ابیات باھو: مُرشد مَینوں حج مَکّے دا رحمت دا دَروازہ ھو

ابیات باھو: مُرشد مَینوں حج مَکّے دا رحمت دا دَروازہ ھو

ابیات باھو: مُرشد مَینوں حج مَکّے دا رحمت دا دَروازہ ھو

مصنف: Translated By M.A Khan مئی 2026

م:مُرشد مَینوں حج مَکّے دا رحمت دا دَروازہ ھو
کَراں طواف دوالے قِبلے نِت ہووے حج تازہ ھو
کُن فَیَکُونْ جَدوکا سُنیا ڈِٹھا مُرشد دا دَروازہ ھو
مُرشد سَدا حیاتی والا باھوؒ اوہو خِضر تے خُواجہ ھو

My murshid is pilgrimage of Makka and mercy’s door Hoo

I perform circumambulation and initiate fresh pilgrimage for sure Hoo

Ever since I have heard (Kun fa ya koon) I have seen the murshid’s door Hoo

Murshid has eternal life Bahoo he is Khadir and Khawaja and more Hoo

Murshid mainu hajj makkay da rehmat da darwaza Hoo

Kara’N tawaf dwaly qiblay nit howay hajj taza Hoo

Kun fayakoon jadoka sunya ‘Di’Tha murshid da darwaza Hoo

Murshid sada hayati wala Bahoo ooho ‘Khizar tay ‘Khawaja Hoo

تشریح: 

دلی با کعبہ شد قبلہ حاجات

 

بقبلہ سجدہ از بہر حق ذات

1:’’جو دل کعبہ سے منسلک ہو جاتا ہے وہ قبلۂ حاجات بن جاتا ہے جس کی طرف رُخ کر کے ذاتِ حق کو سجدہ کیا جاتا ہے‘‘ -(محک الفقرکلاں)

جس طرح خانہ کعبہ اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات کا مرکز ہوتا ہے اسی طرح مرشد کامل اکمل مکمل بھی  اللہ رب العزت کی عنایا ت اورانوار الہٰیہ  کا مرکز ومحور ہوتاہے ، اس لیے جس طرح ایک مسلمان کی خانہ کعبہ سے دلی وابستگی ایک فطری امرہے اسی طرح طالب اللہ کا مرشد کامل کی طرف رجحان  بھی ایک لازمی امر ہے جیساکہ حضرت سخی سُلطان باھوؒ ارشادفرماتے ہیں:مرشد ِکامل مکمل کعبہ کی مثل ہوتا ہے جس کے حرم میں داخل ہونے والا اگر نیک ہے تو نیک ہی رہتا ہے اور اگر بد ہے تو بد ہی رہتا ہے -(عین الفقر)

2:’’ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ عَرْشُ اللهِ‘‘          ’’دل اللہ تعالیٰ کا عرشِ اعظم ہے ‘‘-  (مرقاة المفاتيح )

حدیث قدسی میں مزید فرمان مبارک ہے : ’’لَا يَسَعُنِيْ أَرْضِيْ، وَلَا سَمَائِيْ، وَلٰكِنْ يَّسَعُنِيْ قَلْبُ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ‘‘(مرقاة المفاتيح)

’’ مَیں نہ تو زمین میں سماتا ہوں اور نہ ہی آسمانوں میں سماتا ہوں مَیں صرف بندۂ مومن کے دل میں سماتا ہوں‘‘-

  سیدی رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان مبارک ہے:’’فقراء کی خدمت کیا کرو کہ بارگاہ ِاِلٰہی سے اُنہیں ایک خاص دولت عطا کی گئی ہے‘‘(کلید التوحید کلاں)- چونکہ مرشد کامل مظہر ذاتِ الٰہی  ہوتا ہے اور طالب اللہ کو اس کی بارگاہ مبارک میں استقامت کے ساتھ رہنے سے حیاتِ جاوداں نصیب ہوتی ہے جیساکہ آپؒ فرماتے ہیں: ’’یاد رکھ کہ گھڑی بھر مرشد ِکامل کی خدمت عمر بھر کی اُس عبادت سے افضل ہے جوبکثرت کی جائے - خدمت ِمرشد سے انسان کے وجود میں سعادت پیدا ہوتی ہے ، وہ سعادت کہ جو اُس کی اُس دائمی عبادت سے افضل ہے کہ جس میں نفس اُس کی مخالفت ہرگزنہ کرے‘‘(محک الفقرکلاں)- 

3:’’مرشد وہ ہے جو طالب اللہ کو وحدانیت ِتوحید کے مقامِ منفرد میں داخل کر دے- مقامِ منفرد کیا ہے؟ وہ مقام کہ جہاں پہلی بار نورِ محمدی (ﷺ)پوری ارادت و صدق کے ساتھ نور ِخدا سے نمودار ہوا-سن ! مرشد وہ ہے جو طالب اللہ کو مقامِ منفرد میں داخل کرکے مرتبۂ بقا تک پہنچا دے- کوئی سمجھ والا ہی اِس رمز کو سمجھے گا‘‘(عین الفقر)- اس لیے طالب اللہ جب مرشد کامل کی صحبت میں استقامت کے ساتھ رہتا ہے تو اس  پر وہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے یعنی اللہ رب العزت کی کامل معرفت و پہچان -تو اس کی روح بیدار ہوجاتی ہے اوروہ زبانِ حق سے پکار اٹھتا ہے یہ تو وہی جلوہ ہے جومیں نے عالم ارواح میں کن فیکون کے وقت دیکھاتھا -

4: ’’ کامل کی تو ایک ہی توجہ کافی ہو رہتی ہے-مرشد ِکامل کی توجہ خضر (علیہ السلام) کی نظر سے بہتر ہوتی ہے کہ اُس کی توجہ سے خاک بھی سونا چاندی بن جاتی ہے‘‘ (کلیدالتوحیدکلاں)- اب طالب چونکہ اپنی منزل مل جاتی ہے اور اس کا ذریعہ ا س کا مرشد ہوتا ہے اس لیے اب وہ ہروقت اپنے مرشد کے گن گاتا رہتا  ہے جیساکہ آپؒ ارشادفرماتے ہیں : طالب ِصادق مرشد ِکامل سے اِتنی شدید محبت کرتاہے کہ اُس پر عاشقوں کا یہ قول صادق آتاہے:  ’’ میرا گوشت تیرا گوشت ، میرا خون تیرا خون‘‘- وہ اپنے مرشد کے سامنے عجز و انکسار سے خاک بن کر رہتاہے، اُس پر اپنی جان فدا کرتاہے اور اُس کی محبت میں اپنا دل چاک چاک کرلیتاہے‘‘(نورالھدٰی)-  

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر