’’السّجود: ميل القامة إلى الأرض ‘‘
’’سجود کا لغوی معنٰی ہے ،جسم کا زمین کی جانب جھکنا-
’’و في الشرع عبارة عن: وضع الجبهة على الأرض تواضعًا لله تعالى وخضوع بين يدیہ‘‘[1]
’’سجود کا شرعی معنیٰ ہے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی وانکساری کرتے ہوئے زمین پرپیشانی رکھنا ‘‘-
آیت سجدہ اس قرآنی آیت کو کہتے ہیں جس کی تلاوت یا سماعت پرسجدہ تلاوت کرنا مشروع ہوتا ہے-سجود تلاوت کے وجوب میں اختلاف ہے-
سجدہ تلاوت کی تعداد میں مذاہب فقہاء :
امام مالک بن انس (متوفی 179 ھ) لکھتے ہیں :
’’ہمارے نزدیک عزائم سجود القرآن 11 سجدے ہیں ان میں سے مفصل سورتوں(یعنی النجم، الانشقاق اور العلق کے سجدات) میں کوئی سجدہ نہیں ہے‘‘- [2]
علامہ ابو الولید سلیمان بن خلف باجی اندلسی مالکی (المتوفی :494 ھ) لکھتے ہیں :
’’امام مالک (رضی اللہ عنہ) اور ان کے جمہور اصحاب کا یہی مذہب ہے، حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہ) کا بھی یہی قول ہے اور امام عبداللہ بن وہب نے کہا عزائم سجود القرآن 14 سجدے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ (رضی اللہ عنہ) کا قول ہے-عبد الملک بن حبیب نے کہا عزائم السجود15 سجدے ہیں انہوں نے سورة حج کا دوسرا سجدہ بھی شامل کرلیا‘‘-[3]
امام ابو اسحاق ابراہیم بن علی فیروز آبادی شافعی (متوفی: 455 ھ) لکھتے ہیں :
امام شافعیؒ کے قول جدید کے مطابق سجدات تلاوت 14سجدے ہیں اور امام شافعی کا قول قدیم یہ ہے کہ سجود تلاوت 11 سجدے ہیں‘‘-[4]
علامہ موفق الدین بن قدامہ مقدسی حنبلی (متوفی: 620 ھ) لکھتے ہیں :
’’سجدات القرآن 14 سجدے ہیں ( سورة ص کے سجدہ کے علاوہ باقی مذکورہ سجدات) ان میں سے دو سجدے الحج میں ہیں اور تین مفصل میں ہیں-امام احمد سے ایک روایت یہ ہے کہ 15سجدے ہیں‘‘-[5]
علامہ علاء الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی الحنفی (المتوفی :587 ھ) لکھتے ہیں :
’’قرآن مجید میں 14 سجدے ہیں- ان کی تعداد میں دیگر فقہاء سے ہمارے آئمہ احناف کے تین اختلاف ہیں:
- پہلا اختلاف یہ ہےکہ امام شافعی، امام احمدبن حنبل اور بعض فقہاء مالکیہ کے نزدیک سورة الحج کا دوسرا سجدہ ’’ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا‘‘[6]بھی سجدہ تلاوت ہے- اور ہمارے نزدیک وہ نماز کا سجدہ ہے‘‘-سجدہ تلاوت نہیں ہے-
- دوسرا اختلاف اس میں ہے کہ سورة ص کا سجدہ ہمارے نزدیک سجدہ تلاوت ہے اور امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک وہ سجدہ شکر ہے-
- تیسرا اختلاف یہ ہے کہ ہمارے نزدیک مفصل (النجم، الانشقاق، العلق) میں 3 سجدے ہیں، اس میں امام مالک کا اختلاف ہے- ہماری دلیل حضرت عمران بن حصین کی حدیث ہے جس میں یہ تصریح ہے کہ مفصل میں 3 سجدے ہیں- [7]
آیاتِ سجدہ کی فہرست:
قرآن مجید کی درج ذیل 14 سورتیں سجودِ تلاوت پر مشتمل ہیں:
’’(1) پارہ:9، الاعْراف:206، (2) پارہ:13، الرعد :15، (3) پارہ: 14، النحل:50، (4) پارہ:15، الاسراء :109، (5) پارہ: 16، مریم: 58، (6) پارہ:17، الحج: 18 اور 77، پارہ:17، الحج: 77،(7) پارہ:19، الفرقان : 60، (8) پارہ:19، النمل: 26، (9) پارہ:21، السجدہ: 15، (10) پارہ:23، ص:24، (11) پارہ:24، حم سجدہ:38، (12) پارہ: 27، النجم :62، (13) پارہ:30، الانشقاق :21، (14) پارہ:30، العلق: 19‘‘-
آیاتِ سجدہ کے مقاصد، حکمتیں اور اسرار و رموز
قرآنِ حکیم میں بعض مقامات ایسے ہیں جہاں تلاوت سن کر یا پڑھ کر سجدہ کرنا لازم ہوتاہے- یہ مقامات آیاتِ سجدہ کہلاتے ہیں -آیتِ سجدہ کا مقصد محض سجدہ کرنا نہیں بلکہ وہ روحانی، عقلی، ایمانی اور عملی پیغام ہے جس کی طرف قرآن کریم مختلف انداز میں متوجہ کرتا ہے-
مفسرینِ کرام اور فقہاء نے آیاتِ سجدہ کے اندر پوشیدہ حکمتوں اور اسرار پر متعدد مقامات پر گفتگو کی ہے- ذیل میں چند اسرار اورحکمتوں کا ذکر کرتے ہیں-
قرآن کی عظمت کے سامنے عملی طور پر جھکنا
آیاتِ سجدہ انسان کو یہ یاد دلانے کیلئے ہیں کہ قرآن کریم محض نظری کلام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ زندہ ہدایت ہے، جسے سن کر دلوں میں حرکت پیدا ہونی چاہیے-
امام قرطبی ’’ السجدہ:15‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور انہیں نصیحت کی جائے تو وہ عاجزی سے اس کی عظمت کے لئے انکساری کیلئے اور اس کی عبودیت کا اقرار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں‘‘-
مقصد: آیتِ سجدہ قرآن کریم کی عظمت اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی سامنے لاتی ہے- [8]
عملی بندگی اور فوری اطاعت کی تربیت
جب سجدے کا حکم آئے اور بندہ فوراً جھک جائے، تو یہ اس کی عملی اطاعت کی تربیت ہے-
مقصد: قرآن کریم سن کر فوری عملی ردِّعمل دینا اور اللہ کے حکم کی تعمیل-
شکرِ نعمت اور اعترافِ ہدایت
بعض آیاتِ سجدہ میں اللہ کی نعمتوں کا ذکر ہوتا ہے، اس لئے سجدہ کرنا اللہ تعالیٰ کے حضور شکر کا اظہار بھی ہے اور نعمتِ ایمان اور ہدایت پر سجدۂ شکر ادا کرنا بھی ہے-
شیطان کے مقابلے میں بندے کی فتح کا اعلان
امام بغوی ’’تفسیر بغوی‘‘ میں ’’الاعراف:206‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہے:
’’حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ جب ابن آدم آیت سجدہ کی قرأت کرتا پس وہ سجدہ کرتا ہے-تو شیطان روتے ہوئے وہاں سے جدا ہوتا ہے اور کہتا ہےافسوس ابن آدم کو سجدہ کا حکم دیا گیا اس نے سجدہ کرلیا اس کو جنت ملے گی اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں نے نافرمانی کی تو میرے لیے جہنم ہے‘‘-
معدان فرماتے ہیں کہ:
’’میں نے رسول اللہ (ﷺ) کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان (رضی اللہ عنہ) سے سوال کیا کہ مجھے ایک ایسی حدیث بیان کریں جس کے ذریعے مجھے اللہ تعالیٰ نفع دیں تو انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سجدہ کے ذریعے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتے ہیں اور اس سے ایک گناہ مٹا دیتے ہیں‘‘-
مقصد: آیتِ سجدہ بندے کی اطاعت اور شیطان پر اس کی شکست کا اظہار ہے-
اسی طرح امام کاسانی بدائع الصنائع میں لکھتے ہے:
’’کیونکہ قرآن میں موجود مواضع سجود تقسیم شدہ ہیں، ان میں سے بعض مقامات وہ ہیں جہاں سجدہ کرنے کا حکم دے کر اسے لازم کیا گیا ہے جیسا کہ سورۃ القلم کی آخری آیت اور بعض مقامات وہ ہیں جہاں کفار کے سجدہ کرنے سے اعراض کرنے کو بیان کیا گیا ہے تو ہم پر سجدہ کرکے ان کی مخالفت کرنا لازم ہے اور بعض مقامات وہ ہیں جہاں نیک فرمانبردار بندوں کے خشوع کو بیان کیا گیا ہے تو ہم پر اللہ عزوجل کے اس فرمان ’’فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہْ‘‘ (یعنی تو تم انہیں کی راہ چلو) کے سبب اُن ہستیوں کی اقتداء لازم ہے‘‘- [9]
قربِ الٰہی کا حصول:
سجدہ اللہ تعالیٰ کے قریب ترین حالت ہے-آیاتِ سجدہ انسان کو اعلیٰ روحانی مقام تک لے جاتی ہیں-
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ :
’’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب حالت سجدہ میں ہوتاہے ‘‘-[10]
مقصد: آیتِ سجدہ بندے کو براہِ راست قربِ الٰہی عطا کرتی ہے-
تکبر کا خاتمہ اور نفس کی پاکیزگی:
سجدہ انسانی تکبر کو توڑتا ہے، کیونکہ انسان کی پیشانی، اس کی سب سے معزز جگہ،زمین پر رکھ دی جاتی ہے-
رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ:
’’جس نے صدق نیت سے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا تحقیق وہ تکبر سے آزاد ہوگیا ‘‘-
مقصد: روحانی صفائی اور تکبر کا خاتمہ-
عبدیت اور فنا فی اللہ کا حقیقی اظہار
سجدہ انسان کے عبد ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے- جب مومن آیتِ سجدہ پر جھکتا ہے تو وہ اعلان کرتا ہے کہ:
’’اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے سامنے جھکا ہوں‘‘-
آپ (ﷺ) نے رات کو نماز پڑھی اس میں سورۃ البقرہ، سورۃ النساء اور سورۃ آل عمران کی قرأت کی، پھر قرأت کی مثل لمبا رکوع اور سجدہ کیا، رکوع میں یہ پڑھا ’’سبحان ربي العظيم‘‘ اور سجدہ میں یہ پڑھا ’’سبحان ربي الأعلى‘‘ اور یہ اس لئے کہ سجدہ میں بندے کی طرف سے اللہ تعالیٰ کیلئے اپنی اعلیٰ شے یعنی چہرے کے ذریعے سے انتہاء درجے کی عاجزی پستی انکساری اورتواضع کا اظہار ہے- بایں صورت کہ وہ اپنی پیشانی کوزمین پررکھتاہے-تو مناسب ہے کہ وہ انتہائی عاجزی کی حالت میں اپنے رب کو اس صفت سے یاد کرے کہ وہ اعلیٰ ہے-[11]
مقصد: بندگی اور عبدیت کا اظہار-
مجلسِ تلاوت میں رحمت و سکینت کا نزول:
حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ جہاں قرآن کریم پڑھا جاتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت اترتی ہے- آیتِ سجدہ پر سجدہ اس مجلس کو مزید نورانی بنا دیتا ہے-
بعض آیاتِ سجدہ میں صراحتاً سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہذا اس حکم کی تعمیل میں اُن آیات پر سجدہ تلاوت کیا جاتا ہے- جیسا کہ ’’سورۃ النجم:62‘‘-
آیاتِ سجدہ کے بعض مقامات پر کفار کے سجدے سے اعراض اور روگردانی کو بیان کیا گیا ہے جبکہ کفار کی مخالفت کرنا ہم پر لازم ہے، اسی وجہ سے اُن آیات پر سجدہ تلاوت کیا جاتا ہے- جیسا کہ ’’سورۃ الفرقان :60‘‘-
آیاتِ سجدہ کے بعض مقامات پر انبیاء کرام (علھیم السلام)، فرشتوں اور نیک اور مقرب بندوں کے سجدہ کرنے کو بیان کیا گیا ہے جبکہ ان پاکیزہ ہستیوں کی اقتداء کرنا ہم پر لازم ہے- اسی وجہ سے اُن آیات پر سجدہ تلاوت کیا جاتا ہے- جیسا کہ ’’سورۃ ص:24‘‘-
حرف آخر:
آیاتِ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، قرآن کریم کی شان، قیامت کی یاد دہانی، خشوع و رقت، شکر و اعترافِ نعمت، تکبر کا خاتمہ، روحانیت کا عروج، بندگی کا اظہار، شیطان پر غلبہ اور اطاعتِ الٰہی کی عملی تربیت موجود ہیں -
یہی وجہ ہے کہ آیاتِ سجدہ پورے قرآن کریم میں ایک غیر معمولی روحانی نظام قائم کرتی ہیں جو قرآن کریم کے قاری کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیتی ہیں اور اسے عملی عبادت کی طرف لے جاتی ہیں-
٭٭٭
[1](دَرْجُ الدُّرر في تَفِسيِر الآيِ والسُّوَر از امام جرجانی (المتوفیٰ: 471ھ))
[2](الموطاً، ص: 127، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1409ھ)
[3](المنتقی، ج:1، ص:351، مطبوعہ دار الکتاب العربی، بیروت)
[4](المہذب، ج: 1، ص: 85، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
[5](الکافی، ج:1، ص:272، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1414ھ)
[6](الحج : 77)
[7](بدائع الصنائع، ج:2، ص:3-6، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1418ھ)
[8]الهداية إلى بلوغ النهاية في علم معاني القرآن وتفسيره، وأحكامه، وجمل من فنون علومه از امام قر طبی المالکی (متوفیٰ: 437ھ)
[9]بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع از امام علاء الدين، ابوبكر بن مسعود الكاساني الحنفي (المتوفی:587ھ)
[10]صحیح مسلم:بَابُ مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
[11](مجموع الفتاوى از امام ابن تیمیہ)