عین الفقر : قسط6

عین الفقر : قسط6

 حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: ’’دنیا تمہیں مبارک ہو، عقبیٰ بھی تمہیں مبارک ہو، میرے لئے تو میرا مولیٰ ہی کافی ہے‘‘-حدیث : ’’جس نے دنیا کو چاہا، اُسے دنیا ملی، جس نے آخرت کو چاہا اُسے آخرت ملی اور جس نے اَللّٰہُ کو چاہا وہ مالک ِ کل ہو گیا‘‘- حدیث ِقدسی میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’نفس کو چھوڑ دے اور اللہ کو پا لے‘‘ -

بیت: ’’ مَیں نے اپنے دل سے طلب ِ دنیا و عقبیٰ کو نکال دیا ہے کہ اِس گھر میں غمِ دنیا و آخرت رہ سکتا ہے یا جمالِ دوست‘‘-

حدیث: ’’عشق ایک آگ ہے جو محبو ب کے سوا ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے ‘‘-ہر چیز کے ظاہرو باطن میں صرف ایک ہی ذات جلوہ گر ہے اِس لئے عارف باللہ جب بھی بولتا ہے اُس کے منہ سے اسم اَللّٰہُ ہی نکلتا ہے، وہ جدھر بھی دیکھتا ہے اسے اسم اَللّٰہُ دکھائی دیتا ہے- فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’تم جہاں کہیں بھی منہ کرو گے وہی اللہ کی طرف منہ کرو گے-بے شک اللہ بڑی وسعت والا، بہت علم والا ہے‘‘-(پارہ:1، البقرۃ:115) -اور جب بھی سنتا ہے اسم اَللّٰہُ ہی سنتا ہے کہ بے شک اسم اَللّٰہُ نے ہر چیز کا احاطہ کررکھا ہے‘‘-اِس مقام پر عاشق کو فقر پر فخر محسوس ہوتا ہے -حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا فرمان ہے:

(1)’’ فقر پر مجھے فخر ہے کہ فقر میرا خاص سرمایہ ہے، فقر ہی کی وجہ سے مجھے تمام انبیاء و مرسلین پر افتخار حاصل ہے‘‘-

(2) ’’ فقراء سے محبت اخلاقِ انبیا ء میں سے ہے اور فقراء سے بغض اخلاقِ فرعون میں سے ہے ‘‘-

(3)’’جس نے کسی فقیر کی زیارت اُس کا کلام سننے کے لئے کی اللہ تعالیٰ حشر کے روز اُسے انبیا ء و رسل کے ساتھ اُٹھائے گا‘‘-حدیث ِقدسی میں فرمانِ الٰہی ہے : ’’جب کوئی میرے ذکر میں مشغول ہوتا ہے تو مَیں اُس کا ہم مجلس بن جا تا ہوں‘‘-

اجر و ثواب کے لحاظ سے فقہ کا ایک مسئلہ سیکھنا ایک سال کی عبادت سے افضل ہے اور ایک دم کے لئے ذکرِ ’’اَللّٰہُ‘‘میں مشغول رہنا ہزار مسائل ِفقہ سیکھنے سے افضل ہے کہ مسائل ِ فقہ کا علم اسلام کی بنیاد ہے- تلاوت ِ قرآن اور جملہ ظاہری عبادات اگر چھوٹ جائیں تو اُن کی قضا ممکن ہے لیکن دم کی قضا ممکن نہیں- حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا فرمان ہے:

(1) ’’جو شخص دائمی فرض ادا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اُس کے وقتی فرض کو قبول نہیں کرتا‘‘-

(2) ’’سانس گنتی کے ہیں اور جو سانس ذکر اللہ کے بغیر گزرے وہ مردہ ہے‘‘ -

ابیات : (1) ’’دم کی نگہبانی کر کہ دم ایک پورا جہان ہے، داناؤں کے نزدیک (تصورِ اسم اَ للّٰہُمیں گزرا ہوا)ایک دم جہان بھر سے افضل ہے‘‘-

(2) ’’حیف و افسوس میں اپنی عمر برباد نہ کر، فرصت ِدم کو عزیز رکھ کہ وقت کی تلوار اُسے کاٹ رہی ہے‘‘-

 جان کنی کے وقت توفیق ِالٰہی سے جب دم ہی بند ے کا رفیق ہے تو طلب ِ الٰہی کے علاوہ دیگر ہر طلب گمراہی ہے-حضور علیہ الصلوٰاۃ و السلام کا فرمان ہے: ’’سب سے اچھی طلب اللہ کی طلب ہے اور سب سے اچھی یاد اللہ کی یاد ہے‘‘-

فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’اور آپ اس شخص کا کہا نہ مانیں جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی اور اس کا معاملہ حد سے بڑھ گیا‘‘-(پارہ:15، الکہف:28)

 حدیث ِ قدسی میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’جو مجھے تلاش کرتا ہے بے شک وہ مجھے پا لیتا ہے، جو مجھے پا لیتا ہے وہ مجھے پہچان لیتا ہے، جو مجھے پہچان لیتا ہے اُسے مجھ سے محبت ہو جاتی ہے، جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ میرا عاشق بن جاتا ہے، جو مجھ سے عشق کرتا ہے مَیں اُسے قتل کر دیتا ہوں، جسے مَیں قتل کرتا ہوں اُس کی دیت مجھ پر لازم ہو جاتی ہے اور اُس کی دیت مَیں ہوں‘‘-

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: ’’جو شخص کسی چیز کی جستجو میں جدو جہدکرتا ہے وہ اُسے پا لیتا ہے‘‘-حدیث ِ قدسی میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’بے شک آدمی کے جسم میں ایک ٹکڑا ہے جو فواد میں ہے، فواد قلب میں ہے، قلب روح میں ہے، روح سرّ میں ہے، سرّ خفی میں ہے اور خفی اَناَ میں ہے‘‘-جب کوئی فقیر فنا فی اللہ ہو کر مقامِ اَناَ میں پہنچ جاتا ہے تو اُس پر حالت ِسکر وارد ہو جاتی ہے اور اُس کے وجود سے تین طرح کے انوارِ توحید جلوہ گر ہوتے ہیں، اُس کی پیشانی نُورِ توحید سے جگمگا اُٹھتی ہے،اُس کی آنکھیں انوارِ توحید سے منوّر ہو جاتی ہیں اور اُس کا دل انوارِ توحید سے روشن ہو جاتا ہے- اگر وہ اِن تینوں اندام سے عبادت میں مشغول رہے تو صاحب ِمعرفت رہتا ہے ورنہ سلب ہو جاتا ہے اِس لئے اُس کی پیشانی سجدہ سجود میں مصروف رہتی ہے، اُس کی نظر شریعت پر مرکوز رہتی ہے اور اُس کا دل اِتباعِ رسول اللہ (ﷺ)میں تصدیق سے پُر رہتا ہے اَنا بھی دو قسم کی ہوتی ہے (1) قُمْ بِاِذْ نِ اللّٰہِ[1] اور (2) قُمْ بِاِذْنِیْ[2] فقیر اَناَ کی اِنہی دو حالتوں سے منسلک رہتا ہے جیسا کہ حضرت بایزیدبسطامیؒ نے فرمایا ہے: ’’سُبْحَانِیْ مَااَعْظَمُ شَانِیْ‘‘[3] اور منصورؒ نے فرمایا ہے: ’’ اَناَالْحَقُّ ‘‘[4]اَناَ ایک راز ہے، جو اِس راز کو فاش کر لیتا ہے وہ سب سے بڑے راز (اللہ)کو پا لیتا ہے-

دانائی سے کام لے اور یاد رکھ کہ یہ’’ فقر‘‘ ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فخر ہے اور ا ِس کی بدولت ہی اللہ تعالیٰ نے یہ انعام عطا فرمایا ہے: ’’جو امتیں لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہیں تم ان سب میں بہترین امت ہو‘‘(پارہ:4، آلِ عمران: 110)- قُمْ بِاِذْ نِ اللّٰہِ عیسٰی (علیہ السلام)کا مرتبہ ہے اور قُمْ بِاِذْنِیْ حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) کی اُمت کا مرتبہ ہے- حضرت عیسٰی (علیہ السلام) کی زبان نورِ توحید میں غرق تھی اور حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ)کی اُمت کے فقیر سر سے پاؤں تک دل جان سے نورِ توحید میں اِس طرح غرق ہیں کہ نہ وہ خدا ہیں اور نہ ہی خدا سے جدا -اِستغراقِ وحدت میں فقیر کی حالت یوں ہوتی ہے کہ جیسے آگ و چنگاری یا طعام و نمک کہ نمک میں جو چیز غرق ہو جائے وہ نمک بن جاتی ہے یا جیسے دودھ اور پانی- (جاری ہے)


[1]اُٹھ اللہ کے حکم سے-

[2]اُٹھ میرے حکم سے-

[3]میری ذات پاک ہے، میری شان سے بڑھ کر کس کی شان ہے؟

[4]میری ذات حق ہے-

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر