ڈیجیٹل دور میں معلومات کی تیز رفتاری نے بلا شبہ معاشروں کو ناقابل تصور فوائد دیئے ہیں- دور جدید میں سوشل میڈیا ایک ایسی طاقت بن چکا ہے جو سیاسی، تعلیمی اور اخلاقی رویوں کو تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے- مگر اسی اثناء میں اطلاعتی آلودگی، غلط معلومات، سازشی نظریات، کردار کشی، افواہوں اور منظم فیک نیوز نے سماجی ہم آہنگی، سیاسی استحکام اور اخلاقی حدود کو مزید خطرے میں ڈالا ہے- انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جہاں رابطوں میں انقلاب برپا کیا ہے، وہیں اخلاقی بحران بھی شدت اختیار کر چکا ہے- جدیدیت اور جدت پسندانہ نظریات نے معاشرتی اقدار کے ڈھانچے کو تہہ و بالا کرتے ہوئے عقائد و نظریات پر وہ شب خون مارا ہے کہ شائد ہی اس کا تدارُک ہو سکے- مسلم معاشرے جہاں اپنے عقائد و نظریات سے پہچانے جاتے ہیں وہیں افراد کا طرز عمل پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ تصور کیا جاتا ہے-
معاشرتی طور پر ہر اِنسان اپنے افکار و نظریات کی بنیاد پر ایک پہچان رکھتا ہے- سوچ اور فکرجہاں حالات و واقعات، عقائد و نظریات، اقدار و روایات ، علم و حکمت، فہم و فراست اور ظاہری علوم کی بنیاد پر پَرکھے جاتے ہیں، وہیں روحانی افکار اِن کی بلندی اور تقویت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں- زاویہ بندی کا یہ عمل بچپن، لڑکپن، جوانی، بڑھاپا- حتٰی کہ زندگی کے ہر حصے میں جاری رہتا ہے- سماجی رویوں میں معاشرتی اقدار انسانی تعلقات کا بنیادی جزو ہیں- سچائی، ایفائے عہد، غیرت، حَمِیَّت اور ایمانداری، معاشرتی اقدار کا بہترین فریم ورک مہیا کرتے ہیں، جو قرآن کریم کے نزدیک اَوصافِ حَمیدہ کامظہر سمجھے جاتے ہیں - جھوٹ، بہتان، گلہ گوئی، گالم گلوچ اور لغو گوئی کا تعلق خصائل رزیلہ سے ہے، جو معاشرتی برائیوں کی جڑ سمجھے جاتے ہیں-
معاشرتی اکائیوں میں فرد ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا سنورنا اورسنبھلنا معاشرے کی سمت کا تعین کرتا ہے- اگر یہی فرد، اپنے رویے میں اعتدال پسندی، صلہ رحمی، بھائی چارے، امن پسندی اور یقین کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے تو معاشرتی اکائیاں پارہ پارہ ہو جاتی ہیں- ایسی صورت میں زبوں حالی، نفرتیں، بدعنوانی، دُشمنی، لُوٹ کھسوٹ، قتل و غارت اورجھوٹ ، عظمت و افتخار کا استعارہ بن جاتےہیں- معاشرتی رویوں میں یہ تغیر سالہا سال پر محیط ہوتا ہے جس میں کئی ایک وجوہات کار فرما ہوتی ہیں- مسلم تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ مسلمانوں نے جب بھی قرآن کریم کی تعلیمات سے روگردانی کی ہے، وہ روبہ زوال ٹھہرے- آج ہم جس نہج پر کھڑے ہیں، ایک دفعہ پھر حقیقت حق سے تعلق استوار کرنے کی ضرورت ہے-
ابلاغ عامہ نے معلومات کو بے حد تیزی سے پھیلانے کی قوت دی ہے ، جس کے نتیجے میں سچ اور جھوٹ کے بیچ تمیز کرنا انتہائی مشکل عمل ہے- سوشل میڈیا پلیٹ فارم اب نا صرف سماجی رابطے کا ذریعہ ہیں بلکہ کئی فتنوں کے پھیلاؤ کا موجب بھی بن چکے ہیں-حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ معاشرہ اپنی اقدار کھو بیٹھا ہے- ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے ناپسندیدہ پیغامات، دھمکیاں، جنسی اشارے، بلیک میلنگ اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال کے ذریعے کسی کو پریشان اور تنگ کرنا معمول کا حصہ بن چکا ہےاور لوگ اسے اپنا بنیادی حق تصور کرتے ہیں- سماجی طور پر فکری انحطاط اور زبوں حالی کا عالم یہ ہے کہ جعلی انعامات، نوکریوں کا جھانسا، قرضوں اور لاٹری کے جھانسے لوگوں کے بزنس کا حصہ ہیں-سکیمرز، جعلی ویب سائٹس، فشنگ ای میلز یا جعلی لنکس اور فیک اکاؤنٹس کے ذریعے لوگوں کو مالی یا شناختی نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کرتے- ان تمام مسائل کے تناظر میں قرآنی تعلیمات، صداقت، احتیاط اور سماجی انصاف پر مبنی اُصولوں کا عملی فریم ورک مہیا کرتی ہیں- اسمارٹ فونز، اے آئی جنریٹڈ مواد اور دنیا بھر سے پھیلنے والی غلط معلومات کے تناظر میں قرآن کریم ڈیجیٹل اخلاقیات اور کثیر الجہتی اصول مہیا کرتا ہے-
قرآنی اخلاقیات کے اُصول:
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے صداقت،سچائی، امن پسندی اور بھائی چارے کے فروغ پر بار بار زور دیا ہے، جو ڈیجیٹل ایتھکس کا بنیادی جزو ہیں- جیسا کہ خبر کی تصدیق اور سچائی کے بارے میں ارشاد فرمایا:
’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا‘‘ [1]
’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو‘‘-
مندرجہ بالا آیت میں قرآن ’’ویریفیکیشن جرنلزم‘‘ کا پہلا اصول دیتا ہے جو کہ فیک نیوز کلچر پر براہ راست لاگو ہوتی ہے- اس کے مطابق تحقیق کے بغیر وائرل پوسٹ شیئر کرنا اخلاقی جرم ہے- جدید میڈیا سٹڈیز میں اسے علمی ذمہ داری (Epistemic Responsibility) کہا جاتا ہے-
مزید برآں! کردار کشی، ہتک عزت اور سوشل میڈیا ٹرولنگ کے اوپر قرآن مجید نے بڑے واضع احکامات دیئے ہیں- جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
’’ وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا‘‘ [2]
’’اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو‘‘-
’’ وَیْلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزۃِ‘‘[3]
’’اس کے لئے خرابی ہے جو لوگوں کے منہ پر عیب نکالے، پیٹھ پیچھے برائی کرے‘‘-
اِن آیات میں قرآن کریم انسانوں سے مخاطب ہو کر انہیں بری باتوں سے منع کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتا ہے کہ اپنے رویوں کی سمت درست کرو اور ہر طرح کی معاشرتی برائیوں سے دور رہو- سوشل میڈیا پر گالی، تضحیک آمیز رویے، بلیک میلنگ اور کردار کُشی سخت اخلاقی جرم ہیں جو قرآنی تعلیمات کے منافی ہیں- اِن احکامات میں گہرا فلسفہ، اخلاقی تعلیمات اور روحانی ہدایات موجود ہیں جو کہ اس الہامی کتاب کی فصاحت و بلاغت کا منہ بولتا ثبوت ہیں- جِن کا مقصد انسان کی رہنمائی ہے-
ابلاغ عامہ اور سوشل میڈیا پر، پروپیگنڈا اور افواہیں بدگمانی پیدا کرتےہیں جو آپسی تعلقات کیلئے زہر قاتل تصور کئے جاتے ہیں- جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ‘‘[4]
’’اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہیں‘‘-
افواہوں اور غیر مصدقہ باتوں کو شیئر کرنا قرآن کریم کے اخلاقی نظام کے خلاف ہے- آج ڈیجیٹل افواہیں سیاسی عدم استحکام، عدم برداشت اور سماجی انتشار کا باعث بنتی ہیں- جن کی روک تھام کے لئے قرآن کریم نے باقاعدہ فریم ورک فراہم کیا ہے- جو عالم انسانیت کی فلاح و ترقی کے لئے رہنما اصول سمجھے جاتے ہیں -
جھوٹے کیپشن اور بگاڑے ہوئے مواد کے متعلق قرآن مجید نے سخت تنبیہ کی ہے- جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ ‘‘[5]
’’اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ‘‘-
یہ آیت کریمہ سورۃ البقرہ کے آخر میں موجود ہے جہاں اہل کتاب کو حق کو چھپانے اور اسے باطل سے گڈ مڈ کرنے سے منع کیا گیا ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل علم اور اہل کتاب پر لازم ہے کہ وہ سچ کو جھوٹ سے ممتاز کریں، حقیقت کو واضح کریں اور جانتے بوجھتے اسے مت چھپائیں، تاکہ لوگ گمراہی سے بچتے ہوئے حق پر قائم رہیں- بمطابق قرآن کریم حق کو باطل میں ملانا فِتنہ کا آغاز ہے- فوٹو شاپ اور ڈِیپ فیک سب جھوٹ اور فراڈ کے زُمرے میں آتا ہے-
جدید دور کے فتنے اور قرآنی احکامات:
سوشل میڈیا کمپنیاں ایسے الگو رتھمز استعمال کرتیں ہیں جو جذباتی مواد کو زیادہ پھیلاتے ہیں، جس کے نتیجے میں غصہ، نفرت اور تقسیم کو بڑھاوا دینے والے ایکو چیمبرز بنتے ہیں-سوشل میڈیا پر جب آپ ایک جیسا خاص قسم کا مواد دیکھتے ہیں تو الگورتھم آپ کو ویسا ہی مواد دکھاتا ہے ، جس سے آپ ایک ’’اثراتی غار‘‘ میں پھنستے چلے جاتے ہیں- اس سے سماجی تقسیم بڑھتی ہے کیونکہ لوگ ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھ نہیں پاتے اور کسی ایک نظریے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں- جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’وَ اِذَا جَآءَہُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ‘‘ [6]
’’اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں‘‘-
سوشل میڈیا صارفین کو معلومات شیئر کرنے سے پہلے تحقیق اور تصدیق کرنی چاہیے تا کہ امن قائم رہے- یہ قرآنی اصول، لوگوں کو تبصروں، رپورٹس اور بیانات کی جانچ پڑتال کرنے پر زور دیتا ہے- قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کسی بھی شخص سے متعلق بلاوجہ تحقیق اور غیر ضروری معلومات کے حصول سے بھی منع فرمایا ہے، تاکہ لوگوں کی عزت و وقار قائم اور محفوظ رہے- جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
’’ وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ‘‘[7]
’’اور جس بات کا علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑو‘‘-
قرآن مجید میں اللہ پاک نے نا صرف لوگوں کو ضابطہ حیات بتائے بلکہ بہت سارے معاملات پر سخت تنبیہ بھی فرمائی- جو لوگ ابلاغ عامہ اور سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ باتیں کرتے ہیں، قرآن کریم ان پر سخت موقف اختیار کرتا ہے- انفلونسرز جو رائے عامہ کی تشکیل کرتے ہیں ان کے متعلق قرآن کریم بنیادی اصول وضع کرتا ہے- جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ‘‘[8]
’’اے ایمان والو! تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو تم نہیں کرتے؟‘‘
اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بہت غصے اور ناراضگی کا باعث ہے کہ انسان زبان سے جو بات کرے، اس پر خود عمل نہ کرے، یہ منافقت کی علامت ہے- موجودہ دور میں جہاں سوشل میڈیا کا استعمال بہت بڑھ چکا ہے،تو ہر فرد پر لازم ہے کہ حق اور سچ بات کہے- ایسی لغو گوئی سے گریز کرے جس کے متعلق وہ خود جانتا نہ ہو اور بنیادی طور پر قرآن کریم کی رو سے بات کہنے اور دوسروں کی اصلاح کا حق بھی اسے حاصل ہے جو خود عمل کرتا ہو اور اس کا وہ عمل تابع قرآن کریم و شریعہ ہو- جیسا کہ مزید فرمایا:
’’کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ‘‘[9]
’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سخت نا پسندیدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں‘‘-
ڈیجیٹل فتنوں نےمعاشرتی اکائیوں کو نا صرف توڑا بلکہ دراڑوں کو مزید گہرا کر دیا ہے- لوگوں کے رجحانات اور طرز عمل قرآن و سنت کے منافی نظر آتے ہیں- جس کا اظہار ان کے رویوں سے واضح ہے- عدم برداشت، صلہ رحمی، بھائی چارہ، شفقت، مہربانی، عنایت و غنایت سے عاری افرادی قوت سوائے مادی جسموں کے کسی اہمیت کے حامل نہیں- کیونکہ انسانی معاشرہ اپنی قدرتی اقدار پر جیتا ہے- جس معاشرے میں جھوٹ، فریب، دغا بازی اور چور بازاری سر عام ہو، ان کیلئے قرآن کریم میں سخت وعید آئی ہے اور اللہ پاک نے سخت پکڑ کا ذکر کیا ہے- مزید برآں، اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
’’اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا‘‘[10]
’’بیشک کان،اور آنکھ، اور دل، ان سب سے (روز قیامت) سوال کیا جائے گا‘‘-
قرآن کریم کی تعلیمات کیونکہ ہر دور کیلئے یکساں قابل عمل ہیں تو اکیسویں صدی کے حالات کا جائزہ بتاتا ہے کہ اس وقت ہمیں قرآن کریم سے مستفید ہونے کی اشد ضرورت ہے- بریکنگ نیوز پریکٹس اور سماجی رابطوں کے ذرائع جس انداز میں انفارمیشن کے ساتھ کھیل رہے ہیں ہمیں مندرجہ بالا آیت سے سبق حاصل کرنا چاہیے- قرآن کریم کے یہ احکامات فرد کی اصلاح کا بنیادی ماخوز تصور کیے جا سکتے ہیں جو ضابطہ حیات کا بنیادی فریم ورک فراہم کرتےہیں-
انسانی طرز عمل میں، حق گوئی ، شستہ انداز گفتگو اور حسن کردار، وہ بنیادی نکات ہیں جو شخصیت کا ڈھانچہ ترتیب دیتے ہیں- سچائی، شفافیت اور ادب ِگفتار کے متعلق قرآن کریم نے انتہائی خوبصورت انداز میں رہنمائی فرمائی ہے- جس میں ارشاد ربانی ہے:
’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا‘‘[11]
’’ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرواور سیدھی بات کہو‘‘-
اس کا مطلب ہے کہ ہمیشہ سچ بولو، حق بات کہو، نیکی کا حکم دو، برائی سے روکو اور ایسی بات کرو جو درست اور صحیح ہو اور جوتمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب دِلائے اور تمہارے اعمال سنوار دے- اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ کھلے یا چھپے، اپنے تمام احوال میں تقویٰ کا التزام کریں اور درست بات کہیں- دین متین میں حسن گفتار پر بہت زور دیا گیا اور قرآن کریم مختلف مقامات پر اس کی دلالت پیش کرتا ہے-
جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
’’وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ‘‘ [12]
’’اور میرے بندوں سے کہہ دیجیئے کہ وہ بہترین بات کریں‘‘-
آیت مبارکہ کے اس حصہ میں اللہ پاک نے اپنے محبوب کریم(ﷺ) سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ وہ لوگ جو مجھ پر ایمان رکھتے ہیں، وہ جو مجھے چاہتے ہیں اور وہ جو میرے احکامات کے پابند ہیں انہیں کہہ دیجئے کہ اچھی بات کہیں- اس کا وجہ تسمیہ آیت کے اگلے حصہ میں اللہ پاک نے وضاحت کےساتھ فرمایا:
’’ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَہُمْ ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا‘‘[13]
’’بیشک شیطان ان کے درمیان فساد ڈالتا ہے، بیشک شیطان انسان کا کھلا دُشمن ہے‘‘-
یہ اللہ پاک کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور احسان عظیم ہے کہ اس نے انہیں بہتر اخلاق، اعمال اور اقوال کا حکم دیا ہے، جو دنیا و آخرت کی سعادت کے موجب ہیں- ذکر الٰہی، حصول علم، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، یہ وہ سارے عوامل ہیں جو لوگوں کے ساتھ ان کے حسب مراتب اور حسب منزلت پیش آنے پر زور دیتے ہیں- اچھی بات ہمیشہ خلق جمیل اور عمل صالح کو دعوت دیتی ہے- اس لئے جسے اپنی زبان پر اختیار ہے اس کے تمام معاملات اس کے اختیار میں ہیں- قرآن کریم کی اس آیت کے مطابق، شیطان بندوں کے دین و دُنیا کو خراب کر کے ان کے درمیان فساد پھیلانا چاہتا ہے-اس فساد سے بچاؤ کا حل یہ ہے کہ بُری باتوں میں شیطان کی پیروی نہ کریں اور آپس میں نرم رویہ اختیار کریں تاکہ شیطان کی ریشہ دوانیوں کا قلع قمع ہو جو ان کے درمیان فساد کا بیج بوتا رہتا ہے-اس لئے شیطان انسان کا کھلا اور حقیقی دُشمن ہے جس کے خلاف جنگ لازم ہے- امن عامہ کا تعلق انسانی رشتوں اور معاشرتی اقدار سے ہے- اگر لوگوں میں بات سننے، بات سمجھنے اور بات کہنے کا سلیقہ ہے تو امن عامہ کو کوئی خطرہ نہیں- اسی نکتے کی طرف قرآن کریم نے کچھ یوں رہنمائی فرمائی ہے کہ:
’’وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ‘‘[14]
’’اور فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے‘‘-
قرآن کریم ایک ہمہ گیر اخلاقی نظام فراہم کرتے ہوئے، غلط معلومات، کردار کشی، پروپیگنڈے، رائے عامہ کے بگاڑ اور سوشل میڈیا کی بے راہ روی کے اسباب کا تدارک کرتا ہے- قرآن کریم کا اخلاقی وژن آج کے ڈیجیٹل ایتھکس سے نہ صرف ہم آہنگ ہے بلکہ عالم انسانیت کو درپیش مسائل کا حل پیش کرتے ہوئے اِخلاقی فریم ورک بھی مہیا کرتا ہے:
- جس کا پہلا حصہ صدق ہے یعنی معلومات کی سچائی اولین ترجیح ہونی چاہئے -
- دوسری چیز تحقیق ہے کہ اشاعت سے قبل اسے ہر زاویے سے پرکھ لیا جائے -
- تیسری چیز احسان ہے کہ جس میں بھلائی اور خیر خواہی شامل ہو ، انفرادی و اجتماعی نقصان سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہو -
- چوتھی چیز تعاون ہے ، کہ نیکی اور تقویٰ کے مد نظر ایک مشترکہ ذمہ داری کا احساس ہے اور معاشرے میں اصلاح کا فروغ بھی اس کی ذیل میں آتا ہے -
سوشل میڈیا کے عدم استحکام اور انتشار ی منظر نامے میں قرآن کریم کا کردار ایک مضبوط اخلاقی اینکر کی حیثیت رکھتا ہے-
حاصل کلام:
مندرجہ بالا تمام فرموداتِ الٰہی اس بات کی دلالت پیش کرتے ہیں کہ ، دور جدید میں درپیش تمام مسائل کا حل قرآن مجید کی تعلیمات کے اپنانے میں ہے، چاہے وہ انفرادی سطح پر ہو یا اجتماعی سطح پر- قرآن کریم ہر فرد کی عزت و وقار کا احترام سکھاتے ہوئے ، نفرت انگیز تبصروں اور ڈیجیٹل ہراسگی سے بچاؤ کے لئے ایک اخلاقی معیار فراہم کرتا ہے- جس کے مطابق احترام اور عدل کا دامن ہاتھ نہیں چھوٹنا چاہیے- قرآن کریم کے مندرجہ بالا اخلاقی ضابطے، معلومات کے تدارک، ذمہ دارانہ گفتار، سچائی کی ترویج اور سماجی تعاون کے فروغ میں عملی رہنمائی فراہم کرتے ہیں- ان نظریات کی روشنی میں نصوصی تفاسیر، عملی اصول، پالیسی تجاویز اور تحقیقی سفارشارت مرتب کی جا سکتی ہیں- قرآن کریم کے’’تحقق‘‘ کے تصور کو سوشل میڈیا کے فیکٹ چیکنگ عمل میں لاگو کرتے ہوئے بہترین طریقہ کار مرتب کیا جا سکتا ہے-
تاہم! قرآنی تعلیمات افرادی سطح، ادارتی سطح اور تکنیکی سطح پر تحمل، برداشت، رواداری، شواہد طلبی اور مفاہمت کے عملی اقدام پر زور دیتی ہیں-بعینہ! شفاف رپورٹنگ اور بہتر انویسٹیگیشن میکانزم کے ساتھ سچائی کے معائنہ کار (Fact Checkers) کی شمولیت سے نظام میں بہتری لائی جا سکتی ہے- نفرت انگیز اور جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف مناسب قانونی چارہ جوئی بھی سماجی ترقی میں کردار ادا کر سکتی ہے- افرادی سطح پر ہر سوشل میڈیا یوزر کو،کوئی بھی پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے ان سوالات کا جواب تلاش کرنا چاہیے:
1- پوسٹ کا ماخذ کیا ہے؟
2- کیا یہ واضح ثبوتوں پر مبنی ہے؟
3- کیا اس کا اشتراک نقصان تو نہیں پہنچائے گا؟
4- کیا میرا رویہ معاشرتی مفاد میں بہتر ہے؟
جبکہ ادارتی سطح پر تعلیمی مہمات اور مذہبی سکالرز کی جانب سے تحقیق کے ’’قرآنی معیارات‘‘جاری کرنے چاہیے اور تکنیکی سطح، پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو شفافیت اور مربوط نظام کے ذریعے فیک نیوز پیٹرنز کی شناخت کے لئے اخلاقی الگورتھم ترتیب دینے چاہئیں- قرآن کریم! بدگمانی سے بچنے کی نصیحت کرتے ہوئے، آن لائن افواہوں کو قبول نہ کرنے، ہیش ٹیگز یا ریلز میں جذباتی عبارتیں کم کرنے اور صارفین کو ’’احتیاطی اشتراک‘‘کی عادت ڈالنے پر رہنمائی کرتا ہے- قرآن مجید مناظروں میں نرمی، سنجیدہ دلیل کا تقاضا، مذہبی رواداری اور سماجی قائدین کے ثالثی کردار اور نفرت انگیز مواد کی تشہیر کو روکنے پر زور دیتا ہے-
قرآن مجید کے اخلاقی اصول عملاً معلوماتی دور میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہیں- ڈیجیٹل الگورتھمز کی غیر شفافیت، میڈیا کارپوریٹس کے تجارتی مفادات اور عوامی سطح پر علمی و تربیتی خلا ،معاشرتی اقدار کو توڑتا چلا جا رہا ہے- قرآن کریم کا اخلاق صرف انفرادی اصلاح پر ہی نہیں بلکہ اجتماعی و سماجی اصلاح پر بھی زور دیتا ہے- لہٰذا پالیسی، تعلیم اور تکنیکی ڈیزائن، تینوں میں یکساں توجہ ضروری ہے- اس کیلئے مذہبی رہنماؤں، پالیسی سازوں، تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے باہمی اشتراک و تعاون کی ضرورت ہے- قرآن کریم کا کردار ہدایتی، تربیتی اور اصلاحی- تینوں حوالوں سے مفید ہے-
٭٭٭
حواشی:
• تفسیر ابن کثیر
• تفسیر طبری
• روح المعانی
• MIT Media Lab. The Spread of True and False News Online (2023)
• Oxford Internet Institute. Global Disinformation Report (2024)
• Pew Research Center. Social Media & Society (2024)
[1](الحجرات:6)
[2](الحجرات:12)
[3](الہمزہ:1)
[4](الحجرات:12)
[5](البقرۃ:42)
[6](النساء: 83)
[7](الإسراء:36)
[8](الصف:2)
[9](الصف: 3)
[10](الاسراء: 36)
[11]( الاحزاب: 70)
[12](الاسراء: 53)
[13](الإسراء: 53)
[14](البقرۃ:191)