ابتدائیہ:
’’ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ طمَا خَلَقَ اللہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالْحَقِّ ج یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ‘‘ [1]
’’وہی(ذاتِ اقدس ) ہے جس نے سورج کو جگمگاتا بنایا اور چاند چمکتا اور اس کیلئے منزلیں ٹھہرائیں کہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جانو اللہ تعالیٰ نے اسے نہ بنایا مگر حق نشانیاں مُفَصَّل بیان فرماتا ہے علم والوں کے لیے‘‘-
ہم بعض اوقات دیکھتے ہیں کہ سورج اور چاند کی روشنی اپنے معمول سے کم ہوگئی ہے،درحقیقت اللہ پاک کی قدرت کا اظہار ہے جس طرح شریعت مطہر کے زندگی میں ہر پیش آنے والے مسئلہ کے بارے میں احکامات موجود ہیں، اسی طرح سورج وچاندگرہن اورآندھی ،طوفان وغیرہ کی صورت میں بھی شریعت مطہرہ نے رہنمانی فرمائی ہے ذیل میں قرآن و سُنت کی روشنی میں ان کے تفصیلاً احکام جاننے کی کوشش کرتے ہیں -
لغوی و اصطلاحی تعریف:
’’کَسَفَ يَكْسِفُ كُسُوفًا‘‘ڈھانپ دینا،روشنی کا کم ہو جانایا مدھم ہونا جبکہ ،’’خَسَفَ یَخْسِفُ،خَسْفًا‘‘ دھنس جانا، جاتے رہنا اور کم ہونا وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے- [2]
نماز کسوف اور خسوف کی وضاحت کرتے ہوئےعلامہ حسن بن عمار شرنبلالیؒ لکھتے ہیں کہ :
’’الكسوف: ذهاب ضوء الشمس والخسوف: ذهاب ضوء القمر والأفزاع: جمع فزع وهو الخوف والمراد ما يخيف من زلزلة أو ريح شديدة ونحو ذلك‘‘[3]
’’کسوف سورج کی روشنی جانے،خسوف چاند کی روشنی جانے اور افزاع یہ فزع کی جمع ہے اورمراد زلزلہ یا شدیدآندھی وغیرہ کا خوف ہونا ہے‘‘-
نمازِ کسوف کا طریقہ:
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) سے مروی ہے آپ فرماتی ہیں کہ :
’’سیدی رسول اللہ (ﷺ) کے زمانے مبارک میں سورج گرہن لگاتو سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے لوگوں کو نماز ادا فرمائی پس آپ (ﷺ) نے لمبا قیام فرمایا پھر رکوع کیا پس آپ (ﷺ) نے لمبا رکوع کیا پھر آپ (ﷺ) نے قیام فرمایا اورلمبا قیام فرمایا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ (ﷺ) نے رکوع کیا اور لمبا رکوع فرمایا اور یہ رکوع پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ (ﷺ) نے لمبا سجدہ فرمایا پھر آپ (ﷺ) نے دوسری رکعت پہلی رکعت کی طرح ادا فرمائی پھر آپ (ﷺ) واپس پلٹے اس حال میں سور ج چھٹ چکا تھا(یعنی گرہن ختم ہوگیا تھا) پس آپ (ﷺ) نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ پاک کی حمدو ثنا بیان فرمائی اورآپ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:’’سورج اورچاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا پس جب تم ان ہو لناکیوں میں سے کوئی چیز دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو،اس کی بڑائی بیان کرواور نمازادا کرواورصدقہ و خیرات دو‘‘- [4]
مزید ایک دوسری حدیث پاک حضرت مغیرہ بن شعبہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہےوہ بیان کرتے ہیں کہ:
