سقراط کے زمانے میں ایتھنز علمی و فکری ابحاث کا مرکز بن چکا تھا- گزشتہ چند صدیوں میں جو افکار یونان کے مُلحقہ علاقوں (ایشائے کوچک، اٹلی، تھریس وغیرہ) میں پیدا ہوئے تھے وہ ایتھنز کے اہلِ دانش کی توجہ کا مرکز بن گئے- یہ فطری بات ہے کہ جب کسی قوم میں نظریات کی کثرت ہو جائے تو وہاں فکری اختلاف بھی لازماً آتا ہے- ایتھنز کے مفکرین میں فکری اختلاف موجود تھا مگر ایک گروہ ایسا تھا جس کی رائے بہت ہی مختلف تھی اس لیے وہ گروہ سقراط کو سخت نا پسند تھا- آج انھیں Sophists یعنی سوفسطائیہ کے نام سے جانا جاتا ہے- ان لوگو ں کا ماننا تھا کہ علمی دعوے مطلق نہیں ہوتے بلکہ ہر شخص اپنے معیار کے مطابق درست ہوتا ہے- اس کا مطلب یہ تھا کہ سچ اور جھوٹ، صحیح اور غلط کی جانچ کا کوئی مستقل معیار ہی نہیں ہے- اگر آپ لفظوں کے ہیر پھیر سے یا جذباتی تقریر کر کے کسی کو قائل کر لیتے ہیں تو آپ کا علمی دعویٰ درست ہے- یہی وجہ تھی کہ سقراط انھیں پسند نہیں کرتا تھا کیونکہ سقراط سچ اور جھوٹ میں واضح اور مستقل معیار قائم کرنے کا قائل تھا- سقراط کی یہی فکر اس کے شاگرد افلاطون کے فلسفہ علم کی بنیاد بنتی ہے جسے افلاطون نے مختلف انداز سے پیش کیا ہے جن میں اس کی مشہورتمثیلِ غار بھی شامل ہے- اس مضمون میں افلاطون کی تمثیلِ غار کی عصری تعبیر، معنویت اور اس کے اثرات پر بات کی جائے گی-
افلاطون کی تمثیلِ غار:
افلاطون اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’The Republic‘‘ میں لکھتا ہے تصور کریں کہ کچھ لوگ بچپن سے ہی ایک غار کے اندر قید ہیں- ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں اور ان کی گردنیں اس طرح جکڑی ہوئی ہیں کہ وہ اپنے سر کو موڑ کر ادھر اُدھر دیکھ بھی نہیں سکتے بلکہ صرف سامنے کی دیوار ہی کو دیکھ سکتے ہیں- ان کے پیچھے کچھ فاصلے پر آگ جل رہی ہے اور آگ اوران قیدیوں کے درمیان ایک راستہ ہے جس پر سے لوگ مختلف اشیاءاٹھائے گزرتے ہیں- جب وہ چیزیں آگ کے سامنے سے گزرتی ہیں تو ان کے سائے غار کی دیوار پر پڑتے ہیں اور قیدی انہی سایوں کو دیکھتے رہتے ہیں- چونکہ انہوں نے کبھی اصل اشیاء کو نہیں دیکھا ہوتا اس لئے وہ انہی سایوں کو حقیقت سمجھتے ہیں اور اگر کوئی ان سایوں کے بارے میں بات کرے تو وہ یہی گمان کرتے ہیں کہ وہی اصل چیزیں یا حقائق ہیں-
افلاطون مزید کہتا ہے کہ اگر ان قیدیوں میں سے کسی ایک کو آزاد کر دیا جائے اور اسے مجبور کر کے کھڑا کیا جائے اور باہر کی طرف لے جایا جائے تو ابتدا میں اسے تکلیف ہوگی-سورج کی روشنی اس کی آنکھوں کو چبھنے لگے گی اور وہ ان چیزوں کو دیکھنے میں مشکل محسوس کرے گا پہلےجن کے وہ فقط سائے دیکھتا تھا- آہستہ آہستہ وہ پہلے انہی سایوں کو زمین پر پڑتا دیکھے گا پھر ان اشیاء کو دیکھنے لگے گا اور آخرکار سورج کی روشنی کو بھی دیکھ سکے گا- تب اسے معلوم ہوگا کہ اصل حقیقت وہ ہے جو غار کے باہر موجود ہے اور جو کچھ وہ پہلے دیکھتا تھا وہ محض سائے اور غیر حقیقی تھے-
افلاطون کے نزدیک غار میں سایوں کو دیکھنا رائے کی مثال ہےجبکہ غار سے باہر نکل کر حقیقت کو دیکھنا علم کی مثال ہے- اب کسی شے اور اس کے سائے کے تعلق کو سمجھیں-فرض کریں کہ آپ صبح سے لے کر شام تک ایک درخت اور اس کے سائے کو دیکھتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ سایہ تبدیل ہوتا رہتا ہے لیکن درخت قائم رہتا ہے اور صبح سے لے کر شام تک کسی تبدیلی کا شکار نہیں ہوتا- اسی طرح رائے بھی سائے کی طرح ہوتی ہے جو تبدیل ہوتی رہتی ہے جبکہ علم حقیقت سے متعلق ہوتا ہے اس لیے یہ تبدیل نہیں ہوتا-
دوسری بات یہ ہے کہ سائے کو دیکھا جائے تو وہ درخت کا محض یک رنگی نقش ہوتا ہے جس میں درخت کے مختلف حصوں (تنا، پتے، شاخیں وغیرہ) کا فرق بھی واضح نہیں ہوتا جبکہ درخت حقیقت کی کھلی تصویر ہوتا ہے- بالکل اسی طرح رائے کسی بھی فکری پہلو کے تمام زاویوں کو شامل نہیں کرتی جبکہ علم اس کے تمام پہلوؤں پر حاکم ہوتا ہے-
تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ رائے رکھنا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ یہی رائے ہی تصدیق کے بعد علم بن جاتی ہے-لہٰذا جو شخص رائے نہیں رکھتا اس میں علم کی جستجو بھی نہیں ہے- اصل مسئلہ رائے کو بغیر تحقیق و تصدیق کے حتمی سمجھ کر بضد ہو جانا ہے- کئی صورتحال میں مخالف رائے کو تسلیم کرنا پڑتا ہے اور لوگ مخالف رائے رکھ کر بھی ہنسی خوشی زندگی بسر کر جاتے ہیں لیکن یہ اس صورت میں ہے جب اختلاف واقعی تحقیق پر مبنی ہو اور معلوم اپنی نوعیت میں ہی کثیر الجہتی ہو- حق تو یہ ہے کہ ایک محقق میں بھی اتنا حوصلہ ہو کہ یہ جانتے ہوئے کہ مخالف کی رائے درست نہیں ہے اس کے ساتھ جھگڑا مت کرے- جس طرح سقراط عقلی مباحثے سے شخص پر اس کی کم علمی اور غلطی کو واضح کر دیتا تھا بالکل ایسے ہی تحمل اور بردباری سے عقلی مباحثوں کے ذریعے لوگوں کی غلطیاں اور مغالطے ان پر واضح کرنے چاہیئے-
عصری تعبیر :
افلاطون کی تمثیلِ غار کی اگر عصری تعبیر کی جائے تو اس کی صورت کچھ یوں دکھائی دیتی ہے کہ جدید دور کا انسان بھی بچپن سے ہی جدید معاشرے اور اس کے طور طریقوں کی غار میں ڈال دیا جاتا ہے - اس غار کی دیواریں دراصل ہمارے ہاتھوں میں موجود اسکرینیں ہیں- موبائل فون، ٹی وی اور سوشل میڈیا کی اسکرینیں وہی دیوار بن گئی ہیں جن پر ہم ہر روز معلومات اور خبروں کے سائے دیکھتے رہتے ہیں- ہم جو کچھ ان اسکرینوں پر دیکھتے ہیں اسے فوراً حقیقت سمجھ لیتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے غار کے قیدی دیوار پر پڑنے والے سایوں کو اصل چیزیں سمجھتے تھے- مگر حقیقت اکثر ان تصویروں اور خبروں سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گہری ہوتی ہے-
جس طرح غارمیں موجود وہ قیدی غار سے باہر نکل کر سورج کی روشنی میں اصل اشیاء کو دیکھ کر ہی جان پاتے ہیں کہ سائے اور اصل شے میں کیا فرق ہے- بالکل اسی طرح جدید انسان بھی مطالعہ، تحقیق اور تنقیدی سوچ کی روشنی میں یہ جان سکتا ہے کہ اس تک پہنچنے والی معلومات و خبروں میں سے کونسی قیاس پر مبنی ہیں؛ کونسی آراء پر مبنی ہیں اور کونسی واقعی صورتحال کا حقیقی علم دیتی ہیں- لیکن اس طرف آنے سے جدید انسان ویسے ہی کتراتا ہے جیسے غار کے قیدی غار سے نکلنے سے کترا تے تھے- وہ اس زحمت سے بچتا ہے اور اسکرین پر نظر آنے والی چیزوں کوہی علم سمجھ لیتا ہے- یوں کہا جا سکتا ہے کہ جدید انسان بھی ایک نئی غار میں قید ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس غار کی دیوار پتھر کی نہیں بلکہ ڈیجیٹل اسکرینوں کی ہے اور ان پر چلنے والی تصویریں ہی ہمارے لیے حقیقت بن گئی ہیں-
معنویت:
افلاطون کی تمثیلِ غار اور فلسفیانہ نظام کو سامنے رکھتے ہوئے علم اور رائے کا فرق کچھ اس طرح ہے کہ علم تبدیل نہیں ہوتا جبکہ رائے تبدیل ہوتی رہتی ہے- اب یہاں اہم سوال یہ بنتا ہے کہ علم کیونکر تبدیل نہیں ہوتا؟ اس سوال کا جواب افلاطون کے عملیاتی نظام میں پوشیدہ ہے جس کا مغز ایک جملہ ہے- علم ہمیشہ معلوم کے تابع ہوگا- جیسا معلوم ہوگا ویسا ہی علم ہوگا یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ معلوم تو کچھ اور ہو اور علم کچھ اور- یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ علم کیونکر معلوم کے تابع ہوتا ہے؟ ایسا اس لیے ہے کیونکہ معلوم وجودی طور پر علمی جستجو سے پہلے ہے- یعنی عالم اپنے معلوم کو وجود میں نہیں لاتا بلکہ وہ پہلے سے موجود معلوم تک پہنچتا ہے- اس لیے معلوم تغیر سے بری ہے کیونکہ وہ عالم کی شعوری حرکت سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ محض اس کے دائرہ شعور میں حاضر ہوتا ہے- یہ جدید معاشرے کی علمیات کا اَلمیہ ہے کہ علم کو معلوم کی بجائے معلوم کو علم کے تابع تصور کیا جاتا ہے جس میں علم حقیقت کا عکاس نہیں بلکہ عالم کی رائے بن کر رہ جاتا ہے-
جب علم کی نوعیت ایسی ہے تو اب آپ پر رائے کی نوعیت بھی واضح ہو گئی- رائے درحقیقت بیرونی عناصر کی شدت کے اثر سے پیدا ہونے والی انسان کی شعوری حرکت کی پیدوار ہوتی ہے- انسان کے سامنے ایک ہی حقیقت کئی صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے جس سے اس کے شعور کی کیفیات بھی بدلتی رہتی ہیں- اگر ایسا انسان تحقیق کا عادی نہ ہو تو اس کیلئے مختلف آراء ہی حقیقت بن جاتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اتنی مضبوط ہو جاتی ہیں کہ انسان ان کے خلاف نہ کچھ سوچ سکتا ہے اور نہ ہی کچھ سن سکتا ہے- یہی وہ کیفیت ہے جس کی وجہ سے جدید معاشرے میں چند اہم مسائل پیدا ہوتے ہیں جو انسان کی مذہبی، سیاسی اور نفسیاتی جہات کو متاثر کرتے ہیں-
مسائل:
1-ذہنی الجھن:
اگر میں جدید زمانے کے مسائل کو کسی ایک مسئلے کی صورت میں پیش کرنا چاہوں تو میرے نزدیک وہ ایک مسئلہ ذہنی الجھن ہے- جدیدانسان کا ذہن کسی نہ کسی الجھن کا شکار رہتا ہے اور الجھنیں بھی ایسی ہوتی ہیں کہ انسان اپنی زندگی کو کوئی باقاعدہ سمت ہی نہیں دے سکتا- اس لجھن کی بنیادی وجہ آراء کی کثرت اور علم کی کمی ہے- جدید انسان پر چاروں طرف سے اور تقریباً ہر موضوع پر آراء اس طرح وارد ہوتی ہیں کہ وہ فیصلہ ہی نہیں کر پاتا کہ حقیقت کیا ہے اور فریب کیا ہے- یہ کیفیت انسان کو ذہنی الجھن کا شکار کرتی ہے اور اس کی فیصلہ کرنے کی طاقت بھی چھین لیتی ہے آراء کی بُہْتَات صرف ذہنی الجھن ہی پیدا نہیں کرتی بلکہ آراء کو علم قرار دینے والے افراد میں تفرقہ بازی بھی پیدا کرتی ہے-
2-تفرقہ بازی:
جب رائے کو علم کا درجہ دے دیا جائے تو ہر شخص اپنی رائے کو ہی حقیقت سمجھنے لگتا ہے- اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ہی حقیقت کے کئی مختلف دعویدار پیدا ہو جاتے ہیں اور ہر ایک اپنے مؤقف کو درست سمجھتا ہے- چونکہ ان آراء کے پیچھے کوئی مستقل معیار موجود نہیں ہوتا اس لیے اختلاف محض علمی نہیں رہتا بلکہ تعصب اور ضد میں تبدیل ہو جاتا ہے- یہی وجہ ہے کہ جدید معاشروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ معمولی نوعیت کے مسائل بھی شدید اختلاف اور تقسیم کا سبب بن جاتے ہیں-ایک ہی واقعہ مختلف لوگوں کے نزدیک مختلف معنی رکھتا ہے اور ہر گروہ اپنے مؤقف کو ہی حتمی سمجھتا ہے-یہ تفرقہ دراصل علم اور تحقیق کی کمی کی وجہ سے آراء کی کثرت کا نتیجہ ہے- جہاں علم ہوگا وہاں اتحاد پیدا ہوگا کیونکہ علم کا تعلق حقیقت سے ہے جو ایک ہے اور جہاں رائے غالب ہوگی وہاں انتشار لازمی ہوگا کیونکہ رائے کی بنیاد انسان کے رجحانات اور بدلتی شعوری کیفیات ہیں جو ہر شخص میں مختلف ہوتی ہیں-
3-بیانیہ سازی:
جب آراء کو علم کا درجہ مل جاتا ہے تو اگلا مرحلہ ’’بیانیہ سازی‘‘ کا ہوتا ہے- بیانیہ دراصل آراء کو اس انداز میں مرتب کرنے کا نام ہے کہ وہ ایک مکمل حقیقت معلوم ہونے لگیں- جدید دنیا میں میڈیا، سوشل میڈیا اور مختلف طاقتور ادارے اسی بیانیہ سازی کے ذریعے عوام کی سوچ کو متعین کرتے ہیں- وہ چند منتخب حقائق، ادھوری معلومات اور جذباتی عناصر کو ملا کر ایک ایسا علمی نظریہ تیار کرتے ہیں جسے لوگ حقیقت سمجھنے لگتے ہیں- آج کے دور میں اس کی بہترین مثالیں حالیہ جنگیں اور چند سال پہلے کورونا کی وبا ہیں- ان دونوں میں حکومتوں کو جنگی اور وبائی صورتحال کے ساتھ ساتھ غلط اور ادھوری خبروں کے خلاف ایک باقاعدہ محاز سمجھ کر لڑنا پڑتا ہے- Deep Fake کے آنے سے یہ معاملہ اور بھی سنگین ہو گیا ہے جس میں کسی شخص کی عزت تار تار کرنا، ملکوں کے خلاف پراپیگنڈہ کرنا وغیرہ بہت عام اور آسان ہو گیا ہے-
یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے غار میں سائے دکھانے والوں نے قیدیوں کے لیے ایک مصنوعی دنیا بنا دی تھی- قیدی جو کچھ دیکھتے تھے وہ حقیقت نہیں بلکہ حقیقت کا ایک محدود اور ادھورا عکس تھا-بیانیہ سازی کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ انسان کو اس کے اپنے شعور سے بھی دور کر دیتی ہے- وہ اپنے طور پر سوچنے کے بجائے پہلے سے تیار شدہ معانی کو قبول کرنے لگتا ہے اور یوں اس کی فکری آزادی ختم ہو جاتی ہے-
4-طاقت:
رائے اور علم کے اس فرق کا سب سے گہرا تعلق طاقت (Power) کے ساتھ ہے-جب علم کمزور ہو اور آراء غالب ہوں تو طاقتور فریق کیلئے یہ آسان ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی رائے کو ’’علم‘‘ بنا کر پیش کرے- چونکہ عوام کے پاس نہ کوئی مضبوط معیار موجود ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں تحقیق کا شوق ہوتا ہے اس لیے وہ اسی رائے کو قبول کر لیتے ہیں جو زیادہ شدت اور کثرت کے ساتھ پیش کی جائے-یوں طاقت علم کی جگہ لے لیتی ہے-یہی وہ مقام ہے جہاں تمثیلِ غار اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتی ہے- غار میں سائے خود بخود نہیں بن رہے تھے بلکہ کوئی انہیں بنا رہا تھا- اسی طرح جدید دنیا میں بھی ’’بیانیے‘‘ خود پیدا نہیں ہوتے بلکہ طاقت کے مراکز ایک خاص مقصد کے تحت انہیں تخلیق کرتے ہیں اور پھیلاتے ہیں-
اثرات:
1-مذہبی:
جب رائے کو علم پر ترجیح دی جاتی ہے تو مذہب بھی انتشار سے محفوظ نہیں رہتا-مذہب جو بنیادی طور پر حقیقت تک رسائی اور اس پر یقین کا دعویٰ کرتا ہے وہ مختلف آراء کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے- ہر شخص اپنے فہم کو حتمی سمجھنے لگتا ہے اور یوں مذہبی وحدت ختم ہو جاتی ہے اور مذہبی فرقہ واریت ہی مذہب کی پہچان بن کر رہ جاتی ہے- یہی وجہ ہے کہ آج مذہبی مسائل میں بھی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں- ایک ہی نص سے مختلف اور بعض اوقات متضاد معانی نکالے جاتے ہیں-اگر علم اور تحقیق کو معیار بنایا جائے تو یہ عین ممکن ہے کہ جدید دور میں مذہب کی درست سمت کا تعین ہو سکے اور مذہب ایک ایسی معاشرتی طاقت کے طور پر سامنے آ سکتا ہے جو دنیا کو علم، تحقیق اور امن کا گہوارا بنا نے کے قابل ہوگی- اگر مذہب کو رائے بازی کا میدان ہی رہنے دیا گیا تو مستقبل قریب میں شاید مذہب اپنا باقی ماندہ معاشرتی اثر و رسوخ بھی کھو بیٹھے گا-
2-سیاسی:
سیاسی میدان میں رائے اور علم کے اس فرق کے اثرات سب سے زیادہ نمایاں ہیں- سیاست میں بیانیہ سازی اور رائے کی تشکیل ایک بنیادی ہتھیار بن چکی ہے- یہ المیہ صرف اس دور کا نہیں ہے بلکہ سقراط کے دور میں ایتھنز کی سیاسی صورتحال بھی کچھ ایسی تھی- سیاستدان اپنی اولاد کوسوفسطائیوں کی شاگردی میں دیتے تھے جو انہیں بیان بازی اور سحر انگیز تقریر کرنا سکھاتے تھے- اس طرح وہ ایتھنز کی عوام کو اپنی باتوں اور تقاریر سے اپنے مدعے پر قائل کر لیتے تھے اب وہ مدعا حقیقت کا عکاس ہوتا تھا یا نہیں اس سے انہیں کوئی غرض نہیں تھی- سقراط اسی سوچ کے خلاف تھا جو لفظوں کے ہیر پھیر سے اور جذباتی تقریروں سے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا دیتی تھی-
آج بھی تقریباً ویسی ہی صورتحال ہے کہ عوام کو حقائق نہیں بلکہ مخصوص انداز میں پیش کیے گئے واقعات دکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ ایک خاص سمت میں سوچیں-یوں سیاسی فیصلے علم کی بنیاد پر نہیں بلکہ جذباتی اور وقتی آراء کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں- اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں استحکام کی بجائے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے کیونکہ آراء بدلتی رہتی ہیں اور ان کے ساتھ فیصلے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں-یہی وہ کیفیت ہے جہاں پوری قوم ایک ’’سیاسی غار‘‘ میں رہنے لگتی ہے- ایک ایسی غار جس میں انسان سماجی، معاشی اور حتیٰ کہ مذہبی شناخت بھی کھو بیٹھتا ہے - اس صورتحال میں قوم کا شعور بکھراؤ کا شکار ہوجاتا ہے جس سے ایک بحران جنم لیتا ہے جسے ’’ قومی شناخت یا قومی سمت‘‘ کا بحران کہتے ہیں-
3-نفسیاتی:
ان تمام اثرات کا سب سے گہرا اثر انسان کی نفسیات پر پڑتا ہے-جب انسان مسلسل آراء کے ہجوم میں رہتا ہے اور اسے کوئی یقینی علم میسر نہیں آتا تو اس کے اندر بے یقینی (uncertainty) پیدا ہو جاتی ہے- یہ بے یقینی رفتہ رفتہ اضطراب، بے چینی اور عدم اطمینان میں تبدیل ہو جاتی ہے-انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پاس کوئی ٹھوس بنیاد ہی نہیں ہے جس پر وہ اپنی فکر اور زندگی کو قائم کر سکے-یہی وجہ ہے کہ جدید انسان بظاہر معلومات سے بھرپور ہونے کے باوجود اندر سے ایک خالی پن محسوس کرتا ہے- اس کے پاس معلومات تو بہت ہوتی ہیں مگر یقین اور ایک متعین سمت نہیں ہوتی اور یہی یقین اور متعین سمت کی کمی اس کی نفسیاتی بے سکونی کا اصل سبب بنتی ہے-
حرفِ آخر:
علم کا تعلق حقیقت سے ہے جو تخلیق نہیں کی جاتی بلکہ معلوم کی جاتی ہے- علم معلوم کے تابع ہونے کی وجہ سے تغیر سے محفوظ رہتا ہے جبکہ رائے انسانی شعور کی متغیر کیفیات اور بیرونی اثرات کی پیداوار ہوتی ہے اس لیے وہ نہ صرف بدلتی رہتی ہے بلکہ اکثر حقیقت سے دور بھی لے جاتی ہے- جب معاشرہ اس بنیادی امتیاز کو نظر انداز کر دیتا ہے تو ذہنی الجھن، تفرقہ، بیانیہ سازی اور طاقت کے غلط استعمال جیسے مسائل ناگزیر ہو جاتے ہیں، جو بالآخر مذہبی، سیاسی اور نفسیاتی سطحوں پر گہرے بحران کو جنم دیتے ہیں - اس زمانے کی نجات نہ معلومات کی کثرت میں ہے اور نہ بیانیوں کی شدت میں بلکہ اس علم اور یقین میں ہے جو حقیقت کے ادراک سے پیدا ہوتا ہے- لہٰذا جدید انسان کو چاہیے کہ رائے بازی کی تاریکی سے نکلنے کی ہمت پیدا کرے اور ان آراء کے ہجوم سے بلند ہو کر تحقیق، تنقید اور حقیقی علم کی جستجو کرے-
٭٭٭