بیت: ’’جو شخص اپنی جان کے بدلے اسم اَللّٰہُ خرید لیتا ہے وہ کھلی آنکھوں سے ذاتِ حق کا دیدار کرتا ہے‘‘-
حدیث : ’’اُس کی آیات میں تفکر کرو مگر اُس کی ذات میں تفکر مت کرو‘‘-
بیت : ’’خدا تعالیٰ تو شہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے، تُو اُسے دُور کیوں سمجھتا ہے ؟ یہ تُو ہی ہے جو اُس سے دُور ہے ورنہ وہ تو تیرے روبرو ہے‘‘-
فرما نِ حق تعالیٰ ہے: ’’اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی ہو‘‘-[1]
اللہ تو ہر وقت تیرے ساتھ ہے لیکن تُو ہی اُس کی دید سے اندھا اور گمراہ ہو گیا ہے- فرما نِ حق تعالیٰ ہے: ’’اور جو کوئی اس جہان میں اندھا رہا، وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا‘‘-[2]
لوگ اگرچہ علم حاصل کرتے ہیں لیکن محض دنیا میں روزی معاش کمانے اور بادشاہِ دنیا کا تقرب حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں-فرما نِ حق تعالیٰ ہے: ’’(اے رسول مکرم!) کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کیا اور آپ سے (پرمشقت چیزوں کا) بوجھ اتار دیا‘‘-[3]علم وہ ہے جو سینہ کھول دے نہ کہ وہ درسی علم کہ جس سے وجود میں حسد و کینہ پیدا ہو جائے-سن اے حق شناس ! معیت ِخدا حاصل کر اور اَللّٰہُ کے سوا ہر چیز کا نقش دل سے مٹا دے تاکہ ذاتِ حق کے سوا دل میں کچھ بھی باقی نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان: ’’ کُلُّ مَنْ عَلَیْھَافَانٍoج وَّیَبْقٰی وَجْہُ ربکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ‘‘ [4]کے مطابق صرف اُسی کے ہی جلوے تیرے دل میں باقی رہ جائیں -
بیت: ’’وہ مجھے جانتا ہے، میری نگہبانی کرتا ہے اور مجھ پر مہربان رہتا ہے، بھلا یہ بیل گدھے وحدتِ حق کو کیا جانیں؟‘‘
جب اسم اَللّٰہُ دل پر نقش ہو جاتا ہے اور اسم اَللّٰہُ کی تجلی دل پر غالب آ کر بھڑک اُٹھتی ہے تو نفس مغلوب ہو کر مر جاتا ہے اور دل زندہ ہو جاتا ہے اور صاحب ِتصور پر وحشت طاری ہو جاتی ہے-
حضور غوث پاک محی الدین شاہ عبد القادر جیلانیؒ کا قول ہے : ’’اِس مقام پر طالب اللہ تعالیٰ سے اُنس رکھتا ہے اور غیر اللہ سے وحشت کھاتا ہے‘‘-
بیت: ’’ جب نقش ِاسم اَللّٰہُ پیشانی پر ہو یدا ہو گیا تو اُس نے غرق فنا فی اللہ کر کے حق الیقین کے مرتبے پر پہنچا دیا‘‘-
(جاری ہے)
[1](پارہ: 27، الحدید:4)
[2](پارہ:15، الاسراء:72)
[3](پارہ:30، الم نشرح:1-2)
[4]جو بھی زمین پر ہے وہ فنا ہونے والا ہے- اور آپ کے رب کی ذات باقی ہے جو عظمت اور بزرگی والا ہے-(پارہ:27، الرحمٰن:26-27)