امثالِ قرآن کے اغراض و مقاصد اور اُن کے عصری تطبیقات

امثالِ قرآن کے اغراض و مقاصد اور  اُن کے عصری تطبیقات

امثالِ قرآن کے اغراض و مقاصد اور اُن کے عصری تطبیقات

مصنف: مفتی محمد صدیق خان قادری فروری 2026

قرآن مجید کی فضیلت و عظمت تمام کلاموں پر ایسے ہے جیسے خالق کی فضیلت مخلوق پر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے پوری کائنات میں یکتاو لاثانی ہے اسی طرح اُس کا کلام یعنی قرآن مجید بھی بے مثال ہے-چونکہ قرآن مجید ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس لیے باری تعالیٰ نے کئی مقامات پر اس میں تدبر وتفکر کی ہدایت فرمائی ہے -اور علامہ اقبال بھی اسی چیز کی ترجمانی کرتےہُوئے مسلمانوں کو تنبیہ فرماتےہیں :

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار

ایک مسلمان جب قرآن مجیدمیں غوروفکر کرتا ہے تو وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ خالق کائنات نے بڑے پیارے اور حکیمانہ انداز میں لوگوں کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرمائی ہے اگر ہم غور کریں تو قرآن مجید کلام کی مختلف انواع پر مشتمل ہے -جہاں اللہ تعالیٰ نے وعد و وعید، امر و نواہی اور قصص کا ذکر کیا ہے وہیں کئی ایک مقامات پر مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں -صاف ظاہر ہےکہ ان مثالوں کو بیان کرنے کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے -   زیر نظر مضمون میں امثال القرآن کے اغراض و مقاصد اور اُن کی عصری تطبیقات کا بیان ہوگا-

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں امثال القرآن کے بارے میں ارشاد فرمایا:

’’وَ تِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِج وَمَا یَعْقِلُہَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ ‘‘[1]

’’اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان فرماتے ہیں اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے ‘‘-

ایک اور مقام پر ان مثالوں کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

’’وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا  لِلنَّاسِ فِیْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ  مَثَلٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ‘‘[2]

’’ اور بیشک ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں دھیان ہو‘‘-

تو اس آیت مبارکہ سے امثال القرآن کا ایک مقصد واضح ہوگیا کہ ان مثالوں سے نصیحت پکڑنا ہے -

آقاکریم (ﷺ) نے بھی امثال القران کے اسی مقصد کو بیان کیا -

امام بیہقی حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ(ﷺ) نےارشادفرمایا کہ:

قرآن مجید پانچ وجوہ پرنازل ہُوا ہے حلال، حرام، محکم، متشابہ اور امثال پر-لہٰذا تم لوگ حلال پر عمل کرو، حرام سے بچو،محکم کی پیروی کرو،متشابہ پر ایمان لاؤ اور امثال سے اعتبار(عبرت ونصیحت) حاصل کرو -[3]

امام جلال الدین سیوطی فرماتےہیں کہ:

’’ شیخ عزالدین کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں امثال اس لئے بیان کی ہیں کہ وہ بندوں کو یاد دہانی اور نصیحت کا فائدہ دیں ‘‘-[4]

امثال القرآن کی غرض عبرت ونصیحت کے علاوہ آئمہ کرام نے اور بھی کئی اغراض بیان فرمائی ہیں -

امام جلال الدین سیوطی اپنی کتاب الاتقان فی علوم القرآن میں فرماتے ہیں کہ:

’’اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو مثالیں بیان کی ہیں اُن کی غرض و مقصد وعظ و تذکیر، زجر، عبرت، تقریر و تاکید، مراد کو مخاطب کے فہم کے قریب کرنا اور مراد کو محسوس صورت میں پیش کرنا  ہے-یہ اس لیے کہ امثال معانی کو اشخاص کی صورت میں نمایاں کرتی ہیں اور اس صورت حال میں معانی ذہن میں جم جاتے ہیں کیونکہ اس حالت میں ذہن کو حواس ظاہری کی مدد ملتی ہے یہی تو وجہ ہےکہ مثال کی غرض خفی کو جلی کے ساتھ اور غائب کو شاہد کے ساتھ تشبیہ دینا قرار دی گئی ہے‘‘-[5]

علامہ زمخشری فرماتےہیں کہ:

’’تمثیل دینے کا مقصد معانی کو واضح کرناہے اور جوچیز وہم میں ہے ا س کو مشاہدہ کے درجے میں لاناہے ‘‘-[6]

لہٰذا: قرآن مجید ،حدیث مبارکہ اور آئمہ کرام کے اقوال سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امثال القرآن کی اپنی ایک حقیقت ہے ،یہ اپنے اندر بہت بڑے مقاصد رکھتی ہیں ،یہ انسانی ذہنوں میں بات بٹھانے کا ایک ایسا منفرد اندازہے کہ جس میں انسان کا ذہن بات کی تہہ تک پہنچنے میں دِقّت محسوس نہیں کرتا کیونکہ جو بات مثالوں سے واضح اور ذہن نشین ہوتی ہے وہ بعض اوقات دلائل سے کم سمجھ آتی ہے مثالیں معانی و مطالب کو ایسا آشکار کرتی ہیں جیسے آدمی کسی شے کا مشاہدہ کررہا ہو گویا امثال غائب کو حاضر کے درجے میں اور متوھم کو مشاہدکے درجے میں اتاردیتی ہیں -تو پھر بندے کے پاس انکار کی گنجائش باقی نہیں رہتی لہذا یہ امثال اہل فکر وتدبر کیلئے وعظ ونصیحت، عبرت اور ہدایت کا سبب بن جاتی ہیں-مثال کے طور پر جب اللہ تعالیٰ نے توحید و شرک کی حقیقت کو بیان کیا تو اس چیز کو سمجھانے کیلئے ایسی چیزوں کی مثال دی جو ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں فرمان باری تعالیٰ ہے :

’’حُنَفَآءَ لِلہِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہٖ ط وَ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ ‘‘[7]

’’ایک اللہ کے ہوکر کہ اس کا ساجھی کسی کو نہ کرو اور جو اللہ کا شریک کرے وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اسے اچک لے جاتے ہیں یا ہوا اسے کسی دور جگہ پھینکتی ہے‘‘-

اب آسمان کی بلندی اور اُس کی وسعتیں انسان کے سامنے ہے اور پرندوں کا بوٹیاں نوچنا بھی ،انسان اس کا کئی بار زندگی میں مشاہدہ کرتاہے تو جس آدمی کو توحید کی دولت نصیب ہے وہ آسمان جیسی بلندی پر ہے اور جس نے شرک اختیار کیا گویا وہ آسمان کی بلندی سے نیچے زمین پر آگرتا ہے اور پرندے اُسکی بوٹیاں نوچ لیتے ہیں مطلب کہ کفرانسان کو نیست ونابود کردیتا ہے -

اسی طرح انسانی مشاہدہ ہےکہ جب کسی پتھر پر گردوغبار پڑی ہو اور اُس پر بارش برسے تو وہ پتھرگردوغبار سے صاف ہوجاتاہے -تو ایسے لوگ جواپنا ما ل خالص اللہ کی رضا کیلئے نہیں بلکہ ریا کاری اور ظاہری نمود ونمائش کیلئے خرچ کرتے ہیں تو اُن کی مثال بھی ایسے پتھر کے ساتھ دی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی ۙ کَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَہٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِط فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلْدًا ط لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْءٍ مِّمَّا کَسَبُوْا ط وَاللہُ  لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ ‘‘[8]

’’اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر  اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا ،اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا ‘‘-

مطلب کہ جس طرح بارش پڑنے سے پتھر پر کوئی شے باقی نہیں رہتی وہ صاف ہوجاتا ہے اسی طرح جو لوگ ریا کاری کے طور پر مال خرچ کرتےہیں اُن کیلئے اجروثواب میں کوئی شے باقی نہیں رہتی-

بعض اوقات مثال بیان کرنے کا مقصد کسی شےکی حقیقت کو بیان کرنا ہوتاہے مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

’’اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ط ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا م وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ‘[9]

’’جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن صرف اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کردیا ہو ، اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ بیع سود ہی کی مثل ہے  اور اللہ تعالٰی نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے ‘‘-

مذکورہ آیت میں سود خوروں کے حال کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب ایک انسان ہمیشہ حلال کھاتا ہے تو اُس حلال کی برکت سے بندےمیں اطاعت و عبادت کا جذبہ پیداہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال ہوجاتی ہے لیکن اس کے برعکس حرام کی وجہ سے توفیق الٰہی اٹھا لی جاتی ہے جس کی غذاحرام ہو وہ ظاہری طور پر بے شک کھڑ ا ہواور چلتا پھرتا ہو لیکن وہ باطنی طور پر مردہ ہوتاہے ،وہ اُس مخبوط الحواس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھڑا نہیں ہوسکتا -تو اس آیت مبارکہ میں سود کھانے والوں کی اورمخبوط الحو اس شخص کے ساتھ مثال دے کر اُن کے حال حقیقت کو واضح کردیا ہے -

کبھی مثال دینے کی غرض و مقصد کسی شے کی طرف رغبت دلانا مقصود ہوتا ہے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہےکہ:

’’مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ط وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ط وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ‘‘[10]

’’جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی طرح ہے جس نے ساتھ ایسے خوشے اگائے کہ ہر خوشے میں سو دانے ہیں ،اور اللہ جس کے لیے چاہے ان کو دگنا کردیتا ہے ، اور اللہ بڑی وسعت والا بہت علم والا ہے ‘‘-

اس آیت مبارکہ میں اُن لوگوں کی مثال دی گئی ہے جو اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اُن کی مثال ایسے  دانے کی جس سے سات بالیاں اگتی ہیں سے دے کر انفاق فی سبیل اللہ کی طرف رغبت دلائی ہے کہ اگر راہ ِحق میں اپنا مال خرچ کرو گے تو تمہارا مال کم نہیں ہوگا بلکہ وہ مزید پڑھے گا -

اسی طرح خالق کائنات نے اپنی لاریب کتاب میں مختلف قوموں کے جو واقعات بیان کے ہیں اور اُن میں اُنکے معاملات اور بداعمالیوں کا ذکرکیا ہے وہ ہمارے لیے ایک مثال کا درجہ رکھتے ہیں تو جس طرح امثال القرآن کا ایک مقصد عبرت حاصل کرنا بھی ہے تو ا ن واقعات سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ جس طرح وہ اقوام اپنی غلط روش اور بد اعمالیوں کی وجہ سے عذاب کی مستحق ٹھہریں تو کہیں ہم بھی اپنے غلط معاملات، کج روی، احکامات ِ الہٰی سے پہلوتہی، ظلم وزیادتی اور اپنی نا انصافیوں کی وجہ سے سزاکے مستحق نہ ٹھہرجائیں -

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی احکامِ عبادات، ایفائے عہد اور سماجی و اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی کا تذکرہ کرتے ہُوئے ارشاد فرمایا کہ:

’’ وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللہَ قف وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ ط ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ  اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْکُمْ وَاَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ‘‘[11]

’’اور یاد کرو جب ہم نے بنو اسرائیل سے یہ پختہ عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ ، رشتہ داروں ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیکی کرنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کرنا اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا ، پھر تم میں سے چند لوگوں کے علاوہ تم سب (اس عہد سے) منحرف ہوگئے اور تم (ہو ہی) منہ موڑنے والے‘‘-

مقام غور ہے یہ تمام احکام صرف اُنہی کیلئے خاص نہیں بلکہ آج بھی ہم سب کیلئے اس میں سبق اور نصیحت ہے کہ عبادت الہٰی کو قائم کرتے ہُوئے اپنے والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک رَوَارکھیں ،قُرابت داروں ،یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کریں نماز اور زکوٰۃ کو بجالے آئیں ،اگر ہم ان تمام چیزوں اور وعدوں پر کار بند رہیں گے تو کامیابی ہمارا مقدر ہوگی ورنہ اُن کی طرح روگرداں ٹھہرائے جائیں گے-

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام)کی قوم جو کہ  ناپ تول میں کمی کرتے اور زمین میں فساد بھی پھیلاتے تھے اُن کا ذکر کرتے ہُوئے ارشاد فرمایا :

’’وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ‘‘[12]

’’اور اے میری قوم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو‘‘-

ہمارے معاشرے میں جہاں بہت ساری خرابیاں پائی جاتی ہیں تو وہیں یہ دو خرابیاں ناپ تول میں کمی اور فساد پھیلانا بھی کثرت کے ساتھ پایا جاتا ہے حلانکہ اگر دیکھا جائے تو ناپ تول میں کمی ایک ایسی غیر اخلاقی اور گھٹیاحرکت ہے کہ جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے سورۃ المطففین میں فرمایا کہ بربادی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے گویابندہ دنیا کے حقیرمال کی خاطر اپنی دنیا اور آخرت برباد کردیتا ہے لہذا مذکورہ آیت میں ہمارے معاشرے کیلئے ایک پیغام ہےکہ ہم سب ناپ تول میں کمی جیسی غیر اخلاقی حرکت سے باز رہیں اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھریں بلکہ امن اور محبت کا داعی بن کر اسلامی معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط کریں -

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاعراف میں ایک واقعہ بیان کیاہےفرمان باری تعالیٰ ہے کہ:

’’وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ الَّذِیْٓ اٰتَیْنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ؁  وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُج فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ ج اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثْط ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ج فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ؁  سَآءَ مَثَلَاۨ الْقَوْمُ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاَنْفُسَہُمْ کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ ‘‘[13]

’’ اور اے محبوب انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا توشیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا -اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے اٹھالیتےمگر وہ تو زمین پکڑ گیا اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کُتّے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالےیہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں ‘‘-

حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس اور کچھ دیگر مفسرین کے نزدیک یہ آیات بنی اسرائیل کے شخص بلعم بن باعورا کے بارے نازل ہُوئی ہیں جو مستجاب الدعوات ہونے کے باوجوددنیا کے حرص و لالچ میں اپنی آخرت برباد کر بیٹھا گویا ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ ایسے دنیا پرست اور حرص و طمع میں گرفتار لوگوں کا حال و انجام اور مثال بیان فرماتے ہیں کہ جو دین حق کو قبول کرنے کے بعد محض دنیا وی حرص و طمع کی بناپر اللہ تعالیٰ کے احکامات سے منحرف ہو جاتےہیں اور نفس وشیطان کے اشاروں پر چلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد ومیثاق کی کوئی پرواہ نہیں کرتے ایسے لوگوں کاانجام بہت بُراہوتا ہے -تو یہ محض واقعہ نہیں ہے بلکہ ہمیں وعظ وتذکیرکیلئے اس کو بیان کیا گیاہے کہ دیکھو کہ جب ایک عالم اور صاحب تصرف بزرگ پیغمبر کی مخالفت سے مردودہوگیا تو تم بھی اپنے نبی کی مخالفت نہ کرنا و رنہ تمہاراحال بھی یہی ہوسکتاہے -اور خاص طور پر اس میں علماء کیلئے تنبیہ ہے کہ جسے اللہ پاک علم وہدایت سے نوازے تو وہ بعد میں زر پرست نہ بن جائے ورنہ اُس کی دنیا اورآخرت برباد ہو جائے گی-

خالق کائنات نے سورۃ الکہف میں دنیا کے فنا اور زوال کی بڑی پیاری مثال دیتے ہُوئے ارشادفرمایا:

’’وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآءٍ اَنْزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ ہَشِیْمًا تَذْرُوْہُ  الرِّیٰحُ ط وَکَانَ اللہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا ؁   اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَۃُ  الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَالْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا‘‘[14]

’’ اور ان کے سامنے زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو جیسے ایک پانی ہم نے آسمان سے اتاراتو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوکر نکلا  کہ سوکھی گھاس ہوگیا جسے ہوائیں اڑائیں اور اللہ ہر چیز پر قابو والا ہے  مال اور بیٹے یہ جیتی دنیا کا سنگھار ہے اور باقی رہنے والی اچھی باتیں ان کا ثواب تمہارے رب کے یہاں بہتر اور وہ امید میں سب سے بھلی‘‘-

ذرا غور کریں مذکورہ آیت میں دنیا کی زندگی کو تشبیہ دی گئی ہے اُس زمین کےساتھ کہ جس پر بارش ہونے کی وجہ سے تازگی آتی ہے پھر چند دنوں کے بعد چورہ چورہ ہو کر اُس کی مٹی ہُوا میں اڑنے لگتی ہے -تو دنیا کا حال بھی ایسا ہی ہے کہ شروع شروع سبزہ اور کھیتی کی طرح تروتازہ اور خوشنما معلوم ہوتی ہے اور خوب باغ و بہار دِکھاتی ہے پھر جس طرح چند روز کے بعد سبزہ سوکھ کر ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے ،اسی طرح چند روز کے بعد یہ دنیا کی زندگی بھی ختم ہوجائے گی لہذا چند روزہ رونق اور بہار پر پھولنا اور اترانا عقلمندی کا کام نہیں ہے- خوب سمجھ لو کہ جس خدانے تمہیں مال و اولاد کی زینت بخشی ہے وہ اس کو فنا کرنے پر بھی قادرہے ، مال اور بیٹے جن پر کافر اتراتے پھرتے ہیں یہ محض دنیا وی زندگی کی زینت ہے زادآخرت نہیں ہے -

اب اس میں ہمارے لیے جو نصیحت اور سبق ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی اور دنیا کی حقیقت کو سمجھیں کہ یہ دونوں فانی ہیں اور دنیا کی ظاہری زیب و زینت کو دیکھ کر اُس پر فریفتہ ہوکر اپنی چند روزہ زندگی کو ضائع مت کریں اور سمجھ جائیں کہ دنیا ہیچ ہے قابل فخر چیز نہیں ہے قابل فخر اور قابل شکر تو اعمال صالحہ ہیں -جن کے مقابلے میں ساری دنیا کی آرائش و زیبائش کچھ حقیقت نہیں رکھتی -لہذا ہمیشہ باقی رہنے والے اعمال صالحہ اختیار کریں-

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃ سبا میں قوم سباکا ذکر کیا ہے فرمان باری تعالیٰ ہے :

’’فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰہُمْ بِجَنَّتَیْہِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُکُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ ؁    ذٰلِکَ جَزَیْنٰہُمْ بِمَا کَفَرُوْا ط وَ ہَلْ نُجٰزِیْٓ  اِلَّا الْکَفُوْرَ‘‘[15]

’’ پھر انھوں نے اعراض کیا تو ہم نے ان پر تند و تیز سیلاب بھیج دیا، پھر ہم نے ان کے دو باغوں کو ایسے دو باغوں سے تبدیل کردیا جن میں بد ذائقہ پھل اور جھاؤ کے درخت اور بیری کے بہت کم درخت تھے - یہ ہم نے ان کی ناشکری کی سزا دی اور ہم صرف ناشکروں کو (ایسی) سزا دیتے ہیں ‘‘-

قوم سبا نے جب اطاعت سے منہ پھیرا اور ناشکری کا راستہ اختیار کیا تو انہیں یہ سزادی گئی کہ اُن پر زور دار سیلاب آیااور اُن کے باغوں کو کڑوے پھل میں تبدیل کردیاگیا -اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ جو قومیں راہ رِاست سے ہٹ جاتی ہیں اور اطاعتِ الٰہی سے انحراف کرتی ہیں، تو اُن پر طرح طرح کی آفتیں آتی ہیں اور انہیں نعمتوں سے محروم کردیا جاتاہے ،آج من حیث القوم ہم اپنی گریبانوں میں جھانکیں کہ ہماری روش کیاہے کیا ہم صحیح معنوں میں احکامات خداوندی کی پابندی کررہے ہیں ،اُس ذات نے ہمیں جو طرح طرح کی نعمتیں عطاکی ہیں ان پر اُس کا شکر بجالارہے ہیں قوم سبا کا واقعہ ہمیں پیغام دیتاہے کہ اگر تم بھی ناشکرے بنوگے اور اُس ذات کی اطاعت سے منہ پھیر لوگےتو تم نہ صرف سزا کے مستحق ٹھہرو گے بلکہ اُس کی نعمتوں سے بھی محروم کردیئے جاؤ گے -

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مثالیں بیان کرکے نہ صرف وعظ ونصیحت اور عبرت کا سبق دیا ہے بلکہ معانی ومطالب کو سہل کرکے اپنے قرب کی راہ ہموار کردی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن مجید کو پڑھیں اور اس میں غور وفکر کریں -لہذا جو بھی مٔومن پورے اخلاص کے ساتھ اس میں غوطہ زنی کرتاہے وہ کبھی نامراد نہیں لوٹتا- بلکہ اُس کا دامن لعل و گوہر سے بھرا ہُوا ہوتاہے کتاب الٰہی کے ساتھ اپنا ناطہ اور تعلق مضبوط کرنے والے کو نہ صرف دنیاوی اور اُخروی نعمتوں سے مالا مال کیاجاتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اُس پر قرآن مجید کے ظاہری و باطنی اسرار و رموز کھول کر اُس کے دل و دماغ کو منور و معطر کردیتا ہے -

٭٭٭


[1](العنکبوت :43)

[2](الزمر:27)

[3](شعب الایمان للبہیقی، فصل فی ترک التفسیر با الظن)

[4](الاتقان فی علوم القرآن، ج:2،ص:254،  مکتبہ رحمانیہ لاہور پاکستان)

[5]( ایضاً)

[6]( ایضاً)

[7](الحج :31)

[8](البقرہ :264)

[9](البقرہ :275)

[10](البقرہ :261)

[11](البقرہ :83)

[12](ھود:85)

[13](الاعراف : 175-177)

[14])الکہف :45-46)

[15])سباء:16-17)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر