تیزی سے بڑھتی ہوئی شہرکاری (urbanization) اور موسمیاتی تبدیلی (climate change) نے پاکستان کے، دیہی اور شہری علاقوں میں ماحولیاتی دباؤ کو مزید سنگین بنا دیا ہے- بالخصوص پاکستان کے شہری علاقے شدید گرمی، سیلاب اور فضائی آلودگی جیسے مسائل کا شکار ہیں جس کی وجہ سے عوامی صحت اور انفرا اسٹرکچر کو سنگین خطرات لاحق ہو رہے ہیں-[1] ماحولیاتی انحطاط کے انسانیت سوز اثرات، بے روزگاری یا دہشت گردی کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابلِ توجہ ہیں- سیلاب، بارشوں کے غیر معمولی سلسلے، برفانی تودوں (glaciers) کا پگھلنا، سطح سمندر میں اضافہ، سمندری درجہ حرارت میں تپش، افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت میں کمی، زرعی پیداوار میں تنزلی اور انواعِ حیات کا خاتمہ وغیرہ جیسے عوامل ماحولیاتی بگاڑ کی واضح علامات ہیں-
آئی ایف آر سی کے تخمینوں کے مطابق سن 2100ء تک پاکستان میں اوسط درجہ حرارت میں 3 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کا امکان ہے-[2] البتہ اربن ہیٹ آئی لینڈز (Urban Heat Islands)[3] کے باعث کراچی جیسے شہروں کا درجہ حرارت پہلے ہی اپنے گرد و نواح کے مقابلے میں 0.57 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہو چکا ہے-جبکہ بارشوں کی شرح میں 25 فیصد تک غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور خشک سالی جیسی آفات کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہوا ہے-[4] پاکستان کے کئی علاقوں میں نکاسی کے راستوں پر قبضہ مافیاز کی سوسائیٹیوں اور پختہ تعمیرات کی وجہ سے شہری سیلاب (Urban flooding) کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے- لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہر ملک کے کسی بھی دوسرے شہر کے مقابلے میں سیلاب سے متاثر ہونے والے گنجان آباد شہر بن گئے ہیں-[5] ماحول کی یہ تنزلی بنیادی طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے جس کی بڑی وجہ گرین ہاؤس گیسز کا اخراج ہے اور ان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا حصہ سب سے زیادہ ہے- British Petroleum Statistics (2021ء) کے مطابق، عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کے مجموعی اخراج میں اس گیس کا تناسب 75 فیصد سے زائد ہے- [6]
اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے تیرہویں ہدف (SDG13) اور پندرہویں ہدف (SDG15) جو موسمیاتی ایکشن اور زمینی ماحولیاتی نظام کے تحفظ، جنگلات کے پائیدار انتظام، صحرا زدگی کے خلاف جدوجہد، زمینی اصلاحات کے نفاذ اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے پر زور دیتا ہے اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہدف کے حصول کیلئے قومی قوانین اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ ساتھ مالی وسائل کی فوری فراہمی ناگزیر ہے-[7] گلوبل فارسٹ واچ (2023ء) کے مطابق سال 2021ء سے 2024ء کے دوران پاکستان میں جنگلاتی رقبے کے نقصان کا 98 فیصد حصہ قدرتی جنگلات پر مشتمل تھا- قدرتی جنگلات میں ہونے والا یہ مجموعی نقصان 980 ہیکٹر رہا جو کہ 190 کلو ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے مساوی ہے- [8]موسمیاتی تبدیلیوں اور انسانی حماقتوں سے بڑھتے ہوئے یہ تمام تر خطرات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب ملک میں درختوں کا تناسب انتہائی کم ہے- ورلڈ بینک کے 2024ء کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا کل جنگلاتی رقبہ زمین کا صرف 4.7 فیصد ہے جو ماحولیاتی توازن کیلئے تجویز کردہ 25 سے 30 فیصد کی شرح سے بہت کم ہے- [9]
پاکستان میں ہر سال تقریباً 27000 ہیکٹر قدرتی جنگلاتی رقبہ ختم ہو رہا ہے، جس کی بنیاد پر ملک اس وقت ماحولیاتی ہنگامی حالت(green emergency)کی زد میں ہے-[10] ان تمام مسائل کے پیشِ نظر کئی اقدامات حکومتی سطح سے لے کر نجی سطح پر کمیونٹی، لوکل باڈی، این جی او اور جامعات وغیرہ کی جانب سے لئے جاتے ہیں جن میں قابلِ ذکر اور مقبول اقدام شجرکاری مہم ہے- شہری جنگلات یعنی اربن فارسٹ سیٹ اپ بھی اس کے ماتحت کافی مقبولیت کے حامل ہیں-
شجر کاری:
شجر کاری سے مراد موجود درختوں کی حفاظت اور نئے پودوں کو لگانے کا وہ عمل ہے جس سے انسان ماحولیاتی توازن اور جمالیاتی حسن میں بہتری لاسکتے ہیں- درخت نہ صرف شفاف ہوا کی فراہمی کا ذریعہ ہیں بلکہ یہ طوفانوں کی شدت میں کمی لانے، زمین کے کٹاؤ (Soil Erosion) کو روکنے اور آکسیجن کی مسلسل فراہمی کے ذریعے حیاتیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں- ایک تنا آور درخت تقریباً 36 بچوں اور دو مکمل خاندانوں کیلئے کافی آکسیجن پیدا کرتا ہے- جبکہ 10 درخت ایک ٹن کے ایئر کنڈیشنر کے برابر ٹھنڈک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے-[11] موجودہ دور میں جب ہر سو آلودگی کے ڈیرے ہوں اور نسلِ انسانی زہریلی ہواؤں کے مضر اثرات کا شکار ہے تو شجر کاری اور جنگلات کی اہمیت و افادیت مزید دو چند ہو جاتی ہے- بڑھتی ہوئی صنعت کاری، گاڑیوں کا بے ہنگم رش، فضائی و بحری جہازوں سے خارج ہونے والا دھواں اور صنعتی فضلات نے فضائی، آبی، زمینی اور صوتی آلودگی جیسے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے-
ماحولیاتی سطح پر شجرکاری کا بنیادی مقصد حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، قدرتی چکروں کی بحالی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو زائل کرنا ہے، جس میں کاربن کا ذخیرہ اور ساحلی کٹاؤ کی روک تھام شامل ہیں- معاشی نقطہ نظر سے یہ عمل نہ صرف پینے کے صاف پانی اور بہتر ہوا کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے بلکہ زرعی جنگلات (agroforestry) [12]اور ماحولیاتی سیاحت کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرتا ہے- ثقافتی اور روحانی اعتبار سے شجرکاری انسان کا فطرت سے ٹوٹا ہوا رشتہ بحال کرنے، اپنی اقدار کے تحفظ اور مختلف یادگاروں کو منانے کا ایک ذریعہ ہے- علاوہ ازیں، بہت سی ریاستوں میں آئینی اور قانونی پابندیاں بھی اداروں اور افراد کو اس بات کا پابند کرتی ہیں کہ وہ زمین کی زرخیزی اور جنگلات کے رقبے کو برقرار رکھنے کے لیے شجرکاری کے عمل کو اہمیت دیں- [13]
پاکستان میں ہر سال شجرکاری مہم زور و شور سے انجام پاتی ہے- ماضی میں بلین ٹری سونامی پروجیکٹ ہو یا امسال ہونے والی اسلام آباد میں Pak-EPA، سندھ میں School plantation initiative، پنجاب میں Plant for Pakistan initiative ، خیبر پختونخوا میں Ehsaas Afforestation Drive ، بلوچستان اور گلگت سونی کوٹ میں ہونے والی شجرکاری مہمات ہوں جن میں سینکڑوں نہیں بلکہ لاکھوں پودے لگائے جانے کے کا اہداف طے پائے ہیں- پاکستان متنوع زرعی و ماحولیاتی خطوں (Agro-ecological zones) میں منقسم مختلف النوع جنگلاتی اقسام کا حامل ہے لیکن ملک کا بیشتر جغرافیائی رقبہ خشک اور نیم خشک (Arid and semi-arid) ہے جہاں سالانہ بارش کی مقدار 500 ملی میٹر سے بھی کم ریکارڈ کی جاتی ہے- قلتِ بارندگی (Low precipitation) کے باعث یہ اراضی قدرتی نباتاتی نمو (Natural green vegetation)[14] کے لیے موزوں نہیں سمجھی جاتی اور یہی وہ بنیادی و سنگین ترین چیلنج ہے جو ملک میں جنگلاتی رقبے کی توسیع کی راہ میں حائل ہے- جنگلات کی اقسام کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں ان کی زمرہ بندی (Forest categories) اور انتظامی نظام بھی جداگانہ ہیں- ان میں وہ وسیع و عریض قدرتی جنگلات شامل ہیں جو ریاستی تحویل میں ہیں یا پھر وہ جو نجی انتظامیہ کے ماتحت ہیں- علاوہ ازیں، پنجاب کے میدانی علاقوں میں مصنوعی طور پر لگائے گئے سیراب شدہ جنگلات (Irrigated forests) جیسے چھانگا مانگا وغیرہ، اس کی اہم مثالیں ہیں-عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی آگاہی اور سرکاری اداروں کی سرپرستی کے باعث سماجی جنگلات (Social forestry)، اشتراکی جنگلات (Community forestry) اور زرعی جنگلات (Farm forestry) جیسے نجی شعبے کے طریقہ ہائے کار اب خاصی توجہ حاصل کر رہے ہیں- اعداد و شمار کے مطابق، سرکاری جنگلاتی املاک محض 7 فیصد ہے جبکہ 93 فیصد جنگلات یا تو مقامی کمیونٹی کی ملکیت ہیں یا دیہی جنگلات اور نجی ملکیت میں شامل ہیں- حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جنگلاتی رقبے کی وسعت کا حقیقی اور وسیع تر امکان سماجی اور اشتراکی جنگلات ہی میں پوشیدہ ہے- [15]
شجرکاری و جنگل بانی کی کامیابی کا دارومدار دقیق منصوبہ بندی اور درست طریقہِ عمل پر منحصر ہے-
- اہداف کا تعین، مقام کا انتخاب اور موزوں اقسام کا چناؤ (Plant Selection) بنیادی اہمیت رکھتے ہیں-
- زمین کی نوعیت، آب و ہوا اور پانی کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی انواع کے انتخاب سے پودوں کی بقا کے امکانات بڑھ جاتے ہیں-
- زمین کی تیاری کے دوران مٹی کا تجزیہ (Soil Testing) اور آبپاشی کے نظام کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے تاکہ پودوں کی نشوونما کے لیے سازگار ماحول میسر آ سکے-
- کسی مستند نرسری سے اعلیٰ معیار کے پنیری یا قلموں (Planting Materials) کا حصول یقینی بنایا جاتا ہے-
- زمین کی نشاندہی (Layout) کی جاتی ہے تاکہ پودوں کے درمیان مناسب فاصلہ برقرار رہے- گڑھے کھودنے کے بعد پودوں کی منتقلی اور ان کی جڑوں کو مٹی سے ڈھانپنے کا عمل احتیاط سے مکمل کیا جاتا ہے اور پھر آبپاشی کی جاتی ہے-
- پودوں کی تنصیب کے بعد ان کی نگہداشت ایک مسلسل عمل ہے- اس میں باقاعدگی سے پانی دینا، جڑی بوٹیوں کی تلفی اور نامیاتی یا کیمیائی کھادوں کا استعمال شامل ہے-
- پودوں کی بنیادوں میں ملچنگ (Mulching) یعنی گھاس پھوس کی تہہ بچھانے سے مٹی کی نمی برقرار رہتی ہے اور درجہ حرارت میں اعتدال رہتا ہے- علاوہ ازیں، آفات و امراض کی روک تھام (Pests and Diseases Management) کیلئے حیاتیاتی طریقوں کا استعمال پودوں کی صحت کے لیے ضروری ہے-
- نگرانی اور بحالی کے تحت پودوں کی تراش خراش یا کانٹ چھانٹ (Pruning) کی جاتی ہے تاکہ ان کی بالیدگی درست سمت میں ہو- ضرورت سے زیادہ گنجان پودوں کو ہٹانے کا عمل (Thinning) ہوا کی گردش کو بہتر بناتا ہے-
شہروں کے کنکریٹ کے جنگلات میں حقیقی جنگلات کے اضافے کے لیے دنیا بھر میں کئی طریقوں کو اپنایا جاتا ہے تاکہ ایسے مقامی ماحولیاتی نظام تشکیل دیے جاسکیں جو گنجان، تیز رفتار نشوونما کے حامل اور خود کفیل ہیں-
اربن فارسٹ:
شہری جنگلات (Urban Forests) سے مراد وہ جنگلاتی رقبہ ہے جو شہری بستیوں کے اندر یا ان کے گرد و نواح میں واقع ہو- یہ جنگلات قدرتی طور پر بھی نمو پا سکتے ہیں یا پھر انہیں مخصوص طریقوں سے بھی اگایا جا سکتا ہے، اور ان کی شجرکاری و انتظام کے اس علمی و عملی شعبے کو شہری جنگل بانی (Urban forestry) کہا جاتا ہے- [16]
کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں "میاواکی" طریقہ کار (Miyawaki method)[17] کو بروئے کار لایا گیا ہے- کلفٹن اربن فارسٹ اور لبرٹی مارکیٹ فارسٹ جیسے اقدامات کا بنیادی مقصد شدید تپش (Extreme heat) کا مقابلہ کرنا، آلودگی میں کمی (Mitigate pollution) لانا اور حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کو جلا بخشنا ہے- اس سلسلے میں بعض بحال شدہ اراضی پر 700000 سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں-
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں جنگلاتی رقبہ انتہائی قلیل ہے- جیسا کہ ما قبل بھی عرض کی گئی کہ ملک کی کل اراضی کا محض 5 سے 6 فیصد حصہ ہی جنگلات پر مشتمل ہے جو ہمسایہ ممالک جیسے بھارت (تقریباً 24 فیصد) اور بنگلہ دیش (تقریباً 14.5 فیصد) اور عالمی اوسط (تقریباً 31 فیصد) کے مقابلے میں نہایت تشویشناک حد تک کم ہے- شہری علاقوں میں شجرکاری کا تناسب اس سے بھی کہیں زیادہ کم ہے- اگرچہ شہری چھتری (Urban canopy) [18]کے حوالے سے مستند قومی اعداد و شمار کا فقدان ہے تاہم موجودہ دستیاب مطالعہ جات جنگلات کے شدید نقصان کی نشاندہی کرتے ہیں- لاہور کو کبھی باغوں کا شہر کہا جاتا تھا لیکن یہ شہر 2005 سے 2020 کے درمیانی عرصہ میں اپنے شہری جنگلات کا تقریباً 70 فیصد حصہ کھو چکا ہے- [19]
سال 2020ء تک لاہور کے اصل رقبے کا صرف 30 فیصد حصہ ہی درختوں کیلئے باقی بچا تھاجس کی جگہ اب سڑکوں اور عمارتوں کے جال نے لے لی ہے- اسلام آباد اگرچہ اب بھی سبزہ زاروں (بالخصوص مارگلہ ہلز) کا حامل ہے لیکن بڑھتی ہوئی شہرکاری نے اس کے مضافاتی جنگلاتی حصوں (Peri-urban tree fringes) کو محدود کر دیا ہے- اسی طرح کراچی میں زمینی بحالی اور تعمیراتی منصوبوں کی وجہ سے مینگرووز یعنی ساحلی جنگلات کی کٹائی دیکھی جاری رہی ہے- [20]البتہ حکومتی اقدامات سے اب mangroves کی حفاظت اور افزائش کا کام زوروں شوروں سے جاری ہے- المختصر ایک رپورٹ کے مطابق، بیشتر پاکستانی شہروں میں شہری چھتری کا تناسب تجویز کردہ سطح سے بہت نیچے ہے-[21]
خلاصہ کلام:
قرآن کی سورہ البقرہ، النحل، الکہف ، النور اور دیگر سورہ کی آیات میں درختوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے- حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ درخت میں سے اگر انسان، چوپائے یا پرندے کھالیں تو وہ درخت لگانے والے کیلئے صدقہ ہے- درختوں کی چھاؤں اور پتوں سے ہونے والا عملِ تبخیر (Evapotranspiration)[22] شہری درجہ حرارت کو کافی کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے- یہ ایک قدرتی حیاتیاتی ایئر کنڈیشنر ہے جو بجلی کے استعمال میں کمی اور ہیٹ ویو سے ہونے والی اموات کو روکنے کا واحد پائیدار اور آزمودہ حل ہے- ماحولیاتی تحفظ کے نام پر جو تگ و دو آج ہمیں دکھائی دیتی ہے، اس کی بنیادوں میں وہ ٹھوس عملیت مفقود ہے جو کسی بھی بڑے تغیر کے لیے ناگزیر ہوتی ہے- جب تک ذمہ داران زمین اور انسان کے باہمی رشتے کو نہیں سمجھتے ، تب تک روایتی پالیسیاں، پلاننگ اور ڈھانچے محض کاغذ کی زینت بنے رہیں گے- ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم زمین کو ایک زندہ وجود تسلیم کریں جس کی بقا میں ہی انسانی زندگی کی بقا پوشیدہ ہے-
اگر ہم نے زرخیز زمینوں اور شہروں کے قدرتی توازن کو کنکریٹ کے قبرستانوں میں بدلنے کا سلسلہ نہ روکا تو موسمیاتی آفات کا لامتناہی چکر ہماری بستیوں کو نگلتا رہے گا- وقت کا تقاضا ہے کہ ایک ایسی ہمہ گیر سبز حکمتِ عملی وضع کی جائے جس میں فطرت خاص کر درختوں کو حفاظت حاصل ہو- اگر آج ہم نے فطرت کے ساتھ اپنے برتاؤ پر نظرِ ثانی نہ کی اور نچلی سطح تک شعور و عمل کی شمع روشن نہ کی تو بعید نہیں کہ جو خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں ، کل کو وہ قیامت بن کر گلی گلی میں ٹوٹے گا- شجرکاری اس وقت ہمارے شہروں کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے- آئیں، اپنے گھر سے کوشش کریں اور کم از کم ’’پر پرسن‘‘ ایک پودا لگائیں اور اس کی حفاظت کا مکمل ذمہ لیں کیونکہ پودہ لگانا کافی نہیں ہے، اسے تناور درخت بنانا ناگزیر ہے-
٭٭٭
[1]Ministry of Climate Change (MoCC), Government of Pakistan. Pakistan National Adaptation Plan (NAP) 2023. Islamabad: Government of Pakistan; 2023.
[2]https://www.climatecentre.org/wp-content/uploads/RCRC_IFRC-Country-assessments-PAKISTAN-3.pdf
[3]وہ شہری علاقہ ہے جو انسانی سرگرمیوں، کنکریٹ کے ڈھانچوں اور نباتات کی کمی کی وجہ سے اپنے گردونواح کے دیہی علاقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ گرم ہوتاہے۔
[4]WWF-Pakistan. Recharge Pakistan: Ecosystem-based Adaptation for Resilient Development in the Indus River Basin [Project Factsheet]. Lahore: WWF-Pakistan; 2021
[5]WWF (World Wildlife Fund). 2022. Nature-Based Solutions in Cities, One Planet Cities Publication.
https://wwf.panda.org/projects/one_planet_cities/what_we_do/urban_naturebased_solutions/.
[6]BP Statistical Review of World Energy 2021
[7]Muhammad Saeed Hashmi, & Muhammad Farhan Asif. (2025). The Impact of Deforestation on Environment in Pakistan. Journal of Social Signs Review, 3(2), 381–415.
https://www.socialsignsreivew.com/index.php/12/article/view/162
[8]https://www.globalforestwatch.org/dashboards/country/PAK/?category=forest-change
[9]https://data.worldbank.org/country/pakistan
[10]https://blogs.worldbank.org/en/endpovertyinsouthasia/green-emergency-deforestation-pakistan
[11]Joanna Mounce Stancil. 2015. The Power of One Tree - The Very Air We Breathe. U.S. Department of Agriculture.
https://www.usda.gov/about-usda/news/blog/power-one-tree-very-air-we-breathe
[12]یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ایک جگہ پر درختوں، فصلوں اور/یا مویشیوں کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ ان کے درمیان مفید ماحولیاتی اور معاشی تعلق پیدا ہو
[13]Brancalion, Pedro & Holl, Karen. (2020). Guidance for successful tree planting initiatives. Journal of Applied Ecology. 57. 10.1111/1365-2664.13725.
[14]وہ پودےجو انسانی امداد کے بغیر قدرتی طور پر پروان چڑھیں اور طویل عرصے تک انسانی امداد و مداخلت سے محفوظ رہیں
[15]Khurshid, M. 2021. Tree plantation drive – some lessons. Express Tribune. https://tribune.com.pk/story/2317668/
[16]What is an Urban Forest? Urbanforest.pk
[17]یہ ایک منفرد تکنیک ہے جس کے ذریعے مقامی درختوں کو ایک دوسرے کے قریب لگا کر چھوٹے جنگلات اُگائے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ کار ایک قدرتی اور کثیر سطحی جنگل کی نقل کرتے ہوئے پودوں کی تیز رفتار نشوونما میں مدد دیتا ہے اور بنجر زمین پر حیاتیاتی تنوع کو بحال کرتا ہے۔شجر کاری کی اس تکنیک میں بہت کم جگہ پر اور انتہائی تیز رفتاری سے گھنے، قدرتی جنگلات اگائےجاتے ہیں۔ میاواکی طریقہ کار روایتی جنگلات کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے اور 30 گنا زیادہ گھنا ہوتا ہے۔یہ طریقہ سب سے پہلے ایک جاپانی ماہرِ نباتیات اکیرہ میاواکی نے متعارف کرایا۔
[18]پودوں کی وہ تہہ جو شہروں میں زمین اور چھتوں کو ڈھانپنے کے لئے ہوتی ہے۔ اس میں درختوں کے پتے، شاخیں اور تنے شامل ہوتے ہیں۔کینوپی سایہ فراہم کرنے، ہیٹ آئی لینڈ کے اثرات کو کم کرنے، ہوا کے معیار کو بہتر بنانے اور بارش کے پانی کے بہتر انتظام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
[19]IUCN. Global standard for nature-based solutions. Gland: International Union for Conservation of Nature; 2020.
[20]United Nations. New urban agenda (Habitat III). New York: UN-Habitat; 2020.
[21]Febrina E, Sudaryanto A, Rahmawati R, et al. 2022. The role of urban forests as carbon sink: A case study in the urban forest of Banda Aceh, Indonesia.
[22]سطحِ زمین سے پانی کے بخارات بن کر فضا میں شامل ہونے کا مجموعی عمل