’’سیّدی رسول اللہ (ﷺ) کے زمانے مبارک میں سورج کو گرہن لگا جس دن (سیدی رسول اللہ (ﷺ) کے صاحبزادے) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وصال فرمایا تو لوگوں نے کہا کہ سورج کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وصال مبارک کی وجہ سے گرہن لگا تو سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا :’’بے شک سورج اور چاند کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتاتو تم (ان کو گرہن لگا ہو ا)دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ رب العزت کی بارگا ہ مبارک میں دعاکر و‘‘- [5]
ایک غلط فہمی کا ازالہ :
کم علمی اور توہم پرستی کی وجہ سے ہماری زندگی میں کافی رسم ورواج اور باتیں ایسی داخل ہوگئیں ہیں جن کا نہ حقیقت سے کوئی تعلق ہے اورنہ شریعت مطہرہ ان کی اجازت دی ہے-انہی غلط فہمیوں میں سے ایک غلط فہمی یہ ہے کہ جب سورج یا چاند گرہن ہوتو حاملہ عورت خاص احتیاط کرے لوہے کو نہ چھوئے وغیرہ ورنہ بچہ معذور پیداہوگا-یہ بات شریعت کے منافی ہے-سورج و چاندگرہن اورآندھی وطوفان وغیرہ کے وقت احادیث مبارکہ میں مکمل رہنمائی موجود ہے اُن احادیث مبارکہ سے فقہاء کرام نے جواحکام اخذ کئے ہیں اُن کی تفصیل کچھ اس طرح ہے -
علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں کہ:
’’نماز عید اور کسوف (سورج گرہن) میں اتحاد اس حوالے سے ہے کہ دونوں نمازیں جماعت کے ساتھ دن کے وقت بغیر اذان اوراقامت کے ادا کی جاتی ہیں اوران میں تضاد اس حوالے سے ہے کہ نماز عید میں جماعت شرط اورجہری قرأت واجب ہے جبکہ نماز کسوف میں جماعت کے علاوہ بھی ہوسکتی ہے(البتہ جماعت مستحب ہے ) اور جہری قرأت بھی واجب نہیں ہے‘‘-[6]
اسی طرح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قادریؒ لکھتے ہیں کہ :
’’سورج گر ہن کی نماز سُنت(مؤکدہ ) اور بعض مشائخ نے اس کو واجب قراردیاہے جبکہ چاند گرہن میں نماز مستحب ہے‘‘- [7]
مزید علامہ عینیؒ ، امام ابوحنیفہؒ کی سورج گرہن کی نماز کے بارے میں روایت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’اگر لوگ چاہیں تو دورکعت نماز پڑھیں،چاہیں تو چار رکعت پڑھیں اور چاہیں تو اورزیادہ پڑھیں ،چاہیں تو ہر دورکعت کے بعد سلام پڑھیں چاہیں تو چار رکعت کے بعد سلام پھیریں‘‘-[8]
فتاوٰی عالمگیر ی میں سورج گرہن کے حوالے سے ذکرہےکہ :
’’سورج گرہن میں قرات کو لمباکرنا،دعا میں تخفیف کرنا یا دعا میں طوالت اختیار کرنا اور قرأت کو لمبا نہ کرنا دونوں جائز ہے- افضل یہ کہ دونوں رکعتوں میں لمبی قرات کرے (اصل اس میں یہ ہے کہ سورج گرہن ختم ہونے تک اللہ پاک کی بارگاہ ِ اقدس میں مناجات جاری رہیں) اس نماز کو باجماعت پڑھنا افضل ہے لیکن اگر یہ نما ز جدا جدا اپنے گھروں میں ادا کرلیں تب بھی جائز ہے - یادرہے اس نماز میں اذان اوراقامت نہیں بلکہ’’اَلصَّلٰوۃُ جَامِعَۃٌ ‘‘(نمازکیلئے آجاؤ جماعت کھڑی ہے ) کہ کر لوگوں کو پکاریں اورنماز کے بعد سورج کے کھل جانے (سورج گرہن کے ختم ہونے تک) دعا مانگتا رہے-اگرکسوف ایسے وقت میں ہو جن اوقات میں نماز پڑھنا مکروہ (طلوع آفتاب ،زوال آفتاب اوربعداز نماز عصر) ہے تو نماز نہ پڑھے‘‘- [9]
’’اگر سورج گرہن ختم ہوجائے تو بعد میں نماز ادا نہ کی جائے اور اگر کچھ سورج گرہن ختم ہوجائے تونماز کی ابتداء جائز ہے اورسورج گرہن کو بادل وغیرہ ڈھانپ لیں تو نماز شروع کرسکتا ہے اور اگر سورج غروب ہو جائے اس حال میں اس پر گرہن ہو تو وہ نماز سے رُک جائے اور نماز مغرب اد ا کرے ‘‘- [10]
علامہ حسن بن عمار شرنبلالیؒ لکھتے ہیں کہ:
’’سورج گرہن کی نماز کے بعد امام چاہے تو بیٹھ کر قبلہ منہ ہو کر دعا مانگے یالوگوں کی طرف رُخ کرکے کھڑے ہوکر دعا مانگے یہ زیادہ بہتر ہے،مقتدی اس کی دعا پر آمین کہیں یہاں تک کہ سورج کی روشنی مکمل ہوجائے اگر امام موجود نہ ہوتو اکیلے اکیلے نماز پڑھیں جس طرح چاندگرہن، دن کے وقت خوفناک آندھی، سخت ہوا اور خوف کی نماز پڑھی جاتی ہے‘‘-[11]
علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں :
’’تیز آندھی آئے، یادن میں سخت تاریکی چھاجائے، یارات میں خوفناک روشنی ہو،یا لگاتار کثرت سے بارش برسے، یا بکثرت اولے پڑیں، یاآسمان سُرخ ہوجائے، یابجلیاں گریں، یا بکثرت تارئے ٹوٹیں، یا طاعون وغیرہ کا وباپھیلے، یا زلزلے آئیں یا دشمن کا خوف ہو یا کوئی اور دہشت ناک امر (ڈکیتاں وغیرہ )پایا جائے تو ان سب کے لیے دورکعت نماز ادا کرنامستحب ہے ‘‘- [12]
خلاصہ کلام:
بنیادی طور پر چانداور سورج اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، جب ان میں گرہن واقع ہوتا ہےتو اس کا بنیادی مقصدیہ ہےکہ لوگ اللہ پاک کی عبادت میں غفلت سے جاگ جائیں اور اللہ پاک کی نافرمانی سے باز آجائیں نیز یہ بھی باور کرانا مقصود ہوتاہے کہ زمینوں وآسمان اور اس میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ پاک کے امر کے پابند ہیں اس لیے شریعت مطہرہ سورج یاچاند گرہن کے وقت مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے، نماز ادا کرنے، دعا اور استغفار کرنے کی تلقین کرتی ہے اسی طرح آندھی طوفان اور آسمانی اورزمینی آفتیں (چاہے ان کا سبب جو بھی ہو) انسان کو رجوع الی اللہ کادرس دیتی ہیں اور اسی میں ایک مسلمان کی کامیابی کا راز مضمر ہے کہ وہ ہمہ وقت اپنے دل کو اللہ عزوجل کی یاد سے آبادو شاد رکھے-اللہ پاک ہم سب کو رجوع الی اللہ کی توفیق کاملہ عطا فرمائے -
٭٭٭
[1](یونس:5)
[2](المنجد-لسان العرب)
[3]( مراقي الفلاح شرح متن نور الإيضاح، كتاب الصلاة)
[4](صحیح بخاری، بَابُ الصَّلاَةِ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ)
[5](ایضاً)
[6]( رد المحتار على الدر المختار،بَابُ الْكُسُوفِ)
[7]( فتاویٰ رضویہ، (رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ )
[8]( البناية شرح الهداية، باب صلاة الكسوف)
[9](الفتاوى الهندية،الْبَابُ الثَّامِنَ عَشَرَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ)
[10]( رد المحتار على الدر المختار،بَابُ الْكُسُوفِ)
[11]( نور الإيضاح، باب صلوٰۃ الکسوف والخسوف والافزاع)
[12]( رد المحتار على الدر المختار،بَابُ الْكُسُوفِ)