اقتباس

اقتباس

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

’’بے شک جنہوں نے قرآن کے ساتھ کفر کیا جب کہ وہ اُن کے پاس آچکا تھا (تویہ اُن کی بد نصیبی ہے) اور بے شک وہ (قرآن) بڑی باعزت کتاب ہے-باطل اِس (قرآن) کے پاس نہ اس کے سامنے سے آسکتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے، (یہ) بڑی حکمت والے، بڑی حمد والے (رب) کی طرف سے اتارا ہوا ہے‘‘- (حم السجدہ:41-42)

 رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

حضرت عبد اللہ بن مسعود(رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:’’حسد(رشک )صرف دو آدمیوں میں کیا جائے، ایک وہ شخص جس کو اللہ عزوجل نے مال دیا اوروہ ا س کو اللہ تعالیٰ کے راستے  میں خرچ کرے،دوسراوہ شخص جس کو اللہ عزوجل نے حکمت عطافرمائی ہو اور وہ اس حکمت (علم ) کے مطابق فیصلہ کرے اور لوگوں کو تعلیم دے‘‘- (صحيح البخاری،كِتَابُ العلم)

فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :

’’ اللہ تعالیٰ کے اخلاق سے مزین ہو جانا اس وقت تک میسر نہیں آتا جب تک اس ذات کی متابعت نہ ہو جو اس کے اخلاق کی کامل ومکمل جامع ہے اور اخلاق باری تعالیٰ سے مکمل مزین ہونے والے حضرات میں ہمارے پیغمبر (ﷺ) سب سے زیادہ کامل ہیں اورآقا کریم (ﷺ) جو اخلاقِ الٰہیہ سے بہ طریقیہ اکمل متصف ہیں کے اخلاق سے متصف اس وقت تک نہیں ہوا جا سکتا جب تک اس کتاب کو راہنما نہ بنایا جائے جو اللہ تعالیٰ کے تمام اخلاق کی جامع ہے اور آپ (ﷺ) کےمرتبہ پرنازل کی گئی ہے ‘‘- (تفسیر جیلانی)

فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:

ت: تَن مَن یار مَیں شہر بنایا دِل وِچ خاص مَحلّہ ھو
آن اَلِف دِل وَسوں کِیتی میری ہوئی خُوب تَسلّہ ھو
سَب کُچھ مَینوں پِیا سُنیوے جو بولے مَاسوی اللہ ھو
دَرد منداں ایہہ رَمز پِچھاتی باھوؒ بِے دَردَاں سِر کھُلّہ ھو (ابیاتِ باھو)

فرمان قائداعظم محمد علی جناح ؒ :

ایمان ، اتحاد، تنظیم

’’ہمارے رسول پاک (ﷺ) کا حکم ہے کہ ہرمسلمان کے پاس قرآنِ حکیم کانسخہ ہونا چاہیے اور اسے اپنا عالِم خود بننا چاہیے (قرآن کریم سے صحیح ہدایت حاصل کر کے )- لہٰذا اسلام محض روحانی عقائد اور ایمان یا رسومات تک محدود نہیں ہے یہ ایک مکمل ضابطہ ہے جو پورے مسلم معاشرے کی اجتماعی اور انفرادی زندگی کو اپنے اصولوں  پر کار بند کرتا ہے ‘‘- (ڈھاکہ ،24 مارچ،1948ء) 

فرمان علامہ محمد اقبالؒ:

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے ، حقیقت میں ہے قرآن!
فطرت کا سرود ازلی اس کے شب و روز
آہنگ میں یکتا صفت سورۂ رحمن (ضربِ کلیم)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر