مصنوعی ذہانت اور مشرق ِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال

مصنوعی ذہانت اور مشرق ِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال

مصنوعی ذہانت اور مشرق ِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال

مصنف: ڈاکٹرلئیق احمد مئی 2026

اے آئی اور حالیہ جنگ کا ایک اجمالی جائزہ:

مصنوعی ذہانت دنیا کی افواج کو معلومات کی زیادہ تیزی اور درستگی کے ساتھ تجزیہ کاری کے قابل بنارہی ہے- جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی افواج میں مکمل طور پر ضم ہوتی جارہی ہے، یہ جنگ کی رفتار اور اس کی وسعت کو یکسر بدل کر رکھ سکتی ہے- تخمینہ لگایا گیا ہے کہ خود مختار نظام ڈرونز کے عظیم الشان غول (swarms) کو ممکن بنائیں گے، جو دفاعی فریق کے لیے ایک ایسے مسلسل بدلتے ہوئے خطرے کی شکل اختیار کر لیں گے اور انسانی رَدِّعمل کی صلاحیت کو مغلوب کر دے گا- اس خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے حریف ممالک مزید خود مختاری کا سہارا لیں گے- تاہم، جیسے جیسے انسان انٹیلی جنس کے تجزیے سے لے کر اہداف کے انتخاب تک کے امور مشینوں کے سپرد کرتے جائیں گے، ان کیلئے مصنوعی ذہانت کی تمام سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی ممکن نہیں رہے گی- وہ مصنوعی ذہانت کے نظام پر بھروسہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے- مگر مصنوعی ذہانت ہمیشہ قابلِ اعتبار نہیں ہوتی- لارج لینگویج ماڈلز (LLMs) میں hallucinations، خوشامدانہ رویوں[1]  اور مخفی تعصبات کا رجحان پایا جاتا ہے-[2]

فروری 2026ء کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف Epic Fury اور Roaring Lionکے ناموں سے مربوط فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا جو کہ 2003ء کے عراق حملے کے بعد امریکہ کی سب سے بڑی عسکری مہم قرار پائی- اس معرکے کے دوران اب تک امریکی سینٹرل کمانڈ نے 11000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں ایران کی جانب سے 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 2000 ڈرون داغے جا چکے ہیں- جنگ کے ابتدائی حملوں ہی میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ جناب علی خامنہ ای سمیت سینکڑوں ایرانی شہری شہید ہو گئے-

یہ اعداد و شمار اس خوفناک جنگ کی تاریخی نوعیت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے بلکہ اس جنگ کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ پہلی باضابطہ امریکی لڑائی ہے جس میں مصنوعی ذہانت (AI)، خود مختار نظام اور تجارتی ٹیکنالوجی کلیدی کردار کے طور پر بروئے کار لائے گئے- [3]

اسرائیل کے لئے گو کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ماضی قریب میں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے فلسطینی مجاہدین حماس کے 37000 اہداف کی نشاندہی کیلئے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کیا تھا- اسرائیلی انٹیلی جنس ذرائع نے غزہ کی جنگ میں لیوینڈر (Lavender) نامی اے آئی نظام کے استعمال کا انکشاف کیا تھا- دی گارڈئین کی رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی فوجی حکام نے بڑی تعداد میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکت کی اجازت دی تھی- ان کے مطابق مخصوص اہداف کو نشانہ بناتے وقت شہری ہلاکتوں کے حوالے سے مروجہ ضوابط میں غیر معمولی نرمی برتی گئی تھی جس کے نتیجے میں جانی نقصان کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا- [4]

مشرقِ وسطیٰ میں یہ حالیہ تنازع جنگ کے ان دیگر کلیدی تصورات کی بھی توثیق کرتا ہے جو مستقبل کے طریقۂ کارِ حرب کی تشکیل کریں گے- ان میں سب سے نمایاں ہدف پر درستگی کے ساتھ کثیر حملہ (precise mass on target) کا تصور ہے- یعنی یہ خیال کہ بڑے پیمانے پر دستیاب کم لاگت والے اسلحہ کے نظام جدید جنگی حکمتِ عملی کا مستقل حصہ بن جائیں گے- فریقین نے اس اصول کا بھرپور مظاہرہ کیا- ایران نے اپنے شاہد ڈرونز کے ساتھ ساتھ خلیجِ عمان میں تجارتی بحری جہاز رانی کے خلاف بغیر پائلٹ کے بحری جہاز (USVs) بھی استعمال کیے-اسی اثناء میں ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کا 700 ملین ڈالر کا بوئنگ ای تھری جاسوسی طیارہ ایران کے 20 ہزار ڈالر کے شاہد ڈرون نے مار گرایا- [5]

