مسلمان کی زندگی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ وہ اپنے ہر کام کو سنتِ نبوی (ﷺ) کے مطابق انجام دینے کی کوشش کرتا ہے-کوئی بھی معاملہ ہوچاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑاایک سچا مسلمان حضور نبی پاک (ﷺ) کی تعلیمات اور طریقے کو چھوڑ کر قدم نہیں اٹھاتا-
جیساکہ علامہ محمد اقبالؒ نے ایک بزرگ کو خراج ِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:
|
کاملِ بسطام در تقلید فرد |
بسطام کے مرد کامل (حضرت بایزید بسطامیؒ) تقلید میں بے مثال تھے-آپؒ نے خربوزا کھانے سے انکار کر دیا- (کیونکہ معلوم نہیں تھا کہ محبوب کریم (ﷺ)نے کس طرح کاٹا اور کس طرح کھایا)-
|
عاشقی؟ محکم شو از تقلید یار |
’’کیا تو عاشق ہے؟ (یعنی اگر تو عاشق ہے تو پھر) آپ (ﷺ) کی پیروی کر اور اس پیروی پر پختہ ہو جا-تاکہ تیری کمند تجھے اللہ تعالیٰ تک پہنچا دے-
یہ شعر دراصل اس بات کی مثال کے طور پر ہے کہ عاشقِ رسول (ﷺ) اپنی زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے عمل میں بھی سنت کی پیروی چاہتا ہے- اور سُنتِ رسول (ﷺ) سے اس کی محبت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ ایک مستحب کو بھی قضا کرنا گوارا نہیں کرتا -جیسا کہ حضرت سخی سُلطان باھوؒ اپنے بارے میں ارشادفرماتے ہیں کہ :
’’میں نے سیدی رسول اللہ (ﷺ) کی متابعت میں ایک مستحب بھی قضا نہیں ہونے دیا ‘‘-
جائز امور میں اللہ اور اس کے رسول پاک (ﷺ) کی رضا و خوشنودی کی تلاش یقیناً ہرمسلمان کی دِلی آرزُو ہوتی ہے اسی لیے جب انسان کسی اہم فیصلے یا معاملے میں تردُّد محسوس کرے تو وہ اپنی محدود عقل اور تجربے پر مکمل اعتماد کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے- اس رجوع کا ایک عظیم طریقہ استخارہ ہے، جو کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کی مبارک سنت ہے-
استخارے کا مفہوم وشرعی حیثیت:
لفظ استخارہ عربی کے لفظ خَیْر سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں: بھلائی طلب کرنا-
اصطلاح میں استخارہ کا مطلب یہ ہے کہ بندہ کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ اگر اس کام میں اس کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی ہے تو اسے آسان فرما دے، اور اگر اس میں نقصان یا شر ہے تو اسے اس سے دور کر دے-
شرعی حیثیت سے جب کسی شخص کو کوئی جائز معاملہ درپیش ہو اور وہ اس میں تذبذب کا شکار ہو کہ اسے کرے یا نہ کرے، یا جب وہ کسی کام کا پختہ ارادہ کرے، تو ایسے موقع پر نماز استخارہ کرنا سنت ہے- جیسا کہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں کہ :
’’سیدی رسول اللہ (ﷺ) ہمیں ہر کام میں استخارہ کرنا اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے‘‘-[1]
استخارے کا مسنون طریقہ :
استخارہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اچھی طرح وضو کرے ،دن یا رات میں کسی بھی وقت بشرطیکہ وہ نفل کی ادائیگی کا مکروہ وقت نہ ہودو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں،نیت یہ ہو کہ میرے سامنے یہ معاملہ یا مسئلہ ہے ، اس میں جو راستہ میرے حق میں بہتر ہو ، اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ فرمادیں -
دو رکعت نفل نماز اداکرے پھر سلام پھیرے نماز کے بعد درود شریف پڑھیں اور اللہ پاک کی بارگاہ اقدس میں یہ دعا کریں جو سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے تلقین فرمائی ہے :
’’اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ العَظِيْمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الغُيُوْبِ، اَللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِيْ فِيْ دِيْنِيْ وَ مَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ أَمْرِيْ - أَوْ قَالَ: فِيْ عَاجِلِ أَمْرِيْ وَآجِلِهٖ - فَاقْدُرْهٗ لِيْ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِيْ فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ أَمْرِيْ- أَوْ قَالَ: فِيْ عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهٖ - فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِيْ عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِيْ بِهٖ، وَيُسَمِّيْ حَاجَتَهٗ‘‘[2]
’’اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعے خیر طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیری قدرت سے طاقت مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں- بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے اور میں کچھ بھی قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کا جاننے والا ہے-اے اللہ! اگر تیرے علم میں یہ کام (جس کا میں ارادہ رکھتا ہوں) میرے دین، میری دنیا اور میرے انجام کے لحاظ سے بہتر ہے، تو اسے میرے لیے مقدر کر، اسے آسان بنا دے اور اس میں برکت دے- اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین، میری دنیا اور انجام کے لحاظ سے برا ہے، تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے ہٹا دے، اور میرے لیے جہاں کہیں بھی ہو، بھلائی مقدر کر دے، پھر مجھے اس پر راضی بھی کر دے- سیّدی رسول اللہ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا:پھر(اللہ پا ک کی بارگاہ اقدس میں ) اپنی حاجت بیان کرو‘‘-
نوٹ:
استخارہ کے لئے یہ بھی شرط ضروری ہے کہ وہ کام جائز ہو، نا جائز کام کے لئے استخارہ نہیں کیا جائے گا-جیسا کہ مفتی احمد یار خان نعیمیؒ استخارے سے متعلق حدیثِ پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’بشرطیکہ وہ کام نہ حرام ہو،نہ فرض و واجب اور نہ روز مرہ کا عادی کام،لہٰذا نماز پڑھنے حج کرنے یا کھانا کھانے پانی پینے پر استخارہ نہیں ‘‘-
خلاصہ کلام:
استخارہ سنتِ نبوی (ﷺ) کا ایک عظیم عمل ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ، عاجزی اور کامل توکل کی تعلیم دیتا ہے- جب مسلمان کسی جائز شرعی معاملے میں ہچکچاہٹ یا پریشانی کا شکار ہو مثلاً کسی جگہ شادی کا رشتہ یا کوئی جائز شرعی کارو بار تو اس معاملے میں وہ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی وخیر طلب کرتا ہے ،دراصل وہ اپنے آپ کو عاجز وناتواں تصور کرتے ہوئے اپنے رب کی حکمت اور علم پر اعتماد کرتا ہے-حقیقت یہ ہے کہ استخارہ ایک دعا اور عبادت ہے، عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ استخارہ کے بعد لازماً خواب آنا ضروری ہے، لیکن علماء کے نزدیک یہ شرط نہیں ہے- اصل بات یہ ہے کہ دل کا میلان کسی طرف ہو جائے،اگر وہ معاملہ اس کیلئے بہتر ہے تو حالات اس طرف آسان ہو جائیں اور اگر انجام کے اعتبارسے وہ معاملہ اس کی حق میں بہتر نہیں ہے توا اللہ تعالیٰ اس کام میں رکاوٹ پیدا فرمادے -
٭٭٭