ہم جس دنیا اور ماحول میں اس وقت جی رہے ہیں، وہاں امت کی سطح پر بے بسی، قومی سطح پر اضطراب اور اجتماعی فضا میں گہری مایوسی محسوس ہوتی ہے- عالمِ اسلام کے مجموعی حالات اور اپنی قومی کیفیت ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ اس گرد و غبار سے نکلنے کیلئے ہمیں مضبوط یقین اور زندہ امید کی ضرورت ہے-
یہ یقین اور امید انسان کے باطن سے جنم لیتے ہیں اور باطن کی دنیا دل کی دنیا ہے-اس کی ابتدا خوفِ الٰہی سے، اللہ کے ذکر اور آخرت کے شعور سے ہوتی ہے، جو انسان کو جواب دہی اور مقصدیت کا احساس عطا کرتے ہیں-
اسلام کا بنیادی عقیدہ بھی اسی داخلی استحکام کی بنیاد ہے- مثلاً اللہ کی وحدانیت پر ایمان، حضور نبی کریم (ﷺ) کی نبوت اور ختمِ نبوت کی گواہی، تمام سابقہ انبیاء کرام (علیھم السلام) اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں کی تصدیق، ملائکہ پر ایمان، مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا یقین، تقدیر کے من جانب اللہ ہونے کا اعتراف اور یومِ قیامت پر کامل ایمان-یہی عقائد دل میں استقامت پیدا کرتے ہیں، مایوسی کو امید میں بدلتے ہیں اور فرد و قوم کو نئی حیات بخشتے ہیں-
اس ایمان کے اندر انسانی زندگی کی ساری حقیقت مضمر ہے- جب کسی شخص کو یہ یقین حاصل ہو کہ اسے ایک خالق نے محض بے مقصد نہیں بلکہ ایک واضح غایت کے تحت پیدا کیا ہے، تو اس کی زندگی کا زاویۂ نگاہ بدل جاتا ہے- جب اسے اس بات پر کامل اعتماد ہو کہ اس کے پاس آنے والی کتاب وحیِ برحق ہے اور اس کے بعد نہ کوئی وحی آئے گی اور نہ کوئی کتاب، تو اس کے فکر و عمل کی بنیاد استحکام پا لیتی ہے- جب وہ یہ شعور رکھتا ہو کہ اسے اپنی جان اپنے مولا کے سپرد کرنی ہے، قبر میں اس سے حساب لیا جائے گا، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے حضور اس کا ہر عمل پیش ہوگا، خواہ ایک ذرہ نیکی ہو یا ایک ذرہ بدی،تو اس کا ایمان ایک زندہ اور متحرک حقیقت بن جاتا ہے-
ایسا یقین انسان کو حالات کے طوفانوں میں بھی متزلزل نہیں ہونے دیتا- زمانہ کتنا ہی ناسازگار ہو جائے، فضا کتنی ہی گرد آلود کیوں نہ ہو، جس دل میں یہ عقائد راسخ ہوں وہ امید سے خالی نہیں ہوتا اور اس کی قوتِ عمل کمزور نہیں پڑتی- اسے یہ ادراک رہتا ہے کہ وہ اس دنیا میں دائمی قیام کے لیے نہیں آیا-وہ جانتا ہے کہ وہ خالی ہاتھ آیا تھا اور خالی ہاتھ ہی لوٹ جانا ہے- اس لیے وہ اپنی اصل متاع اپنے اعمال کو سمجھتا ہے- یہی شعور اس کی زندگی کو سنجیدگی، استقامت اور معنی عطا کرتا ہے-
بزبانِ شاعر:
|
به قبرستان گذر کردم کم و بیش |
’’میرا اکثر و بیشتر قبرستان سے گزرا ہوتا ہے، وہاں میں نے امیر اور غریب دونوں کی قبریں دیکھیں-نہ کوئی مفلس بغیر کفن کے مٹی میں گیا اور نہ کوئی دولت مند ایک کفن سے زیادہ کوئی چیز ساتھ لے کر گیا‘‘-
یہ حقیقت اس امر کو واضح کرتی ہے کہ دنیا قیام و سکونت کی دائمی جگہ نہیں بلکہ سفر کی ایک عارضی منزل ہے- انسان یہاں ٹھہرنے کے لیے نہیں آتا بلکہ ایک مرحلہ طے کر کے آگے بڑھ جاتا ہے- اس مختصر قیام کے دوران وہ دوسروں کے ساتھ جو رویہ، جو اخلاق اور جو سلوک اختیار کرتا ہے اور اپنے وجود سے معاشرے کو جو کچھ دے کر جاتا ہے، وہی اس کا حقیقی حصہ اور اس کی اصل کمائی ہے- اسی کردار، اسی عمل اور اسی خدمت پر اس سے باز پرس ہوگی، کیونکہ انسان کے ساتھ نہ اس کی دولت جاتی ہے اور نہ اس کا جاہ و منصب، بلکہ صرف اس کے اعمال اس کے ہم سفر بنتے ہیں-
بہلول دانا، جو بغداد کے معروف داناؤں اور درویشوں میں شمار ہوتے ہیں، اکثر شہر کے قدیم اور وسیع قبرستان میں جا کر بیٹھا کرتے تھے- وہ کہا کرتے تھے کہ میرے بہترین دوست وہ ہیں جو اس قبرستان میں آرام کر رہے ہیں- لوگوں نے تعجب سے پوچھا کہ یہ کیسی دوستی ہے اور ان میں ایسی کون سی خوبی ہے جس نے آپ کو ان کا گرویدہ بنا دیا؟
بہلول دانا نے جواب دیا کہ جب میں ان کے پاس بیٹھتا ہوں تو یہ کسی کی غیبت نہیں کرتے، کسی کا شکوہ نہیں کرتے، کسی پر تہمت یا بہتان نہیں لگاتے اور نہ کسی پر کیچڑ اچھالتے ہیں- پھر جب میں وہاں سے اٹھ کر چلا آتا ہوں تو مجھے یقین ہوتا ہے کہ میرے جانے کے بعد یہ میری غیبت بھی نہیں کریں گے- اِسی سکوت، پاکیزگی اور بے آزاری نے مجھے ان کا دوست بنا دیا ہے-
اولیاء کرام نے اس واقعہ کو نقل کر کے یہ نصیحت کی ہے کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ بہلول جیسے دانا اور بے نیاز لوگ اس سے محبت کریں، اگر وہ چاہتا ہے کہ حق گوئی میں بے باک اور دنیا سے بے رغبت اہلِ دل اس کے قریب ہوں، وہی بہلول جو ہارون الرشید جیسے بااثر خلیفہ کے سامنے بھی حق بات کہنے کا حوصلہ رکھتے تھے، تو اسے چاہیے کہ وہ زمین پر اسی طرح زندگی گزارے جیسے قبرستان والے گزارتے ہیں-یعنی کسی کی غیبت نہ کرے، کسی پر بہتان نہ باندھے، کسی کی عزت پر کیچڑ نہ اچھالےاور اپنی زبان اور کردار کو دوسروں کے لیے امن کا سبب بنائے- یہی طرزِ عمل انسان کو حقیقی محبت اور روحانی قرب عطا کرتا ہے-
قبرستان والے زمین پر کیسے رہتے ہیں ؟
زمین پر قبرستان والوں کی طرح رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی زبان اور اپنے دل کو دوسروں کے لیے امن کا گہوارہ بنا لے-قبرستان والے جب کسی کے سامنے ہوتے ہیں تو کسی کی غیبت نہیں کرتے اور جب کوئی ان کے پاس سے اٹھ کر چلا جائے تو اس کی پشت کے پیچھے اس کی برائی بھی نہیں کرتے - یہی اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام کا طریق ہے- صوفیاء کی محفل کی پہچان یہی ہے کہ وہاں کسی پر تہمت نہیں لگتی، کسی کی غیبت نہیں ہوتی اور کسی پر بہتان نہیں باندھا جاتا- جو شخص آتا ہے اسے عزت اور خیرمقدم ملتا ہے، اور جب وہ رخصت ہو جاتا ہے تو اس کی عدم موجودگی میں بھی اس کی عزت محفوظ رہتی ہے-
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے جوہر کو اس معیار تک بلند کرے کہ اہلِ دل اس کی صحبت سے گریز نہ کریں- ایسا نہ ہو کہ زمانے کا کوئی بہلول اس کی مجلس کو ترک کر دے اور اسے قبرستان کی خاموشی اس کی صحبت سے زیادہ پاکیزہ محسوس ہو- کردار کی پاکیزگی اور زبان کی حفاظت ہی وہ اوصاف ہیں جو انسان کو باوقار بناتے ہیں-
یہ تعلیم محض کسی ایک حکایت تک محدود نہیں بلکہ وحی کی رہنمائی سے بھی ہم آہنگ ہے-
قرآن مجید میں سیدنا عیسیٰ ؑ اور ان کی پاکیزہ والدہ حضرت مریمؑ کے بارے میں دو مختلف رویے بیان ہوئے ہیں: ایک وہ جو لوگوں نے اختیار کیا، اور دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں ظاہر فرمایا-اس تقابل سے واضح ہوتا ہے کہ زمین والوں کے فیصلے اور اللہ کے فیصلے ایک جیسے نہیں ہوتے-
قرآن مجید بیان کرتا ہے کہ جب حضرت مریم ؑ اپنے بازوؤں میں نومولود حضرت سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر اپنی قوم کے پاس آئیں تو لوگوں نے نہ تحقیق کی، نہ گواہی طلب کی، نہ وضاحت سنی- وہ اپنے باطن کی آلودگی کو زبان پر لے آئے اور اپنے فاسد پیمانوں سے ایک پاکیزہ کردار کو پرکھنے لگے- انہوں نے کہا:
’’یٰٓاُخْتَ ہٰرُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا ‘‘[1]
اے ہارون کی بہن تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی‘‘-
اس الزام میں دراصل ان کے اپنے دلوں کی تاریکی جھلک رہی تھی-یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کا آغاز تھا، اور آگے چل کر بھی لوگوں کا رویہ بدل نہ سکا-وہ ہستی جو اللہ کی طرف سے سراپا رحمت بنا کر بھیجی گئی، جو انسانوں ہی نہیں بلکہ تمام مخلوق کے لیے دعا اور شفا تھی، اس کا استقبال الزام سے کیا گیا اور رخصت کرنے کے لیے سولی کا دعویٰ کیا گیا- قرآن اسی ذہنیت کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے:
’’وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللہِ ج وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ ‘‘ [2]
’’اور اُن کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسٰی بن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیااور ہے یہ کہ انہوں نے نہ اُسے قتل کیا اور نہ اُسے سولی دی بلکہ ان کے لئے اُس کی شبیہ کا ایک بنادیا گیا‘‘-
یہ واقعات یاد دلاتے ہیں کہ جس دنیا کو ہم اپنی قرارگاہ سمجھ لیتے ہیں، اس کے فیصلے کتنے سطحی اور ناپائدار ہوتے ہیں- ہماری بیٹیاں اور بہنیں یقیناً معزز اور محترم ہیں، مگر ان میں سے کوئی بھی حضرت مریم (علیھا السلام)کی شان کو نہیں پہنچتی؛ ہم خود کو نیک اور صالح سمجھیں، مگر ہم میں سے کوئی بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)کے مرتبے کا نہیں- جب ایسی عظیم ہستیوں کو بھی دنیا کے طعن و الزام سے نہ بخشا گیا تو پھر انسان کو اپنی عزت کا معیار لوگوں کی رائے میں نہیں بلکہ اللہ کے ہاں تلاش کرنا چاہیے- یہی شعور دل کو صحیح مقامِ وابستگی عطا کرتا ہے اور یہی انسان کو دنیا کے فیصلوں سے بے نیاز بنا دیتا ہے-
اللہ تعالیٰ نے جب سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام)کو دنیا میں بھیجا تو ان کی بعثت کو سلامتی اور بشارت کے ساتھ مزین فرمایا- ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ صلے اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ‘‘[3]
’’جب فرشتوں نے کہا: اے مریم! بیشک اﷲ تمہیں اپنے پاس سے ایک کلمۂ (خاص) کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسٰی بن مریم (علیھا السلام) ہوگا وہ دنیا اور آخرت (دونوں) میں قدر و منزلت والا ہو گا اور اﷲ کے خاص قربت یافتہ بندوں میں سے ہوگا‘‘-
یہ آیت کریمہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام)کے اس عظیم مقام کو واضح کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمایا-
پھر اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام)کے انجام کو اس عظمت اور شان سے یوں بیان فرماتا ہے کہ :
’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ ‘‘ [4]
’’ اور ہے یہ کہ انہوں نے نہ اُسے قتل کیا اور نہ اُسے سولی دی بلکہ ان کے لئے اُس کی شبیہ کا ایک بنادیا گیا‘‘-
یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم والے نہ انہیں قتل کر سکے اور نہ سولی دے سکے؛ بلکہ اللہ نے انہیں اپنی حفاظت میں لے لیا اور زندہ آسمانوں کی طرف اٹھا لیا-اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ زمین والوں کا گمان اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ایک نہیں ہوتا-
ایک طرف لوگوں کا رویہ تھا: الزام، تہمت، ناقدری اور عداوت، بغیر تحقیق باتوں کو پھیلانا، حسد، سازش اور بے انصافی-
دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے تکریم ، توقیر، بشارت، سلامتی، رفعت اور قربِ خاص تھا-
یہ تقابل خود اس حقیقت کو متعین کر دیتا ہے کہ انسان کو دنیا میں رہتے ہوئے کس کا ہونا چاہیے- کیا وہ ان لوگوں کا ہو جو تہمت لگاتے، بہتان باندھتے اور کردار کشی کرتے ہیں، یا اس رب کا جو عزت عطا کرتا ہے، مقام بلند کرتا ہے اور اپنے مقرب بندوں کو اپنے قرب میں جگہ دیتا ہے-
اس لئے انسان کو دنیا میں ایک باطنی نور کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے رب کے ساتھ تعلق استوار کر سکے- یہ تعلق نہ ظاہری عبادت سے جُڑا ہوتا ہے اور نہ صرف علم یا کلمہ پڑھنے سے، بلکہ یہ دل کی پاکیزگی، روح کی بیداری اور نفس کی محاسبہ سے قائم ہوتا ہے-
علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:
|
مانندِ سحَر صحنِ گُلستاں میں قدم رکھ |
علامہ اقبال ایک اور مقام پہ فرماتے ہیں:
|
صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پا بہ گِل بھی ہے |
صنوبر آزاد بھی ہے، پھول کے ساتھ بھی ہے، اسی آزادی اور پابندی کے امتزاج سے اصل آزادی حاصل ہوتی ہے-اسی طرح انسان کو اپنی دنیا میں رہتے ہوئے عالمِ بالا سے تعلق کا راستہ ڈھونڈنا چاہیے-
یہاں ایک دلچسپ حکایت بیان کرنا چاہوں گا:
’’ایک تاجر تھا اور سمجھتا تھا کہ نماز پڑھنا، علم حاصل کرنا اور کلمہ پڑھنا ہی کافی ہے اس نے ایک صوفی سے پوچھا کہ تم جو اکثر ’’اندر کی دنیا‘‘بات کرتے ہو یہ اندر کی دنیاکیا ہوتی ہے؟ بس ظاہر ہی کافی ہے -درویش نے خاموشی اختیار کی اور کہا کہ وقت آئے گا تو یہ بات سمجھ آئے گی-اس تاجر نے اپنے کاروان کے ساتھ روانگی کرنے سے پہلے ایک معمار (انجینئر) کو بڑی رقم دی کہ مجھے دور دراز کے شہروں میں تجارت کرنی ہے اور دو برس لگ جائیں گے ، اس مدت کے دوران تم میرا محل نما مکان تعمیر کروا دو - دو سال بعد واپس آ کر جب مکان دیکھا تو اسے غصہ آیا، کیونکہ مکان خوبصورت اور شاندار تھا، مگر اندر کوئی روشندان یا کھڑکی نہیں تھی، جس سے ہوا اور روشنی آ سکے اور اندر کی شمعوں سے پیدا ہونے والا دھواں باہر نکل سکے -جب وہ معمار سے الجھ رہا تھا کہ مکان تو مکمل اور شاندار ہے، مگر کوئی روشندان کیوں نہیں؟اتنے میں وہ درویش نمودار ہوا اور اس نے کہاکہ انسان کی باطنی دنیا بھی ایسا ہی ہے-جتنی بھی علم، حکمت، فصاحت، خطابت، عبادت کریں، اگر اندر کے روشندان،یعنی عالمِ بالا کے انوار کیلئے راستہ نہ کھلے تو دل اندھیرا ہی رہتا ہے- چمن اور مکان کی تازہ ہوا اسی روشندان سے آتی ہے-
صوفیاء کا اصل مقصد یہی ہے کہ ایک اندر کی دنیا پیدا کرنا، جہاں انسان کا اصل وجود، اس کا احساس اور اس کی حقیقت روشن ہو، اور وہ اپنے رب کے ساتھ مستقل تعلق میں قائم رہ سکے-
سیدنا شعیب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے-مولانا رومؒ نے اپنی مثنوی شریف کے دفتر دوم میں ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ :
’’حضرت شعیب (علیہ السلام)کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کی کہ اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ نے میرے بڑے گناہ دیکھے، میری بڑی خطائیں دیکھی ہیں، مگر اس کے باوجود مجھ پر کبھی پکڑ یا گرفت نہیں کی-حضرت شعیب (علیہ السلام) کو عالمِ غیب سے وحی آئی کہ اس شخص کو بتایا جائے کہ غرور مت کر اور نہ اکڑ کے رہ ، تیرے اوپر اللہ کی گرفت ہوئی ہے مگر تجھے اس کا احساس نہیں- یہ شخص حیران ہوا اور بولا کہ میرے ریوڑ نہیں مرے، میرے بچے نہیں مرے، مجھ پر کوئی بیماری نہیں آئی، میرے مال میں کمی نہیں ہوئی، میرے اخلاق میں نقصان نہیں ہوا،تو یہ گرفت کیسے ہوئی؟
مولانا فرماتے ہیں:
|
یک نشان آنکہ می گیرم و را |
’’اس کی علامت کہ میں اس کو پکڑتا ہوں ایک یہ ہے کہ وہ صوم و دعا سے طاعت رکھتا ہے- اور نماز اور زکوٰۃ وغیرہ سے بھی ، لیکن روح کے ذوق کا ایک ذرہ نہیں رکھتا ہے‘‘-
اس شخص کا تصور تھا کہ پکڑ یا گرفت صرف اس وقت ہوتی ہے جب مال، جان یا اولاد میں نقصان آئے، یا کوئی آفت انسان پر ٹوٹے-لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعے بتایا کہ حقیقی گرفت یہ ہے کہ انسان صوم، دعا، نماز اور زکوٰۃ وغیرہ کی ادائیگی تو کرتا ہے، لیکن اس کی روح نور اور قرب سے محروم رہتی ہے-اس کا باطن روحانی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات حاصل نہیں کرپاتا- جیسا کہ مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ:
|
می کند طاعات و افعالِ سَنی |
’’وہ عبادات اور اعلیٰ اعمال کرتا ہے لیکن ایک ذرہ لطف نہیں پاتا ہے-اِس کی ظاہری عبادت اچھی ہے اور روح کی عبادت اچھی نہیں ہے اخروٹ بہت ہیں ان میں گری نہیں ہے‘‘-
مولانا روم اخروٹ کی مثال سے یہ واضح کرتے ہیں کہ صرف ظاہری اعمال، عبادات اور علم کا حصول انسان کی باطنی حقیقت کی ضمانت نہیں ہے-جتنی بھی خوشنما عبادت، علم، منطق، حکمت یا تزکیہ کیا جائے اگر دل و روح میں روشنی اور ذوقِ جاں نہیں، تو یہ محض اخروٹ کے چھلکے کی مثل ہے-کیونکہ اخروٹ کا اصل اس کا مغز ہوتا ہے اسی طرح انسان کا اصل بھی اس کی باطنی پاکیزگی ، اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات اور اس کا قربِ خاص حاصل کرنا ہے-
اسی فلسفۂ کو حضرت سلطان باھوؒ یوں بیان فرماتے ہیں:
|
ایہہ تَن ربّ سَچّے دا حُجرا وِچ پَا فَقیرا جَھاتی ھو |
پیرانِ پیر، غوثِ اعظم دستگیر سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ نے فرمایا کہ:
’’لوگو! اپنے سینوں کے اندر نور کو تلاش کرو، اس کا نورِ سرمدی تمہارے سینوں کے اندر موجود ہے مگر تم اس طرف جھانکتے نہیں-ایک شخص نے سوال کیا: اگر وہ نور اندر ہے تو نظر کیوں نہیں آتا؟ سیدنا پیرانِ پیرؒ نے مثال دی:بیٹا! گھر میں گھی کس چیز سے نکالتے ہو؟بولا:دودھ سے-آپؒ نے فرمایاتو گھی دودھ کے اندر ہے؟ بولا:جی بالکل! -آپؒ جس جگہ وعظ کر رہے تھے ، آپ کے سامنے دودھ کا پیالہ پڑا تھا-آپؒ نے دودھ کا پیالہ اٹھایا اور اس سے فرمایا: "بیٹا! یہ دودھ ہے سامنے، اس میں سے گھی نکال کے دکھاؤ ؟ اس شخص نے عرض کی حضور! ایسے تو نظر نہیں آتا، اس گھی کو دیکھنے کے لیے اس دودھ کو ایک عمل (process) سے گزرنا پڑتا ہے-دودھ پہلے لسی میں ڈھلتا ہے، پھر دہی میں، پھر مکھن، پھر آگ پر رکھ کر خام گھی الگ ہوتا ہے اور آخر میں خالص گھی حاصل ہوتا ہے-آپؒ نے فرمایا اسی طرح انسان کے وجود میں موجود نورِ سرمدی بھی اسی مرحلہ وار عمل کے بعد آشکار ہوتا ہے- سب سے پہلے طلب کی جاگ لگائی جاتی ہے، پھر محبت کا دہی جم جاتا ہے، معرفت کا مکھن نکلتا ہے، پھر عشق کی بھٹی پر آگ دی جاتی ہے، اور تب جا کر انوار انسان کے وجود سے برآمد ہوتے ہیں‘‘-
جیسے آگ کے بغیر دودھ سے گھی نہیں نکلتا، اسی طرح عشق کی آگ کے بغیر انسان کے وجود سے انوار تک رَسائی حاصل نہیں ہو سکتی-
ہم اکثر حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ مٹی، یہ زمین ظاہری طور پر بے جان اور سادہ معلوم ہوتے ہیں، لیکن اس کے اندر کیسے نور یا زندگی ہو سکتی ہے؟ اگر اس زمین کی کھدائی کریں، 50 میٹر، 100 میٹر، یا 200 میٹر تک جائیں، تو دیکھیں گے کہ زمین کی مٹی کی تہوں میں سے صاف اور شفاف پانی نکلتا ہے-تو یہ پانی زمین کی مٹی اور اس کی تہوں سے کیسے برآمد ہوتا ہے؟
اولیاء اللہ فرماتے ہیں کہ جس طرح کنواں کھودنے کے لیے محنت اور کوشش درکار ہے تاکہ انسان کے لیے خوراک، پانی اور صحت بخش نعمتیں حاصل ہوں، اسی طرح اگر ہم اپنے اندر کی مٹی، اپنے وجود کی تہوں پر محنت کریں تو اللہ تعالیٰ نے اس میں بھی اپنے انوار کا صاف اور شفاف پانی بہا رکھا ہے-
لیکن یہ یاد رکھیں زمین کی مٹی کو کھودنے کے لیے ایک ماہر کی رہنمائی ضروری ہے-اسی طرح اپنے اندر کے نور کو آشکار کرنے کیلئے مرشد کامل کی ضرورت ہے-
مرشد وہ ہوتا ہے جو یہ ہنر سکھاتا ہے، جو مٹی کے اندر سے صاف اور شفاف پانی نکال کر دکھاتا ہے، جو دودھ سے گھی برآمد کر کے دکھاتا ہے، جو مکان کے اندر روشندان نکالتا ہے جہاں سے عالمِ لاہوت کے انوار آتے ہیں اور چمنِ لاہوت کی تازہ ہوائیں داخل ہوتی ہیں- بزبانِ حضرت سلطان باھوؒ :
|
مُرشد کامِل ایسا مِلیا جس دل دی تاکی لاہی ھو |
یعنی وہ کامل مرشد ہی انسان کے دل کی تہوں کو کھول کر اندرونی روشنی اور انوارِ الٰہی تک رسائی دلاتا ہے- یہی وہ راستہ ہے جس کے بغیر انسان اپنے باطنی نور تک نہیں پہنچ سکتا، چاہے ظاہری اعمال، عبادات اور علم کتنا بھی مکمل کیوں نہ ہوں-
مولانا رومی فرماتے ہیں:
|
ہیچ چیزے خود بخود چیزے نہ شُد |
’’کوئی بھی چیز خود بخود خاص چیز نہیں بنتی، کوئی بھی لوہا خود بخود تلوار نہیں بن سکتا-مولوی (رومی ؒ) ہرگز مولائے روم نہ بن سکتا، جب تک وہ شمس تبریزی کی غلامی اختیار نہ کرتا‘‘-
قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزات عطا فرمائے جو انسانی طاقت سے ماورا تھے-مثلاً: مادرزاد اندھوں کو بینا کرنا، کوڑھیوں کو شفا دینا، مٹی سے پرندے کی صورت بنا کر اللہ کے حکم سے اسے زندہ کر دینا اور مردوں کو ’’قُم بِاِذْنِ اللّٰہ‘‘ کہہ کر کھڑا کر دینا-یہ سب کچھ ان کے ذاتی اختیار سے نہیں بلکہ اذنِ الٰہی سے تھا-
یہاں یہ سوال پیدا ہوتے ہیں کہ کیا ہم میں سے کوئی محض ہاتھ رکھنے سے اندھے کو بینا کر سکتا ہے؟ کیا مٹی کی مورت کو پھونک مار کر پرندہ بنا سکتا ہے؟ کیا کسی میت سے کہہ دینے پر وہ اٹھ کھڑی ہو گی؟ ہرگز نہیں- ان سب کے لیے ’’دستِ مسیحا‘‘درکار ہے ، وہ ہاتھ جس میں اللہ تعالیٰ نے شفا اور تاثیر رکھی ہو-
اولیائے کرام اسی حقیقت کو باطنی مثال کے طور پر بیان کرتے ہیں کہ انسان کا جسم مٹی کی مورت ہے-جب اسے کسی کامل کی صحبت اور توجہ نصیب ہو جائے تو یہی مٹی روحانی بلندیوں کی پرواز کرنے لگتی ہے-ہمارے دل نورِ الٰہی کے ادراک سے محروم، گویا مادرزاد اندھے ہوتے ہیں-جب مرشدِ کامل کی توجہ انہیں ملتی ہے تو وہی دل انوارِ قرب و معرفت کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے-
اسی لئے اقبال فرماتے ہیں:
|
دلِ مردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ |
ایک اور مقام پر اقبال فرماتے ہیں:
|
دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاری |
یعنی جس طرح جسمانی کوڑھ بدن پر بدنما داغ ڈال دیتا ہے، اسی طرح نفس کی آلودگیاں روح پر داغ ڈال دیتی ہیں-اس باطنی مرض کے علاج کے لیے ایسے مسیحا کی صحبت درکار ہے جس کی قربت ’’لمسِ دستِ مسیحا ‘‘ بن کر اندرونی بیماریوں کو مٹا دے- جب دل غفلت سے مر جائے تو انسان کی ساری قوت بے اثر ہو جاتی ہے- اصل ضرورت دل کی بیداری ہے- دل زندہ ہو تو انسان کی ضرب بھی کاری ہوتی ہے -پس اگر دل مردہ ہو چکا ہو تو کسی ایسے صاحبِ دل کی رہنمائی تلاش کرو جس کی ایک نگاہ اس مردہ دل کو زندگی عطا کر دے-
اب ذرا اس آیت کریمہ پر غور کیجیے کہ حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں:
’’اَنِّیْٓ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْئَۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللہِ ‘‘[5]
میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے
ذراسوچیئے!ایک پرندے کو اڑنے کے لیے کیا کچھ درکار ہوتا ہے، پَر اور ان کے اندر مضبوط ساخت، عضلات، ہڈیاں، خون، سانس، توانائی، مکمل حیاتیاتی نظام، پھر اڑنے کی صلاحیت اور توازن کا شعور-اسی طرح عام حالات میں ایک چوزہ انڈے سے نکلنے کے بعد ہفتوں بلکہ مہینوں تربیت اور پرورش کے مراحل سے گزرتا ہے، تب کہیں جا کر پرواز کے قابل ہوتا ہے-
مگر یہاں معاملہ تدریج کا نہیں، اعجاز کا ہے-مٹی کی بے جان صورت پر ایک دمِ مسیحا پڑتا ہے اور لمحے بھر میں وہ مکمل وجود اختیار کر لیتی ہے،ساخت بھی، جان بھی، حرکت بھی اور پرواز کی مہارت بھی- مزید نہ کوئی مرحلہ وار تربیت، نہ زمانی تاخیر؛ صرف اذنِ الٰہی اور ایک پھونک سے لمحہ بھر مٹی پرندہ کی مورت سے پرندہ بن کر پرواز کرنے لگتی ہے-
اس لئے اولیاء کرام اس واقعہ سے یہ باطنی حقیقت اخذ کرتے ہیں کہ جب انسان کسی صاحبِ کمال کی نگاہ میں آتا ہے تو اس کی باطنی تبدیلی بھی تدریج کی محتاج نہیں رہتی-جس دل میں استعداد ہو، وہاں ایک لمحۂ عنایت انقلاب برپا کر دیتا ہے- جو مٹی کی مورت تھا، وہ صاحبِ پرواز بن جاتا ہے؛ جو بے اثر تھا، وہ مؤثر ہو جاتا ہے؛ جو عدم کے قریب تھا، وہ وجودِ معنی پا لیتا ہے-یہ سب اپنی قوت سے نہیں، بلکہ اسی ’’دمِ مسیحا‘‘ سے ہوتا ہے جس کے پیچھے اصل کارفرما قوت اذنِ خداوندی ہوتی ہے-
اس لیے علامہ اقبال فرماتے ہیں:
|
جلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفَس ان کی |
اسی لیے اولیائے اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تم انوارِ معرفت کے آسمانوں میں پرواز کے خواہشمند ہو تو صرف ظاہر کی آرائش پر اکتفا نہ کرو، اپنے باطن کی طرف بھی متوجہ ہو جاؤ-جس طرح تم اپنے جسم، اپنے منصب اور اپنی دنیا کیلئے محنت کرتے ہو، اسی طرح دل کی اصلاح اور روح کی تربیت کے لیے بھی جدوجہد کرو-
دل بیدار کس سے ہوتا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت عزیر (علیہ السلام) کا واقعہ یوں بیان کیاہے:
’’اَوْکَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰی قَرْیَۃٍ وَّہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَا ج قَالَ اَنّٰی یُحْیٖ ہٰذِہِ اللہُ بَعْدَ مَوْتِہَاج فَاَمَاتَہُ اللہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ط قَالَ کَمْ لَبِثْتَ ط قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ ط قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَۃَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ ج وَانْظُرْ اِلٰی حِمَارِکَ وَ لِنَجْعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَانْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُہَا ثُمَّ نَکْسُوْہَا لَحْمًا ط فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ لا قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘‘
’’یا اس کی طرح جو گزرا ایک بستی پر اور وہ گری پڑی تھی اپنی چھتوں پر ۔ بولا اسے کیونکر جلائے گا اللہ تعالیٰ اس کی موت کے بعد ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے مردہ رکھا سو برس ، پھر زندہ کردیا ۔ فرمایا تو یہاں کتنا ٹھہرا؟ عرض کی دن بھر ٹھرا ہوں گا یا کچھ کم ۔ فرمایا نہیں بلکہ تجھے سو برس گزر گئے اور اپنے کھانے اور پانی کو دیکھ کہ اب تک بونہ لایا اور اپنے گدھے کو دیکھ (کہ جس کی ہڈیاں تک سلامت نہ رہیں) اور یہ اس لئے کہ تجھے ہم لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور ان ہڈیوں کو دیکھ کیونکر ہم انہیں اٹھان دیتے پھر انہیں گوشت پہناتے ہیں ۔ جب یہ معاملہ اس پر ظاہر ہوگیا بولا میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے‘‘-
غور کیجیے!حضرت عزیر (علیہ السلام) نے سوال کیا کہ مردے کیسے زندہ ہوں گے؟ جواب الفاظ میں نہیں، ایک عملی مشاہدے میں دیا گیا- انہیں سو برس موت کی حالت میں رکھا گیا، ان کا جسم سلامت رہا، ہڈیاں محفوظ رہیں، کھانا اور پانی تازہ رہے، مگر گدھا گل سڑ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا-پھر دکھایا گیا کہ وہی ہڈیاں جوڑی گئیں، ان پر گوشت چڑھا اور وہ دوبارہ زندہ ہو کر کھڑا ہو گیا- اس مشاہدے کے بعد حقیقت واضح ہوئی کہ جس نے سو برس تک ہر چیز کو اپنے نظام میں سنبھالے رکھا، وہ قیامت کے دن بھی سب کو اسی قدرت سے اٹھا کھڑا کرے گا- یہی حیات بعد الموت کا عینی استدلال ہے جسے قرآن مجید نے بیان کیا-
صوفیائے کرام اس واقعے میں ایک باطنی نکتہ بھی دیکھتے ہیں- دو چیزیں ساتھ تھیں: پانی اور گدھا-پانی نہ خراب ہوا، نہ بدبودار، نہ ضائع ہوا، جبکہ گدھا فنا ہو گیا-وہ کہتے ہیں کہ پانی کی فطرت میں’’میں‘‘نہیں، وہ جھکتا ہے، بہتا ہے، اپنے ظرف کے مطابق ڈھل جاتا ہے-اس میں ضد اور انا نہیں- مگر گدھے کی مثال اس نفس کی ہے جس میں اپنی مرضی، اپنی ’’میں ‘‘ اور سرکشی ہوتی ہے- اشارہ یہ ہے کہ جس نے اپنی انا مٹا دی وہ باقی رہا، اور جو اپنی ’’مَیں ‘‘ پر قائم رہا وہ فنا ہو گیا- بقا تسلیم و رضا میں ہے- جب تک انسان خودی، تکبر، ضد اور بغاوت کو ترک کر کے حق کے سامنے سر نہیں جھکاتا، اسے بقا کی لذت نصیب نہیں ہوتی-
پس اگر اندر کی زندگی، دوام اور حقیقی بقا چاہتے ہو تو پانی کی فطرت اختیار کرو:، جھک جاؤ، بہہ جاؤ، اپنے آپ کو اس کی مشیت کے سپرد کر دو- یہی دل کی بیداری اور حقیقی زندگی کا راستہ ہے-
دوسرا نکتہ جو اولیاءِ کاملین بیان فرماتے ہیں وہ نہایت لطیف ہے-وہ کہتے ہیں کہ حضرت عزیر(علیہ السلام) کی مثال روح کی اور گدھے کی مثال بدن کی ہے-
روح نے مشاہدہ طلب کیا، سوال اٹھا کہ مردے کیسے زندہ ہوں گے؟ اس طلبِ مشاہدہ کے بعد گدھے پر موت طاری ہوئی، وہ گل سڑ گیا، پھر دوبارہ جوڑا گیا، ہڈیوں پر گوشت چڑھا اور وہ زندہ کھڑا کر دیا گیا- تب حقیقت منکشف ہوئی کہ مارنے والا ہی زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں بیان ہوا-
صوفیاء کرام اس سے ایک باطنی اصول اخذ کرتے ہیں کہ جب روح مشاہدۂ حقیقت کی طلبگار ہوتی ہے تو جسم کو ایک موت سے گزرنا پڑتا ہے-یہ جسمانی موت نہیں، بلکہ نفسانی موت ہے-
جسم کی موت کیا ہے؟
- حسد کو ترک کرنا
- حرص کو چھوڑ دینا
- بخل سے نجات پانا
- تکبر کو مٹا دینا
- شہوت اور نفسانی لذتوں سے آزاد ہونا
یہ وہ اوصاف ہیں جن سے ’’نفس‘‘ لذت لیتا ہے- جب تک یہ باقی رہتے ہیں، روح حقیقت کا مشاہدہ نہیں کر سکتی- گدھے (جسمِ نفسانی) کو مرنا پڑتا ہے تاکہ عزیر (روح) کو یقین کا درجہ حاصل ہو-
آج کے ماحول میں، جہاں ہر طرف مایوسی، شور، گالم گلوچ اور سوشل میڈیا کی ہنگامہ آرائی ہے، آسان راستہ ردِ عمل دینا ہے- مگر اصل راستہ یہ ہے کہ انسان اپنے باطن کی طرف لوٹے، پیغامِ حق کو حقیقت کی نگاہ سے دیکھے اور اپنے آپ کو اس کے ساتھ جوڑ لے- یہی صوفیاء کا طریقِ تربیت ہے- یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جب تک جسم اپنی خواہشات کی زندگی جیتا رہے گا، روح کو مُشاہدہ نصیب نہیں ہوگا- جب جسم نفسانی لذتوں سے ’’مر‘‘جائے گا، تب روح زندہ ہو کر حقیقت کو پا لے گی-یہی دل کی بیداری کا راستہ ہے-
مولانا جلال الدین رومی مثنوی شریف میں ایک نہایت بلیغ مثال دیتے ہیں کہ :
’’اگر کسی کے جسم میں تیر پیوست ہو جائے اور اس کی لکڑی تو باہر نکل آئے مگر لوہے کا پیکان (arrowhead) اندر رہ جائے، تو طبیب کیا کرے گا؟ وہ زخم کو چھیڑے بغیر، جسم کو کاٹے بغیر اس لوہے کو نہیں نکال سکتا- شفا کے لیے ناگزیر ہے کہ جسم چاک ہو، تب ہی زہر آلود ٹکڑا باہر آئے گا‘‘-
اسی طرح روحانی علاج بھی محض مرہم رکھنے سے نہیں ہوتا ہے- پہلے ’’تخریب /ڈی کنسٹرکشن‘‘ ہوتی ہے، پھر ’’تعمیر/ری کنسٹرکشن‘‘- جب تک اندر پیوست نفسانی خواہشات کا تیر نہ نکلے، روح کو شفا ممکن نہیں-
مرشدِ کامل کی صحبت کا راز بھی یہی ہے- انسان ایک تیار شدہ عمارت لے کر آتا ہے، ایسی عمارت جو معاشرے، ماحول، تعلیم، میڈیا، خواہشات اور ناقص تصورات نے تعمیر کی ہوتی ہے- مرشد پہلے اس عمارت کو منہدم کرتا ہے، مثلاً خیالات بدلتے ہیں، عادات ٹوٹتی ہیں، اطوار سنورتے ہیں، وہم چھٹتے ہیں، ارادے اور نیتیں نئی ترتیب پاتی ہیں- پرانی ساخت گرتی ہے تو اندر سے ایک نئی تعمیر ابھرتی ہے-
یہی وہ ’’موت‘‘ہے جس کا ذکر اہلِ تصوف کرتے ہیں،نفسانی اوصاف کی موت- جب تک یہ مرحلہ نہ آئے، تعمیرِ نو ممکن نہیں اور جب تک تعمیرِ نو نہ ہو، وہ مشاہدہ مکمل نہیں ہوتا جس کے بعد بندہ یقین سے کہہ سکے کہ حق واضح ہو گیا اور میرا رب ہر چیز پر قادر ہے، جیسے حضرت عزیر (علیہ السلام) نے مشاہدے کے بعد اقرار کیا-
اسی لیے صوفیائے کرام ہمیشہ باطن کی طرف متوجہ کرتے ہیں- وہ کہتے ہیں: اپنے اندر اتر جاؤ، اپنی روح کی خبر لو، اپنے باطن کو روشن کرو، اس کی آبیاری کرو- کیونکہ اصل زندگی اندر ہے، اور اگر اندر تاریک ہو تو باہر کی ساری آرائش بے معنی ہو جاتی ہے-
روح کس چیز سے منور ہوتی ہے؟
سلطان العارفین حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں کہ روح ذکرِ الٰہی سے زندہ اور روشن ہوتی ہے- اللہ کے اسمِ پاک کا ذکر روح کی غذا ہے- جس نے اپنے سینے کو ذکرِ اسمِ ذات سے روشن کر لیا، اس کا باطن منور ہو گیا، اس کی روح بیدار ہو گئی-
ایسا شخص پھر محض جسم کا تابع نہیں رہتا، وہ روح کے نقوشِ نُوری پر چلنے لگتا ہے- وہ حقائق کا محوِ پرواز ہوجاتا ہے ، ظاہر کا اسیر نہیں رہتا- اس کی نسبت اُن پاک ہستیوں سے جڑتی ہے جنہوں نے مشاہدۂ حق پایا، جیسے حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ(علیہ السلام)-اولیاء اللہ کی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کی بھی پاکیزگی اختیار کرو-
لہٰذا ہمیں اپنی روحوں کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اورروح ذکرِ اسمِ اعظم ’’اَللہُ‘‘ سے بیدار ہوتی ہے- جب ذکر دل میں اتر جاتا ہے تو باطن منور ہو جاتا ہے اور جب باطن منور ہو جائے تو انسان کی پوری زندگی روشنی بن جاتی ہے-
اصلاحی جماعت کی یہی دعوت ہے کہ اولیاء اللہ پاکیٔ قلب کی دعوت دیتے ہیں اس لئے بالخصوص نوجوان نسل کو اس تربیت کی ضرورت ہے- آج کی مادہ پرست دنیا کا سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اس باطنی تربیت سے دور کرتی ہے -اس مادہ پرستی کی تہذیب کے تحت پروان چڑھنے والی جتنی بھی تفرقہ پرست تحریکیں ہیں ان سب کی بنیادصرف مادیت پرستی ہے-لہذا اصلاحی جماعت میں شامل ہو کر اس تربیت کو حاصل کر کے اپنے ظاہرکے ساتھ ساتھ باطن کی پاکیزگی کو بھی حاصل کریں-اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے-
٭٭٭