م:مُرشد وَانگ سُنارے ہووے جہڑا گھَت کُٹھالی گَالے ھو
پَا کٹھالی باہر کَڈھے بُندے گھڑے یا وَالے ھو
کَنیں خُوباں دے تَدوں سُہاون جَدوں کَھٹے پا اُجالے ھو
نام فقیر تنہاندا باھوؒ جہڑا دَم دَم دوست سَمہالے ھو
Murshid has to be like goldsmith who melts like gold Hoo
He takes out of melting pot and makes bracelets or earrings from mould Hoo
You will look elegant in beloved’s ears after you are polished like ornament Hoo
Faqeer is your name Bahoo who cares for friend every moment Hoo
Murshid wang sunary howay jeh’Ra ghat ku’Thali galay Hoo
Paa ku’Thali bahar ka’Dhay bunday gha’Ray ya walay Hoo
Kunai’N ‘Khuba’N day tadoo’N suhawan jado’N ka’Thay paa ujalay Hoo
Naam faqeer tinha’N da Bahoo jeh’Ra dam dam dost samhalay Hoo
تشریح:
- حضرت سُلطان باھوؒ فرماتے ہیں :’’جس طرح زرگر سونے کو آگ میں ڈال کر اُس کی پرکھ کرتا ہے اُسی طرح مرشدطالب کو آزمائش میں ڈال کر اُس کی تحقیق کرتا ہے‘‘- سیّدی رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان مبارک ہے: ’’بے شک اللہ تعالیٰ مومنوں کی آزمائش دکھوں اور مصیبتوں سے کرتا ہے جس طرح کہ سونے کی آزمائش آگ میں ڈال کر کی جاتی ہے‘‘-(عین الفقر)
2-جب طالب اللہ کے وجودسے غیراللہ نکل جاتاہے تو مرشد کامل عشقِ مصطفٰے (ﷺ) اور اسم اللہ ذات کی کٹھالی سے باہر نکال کر اُسے زرِ خالص بناکر اس قابل بنادیتا ہے کہ اب وہ محبوب کے کا م کا زیو ربن جاتا ہے- جیساکہ آپؒ فرماتے ہیں :
’’ فقر کا یہ مرتبہ ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ صاحب ِفقر مرشد ِکامل طالب اللہ کے ساتوں اندام کو تصورِ اسم اللہ ذات کی سات مشقوں سے پختہ نہ کر دے اور اُس کی ہستی ٔ نفس کو تصرفِ اسم اللہ ذات کی سات مشقوں سے نیست و نابود نہ کر دے‘‘- (اسرار القادری)
مزید فرمایا : ’’ جان لے کہ آدمی کے وجود میں نفس گویا زنار کا ایک درخت ہے جس کی ہر رگ اور ہر شاخ زیاں کار ہے اور اُس کے ہر ایک پتے سے بدکاری کی بدبوآتی ہے- اُس کے تن کا ہر ایک بال گویا ایک کانٹاہے تو اِس بدآثار شجرِنفس کا کیا علاج کیا جائے؟مرشد ِکامل کو چاہیے کہ اِس پرا سمِ اللہ ذات کی قوت سے توجہ کی کلہاڑی چلائے تاکہ طالب کا وجو دپاک ہوجائے اور وہ معرفت ِتوحید ِالٰہی حاصل کرسکے‘‘- (نور الھدٰی)
3-:پھر مرشد کامل مزید اپنی نگاہ اور ترتیب سے اس سونے کو چمک عطافرماتا ہے تا کہ وہ محبوب کیلئے صحیح معنوں میں آرائش وزیبائش کا باعث بن سکے- جیساکہ آپؒ فرماتے ہیں :’’مرشد کو عورت سے کم تر نہیں ہونا چاہیے کہ جیسے عورت دودھ کے کام کو انتہا تک پہنچاتی ہے اُسی طرح مرشد کا کام بھی یہ ہے کہ طالب کو اُس کے وجود میں مقامِ نفس ، مقامِ قلب ،مقامِ روح، مقامِ سرّ، مقامِ توفیق ِالٰہی،مقامِ علمِ شریعت و طریقت و حقیقت و معرفت اور مقامِ خناس و خرطوم و شیطان و حرص و حسد و کبر علیحدہ علیحدہ کر کے دکھائے یا جس طرح قصاب بکری کو ذبح کر کے اُس کی کھال اُتارتا ہے، اُس کی ہر رگ و بوٹی کو الگ الگ کرتا ہے اور گوشت سے ہر آلائش کو نکال کر دُور پھینک دیتا ہے- اِسی طرح مرشد کو بھی ایسا ہی کامل و مکمل ہونا چاہیے‘‘-(عین الفقر)
4-’’ عارفوں کا وجود کثرتِ ذکر اللہ کی وجہ سے ہر وقت اسمِ اَللّٰہُ کے نور میں غرق رہتا ہے اور اُن کی ہر سانس اسمِ اَللّٰہُ کی آگ میں جلتی رہتی ہے - کسی کی مجال نہیں کہ وہ اسمِ اَللّٰہُ پر غالب آسکے لیکن صاحب ِ تصورِ اسمِ اَللّٰہُ ہر چیز پر غالب ہوتاہے کہ وہ طالب ِمولیٰ ہوتا ہے اور طالب مولیٰ اُسے کہتے ہیں جو دونوں جہان طے کر کے مقامِ حیُّ قیوم میں غرق ہو جائے یعنی ایسا طالب جومعرفت ِ الٰہی پرنظر رکھتا ہو اور اُسے سر کی طمع نہ ہو‘‘-(محک الفقر کلاں)
اس بیت مبارک کے پہلے تین مصرعوں میں حضرت سُلطان باھوؒ نے مرشدکے اوصاف وکمالات بیان فرمائے ہیں کہ مرشدکی اہم ذمہ داری کیا ہے ؟ اس کے علاوہ آپؒ نے کئی اور مقامات پہ مرشد کی ذمہ داریوں اور شان کو مختلف انداز میں بیان فرمایا ہے کہ اُن میں سے چنداقتباسات لکھنے کی سعی سعید حاصل کرتے ہیں- آپؒ ارشادفرماتے ہیں : حضور نبی رحمت(ﷺ) کا فرمان مبارک ہے: ’’پہلے رفیق ِ راہ تلاش کرو پھر راہ چلو‘‘-(عین الفقر)
’’جان لے کہ ہر طریق و ہر علم کیلئے ابتدائی قاعدہ اور ایک راہ ہے ، بے مرشد و بے اُستاد و بے علم و بے قاعدہ و بے راہ آدمی گمراہ ہے ‘‘(اسرار القادری)-
’’کوئی مجتہد بھی بے پیر و بے مرشد نہیں ہوا -مجتہد حضرات نے علمِ روایت کا فیض مرشد کی تعلیم و تلقین و ہدایت ہی سے پایا-پس معلوم ہوا کہ علمِ روایت محض نفس کشی اور ہدایت کی خاطر ہے-جو شخص باطن میں حیات النبی ؐ و مجلس ِنبوی (ﷺ) کی حضوری اور اہل ِ ہدایت مرشد ِکامل سے دست بیعت کا منکر ہے وہ کفر میں ہے کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے :’’اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اور قربِ اِلٰہی کی خاطر وسیلہ تلاش کرو-علماء پر فرضِ عین ہے کہ وہ مرشد ِ کامل سے تلقین حاصل کریں اور پھر رضائے اِلٰہی کی خاطر خَلق کی راہنمائی کریں‘‘-(کلید التوحید کلاں)