محدث العصر امام ہشیم بن بشیرالواسطیؒ

محدث العصر امام ہشیم بن بشیرالواسطیؒ

محدث العصر امام ہشیم بن بشیرالواسطیؒ

مصنف: مفتی محمد صدیق خان قادری اپریل 2026

نام و نسب:

آپ کا نام ہشیم، کنیت ابو معاویہ اور نسب نامہ کچھ اس طرح سے ہے ہشیم بن بشیر بن ابی حازم قاسم بن دینار-[1]

ولادت و وطن:

آپ کی ولادت 104ھ کو واسط میں ہوئی بعد ازاں وہ بغداد  منتقل ہو گئے  یہاں تک کہ ان کا وصال بھی اسی شہر میں ہوا -بعض علماء نے لکھا ہے کہ وہ بخاری الاصل تھے-[2]  آپ کی ولادت جوکہ واسط میں ہوئی اور عمر کا کچھ ابتدائی حصہ بھی وہیں گزارا تو اس نسبت سے ان کو الواسطی کہا جاتا ہے-

شوقِ علم اور ابتدائی حالات:

آپ تحصیل علم کا بڑا ذوق رکھتے تھے-علم کے ابتدائی مراحل تو اپنے  مقامی علماء سے طے کئے-لیکن مزید علمی پیاس بجھانے کیلئے کئی ایک علمی مراکز کا سفر کیا اور وہاں کی علمی شخصیات سے مستفید ہوئے چنانچہ انہوں نے مکۃ المکرمہ کا سفر بھی اختیار کیا اور جلیل القدر محدثین امام زہری اور عمرو بن دینار سے حدیث کا سماع کیا-ان کا شوقِ علم اس قدر گہرا تھا کہ والدکے منع کرنے کے باوجود بھی تحصیل علم سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے ان کے والد پہلے حجاج بن یوسف کے باورچی تھے پھر انہوں نے تجارت شروع کردی وہ چاہتے تھے کہ ہشیم بھی کاروبار میں  میری مدد کرے لیکن آپ برابر اکتساب علم میں مصروف رہے یہاں تک کہ علم میں اتنےفائق ہو گئے  کہ قاضی ابو شیبہ کے ساتھ علمی مباحثہ کرتے ایک دفعہ آپ بیمار ہو گئے تو  قاضی صاحب اپنے تلامذہ اور دیگر دوستوں کے ساتھ ان کی عیادت کے لئے آئے ان کے والد کے یہ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ قاضیٔ  وقت ایک دن ان کے غریب خانہ پر آئے گا -اس لئے وہ اس غیر متوقع اعزاز پر اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکے اور اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے کہا کہ اے بیٹے! تمہاری وجہ سے قاضی صاحب میرے گھر تشریف لائے ہیں لہذا آج کے بعد میں تمہیں طلبِ علم سے نہیں روکوں گا-[3]

اساتذہ:

امام ہشیم کو کبار تابعین اور تبع تابعین سے تحصیل علم کا موقع ملا ہے جس کی وجہ سے ان کا عالی الاسناد ہو نا بھی ثابت ہوتا ہے ویسے تو آپ کو بے شمار علماءو محدثین سے شرفِ تلمذ حاصل ہوا ہےلیکن ان میں چند مشہور درج ذیل ہیں:

امام زہری، عمرو بن دینار، منصور بن زادان، حصین بن عبد الرحمٰن، ایوب السختیانی، سلیمان التیمی، عبد العزیز بن صہیب، علی بن زید، ابو اسحاق الشیبانی، یحیٰ بن سعید، یعلی بن عطاء، یحیٰ بن ابی اسحاق، ابو ہاشم الرمانی ، امام حمید الطویل، عبد اللہ بن ابی صالح السمان، عطار بن السائب اور امام اعمش (رحمتہ اللہ علیھم) -[4]

تلامذہ:

جن حضرات کو آپ سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا ہے ان میں چند مشہور یہ ہے:

حماد بن زید، امام عبد اللہ بن مبارک، یحیی بن سعید القطان، امام قتیبہ، عبد الرحمٰن بن  مہدی، امام احمد بن حنبل، عمروبن عون، امام مسدد، علی بن المدینی، علی بن حجر، علی بن مسلم الطوسی، عمرو بن الناقد، ابن الصباح الدولابی، شجاع بن مخلد، ابراہیم بن عبد اللہ الھروی، یعقوب الدورقی، خلف بن سالم، ابو خیثمہ، احمد بن منیع، ابوکریب، ابو سعید الاشج، زیاد بن ایوب، حسن بن عرفہ-[5]

علم حدیث میں فضل و کمال اور آئمہ فن کے تاثرات

امام ہشیم علم حدیث میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے  وہ اپنے وقت کے محدث العصر کہلائے جاتے تھے-علم حدیث میں ایک بہت بڑا مقام رکھنے کی وجہ سے وقت کے بڑے بڑے علماء و محدثین ان کے فضل و کمال کے معترف نظر آتے ہیں اور مختلف انداز میں ا نہوں نے آپ کے اس فضل و کمال پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے-

امام ابن جوزی ان کے حدیث میں علمی مقام کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’و کان من العلماء الحفاظ الثقات‘‘[6]

’’وہ حفاظ اور ثقات علماء میں سے تھے‘‘-

حافظ ابن کثیر ان کے بارے رائے پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’و کان من سادات العلماء‘‘[7]

’’وہ علماء کے سرداروں میں سے تھے‘‘-

امام ابو یعلیٰ الخلیلی ان کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ابو معاویہ ہشیم بن بشیر حافظ متقن‘‘[8]

’’ابو معاویہ ہشیم بن بشیر حافظ اور متقن علماء میں سے تھے‘‘-

امام نووی امام صاحب کی علمی وجاہت اور جلالت کو ظاہر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’اتفقوا علی توثیقہ و جلالتہ و حفظہ‘‘‘[9]

’’علماء کرام نے ان کی ثقاہت و جلالت اور حفظ پر اتفاق کیا ہے‘‘-

یہ حقیقت ہے کہ واقعی ان کا حافظہ بڑا کمال کا تھا- وہ مجلس میں دوران سماع بہت سی  حدیثوں کو زبانی یاد کر لیتے تھے انہیں اپنے حفظ پر اتنا اعتماد تھا کہ وہ مجلس میں قلم اور کاغذ نہیں لے کر  آتے تھے-اسی حقیقت کو علامہ اسحاق الازرق بیان کرتے ہیں:

’’ما رأیت مع ہشیم الواحا انما کان یجیئ الی المجلس  فیسمع و یقوم یعنی یکتفی بحفظہ‘‘[10]

’’میں نے ہشیم کے پاس کبھی کاپیاں نہیں دیکھیں وہ مجلس میں آتے  حدیث کا سماع کرتے اور اٹھ کر چلے جاتے یعنی وہ اپنے حفظ پر اکتفا کرتے تھے ‘‘-

ان کے حفظ و ضبط میں کامل ہونے کی وجہ سے ان کا شمار حفاظ محدثین میں ہوتا ہے -علامہ ذہبی نے ان کو تذکرۃ الحفاظ میں ذکر کیا ہے اور علامہ ابراہیم الحربی فرماتے ہیں:

’’کان حفاظ الحدیث اربعۃ کان ہشیم شیخھم‘‘ [11]

’’حفاظ حدیث چار تھے اور امام ہشیم ان کے شیخ ہیں‘‘-

ان کے اسی  حفظ کی بنا پر امام عبد الرحمٰن بن مہدی فرماتے ہیں:

’’حفظ ہشیم عندی اثبت من حفظ ابی عوانۃ‘‘[12]

’’میرے نزدیک امام ہشیم کا حفظ امام ابو عوانہ کے حفظ سے زیادہ مضبوط ہے‘‘-

یزید بن ہارون فرماتے ہیں:

’’ما رأیت احدا احفظ من ہشیم‘‘[13]

’’میں نے ہشیم سے بڑھ کر  کوئی حافظے والا نہیں دیکھا‘‘-

امام صاحب علم حدیث میں ایسی شان اور کمال رکھتے تھے کہ جب امام ابو حاتم الرازی سے امام ہشیم کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:

’’لا تسال عنہ فی صدقہ و امانتہ و صلاحہ‘‘[14]

’’تو ان کی صلاحیت و امانت اور صدق کے بارے سوال نہ کر مطلب کہ وہ بڑے باکمال عالم تھے‘‘-

آپ اس پائے کے محدث تھے کہ امام یعقوب الدورقی فرماتے ہیں:

’’کان عندھشیم عشرون الف حدیث‘‘[15]

’’امام ہشیم کے پاس بیس ہزار احادیث تھیں‘‘-

امام ہشیم کی ثقاہت و تدلیس:

آئمہ کرام نے  جہاں امام صاحب کی ثقاہت و عدالت کو بیان کیا ہے وہیں بعض علماء نے ان کی تدلیس پر بھی تنبیہ کی ہے-امام ابن سعد ان کی ثقاہت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’وکان ثقۃ کثیر الحدیث ثبتا یدلس کثیرا‘‘[16]

’’وہ ثقہ، کثیر حدیث والے مضبوط اور بہت زیادہ تدلیس کرنے والے تھے‘‘-

امام عجلی ان کی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ہشیم بن بشیر ثقۃ وکان یدلس وکان یعد من حفاظ الحدیث‘‘[17]

’’ہشیم بن بشیرثقہ تھے اور تدلیس بھی کرتے تھے  ان کا شمار حفاظ حدیث میں ہوتا تھا‘‘-

امام ذہبی ان کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’قلت لا نزاع فی انہ کان من الحفاظ الثقات الا انہ کثیر التدلیس‘‘[18]

’’میں  کہتا ہوں کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ  ثقات حفاظ میں سے تھے لیکن وہ تدلیس بھی بہت زیادہ کرتے تھے‘‘-

تدلیس کا مفہوم یہ ہے کہ راوی اپنے اس شیخ سے حدیث بیان کرے جس سے اس نے بعض احادیث کو سنا ہے لیکن یہ حدیث جس میں تدلیس کر رہا ہے اس حدیث کو اس نے اپنے اس شیخ سے نہیں سنا بلکہ یہ حدیث اس نے کسی اور شیخ سے سنی ہے تو جس سے سنی ہے اس کو حذف کر دے اور اس حدیث کو اس شیخ (جس سے اس نے بعض حدیثوں کو سنا ہے) سے ایسے الفاظ کے ساتھ روایت کردیے جو سماع کا وہم ڈالیں مثلاً قال ، عن وغیرہ سے-[19]

مدلس راوی کی روایات کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے لیکن صحیح اور مختار مذہب یہ ہے کہ ایسے راوی کی وہ روایات کہ جن کو وہ ایسے الفاظ کے ساتھ روایت کرے جس میں سماع کی صراحت نہ ہو وہ قبول نہیں ہوں گی-ہاں البتہ وہ روایات جن میں سماع کی صراحت ہو وہ قبول اور قابل حجت ہوں گیں-[20]

امام صاحب چہ جائے تدلیس کرتے تھے لیکن اس کے باوجود ان کی ثقاہت و عدالت میں فرق نہیں پڑے گا کیونکہ تدلیس جھوٹ نہیں ہے-اسی لئے تو امام ابن صلاح فرماتے ہیں:

’’ان التدلیس لیس کذبا انما ھو ضرب من الایھام بلفظ محتمل‘‘[21]

’’بے شک تدلیس جھوٹ نہیں ہے بلکہ یہ تو احتمال والے لفظ کے ساتھ وہم ڈالنے کی قسم میں سے ہے‘‘-

اسی چیز کے پیش نظر آئمہ کرام نے ان کی تدلیس کے باوجود آپ کی ثقاہت کا انکار نہیں کیا بلکہ ان کی ثقاہت و عدالت پر اجماع کیا ہے-

علامہ ابن ناصر الدین نے اسی چیز کو بیان کیا ہے فرماتے ہیں:

’’کان من الحفاظ الثقات لکنہ معدود فی المدلسین و مع ذالک فقد اجمعوا علی صدقہ و امانتہ و ثقتہ و عدالتہ و امامتہ‘‘[22]

’’وہ ثقہ حفاظ میں سے تھے لیکن مدلسین میں شمار کئے جاتے تھے -اس کے باوجود علماء نے ان کے صدق، امانت، ثقاہت، عدالت اور امامت پر اجماع کیا ہے‘‘-

امام ہشیم کی ناقدانہ بصیرت:

دیگر علوم کی طرح امام صاحب کو علم الرجال پر بھی مہارت حاصل تھی جیسا کہ امام ابن عدی نے ’’مقدمہ الکامل‘‘ میں ان کی اس امتیازی شان کو بھی آئمہ فن کی تصریحات سمیت بڑے عمدہ پیرائے میں بیان کیا ہے اور جا بجا محدثین کی شہادات سے موصوف کی زندگی کے اس شعبے کو خوب  آشکار کیا ہے کہ رواۃ کی توثیق اور تضعیف میں ان کی رائے کو بطور سند پیش کیا جاتا ہے-

علامہ ذہبی نے امام ہشیم کو فنِ جرح و تعدیل کا امام تسلیم کیا ہے کہ رواۃِ حدیث کی توثیق و تعدیل یا نقد و جرح میں دیگر آئمہ فن کی طرح امام صاحب کی رائے بھی قابل حجت ہوگی اور ان کو اپنے رسالے ’’ذکر من یعتمد قولہ فی الجرح و التعدیل‘‘میں اپنے وقت کے جلیل القدر امام عبد اللہ بن مبارک کے ساتھ ذکر کیا ہے-

اسی طرح متاخرین میں علامہ سخاوی نے بھی ان کو ناقدانہ بصیرت کے حامل  امام جرح و تعدیل مانا ہے اسی وجہ سے انہوں نے امام ہشیم کو ’’الاعلان بالتوبیخ لمن ذم التاریخ‘‘ میں اس فن کے نامور آئمہ جرح و تعدیل کے زمرے میں داخل کیا ہے-[23]

امام ہشیم کی علمی خدمات اور تصنیفات:

امام صاحب نے اپنی ساری زندگی روایت حدیث اور اشاعت حدیث کے لئے وقف کر دی ان کے ذریعے ہزاروں احادیث امت مسلمہ تک پہنچیں جو آج صحاح ستہ اور دیگر کتب حدیث کا حصہ ہیں-

امام ذہبی ان کی اسی علمی کاوش کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

’’سکن بغداد و نشر بھا العلم و صنف التصانیف‘‘[24]

وہ بغداد میں رہے اور وہاں علم کی نشر و اشاعت کی اور کتب تصنیف فرمائیں-

امام صاحب کو یہ بھی امتیاز حاصل ہے کہ ان کا شمار ان جامعین حدیث میں ہوتا ہے جنہوں نےمختلف شہروں میں اولاً احادیث کو تصنیفی شکل میں جمع کیا-یہی وجہ ہے کہ علامہ احمد بن علی نے کتاب المواعظ والاعتبار میں جہاں ایسے مختلف محدثین کا ذکر کیا ہے کہ جنہوں نےمختلف شہروں میں پہلے پہل کتب تصنیف فرمائیں-وہاں واسط میں سب سے پہلے تصنیف کرنے والے امام ہشیم بن بشیر کا تذکرہ کیا ہے-[25]

آپ ایک باکمال مصنف بھی تھے آئمہ سیر نےان کی درج ذیل کتب کا ذکر کیا ہے:

v     کتاب تفسیر القرآن

v     کتاب السنن فی الحدیث

v     کتاب القراء ات-[26]

مسلک:

امام صاحب کا شمار امام اعظم ابو حنیفہ کے تلامذہ میں ہوتا ہے جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ مسلک حنفی کی طرف رجحان رکھتے تھے-

علامہ یوسف المزی نے تہذیب الکمال میں  امام اعظم ابوحنیفہ کے تذکرہ میں ان کے تلامذہ میں ہشیم بن بشیر کو بھی ذکر کیا ہے-

اسی طرح علامہ یوسف صالحی دمشقی نے اپنی کتاب عقود الجمان میں امام صاحب سےروایت کرنے والوں میں ان کا شمار کیا ہے-ابن بزار کردری نے ’’مناقب امام اعظم‘‘ میں ان کو امام اعظم کے  اہل واسط کے تلامذہ میں شمار کیا ہے-

موصوف کے بارے امام خوارزمی ’’جامع المسانید‘‘ میں لکھتے ہیں کہ :

اللہ تعالیٰ کا عاجزبندہ کہتا ہے کہ ہشیم بن بشیر ان مسانید میں امام اعظم ابو حنیفہ سے روایت کرتے ہیں-[27]

زہد و تقوٰی اور بشارات:

امام صاحب ایک علمی شخصیت ہونے کے ساتھ بہت بڑے زاہد اور متقی بھی تھے-ان کی زبان  جس طرح حدیثِ رسول (ﷺ) کی اشاعت و ترویج میں مصروف رہتی تھی تو اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ذکر اور تسبیح میں بھی تر رہتی تھی-اسی لئے تو علامہ حسین  بن المروزی فرماتے ہیں کہ میں نے ہشیم بن بشیر سے زیادہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا[28]

ذکر اللہ کا اتنا شو ق تھا کہ امام  احمد بن حنبل فرماتے ہیں وہ دورانِ درس حدیث بھی کثرت کے ساتھ تسبیح کرتے تھے وہ کلمہ شریف کا اونچی آواز سے وِرد کرتے-[29]

زہد و تقوٰی کا یہ عالم تھا کہ دن تو درس و تدریس میں گزرتا اور رات اللہ تعالیٰ کے حضور گزرتی ان کی پرہیز گاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عمر و بن عون فرماتے ہیں کہ امام صاحب نے اپنی وفات سے تقریباً 20 برس  پہلے  اور بعض آئمہ نے دس سال لکھا ہے-عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی ہے-[30]

جب زہد و تقوٰی اس پائے کا تھا تو پھر ان پرخصوصی کرم بھی ہوا -آپ (ﷺ) کی طرف سے انہیں بشارات نصیب ہوئیں جو یقیناً امام صاحب کے علو مرتبت اور جلالت شان کا ایک بہت بڑا ثبوت ہیں-علامہ اسحاق الزیادی فرماتے ہیں کہ میں بغداد میں امام ہشیم کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا-تو وہاں ایک شخص نے بیان کیا کہ ایک شب اسے آقا کریم (ﷺ) کی زیارت نصیب ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم کس سے حدیث کا سماع کرتے ہو تو  میں نے عرض کی کہ ہم امام ہشیم سے حدیث کا سماع کرتے ہیں تو محبوب کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا :

’’نعم اسمعوا من ہشیم  فنعم الرجل ہشیم‘‘[31]

’’ہاں بالکل ٹھیک ہے تم ہشیم سے حدیث سنا کرو وہ بہت ہی اچھے انسان ہیں‘‘-

اسی طرح مشہور صوفی بزرگ شیخ معروف کرخی فرماتے ہیں کہ مجھے ایک شب آپ (ﷺ) کی زیارت کا شرف نصیب ہوا تو میں نے دیکھا کہ حضور نبی کریم (ﷺ) ہشیم کے لئے فرما رہے تھے-

’’جزاک اللہ عن امتی خیرا‘‘[32]

’’اے ہشیم اللہ تعالیٰ تجھے میری  امت کی طرف سے جزائے خیر دے‘‘-

وفات:

ان کا وصال ہارون الرشید کی خلافت میں ماہ شعبان 183ھ کو بغداد میں ہوا، بغداد کے مشہور قبرستان الخیزران میں آپ کی تدفین ہوئی-[33]

٭٭٭


[1](تذکرۃ الحفاظ، جز:1، ص:182)

[2](ایضاً)

[3](تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، ج:30، ص: 278)

[4](سیر اعلام النبلاء، جز:8، ص:288)

[5](ایضاً)

[6](المنتظم، جز:9، ص:89)

[7](البدایہ و النھایہ، جز:13، ص:624)

[8](الارشاد، جز:1، ص:196)

[9](تہذیب الاسماء واللغات، جزـ2، ص:138)

[10](میزان الاعتدال، جز:4، ص:307)

[11](تاریخ بغداد، جز:16، ص:130)

[12](ایضاً)

[13](تذکرۃ الحفاظ، جز:1، ص:183)

[14](ایضاً)

[15](ایضاً)

[16](الطبقات الکبرٰی، جز:7، ص:227)

[17](تاریخ الثقات، جز:1، ص:459)

[18](تذکرۃ الحفاظ جز:1، ص:183)

[19](تیسیر مصطلح الحدیث، ص:79)

[20](التقیید و الایضاح، جز:1، ص:99)

[21](مقدمہ ابن صلاح، جز:1، ص:75)

[22](شذرات الذھب، جز:2، ص:376)

[23](احناف حفاظ حدیث کی فن جرح و تعدیل میں خدمات، ص:183)

[24](سیر اعلام النبلاء، جز:8، ص:288)

[25](المواعظ و الاعتبار)

[26](ھدیۃ العارفین، جز:2، ص:510)

[27](احناف حفاظ حدیث کی فن جرح و تعدیل میں خدمات، ص:184)

[28](تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، جز:30، ص: 287)

[29](تذکرۃ الحفاظ، جز:1، ص:183)

[30](تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، جز:30، ص: 287)

[31](ایضاً، ص:281)

[32](سیر اعلام النبلاء ، جز:8، ص:290)

[33](الطبقات الکبری، جز:7، ص:227)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر