحت کے شعبے میں بھی تباہ کن مناظر دیکھنے کومل رہے ہیں-تقریباً 46 فیصد صحت کے مراکز جزوی طور پر کام کر رہے ہیں باقی مکمل طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں کیونکہ اسٹاف، ادویات، بجلی اور بنیادی سازوسامان کی قلت نے نظامِ صحت کو تباہ کر دیا ہے- ایسے حالات میں، پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی خدمات بھی ناکارہ ہو رہی ہیں جس سے وبائی امراض جیسے ہانیا، چیچک اور پیچش میں اضافہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے-
ملک کے اقتصادی بحران نے بھی انسانی حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے- ورلڈ بینک کے مطابق 2015ء کے بعد سے GDP per capita میں 58 فیصد کمی آئی ہے اور 2024 میں افراطِ زر 30 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی جبکہ یمنی ریال کی قدر مسلسل گرتی رہی ہے جس سے عام گھرانوں کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے- حکومتی آمدنی میں کمی، بین الاقوامی امداد میں کمی اور تجارتی بندشوں نے درآمدات پر بھی اثر ڈالا ہے اور بنیادی اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں بلند کر دی ہیں جس کا اثر نہ صرف یمن بلکہ عالمی خوراک کی مارکیٹ میں بھی محسوس ہوا ہے- [6]
مزید برآں یمن بحران کے عالمی نتائج بھی واضح ہیں- خاص طور پر باب المندب اور بحیرہ احمر جیسی عالمی تجارت کی اہم سمندری راستوں پر حوثی عسکریت پسندوں کی کارروائیوں نے ان راستوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس کا نتیجہ عالمی شپنگ کمپنیوں کی لاگت میں اضافہ، راستوں کی تبدیلی اور توانائی کے عالمی حالات پر منفی اثر کی صورت میں سامنے آ رہا ہے-ایسی صورتحال جہاں بحری حملوں کی وجہ سے کئی جہازوں کے عملے زخمی یا ہلاک بھی ہوئے ہیں اور سلامتی کے معاملات عالمی توجہ کھینچ رہے ہیں- [7]
یہ انسانی بحران قریبی ممالک جیسے سعودی عرب، عمان، جیبوتی اور صومالیہ پر مہاجرین اور پناہ گزینوں کی صورت میں دباؤ ڈال رہا ہے جس سے ان ممالک کی معیشت، انسانی وسائل اور سیکیورٹی متاثر ہو رہی ہے- بحیرہ احمر میں حوثیوں کی عسکری کارروائیاں عالمی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں جس سے یورپ، شمالی امریکہ اور ایشیا میں تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی کی عالمی مارکیٹ متاثر ہو رہی ہے -
بین الاقوامی تعلقات کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یمن بحران پراکسی وار کی مثال بن چکا ہے جہاں بعض قوتیں حوثیوں کے ذریعے اپنے اسٹریٹجک مفادات کو آگے بڑھا رہی ہیں جبکہ بعض قوتیں PLC کے ذریعے اپنا اثر قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں- نام نہاد عالمی طاقتیں بھی انسانی امداد، فوجی اور سفارتی ثالثی کے ذریعے تنازعے میں مداخلت کا ڈھونگ کر رہی ہیں لیکن سیاسی انتشار اور عسکری کارروائیاں مذاکرات کو متاثر کر رہی ہیں- اس کے نتیجے میں بین الاقوامی قوانین، امن کی پالیسیوں اور انسانی حقوق کے عالمی معیار متاثر ہو رہے ہیں جس سے عالمی سطح پر بے یقینی اور عدم استحکام بڑھ رہا ہے-
مسئلہ یمن پر عالمی و علاقائی طاقتوں کا کردار:
سعودی عرب :
سعودی عرب یمن میں تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے اور اس نے حوثیوں کے خلاف فوجی، سیاسی اور اقتصادی دباؤ برقرار رکھا ہے- 2025–26 میں سعودی عرب نے PLC یعنی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو مسلسل سیاسی، فوجی اور مالی حمایت دی ہے اور جنوبی علیحدگی پسند گروپ کے خلاف کارروائیاں بھی کی ہیں کیونکہ یہ علیحدگی پسند گروہ یمن کی یکجہتی کے خلاف اقدامات کر رہا تھا- سعودی عرب نے جنوبی علیحدگی پسند گروپSTC کے زیرِ قبضہ علاقوں خصوصاً حضرموت اور المہرہ کو واپس لینے کے لیے فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں، جس کے بعد PLC نے 7 جنوری 2026 کو عدن پر کنٹرول بحال کیا- 2026ء میں سعودی عرب نے جنوبی یمن میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 500ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے جو سلامتی اور استحکام کو بڑھانے کی کوششوں کا تسلسل ہے- اس میں ہسپتالوں، سکولوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے جس سے حکومت کیلئے عوامی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے-[8]
متحدہ عرب امارات (UAE):
2026ء کے تناظر میں یمن کے بحران میں متحدہ عرب امارات ( UAE )کا کردار ایک اسٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے- UAE نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ وہ یمن سے اپنی کچھ افواج، خصوصاً انسدادِ دہشت گردی یونٹس، رضاکارانہ طور پر واپس بلا رہا ہے، جسے بظاہر جنگی شدت کم کرنے اور سفارتی حل کی طرف پیش قدمی کے طور پر پیش کیا گیا - UAE کے بنیادی مفادات یمن کے ساحلی اور بندرگاہی علاقوں خصوصاً عدن، مکلا اور خلیجِ عدن سے جڑے رہے ہیں، جو باب المندب اور عالمی بحری تجارت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں- اسی مقصد کے تحت UAE نے جنوبی یمن میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC ) کی حمایت کی، جس نے اسے سعودی عرب سے اختلافات کی طرف دھکیل دیا، کیونکہ سعودی عرب یمن کی وحدت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ STC کی پشت پناہی نے یمن کی سیاسی تقسیم اور علیحدگی پسند رجحانات کو تقویت دی ہے - اس پالیسی اختلاف نے سعودی قیادت والے اتحاد کے اندر عدم ہم آہنگی کو واضح کیا اور یہ ثابت کیا کہ یمن کا بحران صرف داخلی تنازع نہیں بلکہ علاقائی طاقتوں کے اسٹریٹجک مفادات کا ٹکراؤ بھی ہے- اگرچہ UAE نے انسدادِ دہشت گردی اور انسانی امداد میں محدود مثبت کردار ادا کیا، مگر مجموعی طور پر اس کی پالیسیاں یمن میں پائیدار سیاسی حل کے بجائے بحران کو مزید پیچیدہ کرنے کا سبب بنی ہیں- [9]
ایران :
ایران نے مسئلہ یمن میں ایک اہم علاقائی کردار کے طور پر با لخصوص حوثی تحریک انصار اللہ کی عسکری اور سیاسی معاونت کے ذریعے اپنا اثر قائم کیا ہے-مزید ایران اپنے مفادات کے تحت حوثیوں کو مالی، عسکری، تربیتی اور تکنیکی مدد فراہم کرتا رہا ہے جس نے حوثیوں کو ملکی شمالی علاقوں میں مضبوطی سے کنٹرول قائم رکھنے میں مدد دی ہے- تاریخی پس منظر بھی یہ واضح کرتا ہے کہ ایران نے 2014ء کے بعد سے حوثی قیادت کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کیے-2019ء میں حوثی سپریم پولیٹکل کونسل کو رسمی طور پر تسلیم بھی کیا اور شمالی و وسطی یمن میں اپنے مفادات کو فروغ دینے کی کوشش کی- یمن بحران کی وجہ سے عالمی سیکیورٹی، تیل کی ترسیل اور بحیرہ احمر کی تجارت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں- [10]
مسئلہ یمن اور اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی):
اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے یمن کے بحران پر باضابطہ طور پر یمن کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی حل کی حمایت کرتی ہے اور 2015ء سے اب تک متعدد وزرائے خارجہ اجلاسوں، ہنگامی کانفرنسوں اور اعلامیوں میں حوثی بغاوت کی مذمت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی تائید کا اعادہ کیا ہے- OIC کے 57 رکن ممالک پر مشتمل پلیٹ فارم نے یمن کے لیے سیاسی حمایت، سفارتی دباؤ اور انسانی امداد کے اعلانات کیے، تاہم عملی اثر کے لحاظ سے تنظیم کی کارکردگی محدود رہی ہے- OIC کے مطابق 2015 –2024 کے دوران اس کے ذیلی ادارے Islamic Development Bank اور Islamic Solidarity Fund کے ذریعے یمن کے لیے تقریباً 1 بلین امریکی ڈالر سے زائد کی انسانی و ترقیاتی امداد کے وعدے کیے گئے جن میں خوراک، صحت، پانی اور تعلیم کے منصوبے شامل تھے لیکن یہ وعدے مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوئے - [11]
اس کے علاوہ سیاسی سطح پر OIC نے بارہا جنگ بندی، مذاکرات اور اقوام متحدہ کے امن عمل کی حمایت کی، مگر وہ نہ تو فریقین کے درمیان براہِ راست ثالثی کر سکی اور نہ ہی کثیر طرفہ پراکسی وار کو کم کرنے میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا کر پائی- حقیقت یہ ہے کہ OIC کے پاس فوجی یا پابندیوں کا کوئی قابلِ عمل ڈھانچہ ہی نہیں اس لیے اس کی قراردادیں زیادہ تر علامتی نوعیت کی رہیں- 2026 تک بھی یمن میں باغیوں کا شمال پر کنٹرول، جنوبی علیحدگی پسندوں کی سرگرمیاں اور خارجی طاقتوں کی مداخلت برقرار ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ او آئی سی یمن بحران کو روکنے میں سیاسی طور پر ناکام رہی ہے- البتہ انسانی ہمدردی کے پہلو سے دیکھا جائے تو او آئی سی نے پلیٹ فارم فراہم کر کے امدادی کوششوں کو ہم آہنگ کیا جسے جزوی کامیابی کہا جا سکتا ہے- مجموعی طور پر دیکھا جائے تو او آئی سی یمن کے مسئلے پر اخلاقی و سفارتی حمایت تو فراہم کرتی رہی، مگر عملی حل اور امن کے قیام میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی بڑی وجہ رکن ممالک کے باہمی اختلافات اور محدود ادارہ جاتی طاقت ہے-
پاکستان کا مسئلہ یمن پہ کردار:
مسئلہ یمن پہ پاکستان کا کردار بنیادی طور پر غیر جانبدار، سفارتی اور انسانی ہمدردی پر مبنی رہا ہے جس کی جڑیں 2015 میں پارلیمنٹ کے اُس متفقہ فیصلے میں ملتی ہیں جس کے تحت پاکستان نے عرب قیادت والے فوجی اتحاد میں براہِ راست شمولیت سے انکار کرتے ہوئے یمن میں جنگ کے بجائے سیاسی حل اور مذاکرات کی حمایت کا اعلان کیا تھا- پاکستان کی سرکاری پالیسی اب تک یہی رہی ہے کہ یمن کا مسئلہ فوجی طاقت سے نہیں بلکہ جامع سیاسی مکالمے کے ذریعے حل ہونا چاہیے اور وہ اس مؤقف کو اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر مسلسل دہراتا آیا ہے اور ہمیشہ یمن کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا ہے- انسانی ہمدردی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان نے ادویات، راشن اور طبی امداد کے ذریعے یمنی عوام کی مدد کی ہے اور پاکستان کے فلاحی ادارے بھی یمن کے لیے امدادی سرگرمیوں میں شامل رہے ہیں - پاکستان نہ تو یمن میں حوثیوں کی عسکری حمایت کرتا ہے اور نہ ہی کسی خارجی مداخلت کو درست سمجھتا ہے بلکہ وہ یمن کو ایک انسانی المیہ اور سیاسی بحران کے طور پر دیکھتا ہے جس کا حل صرف یمنی قیادت کی شمولیت اور عالمی ضمانتوں کے ساتھ ممکن ہے- یوں پاکستان کا اس مسئلے پہ کردار عملی جنگ سے دور رہتے ہوئے امن، ثالثی، انسانی امداد اور سفارتکاری تک محدود ہے جو اس کی غیر جانبدار خارجہ پالیسی اور داخلی سیاسی اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتا ہے- [12]
مسئلہ یمن :میڈیا، بیانیہ اور عالمی بے حسی
یہ امر باعث تاسف ہے کہ یمن دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک ہونے کے باوجود عالمی میڈیا میں مناسب توجہ حاصل نہیں کر سکا- بین الاقوامی نیوز چینلز اور اخبارات میں یمن کی خبریں اکثر مختصر، غیر نمایاں یا کبھی کبھار ہی شائع ہوتی ہیں- اس کی وجہ ایک طرف طویل جنگ سے پیدا ہونے والی تھکن ہے اور دوسری طرف عالمی طاقتوں کے تزویراتی مفادات بھی ہیں جو میڈیا کے بیانیے کو متاثر کرتے ہیں- نتیجتاً یمن کے عوام کی تکالیف و مصائب دنیا کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں - اسی طرح اگر دیکھا جائے تو میڈیا میں غزہ و یوکرین کے مقابلے میں مسئلہ یمن کو نسبتاً نظرانداز کیا جاتا ہے- 2026ء میں بھی یہ رجحان برقرار ہے جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ عالمی میڈیا بعض تنازعات کو سیاسی، جغرافیائی یا تزویراتی اہمیت کی بنیاد پر زیادہ نمایاں کرتا ہے، جبکہ یمن جیسے ممالک پس منظر میں چلے جاتے ہیں-
یمن کے معاملے میں عالمی و علاقائی طاقتوں کا اخلاقی دوہرا معیار (Double Standards) بھی نمایاں ہے- بعض ممالک انسانی حقوق اور جمہوریت کے نعرے تو لگاتے ہیں مگر یمن میں ہونے والی تباہی پر خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں کیونکہ یہاں ان کے اتحادی ملوث ہیں یا ان کے اسٹریٹجک مفادات وابستہ ہیں- اس دوہرے معیار نے یمن کے عوام کو عالمی انصاف سے مایوس کر دیا ہے- حلانکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل یمن میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری ہلاکتوں، بچوں کی بھرتی، بھوک، بمباری اور طبی سہولیات کی تباہی پر رپورٹس جاری کرتی رہی ہیں اور یمن کو ایک ’’نظرانداز شدہ انسانی المیہ‘‘ قرار دیتے ہیں- تاہم ان رپورٹس کے باوجود عالمی ضمیر میں وہ ہلچل پیدا نہیں ہو پاتی جو دوسرے تنازعات میں دیکھی جاتی ہے جس سے یمن کے عوام کو عملی فائدہ کم پہنچتا ہے-
اختتامیہ :
یمن کی تاریخ، جغرافیہ اور تزویراتی محل وقوع اسے نہ صرف عرب دنیا بلکہ عالمی سیاست، تجارت اور سلامتی کے لیے ایک حساس مرکز بناتا ہے- یمن کے موجودہ بحران سے عیاں ہے کہ یہ مسئلہ صرف داخلی سیاسی انتشار یا مسلح گروہوں کی لڑائی نہیں بلکہ ایک پیچیدہ بین الاقوامی اور علاقائی کشمکش کی عکاسی ہے جہاں ہر فریق اپنے سیاسی، اقتصادی اور عسکری مفادات کیلئے سرگرم ہے- اسی طرح انسانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یمن بحران دنیا کے بدترین انسانی المیوں میں سے ایک بن چکا ہے جس کی طرف عالمی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے مسلسل نشاندہی کرتے رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے عملی اقدامات میں تاخیر اور عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار نے یمن بحران کو مزید طول دیا ہے-
آج اگر عالمی و علاقائی قوتیں اپنے تزویراتی مفادات کو عبور کرتے ہوئے انسانی اور سیاسی حل کی راہ اختیار کریں تو یمن کے عوام کے لیے مستقبل میں سکون اور خوشحالی ممکن ہے بصورت دیگر یہ بحران نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے اور عالمی سطح پر عدم استحکام کا سبب بنتا رہے گا-مزید برآں پاکستان کی غیر جانبدار، سفارتی اور انسانی ہمدردی پر مبنی پالیسی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ یمن کا حل صرف عسکری طاقت یا بیرونی مداخلت سے ممکن نہیں بلکہ جامع سیاسی مکالمے اور عالمی ثالثی کے ذریعے ہی یمن میں پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے- لہٰذا آج مسئلہ یمن کے ممکنہ حل کیلئے بالخصوص OIC اور اقوامِ متحدہ کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے-
٭٭٭
[1]https://www.reuters.com/world/middle-east/leader-yemens-southern-separatist-group-never-gave-up-hopes-independence-2026-01-07/
[3]https://apnews.com/article/yemen-al-qaida-houthis-israel-hamas-us-5a99867b548ddc6a7100598fc772e17c
[6]https://www.worldbank.org/en/news/press-release/2025/06/02/economic-fragmentation-and-external-shocks-hamper-yemen-s-recovery-path
[7]https://ygcs.center/en/estimates/article98.html
[8]https://www.reuters.com/world/middle-east/saudi-arabia-pledges-500-million-yemen-development-after-uae-withdrawal-2026-01-15/
[9]https://www.reuters.com/world/middle-east/saudi-led-coalition-yemen-calls-civilians-mukalla-port-evacuate-saudi-state-news-2025-12-30/