نماز جمعہ کے احکام و مسائل

نماز جمعہ کے احکام و مسائل

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’یٰٓاَیُّہَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ  فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللہِ  وَ ذَرُوا  الْبَیْعَ‘‘[1]

’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر (خطبہ و نماز) کی طرف جلدی کرو اور خرید و فروخت چھوڑ دو‘‘-

رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’جمعہ ہر مسلمان(عاقل ،بالغ ،آزاد وصحت مند مرد) پر جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب(فرض) ہے‘‘- [2]

نماز جمعہ اسلام کا عظیم شعار ہے، یہاں تک کہ قرآنِ پاک میں پوری سورت ” سورۂ جمعہ “ نازل ہوئی- دنیاوی زندگی کاآغاز بھی اسی دن اور انجام بھی اسی دن ہے- اس کی فرضیت قرآن واحادیث نبویہ (ﷺ)سے ثابت ہے، ترک پر سخت وعید آئی ہے، ذیل میں مختلف پہلوؤں سے اس کے بارے میں گفتگو کی سعی سعید کرتے ہیں -

لفظ جمعہ کی وجہ تسمیہ :

امام  قرطبیؒ لکھتے ہیں:

’’لفظ ’’جمعہ‘‘ میم کے ضمہ (الْجُمُعَةُ) اور میم کے سکون (الْجُمْعَةُ) ہر دو طرح سے پڑھاگیا ہے-ان دونوں کی جمع (جُمَعٌ وَجُمُعَاتٌ)آتی ہے- سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا :اسے جمعہ کا نام (اس لیے ) دیا گیا کیونکہ اس روز اللہ عزوجل نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو جمع فرمایا‘‘-

ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ عزوجل اس دن میں ہر تخلیق سے فارغ ہواتو اس میں مخلوق جمع ہوگئیں -ایک قول کے مطابق لوگ اس میں نماز کے لیے جمع ہوتے ہیں اس لیے اس کو جمعہ کا نام دیاگیا -

سب سے پہلے کعب بن لوئ نے جمعہ کو جمعہ کا نام دیا ، کعب بن لوئ قریش کی شاخ بنی فہر سے تھے اور حضور رسالت مآب (ﷺ) کے شجرہ مبارکہ میں آٹھویں جدِ اعلیٰ ہیں - (کعب بن لوی اس دن اپنی قوم کو حرم شریف میں جمع کر کے ان کو وعظ کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اس حرم سے ایک نبی کا ظہور ہونے والا ہے اور یہ کہ عہد جاہلیت میں اس دن کو ’’عَرُوبَة‘‘کہا کرتے تھےاور جمعہ کا لغوی معنی مجتمع ہونا اوراکٹھا ہوناہے)-

حضور نبی کریم (ﷺ) کے مدینہ تشریف لانے سے پہلے اور جمعہ کی فرضیت نازل ہونے سے پہلےاہل مدینہ جمع ہوئے اور ان ہی لوگوں نے اس دن کا نام الجمعہ رکھا انہوں نے کہا: یہود نے سنیچر ( ہفتہ ) کا دن معین کیا ہے اور نصاری نے اتوار کا دن معین کیا ہے، پھر ہم ’’عَرُوبَةِ‘‘  کا دن معین کرتے ہیں، پھر وہ سب حضرت اسعد بن زرارة (ابوامامہ) (رضی اللہ عنہ)کے پاس گئے اور انہوں نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ان کو وعظ کیا، پھر جس دن وہ جمع ہوئے تھے اس دن کا نام انہوں نے یوم الجمعہ رکھا- حضرت اسعد بن زرارہ (رضی اللہ عنہ) نے ان کے لیے بکری ذبح کی انہوں نے رات کا کھانا بھی اسی سے کھایا اوردن کا کھانا بھی اسی سے کھایا اسلام میں یہ پہلا جمعہ تھا ‘‘- [3]

نماز جمعہ کی فضیلت احادیث مبارکہ کی روشنی میں :

جمعہ کا دن گناہوں کے کفارے کا ذریعہ:

حضرت سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا :

’’جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق طہارت اختیار کرے، تیل لگائے یا خوشبو لگائے، پھر (مسجد جا کر) دو آدمیوں کو جدا نہ کرے(یعنی جہاں جگہ ملے بیٹھ جائے )پھر جتنی نماز نصیب ہو پڑھے اور جب امام( خطبہ کے لیے )نکل آئے تو وہ خاموش رہا، تو اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں‘‘-[4]

 اورمسلم شریف کی روایت میں ہے کہ

’’اور ان کے علاوہ مزید تین دن کے گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘-

 جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت:

حضرت ابوسعید خُدری (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا :

’’جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کی، اس کیلئے اگلے جمعہ تک نور روشن ہوجاتا ہے‘‘- [5]

 جمعہ کے دن جلدی آنے کی فضیلت:

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا :

’’جو شخص جمعہ کے دن اس طرح غسل کرے جس طرح غسل جنابت کرتا ہے پھروہ (نماز جمعہ کے لیے ) چلاگیاتو گویا اس نے (اللہ کے راستے میں) اونٹ کا صدقہ کیا، جو دوسری ساعت میں گیاتوگویا اس نے گائے کا صدقہ کیا، جو تیسری ساعت میں گیا تو اس نے گویا سینگ والے مینڈھے کا صدقہ کیا ،جو چوتھی ساعت میں گیا تو گویا اس نے مرغی کا صدقہ کیا اورجو پانچویں ساعت میں گیا اس نے گویا انڈہ صدقہ کیا-پس جب امام (خطبہ دینے کیلئے) آجائے تو فرشتے (حاضری کا رجسٹر بند کر کے)آجاتے ہیں اور خطبہ سننے لگتے ہیں ‘‘- [6]

اسی طرح حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’جمعہ کے دن فرشتوں کو مساجد کے دروازوں پر بھیج دیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کی آمد لکھتے رہتے ہیں- جب امام آ جاتا ہے تو رجسٹر بند کر دیئے جاتے ہیں اور قلم روک لیے جاتے ہیں- فرشتے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: فلاں آدمی کو (جمعہ میں آنے سے) کسی چیز نے روکا ہے؟ پھر فرشتے عرض کرتے ہیں : اے اللہ! اگر وہ گمراہ ہے تو اسے ہدایت دے، اگر وہ بیمار ہے تو اسے شفا دے اور اگر وہ تنگ دست ہے تو اسے دولت مند بنا‘‘- [7]

جمعہ کی انفرادیت :

حضرت ابو لُبابہ بن عبد المُنذِر (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا :

’’بے شک جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے عظمت والا ہے، اللہ عزوجل کے ہاں یہ قربانی کے دن اور عیدالفطر کے دن سے بھی افضل ہے-اس میں پانچ بڑے بڑے امور وقوع پذیر ہوئے: اللہ تعالیٰ نے اس میں حضرت آدم (علیہ السلام)کو پیدا فرمایا،اس دن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام)کو زمین کی طرف اتارا ،اس میں اللہ تعالٰی نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی روح قبض فرمائی، اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس میں کوئی بھی بندہ اللہ عزوجل سے جوسوال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عطافرماتاہے -جبکہ اس میں کسی حرام چیز کا سوال نہ کرے - اسی دن میں قیامت برپا ہوگی کوئی مقرب فرشتہ، کوئی آسمان، کوئی زمین، کوئی ہوا ،کوئی پہاڑ اور کوئی سمندر ایسا نہیں مگر وہ سب جمعہ کے دن سے ڈرتے ہیں‘‘-[8]

قبولیت کی گھڑی:

حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے جمعہ کے دن کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’اس میں ایک ساعت ہے جو مسلمان بندہ اسے پائے اس حال میں کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو تو اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگے گا وہی عطا فرما دی جائے گی اور حضور نبی رحمت (ﷺ)نے اپنے دستِ اقدس کے اشارے سے بتایا کہ وہ وقت تھوڑا ہے-‘‘

مختصر وضاحت:

اس ’’ساعت‘‘ جس میں ہر دعا قبول ہوتی ہے اس کے بارے میں کئی اقوال ہیں- یہاں پر امام ترمذیؒ کی ذکر کردہ روایت مبارک لکھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور اسی روایت کو کئی محدثین کرام نے ذکر فرمایا ہے-

’’حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)فر ماتے ہیں میں نے حضرت عبد اللہ بن سلام (رضی اللہ عنہ)سے ملاقات کی اور ان سے اس حدیث پا ک کا ذکر کیا تو حضرت عبد اللہ بن اسلام (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا:میں اس قبولیت کی گھڑی کو جانتا ہوں میں نے کہا مجھے بھی بتائیں اور اس کے بتانے میں بخل نہ کریں تو حضرت عبداللہ بن سلام(رضی اللہ عنہ) نے فرمایا وہ ’’ساعت‘‘عصر کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک ہے -میں نے عرض کی عصر کے بعد کیسے ہو سکتی ہے؟ جبکہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کی حالت نماز کی وہ گھڑی ہوتی ہے اور اس ساعت میں تو نماز نہیں پڑھی جاتی- اس پر عبد الله بن سلام (رضی اللہ عنہ) نے (وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا کیا اللہ کے رسول (ﷺ) نے ارشادنہیں فرمایا کہ جو شخص نماز کی انتظار میں بیٹھے وہ نماز میں شمار ہوتا ہے؟ میں نے کہا ہاں! (فرمایا ہے ) فرمانے لگے پس وہ یہی ہے(یعنی عصر کی نماز کے بعد کا وقت ہے )‘‘- [9]

سال کے روزوں اور شب بیداریوں کا ثواب:

حضرت عبداللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’جو شخص جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کرے، امام کے نزدیک ہو کربیٹھے، توجہ سے (خطبہ )سُنے اورخاموش ہو کر بیٹھا رہے تو اس کو ہر قدم کے عوض جو اس نے (مسجد کی طرف نماز جمعہ کے لیے) اُٹھایا ایک سال کے روزوں اور ایک سال کی شب بیداریوں کا ثواب ملے گا‘‘- [10]

بہترین دن:

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نےارشادفرمایا:

’’بہترین دن، جس میں سورج نکلتا ہے ، جمعہ کا دن ہے- اسی دن (سیّدنا) آدم (علیہ السلام)پیدا ہوئے، اسی دن جنت میں داخل کئے گئے، اسی دن جنت سے (زمین پر) اتارے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی قائم ہو گی‘‘- [11]

جمعہ چھوڑنے پر وعید:

حضرت ابو الجَعد ضَمری (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نےارشاد فرمایا:

’’جو شخص سستی کی وجہ سے تین جمعہ چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے‘‘- [12]

ایک اور روایت میں سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’ لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ غافل ہو جائیں گے‘‘-[13]

 مزید ارشادفرمایا:

’’میرا دل چاہتا ہے کہ میں کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ان لوگوں کے گھروں کو جلا دوں جو( بلا عذر) جمعہ میں نہیں آتے‘‘-[14]

حضرت سمُرہ بن جندب(رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’جس نے جان بوُجھ کرنمازِ جمعہ ترک کی تووہ ایک دینار صدقہ کرے اور اگر وہ ایک دینار نہ پائے تو نصف دینار صدقہ کرے‘‘- [15]

جمعہ المبارک کو وفات پانے والے کے لیے بخشش کی نوید:

حضرت عبداللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:

’’جو مسلمان جمعہ کے دن یا رات (جمعرات کا دن ختم ہو کر جورات آتی ہے اس) میں انتقال کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کو عذابِ قبر سے محفوظ رکھتے ہیں(یعنی سوال و جواب اور عذاب سب سے حفاظت ہو جاتی ہے )‘‘-[16]

مختصر وضاحت:

رمضان المبارک اور جمعہ کے دن انتقال کرنے والے دونوں کےبارے میں روایات میں آتا ہے کہ ان سے قبر کا عذاب ہٹادیا جاتا ہے، جمعہ کی رات یعنی جمعہ سے پہلے والی رات کا بھی یہی حکم ہے-اب یہ عذاب صرف رمضان المبارک اور جمعہ کے دن ہٹایا جاتا ہے یا تاقیامت، تو اس کے بارے میں زیادہ راجح یہی قول معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے حق میں یہ حکم عمومی ہے کہ اگر کسی مسلمان کا انتقال رمضان المبارک یا جمعہ کے دن ہوجائے تو تا قیامت عذابِ قبر سے محفوظ رہے گااور اللہ کی رحمت سے یہ بعید بھی نہیں کہ وہ حشر میں بھی اس سے حساب نہ لیں-

نماز جمعہ کی ادائیگی کا طریقہ اور شرائط:

مختلف کتب فقہ (نورالایضاح، ہدایہ، بدائع الصنائع وغیرہ ) کی روشنی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کا مختصر طریقہ اور اس کے صحیح ہونے کی شرائط درج ذیل ہیں:

نمازِ جمعہ فرض عین ہے، یعنی ہر مقیم، آزاد، بالغ، عاقل، صحت مند مرد مسلمان پر فرض ہے-عورتیں، بچے، بیمار، مسافر پر جمعہ فرض نہیں، لیکن اگر شامل ہوں تو ثواب پائیں گے-یہ نماز ظہر کی جگہ ادا کی جاتی ہے- اس کا مختصر طریقہ کچھ یوں ہے جمعہ کی نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ جمعہ کی پہلی اذان کے بعد خطبہ کی اذان سے پہلے چار رکعت سنت پڑھے، یہ مؤکدہ سنتیں ہیں، پھر خطبہ کے بعد جمعہ کی دو رکعت فرض امام کے ساتھ پڑھے، پھر چار رکعت سنت پڑھے، یہ سنتیں بھی مؤکدہ ہیں، پھر دو رکعت سنت پڑھے، یہ دو رکعت بھی بعض حضرات کے نزدیک مؤکدہ ہیں- واضح رہے کہ جمعہ کے دن فرض نماز سے پہلے والی چار سنتیں رہ جائیں تو بہتر یہ ہے کہ فرض کے بعدوالی سنت مؤکدہ اداکرنےکے بعد پہلے والی چار رکعتیں اداکرلےاور اگر فرض کی ادائیگی کے بعد جمعہ سے پہلے والی چارسنتوں کومقدم کر دے اورپھربعد والی چھ رکعات سنتیں اداکر لے دونوں صورتیں جائز ہیں -

نماز جمعہ کی ادئیگی کے لیے شرائط یہ ہیں :

  1. شہر یا اس کے مضافات
  2. ظہر کا وقت ہو
  3. جمعہ کی نماز سے پہلے خطبہ پڑھنا-
  4. جماعت یعنی امام کے علاوہ کم از کم تین آدمیوں کا ہونا اگرچہ بیمار یا مسافر ہوں
  5. 5:اذنِ عام کے ساتھ نمازِ جمعہ کا پڑھنا-

مسائل جمعہ:

مسئلہ: جمعہ کے دن غسل کرنا چاہیے کیونکہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا :

’’جب تم میں سے کوئی جمعہ (کی نماز) کے لیے آئے تو اسے غسل کرنا چاہیے‘‘- [17]

مسئلہ: جمعۃ المبارک کے دن درود پاک کا خاص اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ سیدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’اس دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ تمہارا دردو مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ‘‘-[18]

مسئلہ: جمعہ کا خطبہ نہایت خاموشی اور اہتمام کے ساتھ سماعت کریں کیونکہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’جس نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران کسی سے کہا: چپ رہو تو اس نے لغو بات کی(یعنی اگر کوئی دوسرا گفتگو کرے تو اسے بھی منع نہ کرے)‘‘-[19]

مسئلہ:بعض لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جاتے ہیں انہیں تنبیہ فرماتے ہوئے شفیع معظم، نورمجسم (ﷺ) نے ارشادفرمایا :

’’جس نے کوئی لغو کام کیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگیں تو اس کے لیے یہ ظہر ہی ہو گی ( یعنی ظہر کی نماز کا ثواب ہو گا نہ کہ جمعہ کا )‘‘-[20]

مختصر وضاحت:

بہتر یہ ہے کہ حدیث کے عموم پر عمل کرتے ہوئے خالی جگہ پر جانے کے لیے گردنیں نہ پھلانگے، ہاں اگر اچھے سلیقے سے گزرے، بیٹھے ہوئے لوگوں کی اجازت سے آگے خالی جگہ کی جانب بڑھے تو امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے-

مسئلہ:جس شہر پر کفار کا تسلط ہو گیا ہو وہاں بھی جمعہ جائز ہے جب تک دار الاسلام رہے-[21]

مسئلہ:شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہو سکتا ہے،خواہ وہ شہر چھوٹا ہو یا بڑا اور جمعہ دو مسجدوں میں ہو یا زیادہ-[22]

مسئلہ: جو جگہ شہر سے قریب ہے مگر شہر کی ضرورتوں کیلئے نہ ہو اور اس کے اور شہر کے درمیان کھیت وغیرہ فاصل ہو تو وہاں جمعہ جائز نہیں اگرچہ اذانِ جمعہ کی آواز وہاں تک پہنچتی ہو-[23]

مسئلہ: ہروہ مقام جہاں جمعہ ہونے یا نہ ہونے میں شک کی وجہ سے جوازِ جمعہ میں شک ہو جائے وہاں جمعہ کے بعد چار رکعت بہ نیت ظہر ادا کی جائے گی تاکہ اگر جمعہ نہ ہوا تو وقتی فرض کی ادائیگی بالیقین ہو سکے-[24]

مسئلہ: اگر نمازِ جمعہ سے فراغت سے پہلےظہر کا وقت نکل جائے تو نمازِ جمعہ فاسد ہو جائے گی اور ان پر نئے سرے سے نمازظہر پڑھنا لازم ہوگا- اسی طرح اگر تشہد کی مقدار قعدہ کرنے کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے وقت نکل جائے تو بھی یہی حکم ہوگا یہ امام ابو حنیفہؒ کا قول ہے( اب وہ ظہر کی قضا کرے گا-[25]

مسئلہ : خطبہ و نماز میں اگر زیادہ فاصلہ ہو جائے تو وہ خطبہ کافی نہیں ہے-[26]

مسئلہ: جمعہ کی امامت ہر مرد کر سکتا ہے جو اور نمازوں میں امام ہو سکتاہواگرچہ اس پر جمعہ فرض نہ ہو جیسے مریض، مسافر اور غلام وغیرہ-[27]

مسئلہ: جس نے جمعہ کا قعدہ پا لیا یا سجدہ سہو کے بعد شریک ہوا اسے جمعہ مل گیا- لہٰذا اپنی دو ہی رکعتیں پوری کرے-[28]

مسئلہ: امام جمعہ کی بلا اجازت کسی نے جمعہ پڑھایا اگر امام یا وہ شخص جس کے حکم سے جمعہ قائم ہوتا ہے شریک ہو گیا تو ہو جائے گا ورنہ نہیں -[29]

مسئلہ:خطبہ میں آیت نہ پڑھنا یا دونوں خطبوں کے درمیان جلسہ نہ کرنا یا ،خطبہ کے دوران کلام کرنا مکروہ ہے البتہ اگر خطیب نے نیک بات کا حکم کیا یا بری بات سے منع کیا تو اسے اس کی ممانعت نہیں-[30]

مسئلہ:جو شخص مریض کا تیماردار ہو ،جانتا ہے کہ جمعہ پر وہ جائے گا تو مریض مشکل میں پڑ جائے گا اور اس کا کوئی پرسانِ حال نہ ہوگا تو اس تیمار دار پر جمعہ فرض نہیں-[31]

مسئلہ:خطبہ ختم ہو جائے تو فوراً اقامت کہی جائے خطبہ و اقامت کے در میان دنیا کی بات کرنا مکروہ ہے-[32]

مسئلہ: نماز جمعہ کے لیے پہلے جانا ،مسواک کرنا ،اچھے اور سفید کپڑے پہننا اور تیل اور خوشبو لگانا اور پہلی صف میں بیٹھنا مستحب ہے -[33]

مسئلہ:اگر کوئی مسافر جمعہ کے دن شہر میں اس ارادے سے آئے کہ وہ جمعہ کے دن نہیں نکلے گا تو اس پر جمعہ واجب نہیں جب تک پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرے- [34]

خلاصہ کلام:

اللہ عزوجل نے انبیاء کرام (علیھم السلام) میں ہمارے نبی جناب محمد رسول اللہ(ﷺ) کوسید الانبیاءبنایا، فرشتوں میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو سیّد الملائکہ بنایا، کتابوں میں قرآنِ کریم کو سیّد الکتب بنایا اور مہینوں میں رمضان المبارک کو سیّد الشہور بنایا اسی طرح ہفتہ کے دنوں میں جمعہ کو سیّد الایام اور افضل الایام بنایا، اس دن کی نماز اور خطبہ مومن کے لیے باعث مغفرت اور درجات کی بلندی ہے-احادیث مبارکہ کے مطابق ’’جمعہ کا دن مسلمانوں کی عید ہے اور جُمُعہ کی نماز کو مساکین و فقراء کا حج قراردیاگیا-لہٰذا جمعہ کے دن غسل کرنا ،خوشبو لگانا، مسواک کرنا ،اچھے کپڑے پہننا ، جلدی مسجد جانا، خاموشی سے خطبہ سننا، درود شریف کی کثرت کرنا، دعا کا اہتمام کرنا ، نفلی عبادات اور صدقہ و خیرات کرنا یہ سب اعمال ہمارے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں اور جمعہ کے دن کی عظمت کو مزید بڑھا دیتے ہیں- اللہ پا ک ہم سب کو اس دن کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے -آمین!

٭٭٭


[1](الجمعہ:9)

[2](سنن ابو داؤد، كِتَاب الْأَدَبِ)

[3]( تفسير القرطبي زیرِآیت الجمعۃ:9)

[4](صحیح بخاری، كِتَابُ الجُمُعَةِ)

[5](المستدرك على الصحيحين، باب: تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)

[6](صحیح البخاری، باب فضل الجمعۃ)

[7](صحیح ابن خزیمہ، كِتَابُ الْجُمُعَةِ )

[8](سنن ابن ماجة، بَابٌ فِي فَضْلِ الْجُمُعَةِ)

[9](سنن ترمذی، بَابٌ فِي السَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى فِي يَوْمِ الجُمُعَةِ)

[10](المستدرك على الصحيحين ،كِتَابُ الْجُمُعَةِ)

[11](صحیح مسلم، بَابُ فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ)

[12](سنن ابی داؤد، بَابُ التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِ)

[13](صحیح مسلم، باب التغلیظ فی ترک الجمعۃ)

[14](صحیح مسلم، بَابُ فَضْلِ صَلَوۃِ الْجَمَاعَةِ،  وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا)

[15](سنن ابی داؤد، بَابُ كَفَّارَةِ مَنْ تَرَكَهَا)

[16](سنن الترمذی ، بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ يَوْمَ الجُمُعَةِ)

[17](صحیح البخاری، باب: بَابُ فَضْلِ الغُسْلِ يَوْمَ الجُمُعَةِ)

[18](سنن ابی داؤد،بَابُ فَضْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةِ الْجُمُعَةِ)

[19]سنن الترمذی

[20]سُنن ابی داؤد

[21]ردالمحتار

[22]الدر المختار

[23]الفتا ویٰ ہندیہ

[24]الفتا ویٰ رضویہ

[25]الفتا ویٰ قاضی خان

[26]رد المحتار

[27]الدر المختار

[28]الفتاویٰ ہندیہ

[29]درمختار،ردالمحتار

[30]عالمگیری

[31]درمختار

[32]در مختار

[33]عالمگیری،غنیہ

[34]فتاوٰی قاضی خان

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر