ابیات باھو: مُوتُو والی مَوت نہ ملی جیں وچ عِشق حَیاتی ھو

ابیات باھو: مُوتُو والی مَوت نہ ملی جیں وچ عِشق حَیاتی ھو

ابیات باھو: مُوتُو والی مَوت نہ ملی جیں وچ عِشق حَیاتی ھو

مصنف: Translated By M.A Khan مارچ 2026

م: مُوتُو والی مَوت نہ ملی جیں وچ عِشق حَیاتی ھو
موت وِصال تھیسی ہِک جدوں اِسم پڑھیسی ذاتی ھو
عَین دے وچوں عَین جو تھیوے دُور ہووے قرباتی ھو
ھو دا ذکر ہمیش سَڑیندا باھوؒ دِینہاں سُکھ نہ راتی ھو

Have not accessed death before dying in which there is life of ishq Hoo

The death will become union when recites single Divine name (Ism-e-Allah zat) Hoo

When one becomes ain from ain then closeness remains far away Hoo

Hoo’s dhikr always burns Bahoo there is no respite during night or day Hoo

Mootu wali maut nah mili jain’N wich ishq hayati Hoo

Maut wisal thesi hik jado’N ism pa’Rhisi zaati Hoo

Ain day wicho’N ain jo theway door howay qurbani Hoo

Hoo da zikr hamesh sa’Rainda Bahoo dinha’N such nah rati Hoo

تشریح:

-حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:

’’ اے طالب! ابھی تک تجھے ’’مُوْتُوْ ا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا ‘‘والی موت کامقام حاصل نہیں جس میں حیاتِ عشق اور ذاتِ حق تعالیٰ حاصل ہوتی ہے -کیونکہ اللہ پاک نے اس کے جو تقاضے رکھے ہیں اُن کو پورا کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں اور صاحب ِمر تبۂ ’’مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا‘‘ فقیر اُسے کہتے ہیں جو جیتے جی مر کر مراتب ِموت سے گزر چکا ہو‘‘-)کلیدالتوحیدکلاں)

 حضرت سلطان باھوؒ ایک اورمقام پہ  فرماتے ہیں :

’’جان لے کہ فقر ایک سمندر ہے جس میں مہلک زہر بھر اہوا ہے- جو آدمی اِس سمندر پر پہنچ کر زہر کا پیالہ پی لیتا ہے وہ مر کر شہید ہو جاتا ہے- یہاں وہ مرتا نہیں بلکہ مقامِ ’’مُوْتُوْا قَبَلَ اَنْ تَمُوْتُوْا ‘‘پر پہنچ کر خود کو سپرد ِ خدا کر دیتا ہے‘‘(عین الفقر)-مزید فرمایا:’’ابتدائے فقر اَناَ ہے اور انتہائے فقر فنا ہے ’’مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا‘‘ -پس جو مر جاتا ہے اُس سے ہرچیز ساقط ہو جاتی ہے ‘‘-(عین الفقر)

2-طالب کے وجود میں مقامِ موت ’’مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا‘‘ اور معرفت ذاتِ حق تعالیٰ اس وقت یکجا ہوں گے جب وہ اسم اللہ ذات میں مستغرق ہوگا جیساکہ آپؒ ارشادفرماتے ہیں :

’’جان لے کہ تصورِ اسم اللہ ذات سے نفس تزکیہ حاصل کر کے صفاتِ مطمئنہ سے متصف ہوجاتا ہے اور دل صفائی پکڑتا ہے - دل صفائی پا کر تجلیۂ روح حاصل کرتا ہے اور تجلیۂ روح تجلیۂ سِرّ حاصل کرتی ہے - جب یہ چاروں (نفس، قلب ، روح ، سِرّ) باہم متفق ہو کر ایک ہوجاتے ہیں تو صاحب ِنفس اپنے نفس پر غالب و حاکم ہو جاتا ہے - یہ مراتب فنا فی اللہ فقیر کے ہیں‘‘- (مجالسۃ النبی(ﷺ)خورد)

3-جب طالب اسم اللہ ذات میں فنا ہوکر اللہ ربُّ العزت کے انوار وتجلیات میں گم ہوجائے تو اس وقت من وتُو اور دوئی کے جھگڑے ختم ہوجاتے ہیں جیساکہ آپؒ ارشادفرماتے ہیں:

’’ جب اسم اللہ ذات طالب اللہ کے وجود میں تاثیر کرتاہے تو اس پر رنگ معرفت چڑھتاہے اور وہ مرتبہ کمال پر پہنچ جاتاہے، اس کے وجود سے دوری مٹ جاتی ہے اور وہ اپنی مراد کو پالیتاہے- اب وہ چشم عیاں سے جب بھی دل کی طرف متوجہ ہوتاہے تو اسے اپنے وجو دکے ہر ایک بال پر اسم اللہ ذات کا نقش نظر آتاہے اور اس کے گوشت، پوست، بالوں، ہڈیوں، رگوں اور مغز و دل کی زبان پر اسم اللہ ذات کا وردجاری ہوجاتاہے اور اسے در و دیوار و بازار اور درختوں پر واضح طور پر اسم اللہ ذات لکھا ہوا نظر آتاہے، وہ جدھر بھی نظر اٹھاتاہے اسے اسم اللہ ذات لکھا نظر آتاہے، وہ جو کچھ سنتاہے یا بولتاہے اسے اسم اللہ ذات ہی کی آواز سنائی دیتی ہے-صاحب تصور اسم اللہ ذات کو دیکھ کر آتش دوزخ ستر سال کے فاصلے سے بھاگ کھڑی ہوتی ہے اور جنت ستر سال کا فاصلہ طے کرکے اس کا استقبال کرتی ہے‘‘-(شمس العارفین)

4-طالب کو اللہ تعالیٰ کے قرب کے جتنے بھی مقامات حاصل ہوتے ہیں وہ اسم ھو یعنی اسم اللہ ذات سے حاصل ہوتے ہیں اور جس وجو د میں اللہ عزوجل کا ذکر قرار پکڑتا  ہے تو اس کی نشانی یہ ہوتی  ہے کہ نہ اس کو دن کے وقت آرام اچھالگتا ہے اور نہ رات کو چین بلکہ وہ ہروقت اللہ اور اس کے حبیب مکرم (ﷺ) کے پیارمیں بے قرار رہتا ہے -جیسا کہ آپؒ  ارشادفرماتے ہیں :

’’بعض لوگ جب چشمِ تصور سے اسمِ اَللّٰہُ کو دیکھتے ہیں تو اُن کی چشمِ دل سے بھاری پردہ ہٹ جاتا ہے اور وہ حاضرات ِ اسمِ اللہ ذات کے غلبات سے بے قرار ہو کر کسی ایک جگہ ٹک کر نہیں رہتے اور فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ(پس تم چل پھر کر زمین کی سیر کرو  ) کے حکم پر عمل پیرا ہو کر ہمیشہ سیر و سفر میں رہتے ہیں‘‘ (محک الفقرکلاں)- لیکن ’’جان لے کہ اسم اللہ ذات پاک ہے - یہ اسمِ اعظم تاثیر نہیں کرتا جب تک کہ وجود معظم نہ ہو اور نہ ہی یہ اخلاصِ خاص اور عطائے مرشد کامل کے بغیر نفع دیتا ہے‘‘-(کلیدالتوحیدخورد)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر