ایمان ، معاشرہ اور خودی کی تعمیر

ایمان ، معاشرہ اور خودی کی تعمیر

ایمان ، معاشرہ اور خودی کی تعمیر

مصنف: صاحبزادہ سلطان احمد علی مئی 2026

’’ایمان، معاشرہ اور خودی کی تعمیر ‘‘یہ تینوں عناصر انسانی زندگی کی فکری، سماجی اور انفرادی تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں-

جب ہم انگریزی لفظ فیتھ (Faith) سنتے ہیں تو اس کی متعدد تعبیرات ہمارے ذہن میں ابھرتی ہیں- سب سے عام مفہوم میں فیتھ کو مذہب (Religion) کے طور پر لیا جاتا ہے- اگر ہم مغربی دنیا، خصوصاً ریاست ہائے متحدہ امریکہ (United States of America) کے سماجی ڈھانچے کا مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہاں کی سوسائٹی کو اکثر مذہب پر مبنی معاشرہ (Faith-based Society) کہا جاتا ہے- اس اصطلاح سے مراد یہ ہے کہ وہاں کی اکثریت کسی نہ کسی مذہبی نظام سے وابستہ ہے، اور اگرچہ ان کے عقائد کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں، مگر ایک اعلیٰ ہستی یعنی خدا (God) پر یقین ان کے فکری نظام کا بنیادی جزو ہے-

فیتھ کا دوسرا مفہوم مذہب کی ظاہری صورت سے آگے بڑھ کر ایمان (Belief) کی داخلی کیفیت سے جڑا ہوا ہے- یعنی انسان کے باطن میں یقین، اعتماد اور روحانی وابستگی کا جو احساس پیدا ہوتا ہے، وہ بھی فیتھ ہی کی ایک صورت ہے- اس تناظر میں فیتھ محض ایک نظریاتی وابستگی نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک کیفیت ہے جو انسان کے افکار و اعمال کو سمت عطا کرتی ہے-

برصغیر کی تاریخ میں قائد اعظم محمد علی جناح نے قوم کی کامیابی کے لیے جو اصولی نعرہ پیش کیا’’اتحاد (Unity)، ایمان (Faith) اور نظم و ضبط (Discipline)‘‘وہ درحقیقت ایک مکمل سماجی فلسفہ ہے- یہاں فیتھ کی تعبیر کے حوالے سے اہلِ فکر میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں- ایک نقطۂ نظر کے مطابق اس سے مراد خالصتاً ایمان (Faith as Belief) ہے، جبکہ دوسرا زاویہ یہ بتاتا ہے کہ قائد اعظمؒ کا زور محض مذہبی ایمان پر نہیں بلکہ ایمانداری (Honesty) پر بھی تھا- اس مفہوم میں فیتھ کا تعلق انسان کے اخلاقی کردار سے جڑ جاتا ہے، جہاں صداقت، دیانت اور راست بازی اس کی بنیادی علامات بنتی ہیں اور اس کے برعکس بے ایمانی (Dishonesty) اس کی نفی کرتی ہے-

فیتھ (Faith) کو اس کے مروجہ مفہوم سے آگے بڑھا کر بھی کئی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے- اگر ہم اس کی معروف تعبیر اختیار کریں کہ فیتھ یعنی مذہب (Religion) اور فیتھ سے مراد اللہ تعالیٰ پر ایمان (Belief in Allah) ہے، تو اس تصور کی اصل اہمیت اس سوال میں مضمر ہو جاتی ہے کہ آج کے سماجی تناظر (Social Perspective) میں فیتھ ہماری زندگیوں میں کہاں کھڑا ہے؟ کیا یہ محض ایک نظری دعوٰی ہے یا ایک زندہ حقیقت جو ہمارے فکر و عمل کو تشکیل دیتی ہے؟

جب انسان اللہ تعالیٰ کے بارے میں علم حاصل کرتا ہے تو اسے ایک بنیادی نکتہ ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے، اور وہ ہے اسلامی تہذیب (Islamic Civilization) کا حقیقی مفہوم- بظاہر ہم جب اسلامی تہذیب کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں بلند مینار (Minarets)، شاندار طرزِ تعمیر (Architecture)، مختلف خطوں کے کھانے (Food Dishes)، موسیقی (Music)، لباس (Clothing)، ظاہری وضع قطع (Attire) اور زبان و ادب (Language and Literature) جیسے مظاہر آتے ہیں- مگر حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تہذیب ان خارجی اشکال کا نام نہیں-

اسلامی تہذیب کیا ہے؟

)What is Islamic Civilization?)

اسلامی تہذیب دراصل چند بنیادی اوصاف (Attributes) کو اختیار کرنے کا نام ہے- یہ وہ اوصاف ہیں جو فیتھ انسان کے اندر پیدا کرتا ہے اور جو اس کے کردار، رویے نظریات، اور طرزِ حیات میں ظاہر ہوتے ہیں- اگر کوئی شخص ان اوصاف کو اپنا لے تو اس کا تعلق کسی بھی خطے، زبان یا بود و باش سے ہو، وہ اسلامی تہذیب کا نمائندہ بن سکتا ہے- اس کے برعکس، اگر یہ بنیادی اوصاف اس کے باطن کا حصہ نہ بن سکیں، تو محض ظاہری مشابہت، چاہے وہ لباس میں ہو یا طرزِ تعمیر میں، اسے اسلامی تہذیب کا حقیقی علمبردار نہیں بنا سکتی-

اصل حقیقت یہ ہے کہ فیتھ کا تقاضا صرف اقرار نہیں بلکہ باطنی جذب (Internalization) ہے- جب تک فیتھ کے عطا کردہ اوصاف، مثلاً صداقت، دیانت، عدل اور اخلاص،انسان کے اندر سرایت نہیں کرتے، اس وقت تک اس کا اسلامی تہذیب سے تعلق محض ایک دعویٰ (Claim) رہتا ہے، حقیقت نہیں بنتا-

اگر ہم فیتھ (Faith) کی بنیاد کو سمجھنا چاہیں تو اس کی اصل جڑ عقیدہ (Belief System) میں پیوست ہے- ایک مسلمان کے لیے اس کی اساس یہ ہے کہ اللہ ایک ہے اور حضرت محمد (ﷺ) اس کے رسولِ برحق  اور آخری نبی ہیں- یہ محض ایک اعتقادی اعلان نہیں بلکہ ایک ایسا عہد ہے جو انسان کی پوری زندگی کو اپنے دائرے میں لے لیتا ہے-

جب انسان اس حقیقت کو شعوری طور پر قبول کرتا ہے کہ اللہ واحد ہے، تو فیتھ اس سے ایک اہم تقاضا کرتا ہے، اور وہ ہے صفاتِ الٰہی کو اپنے اندر جذب کرنا (Internalization of Divine Attributes)- اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات میں غور و فکر کرے- معروف طور پر اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام بیان کیے جاتے ہیں، اور ہر نام اپنے اندر ایک خاص صفت اور اخلاقی قدر رکھتا ہے-

آقا کریم (ﷺ) کی تعلیمات کا ایک بنیادی پہلو یہی تھا کہ انسان ان صفات کو محض الفاظ کی حد تک نہ رکھے بلکہ انہیں اپنی شخصیت کا حصہ بنائے، تاکہ وہ اس کے کردار میں ظہور (Manifestation) کریں، اس کے اعمال میں جھلکیں اور اس کی زندگی میں انعکاس (Reflection) پیدا ہو-

جب یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ سے محبت اختیار کرو، تو اس کا حقیقی مفہوم یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنانے کی کوشش کرے-یعنی اللہ کے اخلاق سے اپنے آپ کو آراستہ کرے(Adopt the Divine Morality)-

اس تعلیم کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اخلاقیاتِ الٰہی کے ساتھ ہم آہنگ (Synchronization with Divine Morality) کرے- اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہم آہنگی کیسے ممکن ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی صفات،جیسے رحم ، علم ، عدل، سچائی اور حکمت انسان کے کردار میں نمایاں ہو جائیں، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کا فیتھ زندہ اور فعال ہے-

لیکن اگر یہ صفات انسان کے رویّوں اور اعمال میں ظاہر نہ ہوں، تو پھر فیتھ محض ایک دعویٰ رہ جاتا ہے، ایک ایسا تصور جو زبان تک محدود ہے اور دل و کردار تک نہیں پہنچ سکا- اس طرح فیتھ کی اصل پہچان اس کے دعوے میں نہیں بلکہ اس کے عملی اظہار (Practical Manifestation) میں ہے-

مثلاًاللہ تعالیٰ کی ایک صفت الغفار (بہت زیادہ معاف کرنے والا) ہے- وہ اپنے بندوں کو معاف کرتا ہے،اسے بھی جو اس کے حضور رو کر معافی مانگتا ہے، اسے بھی جو بغیر اشک بہائے معافی طلب کرتا ہے، اور حتیٰ کہ اسے بھی جو ابھی معافی مانگنے کے مرحلے تک نہیں پہنچا مگر دل میں اس کا ارادہ رکھتا ہے- بلکہ اس کی رحمت کی وسعت یہاں تک ہے کہ وہ اس شخص کو بھی معاف کرنے پر قادر ہے جو اس سے معافی کا سوال تک نہیں کرتا-

یہی وہ مقام ہے جہاں فیتھ (Faith) ایک عملی معیار بن جاتا ہے- جب کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، تو یہ سوال پیدا ہوتے ہیں کہ:

  • کیا اس کے کردار (Character)، اس کی فطرت (Nature) اور اس کی عادات (Habits) میں اس صفتِ الٰہی کا کوئی عکس موجود ہے؟
  • کیا وہ اس شخص کو معاف کر سکتا ہے جو اس سے معافی مانگے؟
  • کیا وہ اس کو بھی درگزر کر سکتا ہے جو معافی مانگنے کا ارادہ رکھتا ہو؟
  • اور کیا وہ اس درجے تک پہنچ سکتا ہے کہ اس کو بھی معاف کر دے جو معافی مانگنے کی زحمت تک نہیں کرتا؟

اگر یہ اوصاف انسان کے اندر پیدا ہو جائیں، تو یہی دراصل فیتھ کا حقیقی اظہار ہے- اس کے برعکس، اگر انسان اپنے اندر ان صفات کا عکس پیدا نہ کر سکے، تو اس کا ایمان محض ایک دعویٰ رہ جاتا ہے، جس کی کوئی عملی بنیاد نہیں بنتی-

یہاں ایک نہایت اہم نکتہ وضاحت طلب ہے، اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفات (Attributes) دو بنیادی اقسام پر مشتمل ہیں: ایک وہ جو جلال (Majesty) سے متعلق ہیں، اور دوسری وہ جو جمال (Beauty) سے وابستہ ہیں-

صفاتِ جلال وہ ہیں جن کا تعلق عظمت، قدرت اور غلبہ سے ہے، اور عام انسانی سطح پر ان کے ساتھ مکمل ہم آہنگی (Synchronization) ممکن نہیں ہوتی- مثلاًاللہ تعالیٰ کی صفات القہار (سب پر غالب آنے والا) اور ذوالجلال والاکرام (جلال اور بزرگی والا)،یہ وہ صفات ہیں جن کا ظہور اپنی کامل صورت میں صرف ذاتِ الٰہی کیلئے ہی مخصوص ہے- انسان ان صفات کو سمجھ تو سکتا ہے، مگر ان کے ساتھ اسی نوع کی عملی مطابقت پیدا کرنا اس کے دائرۂ امکان سے دُور ہے-

اس کے برعکس، صفاتِ جمال وہ ہیں جو انسان کیلئے قابلِ اختیار ہیں اور یہی وہ میدان ہے جہاں فیتھ (Faith) اپنی حقیقی معنویت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے- مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت الوہاب (بے حساب عطا کرنے والا) کو دیکھیے- وہ دیتا ہے بغیر کسی صلے (Return) کی طلب کے- وہ اسے بھی عطا کرتا ہے جو اس کی وحدانیت کو مانتا ہے، اسے بھی جو غفلت میں مبتلا ہے، اسے بھی جو اس کے بارے میں غلط عقائد رکھتا ہے، اور اسے بھی جو اس کا انکار کرتا ہے- اس کی عطا ہر حد، ہر شناخت اور ہر تفریق سے ماورا ہے-

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے فیتھ کا امتحان ہوتا ہے- کیا انسان اپنے اندر ایسی سخاوت (Generosity) پیدا کر سکتا ہے کہ وہ دے، بغیر کسی توقع کے؟ کیا وہ اپنے اور بیگانے، قریب اور دور، مستحق اور غیر مستحق کی تقسیم سے اوپر اٹھ کر محض عطا کے جذبے سے دے سکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن ہو جائے، تو یہی فیتھ کا زندہ مظہر ہے-

اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ایک اور صفت المعز (عزت دینے والا) ہے، جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے:

’’وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ‘‘[1]

’’اور جسے چاہے عزت دے ‘‘-

 اب فیتھ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان بھی اس صفت کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرے،وہ لوگوں کو عزت دے، نہ صرف انہیں جو معاشرے میں معزز سمجھے جاتے ہیں بلکہ انہیں بھی جنہیں کوئی اہمیت نہیں دیتا اور وہ نہ صرف نیک لوگوں کو بلکہ گنہگاروں کو بھی عزت دے اور نہ صرف خاص افراد کو بلکہ عام انسانوں کو بھی عزت دے-

اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے متصف ہونے کیلئے انسان کو اللہ تعالیٰ کی ایک اور صفت سے متصف ہونے کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ہے الحلیم (بردبار اور حوصلہ رکھنے والا)- کیونکہ دوسروں کو عزت دینا، ان کی کوتاہیوں کو برداشت کرنا اور ان کے ساتھ وسعتِ قلب سے پیش آنا،یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر برداشت، صبر اور حلم پیدا ہو-

اللہ تعالیٰ کی صفاتِ جمال میں ایک نہایت بلند صفت الصبور (بہت زیادہ صبر کرنے والا) بھی ہے- وہ صبر کرتا ہے،انسانوں کے اقوال و افعال پر، ان کی درست اور غلط باتوں پر، ان کے ایمان و انکار پر، حتیٰ کہ ان بے باکیوں پر بھی جو اس کی ذات اور اس کی نازل کردہ کتابوں کے بارے میں کی جاتی ہیں- لوگ اس کی دی ہوئی نعمتوں میں رہ کر بھی اسی کی تخلیق میں تفریق (Discrimination) کرتے ہیں، مگر وہ اپنی شانِ ربوبیت کے مطابق سب کو برداشت کرتا ہے-

یہی وہ مقام ہے جہاں فیتھ (Faith) انسان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تم اپنے اندر ایسی برداشت (Patience) پیدا کر سکتے ہو کہ تمہارا کردار بھی صفتِ الصبور اور الحلیم کا آئینہ بن جائے؟

اللہ تعالیٰ کی ایک اور صفت ہے ستّار العیوب (عیبوں کو چھپانے والا)- وہ اپنے بندوں کے عیبوں کو ڈھانپتا ہے، ان کی کمزوریوں کو ظاہر نہیں ہونے دیتا، حالانکہ وہ ہر عیب کو جانتا ہے، ہر نقص سے واقف ہے-

جب ایک انسان اپنے آپ کو اس صفتِ الٰہی کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے، تو اس کے لیے یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ بھی دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالے- کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انسان خامیوں سے خالی نہیں- ہر فرد کے اندر کوئی نہ کوئی کمزوری، کوئی نہ کوئی نقص ضرور موجود ہے،چاہے وہ اسے تسلیم (Confess) کرے یا نہ کرے-

جب انسان صفتِ حلیم کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے تو اس میں خود بخود یہ وصف پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی کمزوریوں کو اچھالنے کی بجائے انہیں چھپانے کی کوشش کرتا ہے- یہی وہ مقام ہے جہاں فیتھ محض ایک نظری دعویٰ نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ اخلاقی قوت بن جاتا ہے جو انسان کے کردار کو نرمی، وسعت اور عظمت عطا کرتی ہے-

انسانی زندگی کا ایک نہایت گہرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہمارے کتنے راز پوشیدہ ہیں- قرآن کریم اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:

’’ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ‘‘[2]

’’بے شک اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے‘‘-

یعنی وہ سینوں میں چھپی ہر بات سے باخبر ہے- اس کے باوجود وہ پردہ پوشی فرماتا ہے، رسوا نہیں کرتا، مہلت دیتا ہے-اس کے برعکس، انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اسے کسی کا ایک راز بھی معلوم ہو جائے تو وہ اسے بارہا استعمال (Exploit) کرتا ہے، اسے ایک ہتھیار بنا لیتا ہے- یہاں فیتھ (Faith) انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ صفاتِ الحلیم (بردبار)، ستّار العیوب (عیب چھپانے والا) اور الصبور (صبر کرنے والا) کو اپنے اندر پیدا کرے- کیونکہ یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک معاشرے کو سلامت (Intact) رکھتے ہیں، اسے ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچاتے ہیں-

اگر ایک قوم ان اوصاف ِالٰہی کے ساتھ اپنی ہم آہنگی (Synchronization) کھو دے، تو اس کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جو ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں،ایک ایسا معاشرہ جہاں اعتماد کمزور، تعلقات کھوکھلے اور کردار منتشر ہو جاتے ہیں-

یہی وہ نکتہ ہے جسے آقا کریم (ﷺ) کی سیرتِ طیبہ نہایت واضح انداز میں ہمارے سامنے رکھتی ہے- آپ (ﷺ) نے کوئی یادگارِ عمارت (Monument) تعمیر نہیں کی، نہ کوئی مادی شاہکار اپنی اصل صورت میں چھوڑا- اگر آج کوئی مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ کی زیارت کرے تو اسے ایسی کوئی عمارت نہیں ملے گی جو اپنی اصل شکل میں آپ (ﷺ) کی تعمیر کردہ ہو-

لیکن جو کچھ آپ (ﷺ) نے تعمیر کیا، وہ پتھروں کی دیواروں اور رنگوں کے نقوش سے نہیں بلکہ کردار (Character) کے شاہکار تھے - آپ (ﷺ) نے کردار تشکیل دیے جیسا کہ حضرت ابوبکرصدیق، حضرت عمر بن الخطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت فاطمۃ الزہراء ، حضرت عائشہ صدیقہ(رضی اللہ عنہا) کے کردار اور یوں ہزاروں صحابہ کرام(رضی اللہ عنھم) کے ذریعے ایک ایسی زندہ تہذیب کی بنیاد رکھی جو آج بھی اپنی روح کے ساتھ موجود ہے-

یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب کو صرف میناروں، قلعوں یا تاریخی عمارتوں سے تعبیر کرنا اس کی اصل روح سے ناواقفیت ہے-تاج محل ہو یا مسجد قرطبہ یہ عظیم ورثہ (Heritage) ضرور ہیں، مگر تہذیب کی اصل تعریف نہیں- تہذیب دراصل کردار کا نام ہے، اور کردار وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ ہم آہنگ ہو-

آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم مسجد کے مینار کو 60 فٹ بلند کرنے کی فکر میں رہتے ہیں، مگر اپنے کردار کی بلندی 2انچ بھی نہیں بڑھا پاتے- حالانکہ ایک فیتھ بیسڈ سوسائٹی (Faith-based Society) کی اصل پہچان یہ نہیں کہ اس کی عمارتیں کتنی بلند ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے افراد کا کردار کتنا بلند ہے- مسجد کا مینار اسی وقت کوئی معنی رکھتا ہے جب اس میں آنے والے نمازیوں کا اخلاقی قد بھی اسی بلندی کو چھو رہا ہو-

اب اگر ہم معاشرہ(Society) کی طرف آئیں تو اس کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ایک حقیقی سوسائٹی آف فیتھ (Society of Faith) وہ ہے جہاں انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ متصف ہو اور ان صفات کو اپنے کردار کے ذریعے ظاہر کرے-

اگر ایسا ہو جائے تو فرد (Self) بھی درست ہو جاتا ہے، معاشرہ (Society) بھی سنور جاتا ہے اور زندگی کا ہر پہلو اپنی اصل ترتیب میں آ جاتا ہے- کیونکہ فیتھ صرف ماننے کا نام نہیں، بلکہ بن جانے کا نام ہے،ایسا بن جانا کہ انسان کے اندر اوصافِ الٰہی کی جھلک نمایاں ہو جائے-

اگر انسان اپنی زندگی اور معاشرے سے اقدار (Values) کو نکال دے، تو درحقیقت وہ سوسائٹی کی بنیاد ہی کو ختم کر دیتا ہے- کیونکہ معاشرہ محض افراد کے مجموعے کا نام نہیں، بلکہ وہ ان اصولوں اور اقدار کا نام ہے جو افراد کو ایک رشتے میں باندھتی ہیں- اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ معاشرہ (society)دراصل اقدار (values) ہی کا دوسرا نام ہے-

اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کیلیے ایک صحت مند اور مضبوط معاشرہ چھوڑ کر جائیں، تو ہمیں چاہیے کہ ہم اقدار کو مضبوطی سے تھامیں رہیں کیونکہ اگر ہم اقدار کو نہیں تھامتے تو ہم اپنی ہی سوسائٹی کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کر رہے ہیں-

اسی تناظر میں ایک تاریخی حقیقت نہایت قابلِ غور ہے، جسے معروف محقق John Walbridge، جو انڈیانا یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، اپنی کتاب ’’God and Logic in Islam: The Caliphate of Reason ‘‘ میں بیان کرتے ہیں کہ:

جب برطانیہ نے ابتدائی طور پر ایک تاجر کی حیثیت سے برصغیر میں قدم رکھا تو ایک نہایت دلچسپ سماجی رویہ دیکھنے میں آیا- اس دور کے ہندوستانی مسلمان برطانوی خواتین سے شادیاں کرنے سے گریز کرتے تھے- اس کی وجہ محض نسلی یا ثقافتی تعصب نہیں تھی، بلکہ ایک گہرا اخلاقی شعور تھا- وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کی اپنی تہذیبی اقدار، آداب اور معاشرتی معیار انگریزوں سے برتر ہیں، اس لیے وہ ایسے تعلق کو اپنے لیے باعثِ تنقیص سمجھتے تھے-یہاں تک کہ اگر کوئی برطانوی خاتون کسی مسلمان کے ساتھ رشتہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی، تو اس خاتُون کو ایک غیر معمولی وقار اور امتیاز کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا—گویا وہ اس معاشرے کے اعلیٰ معیار تک پہنچ گئی ہو-

یہ واقعہ محض ایک سماجی روایت نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس وقت کی مسلم سوسائٹی اپنے اقداراور اپنی تہذیبی شناخت پر کتنی مضبوطی سے قائم تھی- ان کے نزدیک اصل برتری ظاہری طاقت یا مادی ترقی میں نہیں، بلکہ اخلاقی معیار اور کردار کی بلندی میں تھی-

ایک حیران کن حقیقت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سوسائٹی میں کس طرح اقدار کی کمی ایک مکمل رخ بدل دیتی ہے -ماضی میں، برصغیر کی مسلم سوسائٹی اس حد تک اقدار پر مبنی(Value-based) تھی کہ مقامی مسلمان مرد برطانوی خواتین سے شادی نہیں کرتے تھے، اور یہ رویہ محض ثقافتی یا ذاتی تعصب کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ اخلاقی معیار، تہذیب، آداب، انسانیت اور ایمان (Faith) کی بنیاد پر قائم تھا-  شاید ہی کوئی واقعات ہوں کہ روایات کے امین خاندانوں کی ہندی مسلمان خواتین برطانوی مردوں سے شادی کرتی ہوں ، کیا آج بھی ایسا ہی ہے؟

احساسِ کردار اور اخلاقی استحکام اس قدر مضبوط تھا کہ لوگ ایک دوسرے کے حقوق اور ذمہ داریوں کا مکمل لحاظ رکھتے تھے-جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا:

اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں
مگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظّارا
تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تُو گُفتار وہ کردار، تُو ثابت وہ سیّارا

یعنی کسی کی اصل پہچان اس کے نسب سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور اعمال سے ہوتی ہے-لیکن جب اقدار سے معاشرہ خالی ہو جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ لوگ ایک دوسرے کو کھانے لگتے ہیں یعنی ہر فرد اپنی خودغرضی، منافقت اور دھوکے باز رویوں کے ذریعے دوسروں کو نقصان پہنچانے لگتا ہے- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر فرد، ہر گروہ، ہر پیشہ اپنی حرکتوں میں نقصان کے اندر گھرا رہتا ہے اور کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں کر پاتا-

بہت سی مثالیں واضح طور پر یہ بتاتی ہیں کہ اقدار کے بغیر معاشرہ کس طرح خود کو نقصان پہنچاتاہے-مثلاً:

  • پولیس والا سُنار(Goldsmith) سے رشوت لیتا ہے، اور سونے کے ہنر مند سے ملاوٹ بھرا زیور حاصل کرتا ہے-
  • قصاب اپنی دکان پر ناقص یا مردہ مرغیاں فروخت کرتا ہے-
  • گوالا گھر پر ملاوٹ والا دودھ پہنچاتا ہے-
  • واپڈا کے اہلکار کسی کے بجلی کے بل میں غیر ضروری اضافہ کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں اپنے بچوں کو ناجائز فائدہ پہنچاتے ہیں-
  • کنٹریکٹر ناقص مٹیریل کے ساتھ مارکیٹیں تعمیر کرتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مارکیٹ میں بنے ہوٹل میں کنٹریکٹر کے بچوں کو مردہ مرغیوں کا شوارما کھانے کو ملتا ہے-

آپ دیکھیں، آج ہمارا معاشرہ کس طرح ٹوٹ (Disintegrate) چکا ہے- جب اقدار ختم ہو گئیں، ایمان (Faith) اٹھ گیا، اور اللہ کو درمیان سے نکال دیا گیا، تو ہر چیز قلیل مدتی مفاد (Short-term interest) کے تابع ہو گئی- وہ برکت جو معاشرے کی سالمیت (Integrity) کی ضمانت تھی، وہ بھی ختم ہو گئی- نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ ایک دوسرے کو کھانے لگے، معاشرتی ہم آہنگی بکھر گئی اور اعتماد ختم ہو گیا-

کیا آپ اس صورتحال کو ایسے ہی چھوڑ دیں گے؟ یقیناً نہیں- اگر ہم اپنی ثقافت، اپنے معاشرے کو دوبارہ زندہ (Revive) کرنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہمیں اقدار کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا-

سب سے پہلی اور بنیادی قدر اللہ تعالیٰ کی صفت ’’الحق‘‘ (سچ) ہے- یہاں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں؟ کیا ہم سچ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں، حتٰی کہ اگر اس کیلئے ہمیں قربانی دینی پڑے؟ سچ کے لیے برادری، تعلقات یا ذاتی مفاد ترک کر سکتے ہیں؟ یہ سچائی کی بنیاد پر کھڑے ہونے کی آزمائش ہے، جیسا کہ تاریخ میں رسول اللہ (ﷺ) اور حضرت امام حسین(رضی اللہ عنہ)اورنے ہمیں دکھایا-

دوسرا بڑا چیلنج جو ہمارے معاشرے کو آج درپیش ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی صفات الحلیم (بردبار) اور الصبور (صبر کرنے والا) کو اختیار کرنے کا فقدان ہے- ان صفات کی کمی کی وجہ سے بردباری(Tolerance) ختم ہو گئی ہے اور معاشرے میں انتہائی رجحانات (Extreme Tendencies) عام ہو گئی ہیں-

مثلاً: سیاست میں وہ لوگ زیادہ مقبول (Popular) ہوئے ہیں جو شدید سخت زبان (Extreme language) استعمال کرتے ہیں- یہی حال مذہبی شعبوں(Religious spheres) کا ہے کہ زیادہ شدت پسند یا سخت زبان استعمال کرنے والے سکالرز اور وی لاگرز زیادہ ویوز اور مقبولیت حاصل کرتے ہیں-

لیکن یہ مقبولیت اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ اصل میں شدت پسندہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم شدت پسندانہ رویے کو پسند کرتے ہیں- اگر ہم یہ شدت پسند رویے اختیار نہ کریں، تو وہ ویوز یا مقبولیت حاصل نہیں کر پائیں گے-

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ایک منفرد شناخت (Unique Identity) عطا فرمائی ہے- اگر آپ غور کریں، تو ہر فرد کےفنگر پرنٹ (Fingerprint)،آئی پرنٹ (Eye print)،چہرہ (Face) حتیٰ کہ DNAسب الگ ہیں، کوئی بھی ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتا- اس کے نتیجے میں ہر انسان کے خیالات اور نظریات بھی منفرد ہیں- جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جسمانی شناخت کو منفرد بنایا، اسی طرح اس نے ہر انسان کی ذہنی اور فکری شناخت بھی منفرد(Unique) رکھی ہے-

لہٰذا ہم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہم شدت پسندانہ رویوں(Extreme Tendency) میں نہ جئیں، بلکہ ہر انسان کی منفرد شناخت کو قبول کریں- ہمیں اپنی صلاحیت بڑھانی ہوگی تاکہ ہم:

ہر شخصیت کی منفرد شناخت کو سمجھیں اور اس کا احترام کریں-ہر روح کی منفرد شناخت کو تسلیم کریں اورمختلف نقطہ نظر اور خیالات کو برداشت کریں-

ہم اکثر اتحاد(Unity) اور اتفاق (Agreement) کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، لیکن اسی طرح اختلافات (Disagreements) اور اختلاف رائے (Disagreements of Opinion) کو بھی سراہنا اور (Celebrate) کرنا ضروری ہے-

صدافسوس! کہ ہم ان معاشروں میں سے ہیں جو اپنی مشترکات (Commonalities) کو بھی سراہتے(Celebrate) نہیں اور خواب دیکھ رہے ہیں کہ اختلافات کو مٹایا جائے- حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ ایک کامیاب گھریلو زندگی یا ملک میں پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تو اس کیلئے ضروری ہے کہ اختلافات کو سراہنا سیکھیں، انہیں قبول کریں اور ان کے ساتھ زندہ رہنا سیکھیں-

یہی وجہ ہے کہ تنوع (Diversity) کو قبول کریں، برداشت سیکھیں،الحلیم (بردبار) اور الصبور (صبر کرنے والا) کی صفات کو اپنے کردار میں ظاہر کریں-اگر یہ ممکن ہوگا تو ایک مضبوط اور کامیاب معاشرہ وجود میں آئے گا-

علامہ اقبال نے معاشرے کی ترقی کا ایک سادہ مگر اہم فارمولا دیا ہے کہ:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا

یعنی ہر فرد کی کردار سازی (Character Development) اور ایمان (Faith) معاشرہ اور قوم کی تقدیر کو تشکیل دیتی ہے-

اب فرد کی اہمیت کی طرف آتے ہیں:

خود کلامی (Self-Interaction):

ہم اپنے دوستوں، اساتذہ یا دوسروں کے ساتھ تعامل کرتے ہیں، لیکن اکثر اپنے آپ سے انٹریکٹ نہیں کرتے-جبکہ اپنی صلاحیتوں اور حدود (Abilities and Limits) کو جاننا ضروری ہے-اگر آپ اپنی حدود اور قابلیت سے واقف نہیں ہیں، تو آپ اپنے آپ کو نہیں جانتے-

تکمیلِ خودی :(Self-Actualization)

صوفیانہ روایت میں فرمانِ عالیشان ہے:

’’مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہ‘‘ [3]

’’جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا پس تحقیق اُس نے اپنے رب کو پہچان لیا‘‘-

یعنی خود شناسی (Self-Knowledge) کے بغیر حقیقی روحانی اور فکری ترقی ممکن نہیں-

’’صحیح بخاری ، کتاب الایمان ‘‘ میں حدیث پاک ہے جو حضرت عمر (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ جبرائیل امین نے رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے تین اہم سوالات کیے:

  1. اسلام کیا ہے؟
  2. ایمان کیا ہے؟
  3. احسان کیا ہے؟

رسول اللہ (ﷺ) نے اسلام کو اپنے اعمال (Deeds) کے ذریعے سمجھایا-ایمان کو ذہنی اور فکری سرگرمی (Intellectual activity) کے ذریعے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ، ملائکہ، کتابوں، روزِقیامت اور انبیاء (علیھم السلام)پر ایمان لانا-جبکہ احسان کے لئے آقا کریم (ﷺ) نے فرمایا:

’’اَلْاِحْسَانُ اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہٗ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہٗ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ‘‘[4]

’’مرتبہ احسان یہ ہے کہ اللہ پاک کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو اگر یہ نہ ہو تو اتنا ضرور ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے‘‘-

یہ حدیث پاک ہمیں سکھاتی ہے کہ معاشرے (society)کی بنیاد عمل، علم اور ایمان پر ہے، اور فرد کی فکری اور اخلاقی نشوونما کے بغیر ایک مضبوط، ایمان پر مبنی معاشرہ (faith based society) ممکن نہیں-

یہاں امام رازی کی مثال ہمیں ایک گہرا سبق دیتی ہے- ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہاکہ وہ اللہ کو نہیں مانتا، بلکہ وہ دلیل (logic) کو مانتا ہے- امام رازی نے نہایت سادہ اور مؤثر جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کو ماننے کے لیے تمہیں منطق کی ضرورت ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کو نہ ماننے کے لیے صرف انکار کافی ہے- یہی وہ نقطہ ہے جو آج بھی ہمارے لیے اہم ہے- ہم جس دور میں رہ رہے ہیں، سائنسی دریافتیں، کائنات کی پیچیدگیاں، وقت اور اسپیس کی حقیقتیں، ہمیں نہ صرف علم فراہم کرتی ہیں بلکہ ہمارے دل و دماغ کو خدا کے قریب بھی لے جاتی ہیں- علم انسان کو روشنی دیتا ہے، جہالت انسان کو تاریکی میں دھکیلتی ہے اور اسی لیے ایمان ایک مکمل فکری (Intellectual) عمل ہے، ایک سوچنے اور سمجھنے کا عمل جو دل اور دماغ دونوں سے جڑا ہوتا ہے- جسے مانتے ہو اسے ماننے کے مستحکم دلائل کے ساتھ مزین رہنا سُنتِ ابراہیمی ہے - 

اسی طرح انسان کی زندگی تین جہتوں پر مشتمل ہے: جسم، عقل اور روح- اگر جسم پر توجہ نہ ہو تو وہ بیکار ہو جاتا ہے، اگر عقل کو پروان نہ چڑھایا جائے تو وہ سست اور کمزور ہو جاتی ہے، اور اگر روح کی پرورش نہ ہو، اگر انسان اپنے باطن کو بیدار نہ کرے، اپنے آپ کو نہ پہچانے، تو اس کی شخصیت آہستہ آہستہ مرجھا جاتی ہے-

یہ تینوں جہتیں ایک دوسرے سے جڑی ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں- اگر ہم صرف عقل پر توجہ دیں اور جسم و روح کو نظر انداز کریں تو انسان کا وجود مکمل نہیں رہتا - اسی طرح اگر ہم صرف جسم کی دیکھ بھال کریں، یا صرف روح کی پرورش کریں، لیکن اپنے علم و فہم کو ترقی نہ دیں، تو ہماری شخصیت جزوی رہ جاتی ہے- ایمان پر مبنی (faith based) زندگی وہ ہے جس میں جسم، عقل اور روح کا توازن ہو، جس میں انسان اپنے اعمال میں احسان، اپنے علم میں سوچ اور اپنے دل میں خدا کی موجودگی محسوس کرے-

لہٰذا، اپنے اندر غور کریں، اپنے آپ کو پہچانیں، علم حاصل کریں، روح کی پرورش کریں، اور ہر عمل میں احسان کی روشنی کو جھلکائیں- یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو مکمل کرتا ہے اور جس کے ذریعےمعاشرہ بھی ایمان اور اقدار کی بنیاد پر ترقی کرتا ہے-

میں آپ کو ایک قابل عمل اور عملی تجویز دینا چاہتا ہوں- یہ کوئی مشکل یا غیر حقیقی مشورہ نہیں، بلکہ ایک ایسا سرکل (circle) ہے جو آپ روزانہ اپنے معمول (Routine) میں شامل کر سکتے ہیں، اور 6مہینے تک اس کے اثرات محسوس کریں گے-یہ سرکل نوے منٹ کا ہے، اور اس کے تین واضح حصے ہیں:

پہلا حصہ: 30 منٹ روزانہ جسمانی ورزش کیلئے مختص کریں- چاہے آپ گھڑ سواریں کریں ، تیراکی کریں، جم جائیں ، پش اپس کریں، کرنچز کریں ، واک یا رننگ کریں یا کوئی اور ورزش کریں، چھ مہینے بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کا جسم بدل چکا ہے- نہ صرف آپ کی باڈی کا سٹرکچر بہتر ہوگا، بلکہ آپ کے مسلز مضبوط ہوں گے، یہ روٹین جسمانی وجود میں نئی زندگی لے آئے گی-

دوسرا حصہ، 30منٹ اپنی ذہنی اور علمی صلاحیتوں کے لیے مختص کریں- آپ ریاضی، فلسفہ، منطق یا فزکس پڑھ سکتے ہیں- ریاضی اور منطق آپ کے آئی کیو کو بڑھاتے ہیں، آپ کی سوچ کی گہرائی میں اضافہ کرتے ہیں، اور آپ کے دماغ کو زیادہ فعال بناتے ہیں- 6مہینے کی مسلسل علمی مشق کے بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کا انٹلیکچوئل لیول بلند ہو گیا ہے، آپ کے خیالات واضح اور منظم ہو گئے ہیں-

تیسرا حصہ:30 منٹ اپنی خودی اور روحانی ترقی کے لیے مختص کریں- اپنے آپ کو تلاش کریں، اپنے باطن کے ساتھ وقت گزاریں، اپنی حدود اور صلاحیتوں کو پہچانیں، مراقبہ کریں ، کوئی موثر روحانی وظیفہ کریں - اگر جسم اور دماغ کو تربیت دینے سے تبدیلی آتی ہے، تو اسی طرح روح کی پرورش سے آپ کی شخصیت اور آپ کی روح  میں ایک واضح نکھار پیدا ہو جائے گا-

ان تینوں جہتوں کو ملا کر دیکھیں: جسمانی ورزش آپ کو مضبوط بناتی ہے، علمی سرگرمی آپ کو روشن کرتی ہے، اور روحانی کام آپ کو مکمل بناتا ہے- اگر یہ سب برابر ترقی کریں، تو آپ کی شخصیت متوازن اور مکمل ہو جاتی ہے-

یہ سب کچھ کرنے کا اصل مقصد صرف اپنی ذاتی بہتری نہیں، بلکہ ایمان(faith)، معاشرہ (society)  اور خود کی تعمیر(self development) کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہے-

ایمان  کا مطلب ہے اللہ  تعالیٰ پر ایمان اور اپنے آپ کو اس کے اخلاقی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا- معاشرے کا مطلب ہے سماوِی اخلاقی اصولوں کی عکاسی کرنا، اپنے اعمال اور رویوں کے ذریعے معاشرے میں اخلاقیاتِ الٰہی کو ظاہر کرنا اور یہ سب تب ممکن ہے جب آپ اپنی خودی کو پہچانیں، اپنی صلاحیتوں اور حدود سے واقف ہوں اور اپنے آپ پر مسلسل محنت کریں-

اگر ہم اپنی بنیادی اقدار، جو توحید اور رسول اللہ (ﷺ) کی سیرت سے سیکھتے ہیں، کو نظر انداز کر دیں، تو پھر ہمارے پاس کوئی معاشرہ باقی نہیں رہتا- ایک بہتر معاشرہ قائم کرنے کیلئے، ایک بہتر خودی کی تعمیر کرنے کیلئے، ایمان(faith) نہایت ضروری ہے-

٭٭٭


[1](آلِ عمران:26)

[2](آلِ عمران:119)

[3](مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الایمان)

[4](صحیح بخاری، کتاب الایمان)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر