اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین ایک ایسا ہمہ جہت اور بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے جو تعصّب، فرقہ واریت اور ہر نوع کی تنگ نظری سے بلند ہو کر انسانیت کے مشترکہ اقدار کی ترجمانی کرتا ہے- اس کی صدا سرحدوں سے ماورا ہو کر دلوں میں اترتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے نہ صرف مختلف مکاتبِ فکر بلکہ گوناگوں مذاہب سے وابستہ افراد بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں- درحقیقت یہ تحریک قرآن و سنت کی حقیقی روح کی عکاس ہے، جو اسلاف و اکابر کی روحانی وراثت کو محفوظ رکھنے اور اس کی صحیح تعبیر کو معاشرتی سطح پر عام کرنے کے لیے کوشاں ہے-اس جماعت کا نصب العین محض ظاہری اصلاح تک محدود نہیں بلکہ انسان کے باطن کی تطہیر، روح کی بالیدگی اور معرفتِ الٰہی کے شعور کو بیدار کرنا بھی اس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے- اپنے گہرے فکری اور روحانی اصولوں کے ذریعے یہ تحریک انسان کو نہ صرف اخلاقی بلندیوں تک لے جانا چاہتی ہے بلکہ اسے ایک باوقار، باشعور اور روحانی طور پر زندہ معاشرے کا فعال رکن بنانے کی جدوجہد بھی کرتی ہے-
اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے، گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی آستانہ عالیہ شہبازِ عارفاں حضرت سلطان محمد عبد العزیز (قدس اللہ سرّہٗ) پر عظیم الشان اور روح پرور محفلِ میلادِ مصطفےٰ (ﷺ) کا انعقاد نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ کیا گیا- اس بابرکت تقریب کی صدارت سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین، جانشینِ سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس) نے فرمائی-پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس نے محفل کو روحانی فضا سے معطر کر دیا- اس کے بعد محمد رمضان سلطانی صاحب نے دل نشین انداز میں نعتِ رسولِ مقبول (ﷺ) پیش کر کے سامعین کے قلوب کو عشقِ مصطفیٰ (ﷺ) کی حرارت سے منور کیا، جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مفتی منظور حسین صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے-
اس روحانی اجتماع میں چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ، صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب کا عمیق، تحقیقی اور بصیرت افروز خطاب تھا، جس نے حاضرین کے اذہان کو جِلا بخشی اور انہیں فکر و عمل کی نئی جہتوں سے روشناس کرایا-
خصوصی خطاب کا مختصر خلاصہ:
فصاحت و بلاغت کی دنیا میں ایک نہایت اہم اور دقیق اُصول ’’مجازمرسل‘‘ کہلاتا ہے، جو زبان کی لطافت، وسعت اور معنوی گہرائی کو نمایاں کرتا ہے- اس کا مفہوم یہ ہے کہ لفظ کو اس کے حقیقی معنی سے ہٹا کر کسی ایسے مجازی معنی میں استعمال کیا جائے جس میں تشبیہ کا پہلو نہ ہو بلکہ کوئی نہ کوئی تعلق (سبب، مسبب، جز، کل وغیرہ) پایا جائے- یہی وہ اسلوب ہے جو کلام کو نہ صرف بلیغ بناتا ہے بلکہ اس میں فکری وسعت اور معنوی لطافت بھی پیدا کرتا ہے-
قرآنِ مجید، جو فصاحت و بلاغت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے، اس اسلوب سے بھرپور انداز میں مزین ہے- کہیں جز کا ذکر ہوتا ہے مگر مراد کل ہوتی ہےاور کہیں کل کا ذکر ہوتا ہے مگر مراد جز ہوتی ہے- مثلاً ارشاد ہوتا ہے:
’’یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَہُمْ فِیْٓ اٰذَانِہِمْ‘‘[1] وہ اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونستے ہیں‘‘-
حالانکہ حقیقت میں پوری انگلی نہیں بلکہ انگلیوں کے سرے کانوں میں داخل کیے جاتے ہیں- یہاں جز اور کل کے تعلق کے ساتھ مجازِ مرسل کا لطیف استعمال موجود ہے-
اسی طرح قرآن کریم میں دیگر مقامات پر بھی یہی اسلوب جلوہ گر ہے- ایک طرف فرمایا گیا:
’’یَہَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّکُوْرَ‘‘[2] ’’اللہ جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے‘‘-
جبکہ سورۃ مریم میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام)حضرت مریم(علیھا السلام) سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں:
’’لِاَہَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا‘‘[3] ’’میں تمہیں ایک پاکیزہ بیٹا دینے کے لیے آیا ہوں‘‘-
یہاں دینے کا ذکر حضرت جبرئیل کی طرف منسوب ہے، مگر حقیقت میں عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے- یہ مجازِ مرسل ہی کا ایک خوبصورت مظہر ہے جہاں سبب کو بیان کیا گیا اور مسبب مراد لیا گیا-
ہدایت کے باب میں بھی یہی اسلوب ملتا ہے- ایک طرف فرمایا:
’’وَاللہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘‘[4] ’’اللہ جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی ہدایت دیتا ہے‘‘-
جبکہ دوسری طرف حضور نبی اکرم (ﷺ) کے بارے میں ارشاد ہوا:
’’وَ اِنَّکَ لَتَہْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘‘[5] ’’ اور بیشک آپ (ﷺ)ہی صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت عطا فرماتے ہیں‘‘-
یہاں ہدایت کی نسبت کبھی اللہ کی طرف اور کبھی رسول (ﷺ) کی طرف کی گئی، مگر حقیقت میں اصل ہادی اللہ تعالیٰ ہے اور رسول (ﷺ) اس ہدایت کا ذریعہ اور مظہر ہیں-
اسی طرح حیات و موت کے باب میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اَللہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا‘‘[6] ’’اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے‘‘-
جبکہ دیگر آیات میں فرشتوں کی طرف بھی قبضِ روح کی نسبت کی گئی ہے-جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
قُلْ یَتَوَفّٰىکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ[7]
’’آپ کہیے تمہیں موت کا فرشتہ وفات دیتا ہے جس کو تم پر مقرر کیا گیا ہے ‘ پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘‘-
یہ سب مجازِ مرسل کی مثالیں ہیں جہاں فعل کی نسبت مختلف واسطوں کی طرف کی گئی مگر حقیقت میں فاعلِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے-اسی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے جب اولیائے کرام اور صوفیائے عظام بارگاہِ رسالت (ﷺ) میں عرض کرتے ہیں: ’’یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے‘‘، یا جب اہلِ محبت ’’یا علی مدد، یا غوثِ اعظم دستگیر ‘‘،یا ’’یا داتا گنج بخش‘‘ جیسے کلمات ادا کرتے ہیں، تو یہ سب مجازِ مرسل کے دائرے میں آتے ہیں- ان کلمات کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ معاذ اللہ، حقیقی مددگار اللہ کے سوا کوئی اور ہے، بلکہ یہ ایک روحانی نسبت، وسیلہ اور تعلق کا اظہار ہوتا ہے، جس کے پسِ منظر میں عقیدہ یہی ہوتا ہے کہ اصل مددگار اور کارساز صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے-
لہٰذا ضروری ہے کہ ایسے مسائل کو علم، فہم اور بلاغت کے اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے، نہ کہ تعصب اور تنگ نظری کے ساتھ- کیونکہ جب مسائل کو علم کے بجائے تعصب کی عینک سے دیکھا جاتا ہے تو وہی چیز جو ہدایت کا ذریعہ بن سکتی تھی، گمراہی کا سبب بن جاتی ہے-
پروگرام کے اختتام پہ صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب نے جامعہ غوثیہ عزیزیہ انوار حق باھو سلطان سے دورہ حدیث شریف مکمل کرنے والے 43 طلباء اور تخصص فی الفقہ مکمل کرنے والے13 طلباء کی دستار بندی کی -اس کے بعد ہزاروں افراد نے سرپرست اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین حضرت سخی سُلطان محمد علی صاحب (مدظلہ الاقدس)کے دستِ مبارک پر شرفِ بیعت حاصل کر کے سلسلۂ قادریہ میں شمولیت اختیار کی اور اسم اعظم (اسم اللہ ذات ) کی لازوال دولت سے سرفراز ہوئے-
[1](البقرۃ:19)
[2](الشورٰی:49)
[3](مریم:19)
[4](البقرۃ:213)
[5](الشورٰی:52)
[6]( الزمر:42)
[7](السجدہ:11)