قوموں کی تاریخ میں شناخت (Identity) ایک بنیادی عنصر ہے- جب کسی قوم کی نظریاتی، ثقافتی یا سیاسی بنیادیں غیر واضح ہو جائیں تو معاشرہ شناختی بحران (Identity Crisis) کا شکار ہو جاتا ہے- اس تصور کو نفسیاتی طور پر امریکی ماہر نفسیات ایرک اریکسن (Erik Erikson) نے واضح کیا جس کے مطابق فرد یا معاشرہ اس وقت شناختی بحران کا شکار ہوتا ہے جب وہ اپنی اقدار، مقصد اور اجتماعی سمت کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو جائے- ہر معاشرہ اپنی بقا اور ترقی کے لئے نوجوان نسل پر انحصار کرتا ہے- نوجوان کسی بھی قوم کے فکری، سماجی اور معاشی مستقبل کے معمار ہوتے ہیں- پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے- مختلف اندازوں کے مطابق پاکستان کی آبادی کا تقریباً 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے- یہ ایک بڑی قوت بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی-
موجودہ دور میں پاکستانی نوجوان ایک اہم مسئلے یعنی شناختی بحران (Identity Crisis) کا سامنا کر رہے ہیں- اس بحران کا مطلب یہ ہے کہ نوجوان اپنی ذاتی، فکری، مذہبی، ثقافتی اور قومی شناخت کے بارے میں تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں- وہ یہ طے نہیں کر پاتے کہ ان کی اصل شناخت کیا ہے اور انہیں کس سمت میں اپنی شخصیت کو تشکیل دینا چاہیے-
اس مرحلہ پر یہ باور کروانا ضروری ہے کہ یہ مسئلہ صرف موجودہ دور کا نہیں بلکہ ایک مستقل صورتحال ہے جس سے ایر ک ایرکسن کے مطابق ہر فرد ، عمر کے ہر حصے میں گزر رہا ہوتا ہے- ایرک ایرکسن نفسیاتی تھیوری[1] میں پیدائش سے لے کر 65 برس کے بعد تک نفسیاتی ارتقا ئی مراحل یا نفسیاتی نشو ونما کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں - ایرک کے بقول ہر ایج بریکٹ میں شناخت کے مسائل مختلف ہوتے ہیں لیکن ہوتے ضرور ہیں ان کا تعلق کامیابی اور ناکامی سے بہت گہرا ہوتا ہے -
سماجی و معاشرتی علوم میں نوجوانی کو انسانی زندگی کا ایک اہم عبوری مرحلہ سمجھا جاتا ہے- تعریف کے مطابق نوجوانوں کی عمر 15 سے 24 سال کے درمیان ہوتی ہے-بعض اوقات یہ عمر 15 سے 29 سال تک بھی شمار کی جاتی ہے- یہ عمر شخصیت سازی، نظریاتی تشکیل اور سماجی کردار کی تعمیر کا دور ہوتی ہے- اسی مرحلے میں انسان اپنے مستقبل کے اہداف، نظریات اور سماجی شناخت کو تشکیل دیتا ہے- اس مرحلہ پر مختلف عناصر جیسے اس کی ذات، جنس، صحت، علاقائی، نسلی و خاندانی پہچان ،معاشرے میں اس کا اور اس کے خاندان کا کردار ، تعلیم و تربیت ، جذباتی سیاسی وابستگی ، مذہب ، خاندانی و معاشرتی اقدار اور ان تمام چیزوں کے بارے میں فرد کی اپنی سوچ اور تصورات وغیرہ ایسے عوامل ہیں جو بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جو شناختی تشکیل میں معاون ہوتے ہیں - ایرکسن کے مطابق نوجوانی میں ایک فرد ’’میں کون ہوں اور میرا کام کیا ہے ؟‘‘ یعنی نوجوان پیشے ، عقائد اور سماجی کردار کے بارے میں واضح فیصلہ نہیں کر پاتے تو اسے شناختی بحران کہا جاتا ہے-
ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسان کی فقط ایک شناخت نہیں ہوتی وہ مختلف شناختوں کے ساتھ جیتا ہے- جیسے مذہبی شناخت، سیاسی شناخت، سماجی شناخت ، ثقافتی شناخت، علاقائی شناخت ، پیشہ وارانہ شناخت وغیرہ - اگر انسان خصوصا ًنوجوان اپنی شناختوں کو واضح کر لے تو اس کی شخصیت میں خود اعتمادی ، مقصدیت اور استحکام پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے اہداف کے حصول کی خاطر محنت ، لگن اوریکسوئی کے ساتھ گامزن ہو جاتا ہے- لیکن اگر اپنی شناخت کو واضح نہ کرے تو اضطراب ، بے چینی اور پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے -نوجوانی میں محدود مشاہدہ ، حقائق کے ادراک کی کمی اور توقعات کا ضرورت سے زیادہ بڑھا ہوا ہونا اور خود ساختہ خود اعتمادی و نرگسیّت وغیرہ وہ عوامل ہیں جو ، حقیقت کو جان لینے کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور نوجوان شناختی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں - کسی وقت یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک شناخت تو واضح ہوتی ہے لیکن دوسری شناخت کی وضاحت نہیں مل رہی ہوتی یا دوسری شاخت کے حصول میں مشکل درپیش ہو تی ہے تو بھی کہیں نا کہیں شناختی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے - مثلاً کسی فرد کی مذہبی شناخت تو واضح ہے لیکن پیشہ ورانہ شناخت ابہام کا شکار ہے تو بحران کی کیفیت مکمل نہ سہی جزوی طور پر ضرور موجود ہوتی ہے-
پاکستانی نوجوان میں شناختی بحران کی وجوہات:
پاکستانی نوجوانوں میں شناختی بحران ایک پیچیدہ سماجی، نفسیاتی اور تاریخی مسئلہ ہے- یہ بحران اس وقت پیدا ہوا جب نوجوان کو اپنی ذاتی، سماجی، قومی اور فکری شناخت کے بارے میں واضح رہنمائی نہ ملی- ذیل میں اہم وجوہات کو اجمالی انداز میں بیان کرنے کی سعی کی جارہی ہے-
1- نظریاتی اور قومی شناخت کا ابہام
پاکستان کی بنیاددو قومی نظریے پر رکھی گئی تھی اور اس کا وجود خالصتاً اسلامی ہے- مملکت خدا داد کی شناخت سو فیصد اسلامی ہے - لیکن وقت کے ساتھ قومی بیانیہ واضح انداز میں نوجوانوں تک منتقل نہیں ہو سکا جس کی وجوہات بے شمار ہیں -نصاب، میڈیا اور سیاسی بیانیے میں تضاد پایا جاتا ہے-نوجوان یہ سمجھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں کہ ان کی اسلامی، قومی اور عالمی شناخت کا توازن کیا ہونا چاہیے- اس کے ساتھ ساتھ علاقائی و لسانی شناخت کےحوالے سے گاہے بگاہے منفی پراپیگنڈہ اور حقوق کے نام پر دشمنان مملکت خدادا د کو کمزور کرنے کے حوالے سے فنڈنگ پاکستان کی اسلامی شناخت پر سوال کھڑے کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے، مزید ہماری قیادت کی کمزوریاں بھی اس میں شامل ہیں- جو قوم وملک کی شناخت کے بارے میں نوجوان نسل کے اذہان میں ابہام پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے-
2-مذہبی فہم میں عدم توازن
اگر مذہبی تعلیم، گہرائی اور حکمت کے ساتھ نہ ہو، صرف رسمی یا جذباتی ہو، تو نوجوان مذہب کو زندگی کے عملی نظام کے طور پر نہیں سمجھ پاتے، جس سے ان کی روحانی شناخت کمزور ہو جاتی ہے- ایک طرف تو یہ مسئلہ ہے اور دوسری طرف سوشل میڈیا پر غیر مستند اور غیر سنجیدہ لوگ ایک طرف تو 1400سالہ روایات پر انگشت نمائی کر رہے ہیں اور ساتھ میں فرقہ واریت کا عفریت ہمیں اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے- ہم اپنے فرقوں کی قربان گاہ میں اسلام جو ایک حقیقی مذہب اور دین ہے کو روزانہ کی بنیاد پر قربان کر رہے ہیں- مزید ا لحاد ، عقلی و فلسفیانہ موشگافیوں کے ذریعے تشکیک کا بیج نوجوانوں کے اذہان میں بو رہا ہے- جس کے باعث پاکستان کے نوجوان اپنی اسلامی شناخت کے بارے میں مشکوک ہو رہے ہیں اور کئی سولات اٹھاتے ہیں- لیکن اگر مغرب میں عیسائیت ، صیہونیت ، اشتراکیّت، لادینیّت، اور مشرق میں ہندتوا اور بدھ ازم کے زیر اثر ممالک ترقی کریں اور اپنی مذہبی شناخت پر قائم رہیں اور فاخر ہوں تو اس پر ہمارے ہاں نہ تو کوئی اعتراض ہے اور نہ ہی تنقید- لیکن پاکستان میں اسلامی شناخت کے بارے میں ابہام ہماری نوجوان نسل کے اذہان کا بحران ہے جو اپنی مذہبی شناخت پر اعتماد میں کمی کے باعث ہے –
3- ثقافتی اور تہذیبی تضاد
پاکستانی معاشرہ ثقافتی کشمکش کا شکار ہے-ایک طرف روایتی اور مذہبی اقداردوسری طرف جدید مغربی ثقافت اور گلوبلائزیشن، نوجوان دونوں کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، ہمارا نوجوان اپنی ملت پر اقوام مغرب سے قیاس کرتا ہے جس سے تہذیبی الجھن پیدا ہوتی ہے- اس الجھن سے بچنے کیلئے ترکیبِ قوم رسول ہاشمی (ﷺ) کو سمجھنا اور اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے -اگر یہ اعتماد پیدا نہیں ہو گا تو نوجوان نسل اس معاملے میں گریز و کشمکش کا شکار رہے گی -
4- تعلیمی نظام کی کمزوریاں
پاکستان کا تعلیمی نظام نوجوانوں کو واضح فکری اور عملی شناخت دینے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکا-تعلیم زیادہ تر امتحان اور ڈگری تک محدود ہے-تحقیق، تخلیقی سوچ اور تنقیدی فکر کی کمی، تعلیم اور عملی زندگی (روزگار) کے درمیان واضح تعلق نہیں- نتیجہ یہ کہ نوجوان اپنی تعلیم کے باوجود مستقبل کے بارے میں غیر یقینی محسوس کرتے ہیں- اس کے ساتھ ساتھ مختلف طرز کے تعلیمی نظام اور ان سے جُڑے حقائق سے نظر چرانا ناممکن ہے - کم از کم تین طرح کے تعلیمی نظام پاکستان میں متوازی طور پر لاگو ہیں جن میں سرکاری تعلیمی نظام، پرائیویٹ سکول سسٹم ان میں بھی ایک بڑی تعداد ان اداروں کی ہے جن کی وابستگی بیرونی ممالک کے کالجز و جامعات کے ساتھ ہے اور مدرسہ نظام ِ تعلیم جہاں عمومی طور پر چند ایک کو چھوڑ کر پرانا نصاب ازبر کروایا جاتا ہے - ان تینوں نظاموں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباو طالبات کے نفسیاتی و انداز فکر میں زمین آسمان کا فرق ہے جو مجموعی طور پر معاشرے میں تضاد کا باعث بن کر الجھنوں کو جنم دینے میں معا ون و مددگار ہوتے ہیں -
تعلیمی نظام میں یہ تو ان کی بات تھی جو کسی نہ کسی طرح سکول و کالج تک پہنچ جاتے ہیں اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 5 سے 16سال کی عمر کے تقریباً 2.5 کروڑ بچے سکول نہیں جا پاتے -یہ اس عمر کی حد کا تقریباً 35 فیصد بنتے ہیں - [2]یہ 2.5کروڑ نوجوان مجموعی طور پر شناختی بحران کے عمل میں شامل ہیں جن کاایک بڑا اثر قوم کی اجتماعی نفسیات میں ضرور شامل ہوتا ہے -
5- معاشی مسائل اور بے روزگاری اور حکومتی اقدامات
پاکستان میں عمومی طور پر نوکری پیشہ رجحان زیادہ پایا جاتا ہے - خود سے کسی ’’سیٹ اپ‘‘ کا آغاز کرنا اور ایسے مواقع بہم پہنچانا جس سے خود کفیل ہوا جائے اور روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے جائیں تھوڑا مشکل کام ہے - اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو حکومتی سطح پر اس کو پذیرائی نہیں ملتی یعنی قوانین ٹیکسزکا نظام اور رجسٹریشن وغیرہ کا عمل اتنا طویل اور غیر یقینی ہے جو بد دِلی پیدا کرتا ہے- اس کے برعکس شارٹ کٹس ، جیسے رئیل اسٹیٹ میں انویسٹ کرنا ، مصنوعی مارکیٹ میں قیمتوں کا اُتار چڑھاو اور اس سے پیسہ کمانا جیسا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں کئی نوجوانوں نے رئیل اسٹیٹ سے خوب پیسہ کمایا جو باقی نوجوانوں کے لئے اک خواب اور منزل بن گئے-روزگار کے محدود مواقع، معاشی عدم استحکام، مہنگائی اور معاشی دباؤ اور ایک طبقے کی دولت کی چکا چوند یہ وہ عوامل ہیں جو نوجوانوں کی Self-Esteem اور اعتماد کو متاثر کرتے ہیں، جس سے وہ اپنے کردار اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں-
6- خاندانی اور سماجی دباؤ
پاکستانی معاشرے میں نوجوانوں پر اکثر اوقات مخصوص کیریئر اختیار کرنے کا دباؤ،سماجی توقعات، موازنہ (Comparison Culture) کا رُجحان عام ہے یہ عوامل نوجوان کی ذاتی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو دبانے کا سبب بنتے ہیں- اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں کیرئیر کونسلنگ کا نہ ہونا اور اپنی صلاحیتوں سے ناواقفیت، عمدہ اور تخلیقی شوق کی کمی بھی نوجوانوں کو شناختی بحران کی سمت دھکیلتی ہے -
یہ ایک عمومی تجزیہ تھا جس میں سوشل میڈیا ، اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کے کردار کا شناختی بحران پر اثرات کا جائزہ نہیں لیا گیا- اگر ہم موجودہ دور میں سوشل میڈیا ، اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کے کردار کا پاکستانی نوجوان کے شناختی بحران پر اثرات کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ سوشل میڈیا ، اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا -
7- پاکستانی نوجوان، سوشل میڈیا اور شناختی بحران
پاکستانی نوجوان سوشل میڈیا پر، خاص طور پر ٹک ٹاک ، انسٹا گرام اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی تخلیقی صلاحیتیں (خود ساختہ) دکھاتے ہیں- اس کو تخلیقی صلاحیت کہنا بھی درست ہے کہ نہیں اس کا فیصلہ قارئین خود کریں گے ٹرینڈنگ ویڈیوز اور مواد بنانے میں انتہائی اعتماد دکھاتے ہیں- توجہ، لائیکس، شئیرز اور فالورز کے ذریعے اپنا آپ منواتے ہیں جس سے معاشرے میں شہرت حاصل کرتے ہیں- سوشل میڈیا پر کامیابی فوری اور نمایاں ہوتی ہے، اس سے نوجوانوں کو فوری طور پر خود اعتمادی ملتی ہے، اگر مخالفت بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ منفی کمنٹس کئے جاتے ہیں- یہ منفی کمنٹس بھی سوشل میڈیا کی کامیابی کے طور پر ہی دیکھے جاتے ہیں کہ پوسٹ پر انگیجمنٹ کتنی ہے ، بلکہ کئی مرتبہ تو دانستہ اور پلاننگ کے تحت منفی حرکات کی جاتی ہیں تاکہ انگیجمنٹ زیادہ ہو- لیکن یہ کامیابی حقیقی دنیا کی طویل محنت مستقل کام اور حقیقی رکاوٹوں کے باعث یہ سوشل میڈیا کے ہیرو حاصل نہیں کر سکتے- یہی وجہ ہے کہ حقیقی زندگی میں، جیسے کہ تعلیمی میدان، تحقیق، ایجاد، صنعت اور سائنسی ترقی میں ہمارا نوجوان کہاں کھڑا ہے؟ سوشل میڈیا کا یہ نوجوان اپنے دوستوں اور آن لائن کمیونٹی کی توجہ اور تعریف کے مطابق خود کو پرکھتے ہیں، جس سے ذاتی اور قومی شناخت کی کمی پیدا ہوتی ہے- کیونکہ سوشل میڈیا پر فوری توجہ نوجوانوں کی Recognition from Others کو بڑھاتی ہے،حقیقی دنیا کی رکاوٹیں Self-Respect اور حقیقی خود اعتمادی کو متاثر کرتی ہیں جس کے نتیجے میں نوجوان دوہری شناخت (Dual Identity) کے شکار ہو جاتے ہیں -ایک آن لائن پُر اعتماد شخصیت ایک حقیقی دنیا میں الجھن اور اضطراب کا شکار شخصیت جس کا کل وقت اپنی اگلی آنے والی ویڈیو کے لائک اور شئیرنگ کو گزشتہ سے زیادہ ہونے اور اس کے وائرل ہونے کے اضطراب میں گم ہوتی ہے- اگر کبھی حکومتی پالیسی کی وجہ سے یہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز بند ہو جائیں جیسا کہ ماضی میں ہو چکا ہے تو ان کی آن لائن شناخت کا کیا بنے گا ؟ اس بارے میں’’ڈیجیٹل ڈیتھ‘‘ کی اصطلاح بھی گردش کرتی ہے ، کسی بھی وجہ سے ڈیجیٹل موت سے ہمکنار ہونے والے کئی دیگر نفسیاتی بحرانوں کا شکار ہو جاتے ہیں -
8-قیادت اور رول ماڈلز کی کمی
نوجوانوں کو علاقائی سطح پر ایسے مثبت اور علمی رول ماڈلز کم ملتے ہیں جو،علم، تحقیق، اخلاق، قومی خدمت، میں مثال بن سکیں- جن تک نوجوانوں کی رسائی ہو اور وہ ان کے ساتھ وقت گزار کر ان سے کچھ سیکھ سکیں ، ایسا نہیں ہے کہ ہمارا معاشرہ بالکل بنجر اور بانجھ ہے ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قحط الرجال اور قحط النساء کا دور ہے- لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے لوگ جو رول ماڈلز ہونے چاہیئں بہت کم ہیں یا سوشل میڈیا کی چکا چوند میں ہمارا نوجوان ان کو رول ماڈل سمجھ نہیں رہا کیونکہ شاید وہ شہرت اور سوشل میڈیا سے دور ہیں جن کے باعث وہ نوجوانوں کی پہنچ سے باہر ہیں - جب معاشرے میں سیاسی یا سماجی عدم اعتماد بڑھتا ہے تو نوجوان اپنی شناخت کے لیے واضح راستہ نہیں دیکھ پاتے اور کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ عدم اعتماد خود ساختہ ہوتا ہے- اگر یہ رول ماڈلز نوجوانوں سے ربط میں رہیں تو اس عدم اعتماد کو اعتماد میں بدلا جا سکتا ہے -
پاکستانی نوجوان میں شناختی بحران کے حل کیلئے تجاویز:
نظریاتی ابہام کا حل
آج کے نوجوان اپنی قومی اور فکری شناخت کے بارے میں واضح تصور نہیں رکھتے-
v تعلیمی نصاب میں پاکستان کی فکری بنیاد، تاریخ اور قومی مقاصد کو واضح انداز میں شامل کیا جائے-
v اسلامی اخلاقیات، سماجی ذمہ داری اور قومی خدمت کے تصورات کو عملی مثالوں کے ساتھ پڑھایا جائے-
v نوجوانوں میں تنقیدی سوچ (Critical Thinking) پیدا کی جائے تاکہ وہ اپنی شناخت کو شعوری طور پر سمجھ سکیں- (تنقیدی سوچ پروا ن چڑھنے سے ان کے اذہان میں سوالات جنم لیں گے ، سوال کرنے کی آزادی ہو جن کا تسلی بخش جواب دیا جائے)-
v مکالمہ کی فضا پیدا کی جائے تاکہ نوجوان اسی نظریاتی ابہام سے نکلے اور ایک پر اعتماد شناخت کے ساتھ زندگی میں آگے بڑھے-
ثقافتی تضاد کا حل
روایتی اقدار اور جدید عالمی ثقافت کے درمیان کشمکش نوجوانوں کے لئے بنیادی مسئلہ ہے نوجوان اسی کو ثقافت سمجھ بیٹھا ہے جسے وہ سوشل میڈیا کے ذریعے دیکھ رہا ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ:
v نوجوانوں کو اپنی ثقافتی تاریخ، ادب اور فکری ورثہ سے روشناس کرایا جائے-
v جدید علوم اور ٹیکنالوجی کو اپنی تہذیبی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی تربیت دی جائے-
v ثقافتی پروگرام، ادبی سرگرمیاں اور علمی مباحث نوجوانوں میں ثقافتی اعتماد پیدا کر سکتے ہیں-
تعلیمی نظام کی اصلاح
پاکستان میں تعلیم زیادہ تر امتحان اور ڈگری تک محدود ہے- غیر رسمی تعلیم اور سٹڈی سرکل کا خاصا فقدان ہے -
v تعلیمی نظام میں تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور حقیقی مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کی تربیت شامل کی جائے-
v یونیورسٹیوں اور کالجز میں ریسرچ پراجیکٹس جو کہ عالمی معیار کے مطابق ہوں ، Innovation Labs اور Skill-Based Learning کو فروغ دیا جائے-
v جو بچے سکول نہیں جا سکتے کمیونٹی سطح پر ان کے کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے -
v طلبہ کو صرف نوکری کیلئے نہیں بلکہ علم، ایجاد اور معاشرتی خدمت کے لیے تیار کیا جائے-
معاشی مسائل اور روزگار
بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ ہے یہ مسئلہ نوجوانوں کے اعتماد کو متاثرکرتا ہے-حکومت اور نجی شعبہ مل کر Entrepreneurship Programs اور Startup Support فراہم کریں-فنی و تکنیکی تعلیم (Technical & Vocational Training) کو فروغ دیا جائے- آج کے دور کے حِساب سے نوجوانوں کو ڈیجیٹل معیشت، ٹیکنالوجی اور ہنر کی تربیت دی جائے-
خاندانی دباؤ کا توازن
v خاندان اکثر نوجوانوں پر مخصوص کیریئر یا سماجی توقعات مسلط کر دیتے ہیں-والدین کو کیرئیر کونسلنگ اور نوجوانوں کی نفسیاتی تربیت کے بارے میں آگاہی دی جائے-
v نوجوانوں کی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور رُجحانات کو مدِّنظر رکھا جائے-خاندان کو نوجوان کی شخصیت سازی میں حوصلہ افزائی اور اعتماد کا ماحول پیدا کرنا چاہیے-
v اس سلسلے میں تعلیمی ادارے والدین کی بھی کونسلنگ کریں-
سوشل میڈیا کا مثبت اور متوازن استعمال
سوشل میڈیا پر فوری شہرت نوجوانوں کی حقیقی شناخت کو متاثر کرتی ہے، خاص طور پر پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک، یوٹیوب اور انسٹا گرام وغیرہ - سوشل میڈیا ہماری زندگی اور معاشرے میں بہت اہم کردار ادا کررہا ہے اس انرجی کو مثبت سمت میں لانا از حد ضروری ہے- اس کے لئے :
v تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل لٹریسی اور Responsible Media Use کی تعلیم دی جائے-
v نوجوانوں کو سکھایا جائے کہ سوشل میڈیا کو تعلیم، تخلیق اور مثبت اظہار کے لیے استعمال کریں-
v آن لائن سرگرمیوں اور حقیقی زندگی کی کامیابیوں میں توازن پیدا کیا جائے-
v نوجوانوں کے emotional and spiritual intelligence پر کام ہونا چاہیئے اور اسے ہر کلاس میں لازمی مضمون کے طور پر پڑھانا چاہیئے-مزید جامعات اورکالجز اس موضوع پر ورکشاپس کے انعقاد کو ضروری بنائیں-
اگر تعلیمی ادارے، خاندان، میڈیا اور ریاست مشترکہ طور پر نوجوانوں کو علم، اخلاق، تحقیق اور قومی خدمت کی سمت دیں تو پاکستانی نوجوان اپنی واضح شناخت، خود اعتمادی اور تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ نہ صرف اپنا مستقبل سنوار سکتے ہیں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں-
٭٭٭