بلاشبہ اسلامی فکر کی اساس عقیدہ پر استوار ہے- اگرچہ اوئلِ اسلام میں اعتقادی مسائل پر عقلی بحث و مباحثہ کی چنداں ضرورت نہیں تھی کیونکہ صاحبِ قرآن یعنی رسول اللہ (ﷺ) کی ذاتِ گرامی بنفسِ نفیس دنیا میں تشریف فرماتھی اس لئے قرآن و حدیث میں جو حکم جس طرح وارد ہوتا اس کو بلا تامل بعینہ قبول کرلیا جاتا- صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کے ہاں عقیدہ اور سارے کا سارا دین اسی بات کا نام تھا کہ آقا کریم (ﷺ)نے جو ایک بات ارشاد فرما دی ہے،بس حضور کا فرمانا ہی کافی ہے -
عہدِ رسالتِ مآب (ﷺ) کے بعد خلاف راشدہ کے اختتام پر عقل پر مبنی اعتقادی بحثیں شروع ہو گئیں اور اختلاف رائے میں بتدریج شدت پیدا ہو تی گئی یہاں تک کہ کئی اعتقادی فرقے وجود میں آگئےاور عقائد کو محض نقلی دلائل کی بجائے عقل اور فلسفہ کے تناظر میں بھی دیکھا جانے لگا-جس سے باقاعدہ علم الکلام نے جنم لیا اور کئی کلامی طبقات وجود میں آگئے - ساتھ ہی ساتھ اسلامی عقائد کی مکمل عقلی توجیہ بیان کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تاکہ فلسفیانہ سوالات کا مکمل عقلی جواب دیا جائے اور اسلام کے بنیادی عقائد پہ اٹھائے جانے والے کسی بھی عقلی سوال کا قابل تشفیع جواب دیا جائے-
’’علم کلام کہتے ہی اس علم کو ہیں جس کے ذریعہ اسلامی معتقدات کو نقلی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا جا سکے اور ان پر وارد ہونے والے اعتراضات خواہ وہ اسلام کی طرف منسوب منحرف فرقوں کی طرف سے ہوں، یا غیر مسلموں کی طرف سے، اُن کا رد کیا جائے‘‘-
عصرِ حاضر میں جب اسلامی عقائد کو عقلی، سائنسی اور فلسفیانہ اعتراضات کا سامنا ہے توعلمِ کلام کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ قرآنِ کریم کے پیش کردہ بنیادی عقائد کو عقلی دلائل کے ساتھ واضح کرتا ہےاور ایسی فکری و نظریاتی گمراہیوں کا رد کرتا ہے جو توحید، نبوت اور آخرت کے بارے میں انسانی فکر کو انتشار کا شکار بناتی ہیں-
قرآن مجید میں کئی مقامات پہ انسان کو تفکر و تدبر اور عقل سے کام لینے کی تلقین کی گئی ہے –مثلاً ارشادِ ربانی ہے:
’’اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘‘[1] ’’ تو کیا تم نہیں سوچتے؟‘‘
قرآن کریم کے عقل و فہم کو استعمال کرنے کے ایسے احکامات کو علم الکلام کی بنیاد بھی بنایا گیا- زیرِ نظر مضمون میں قرآن کریم میں بیان کردہ بنیادی عقائد اور ان کی جزئیات و متعلقات کی تفہیم و معرفت کےلیے علم الکلام کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی جائے -
عقیدہ کا مفہوم و اہمیت:
علمِ عقائد کی اصطلاح میں عقیدہ اس پختہ، قطعی اورغیر متزلزل یقین کو کہتے ہیں جو دل میں اس طرح راسخ ہو جائے کہ اس میں کسی قسم کا شک، تردّد یا احتمال باقی نہ رہے اور جس پر انسان دل سے مطمئن ہو،تمام عقائد اسی کے مصداق ہیں-ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”ایمان والے تو صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) پر ایمان لائے، پھر شک میں نہ پڑے“-[2]
توحید کا شرعی مفہوم:
دینِ اسلام میں عقیدہ توحید پہلا اور بنیادی رکن ہے- تصورِ توحید کی بنیاد تمام معبودانِ باطلہ کی نفی کرنا اور ایک اللہ کےاقرار و تصدیق پر ہے-
”شریعت میں یہ عقیدہ رکھنا توحید ہے کہ اللہ اپنی ذات و صفات اور جملہ اوصاف و کمالات میں یکتا و بے نظیر و بے مثال ہے، اس کا کوئی ساجھی (برابر) یا شریک نہیں، کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں“- [3]
توحید نہ صرف قرآن مجید کا حکم ہے؛بلکہ عقل کا تقاضا بھی ہے- خدا علیم و حکیم ہے اور کائنات کی تمام چیزوں کی تدبیر فرماتا ہے اور جب کسی بات کا فیصلہ کرنا ایک سے زیادہ افراد کے اختیار میں ہو تو اختلاف رائے پیدا ہونا، پھر اس اختلاف کی وجہ سے نزاع کا پیدا ہونا اور اس نزاع کا باعث فساد بننا بالکل ظاہر ہے- اگر کائنات کے کئی خدا ہوتے تو تسلسل اور نظم و ضبط کے ساتھ اس کا نظام قائم نہ رہ پاتا، تویہ کائنات فساد اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
”اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے“- [4]
خدا اور انسان کی صفات میں فرق:
انسان اور خدا کی صفات میں بنیادی فرق خالق اور مخلوق کا ہے؛خدا واجب الوجود، لامحدود اور ہر صفت (یعنی علم، قدرت، حیات) میں مکمل ہے، جبکہ انسان محدود، فانی اور خدا کے حکم سے وجود میں آنے والی صاحبِ شعور مخلوق ہے- خدا کی صفات ذاتی، قدیم اور کامل ہیں، جبکہ انسان کی صفات حادث اور محتاجِ فیضِ الٰہی ہیں-یہی فرق انسان کی عبودیت اور خدا کی الوہیت کے درمیان حد فاصل ہے- ایک خالق ہے جو ہر وجود کا سرچشمہ ہے، اور دوسرا مخلوق- امام ابو منصور ماتریدیؒ لکھتے ہیں کہ:
”اللہ تعالیٰ کی صفات کی نہ کوئی حد ہےاور نہ کوئی انتہا“-[5]
اللہ تعالیٰ کو ذات و صفات میں واحد ماننا:
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ذات و صفات باری تعالیٰ کو بیان کیا گیا ہے -ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اسی نے تمہارے لئے تمہاری جنسوں سے جوڑے بنائے اور چوپایوں کے بھی جوڑے بنائے اور تمہیں اسی سے پھیلاتا ہے، اُس کے مانند کوئی چیز نہیں ہے اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہے “- [6]
مزید فرمایا:
”وہی (سب سے) اوّل اور (سب سے) آخر ہے اور (اپنی قدرت کے اعتبار سے) ظاہر اور (اپنی ذات کے اعتبار سے) پوشیدہ ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے“- [7]
عقیدہ توحید تمام عقائد کی جڑ اور اصل الاصول ہے ،اس کی درستگی کے بغیر انسان اللہ کی رحمت اور حضور نبی کریم (ﷺ) کی سچی محبت و شَفاعت کا مستحق نہیں ہو سکتا -
واجب الوجود:
اسلامی عقائد میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے سب سے بنیادی تصور واجب الوجود کا ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے خالق اور مخلوق کے درمیان ایک اہم فرق واضح ہوتا ہے-
اصطلاحِ علمِ عقائد میں واجب الوجود وہ ذات ہے جو قائم بذات ہو یعنی اپنے وجود میں غیر کی محتاج نہ ہو، تمام مخلوقات اس کی محتاج ہوں-اس کا اطلاق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ مبارکہ پر درست ہے- قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ کے واجب الوجود اور بے نیاز ہونے کو واضح کیا گیا ہے:
”اللہ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں“ -[8]
”اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو اور اللہ ہی بے نیاز، سزاوارِ حمد و ثنا ہے“- [9]
یہ آیات کریمہ اس حقیقت کی وضاحت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ بذاتِ خود قائم، ہر قسم کی حاجت سے پاک اور تمام کائنات کا حقیقی سہارا ہے، جبکہ تمام مخلوقات اس کی محتاج ہیں-
نبوت و رسالت اور اس کے متعلقات:
نبوت و رسالت:
اسلامی عقائد میں توحید کے بعد سب سے بنیادی اور اہم عقیدہ نبوت و رسالت کا ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسانیت تک دینِ حق پہنچایا - جو شخص کسی ایک بھی برحق نبی یا رسول کی نبوت یا رسالت کا انکار کرے وہ ایمان سے خارج ہےارشاد باری تعالیٰ ہے :
”اور بیشک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ (لوگو) تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت (یعنی شیطان اور بتوں کی اطاعت و پرستش) سے اجتناب کرو ‘‘-[10]
نبی اور رسول میں فرق:
ہر رسول، نبی تو ہے لیکن ہر نبی، رسول نہیں،علامہ عبد القاہر بن طاہر الاسفرائینیؒ فرماتے ہیں کہ :
”رسول اور نبی کے مابین فرق سے متعلق علماء نے فرمایاکہ نبی وہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے فرشتے کے ذریعے وحی نازل فرمائی اور خرق عادت معجزات کے ذریعے اس کی تائید فرمائی، جب کہ رسول وہ ہے جسے جدید شریعت اور اس سے ماقبل شریعت کے بعض اَحکام منسوخ کرنے کی خصوصیت عطا فرمائی ہو ‘‘- [11]
نبوت و رسالت اسلامی عقائد کی اساس ہے جس پر شریعت، اخلاق اور عملی زندگی کی عمارت قائم ہے- نبوت و رسالت محض ایک اعزاز نہیں بلکہ عظیم ذمہ داری ہے، جس کا مقصد انسانیت کی ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی حجت کو قائم کرنا ہے-
معراج النبی(ﷺ):
معراج سے مراد حضور نبی کریم( ﷺ) کا وہ سفرمبارک ہے جواللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ(ﷺ) نے مکہ سے مسجد اقصیٰ اور پھر وہاں سے آسمانوں کی سیر فرمائی اور وہاں تک پہنچے جہاں تک اللہ تعالیٰ نے چاہا -اس کے علاوہ جنت و دوزخ کا مشاہدہ بھی شامل ہے-معراج النبی(ﷺ) تاریخ نبوت، تاریخ انسانیت حتیٰ کہ پوری کائنات میں ایک محیّر العقول واقعہ ہے جس کی کوئی اور نظیر نہیں ملتی ،یہ ذاتِ پاکِ مصطفی ( ﷺ) کا اعجاز اور بے پایاں اعزاز ہے جس پر اِنسانی عقل آج بھی اَنگشت بدنداں ہے- اِنتہائی قلیل وقت میں مسجدِ حرام سے بیت المقدس تک کی طویل مسافت طے ہو جاتی ہے-قرآن مجید واقعہ معراج کا ذکر اِن اَلفاظ میں کرتا ہے :
”وہ ذات پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصٰی تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے“- [12]
سفرِ معراج عالمِ بیداری میں:
آپ (ﷺ) نے اسراء عالم بیداری میں اپنے جسم اقدس کے ساتھ فرمایا اور اس بات پر استدلال اللہ پاک کا فرمان ہے کہ :
’’ اور ہم نے تو (شبِ معراج کے) اس نظّارہ کو جو ہم نے آپ کو دکھایا لوگوں کیلئےصرف ایک آزمائش بنایا ہے‘‘- [13]
سفر معراج کی حقانیت پہ علماء متکلمین کے اقوال :
علامہ سعد الدين التفتازانی الشافعی لکھتے ہیں:
”تحقیق نبی پاک (ﷺ) کی معراج کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت ہے-مگریہ کہ اس بات میں اختلاف ہے کہ (کیامعراج مبارک) حالت نیند میں ہوئی یا بیداری کے عالم میں اورصرف روح کے ساتھ یا جسم کے ساتھ اور صرف مسجد اقصیٰ تک یا آسمان تک (ان باتوں میں اختلاف ہے)‘‘
اس کے بعد علامہ تفتازانی عقیدہ اُمت بیان فرماتے ہیں:
”اور حق بات یہ ہے کہ آپ (ﷺ) نے مسجد اقصیٰ تک بیداری کے عالم میں اپنے جسم مبارک کے ساتھ سفر فرمایا اور ا س پر قرآن مجید کی شہادت اوردوسری صدی اور اس کے بعدکے علماء کا اجماع ہےاوراس کے بعد آسمان تک کا سفر احادیثِ مشہورہ سے ثابت ہے اور منکر بدعتی ہے“- [14]
اس سفر (معراج)کو کسی بھی حوالے سے دیکھیں تو آپ صرف سوچ سکتے ہیں اس کی مثال ناممکن ہے -
مرتبہ محبوبیت کبریٰ:
آقا کریم ( ﷺ) کو اللہ تعالیٰ نے مرتبہ محبوبیت کبریٰ سے سرفراز فرمایا کہ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتی ہے، اور اللہ تعالیٰ رضائے مصطفےٰ (ﷺ) چاہتا ہے-ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اے حبیب مکرم( ﷺ)!یقیناً آپ کا رب عنقریب آپ کو (اتنا کچھ) عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے“-[15]
”(اے حبیب( ﷺ)!) ہم بار بار آپ کے رُخِ انور کا آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ رہے ہیں، سو ہم ضرور بالضرور آپ کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں“- [16]
مزید فرمایا:
”یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا“- [17]
مرتبہ شفاعت کبری آقا کریم(ﷺ) کیلئے خاص ہے:
”قیامت کے دن مرتبہ ’’شَفاعتِ کبریٰ‘‘ حضور نبی اکرم (ﷺ) کیلئے خاص ہے، کہ جب تک حضور (ﷺ) شفاعت کا دروازہ نہیں کھولیں گے، کسی کو مجالِ شفاعت نہیں ہوگی“-[18]
بلکہ حقیقتاً جتنے شفاعت کرنے والے ہیں، وہ سب ہمارے آقا( ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور مخلوقات میں صرف حضور نبی اکرم (ﷺ) شفیع ہیں“- [19]
علماء کے اقوال:
امام قسطلانی ؒ فرماتے ہیں کہ:
”بعض معتزلہ اور خوارج نے، شفاعت کا اس معنی میں انکار کیا کہ جو گنہگار دوزخ میں داخل ہو گئے، انہیں نکالا نہیں جائے گا اور دلیل کے طور پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان لاتے ہیں: ’’سو (اب) شفاعت کرنے والوں کی شفاعت انہیں کوئی نفع نہیں پہنچائے گی‘‘نیز یہ قول بھی:’’ظالموں کے لئے نہ کوئی مددگار ہوگا، نہ کوئی شفیع ہوگا،جس کی بات مانی جائے‘‘-اہل سنت نے ان کا جواب یہ دیاکہ یہ آیات کفار کے بارے میں ہیں-قاضی عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ شفاعت عقلاً جائز ہے اور دلائل سمعیہ کی بنیاد پر واجب ہے-اللہ تعالیٰ کے اس واضح فرمان کے سبب: ’’شفاعت اُسے نفع دے گی جس کے لئے رحمٰن نے اجازت دی اور جس سے وہ راضی ہوا‘‘اور اس واضح فرمان کے سبب ’’وہ لوگ شفاعت اس کی کریں گے، جسے رب تعالیٰ نے پسند فرمالیا ‘‘- نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی: ’’عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو ایسی جگہ کھڑا کرے گا، جہاں سب لوگ آپ کی حمدو ثنا کریں گے‘‘-اکثر علمائے امت کے نزدیک یہی تفسیر ہے“- [20]
تو پتہ چلا کہ شفاعت عقلاً ممکن اور نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہے اور آئمہ اہلِ سنت کا بھی یہی عقیدہ ہے-
عقیدہ ختم نبوت اور قرآن:
قرآن مجید میں حضور اکرم( ﷺ) کے آخری نبی ہونے کا اعلان،اس آیت مبارکہ میں کیا گیا ہے؛
”محمد ( ﷺ)تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے“- [21]
عقیدہ ختم نبوت اقوالِ علماء کی روشنی میں:
حجۃ الاسلام امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی ؒفرماتے ہیں پوری امت لفظ خاتم النبیین کا معنی یہی سمجھتی ہے کہ:
”حضور نبی اکرم( ﷺ) کے بعد کبھی کوئی نیا نبی و رسول نہیں آئے گا، اور تمام امت نے یہی مانا ہے کہ اس میں قطعاً کوئی تاویل یا تخصیص نہیں اور اس بات کا منکر(انکار کرنے والا) یقیناً اجماعِ امت کا منکر ہے‘‘-[22]
قاضی عیاض ’’الشفاء‘‘ اور علامہ شہاب الدین خفاجی اس کی شرح ’’نسیم الریاض‘‘ میں فرماتے ہیں کہ:
’’اسی طرح وہ بھی کافر ہے، جو ہمارے نبی کریم (ﷺ) کے زمانے میں، کسی اور کی نبوت کا دعویٰ کرے، جیسے مسیلمہ کذاب و اسود عنسی، یا حضور نبی اکرم( ﷺ) کے بعد کسی نبوت کو مانے(کسی بھی معنی اور مفہوم کے اعتبار سے )- اس لئے کہ قرآن و حدیث میں حضور نبی پاک (ﷺ) کے خاتم النبیین ہونے کی صراحت ہے،تو گویا یہ شخص اللہ و رسول کو جھٹلا رہا ہے‘‘- [23]
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق، ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی کریم( ﷺ) اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ( ﷺ) کو اس جہاں میں بھیج کر، بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرمادیا ہے-
وحی:
نبوت و رسالت کی اصل بنیاد وحی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان ہدایت کی ترسیل کا ذریعہ وحی ہی ہے- وحی کے بغیر نہ شریعت کا تصور مکمل ہوتا ہے اور نہ ہی احکامِ الٰہیہ انسانوں تک پہنچ سکتے ہیں-وحیِ نبوت انبیائے کرام کے لئے خاص ہے، جو اسے کسی غیرِ نبی کے لئے مانے وہ کافر ہے- نبی کو خواب میں جو چیز بتائی جاتی ہے وہ بھی وحی ہے-
قرآنِ مجید میں وحی کے مختلف طریقوں کو بیان کیا گیا ہے:
”اور ہر بشر کی (یہ) مجال نہیں کہ اللہ اس سےکلام کرے مگر یہ کہ وحی کے ذریعےیا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتے کو فرستادہ بنا کر بھیجے اور وہ اُس کے اِذن سے جو اللہ چاہے وحی کرے“- [24]
خلاصہ یہ ہے کہ وحی اللہ تعالیٰ اور اس کے برگزیدہ بندوں کے درمیان ہدایت کا یقینی اور محفوظ ذریعہ ہے- جس طرح قرآن مجید پر ایمان لانا ہر مکلف (عاقل،بالغ، مسلمان) پر فرض ہے اسی طرح پہلی کتابوں (یعنی تورات، زبور، انجیل) پر بھی اِیمان لانا ضروری ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (ﷺ) سےقبل انبیا ء (علیھم السلام)پر نازل فرمائیں، البتہ ان کے جو احکام ہماری شریعت میں منسوخ ہو گئے ان پر عمل درست نہیں مگر پھر بھی ایمان ضروری ہے-اللہ تعالیٰ نے بعض نبیوں پر صحیفے بھی نازل فرمائے، جن کی تعدادتقریباً104ہے ان پر بھی ایمان لانا ضروری ہے-جیساکہ قرآن مجید میں اہل ایمان کو اس بارے واضح ہدایت فرمائی جا رہی ہے :
”اور وہ لوگ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا (سب) پر ایمان لاتے ہیں“-[25]
ملائکہ:
ایمان بالغیب کے بنیادی ارکان میں ملائکہ پر ایمان بھی شامل ہے- ملائکہ اللہ تعالیٰ کی وہ مخلوق ہیں جو اس کے احکام کی تنفیذ، وحی کی ترسیل اور کائناتی نظم کے اجرا پر مامور ہیں- قرآن و سنت میں ان کے وجود، اوصاف اور افعال کا واضح بیان ملتا ہے-
مثال: جیسے تمام فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اور نور آگ سے زیادہ لطیف اور اشرف ہے-جبکہ فلاسفہ کے نزدیک فرشتے جواہرِ مجردہ ہیں، یعنی وہ موجود تو ہیں مگر کسی خاص حَیز یا مکان میں مقید نہیں ہوتے - [26]
قرآنی آیات:
”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے، فرشتوں کو جو دو دو اور تین تین اور چار چار پَروں والے ہیں“- [27]
عصمت انبیاءِ کرام(علیھم السلام):
نبی کا معصوم( گناہوں سے پاک) ہونا ضروری ہےاور یہ عصمت نبی اور فرشتے کا خاصہ ہے؛ کیونکہ نبی اور فرشتے کے سوا کوئی معصوم نہیں ہو سکتا-
”عصمتِ انبیاء کے یہی معنی ہیں ،کہ اُن کے لئے حفظِ الہٰی کا وعدہ ہو چکا ہے، جس کے سبب اُن سے گناہ ہونا شرعاً مُحال (ناممکن) ہے“- [28]
عِصمتِ انبیاء قرآن کریم کی روشی میں:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے- اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے“- [29]
اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا قول بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم کسی چیز کو بھی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں“- [30]
عصمت انبیاء اور متکلمین کےاقوال:
الفقہ الاکبر میں امام اعظم ابو حنیفہ ؒ فرماتے ہیں کہ:
”تمام انبیاء کرام صغیرہ کبیرہ گناہوں اور کفر و بُری باتوں سے پاک ہیں“- [31]
علامہ سعد الدین تفتازانی ؒ فرماتے ہیں کہ:
” یقیناً انبیائے کرام جھوٹ سے پاک ہیں، خاص طور پر ان باتوں میں جن کا تعلق اَحکامِ شریعت اور اصلاحِ امت سے ہے- نیز انبیائے کرام وحی سے پہلے اور بعد بالاِجماع کفر سے معصوم ہیں“- [32]
قرآن وحدیث اور اقوال ِعلماء و متکلمین کی روشنی سے یہ بات ثابت ہوتی ہےکہ عصمت ایک صفتِ خاصہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں،یعنی انبیائے کرام اور ملائکہ کو عطا فرمائی ہے، لہٰذا انبیاء کرام (علیھم السلام)گناہِ صغیرہ و کبیرہ سے قبل و بعد اعلا ِن نبوّت، پاک و منزہ ہیں-
معجزات انبیاء:
نبی کے دعوئ نبوت میں سچا ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہےکہ نبی اپنے سچے ہونے کا اعلانیہ دعویٰ فرما کر محالاتِ عادیہ یعنی جن کاموں کا عادۃً ہونا ممکن نہ ہو،اُن کے ظاہر کرنے کا ذمہ لیتا ہے اور انکار کرنے والوں کو بھی اُس کے مثل کی طرف بلاتا ہے- اللہ تعالیٰ اُس دعویٰ کے مطابق امرِمُحالِ عادی ظاہر فرما دیتا ہے اور منکرین سب عاجز رہتے ہیں اسی کو معجزہ کہتے ہیں-
جیسےحضرت سیدنا موسی (علیہ السلام) کا عصا اور ید بیضا- چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
” اے موسٰی! اسے (زمین پر) ڈال دو- پس انہوں نے اسے (زمین پر) ڈال دیا تو وہ اچانک سانپ ہوگیا (جو ادھر ادھر) دوڑنے لگا“- [33]
نبی آخر زماں سرور کائنات (ﷺ) کے بھی بہت سے معجزات ہیں جیسے کنکر سے کلمہ پڑھانا اور چاند کے دو ٹکڑے کرنا وغیرہ- معجزات اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کی تائید کے لیے ظاہر کیے جاتے ہیں جو انسانی عقل و قدرت کو عاجز کر دیتے ہیں-
کرامت:
اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنے نیک اور برگزیدہ بندوں سے ایسے امور ظاہر فرماتا ہے جو عادت کے خلاف ہوتے ہیں، مگر وہ نبوت کے دعویٰ یا تحدّی کے بغیر ہوتے ہیں-
”اصطلاحِ علمِ کلام میں کرامت اس خلافِ عادت کام کو کہا جاتا ہے جو محض اللہ کی رضا کے لئے کسی شخص کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والا وہ خلاف عادت کام جو بغیر نبوت کے دعویٰ کے اور مقابلے کے ہو“- [34]
جیسا کہ قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے:
”جب بھی زکریا (علیہ السلام) اس کے پاس عبادت گاہ میں داخل ہوتے تو وہ اس کے پاس (نئی سے نئی) کھانے کی چیزیں موجود پاتے“ -[35]
یہ آیت حضرت مریم (علیھا السلام) کی کرامت کی صریح مثال ہے - قرآنِ مجید، ائمۂ اہلِ سنت اور علمائے کلام(متکلمین) اس بات پر متفق ہیں کہ کرامات کا وقوع حق ہے، تاہم وہ نہ نبوت کا درجہ رکھتی ہیں اور نہ ہی شریعت کا ماخذ بنتی ہیں، بلکہ شریعت کے تابع اور اس کی تصدیق کا ذریعہ ہوتی ہیں-
لوحِ محفوظ:
اسلامی عقیدہ کے مطابق کائنات میں پیش آنے والے تمام امور اللہ تعالیٰ کے علم، ارادے اور تقدیر کے تحت وقوع پذیر ہوتے ہیں- انہی ازلی حقائق کے محفوظ ہونے کا مظہر لوحِ محفوظ ہے، جس پر ایمان تقدیر اور علمِ الٰہی کے جامع تصور کو واضح کرتا ہے،اصطلاحِ علمِ عقائد میں لوحِ محفوظ سے مراد:
”وہ نورانی جسم ہے جس میں قیامت تک جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہوگا وہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے لکھا ہوا محفوظ ہے“- [36]
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”بلکہ یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے، (جو) لوحِ محفوظ میں (لکھا ہوا) ہے“- [37]
یوں واضح ہوا کہ لوحِ محفوظ اللہ تعالیٰ کے کامل علم اور تقدیرِ ازلی کا مظہر ہے، جس پر ایمان انسان کو اطمینان اور ذمہ داری عطا کرتا ہے- قرآنِ مجید کی تعلیمات بتاتی ہیں کہ لوحِ محفوظ کا تصور جبر نہیں بلکہ علمِ الٰہی کی جامعیت کو ظاہر کرتا ہے-
عقیدہ آخرت کے متعلقات:
عقیدہ آخرت:
عقیدۂ آخرت سے مراد مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانے، نیک اور بَد اعمال کا حساب، جنت یا دوزخ کی صورت میں ملنے والی اچھی یا بُری جَزا پر پختہ یقین و ایمان ہے-یہ عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد کا حصہ ہے-بحیثیت مسلمان آخرت پر ایمان و یقین رکھنا،تقاضہ ایمان اور حکم الٰہی کے عین مُطابق ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اور وہ آخرت پر بھی (کامل) یقین رکھتے ہیں“ -[38]
”بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اللہ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے“- [39]
موت:
موت، دنیاوی حیات کے اختتام اور آخرت کے سفر کے آغاز کی علامت ہے- اسلامی عقیدہ کے مطابق موت محض فنا کا نام نہیں بلکہ ایک نئی زندگی میں انتقال ہے، جس کے بعد برزخی اور اخروی مراحل شروع ہوتے ہیں،علمِ عقائد کی اصطلاح میں موت کی یہ تعریف کی جاتی ہے کہ:
”موت ایک وجودی صفت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے، اور یہ حیات کی ضد ہے- موت دراصل روح کا قبض کیا جانا اور اس کا جسم سے جدا ہو جانا ہے“- [40]
موت پر قرآنی آیات:
”ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے“- [41]
”جس نے موت اور زندگی کو (اِس لئے) پیدا فرمایا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے“- [42]
موت اسلامی عقیدے میں ایک تخلیق شدہ حقیقت ہے، جو انسان کو دنیاوی حیات سے نکال کر برزخی اور پھر اخروی زندگی کی طرف منتقل کرتی ہے- قرآنِ مجید، آئمۂ متکلمین اور صوفیاء کرام کے بیانات اس بات پر متفق ہیں کہ موت کے بعد زندگی کا ایک نیا مرحلہ یقینی طور پر شروع ہوتا ہے-
قرآنی مجید اور یوم حساب:
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے؛
”اور ہم قیامت کے دن عدل و انصاف کے ترازو رکھ دیں گے“- [43]
مزید فرمایا:
”(اس سے کہا جائے گا:) اپنی کتابِ (اَعمال) پڑھ لے، آج تو اپنا حساب جانچنے کے لئے خود ہی کافی ہے“- [44]
غرضیکہ حساب قیامت کے دن انسانی اعمال کے مکمل محاسبے کا نام ہے - قرآنِ مجید اور ائمۂ اہلِ سنت کے اجماعی عقیدے کے مطابق حساب پر ایمان انسان کو دنیا میں ذمہ دارانہ اور محتاط زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے-
مسئلہ خیر و شر:
خیرعربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی نیکی اور بھلائی کے ہیں خصوصاً جب کوئی نیکی اپنے کمال کو پہنچ جائے تو اسے لفظ خیرسے تعبیر کیا جاتا ہےجبکہ شر کا لفظ بُرا، بُرائی اور تکلیف سب معنوں میں استعمال ہوتا ہے- اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر ضروریات کے ساتھ ساتھ مزید چند ذمے داریاں بھی عائد کی ہیں جو نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کی فلاح و بہبود اور بہتری کیلئے ازحد ضروری ہیں- ان ذمے داریوں میں سب سے اہم ذمہ داری معاشرےمیں شر کا سد باب اور خیر کا فروغ ہے-اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
”تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہےتم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو“- [45]
اللہ تعالیٰ کی طرف شر کی نسبت؟
حقیقی طور پرتمام چیزوں کواللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے اور جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اذن سے ہوتا ہے، باقی رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی بھی اس میں شامل حال ہوتی ہے یا نہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہوتی ہے کہ انسان خیر اور بھلائی کی راہ اختیار کرے اور شر کی راہ اختیار نہ کرے- تاہم دنیا میں جوشر پیدا ہوتا ہے وہ بھی اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہوتا، گو یا اذن الٰہی اور رضائے الٰہی میں یہ فرق ہے-اللہ تعالیٰ کو کائنات میں ہونے والی ہر چیز کے بارے میں علم ہے ماضی، حال اور مستقبل میں کیا کیا ہوگا وہ تمام جانتا ہےاور اس کے علم میں ہے- اس نے ہر ایک چیز کو اپنے علم سے اپنے پاس لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے نیکی اور بھلائی کے کاموں میں اس کی رضا و قدرت شامل ہوتی ہے جب کہ برائی میں اس کی چاہت اور ارادہ نہیں ہوتا-
خلاصہ یہ کہ انسان کو جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جواسے برائی پہنچتی ہے وہ خود اس کے نفس کی طرف سے ہے-
مسئلہ تقدیراورجبروقدر:
اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ تقدیر کا بھی ہے، جو کہ قرآن وسنت کی متعدد نصوص سے ثابت ہے- شریعت اسلامیہ میں تقدیرسے مراد جو کچھ اب تک ہوچکا، جو ہورہا ہے اور جو کچھ آئندہ ہوگا، سب اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں ہے اور اُس کے مطابق ہو رہا ہے-جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہو وہی ہوتا ہے اور جو اس کو منظور نہ ہو وہ نہیں ہوتا- اللہ تعالیٰ انسان کا بھی خالق ہے اور اس کے افعال و اعمال کا بھی خالق ہے- جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”حالانکہ اللہ نے تمہیں اور تمہارے (سارے) کاموں کو خَلق فرمایا ہے“-[46]
اللہ تعالیٰ کو تمام کائنات پیدا کرنے سے پہلے اس کا علم تھااسی علم کو تقدیر سے تعبیر کیا جاتا ہے-قرآن مجید میں بہت سی آیات کوذکر کیا گیا ہے- چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں ہے، بیشک یہ سب کتاب (لوحِ محفوظ) میں (درج) ہے، یقیناً یہ سب اللہ پر (بہت) آسان ہے“-[47]
تقدیر اور مقامِ انسان:
تقدیر کی وجہ سے انسان کسی عمل پر مجبور نہیں ہو جاتا، اس کو سمجھنے کے لئے تین نکات اہم ہیں:
علم الٰہی:
اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے، اسے معلوم ہے کہ کیا چیز کیسی ہوگی- اللہ تعالیٰ کا علم قطعی اور کامل ہے اس لئے اس کے خلاف پیش آ ہی نہیں سکتا، جبکہ انسان کا علم قیاس و اندازے پر مشتمل ہوتا ہے، غلط ثابت ہو سکتا ہے-یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سوچنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دی ہے-اسی صلاحیت کی وجہ سے انسان چاہے تو نیکی کرے یا برائی یہ فیصلہ وہ خود کرتا ہے-لہٰذا جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے،تو وہ یہ کام اپنی مرضی اور ارادے سے کرتا ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زبردستی ایسا کرنے پر مجبور کیا ہو تا ہے-
ارادہ و کسب:
ہر انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارادہ کرنے کی آزادی دی گئی ہے، انسان چاہے تو نیکی کا ارادہ بھی کر سکتا ہے اور بدی کا بھی، انسان کو ثواب و عذاب دراصل اسی قوت ارادہ کے صحیح و غلط استعمال کی وجہ سے دیا جاتا ہے-قرآن پاک میں اس ارادہ کو کسب کہا گیا ہے-ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”اس نے جو نیکی کمائی اس کے لئے اس کا اجر ہے اور اس نے جو گناہ کمایا اس پر اس کا عذاب ہے“- [48]
مشیت ایزدی:
اگرچہ انسان کو قوت ارادی عطا ہوئی ہے مگر پھر بھی صرف انسان کے ارادے سے کوئی بھی چیز وجود میں نہیں آتی جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت شامل نہ ہو- جب انسان اچھائی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ اس کی مدد فرماتا ہے، اسی طرح جب انسان گناہ پر اپنا ارادہ یا آمادگی ظاہر کرتا ہے تو اللہ اس میں اپنی مشیت شامل فرماتا ہے- ارشادباری تعالیٰ ہے :
”پس جس نے (اپنا مال اللہ کی راہ میں) دیا اور پرہیز گاری اختیار کی- اور اس نے (اِنفاق و تقوٰی کے ذریعے) اچھائی (یعنی دینِ حق اور آخرت) کی تصدیق کی-تو ہم عنقریب اسے آسانی (یعنی رضائے الٰہی) کے لئے سہولت فراہم کر دیں گے-اور جس نے بخل کیا اور (راہِ حق میں مال خرچ کرنے سے) بے پروا رہا-اور اس نے (یوں) اچھائی (یعنی دینِ حق اور آخرت) کو جھٹلایا-تو ہم عنقریب اسے سختی (یعنی عذاب کی طرف بڑھنے) کے لئے سہولت فراہم کر دیں گے (تاکہ وہ تیزی سے مستحقِ عذاب ٹھہرے) “-[49]
پس ثابت ہوا کہ انسان مجبور محض نہیں ہے وہ تکوینی معاملات مثلاً شکل و صورت اور رنگ و روپ وغیرہ میں تو مجبور ہے، مگر اپنے عمل میں اس کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی گئی ہے اور اس کی وجہ سے ہی اسے ثواب یا عذاب دیا جاتا ہے-
مسئلہ تقدیر اور اقوال علماء:
علامہ میر سید شریف الجرجانی ؒ کتاب التعریفات میں تقدیر کی یوں تعریف کرتے ہیں:
”تقدير ہرمخلوق کی اچھائی اور برائی ، فائدہ اور نقصان یااس کے علاوہ جو ان میں پایا جاتا ہےاس مقرر کردہ حد کا نام اس کی تقدیر ہے“ -[50]
علامہ سعد الدین تفتازانیؒ شرح عقائد نسفیہ میں تقدیر کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
”یہ (تقدیر) مخلوق کی اس کے حسن و قبح ، نفع اور نقصان اس کے زمانہ ( مدت حیات ) اُس کے رِہنے کی جگہ اور اس کے ثواب و عذاب کی مقرر کردہ حد کا نام اس کی تقدیر ہے“-[51]
عقیدہ اہلسنت یہ ہے کہ انسان نہ پتھر کی طرح مجبورِ محض ہے نہ خود مختار، بلکہ ان دونوں کے درمیان میں ایک حالت ہے،جس کی حقیقت خدا کا ایک رازاور ایک نہایت گہرا دریا ہے-
مسئلہ حسن و قبح :
اللہ تعالیٰ جس فعل کا حکم دے وہ فعل اچھا ہوگا اور جس فعل سے منع کر دے وہ برا ہوگا، اللہ تعالیٰ کا حکم تو نبی کے ذریعے آتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ حکم الٰہی کے وَرُود سے قبل ہی پہلے فعل کی خوبی اور دوسرے فعل کی خرابی سمجھ آ جاتی ہے؟ اللہ تعالیٰ کے حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ اول حسن اور ثانی قبیح ہے، اس سلسلے میں یہ دونوں نظریے ہو سکتے ہیں- اگر حسن و قبح حکم الٰہی کے ورود سے قبل ہی معقول ہو تو اس کا منشا یہ ہوگا کہ حکم الٰہی حکمت کے خلاف نہیں ہوتا، جو حکمت کا تقاضا ہوتا ہے اسی کے مطابق حکم آتا ہے اور دوسرے نظریے کی تقدیر پر اس کا منشاء یہ ہوگا کہ حاکم مطلق، اللہ تعالیٰ ہے، جو کسی چیز کے تابع نہیں، اسی کا حکم کسی فعل کو حسن اور اسی کی ممانعت کسی فعل کو قبیح بناتی ہے اس کے حکم سے قبل کسی فعل میں حسن و قبح کا کوئی معنی نہیں-
حسن و قبح پر اقوال علماء:
شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں کہ :
”اچھا کام وہ ہے جسے حضورنبی اکرم (ﷺ) نے اچھا کہا اور برا کام وہ ہے جس سے حضور نبی اکرم (ﷺ) نے منع کیا- بذات خود نہ کوئی کام اچھا ہے نہ برا“- [52]
شیخ ابو زہرہ مصریؒ کہتے ہیں کہ :
”معتزلہ کے نزدیک جو چیز عقلا حسن ہو وہ واجب الفعل ہوتی ہے اور جو قبیح ہو وہ حرام ہوتی ہے مگر ماتریدیہ اس حد تک تجاوز نہیں کرتے بلکہ امام اعظم ابو حنیفہ ؒکی اتباع میں یہ کہتے ہیں کہ اگر عقلاً اشیاء کے حسن و قبح کا ادراک ممکن ہے مگر آدمی اس وقت تک مکلف و مامور نہیں ہوتا جب تک شارع حکم نہ دے اس لئے کہ عقل بالاستقلال، دینی احکام صادر نہیں کر سکتی بلکہ احکام صادر کرنا صرف اور صرف ذات باری تعالیٰ کو زیب دیتا ہے“ -[53]
حاصلِ کلام :
حاصلِ بحث یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں بیان کردہ بنیادی عقائد جیسے توحید، نبوت و رسالت، وحی، آخرت ،خیر و شر اور مسئلہ تقدیر کی صحیح تفہیم و معرفت کے لیے علمِ الکلام سے آشنائی ناگزیر ہے- یہ علم نہ صرف اسلامی عقائد کی فکری وعملی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے بلکہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو عقل و استدلال کے تناظر میں واضح کرنے اور عہدِ جدید کے فلسفیانہ، سائنسی و نظریاتی چیلنجز کا مؤثر جواب دینے کا ذریعہ بھی ہے- مزید یہ کہ علم الکلام اسلامی عقائد کو نقلی و عقلی دلائل کے ذریعے واضح کرتے ہوئے ایمان کی فکری و عملی پختگی کو ممکن بناتا ہے- غرضیکہ عصرِ حاضر میں جب اسلامی عقائد کو نظریاتی، فلسفیانہ اور سائنسی چیلنجز کا سامنا ہے ایسے میں علمِ الکلام قرآنِ کریم میں عقائد کی تفہیم کےلیے بنیادی و لازمی کردار اداکرتا ہے-
٭٭٭
[1](البقرۃ:44)
[2](الحجرات: 15)
[3](اسلامی عقائد و مسائل، ص:78)
[4](الانبیاء:22)
[5](رسالۃ فی التوحید،ابو منصور ماتریدی، الفصل الثامن، ص46)
[6](الشوریٰ:11)
[7](الحدید:3)
[8](البقرۃ:255)
[9](فاطر:15)
[10](النحل:36)
[11](بغدادی، عبد القاہر بن طاہر، الفرق بين الفرق، دار الآفاق الجدیدۃ، بیروت، ص:206)
[12](الاسراء:1)
[13](الاسراء:60)
[14](شرح المقاصد في علم الكلام)
[15](الضحیٰ: 5)
[16](البقرۃ:144)
[17](الاسراء:79)
[18](المعتقد المنتقد،باب نبوت)
[19](سنن الترمذی، کتاب المناقب)
[20](شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، ج:12، ص:323، دار الكتب العلمية، بیروت، لبنان)
[21](الاحزاب:40)
[22](الاقتصاد فی الاعتقاد،باب:4،ص:137، دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان)
[23]( نسیم الریاض،ج:6،ص:355)
[24](الشوریٰ:51)
[25](البقرہ : 4)
[26]( بغیۃ المرید للمار غنی، ص:16)
[27](الفاطر:1)
[28](الحبائک فی اخبار الملائک، ص:82)
[29](النجم:3-4)
[30](یوسف:38)
[31]( الفقہ الاکبر،ص:169)
[32](شرح عقائد نسفیہ،ص:215)
[33]( طہ:19-20)
[34](معجم مقالید العلوم للسیوطی، ص:75)
[35](آل عمران:37)
[36](بغیۃ المرید للمارغنی، ص:149)
[37](البروج:21-22)
[38](البقرۃ:4)
[39](البقرۃ:177)
[40](التوقیف للمناوی، ص:318)
[41]( آل عمران: 185)
[42]( الملک: 2)
[43](الأنبیاء:47)
[44](الإسراء:14)
[45]( آل عمران:110)
[46](الصافات:96)
[47](الحج:70)
[48](البقرۃ:286)
[49](الیل:5-10)
[50](جرجانی، سید شریف علی بن محمد، کتاب التعریفات، لاہور، مکتبہ رحمانیہ، ص:47)
[51](تفتازانی، سعد الدین مسعود بن عمر، شرح عقائد نسفیہ، مکتبۃ المدینہ، کراچی، ص:206)
[52](شیخ، عبدالحق محدث دہلوی، تکمیل الایمان، مکتبہ نبویہ، لاہور، ص:28)
[53](شیخ محمد ابو زہرہ مصری، اسلامی مذاہب، مترجم پروفیسر غلام احمد حریری، ملک سنز، ص:303)