امریکہ نے لوکاس (LUCAS) نامی ڈرون نظام متعارف کرایا، جسے ایران ہی کے شاہد-136 کی ریورس انجینئرنگ سے تیار کیا گیا ہے- اس کی فی یونٹ لاگت تقریباً 35000 ڈالر ہےجو کہ 2.5 ملین ڈالر مالیت کے حامل ٹوم ہاک (Tomahawk) کروز میزائل کی قیمت کا محض پچاسواں حصہ ہے-

خود مختار نظاموں کی یہ طلب اب اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اسے تسکین دینا ناممکن معلوم ہوتا ہے اور پینٹاگون نہ صرف فضائی بلکہ بحری ڈرونز بشمول بغیر پائلٹ کی سطحِ آب اور زیرِ آب کشتیوں (UUVs) کو بھی تیزی سے شاملِ کار کر رہا ہے- پینٹاگون اب اپنے ڈرون ڈومیننس پروگرام (Drone Dominance Program) پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد تین لاکھ (300000) چھوٹے اور کم لاگت والے ون وے اٹیک ڈرونز کو قلیل مدت میں میدانِ جنگ میں لانا ہے جن کی قیمت فی یونٹ محض 2000 ڈالر تک ہو سکتی ہے- اس پروگرام کا مقصد امریکی ڈرون کی صنعتی بنیادوں کو وسعت دینا اور اس شعبے میں خریداری و تجرباتی مراحل کے مروجہ قواعد و ضوابط میں انقلابی تبدیلی لانا ہے- [6]

اے آئی کے ہولناک استعمال میں ایک دل دہلا دینے والا معاملہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں 28 فروری کو پیش آیا جب شجرہ طیبہ گرلز اسکول پر ہونے والے حملے کے ہولناک نتائج سامنے آئے- جس کے بارے میں ایران کا دعویٰ ہے کہ اس میں کم از کم 168 افراد جان بحق ہوئے جن میں اکثریت اسکول طالبات کی تھی- یوں تو ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدائی طور پر اس حملے کی ذمہ داری ایران ہی پر عائد کی تھی تاہم اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے گئے- واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ اسکول امریکی ہدف کی فہرست (target list) میں شامل تھا- [7]

الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے، یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز سڈنی کے ٹوبی والش نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایران میں پہلے ایک ہزار اہداف کے انتخاب میں مصنوعی ذہانت نے امریکہ و صیہونی قوتوں کی مدد فراہم کی- [8]

ایران کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے والے امریکی کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اس تنازع میں اعداد و شمار کے وسیع ذخیرے کی چھان بین کے لیے متنوع اور جدید مصنوعی ذہانت کے آلات (AI tools) کے استعمال کی تصدیق کی تھی- اگرچہ انہوں نے کسی مخصوص آلے کا نام نہیں لیا تھا لیکن انکا کہنا تھا کہ ان آلات نے قائدین کو دشمن کے ردِعمل سے کہیں زیادہ تیزی اور دانشمندی کے ساتھ فیصلے کرنے کے قابل بنایا اور ان مراحل کو جو گھنٹوں یا دنوں پر محیط ہوتے تھے محض سیکنڈوں تک محدود کر دیا- ایڈمرل کوپر نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ فائر کرنے یا نہ کرنے اور اس کے موزوں وقت کا حتمی فیصلہ ہمیشہ انسان ہی کرتے ہیں- [9]

بلاشبہ یہ ایک انتہائی پرخطر پہلو ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے اہداف کے تعین کے فیصلے کیے جائیں- اگر انسانی نگرانی کے کم سے کم دخل کے ساتھ بڑے پیمانے پر اہداف پیدا کرنے کیلئے ان آلات کا استعمال کیا جا رہا ہے تو یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ اس عمل میں غلطیاں کس طرح جنم لے سکتی ہیں- جنگ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیدا ہونے والا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس نظام کی عملی صلاحیت اور انسانوں کے اس نظام کو استعمال کرنے کے طریقہ کار یا قواعد و ضوابط کے درمیان ایک واضح فرق موجود ہے-

اس امر پر ایک بحث تیزی سے جنم لے رہی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت (AI) جنگ و جدل میں ایک ایسی نئی جہت متعارف کرا رہی ہے جس کیلیے اضافی ضوابط ناگزیر ہیں- [10]

 مثلاً، ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کس طرح اس انسانی فیصلے اور بصیرت کی گنجائش کو کم کر سکتی ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت حتمی تعین کیلئے ضروری ہے- [11]

اے آئی تنصیبات اور مشرقِ وسطیٰ کشیدگی:

مصنوعی ذہانت کا دائرہ اثر جس تیزی سے ذاتی اور پیشہ ورانہ شعبہ ہائے زندگی میں اپنی دھاک بٹھا رہا ہے، اسی تناسب سے ان خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو محض تجارتی نمو اور مالیاتی غلبے کی خاطر مول لیے جا رہے ہیں- مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے اُن تمام دراڑوں کو نمایاں کر دیا ہے جن پر مصنوعی ذہانت کی صنعت کی بنیادیں استوار ہیں- خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ان باہمی مربوط عوامل کے نتیجے میں ایک ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جو اس صنعت کے گرد بنے ہوئے مبالغہ آمیز حصار کو پاش پاش کر دے-

فنانشل ٹائمز کے مطابق مصنوعی ذہانت کی اس ہمہ گیر صنعت نے گزشتہ تین برسوں میں عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ امریکہ سے ایشیاء تک کی اسٹاک مارکیٹوں کو بلندیوں کے نئے ریکارڈ تک پہنچایا ہے- [12]

البتہ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اپنی نوعیت کی سب سے زیادہ توانائی صرف کرنے والی ایجادات میں سے ایک ہے اور ایک ایسی پیچیدہ ’چِپ پروڈکشن لائن‘ پر منحصر ہے جو مصنوعہ حتمی صارف تک پہنچنے سے قبل 70 سے زائد بین الاقوامی سرحدوں سے گزرتا ہے- چنانچہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف حالیہ جنگ کی وجہ سے مصنوعی ذہانت کی supply chain میں موجود کمزوریاں اب شدید خطرے کی زد میں ہیں-

فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق جنگ کی ہولناکیوں کے پسِ پردہ مصنوعی ذہانت اور اس کے ہمہ گیر نفاذ کے بارے میں ایسے نئے حقائق سامنے آئے ہیں جن کے اثرات پوری انسانیت محسوس کرے گی- [13]

اگرچہ تحقیق اے آئی ٹیکنالوجی کو کئی شعبوں میں انقلابی قرار دیتی ہے لیکن بعید نہیں کہ مصنوعی ذہانت کی تباہی (AI doomsday) کے امکانات بھی قوی ہیں- ممکنہ تباہی کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں، جن میں علمی بحران سے لے کر سرد اور گرم جنگیں تک شامل ہیں- دی اٹلانٹک کے مطابق اے آئی صنعت کے مبصرین گزشتہ ایک سال سے اس کے ممکنہ زوال پر عوامی سطح پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں-[14]

بلومبرگ کا ماننا ہے کہ ایران کی حالیہ جنگ نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایک خاص قسم کے تضاد کو جنم دیا ہے- یہ تنازع خلیجی ممالک کی جانب سے اس ٹیکنالوجی میں کی جانے والی خطیر سرمایہ کاری کو غیر مستحکم کر سکتا ہے جبکہ توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخ ڈیٹا سینٹرز کے اخراجات میں اس قدر اضافے کا باعث بن سکتے ہیں جو ان کے نظم و نسق کو دشوار بنا دے- [15]

جنگ کے ان مابعد اثرات سے یہ تو بعید معلوم ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کا موجودہ عروج مکمل طور پر دم توڑ دے گا - البتہ اس امر کا قوی امکان ہے کہ یہ مارکیٹ کو دو حصوں میں منقسم کر دے- اس بدلتی ہوئی مالیاتی صورتحال میں مائیکرو سافٹ، الفابیٹ اور ایمیزون جیسے عظیم الجثہ ادارے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں- اس کے برعکس اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے نامور startups اس بحران کے اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں-

فوکس نیوز کے مطابق اگر ایران کی جنگ ہی وہ اصل محرک ہے جس نے اس تنازع کو silicon valley کی دہلیز تک پہنچایا ہے تو یہ صنعت ان حقائق کے لیے قطعاً تیار نہ تھی جو اس جنگ نے بے نقاب کیے ہیں- [16]

ایک ایسے خطرے پر غور کیجیے جس کی جانب توجہ نہ ہونے کے برابر ہے حالانکہ امریکی عوام کیلئے اس کے معاشی نتائج ممکنہ طور پر سب سے زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں- ’ہیلیئم‘ (helium) کی پیداوار، جس کا ایک تہائی حصہ قطر سے وابستہ ہے- ہیلیئم کی عدم دستیابی کا مطلب چپس کی تیاری میں تعطل ہے- جبکہ ان چپس کے بغیر مصنوعی ذہانت کا تصور ناممکن ہے[17]

ان عناصر کے بغیر وہ عسکری برتری بھی ماند پڑ جاتی ہے جس پر اس جنگ کا دارومدار ہے- مشرق وسطیٰ کا یہ تنازع برسرِ موقع یہ ثابت کر رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز کو توانائی فراہم کرنے والے بڑے پیمانے کے ڈیٹا سینٹرز بذاتِ خود جنگی اہداف بن سکتے ہیں- [18]

ان تمام صورتِ حالات کے پیشِ نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تنازعہ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے مرکز کے طور پر اس خطے کی کشش کو کم کر سکتی ہے- اس کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کے قومی خودمختار دولت فنڈز (sovereign wealth funds) مصنوعی ذہانت کیلئے مختص کردہ اپنی مجوزہ سرمایہ کاری کا رخ موڑ کر اسے مقامی دفاعی اور حفاظتی ضروریات کی جانب منتقل کر سکتے ہیں- [19]

حرفِ آخر :

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اب صرف تیل یا پائپ لائنز کے لیے نہیں رہی- تیل کی بنیاد پہ معیشتیں مضبوط رکھنے والے  سبھی حکمران جانتے ہیں کہ تیل کا دور ختم ہو رہا ہے- اسی لیے وہ اب ’’دنیا کے گیس اسٹیشن‘‘ کے بجائے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت  کا مرکز بننا چاہتے ہیں-

خلیجی ممالک نے ’’Pax Silica‘‘جیسے بڑے معاہدوں کے ذریعے اربوں ڈالر خرچ کر کے بڑے ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا ہے- امریکہ ان ممالک کو ایک ہائی ٹیک قلعے کے طور پر دیکھتا ہے-امریکہ اور اسرائیل کے تہران پر حملوں کے بعد ایران نے روایتی فوجی اڈوں کے ساتھ خلیجی ممالک کے ڈیجیٹل سسٹم کو نشانہ بنایا ہے- ایران نے بمباری کرنے کے بجائے سائبر حملوں کے ذریعے ان پاور گرڈز اور کولنگ سسٹم کو نشانہ بنایا جو ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھتے ہیں- اگر ان ڈیٹا سینٹرز کا کولنگ سسٹم چند گھنٹوں کے لیے بھی بند ہو جائے تو اربوں ڈالر کے اے آئی پروسیسرز گرمی کی وجہ سے پگھل کر ختم ہو سکتے ہیں- اب صورتحال یہ ہے کہ خلیجی ممالک واشنگٹن سے کشیدگی کم کرنے کی درخواست کر رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھ گئے ہیں کہ امریکی فوجی طاقت ایک مائیکرو چپ کو سائبر حملے سے نہیں بچا سکتی- اب دنیا کو تیل کے کنوؤں کے بجائے کولنگ ٹاورز (ڈیٹا سینٹرز) پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے-

دیکھئے اِس بحر کی تہہ سے اُچھلتا ہے کیا
گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا

٭٭٭


[1]’’خوشامدانہ رویوں‘‘ سے مراد وہ اندازِ گفتگو ہے جس میں مصنوعی ذہانت صارف کو خوش کرنے کے لیے غیر معمولی حد تک موافقت یا تعریف ظاہر کرے، حالانکہ یہ حقیقی جذبے کی بجائے محض الگورتھمک تشکیل کا نتیجہ ہوتا ہے-

[2]https://www.cnas.org/publications/commentary/setting-the-rules-for-ai-warfare

[3]https://www.forbes.com/sites/mikebrown/2026/03/30/the-first-ai-war-how-the-iran-conflict-is-reshaping-warfare/

[4]https://www.theguardian.com/world/2024/apr/03/israel-gaza-ai-database-hamas-airstrikes

[5]https://www.bbc.com/news/articles/cwyd07m7e1xo

[6]https://www.forbes.com/sites/mikebrown/2026/03/30/the-first-ai-war-how-the-iran-conflict-is-reshaping-warfare/

[7]https://www.washingtonpost.com/national-security/2026/03/11/us-strike-iran-elementary-school-ai-target-list/

[8]https://www.aljazeera.com/video/quotable/2026/3/31/ai-helped-pick-the-first-thousand-targets-in

[9]https://youtu.be/xlTyju2XC3E?si=2tK_xXMuMt6Fu3hz

[10]https://doi.org/10.1080/03071847.2026.2607294

[11]https://international-review.icrc.org/articles/the-erosion-of-humane-judgement-in-targeting-quantification-logics-ai-enabled-decision-support-systems-and-proportionality-assessments-in-ihl-930

[12]https://www.ft.com/content/df3f208a-2512-4a75-b2f3-d3bd27bae2e8?syn-25a6b1a6=1

[13]https://foreignpolicy.com/2026/03/24/ai-artificial-intelligence-doomsday-iran-war

[14]https://www.theatlantic.com/technology/2026/03/ai-boom-polycrisis/686559/

[15]https://theweek.com/politics/iran-war-oil-energy-trump

[16]https://www.foxnews.com/opinion/ai-war-iran-has-brought-conflict-silicon-valley-no-one-ready

[17]https://theweek.com/world-news/iran-war-ai-anthropic-palantir-open-ai

[18]https://theweek.com/tech/data-centers-new-casualties-of-war

[19]https://theweek.com/world-news/iran-war-ai-artificial-intelligence-bubble-collapse

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر