عالمی آبی گزرگائیں: طاقت اور تصادم کا مرکز

عالمی آبی گزرگائیں: طاقت اور تصادم کا مرکز

عالمی آبی گزرگائیں: طاقت اور تصادم کا مرکز

مصنف: محمد بازید خان مئی 2026

ابتدائیہ :

’’سمندر محض پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی وہ شہ رگ ہے جہاں قوموں کی تقدیریں لکھی اور بدلی جاتی ہیں‘‘-

دنیا کے وسیع و عریض نقشے پر پھیلے سمندروں کے درمیان کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں قدرت نے زمین کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ وہ عالمی سیاست اور معیشت کے فیصلے کرنے والی گزرگاہیں بن گئی ہیں- آبنائے ہرمز کے گرم پانیوں سے لے کر باسفورس کی تاریخی لہروں تک اور آبنائے ملاکا کی تجارتی گہما گہمی سے لے کر باب المندب اور جبرالٹر کے اسٹریٹجک ساحلوں تک، یہ آبی راستے محض سمندری چینلز نہیں بلکہ انسانی بقا، ترقی اور کبھی کبھی تنازعات کے گواہ ہیں- آبنائے راستوں (Straits) کی تزویراتی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ دنیا کے بڑے سمندروں اور خطوں کو آپس میں جوڑتے ہیں اور عالمی تجارت کیلئے نہایت ضروری راستے فراہم کرتے ہیں- تیل، گیس، خوراک اور دیگر اشیاء کی بڑی مقدار انہی تنگ سمندری گزرگاہوں سے گزرتی ہے، اس لیے ان پر کنٹرول حاصل کرنا بڑی طاقتوں کے لیے بہت اہم ہوتا ہے- اگر ان راستوں میں کسی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی پیدا ہو جائے تو اس کا اثر فوری طور پر عالمی معیشت اور عام انسان کی زندگی پر پڑتا ہے، جیسے مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قِلّت- اسی تناظر میں بلیو اکانومی (Blue Economy)  کا تصور سامنے آتا ہے، جس کا مقصد سمندری وسائل کو اس انداز میں استعمال کرنا ہے کہ معیشت بھی ترقی کرے اور ماحول بھی محفوظ رہے- اس میں ماہی گیری، سمندری تجارت، توانائی اور سیاحت جیسے شعبے شامل ہیں، جو انہی سمندری راستوں سے جڑے ہوئے ہیں- محفوظ اور مستحکم آبی گزرگاہیں بلیو اکانومی کو فروغ دیتی ہیں اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے روزگار اور بہتر زندگی کے مواقع پیدا کرتی ہیں- آبنائے تاریخی اعتبار سے بھی نہ صرف تجارتی بلکہ فوجی اور سفارتی محاذوں کے طور پر اہم رہے ہیں، جہاں سلطنتیں اور ریاستیں اپنی طاقت کے نشان چھوڑتی رہی ہیں- آج بھی، ان آبنائے راستوں کی حفاظت اور کنٹرول عالمی سیاست میں توازن اور طاقت کے کھیل کی بنیاد بنتے ہیں- اس طرح سمندر نہ صرف تجارت کا ذریعہ ہیں بلکہ انسانی ترقی اور خوشحالی کا ایک اہم ستون بھی ہیں-

آبنائے ہرمز:

آبنائے ہرمز ایک نہایت اہم سمندری راستہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے- یہ دراصل وہ واحد سمندری چینل ہے جس کے ذریعے خلیج کے تیل سے مالا مال ممالک جیسے ایران، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات اپنا تیل دنیا تک پہنچاتے ہیں- اندازاً دنیا کی 20 فیصد سے زیادہ تیل اور liquefied natural gas (LNG) کی برآمدات اسی راستے سے گزرتی ہیں- چونکہ تیل کی قیمتیں طلب اور رسد (demand and supply) کے لحاظ سے بہت زیادہ حساس (sensitive) ہوتی ہیں، اس لیے یہاں معمولی خلل بھی پوری دنیا میں قیمتوں کو متاثر کر دیتا ہے- اسی وجہ سے آبنائے ہرمز، آبنائے ملاکا کے ساتھ مل کر، عالمی معیشت کے سب سے اہم تنگ راستے (oil chokepoints) میں شمار ہوتی ہے- جغرافیائی لحاظ سے یہ آبنائے تقریباً 55 سے 95 کلومیٹر چوڑی ہے اور اس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں عمان کا مسندم (Musandam) علاقہ واقع ہے-

تاریخی طور پر بھی یہ علاقہ تنازعات (conflicts) کا مرکز رہا ہے- 1984ء میں ایران-عراق جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانا شروع کیا، جسے بعد میں ’’Tanker War‘‘ کہا گیا- اس میں 100 سے زائد جہاز متاثر ہوئے، جس کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک کو مداخلت کرنی پڑی تاکہ تیل کی ترسیل جاری رہ سکے- 21ویں صدی میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان کئی بار کشیدگی اور بحری ٹکراؤ (naval standoffs) دیکھنے میں آئے-

2025ء میں امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات (nuclear facilities) پر حملوں کے بعد، ایرانی پارلیمنٹ نے اپنی افواج کو آبنائے ہرمز بند کرنے کی اجازت دی، اگرچہ یہ فیصلہ مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکا کیونکہ اس کے لیے اعلیٰ سیکیورٹی اداروں کی منظوری درکار تھی اور جنگ جلد ختم ہو گئی- اس کے باوجود، اس اعلان نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خوف پیدا کر دیا اور کئی آئل ٹینکرز نے راستہ بدل لیا- یہ تمام صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور طاقت کا ایک حساس مرکز ہے، جہاں معمولی کشیدگی بھی پوری دنیا کو متاثر کر سکتی ہے -[1]

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں صرف چند ہفتوں کی کشیدگی نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا- تقریباً چار ہفتوں تک اس آبنائے کی بندش کے برابر صورتحال رہی، جس کی وجہ سے عالمی تیل مارکیٹ شدید بحران کا شکار ہو گئی- چونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے ایران کی جانب سے جہازوں پر حملوں اور دھمکیوں نے ٹریفک کو تقریباً مکمل طور پر روک دیا- اس کے ساتھ ساتھ کھاد جیسی اشیاء کی سپلائی بھی متاثر ہوئی، جو عالمی خوراک کے نظام کے لیے ضروری ہیں-

اس پوری صورتحال میں ایران کو ایک خاص برتری حاصل ہے، جس کی بڑی وجہ اس کا جغرافیہ اور اس کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی (unconventional warfare) ہے - آبنائے ہرمز اپنے تنگ ترین مقام پر صرف تقریباً 24 میل چوڑی ہے، جبکہ اصل جہاز رانی کے راستے (shipping lanes) اس سے بھی زیادہ محدود ہیں- اس وجہ سے یہاں جہازوں کے پاس راستہ بدلنے کا کوئی آپشن نہیں ہوتا، اور یہ علاقہ ایک طرح کا’’kill zone‘‘ بن جاتا ہے، جہاں حملہ چند سیکنڈز میں ہو سکتا ہے- ایران کے پاس تقریباً 1000 میل طویل ساحلی پٹی ہے، جہاں سے وہ آسانی سے میزائل، ڈرونز اور بارودی سرنگیں (sea mines) استعمال کر سکتا ہے- پہاڑی علاقوں، جزیروں اور پیچیدہ جغرافیے کی وجہ سے ان ہتھیاروں کا سراغ لگانا بھی مشکل ہو جاتا ہے-

اگرچہ امریکہ اور اس کے اتحادی (جیسے برطانیہ اور فرانس) بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا- ایران کی طاقت اس کے سستے مگر مؤثر ہتھیاروں میں ہے، جیسے ڈرونز، چھوٹی تیز رفتار کشتیاں (fast-attack boats) اور بارودی مواد سے بھرے بغیر عملے کے جہاز (unmanned boats)- یہاں تک کہ عام دِکھنے والی کِشتیوں کے ذریعے بھی بارودی سرنگیں بچھائی جا سکتی ہیں، جو خطرے کو مزید بڑھاتی ہیں-

اعداد و شمار کے مطابق ایران اب تک کم از کم 19 جہازوں پر حملے کر چکا ہے، جبکہ تقریباً 2000 جہاز خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں- دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کو مکمل تباہی پھیلانے کی ضرورت بھی نہیں،صرف خطرے کی فضا برقرار رکھنا ہی کافی ہے تاکہ تجارتی کمپنیاں اس راستے کو استعمال کرنے سے گریز کریں- کچھ جہاز، خاص طور پر وہ جن کے تعلقات ایران، چین، بھارت یا پاکستان سے ہیں، محدود پیمانے پر گزر رہے ہیں، بعض اوقات بھاری فیس (مثلاً 2 ملین ڈالر تک)ادا کر کے-

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز میں طاقت صرف فوجی قوت سے نہیں بلکہ کنٹرول، خوف اور جغرافیے کے امتزاج  سے حاصل ہوتی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران کے پاس اس راستے پر ایک قسم کی غیر روایتی طاقت (asymmetric power) موجود ہے- یہاں جنگ براہِ راست لڑنے کے بجائے تجارت کو روک کر اور عالمی معیشت پر دباؤ ڈال کر لڑی جا رہی ہے- سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کشیدگی کا بوجھ بالآخر عام انسان پر پڑتا ہے چاہے وہ مہنگائی ہو، ایندھن کی کمی ہو یا خوراک کے مسائل اور یہی اس بحران کا سب سے انسانی پہلو ہے -[2]

آبنائے ملاکا:

آبنائے ملاکا ایک اہم سمندری راستہ ہے جو بحرِ ہند  کے بحیرہ انڈمان کو بحیرہ جنوبی چین  سے ملاتا ہے- یہ آبنائے ایک طرف انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا اور دوسری طرف ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے جنوبی حصوں کے درمیان واقع ہے- اس کی لمبائی تقریباً 800 کلومیٹر ہے اور یہ ایک خاص شکل (funnel -shaped) رکھتی ہے،جنوب میں صرف 65 کلومیٹر چوڑی جبکہ شمال کی طرف پھیل کر تقریباً 250 کلومیٹر تک ہو جاتی ہے- اس کا نام تاریخی تجارتی بندرگاہ ملاکا (Malacca) سے لیا گیا ہے، جو 16ویں اور 17ویں صدی میں ایک اہم تجارتی مرکز رہا-

یہ آبنائے دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ بھارت اور چین کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کرتی ہے- اسی لیے یہ دنیا کی مصروف ترین shipping lanes میں سے ایک ہے- قدیم زمانے میں بھی اس راستے نے ایشیاء میں انسانی نقل و حرکت اور تجارت کو متاثر کیا- مختلف ادوار میں اس پر عرب، پرتگالی، ڈچ اور برطانوی طاقتوں نے کنٹرول رکھا- آج کے دور میں سنگاپور، جو دنیا کی اہم بندرگاہوں میں سے ایک ہے، اسی آبنائے کے جنوبی سرے پر واقع ہے-

جدید دور میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، خاص طور پر تیل کی ترسیل کے حوالے سے- سماٹرا کے ساحل کے قریب تیل کے ذخائر (oil fields) دریافت کیے گئے ہیں، اور یہ راستہ مشرقِ وسطیٰ سے جاپان اور مشرقی ایشیاء تک جانے والے بڑے آئل ٹینکرز کے لیے ایک مرکزی گزرگاہ ہے- اس طرح آبنائے ملاکا نہ صرف ایک جغرافیائی راستہ ہے بلکہ عالمی تجارت، توانائی اور معیشت کا ایک اہم ستون بھی ہے-[3]

آبنائے ملاکا آج کے دور میں صرف ایک تجارتی راستہ نہیں بلکہ ایشیا کی طاقت کی سیاست (power politics) کا مرکز بنتی جا رہی ہے، جہاں خاص طور پر چین اور بھارت کے درمیان ایک خاموش مگر اہم مقابلہ جاری ہے- یہ آبنائے بحرِ ہند کو ایشیا پیسیفک (Asia-Pacific) سے ملاتی ہے اور دنیا کی سب سے مصروف ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ 150 سے زائد جہاز گزرتے ہیں اور اندازاً دنیا کی 60 فیصد بحری تجارت (maritime trade) اسی راستے سے ہوتی ہے- یہی وجہ ہے کہ اس راستے پر کنٹرول حاصل کرنا صرف معاشی نہیں بلکہ ایک بڑا اسٹریٹجک ہدف بھی بن چکا ہے-

چین کے لیے یہ آبنائے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اس کی بڑی توانائی سپلائی خاص طور پر تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتی ہے، جو خلیج فارس سے آتی ہے- اسی لیے چین مسلسل اپنی بحری موجودگی کو جنوبی بحیرہ چین اور آبنائے ملاکا کے آس پاس بڑھا رہا ہے تاکہ اپنے مفادات کا تحفظ کر سکے- تاہم اس راستے میں ممکنہ رکاوٹ یا خطرات کے باعث چین کو عدم تحفظ کا احساس بھی رہتا ہے، جسے اکثر ’’ملاکا ڈائلیما‘‘ کہا جاتا ہے- اسی خدشے کو کم کرنے کے لیے چین نے پاکستان کے ساتھ سی پیک (CPEC) منصوبہ شروع کیا، تاکہ اسے ایک متبادل اور نسبتاً مختصر راستہ مل سکے اور وہ ملاکا پر اپنا انحصار کم کر سکے-دوسری طرف بھارت بھی اس صورتحال کو نظر انداز نہیں کر سکتا، کیونکہ چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اس کیلئے ایک چیلنج بن رہا ہے- اسی لیے بھارت نے بھی اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے آبنائے کے مغربی حصے کی طرف اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں، تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ صورتحال میں توازن برقرار رکھ سکے-

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں براہِ راست جنگ نہیں ہو رہی، لیکن طاقت کی ایک خاموش کشمکش  (strategic competition) جاری ہے- اگر کبھی بڑی جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو آبنائے ملاکا کو بند کرنا یا کنٹرول کرنا ایک اہم ہتھیار بن سکتا ہے، خاص طور پر چین کے خلاف، کیونکہ اس کی معیشت اس راستے پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے- یہی خدشہ چین کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی فوجی قُوَّتْ کو بڑھائے اور مختلف ممالک، جیسے ملائیشیا، کے ساتھ مشترکہ مشقیں کرے تاکہ اس راستے کو محفوظ بنایا جا سکے-

یہ صورتحال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ آبنائے ملاکا صرف ایک جغرافیائی راستہ نہیں بلکہ عالمی تجارت، توانائی اور علاقائی طاقت کے توازن (balance of power) کا مرکز ہے- یہاں کنٹرول کا مطلب صرف جہازوں کی آمد و رفت نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاست اور معیشت پر اثر انداز ہونا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ بڑی طاقتیں اسے اپنے مفادات کے لیے ایک اہم میدان کے طور پر دیکھتی ہیں -[4]

آبنائے باب المندب:

باب المندب ایک اہم سمندری آبنائے ہے جو عرب اور افریقہ کے درمیان واقع ہے، اور بحیرہ احمر (Red Sea) کو خلیج عدن اور بحیرہ ہند  سے ملاتی ہے- صدیوں سے یہ راستہ افریقہ، عرب دنیا اور بھارت کے درمیان تجارت کا ایک اہم مرکز (hub) رہا ہے، اور ایشیاء و افریقہ کے درمیان گزرگاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے- 1869ء میں نہر سویز (Suez Canal)[5] کے کھلنے کے بعد اس کی اہمیت اور بڑھ گئی، کیونکہ اب یورپ اور ایشیاء کے درمیان بحری تجارت افریقہ کے گرد لمبا چکر لگانے کے بجائے اسی راستے سے گزرنے لگی- اسی تناظر میں پاناما کینال بھی ایک اہم عالمی سمندری گزرگاہ ہے، جو بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس کو جوڑتا ہے- یہ نہر امریکہ، ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے حساس راستہ فراہم کرتی ہے اور اس کے بند ہونے یا کسی کشیدگی کی صورت میں عالمی سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے -[6]

آج کے دور میں باب المندب عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت حساس مقام ہے- اندازاً دنیا کی 10 فیصد سمندری تیل کی تجارت (seaborne oil trade) اور تقریباً 25 فیصد کنٹینر ٹریڈ (container trade) اسی راستے سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کے اہم oil chokepoints میں شامل ہے،آبنائے ملاکا اور آبنائے ہرمز کے بعد تیسرے نمبر پر- تاہم حالیہ برسوں میں اس کی صورتحال غیر مستحکم رہی ہے- 2023ء میں یمن میں موجود حوثی (Houthi) فورسز نے اسرائیل-حماس جنگ کے ردِعمل میں تجارتی جہازوں پر حملے شروع کیے، جس کے نتیجے میں یہاں سے گزرنے والی ٹریفک آدھی سے بھی کم رہ گئی-

تاریخی طور پر بھی یہ راستہ تنازعات  کا مرکز رہا ہے- 1973ء کی عرب-اسرائیل جنگ کے دوران مصر اور اس کے اتحادیوں نے اس آبنائے کو بند کر کے اسرائیل جانے والے تیل کو روک دیا تھا- حالیہ دور میں بھی حوثی حملوں کے باعث جہازوں کو افریقہ کے گرد Cape of Good Hope کا لمبا راستہ اختیار کرنا پڑا، جس سے وقت اور لاگت دونوں میں اضافہ ہوا-

یہ تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ باب المندب صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی تجارت، توانائی اور جغرافیائی سیاست (geopolitics) کا ایک حساس مرکز ہے- یہاں پیدا ہونے والی معمولی کشیدگی بھی عالمی سپلائی چین (global supply chain) کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کا اثر براہِ راست دنیا بھر کے عام لوگوں تک پہنچتا ہے -[7]

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے باب المندب کو بھی ایک نئے خطرے سے دوچار کر دیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اب یہ تنازع صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی تجارتی راستے براہِ راست اس کی زد میں آ چکے ہیں- آبنائے ہرمز کے بعد اب توجہ باب المندب کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جو یورپ اور ایشیاء کے درمیان تجارت کے لیے نہایت اہم راستہ ہے- اگر یہاں عدم استحکام  بڑھتا ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر اور بھی شدید ہو سکتے ہیں-

اس صورتحال میں یمن کے حوثی گروہ کا کردار خاص طور پر اہم ہو جاتا ہے، جو ایران کے قریب سمجھا جاتا ہے اور اسرائیل و مغربی طاقتوں کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے- ان کے حملوں نے نہ صرف بحری جہازوں کو نشانہ بنایا بلکہ عالمی طاقتوں کو مجبور کیا کہ وہ متبادل راستے اختیار کریں، جیسے افریقہ کے گرد Cape of Good Hope کا طویل راستہ، جس سے وقت اور لاگت دونوں میں اضافہ ہوا- اب جبکہ یہ گروہ براہِ راست ایران سے جڑی جنگ میں شامل ہونے کے اشارے دے رہا ہے، تو باب المندب ایک نئے محاذ میں تبدیل ہو سکتا ہے-

یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ باب المندب اب صرف ایک جغرافیائی راستہ نہیں رہا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان دباؤ ڈالنے کا ایک اہم ذریعہ (strategic leverage) بن چکا ہے- یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی نہ صرف تجارت کو متاثر کرتی ہے بلکہ ایک نئے علاقائی یا حتیٰ کہ عالمی بحران کو بھی جنم دے سکتی ہے، جس کا سب سے بڑا اثر ہمیشہ کی طرح عام انسان پر ہی پڑتا ہے -[8]

آبنائے باسفورس:

باسفورس (Bosporus) ایک ایسی قدرتی آبنائے (strait) ہے جسے اردو اور ترکی زبان میں ’’بوغاز‘‘یعنی حلق یا گلا بھی کہا جاتا ہے- یہ آبی راستہ بحیرہ اسود (Black Sea) کو بحیرہ مرمرہ (Sea of Marmara) سے جوڑتا ہے اور ترکی کے ایشیائی حصے (Anatolia) کو اس کے یورپی حصے سے الگ کرتا ہے- تقریباً 19 میل لمبی اس آبنائے کی چوڑائی مختلف مقامات پر بدلتی رہتی ہے؛ شمالی دہانے پر یہ ڈھائی میل کے قریب چوڑی ہے، جبکہ عثمانی دور کے قلعوں ’’رومیلی حصار‘‘ اور ’’انادولو حصار‘‘ کے درمیان اس کا فاصلہ سمٹ کر محض 2450 فٹ رہ جاتا ہے- اس کی گہرائی بھی یکساں نہیں ہے اور بیچ منجھ دھار میں یہ 120 سے 400 فٹ تک گہری ہو جاتی ہے-

 اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث یہ آبنائے ہمیشہ سے دفاعی اعتبار سے کلیدی رہی ہے- بازنطینی حکمرانوں اور بعد ازاں عثمانی سلاطین نے قسطنطنیہ (استنبول) کی حفاظت کے لیے اس کے ساحلوں پر مضبوط قلعے (fortifications) تعمیر کیے- ان میں 1390ء میں سلطان بایزید اول کا بنایا ہوا ’’انادولو حصار‘‘ اور 1452ء میں سلطان محمد فاتح کا تعمیر کردہ عظیم الشان ’’رومیلی حصار‘‘قابلِ ذکر ہیں- انیسویں صدی میں یورپی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث اس آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے باقاعدہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدے (treaties) وضع کیے گئے- جنگِ عظیم اول میں عثمانیوں کی شکست کے بعد کچھ عرصہ یہ ایک بین الاقوامی کمیشن کے زیرِ انتظام رہی، لیکن 1936ء میں مونترو کنونشن (Montreux Convention) کی منظوری کے بعد اس کا مکمل کنٹرول دوبارہ ترکی کو مل گیا-

جدید دور میں باسفورس پر آمد و رفت کو آسان بنانے کیلئے تین بڑے پل تعمیر کیے گئے ہیں- پہلا پل ’’بوغازایچی‘‘ 1973ءمیں مکمل ہوا، دوسرا ’’سلطان محمد فاتح پل‘‘1988ء میں بنا، اور تیسرا ’’سلطان یاوز سلیم پل‘‘2016ء میں ٹریفک کے لیے کھولا گیا- پلوں کے علاوہ اب سمندر کی تہہ کے نیچے سے بھی راستے بنا لیے گئے ہیں-2013ء میں یہاں سے ایک ریلوے ٹنل  گزاری گئی اور 2016ء میں گاڑیوں کیلئے ایک سڑک والی سرنگ (road tunnel) کا افتتاح کیا گیا، جس نے ایشیاء اور یورپ کے درمیان سفر کو مزید آسان بنا دیا -[9]

باسفورس کی اسٹریٹجک اہمیت ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے درمیان فوجی ٹکراؤ اور جنگوں کی ایک بڑی وجہ رہی ہے- تاریخ میں اس کا سب سے اہم موڑ 1453ء میں قسطنطنیہ کی فتح کے وقت نظر آتا ہے، جب سلطان محمد فاتح نے شہر کی ناکہ بندی کے لیے باسفورس کے یورپی کنارے پر ’’رومیلی حصار‘‘ تعمیر کیا تاکہ بحیرہ اسود سے آنے والی ہر قسم کی فوجی امداد اور رسد کو روکا جا سکے- اس سے قبل ان کے دادا نے ایشیائی کنارے پر ’’انادولو حصار‘‘ تعمیر کیا تھا، جس کا مقصد بھی جنگی حکمتِ عملی کے تحت اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنا تھا-

بعد ازاں، 1877ء-78ء کی روس-ترک جنگ کے پیچھے بھی ایک بڑی ترغیب روسی سلطنت کا یہ خواب تھا کہ وہ باسفورس اور اس کے گرد و نواح کے سمندری راستوں پر قبضہ کر کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کر سکے- پہلی جنگ عظیم کے دوران بھی یہ خطہ شدید ترین معرکوں کا مرکز رہا، جہاں اتحادی افواج نے گلی پولی مہم (Gallipoli Campaign) کے ذریعے باسفورس اور دردانیال کے راستوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تاکہ عثمانی سلطنت کو دفاعی طور پر مفلوج کیا جا سکے-

دوسری جنگ عظیم کے بعد، سرد جنگ کے ابتدائی دور میں باسفورس ایک بار پھر عالمی تناؤ کا مرکز بن گیا- جب سوویت یونین نے اس آبی گزرگاہ سے اپنے جنگی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور وہاں فوجی اڈے قائم کرنے کے مطالبات کیے، تو اس فوجی دباؤ نے ترکی کو امریکہ سے مدد مانگنے پر مجبور کر دیا- یہی کشیدگی ’’ٹرومین ڈاکٹرائن‘‘ کے قیام اور 1952ءمیں ترکی کی نیٹو (NATO) میں شمولیت کی بنیاد بنی- اس پورے دور میں باسفورس بین الاقوامی جاسوسی کا گڑھ رہا، جہاں سوویت بحری بیڑوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی -[10]

آبنائے جبرالٹر (جبل الطارق):

آبنائے جبرالٹر (Strait of Gibraltar) دراصل وہ سمندری راستہ ہے جو بحیرہ روم (Mediterranean Sea) کو بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) سے جوڑتا ہے- یہ پٹی جنوبی سپین اور شمال مغربی افریقہ کے درمیان واقع ہے- اس کی لمبائی تقریباً 36 میل (58 کلومیٹر) ہے، جبکہ سپین کے مقام ’’پوائنٹ ماروکی‘‘اور مراکش کے ’’پوائنٹ سائرس‘‘ کے درمیان یہ سکڑ کر صرف 8 میل رہ جاتی ہے، اسی آبنائے کے راستے فرزندانِ اسلام طارق بن زیاد کی قیادت میں کشتیاں جلا کر فاتح کے طور پہ اسپین میں داخل ہوئے - اس کے مغربی سرے پر ٹرافلگر (شمال) اور سپارٹیل (جنوب) کی راسیں (Capes) ہیں، جہاں اس کی چوڑائی 27 میل ہے- مشرقی جانب یہ 14 میل چوڑی ہے اور یہاں قدیم یونانی روایات کے مشہور ہرکولیس کے ستون (Pillars of Heracles) واقع ہیں-

قدیم دور میں اس آبنائے کو لاطینی میں فریٹم ہرکولیم (Fretum Herculeum) کہا جاتا تھا اور ہرکولیس کے ستونوں کو اس وقت کی معلوم دنیا کی آخری حد سمجھا جاتا تھا- اپنی بہترین جغرافیائی اور معاشی اہمیت کی وجہ سے یہ راستہ بحرِ اوقیانوس کے ابتدائی مسافروں کے استعمال میں رہا اور آج بھی جنوبی یورپ، شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا کیلئے ایک ناگزیر بحری تجارتی راستہ (Shipping Route) ہے- اس پورے خطے کی تاریخ کا ایک بڑا حصہ آبنائے جبرالٹر کی اس مشہور چٹان پر قبضے کی کشمکش اور مسابقت (Rivalry) کے گرد گھومتا ہے -[11]

آبنائے جبرالٹر صدیوں سے اپنی بے مثال جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے دنیا بھر کی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے، کیونکہ یہ بحیرہ روم کے دہانے پر پہرے دار کی طرح کھڑی ہے- تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں فینیشیا اور روم کے ملاح اسی راستے سے گزر کر یہاں پہنچتے تھے، جبکہ سنہ 711 میں طارق بن زیاد نے اسی سمندری راستے کو عبور کر کے یہاں قدم رکھا اور اس علاقے کی تاریخ بدل دی- اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانیہ، اسپین اور فرانس جیسی بڑی طاقتیں ہمیشہ سے اس پر قبضے کے لیے دست و گریباں رہی ہیں، کیونکہ یہاں سے گزرنے والے بحری راستوں پر کنٹرول حاصل کرنا فوجی اور تجارتی لحاظ سے بہت بڑا فائدہ سمجھا جاتا تھا-

اٹھارہویں صدی میں ہونے والے مختلف عالمی معاہدوں، خاص طور پر معاہدہ یوٹریکٹ (1713) نے قانونی طور پر اس کی نگرانی کے حقوق طے کیے، جس کے تحت اس راستے کے دفاعی قلعوں پر برطانوی کنٹرول کو تسلیم کیا گیا- عالمی جنگوں کے دوران بھی اس کی حیثیت ایک ناگزیر فوجی اڈے کی رہی، جہاں سے سمندری نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی گئی- یہاں تک کہ مشہورِ زمانہ ’’جنگِ ٹرافلگر‘‘ بھی اسی سمندری پٹی کے قریب لڑی گئی، جو اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ سمندری راستہ صرف پانی کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ عالمی سیاست اور تاریخ کا ایک انتہائی حساس موڑ رہا ہے -[12]

آبنائے کی اسٹریٹجک اہمیت اور عالمی بحری اتحاد:

سمندری راستوں اور آبنائے کی اسٹریٹجک اہمیت صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی فوجی طاقت اور سکیورٹی کا بھی ایک اہم میدان ہیں- دنیا کی بڑی طاقتیں ان اہم آبی گزرگاہوں پر اپنی موجودگی برقرار رکھنے کیلئے مشترکہ بحری مشقیں (military drills) اور اتحاد قائم کرتی ہیں- مثال کے طور پر پاکستان ہر دو سال بعد ’’امن‘‘ (AMAN Exercise) کے نام سے ایک بڑی بحری مشق منعقد کرتا ہے، جس میں امریکہ، چین، روس، ترکی، برطانیہ اور دیگر کئی ممالک حصہ لیتے ہیں- اس کا مقصد سمندری سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور عالمی امن کو فروغ دینا ہوتا ہے - [13]اسی طرح بھارت بھی بحرِ ہند میں مختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ مشقیں کرتا ہے تاکہ اپنی بحری طاقت کو مضبوط بنایا جا سکے-

عالمی سطح پر کواڈ (QUAD) ایک اہم اسٹریٹجک اتحاد ہے، جس میں امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں- یہ اتحاد خاص طور پر انڈو-پیسیفک خطے میں توازنِ طاقت برقرار رکھنے اور سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرتا ہے - [14]اس کے علاوہ آکس (AUKUS) ایک اور اہم معاہدہ ہے، جس میں امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا شامل ہیں- اس اتحاد کے تحت آسٹریلیا کو جدید جوہری آبدوز فراہم کی جا رہی ہیں، جس کا مقصد بحرِ ہند اور بحرالکاہل میں سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے -[15]

اگر بحری طاقت کی بات کی جائے تو امریکہ دنیا کا سب سے بڑا نیول پاور ہے، جس کے بحری بیڑے مختلف سمندروں میں تعینات ہیں- مثلاً اس کا Fifth Fleet بحرین میں خلیج فارس کے قریب موجود ہے، Seventh Fleet جاپان کے قریب بحرالکاہل میں، جبکہ Sixth Fleet بحیرہ روم میں تعینات ہے- ان کی موجودگی کا مقصد اہم سمندری راستوں کی نگرانی اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے -[16] دوسری طرف چین بھی اپنی بحری طاقت کو بڑھا رہا ہےاور اس نے جبوٹی (Djibouti) میں اپنا پہلا بیرونِ ملک نیول بیس قائم کیا ہے، جو باب المندب جیسے اہم chokepoint کے قریب واقع ہے -[17]

یہ تمام اتحاد، مشقیں اور بحری تعیناتیاں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ سمندری راستے صرف تجارت کیلئے نہیں بلکہ عالمی طاقت کی سیاست کا مرکز بھی ہیں- ان پر کنٹرول حاصل کرنا یا انہیں محفوظ رکھنا، دراصل عالمی اثر و رسوخ اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے برابر ہے-

اختتامیہ:

یہ تمام آبنائے اور سمندری راستے صرف تجارتی یا فوجی راستے نہیں، بلکہ عالمی طاقت کے کھیل کے سب سے حساس میدان ہیں- ہر آبنائے ایک ایسے نقطے کی حیثیت رکھتا ہے جہاں انسانی زندگی، توانائی کی ترسیل اور معیشت کا توازن خطرے میں پڑ سکتا ہے- جبکہ بڑی طاقتیں اپنی فوجی موجودگی اور اتحاد کے ذریعے ان راستوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہاں ہونے والی کشیدگیاں عام انسان کے لیے مہنگائی، خوراک کی کمی اور عدم استحکام کا سبب بنتی ہیں- عالمی سیاست میں طاقت کا یہ کھیل اکثر عوامی مفاد کے خلاف چلتا ہےاور یہ واضح کرتا ہے کہ سمندری راستے صرف تجارت کے لیے نہیں بلکہ سیاسی دباؤ، اقتصادی قبضے اور فوجی حکمت عملی کا آلہ بھی بن چکے ہیں- انسانی ترقی اور امن کے لیے ان راستوں کی حفاظت ضروری ہے، لیکن طاقت کے حصول کی دوڑ میں یہ راستے مستقل طور پر خطرے اور کشیدگی کی لپیٹ میں رہتے ہیں-

٭٭٭


[1]Encyclopaedia Britannica, “Strait of Hormuz,” last modified 2026, https://www.britannica.com/place/Strait-of-Hormuz.

[2]CNN, “How Iran Controls the Strait of Hormuz Explained,” March 26, 2026,

https://edition.cnn.com/2026/03/26/middleeast/how-iran-controls-strait-of-hormuz-explained-intl-vis.

[3]Encyclopaedia Britannica, “Strait of Malacca,” https://www.britannica.com/place/Strait-of-Malacca.

[4]Alejandro Puigrefagut, “China and India Fight for the Gates of the Strait of Malacca,” Global Affairs, University of Navarra,https://en.unav.edu/web/global-affairs/detalle/-/blogs/china-and-india-fight-for-the-gates-of-the-strait-of-malacca.

[5]نہرِ سویز(Suez Canal)مصر میں واقع ایک اہم سمندری راستہ ہے جو بحیرہ روم کو بحیرہ احمر سے جوڑتا ہے۔ یہ راستہ یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کو مختصر اور تیز بناتا ہے، کیونکہ اب جہاز افریقہ کے گرد لمبا چکر نہیں لگاتے-

[6]"Panama Canal," Encyclopaedia Britannica, accessed April 1, 2026, https://www.britannica.com/topic/Panama-Canal.

[7]Encyclopaedia Britannica, “Bab el-Mandeb Strait,” https://www.britannica.com/place/Bab-El-Mandeb-Strait.

[8]The Express Tribune, “Bab al-Mandeb Strait: Iran War Places Another Vital Shipping Route at Risk,” The Express Tribune, March 26, 2026, https://tribune.com.pk/story/2600164/bab-al-mandeb-strait-iran-war-places-another-vital-shipping-route-at-risk.

[9]"Bosporus," Encyclopaedia Britannica, accessed March 30, 2026, https://www.britannica.com/place/Bosporus.

[10]Security History Network, “The Bosporus in the Shadow of Geopolitics,” Security History Network, August 15, 2024,

https://securityhistorynetwork.com/2024/08/15/the-bosporus-in-the-shadow-of-geopolitics/.

[11]Encyclopaedia Britannica, s.v. “Strait of Gibraltar,” Britannica, accessed March 30, 2026,

https://www.britannica.com/place/Strait-of-Gibraltar.

[12]“History of Gibraltar,” Historic UK, accessed March 30, 2026,

https://www.historic-uk.com/HistoryMagazine/DestinationsUK/History-of-Gibraltar/.

[13]“Global Maritime Tensions and Strategic Chokepoints,” Dawn, accessed March 30, 2026,

https://www.dawn.com/news/1891385.

[14]U.S. Department of State, “Joint Statement from the Quad Foreign Ministers’ Meeting in Washington,” July 2025, https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2025/07/joint-statement-from-the-quad-foreign-ministers-meeting-in-washington.

[15]U.S. Department of State, “Joint Fact Sheet on Australia–U.S. Ministerial Consultations (AUSMIN) 2025,” December 2025, https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2025/12/joint-fact-sheet-on-australia-u-s-ministerial-consultations-ausmin-2025.

[16]USNI News, “USNI News Fleet and Marine Tracker: March 9, 2026,” March 9, 2026,

https://news.usni.org/2026/03/09/usni-news-fleet-and-marine-tracker-march-9-2026.

[17]Asia Maritime Transparency Initiative (CSIS), “Field Note: U.S. Military and People’s Liberation Army in Djibouti,” accessed March 30, 2026, https://amti.csis.org/fieldnote-u-s-military-peoples-liberation-army-djibouti/.

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر