نام و نسب:
آپ کا نام سعید کنیت ابومحمد ہے اور نسب نامہ کچھ اس طرح ہے سعید بن المسیب بن حزن بن ابی وہب بن عمرو بن عائد بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن یقظہ-[1]
ولادت :
آپ کی ولادت حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کی خلافت کے زمانے میں ہوئی روایات میں آتا ہے کہ آپ کی خلافت کے دو سال گزر چکے تھے کہ امام صاحب کی ولادت ہوئی-[2]
آپ کے والد حضرت مسیب اور دادا حضرت حزن دونوں صحابی رسول تھے- فتح مکہ کے دن مشرف باسلام ہوئے-حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک دن میرے دادا حضور نبی کریم (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے نام پوچھا تو انہوں نے عرض کی میرا نام حزن ہے جس کا معنیٰ ہے غم-تو آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا نہیں بلکہ آپ سہل ہیں پتہ نہیں حزن کو کیا سوجھی انہوں نے عرض کر دی کہ یہ نام میرے والدین نے رکھا ہے اور اسی نام کے ساتھ میں لوگوں میں مشہور ہوں -لہذا اس نام کو تبدیل نہ کیاجائے تو آپ (ﷺ) نے خاموشی اختیار فرمائی-سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ شاید اس نام کے معنیٰ کا کوئی اثر تھا کہ ہمارے گھر میں ہمیشہ غمگینی چھائی رہی-[3]
تحصیل علم اور اساتذہ:
امام سعید بن المسیب نے جب ہوش سنبھالا تو اس وقت جلیل القدر صحابہ کرام موجود تھے -لہذا یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ ان کو ان برگزیدہ ہستیوں سے تحصیل علم کا بھر پور موقع میسر آیا خاص طور پر حضرت ابو ہریرہ سے تحصیل علم اور سماع حدیث کا زیادہ موقع ملا کیونکہ آپ ان کے داماد تھے-جن دیگر نامور صحابہ کرام سے آپ کو اکتسابِ فیض کا موقع ملا ان میں چند حضرات کے نام درج ذیل ہیں:
انہوں نے حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)کو دیکھا ہے اور ان سے سماع بھی کیا ہے-حضرت عثمان، حضرت علی ، حضرت ابن عباس، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت موسیٰ اشعری، حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت ابو سعید خدری، حضرت زید بن ثابت، حضرت جبیر بن مطعم، حضرت عبد اللہ زید بن عاصم، حضرت حکیم بن حزام، حضرت مِسْوَرْ بن مخرمہ، حضرت عثمان بن ابی العاص (رضی اللہ عنھم)-[4]
تلامذہ:
آپ سے اکتساب علم کرنے والے حضرات میں نامور شخصیات ہیں جن احباب کو آپ کی بارگاہ کا شرفِ تلمذ نصیب ہوا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
امام زہری، قتادہ، عمرو بن دینار، یحی بن سعید الانصاری، بکیر بن الاشجع، داؤد بن ابی ہند، سعد بن ابراہیم، علی بن زید ، شریک بن ابی نمر، عبد الرحمٰن بن حرملہ، عطاء بن ابی رباح، اسامہ بن زید اللیثی، اسماعیل بن امیہ، حسان بن عطیہ، صفوان بن سلیم، طارق بن عبد الرحمٰن، عبد اللہ بن ذکوان، عبد الکریم بن مالک الجزری ، عطاء الخراسانی، علی بن نفیل، عمرو بن شیعب(رضی اللہ عنھم)-[5]
علم حدیث میں مقام و مرتبہ:
امام سعید بن مسیب بڑے جلیل القدر تابعی اور ان نفوس قدسیہ میں سے تھے جو اپنے علم و عمل کے اعتبار سے دنیائے اسلام کے امام اور مقتدیٰ کے طور پر جانے جاتے ہیں- آپ نے حدیث کی روایت و حفاظت میں بڑا نمایاں کام کیا-یہی وجہ ہے کہ آپ علم حدیث میں ایک ایسا منفرد مقام رکھتے ہیں جو شاید کسی کو نصیب ہوگا-آپ حدیث میں اس مقام پر پہنچے ہیں کہ آپ کی روایت کردہ حدیث مرسل صحیح کا درجہ رکھتی ہے اور باقاعدہ اس پر آئمہ فن کی گواہیاں موجود ہیں -علمی دنیا کے شاہکارامام فنون کثیرہ امام احمد بن حنبل ان کے حدیث میں علمی مقام و مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’مرسلات سعید بن المسیب صحاح‘‘[6]
’’سعید بن المسیب کی مرسلات صحیح کا درجہ رکھتی ہیں‘‘-
قارئین یاد رہے کہ اصولیین کی اصطلاح میں حدیث مرسل وہ ہے کہ جس کی سند میں صحابی کا واسطہ منقطع ہوتا ہے تابعی صحابی کا حوالہ دیئے بغیر براہ راست حضور نبی کریم (ﷺ) سے روایت کرے-حدیث مرسل ضعیف حدیث کے حکم میں آتی ہے اسی چیز کے پیش نظر بعض علماء اس کو احکام میں حجت نہیں مانتے- لیکن امام سعید بن المسیب کو حدیث میں وہ شان و عظمت عطا ہوئی ہے اور علماء کو آپ کی ذات پر اتنا اعتماد ہے کہ آپ اگرچہ تابعی ہیں اور رسول اکرم (ﷺ) سے براہ راست نہیں ملے لیکن اگر صحابی کے حوالہ کے بغیر براہِ راست بھی روایت کریں تو آپ کی روایت کردہ حدیث (جسے اصطلاحاً مرسل کہیں گے) نہ صرف حدیث صحیح کا درجہ رکھتی ہے بلکہ قابل حجت بھی ہے-
امام ذہبیؒ اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’مراسیل سعید محتج بھا‘‘[7]
’’حضرت سعید کی مراسیل ایسی ہیں کہ ان سے حجت پکڑی جا سکتی ہے ‘‘-
اور امام شافعی امام صاحب کی مراسیل کے بارے اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ارسال ابن المسیب عندنا حسن‘‘[8]
’’ابن المسیب کا حدیث کو مرسل ذکر کرنا ہمارے نزدیک حسن کا درجہ رکھتا ہے‘‘-
کیونکہ آپ نے جلیل القدر صحابہ کرام کے زمانہ کو پایا ہے اور ان سے خود فیض یاب ہوئے ہیں-لہذا آپ سے روایت کردہ احادیث کی اپنی ایک خصوصیت ہے وہ احادیث عالیہ کا درجہ رکھتی ہیں امام ذہبی ان کے علم و عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’وکان ممن برز فی العلم و العمل وقع لنا جملۃ من عالی حدیثہ‘‘[9]
’’آپ ان ہستیوں میں سے تھے جو علم و عمل میں فضیلت رکھتے تھے اور ان کی تمام احادیث ہمارے لئے عالی المرتبت واقع ہوئی ہیں‘‘-
امام سعید بن المسیب کو حدیث میں یہ مقام و مرتبہ آخر کیونکر حاصل نہ ہوتا آپ کو تو حدیث سے والہانہ محبت تھی شب و روز اشاعتِ حدیث اور جمع حدیث میں گزرتے حدیث سے شغف کا اندازہ ان کے اس فرمان سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں:
’’کنت ارحل الایام و اللیالی فی طلب الحدیث الواحد‘‘[10]
’’میں ایک حدیث کی جستجو میں کئی کئ دن اور راتیں سفر کرتا تھا‘‘-
آپ کی شخصیت اور آئمہ کرام کے تاثرات:
امام صاحب میدانِ علم کے شاہکار تھے ان کی شخصیت دین و علم کا پیکر تھی آئمہ کرام نے مختلف انداز میں ان کے علمی کمالات اور ان کی شخصیت کو اجاگر کیا ہے امام ابن حبان نے کچھ اس انداز میں ان کی شخصیت کا نقشہ کھینچا ہے ، فرماتے ہیں:
’’وکان من سادات التابعین فقھا و دینا و ورعا و علماوعبادۃ و فضلا‘‘[11]
وہ باعتبارفقہ، دین، ورع، علم، عبادت و فضیلت کے سادات تابعین میں سے تھے-
امام علی بن المدینی ان کی وسعت علمی کے بارے فرماتے ہیں:
’’لا اعلم فی التابعین اوسع علما من سعید بن المسیب‘‘[12]
میں تابعین میں سعید بن المسیب سے زیادہ علم میں وسعت والا نہیں جانتا-
امام قتادہ فرماتے ہیں:
’’ما رأیت اعلم من سعید بن المسیب‘‘[13]
میں نے سعید بن المسیب سے زیادہ علم والا نہیں دیکھا-
اور امام ابوزرعہ سے جب امام صاحب کی شخصیت کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا:
’’مدینی قرشی ثقۃ امام‘‘[14]
’’وہ مدینہ میں رہنے والے قریشی ثقہ امام تھے‘‘-
اور امام نافع حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں:
ھو و اللہ احد المتقنین‘[15]
’’اللہ کی قسم وہ مضبوط علم والوں میں سے ایک تھے‘‘-
ذرا غور کریں کہ جن کی علمی وجاہت کو حضرت ابن عمر قسم کھا کر بیان کریں تو ان کی علمی شان کا عالم کیا ہوگا-امام مکحول ان کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’طفت الارض کلھا فی طلب العلم فما لقیت اعلم منہ‘‘[16]
’’میں طلب علم میں بہت ساری جگہیں گھوما لیکن میں نے ان سے زیادہ کسی علم والے سے ملاقات نہیں کی‘‘-
علم فقہ میں مہارت اور ان کی فقہی خدمات:
امام سعید بن مسیب علم حدیث کی طرح فقہ میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے ایسا لگتا تھا کہ فقہ ان کا خاص فن ہے وہ اپنے زمانے میں مدینہ میں جتنے فقہاء تھے ان کے سردار تھے انہیں فقیہ الفقہاء کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا-یہی وجہ ہے کہ محمد بن یحیی بن حبان ان کی فقہی مہارت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’کان رأس من بالمدینۃ فی دھرہ و المقدم علیھم فی الفتوی سعید بن المسیب ویقال فقیہ الفقہاء‘‘[17]
’’سعید بن مسیب اپنے زمانہ میں اہل مدینہ کے سردار اور فتوٰی میں ان سب پر فائق تھے ان کو فقیہ الفقہاء کہا جاتا تھا‘‘-
امام قتادہ فرماتے ہیں:
’’ما رأیت احدا قط اعلم بالحلال و الحرام من سعید بن المسیب‘‘[18]
’’میں نے ابن المسیب سے زیادہ حلال و حرام کا جاننے واالا نہیں دیکھا‘‘-
سلیمان بن موسیٰ فرماتے ہیں:
’’کان سعید بن المسیب افقہ التابعین‘‘[19]
’’سعید بن المسیب تابعین میں سب سے زیادہ فقیہ تھے‘‘-
جب امام مکحول اور امام زہری سے سوال کیا گیا –
من افقہ من ادرکتما قالا سعید بن المسیب‘‘[20]
’’جن فقہاء کو تم نے پایا ہے ان میں سب سے زیادہ فقیہ کون تھا انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا وہ سعید بن المسیب ہیں‘‘-
فقہی اعتبار سے آپ اتنے مشہور تھے کہ جب باہر سے طالبین فقہ مدینہ آتے تھے تو انہیں سیدھا ان کے گھر پہنچا دیا جاتا تھا-جیسا کہ میمون بن مہران سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں:
’’قدمت المدینۃ سألت عن افقہ اھلھا فدفعتالی سعید بن المسیب‘‘[21]
’’میں مدینہ شریف گیا اور وہاں کے سب سے بڑے فقیہ کے بارے پوچھا تو لوگوں نے مجھے سیدھا ان کے گھر پہنچا دیا‘‘-
آپ کی مسائل سے واقفیت اور فقہی تبحر کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ قدامہ بن موسیٰ فرماتے ہیں:
’’کان سعید بن المسیب یفتی و اصحاب رسول اللہ (ﷺ) احیاء‘‘[22]
’’سعید بن المسیب فتوی دیتے تھے حالانکہ محبوب کریم کے اصحاب موجود تھے‘‘-
اگرچہ سعید بن المسیب نے آقا کریم (ﷺ) اور حضرت ابوبکر(رضی اللہ عنہ) کا زمانہ نہیں پایا اور عہد فاروقی میں وہ کم سَن تھے لیکن یہ ان کے ذوق اور فقہی خدمات کا نتیجہ تھا کہ وہ تلاش اور جستجو سے آپ (ﷺ) اور شیخین کے فتاوٰی اور فیصلوں کے سب سے بڑے واقف کار بن گئے تھے-
وہ خود فرماتے ہیں:
’’مابقی احد اعلم بکل قضاء قضاۃ رسول اللہ و ابوبکر و عمرمنی‘‘[23]
’’اب مجھ سے زیادہ رسول اللہ (ﷺ) اور حضرت ابوبکر و عمر کے فیصلوں کو جاننے والا کوئی نہیں رہا‘‘-
آپ فقہی بصیرت میں اس عروج پر پہنچے کہ اس عہد کے تمام بڑے برے علماء اور اکابر تابعین ان کے علمی کمالات کے اتنے معترف تھے کہ وہ مشکل مسائل میں خود ان کی طرف رجوع کرتے تھے اور دوسروں کو ان سے استفادہ کرنے کی ہدایت کرتے تھے حضرت حسن بصری جیسے بزرگ کو جب کسی مسئلہ میں اشکال پیش آتا تھا تو وہ ان کے پاس لکھ کر بھیجتے تھے-[24]
امام ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن ثعلبہ نے مجھے نصیحت کی کہ اگر تم علم فقہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس شیخ (سعید بن المسیب) کی صحبت کو اپنے اوپر لازم کر لو-[25]
حضرت عمر بن عبد العزیز جیسی عظیم علمی شخصیت ان سے پوچھے بغیر کوئی شرعی فیصلہ نہیں کرتی تھی-امام عمر بن عبد العزیز فرماتے تھے کہ مدینہ منورہ میں کوئی عالم ایسا نہ تھا جو اپنے علم کو لے کر خود میرے پاس نہ آیا ہو-لیکن ابن المسیب کا علم میرے پاس لایا جاتا ہے-[26]
زہد و تقوٰی:
امام سعیدبن مسیب میں زہد و تقوٰی کا جذبہ بطریق اتم پایا جاتا تھا ان کے شب و روز اشاعتِ دین اور عبادات الٰہی میں گزرتے تھے نماز با جماعت ادا کرنے کا اتنا شوق تھا کہ وہ خود فرماتے ہیں کہ تقریباً عرصہ چالیس سال سے میری نماز جماعت سے فوت نہیں ہوئی-[27] مطلب یہ کہ اتنا عرصہ جماعت کے ساتھ ہی ادا کی ہے باجماعت نماز ادا کرنے کی غرض سے وقت سے پہلے مسجد چلا جانایہ آپ کا معمول تھا عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن المسیب سے سنا انہوں نے فرمایا کہ تقریباً 30 سال کا عرصہ ہو گیا ہے کہ جب بھی مؤذن نے اذان دی تو میں مسجد میں ہوتا تھا-[28]
یہاں تک کہ اُن پر کٹھن حالات میں کہ جب مدینہ میں گھر سے باہر قدم رکھنا بھی اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف تھا ان مشکل حالات میں بھی آپ نے مسجد کو نہ چھوڑا-مدینہ کی تاریخ میں حرہ کا واقعہ بڑا مشہور ہے اور یہ واقعہ سانحہ کربلا کے بعد پیش آیا کہ جب یزیدی لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہو کر تین دن تک قتل و غارت کرتا رہا تو حضرت سعیدبن مسیب فرماتے ہیں کہ میں نے حرہ کی راتیں دیکھی ہیں میرے علاوہ مسجد میں کوئی نہیں ہوتا تھا-اہل شام مسجد نبوی (ﷺ) میں داخل ہوتے تو مجھے دیکھ کر کہتے کہ ذرا اس مجنون کو دیکھو-آپ مزید فرماتے ہیں کہ جب بھی نماز کا وقت آتا تو میں حضور نبی کریم (ﷺ) کے روضہ مبارک سے اذان کی آواز سنتا پھر میں آگے بڑھتا اور اقامت کہتا اور نماز پڑھتا اور میرے علاوہ مسجد میں کوئی نہیں ہوتا تھا-[29]
یزید بن حازم فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب لگاتار روزے رکھتے تھے-[30] عبد الرحمٰن بن حرملہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن مسیب سے سنا کہ میں نے چالیس حج کئے ہیں-[31]
حدیث مبارکہ کا بڑا ادب و احترام کرتے تھے-مطلب بن حطب فرماتے ہیں کہ جب وہ بیمار تھے تو ایک دن میں ان کے پاس گیا اور ایک حدیث کے بارے ان سے سوال کیا وہ اس وقت پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا مجھے اٹھا دو کیونکہ میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں کہ میں پہلو کے بل لیٹے ہوئے محبوب کریم (ﷺ) کی حدیث مبارکہ بیان کروں-[32]
تعبیر خواب میں مہارت:
امام صاحب تعبیر خواب میں بڑی مہارت رکھتے تھےاور اس معاملے میں بڑے مشہور تھے لوگ ان سے اپنے خوابوں کی تعبیر پوچھتے تو جس طرح خواب کی تعبیر بتاتے تو واقعات بالکل اسی طرح رونما ہوتے -[33]
عبد الرحمٰن بن سائب کا بیان ہے کہ قبیلہ فہم کے ایک آدمی نے سعید بن المسیب کو اپنا خواب بیان کیا کہ میں نے دیکھا ہے کہ وہ آگ میں گھس رہا ہےآپ نے فرمایا کہ اگر تو اپنے خواب میں سچا ہے تو توں اپنی موت سے پہلے بحری سفر کرے گا اور تیری موت قتل سے ہوگی عبد الرحمٰن فرماتے ہیں کہ واقعی اس آدمی نے سمندر کا سفر کیا اور دورانِ سفر ہلاک ہوتے ہوتے بچا پھر وہ قدیر کے معرکہ میں قتل کیا گیا[34]
ایک شخص نے آکر آپ کو خواب بیان کیا کہ میں سایہ میں بیٹھا ہوں پھر اٹھ کر دھوپ میں چلا گیا-ابن المسیب نے کہا خدا کی قسم اگر تمہارا خواب ایسا ہی ہے تو تم دائرہ اسلام سے نکل جاؤ گے اس کے بعد اس شخص نے دوبارہ عرض کی کہ میں سایہ سے خود نہیں نکلا بلکہ مجھے زبردستی دھوپ میں لایا گیا لیکن پھر موقع پاکر نکل آیا-تو پھر آپ نے تعبیر خواب میں ترمیم کی اور فرمایا اگر ایسا ہی ہے تو تم کفر پر مجبور کئے جاؤ گے یہ تعبیر بالکل صحیح نکلی یہ شخص عبد المالک کے زمانے میں کسی جنگ میں قید ہوا اور زبردستی کفر پر مجبور کیا گیا لیکن پھر چھوٹ کر مدینہ واپس آیا اور یہ واقعہ خود وہ شخص بیان کرتا تھا-[35]
مسلم الخیاط فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن المسیب سے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں اپنے ہاتھ میں پیشاب کر رہا ہوں تو آپ نے فرمایا تو اللہ تعالیٰ سے ڈر تیری بیوی تیری محرم ہے یعنی تیرا اس سے نکاح کرنا حرام ہے جب خوب چھان بین کی گئی تو اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان رضاعت کی حرمت نکلی-[36]
وفات:
امام ابن خلکان نے ان کی وفات کے بارے مختلف اقوال نقل کئے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ آپ کی وفات 91ھ یا 92 ھ یا 93 ھ یا 94ھ یا 95 ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی-[37]
٭٭٭
[1](الثقات لابن حبان، جز:4، ص:213)
[2](الطبقات الکبرٰی، جز:5، ص:90)
[3](ایضاً، ص:89)
[4](تہذیب الاسماء و اللغات، جز:1، ص:219)
[5](مغانی الاخیار، جز:1، ص:407)
[6](سیر اعلام النبلاء، جز:5، ص:125)
[7](ایضاً)
[8](تہذیب التہذیب، جز:4، ص:86)
[9](سیر اعلام النبلاء، جز:5، ص:125)
[10](تہذیب الاسماء و اللغات، جز:1، ص:219)
[11](الثقات لابن حبان، جز:4، ص:213)
[12](تہذیب التہذیب، جز:4، ص:85)
[13](الجرح و التعدیل، جز:4، ص:85)
[14](ایضاً)
[15](تہذیب التہذیب، جز:4، ص:85)
[16](ایضاً)
[17](الطبقات الکبرٰی، جز:5، ص:90)
[18](الجرح و التعدیل، جز:4، ص:60-61)
[19](ایضاً)
[20](ایضاً)
[21](الطبقات الکبرٰی، جز:2، ص:289)
[22](ایضاً)
[23](ایضاً)
[24](تذکرۃ الحفاظ، جز:1، ص:44)
[25](تہذیب التہذیب، جز:4، ص:84)
[26](الطبقات الکبرٰی، جز:2، ص:291)
[27](ایضاً)
[28](ایضاً)
[29](سیر اعلام النبلاء، جز:4، ص: 228)
[30](الطبقات الکبرٰی، جز:2، ص:291)
[31](ایضاً)
[32](سیر السلف الصالحین للاصبہانی، جز:1، ص:777)
[33](الطبقات الکبرٰی لابن سعد،جز:5، ص:123)
[34](ایضاً، ص:124)
[35](ایضاً، ص:125)
[36](ایضاً، ص:124)
[37](وفیات الاعیان، جز:2، ص:378)