سوشل میڈیا اور اخلاقیات: سورۃ الحجرات سےچنداہم اسباق

سوشل میڈیا اور اخلاقیات: سورۃ الحجرات سےچنداہم  اسباق

سوشل میڈیا اور اخلاقیات: سورۃ الحجرات سےچنداہم اسباق

مصنف: صاحبزادہ سلطان احمد علی فروری 2026

قرآنِ کریم محض ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ انسانیت کیلئے رہتی دنیا تک رہنمائی فراہم کرنے والا ایک جامع ضابطۂ حیات ہے- بدلتے زمانے، نئی فکری جہتوں اور نت نئے سماجی چیلنجز کے باوجود قرآن کریم کی ہدایات اپنی معنوی وسعت اور فکری گہرائی کے باعث آج بھی اسی طرح مؤثر اور قابلِ اطلاق ہیں جیسے نزول کے وقت تھیں- موجودہ عہد، جسے سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت(AI)کا دور کہا جاتا ہے اور اس دور نے انسان کے فکری، اخلاقی اور نفسیاتی ڈھانچے کو نہ صرف غیر معمولی طور پر متاثر کیا ہے بکہ نئی آزمائشوں سے دو چار بھی کر رہا ہے- معلومات کی فراوانی، سچ اور جھوٹ کی آمیزش اور اخلاقی ابہام ایسے مسائل ہیں جن کا سامنا آج کا فرد روزانہ کی بنیاد پر کر رہا ہے- ایسے میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ ہم قرآن کریم میں غور و فکر کریں، اس کے آفاقی اصولوں میں غوطہ زن ہوں اور جدید اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کیلئے رہنمائی حاصل کریں، تاکہ ٹیکنالوجی کے باعث ہونے والی تیز رفتار ترقی ، اخلاقی زوال کی طرف بہا لے جانے کی بجائے فکری ارتقا اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا ذریعہ بنے-قرآن مجید کی ہر سورت اور آیت کلام الہٰی ہونے اور آقا پاک (ﷺ) پر نزول کے باعث اپنی منفرد شان اور خصوصیت کی حامل ہے - سورت الحجرات پر بھی اسی تخصص کا اطلاق ہوتا ہے جو اس سورت مبارکہ کی نمایاں حیثیت کو اجاگر کرتا ہے - سورۂ الحجرات مدنی سورت ہے ترتیب کے اعتبار سے یہ قرآنِ مجید کی 49 ویں سورت مبارکہ ہے جو 2 رکوع اور 18 آیات کریمہ پرمشتمل ہے- اسی سورت کی پہلی 5 آیات کریمہ کا بنیادی اور اولین درس آقائے نامدار حضرت محمد (ﷺ) کے ادب، تعظیم اور اطاعت سے وابستہ ہے، جہاں آواز، رائے اور عمل سب کو مقامِ رسالت کے تابع کیا گیا ہے- پھر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ہر خبر پر یقین کر لینا اور اس پر کوئی کارروائی کر گزرنا مناسب نہیں ہے- اگر کسی شخص یا گروہ یا قوم کے خلاف کوئی اطلاع ملے تو غور سے دیکھنا ، پرکھنا چاہیے کہ خبر ملنے کا ذریعہ قابل اعتماد ہے یا نہیں- قابل اعتماد نہ ہو تو اس پر کارروائی کرنے سے پہلے تحقیق کر لینا چاہیے کہ خبر صحیح ہے یا نہیں- خبر کی تحقیق کر لینے کے احکامات دینے کے بعد اس سورت مبارکہ میں ایک بار پھر آقا پاک (ﷺ) کی موجودگی کو مشکلات سے بچاؤ اور باعث ِ برکت ہونے کا اللہ عزوجل کی طرف سے اعلان فرمایا گیا ہے- اس کے بعد مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو اس صورت میں عدل کے ساتھ صلح کروانے ، ظالم کے خلاف متحد ہو کر لڑنے اور رجوع کی صورت میں صلح کو ترجیح دینے کے احکامات ہیں اور مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا ہے- پھر مسلمانوں کو ان برائیوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے جو اجتماعی زندگی میں فساد برپا کرتی ہیں اور جن کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں- ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، ایک دوسرے پر طعن کرنا، ایک دوسرے کے بُرے بُرے نام رکھنا، بد گمانیاں کرنا، (برائی کےساتھ) مذاق اڑانا، دوسرے کے حالات کی کھوج کرید کرنا، لوگوں کو پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرنا گویا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا، یہ وہ افعال ہیں جو ازخود بھی گناہ ہیں اور معاشرے میں بگاڑپیدا کرنے کے اسباب بھی ہیں- پھر نسلی تفاخر کی نفی اور ایک آدم و حوا سے پیدا کرنے اور قبائل و قوموں کو شناخت کا ذریعہ ہونے کا بیان ہے نہ کہ تفاخر کا بلکہ اللہ  تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ وہ ہے جو متقی ہے - ایمان و اسلام لانے کا فرق بیان کیا گیا ہے تاکہ اسلام دلوں میں راسخ ہو کر ایمان کی روشنی سے قلوب و اذہان کو جلا بخشے اوراہل ایمان کی نشانی بیان کی گئی کہ انہوں نے اپنی جان و مال سے جہاد کیا شک میں نہ پڑے - آخر میں بیان کیا گیا کہ اللہ کو دین داری نہ جتلاو بلکہ اللہ کا احسان مانو کہ اس نے ایمان کی راہ دکھائی - بے شک اللہ سب غیب جانتا ہے اور جو کچھ کیا جاتا ہے اس سے خوب واقف ہے -

ادب و احترامِ بارگاہ ِ رسالت مآب ()

(آیت 1سے 8)

سورہ الحجرات ہمیں حکم دیتی ہے کہ آپ (ﷺ) کو عام انسان سمجھنا اور آپ(ﷺ) کے اسم گرامی کو عام انداز میں لینا قرآن  کریم کی رو سے جائز نہیں اور قرآن کریم نے ایسا کرنے سے ہمیں روکا بھی   ہے- اس لئے ہمیں احتیاط اور ادب عالی کا دامن تھام کر اور انتہائی عجز و محبت سے آقا پاک (ﷺ) کا نام ِ نامی اسم گرامی ،اپنی زبانوں اور سوچ و فکر کو ادب و احترام اور    درود و  سلام سے لبریز و تر کر کے لینا چاہیئے - ایسے نہیں کہ جیسے ہم ایک دوسرے کو پکارتے ہیں-کیا ہی خوبصورت  کہا گیا :

ہزار بار بشویم دہن بہ مشک و گلاب
ہنوز نامِ تو گفتن کمال بے ادبیست

’’ہزار بار بھی اگر میں  اپنا منہ مشک و گلاب سے دھوؤں، تو پھر بھی آپ (ﷺ)کا نام  مبارک لینا بہت بڑی بے ادبی ہے‘‘-

 خصوصاً سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کے دسترس میں آجانے کے بعد ہمیں اس مقام کی حساسیت کا ادراک ہونا چاہیئے کہ ہم کس ہستی پاک (ﷺ) کا اسم گرامی اپنی زبان سے ادا کر رہے ہیں - سورت الحجرات کی روشنی میں ہمیں آقا پاک(ﷺ) کے ’’اسم گرامی‘‘ کو بھی اس انداز سے اپنے پورے شعور کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے جو آپ (ﷺ) کے شایان شان ہے اور اس عمل کی پریکٹس ہمیں خود اور اپنے اہل و عیال سے اس انداز میں کروانی چاہیئے کہ یہ شعوری والہانہ پن ہمارے تحت الشعور اور لاشعور میں بھی اس طرح رچ بس جائے کہ اگر ہماری کیفیت بے شعوری کی بھی ہو تو آقاپاک(ﷺ) کا نام نامی اور آپ (ﷺ) کا ادب عالی ترک نہ ہو سکے - اپنی عام زندگی اور خصوصاً سو شل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے چاہے ہم لکھ رہے ہوں یا بول رہے ہوں ہمیں قرآنی احکامات کا خیال رکھنا ہو گا -

خبر کی تحقیق کرنا :

’’یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ‘‘ [1]

اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں (ناحق) تکلیف پہنچا بیٹھو، پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ-

یہ آیت کریمہ ہمیں واضح حکم دیتی ہے کہ تمہارے پاس جب کو ئی خبر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو - اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے، بنا تصدیق اس خبر پر ایکشن لینا کسی طور بھی درست عمل نہیں - سوشل میڈیا پہ بنا تحقیق چیزیں لائک یا فارورڈ کرنا بھی اسی ایکشن کے ضمن میں آتا ہے- شاید ہماری دانست میں یہ ایک چھوٹا سا عمل ہو لیکن عالمی تناظر میں، جہاں جھوٹی خبروں بلکہ جھوٹی خبروں کی باقاعدہ صنعت نے، کردار کشی، نفرت انگیز بیانیے اور ڈیجیٹل ہجوم (digital mob) نے معاشرتی ہم آہنگی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے، وہاں یہ چھوٹا سا عمل یہ لائک یہ شئیر جانے یا انجانے میں ہمیں نفرت انگیز بیانیے کی آگ کا ایندھن بناتا ہے، کردار کشی و بہتان کا موجب بناتا ہے، جھوٹوں کا آلہ کار بناتا ہے اور سب سے بڑھ کر قرآنی احکامات سے رو گردانی کرنا سکھاتا ہے -

قرآن کریم سکھاتا ہے کہ خبر کی تحقیق کرنی ہے اگر کوئی فاسق خبر لائے تو اس پر تحقیق کے بغیر یقین نہیں کرنا اور نہ ہی اس کے حوالے سے کوئی ایکشن لینا ہے- قرآن  کریم کا یہ آفاقی حکم آج بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے جیسے کہ 1400 سال پہلے، بلکہ ہماری دانست میں آج اس کے اطلاق کی ضرورت زیادہ ہے کیونکہ آج ہر کس و ناکس کے پاس کم از کم اتنا اختیار ضرور ہے کہ وہ اس خبر کو پھیلا سکے اس کے لئے سوشل میڈیا کے کم ازکم دو پلیٹ فارمز تک رپورٹس کے مطابق پاکستان کے ہر تیسرے آدمی کی رسائی ممکن ہے- پاکستان میں 75 فیصد آبادی موبائل فون کا استعمال کر رہی ہے جن میں سے تقریباً 32 فیصد سوشل میڈیا صارف ہیں - جبکہ دوسری طرف جھوٹی خبریں یا مس انفارمیشن کے متعلق سٹیٹ اسٹا فروری 2024ء کی رپورٹ[2] میں جو مغرب میں ہوئی کہتا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران سوشل میڈیا صارفین نے سیاست سے متعلق 36 فیصد کووڈ-19 سے متعلق 30 فیصد، معیشت سے متعلق 28 فیصد خبریں اور پوسٹس سچ پر مبنی نہیں تھیں کا سامنا کیا-

اسی طرح جولائی 2025ء میں ٹیکساس کے سیلاب اور طوفان کے حالات میں جو خبریں اور پوسٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں ان کے بارے میں ایک تحقیقی گروپ سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ (CCDH) نے اپنی رپورٹ[3] میں کہا کہ سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارم شدید موسمی واقعات کے بارے میں غلط معلومات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور ہنگامی ردعمل کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، یاد رہے کہ اس رپورٹ کے نتائج کو پاکستان سمیت دنیا پھر کے بڑے میڈیا سنٹرز نے اخبارات میں شائع کیا ہے -سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ (CCDH) کی رپورٹ، جس نے قدرتی آفات بشمول ٹیکساس کے مہلک سیلاب کے دوران تین سرکردہ پلیٹ فارمز میں سے ہر ایک پر 100 وائرل پوسٹس کا تجزیہ کیا - رپورٹ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ ان کے الگورتھم کس طرح جان بچانے والی معلومات کو نظرانداز کرتے ہوئے سازشی تھیوریسٹوں کو بڑھاتے ہیں- آگے چل کر یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ مصدقہ اکاونٹس (ویریفائڈ) سے موسمی حالات کے بارے میں ایکس کے 88فیصد ، یوٹیوب کے 73فیصد اور میٹا کے 64 فیصد سے جھوٹے دعووں پر مبنی پوسٹس کو شیئر کیا گیا - کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر مصدقہ اکاونٹ ہونے سے خبر یا واقعہ کو درست مان لینا کافی نہیں، بلکہ اس کے متعلق ہمیں خود بھی تحقیق کرنی چاہیئے -ہم اپنے عمل کے جوابدہ خود ہیں اس عمل کا حساب ہم سے کیا جائے گا اور اس صورت میں جب یہ رہنمائی ہمارے پاس 1400 سال سے موجود ہے اور ساتھ حصول علم ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے تو ہمیں کسی بھی خبر ، کسی بھی پوسٹ اور بات کو پھیلانے سے پہلے خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہوئے اس بات کے متعلق مختلف ذرائع سے تصدیق کرنی ضروری ہے اور خصوصاً اگر ہمارا اکاونٹ مصدقہ ہے تو اس صورت میں یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے- یہ معاملہ مصدقہ اکاونٹس پر ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ AI سے تخلیق کردہ سیلیبریٹیز اور مواد تک جا پہنچتا ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مصنوعی افراد و کردار کو بنایا گیا جس کا مقصد پہلے پہل تو کاروبار کی وسعت اور خرچ کو کم کرنا ہے لیکن اس سے معاشرے ، کلچر اور اقدار کو بھی تبدیل کیا جانے کا خطرہ ہے اس لئے بحیثیت مسلمان ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت سوشل میڈیا کا استعمال اور جھوٹی خبروں کو پھیلانے کی صنعت اپنے عروج پر ہے - اب ڈیٹا فروخت ہوتا ہے بیانیہ بنانے کے لئے خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے اور سوشل میڈیا کی چکاچوند سے اندھے پن میں گھرے عوام و خواص کے لائک ، شئیر اور ویوز سے پیسہ کمایا جاتا ہے- ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم جانے انجانے میں اس کا شکار تو نہیں ہو رہے - عصر حاضر میں ہم تہذیبوں کے تصادم سےمعاشرے میں بیانیے کی جنگ تک آ پہنچے ہیں جس کے محرکات میں فیک نیوز اور بیانیہ بنانے کی صنعت ہماری نفسیات سے خوب کھیل رہی ہے اور اس کا سب سے بڑا میڈیم یا واسطہ سوشل میڈیا ہی ہے –

سال 2025ء کے اواخر میں ’’ایکس ‘‘نے پروفائل میں لوکیشن کی ایکسس کو عام کیا ، تو کیا ہی خوب انکشافات ہوئے کہ بڑے نام اور مصدقہ اکاونٹس کا بیس کیمپ کہاں کہاں ہے - BBC کے مطابق[4] امریکی صدر سمیت دنیا کے کئی بڑے ناموں کے اکاونٹس کا تعلق اس ملک سے تھا ہی نہیں جہاں وہ آباد ہیں - سوشل میڈیا ایک مکمل سائنس ہے اور موجودہ وقت میں یہ بہت بڑی معاشی و نفسیاتی قوت ہے - یہ پلیٹ فارمز اور ان سے جڑے معاملات کئی جہتوں، تہوں اور بھول بھلیوں پر مشتمل ہیں، ہمیں کسی صورت خواہ انجانے میں ہی کیوں نہ ہو اس کا ایدھن نہیں بننا-

مسلمانوں کے مابین صلح :(آیت 9 تا 10)

سورت الحجرات کی آیت 9 اور 10 حکم دیتی ہے کہ مسلمانوں کے مابین لڑائی جھگڑے کی صورت میں ان میں صلح کرائی جائے، زبان کی ذمہ داری کا احساس کرنا ہے، اختلاف کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے، افراد و گروہوں کی عزتِ نفس کے تحفظ کا خیال کرنا ہے، عدل کو قائم کرنا ہے، ظلم کے خلاف ہونا ہے، مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ان کے مابین صلح کر وانی ہے ، اختلاف کو ختم کرنا ہےایسے مواد کی حوصلہ شکنی کرنا جو لڑائی کو بڑھائے-

اگر ہم فرقہ واریت کو اپنے معاشرے میں اور اس کے اثرات کو عالمی تناظر میں دیکھیں اور اس پر سوشل میڈیا پر اپنے طرز عمل کا جائزہ لیں تو جان جائیں گے کہ ہم سورت الحجرات کی اس آیت کے احکامات سے کوسوں دور کھڑے ہیں، ہمارے مابین اختلافات و مسائل داخلی بھی ہیں اور خارجی بھی- ان دونوں صورتوں میں ہم عدل کے سائے میں پناہ نہیں لے رہے بلکہ ہماری پسند و ناپسند کا دار و مدار ہمارے عقائد ہیں جس نے مسلم ممالک کو دو بڑے بلاکس میں تقسیم کر دیا ہے- اس مسئلہ پر توجہ دینا تو اہل اختیار کا کام ہے لیکن یہ عالمی تقسیم پھر تقسیم در تقسیم کی صورت میں ہمارے معاشروں میں پنپ رہی ہے - ہم فروعی اختلافات، منفی خیالات اور گروہی بیانیہ کو سوشل میڈیا پر پھیلائے چلے جا رہے ہیں - ہم اس موادکی حوصلہ شکنی نہیں کر رہے جو اختلافات کا باعث ہے - صلح جوئی کی بجائے اختلافات کو مزید ہوا دی جا رہی ہے- مسئلہ فلسطین ہو یا کشمیر ، عرب دنیا کے حالات ہوں، یا شام،مصر ، عراق و لیبیا کے قیامت خیز منظر ہوں یا افریقہ میں مسلم ممالک کے معاملات ، یا  جہاں  بھی  دنیا میں کلمہ پڑھنے والے  سانس لے رہے ہیں ،  بلکہ  اسلام پہ رہتے ہوئے سانس لینے کو بھی   مشکل بنایا جا رہا ہے ، یہ  اتنے سنگین حالات پیدا ہونے کی وجہ کی طرف  حکیم الامت  علامہ اقبال  نے اشارہ دیا کہ ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہو کر -

 سماجی برائیوں سے ممانعت:

 ( آیت 11 تا 12)

سورت الحجرات کی یہ آیات مقدسہ ہمیں حکم دیتی ہیں کہ اللہ  تعالیٰ سے ڈرنا ہے اور اپنے گمان اور سوچ کو مثبت رکھنا ہے- کسی قوم کا مذاق نہیں اڑانا، طعنہ زنی نہیں کرنی اور خصوصاً عورتوں کو مخاطب کیا گیا ہے کہ دوسری عورتوں کو طعنہ نہ دیں ، طعنہ زنی اور الزام تراشی اور برے نام رکھنے سے باز رہنا ہے-اہل ایمان کو فاسق اور بد کردار نہ کہیں اور جو توبہ نہیں کرتے وہ ظالم ہیں - بدگمانی سے بچنے کا حکم ہے عیبوں کی جستجو کی ممانعت کی گئی اور پیٹھ پیچھے برائی کرنے کو اپنے فوت شدہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر قرار دیا گیا ہے یعنی اپنے فوت شدہ بھائی کا گوشت اتار کر نہیں کھانا -

اس کے برعکس سوشل میڈیا کے ٹرینڈ ہمیں کوئی اور کہانی سناتے ہیں - یہاں خبر پھیلانے کی جلدی ہوتی ہے، تحقیق کا وقت نہیں ہوتا، زبان کی ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو برے ناموں سے پکارا جاتا ہے بلکہ اس پر فخر محسوس کیا جاتا ہے، میمز بنائی جاتی ہیں، الزام تراشی ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر اختلاف کرنے والے کو نشان عبرت بنایا جاتا ہے- عیب تلاش کیے جاتے ہیں، نہ بھی ہوں تو  فرضی تیار کر  لئے جاتے ہیں ، گروہی عصبیتیں ان عیبوں کو اچھالنے میں معاون و مدد گار ثابت ہوتی ہیں یعنی ہم اپنے فوت شدہ بھائی کا گوشت نوچ کھانے کو آمادہ بیٹھے ہیں اور اس پر فاخر بھی ہیں -

انسانی مساوات اور تقوٰی:( آیت 13)

یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ  میں نے تمام انسانوں کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا فرمایا ہے اور ان کے قبائل پہچان کے واسطے ہیں نہ کہ نسلی تفاخر اور صاحب عزت ہونے کے-ہاں اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت کا معیار تقوٰی یعنی خوف خدا ہے مطلب کہ ہر عمل میں رضائے الٰہی کے حصول کی تمنا کا ہونا،آیت کے آخری حصے میں اللہ  تعالیٰ ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ الخبیر ہیں اور ہر خبر کو جانتے ہیں - یہاں یہ حکم ملتا ہے کہ قبیلے پہچان کا ذریعہ ہیں نہ کہ نسلی تفاخر و تعصب پھیلانے کیلئے مطلب صوبائی و لسانی تعصب کی نفی کرنی ہے-اس کا اطلاق ہماری زندگی کے ہر شعبے میں ہوتا ہے -خواہ وہ عام زندگی ہو یا ورچوئل اسٹیٹ میں -بہرصورت اس تعصب سے اپنے آپ کو پاک رکھنا ہے خصوصاً سوشل میڈیا پر لسانی و علاقائی تعصب کی بھر مار ملتی ہے یہاں اپنے ان جذبات کے اظہار کا عمل آسان ہے اور خاندانی،لسانی و علاقائی عصبیت کی بنیاد پر معاونت و مدد کی نفسیاتی سپورٹ بھی حاصل ہے لیکن عدل کے دامن کو تھامے رکھنا اور حقائق اور تحقیق سے منزا ، بات کو ہی سراہنا ہے -

ایمان اور اسلام کا فرق: ( آیت 14 تا 18)

سورت الحجرات کی یہ آیات اسلام لانے اور ایمان کے دلوں میں راسخ ہونے کے فرق کو انتہائی واضح انداز میں بیان کرتی ہیں - جب کچھ اعرابیوں نے اپنے آپ کو اہل ایمان میں سے کہا تو حکم ہوا کہ ان کو فرما دیجیئے کہ یہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں ابھی اہل ایمان نہیں ہوئے - اہل ایمان کی نشانی بتاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اہل ایمان وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) پر ایمان لائے، پھر شک میں نہ پڑے، انہوں نے اپنے جان و مال کے ساتھ جہاد کیا، یہی لوگ سچے ہیں - لوگ اللہ پر اپنی دین داری جتلاتے ہیں اور آپ (ﷺ) پر احسان جتلاتے ہیں کہ وہ اسلام لائے ، حالانکہ یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ان کو ایمان کی راہ دکھائی - اللہ ہر بات جانتا ہے، غیب کا علم رکھتا ہے اور تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے-

سورۃ الحجرات کی آیات واضح کرتی ہیں کہ ایمان محض زبان سے کہہ دینے کا نام نہیں بلکہ دل میں راسخ ہونے اور عمل میں ظاہر ہونے والی حقیقت ہے-ڈیجیٹل دور میں یہ تعلیم ہمیں خاص طور پر جھنجھوڑتی ہے- آج مذہبی پوسٹس شیئر کرنا، قرآنی آیات کو اسٹیٹس بنانا اور اسلامی نعروں کو پروفائل کی زینت بنانا عام ہو چکا ہے، مگر اسی کے ساتھ نفرت انگیزی، کردار کشی اور بداخلاقی بھی دکھائی دیتی ہے- سورۃ الحجرات کی یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ایمان صرف دعویٰ نہیں، کردار ہے- اگر آن لائن دینداری اخلاق، برداشت اور عدل سے خالی ہو تو وہ تقویٰ نہیں بلکہ منافقت کی صورت اختیار کر لیتی ہے- قرآن  کریم کا پیغام یہی ہے کہ ایمان کا اصل امتحان گفتار میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتا ہے-تشکیک ایک بہت موذی مرض ہے - یقین، دولت ایمان ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی نشانیوں میں جان و مال سے جہاد اور شک میں نہ پڑنے کو قرار دے رہے ہیں - عہد حاضر  میں حصول علم و فضل اور پھر اس علم و فضل کو سوشل میڈیا پر الحاد کے خلاف استعمال کرنا - یقیناً قلمی جہاد ہے لیکن اس کے اصول، زبان و دلیل کا استعمال ہمیں قرآنی اخلاقیات کے آفاقی اصولوں کے عین مطابق کرنا ہے - اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت  کے ذریعے علمی و عقلی دلائل کو فروغ دینا ہے جو شک کے مواد کا قلع قمع کرنے میں معاون ہو- یقین، تشکیک کے دور میں جزو ایمان ہے، ہمیں ایمان پر یقین کے ساتھ ثابت قدم رہنا ہے-

حاصل کلام :

سورۂ الحجرات ایک ایسا فکری منشور پیش کرتی ہے جو منشور فرد کو محتاط، باوقار اور ذمہ دار ابلاغ کا پابند بناتا ہے اور معاشرے کو انتشار، بداخلاقی اور اخلاقی انارکی سے محفوظ رکھنے کی راہ دکھاتا ہے- حاصل کلام یہ ہے کہ آج کے ڈیجیٹل عہد میں، بالخصوص پاکستان جیسے معاشروں میں جہاں سوشل میڈیا رائے سازی، تعلقات اور تنازعات کا طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، سورۂ الحجرات کی تعلیمات ایک ہمہ جہت اخلاقی فریم ورک فراہم کرتی ہیں- سورت الحجرات کے احکامات ہم سے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی کریم (ﷺ) کے نام، ذات اور اسوہ کے حوالے سے ہر قسم کی بے احتیاطی، غیر ذمہ دارانہ اور عمومی پن سے اجتناب کریں-یہ ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو حضور (ﷺ) کی محبت، سیرت کے درست تعارف اور ادب و وقار کے فروغ کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ اختلاف یا انتشار کا- اسی طرح ہمیں بات پھیلانے اور اس پر یقین کر نے سے پہلے خبر کی تحقیق اور تصدیق کرنی چاہیئے، اگر وہ حقائق کی روشنی میں درست ہو اس کے بعد اس پر یقین کرنا اور اسے پھیلانا چاہیے- سورت الحجرات ہمیں بد گمانیوں سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے ہمیں یہ سوچنا ہے کہ کیا ہمارے گمان، سوچیں اور خیالات مبنی بر حقائق ہیں یا ہم ڈیجیٹل موب کے گڑھے بیانیہ کی بھیڑ چال کا شکار ہیں- یہ تمام کام جو ہمیں سوشل میڈیا پر نظر آتے ان کا آغاز ایک لائک اورشیئر سے ہوتا ہے یہ سورہ الحجرات کے احکامات اور اصولوں کی نفی ہیں- یہ اصول سوشل میڈیا کے بے مہار استعمال کے باعث مجروح ہو رہے ہیں - سورت الحجرات نے ہمارے لئے سوچنے اور سمجھنے کے در کھول دئیے ہیں ہمیں اپنے معاشرےاور اپنی ذات کو اسلام کے قالب میں ڈھالنے کیلئے اپنی زندگی اور آخرت کو سنوارنے کیلئے سورت الحجرات کے حجرے میں پناہ لینی ہو گی-

٭٭٭


[1](الحجرات: 6)

[2]https://www.statista.com/statistics/1317019/false-information-topics-worldwide/

[3]https://www.preventionweb.net/news/meta-x-youtube-threaten-public-safety-enabling-and-profiting-false-claims-during-catastrophic

[4]https://www.bbc.com/news/articles/cj38m11218xo

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر