ڈیجیٹل ڈیٹوکس اور قرآنی اصول نوجوانوں کے لیے ذہنی اور عملی توازن

ڈیجیٹل ڈیٹوکس اور قرآنی اصول نوجوانوں کے لیے ذہنی اور عملی توازن

ڈیجیٹل ڈیٹوکس اور قرآنی اصول نوجوانوں کے لیے ذہنی اور عملی توازن

مصنف: سبینہ عمر فروری 2026

تخلیقِ کائنات سے لے کر آج تک انسانی زندگی مختلف ادوار اور بے شمار اختراعات سے گزری ہے- ہر دور میں نئی ایجادات نے انسانی ضروریات کو سہارا دیا اور روزمرہ کے وسائل میں اضافہ اور مسائل میں کمی پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن وقت کے ساتھ جوں جوں زندگی تیز رفتاری سے آگے بڑھتی گئی، انسان نے سہولیات کی تلاش میں ایسی ٹیکنالوجیز وضع کیں جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں کچھ نئے مسائل (Challenges) کو بھی جنم دیا- سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے رابطوں، معلومات اور تفریح کے بے پناہ مواقع فراہم کیے ہیں-Facebook، Instagram، TikTok، YouTube، Twitter/X اور WhatsApp جیسے ڈیجیٹل ذرائع (Digital Platforms) نے ناصرف دنیا کو ایک عالمی گاؤں (Global Village) کی نئی صورت عطا کی بلکہ انسانی زندگی کے روزمرہ معمولات اور سماجی تعاملات میں بھی ایک لازمی اور ناگزیر حیثیت اختیار کر لی ہے-جیسا کہ عہدِ کووِڈ میں ہم نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے سے جسمانی طور پر دور تھے، مگر سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے قائم رہے- ابتدا میں یہ وقتی ضرورت تھی، لیکن رفتہ رفتہ یہ ضرورت انسانی زندگیوں میں سرایت کر تے ہوئے ایک مستقل حصہ بن گئی اور اب اس نے شدت اختیار کر لی ہے-اس موضوع کو ہم اس طرح سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے زندگی کے ہر شعبے میں توازن ضروری ہے ورنہ نقصان کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، ایسے ہی غیر متوازن اور صحیح و غلط کی تمیز سے عاری معلومات اور تفریح کے نام پر سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال نئی نسلوں میں ذہنی دباؤ، توجہ میں کمی، نیند کی خرابی اور سماجی تعلقات میں خلل پیدا کر رہا ہے- اس کا مسلسل استعمال وقت کے ساتھ ایسے اثرات مرتب کررہا ہے جو شخصیت اور معاشرتی رویوں پر گہرے اثر ڈال رہا ہے گویا تشبیہی طور پر اسے ’’ڈیجیٹل کینسر ‘‘قرار دیا جائے تو بےجا نہ ہوگا-اس ’’ڈیجیٹل کینسر‘‘ کی علمی اور سائنسی حقیقت یہ ہے کہ اکیسویں صدی کا انسانی دماغ ایک ایسے غیر معمولی ارتقائی چیلنج سے نبرد آزما ہے جسے ماہرینHyper-Connectivity کا نام دیتے ہیں- اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے لامتناہی استعمال نے انسانی اعصابی نظام کو ایک مستقل ہیجانی کیفیت (Chronic Hyper-arousal) میں مبتلا کر دیا ہے- جدید سائنسی شواہد، بالخصوص اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی نیورو-بائیولوجسٹ ڈاکٹر انا لیمبکے کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ڈیجیٹل آلات کا کثرتِ استعمال دماغ کے نظامِ جزا (Reward System) کو مختل کر دیتا ہے- ڈاکٹر انا لیمبکے کے مطابق، موبائل کا بے جا استعمال ہمارے دماغ میں 'ڈوپامائن' (خوشی کا احساس دلانے والا کیمیکل) کا توازن بگاڑ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ہم تند مزاجی (Short Temperament) شدید چڑچڑے پن اور ’’ڈیجیٹل برن آؤٹ‘‘کا شکار ہو جاتے ہیں-[1]

ماہرین اور جدید تحقیق کے مطابق، اس ڈیجیٹل یلغار کا علمی و روحانی تدارک یہ ہے کہ اس پیچیدہ اعصابی و حیاتیاتی (Neuro-biological)عارضے سے نجات کیلئے ایک سہ جہتی ماڈلِ بحالی (Three-dimensional Recovery Model)اپنایا جائے- اس علمی جراحی  (Intellectual Surgery) کا پہلا مرحلہ ڈیجیٹل ڈیٹوکس (digital detox) ہے، جو ایک فوری اعصابی ترتیبِ نو (Neuro-reset) کے طور پر دماغ کے مختل شدہ نظامِ جزا کو بحال کرتا ہے؛ یہ عمل بعینہٖ قرآنی تصورِ 'اعتکاف' اور 'خلوت' کی معاصر طبی تعبیر ہے جہاں خارجی ہیجان کی نفی کر کے داخلی سکینہ پایا جاتا ہے- دوسرا مرحلہ 'ڈیجیٹل اعتدال (Digital Diet) ہے، جو ’’کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا‘‘ کے آفاقی قرآنی ضابطے کے تحت ہمیں 'معلوماتی جنک فوڈ' سے احتراز اور شعوری معلوماتی غذا کے انتخاب پر مائل کرتا ہے تاکہ اعصابی نظام ادراکی دلدل (Cognitive Sinkhole) کے بوجھ سے محفوظ رہ سکے- اس فکری ارتقاء کی معراج قناعت پسندی (Digital Minimalism) ہے، جو ایک پختہ فلسفہِ حیات کے طور پر انسان کو 'لغو' مشغولیات سے بچا کر 'قناعت' اور 'آزادیِ ارادہ' کے منصبِ حاکمیت پر فائز کر دیتا ہے-حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل لت ہمارے 'نفسِ لوامہ' کو سلا دیتی ہے، جبکہ یہ ماڈل اسے دوبارہ بیدار کر کے انسان کو صحیح اور غلط (بامقصد اور بے مقصد) کی تمیز عطا کرتا ہے-

قرآن پاک کی کئی سورتوں کا جائزہ لیا جائے تو اس میں ایسے اصول بیان ہوئے ہیں جو ڈیجیٹل ڈیٹاکس کے فکری و اخلاقی بنیاد فراہم کرتے ہیں- ان میں کم و بیش10 سے 15 سورتیں ایسی ہیں، جہاں لغو اور فضول مشاغل سے اجتناب، نظر اور سماعت کی حفاظت،وقت کی قدر و اہمیت،کثرتِ ذکر اور قلبی توجہ،تنہائی اور تفکر کی اہمیت،نفس پر قابو اور اعتدال جیسے مضامین ملتے ہیں-واضح طور پر جن سورتوں میں یہ مفہوم بالواسطہ ملتا ہے، ان میں سورۃ المؤمنون، سورۃ الفرقان، سورۃ العصر، سورۃ لقمان، سورۃ الاسراء، سورۃ النور، سورۃ الزمر، سورۃ الاعراف، سورۃ الشمس،سورۃ الجمعہ اور دیگر شامل ہیں-علمی اعتبار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن پاک انسان کو غفلت پیدا کرنے والی ہر شے سے ہوشیار رہنے اور ذہنی و روحانی توازن قائم رکھنے کی تعلیم دیتا ہے، جو موجودہ دور میں ڈیجیٹل ڈیٹاکس کی فکری اساس بنتی ہے-

اس اہم موضوع پر ہم قرآنی تعلیمات کے مطابق بیان کریں گے کہ ڈیجیٹل ڈیٹاکس قرآنی تعلیمات سے کیسے ممکن ہے ؟اس کے لئےسب سے پہلے ہم ’’سوشل میڈیا ایڈکشن‘‘ کو سمجھتے ہیں - مختلف تحقیقات کا جائزہ لیتے ہوئے بذریعہ قرآنی احکامات اس کی وضاحت کرتےہیں-

ایک اہم مطالعہ2023میں 462 بالغ افراد پر تحقیق کی گئی- اس میں وضاحت سے بیان کیا گیا کہ سوشل میڈیا ایڈکشن (SMA) صرف وقتی استعمال نہیں بلکہ طویل مدتی رویّہ ہے، اور اس کے علامات افسردگی، اضطراب اور ذہنی دباؤ سے منسلک تھیں-اسی طرح سوشل میڈیا ایڈکشن2024 میں کالج/یونیورسٹی طلبہ پر سروے کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ تقریباً 22.7 فیصد طلبہ کو ’’سوشل میڈیا ایڈکشن‘‘ کی درجہ بندی کی جا سکتی ہے- ان طلبہ نے ذہنی پریشانی، اضطراب اور شخصیاتی وجوہات (جیسے نیوروٹیسزم) میں زیادہ مسائل رپورٹ کیے -[2]

ان تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کے غیر متوازن استعمال کو معمولی بات نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ اسے ایک طرزِ زندگی کا فطری عنصر بننے سے روکنے کی ضرورت ہے-

ڈیجیٹل ڈیٹاکس کا عملی تجربہ:

2024 میں ایک مطالعہ تحقیق میں مندرج سروے میں تجرباتی ٹیم کو منتخب کرکے ان سے 14 دن کے لیے سوشل میڈیا استعمال ترک کرنے کی درخواست کی [3]

یہ مطالعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر انسان اپنی عادات پر قابو رکھے اور کچھ عرصہ دوری اختیار کرے تو نہ صرف دماغی اور جذباتی سکون مل سکتا ہے بلکہ خود اعتمادی اور خود پسندی (self image) پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے-

2024 میں ایک تازہ تحقیق کی گئی جس میں کام کرنے والے بالغ افراد  پر کراس سیکشنل سروے کیا اور رپورٹ کیا کہ جن لوگوں میں سوشل میڈیا ایڈکشن زیادہ تھی، ان میں ذہنی دباؤ، اضطراب اور افسردگی کی شرح نمایاں تھی- [4]

یہ نتائج بتاتے ہیں کہ ’’Digital Detox‘‘ محض ایک نظریاتی تصور نہیں بلکہ ایک قابلِ اطلاق اور حقیقی حل ہے - چاہے آپ طالب علم ہوں، نوجوان، کام کرنے والے یا گھر دار-

2023ء کی تحقیقات کے مطابق، سوشل میڈیا ایڈکشن کے شکار افراد میں بعض مشترکہ علامات سامنے آئی ہیں-سوشل میڈیا کے بغیر اضطراب، کم توجہ، نیند کی خرابی اور تخلیقی سرگرمیوں میں کمی- سوشل میڈیا ایڈکشن اور طویل  مدتی مطالعہ (longitudinal) تحقیق بتاتی ہے کہ ان علامات کا سلسلہ وقت کے ساتھ مستقل رہ سکتا ہے-[5]

لہٰذا ڈیجیٹل ڈیٹاکس ایک عارضی پرہیز نہیں بلکہ جدید دور کی ضرورت ہے - ایک فکری، سماجی اور جسمانی توازن کا راستہ ہے-یہ چند ایسی بنیادی عملی اقدامات نہ صرف ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں بلکہ انسان کے اندر نظم وضبط، خود پر کنٹرول، اور زندگی کے مقصد کو بھی واضح کرتے ہیں-سوال یہ ہے کیا ہماری نوجوان نسل ان احکامات سے آگاہ نہیں جو ہم پر اللہ کی طرف سے لاگو ہوتے ہیں؟-سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ آج ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں- مگر اس کے ساتھ ایک نیا رجحان واضح ہوا ہے: موبائل اور سوشل میڈیا کی لت (addiction)، جو صرف وقت ضائع کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ذہنی، سماجی اور جذباتی مسائل کا باعث بن رہی ہے- متعدد جدید تحقیقی مطالعے اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال کسی حد تک ڈپریشن، اضطراب، تنہائی، خود اعتمادی میں کمی، اپنی شخصیت یا ظاہری شکل کے بارے میں منفی سوچ اور پیشہ ورانہ کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے- ایسے حالات میں ڈیجیٹل ڈیٹاکس (Digital Detox) نہ صرف متبادل ہوسکتی ہے بلکہ ذہنی اور سماجی توازن کی طرف ایک مثبت اقدام بھی ثابت ہو سکتی ہے-

نوجوانوں میں سوشل میڈیا لت:

پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ہونے والی ایک نئی تحقیق نے کم وبیش 386 پاکستانی یونیورسٹی طلبہ پر مطالعہ کیا- اس میں وضاحت کی گئی کہ سوشل میڈیا کی لت اور جسمانی ہیئت پر ذہنی اضطراب کے درمیان قابلِ ذکر مثبت تعلق ہے- یعنی جو طلبہ زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے تھے، ان میں خود کو جسمانی و ظاہری اعتبار سے کم قدر پانے یا خود پر عدم اطمینان کا رجحان زیادہ تھا- [6]

اسی طرح ایک  حالیہ مطالعہ 2025نے نوجوانوں میں سوشل میڈیا ایڈکشن اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے-  [7]

بالغ افراد اور کام کرنے والے استعمال کنندگان:

ایک جدید نفسیاتی مطالعہ 2024 جس نے کم و بیش 200  سے زائد working adults پر تحقیق کی- اس میں پایا گیا کہ سوشل میڈیا کی لت کا تعلق ڈپریشن، ذہنی دباؤ اور اینگزائٹی کے ساتھ بہت گہرا تھا، اور سوشل میڈیا کا استعمال ذہنی صحت کے بگاڑ کی ایک بڑی وجہ (significant predictor) ثابت ہوا-[8]

سوشل میڈیا کا غیر صحت مندانہ استعمال نوجوانوں میں بے چینی اور جارحیت پیدا کرتا ہے، جس سے والدین کے ساتھ رشتے اور گھریلو ماحول متاثر ہوتا ہے-[9]

نیورو سائنس کی رو سے سوشل میڈیا کی لت دراصل ہماری 'توجہ کی صلاحیت' (Attention Capital) کی چوری ہے، جسے ماہرین ذہنی دلدل(Cognitive Sinkhole) کہتے ہیں-

ان تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کے غیر متوازن استعمال کو معمولی بات نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ اسے ایک طرزِ زندگی کا فطری عنصر بننے سے روکنے کی ضرورت ہے-

ڈیجیٹل ڈیٹاکس کا قرآنی منہج: تجویز سے ہدایت تک

ڈیجیٹل ڈیٹاکس کے قرآنی منہج سے مراد یہ نہیں کہ قرآن کریم کسی مخصوص جدید ٹیکنالوجی یا اسکرین کے استعمال کے لیے وقتی قواعد بتاتا ہے، بلکہ اس سے مراد وہ بنیادی فکری، اخلاقی اور روحانی اصول ہیں جن پر قرآن کریم انسان کی پوری زندگی کو قائم کرتا ہےاور جو ہر دور میں انسان کی توجہ، وقت اور دل کی وابستگی کو درست سمت دیتے ہیں-یعنی قرآنی منہج میں ڈیجیٹل ڈیٹاکس کسی علیحدہ پروگرام یا مرحلہ وار منصوبہ نہیں بنتا، بلکہ وہ طرزِ زندگی کا حصہ ہوتا ہے- عام طور پر جو ڈیجیٹل ڈیٹاکس کی تجاویز پیش کی جاتی ہیں، وہ زیادہ تر ماہرینِ نفسیات، محققین، ٹی وی پروگرامز اور تربیتی نشستوں میں سننے کو ملتی ہیں- ان میں وقفے مقرر کرنا، اسکرین ٹائم محدود کرنا، یا متبادل مشاغل اختیار کرنا شامل ہوتا ہے- بظاہر یہ سب باتیں معقول اور مفید محسوس ہوتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام باتیں محض مشورے ہیں، احکام نہیں- یہی وجہ ہے کہ ان تجاویز پر عمل نہ کرنا انسان کے لیے کوئی اخلاقی یا روحانی بوجھ نہیں بنتا-انسان چاہے تو سن لے، چاہے تو نظرانداز کر دے- نہ ضمیر میں خلش پیدا ہوتی ہے، نہ جواب دہی کا احساس جاگتا ہے- اسی لیے بار بار یہ دیکھا جا رہا ہے کہ جدید ڈیجیٹل ڈیٹاکس کے لائحہ عمل کے باوجود انسان کی توجہ منتشر ہی رہتی ہے، ذہن بے چین ہی رہتا ہے اور لت ختم ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہو جاتی ہے-اس کے برعکس قرآنِ مجید کا اسلوب بالکل مختلف ہے-قرآن کریم انسان سے یہ نہیں کہتا کہ اگر مناسب لگے تو ایسا کر لو بلکہ وہ ہدایت دیتا ہے، حکم دیتا ہے اور جواب دہی کا شعور بیدار کرتا ہے-قرآن کریم کا امتیاز یہ ہے کہ وہ انسان کی زندگی کو صرف منظم نہیں کرتا بلکہ مرکز عطا کرتا ہے- وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ توجہ کہاں مرکوز ہونی چاہیے، دل کس کے ساتھ وابستہ ہو، نظر، سماعت اور وقت کس مقصد کے تابع ہوں-مثلاً قرآن کریم لغو سے اجتناب کو محض ایک اچھی عادت نہیں کہتا بلکہ اہلِ ایمان کی صفت قرار دیتا ہے-اسی طرح قرآن کریم کثرتِ ذکر کو ذہنی سکون کی بنیاد بناتا ہے، نہ کہ ایک اختیاری روحانی مشق-قرآن کریم نگاہ اور سماعت کی حفاظت کو ذاتی پسند ناپسند پر نہیں چھوڑتا بلکہ اخلاقی ذمہ داری بناتا ہے-قرآن کریم وقت کی قسم کھا کر انسان کو جھنجھوڑتا ہے کہ وہ خسارے میں ہے اگر اس نے اپنی توجہ اور عمر کو بے مقصد ضائع کیا-یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل سے نہ صرف عادات تبدیل ہوتی ہیں بلکہ باطنی تبدیلی بھی پیدا ہوتی ہے-یہ تبدیلی خوفِ خدا، احساسِ جواب دہی اور مقصدِ حیات کے ادراک سے جنم لیتی ہے-جدید ڈیجیٹل ڈیٹاکس یہ کہتا ہے کہ اسکرین کاوقت کم کر لیا جائے تاکہ ذہن بہتر ہو جائے جب کہ مطالعہ قرآن یہ کہتا ہے کہ اپنے دل کو اس چیز سے ہٹا لو جو تمہیں غفلت میں ڈال دےاور اسے اس ذات سے جوڑ لو جس کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں ،اسی لیے اصل مسئلہ اسکرین نہیں،اصل مسئلہ دل کی وابستگی ہے-دل کی اصلاح کا کام کوئی پروگرام، کوئی ایپ، کوئی ٹائم ٹیبل نہیں کر سکتا-یہ کام صرف قرآن کریم کی ہدایت کرتی ہے-اگر ڈیجیٹل ڈیٹاکس کو واقعی مؤثر بنانا ہے تو اسے نفسیاتی مشوروں کی بجائے قرآنی تصورِ حیات کے تحت سمجھنا ہوگا، جہاں انسان صرف صحت مند نہیں بلکہ باخبر، ذمہ دار اور جواب دہ بندہ بن کر جیتا ہے-یہی قرآن کریم کی عظمت ہے اور یہی وہ فرق ہے جو ہر وقتی تجویز اور دائمی ہدایت کے درمیان ہوتا ہے- اس مضمون میں چند آیات مبارکہ پیش کی جارہی ہیں جو قارئین کیلئے حقیقی معنوں میں ڈیجیٹل ڈیٹاکس کا حکم بیان کرتی ہیں-

فضول مشغولیات سے بچنے کا حکم:

’’وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ‘‘[10]

’’اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے‘‘-

فضول سکرولنگ، بے کار ویڈیوز اور وقت ضائع کرنے والی مصروفیات سے بچا جائے-

وقت کو ضائع نہ کرنے کی نصیحت:

’’وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ‘‘[11]

اس زمانہ محبوب کی قسم! بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے -

موبائل کا بے جا اور حد سے زیادہ استعمال انسان کا سب سے بڑا سرمایہ یعنی وقت ضائع کرتا ہے-

نفس کی خواہشات کے پیچھے نہ پڑنا:

’’أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ‘‘[12]

”بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرا لیا‘‘-

موبائل اور سوشل میڈیا کا نشہ بھی انسان کو خواہشات کا غلام بنا دیتا ہے-

غفلت سے بچنے کا حکم:

’’وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا‘‘[13]

”اور اس کا کہنا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا-

ڈیجیٹل مصروفیات اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت سے غفلت کا سبب بنتی ہیں-

نظر کی حفاظت اور فتنوں سے بچنے کی تلقین:

’’قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ‘‘[14]

”مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں“ -

موبائل استعمال میں سب سے زیادہ آزمائش نظر کی ہے، جو ڈیجیٹل فتنوں سے بچنے کا اہم پہلو ہے-

دلوں کے زنگ اور غفلت کی نشاندہی:

’’کَلَّا بَلْ سکتہ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ‘‘[15]

”کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھادیا ہے ان کی کمائیوں نے-

موبائل کا  بے تحاشا استعمال دل کو غافل اور سخت بنا دیتا ہے-

اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالنا:

وَلَا تُلْقُوْا بِأَيْدِيْكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ‘‘[16]

”اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو“-

نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، موبائل کا حد سے زیادہ استعمال جسم و ذہن کو نقصان دیتا ہے-

اللہ تعالیٰ نے انسان کو کھیل کود کے لئے نہیں بنایا:

’’أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا‘‘[17]

”تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا“-

وقت کو فضول سکرولنگ میں گنوانا مقصدِ حیات کے خلاف ہے-

ہر چیز کا حساب ہونا ہے

’’ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيْمِ‘‘[18]

’’پھر بے شک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کی پرسش ہوگی ‘‘-

وقت، صحت، نظر ، یہ سب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں اور ان کے استعمال پر بازپرس ہوگی-

شیطان انسان کو غفلت میں رکھنا چاہتا ہے:

’’وَیُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّہُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا ‘‘[19]

” اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکاوے “-

فضول مواد، غیر اخلاقی ویڈیوز، بے معنی مشغلے ، شیطانی راستے ہیں-

زبان، آنکھ اور کان کی جوابدہی:

’’اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُلًا‘‘[20]

”بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں سوال ہونا ہے“-

سوشل میڈیا پر جو کچھ ہم دیکھتے، سنتے اور سوچتے ہیں، سب کی جوابدہی ہے-

نفس کو قابو میں رکھنا

’’وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ‘‘[21]

’’اور نفس کو خواہش سے روکا‘‘-

ڈیجیٹل ڈیٹاکس اصل میں نفس کی تربیت ہے-

وقت کی قدر:

’’وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً‘‘[22]

”اور وہی ہے جس نے رات اور دن کی بدلی رکھی‘‘-

موبائل پر راتیں گزار دینا فطری نظام کے خلاف ہے-

ڈیجیٹل ڈیٹاکس کرنے کا طریقہ جب ہم قرآن کریم  اور سائنس کے مشترکہ تناظر میں دیکھتے ہیں، تو یہ محض ’’فون چھوڑنا‘‘ نہیں بلکہ ’’روح کی بیداری اور ذہن کی صفائی‘‘کا ایک جامع پروگرام بن جاتا ہے-ایک مؤثر ڈیجیٹل ڈیٹاکس کے لیے درج ذیل سائنسی و قرآنی حکمتِ عملی اپنائی جا سکتی ہے-

ڈیجیٹل ہجرت: سائنسی علاج اور قرآنی حکمت کی عملی تطبیق:ڈوپامائن ری-سیٹ (Dopamine Reset)  نیت کی تطہیر اور تزکیہ

سائنسی نکتہ: ڈاکٹر انا لیمبکے کے مطابق ڈیٹاکس کا پہلا قدم دماغ کے ’’ریوارڈ سسٹم‘‘ کو آرام دینا ہے تاکہ ڈوپامائن کا توازن بحال ہو سکے-

قرآنی منہج: ڈیجیٹل ہجرت کا آغاز ’’نیت‘‘ سے کریں- جب آپ اسے محض عادت بدلنا نہیں بلکہ تزکیۂ نفس سمجھ کر کریں گےتو ارادہ ہمالیہ کی طرح مضبوط ہو جائے گا-جب مقصد اللہ کی رضا اور وقت کی حفاظت ہو، تو نفس کی سرکشی دم توڑ دیتی ہے-

ادراکی بار (Cognitive Loadلغو سے اعراض اور فکری جلا

سائنسی نکتہ: دماغ کو معلوماتی اژدھام (Information Overload) سے بچانے کیلئے input  کم کرنا ضروری ہے-

قرآنی منہج: لغو (بے مقصد مواد) کا مکمل بائیکاٹ کریں- سوشل میڈیا پر ان تمام اکاؤنٹس کو (Unfollow) کر دیں جو آپ کو غفلت میں ڈالتے ہیں- یہ ’’معرضون‘‘ (اعراض برتنے) کا عملی نمونہ ہے-

امیگڈالا کام (Amygdala Calm)  غضِ بصر اور حیا کی ڈھال

سائنسی نکتہ: بصری ہیجان کو کم کرنے سے دماغ کا جذباتی مرکز (Amygdala) پرسکون ہوتا ہے اور ذہنی خلفشار (Anxiety) کا خاتمہ ہوتا ہے-

قرآنی منہج :غضِ بصر(آنکھ کا روز ہ )

اپنی نظروں کو اسکرین کے فتنوں سے بچائیں- فون کا ’’Greyscale‘‘بلیک اینڈ وائٹ موڈ آن کر دیں- سائنس کہتی ہے کہ بے رنگ اسکرین دماغ کو کم کشش لگتی ہے، یوں آپ کی ’’نظر کی حفاظت‘‘ آسان ہو جاتی ہے-

 سرکٹ بریکنگ (Circuit Breaking)  خلوت اور ڈیجیٹل اعتکاف

سائنسی نکتہ: پرانی عادات کے اعصابی جال /سرکٹس توڑنے کیلئے ماحول کی تبدیلی اور ارادی تنہائی ضروری ہے-

قرآنی منہج: روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ (ترجیحاً فجر کے بعد) اور ہفتے میں ایک دن چند گھنٹے ’’ڈیجیٹل اعتکاف‘‘ کریں- فون کو دوسرے کمرے میں رکھ کر مصلے یا فطرت کے سائے میں ’’خلوت‘‘اختیار کریں- روزانہ کا کچھ وقت ڈیجیٹل دنیا سے کاٹ کر ’’ڈیجیٹل اعتکاف‘‘ کے لیے وقف کرنا بصیرت کے بند دروازے کھول دیتا ہے- تنہائی میں کیا گیا ’’تفکر‘‘ہی انسان کو اپنی ذات سے ملواتا ہے-

میلاٹونن بوسٹ (Melatonin Boost)  نظامِ لیل و نہار اور شب بیداری سے گریز

سائنسی نکتہ: نیلی روشنی (Blue Light) میلاٹونن ہارمون کو روکتی ہے، جس سے نیند اڑ جاتی ہے-

قرآنی منہج: لیل و نہار کا نظام:اللہ نے رات کو سکون کے لیے بنایا ہے- سونے سے 2 گھنٹے پہلے موبائل کو ’’وقتِ ممنوعہ‘‘قرار دیں- اس وقت میں  نماز ، تلاوت ، مراقبہ،تصور اسم اللہ ذات ، کلمہ شریف و درود پاک کا اہتمام کریں -یہ عمل سائنسی طور پر دماغ میں الفا لہریں (Alpha Waves) پیدا کر کے گہری نیند لاتا ہے-

نیوروپلاسٹی سٹی (Neuroplasticity)  متبادل غذا اور ذہنی ارتقاء

سائنسی نکتہ: انسانی دماغ کبھی معطل نہیں رہتا؛ اگر ایک عادت ختم ہوگی تو اس کی جگہ کسی دوسری تعمیری سرگرمی کو لانا ہوگا-

قرآنی منہج:اسکرین سکرولنگ کے وقت کو تلاوتِ قرآن اور مطالعہ سے بدلیں- قرآن کا فہم دماغ کے Prefrontal Cortex (دماغ کا وہ پیشانی والا حصہ جو فیصلے کرنے اور جذبات پر قابو پانے کا مرکز ہے)کو متحرک کرتا ہے جس سے توجہ (Focus) بڑھتی ہے-

اختتامی کلمات:

مذکورہ بالا آیات اور ڈیٹاکس کی حکمت عملی  یہ واضح  کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود شر نہیں، بلکہ اس کا بے لگام استعمال ہماری ’روحانی بصارت‘ کو ختم کر دیتا ہے- ایک نوجوان کیلے ڈیجیٹل ڈیٹاکس محض وقتی لاتعلقی نہیں، بلکہ ’تزکیۂ نفس‘ کی وہ جدید شکل ہے جو اسے اسکرین کی غلامی سے نکال کر حاکمیتِ نفس عطا کرتی ہے- اس قرآنی منہج کی بنیاد نفسیاتی سہولت کے بجائے اخلاقی جواب دہی اور مقصدِ حیات پر قائم ہے، جو ذہنی دباؤ میں کمی اور داخلی استحکام کا باعث بنتی ہے- جب انسان اسکرین کے سحر سے نکل کر فکری یکسوئی پاتا ہے، تو اس کی توجہ کی بازیافت علمی گہرائی اور تخلیقی ارتقاء کی ضامن بن جاتی ہے، جس سے زندگی محض مصروفیت نہیں بلکہ ایک بامقصد حقیقت بن کر ابھرتی ہے-

٭٭٭


[1]https://profiles.stanford.edu/anna-lembke  

[2]https://link.springer.com/article/10.1186/s12888-024-05709-z?utm

[3]https://link.springer.com/article/10.1186/s40359-024-01611-1

[4]https://link.springer.com/article/10.1186/s40359-024-01850-2

[5]https://link.springer.com/article/10.1186/s12888-023-04985-5

[6]https://jmhorizons.com/index.php/journal/article/view/555?utm_source

[7]https://ijbr.com.pk/IJBR/article/view/642?utm_source

[8]https://link.springer.com/article/10.1186/s40359-024-01850-2?utm_source

[9]https://journals.internationalrasd.org/index.php/pjhss/article/view/2414?utm_source

[10](المومنون:3)

[11](العصر:2-1)

[12]( الجاثیہ:23)

[13](الکہف:28)

[14](النور:30)

[15](المطففین:14)

[16](البقرۃ :195)

[17](المومنون:115)

[18](التکاثر:8)

[19](النساء:60)

[20](بنی اسرائیل :36)

[21](النازعات:40)

[22](الفرقان:62)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر