مشرقِ وسطیٰ (Middle East) ایک ایسا خطہ ہے جس کی جدید جغرافیائی حدود قدرتی نہیں بلکہ تاریخی، سیاسی اور عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کے تحت تشکیل میں آئی ہے، اس خطے کی بڑی طاقتوں میں ایران، ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل شامل ہیں، جو عسکری، سیاسی اور نظریاتی سطح پر خطے کی سیاست کو متاثر کرتی ہیں- مشرقِ وسطیٰ مسلسل اسٹریٹیجک اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے جس کی بنیادی وجوہات جنگیں، فرقہ وارانہ کشیدگیاں، ریاستی کمزوری، داخلی تنازعات اور علاقائی رقابتیں ہیں- اس خطے میں مقتدر مغربی طاقتوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے، جہاں انکی مداخلت، عسکری موجودگی، اتحاد سازی اور وسائل خصوصاً توانائی کے مفادات نے خطے کی سیاست کو براہِ راست متاثر کیا ہے- بڑی طاقتوں کے رویے ہمیشہ توسیع پسندانہ ہوتے ہیں ، جیسے ایشیاء ، افریقہ اور شمالی امریکہ کی نو آبادیات ، حالیہ تاریخ میں ساؤتھ چائنا سمندر، مشرقِ وسطیٰ ، وینزویلا میں وسائل اور سیاست اور گرین لینڈمیں جغرافیائی اور اسٹریٹیجک اہمیت بھی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں مختلف خطوں کو اپنے مفادات کے زاویے سے دیکھتی ہیں- اسی تناظر میں یہ دلیل مضبوط ہوتی ہے کہ عالمی استحکام کیلئے انفرادی قومی سلامتی کے بجائے اجتماعی سلامتی کا تصور زیادہ مؤثر ہے- کیونکہ صرف مشترکہ تحفظ، تعاون اور باہمی ذمہ داری کے نظام کے ذریعے ہی خطوں میں پائیدار امن اور استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے-[1]
مشِرقِ وسطیٰ کی اسٹریٹیجک اہمیت :
14 مئی 1948ء کو تل ابیب (Tel Aviv) میں یہودی ایجنسی کے سربراہ ڈیوڈ بن گوریان (David Ben-Gurion) نے فلسطین کے سابق برطانوی زیرِانتظام علاقے میں ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا اور اسی دن امریکہ کے صدر ہیری ایس ٹرومین (Harry S. Truman) نے اسے باقاعدہ تسلیم کر لیا- یہ قدم 1917ء کے بالفور اعلامیے اور اقوامِ متحدہ کی تقسیمِ فلسطین قرارداد 181 کے بعد اٹھایا گیا، جو 29 نومبر 1947ء کو منظور ہوئی تھی اور جس میں فلسطین کو ایک یہودی ریاست اور ایک عرب ریاست میں تقسیم کرنے کی سفارش کی گئی تھی- جبکہ یروشلم کو بین الاقوامی کنٹرول میں رکھنے کا کہا گیا تھا- اگرچہ امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ (Franklin D. Roosevelt) نے 1945ء میں عربوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ امریکہ اس معاملے میں یہودیوں اور عربوں دونوں سے مشورہ کیے بغیر مداخلت نہیں کرے گا- لیکن مغربی ممالک کی حمایت، دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہولوکاسٹ کے انسانی المیے، اندرونی سیاسی دباؤ، سرد جنگ کے آغاز میں اسٹریٹجک مفادات اور یہودی قومی وطن کے پہلے سے کیے گئے وعدوں کی وجہ سے سامنے آئی- محکمہ خارجہ کی اندرونی مخالفت اور خطے میں جنگ کے خدشات کے باوجود، برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے پر صدر ٹرومین نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا- یہ مداخلتیں آج بھی دیکھی جا سکتی ہے- [2]
ریاستِ اسرائیل کے قیام کے بعد خطے کی سیاست اور سلامتی کے مباحث میں وقتاً فوقتاً ایسے بیانات بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے علاقائی خدشات کو تقویت دی ہے- اسرائیلی رہنما بن یامین نیتن یاہو (Benjamin Netanyahu)، مائیک ہکابی (Mike Huckabee)، ٹکر کارلسن (Tucker Carlson) اور یائر لاپیڈ (Yair Lapid) جیسے بعض رہنماؤں کے بیانات نے ایک ایسے نظریاتی تصور کو دوبارہ زندہ کیا ہے جو بائبلی دعوؤں (biblical claims) پر مبنی تاریخی سرزمین کے تصور سے جڑا ہوا ہے- اس تصور میں علامتی طور پر مصر، اردن، لبنان، شام، عراق اور سعودی عرب تک پھیلے ہوئے علاقے ہیں -جس سے عرب اور مسلم ریاستوں میں یہ خدشہ ہے کہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی طاقت خطے میں عسکریت (militarisation) میں اضافہ کر رہی ہے - [3]
اسی تناظر میں ابراہیم معاہدات کو بھی دیکھا جاتا ہے، جو ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی ثالثی سے ہونے والی ایک اسٹریٹیجک صف بندی (strategic realignment) تھے، جن کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے - ان معاہدات کا مقصد ایک امریکہ نواز علاقائی سلامتی و معاشی بلاک (US-aligned regional bloc) قائم کرنا، ایران کو محدود کرنا، تجارت بڑھانا اور دفاعی تعاون کو فروغ دینا تھا- تاہم فلسطین کے مسئلے کو پسِ پشت ڈالنے کی وجہ سے روایتی عرب مؤقف، یعنی دو ریاستی حل (two-state solution) کمزور ہوا اور عرب عوام میں مخالفت پیدا ہوئی- غزہ جنگ، علاقائی عدم استحکام اور اسٹریٹیجک اختلافات کے باعث ان معاہدات کی توسیع، خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ نارملائزیشن، غیر یقینی اور سیاسی طور پر محدود دکھائی دیتی ہے- [4]
مزید یہ کہ 2025ء میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں جغرافیائی لحاظ سے غیر معمولی حد تک وسیع اور شدید نوعیت کی رہی ہیں، جن میں کم از کم 10631 حملے مختلف محاذوں پر رپورٹ ہوئے، جن میں غزہ، مقبوضہ مغربی کنارہ (occupied West Bank)، لبنان، ایران، شام، یمن اور قطر شامل ہیں، جبکہ مالٹا، یونان اور تیونس کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں بھی کارروائیاں ہوئیں- مجموعی طور پر یہ صورتحال مقامی تنازعے سے نکل کر کثیر محاذی علاقائی جنگی حکمتِ عملی (multi-front regional war posture) کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، شہری ہلاکتیں، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور سرحد پار عسکری اقدامات شامل ہیں اور جو مشرقِ وسطیٰ سمیت وسیع تر خطے کی سلامتی کی حرکیات (regional security dynamics) کو متاثر کر رہے ہیں- [5]
مزید یہ کہ، بحیرۂ احمر (Red Sea) ایشیا، افریقہ اور یورپ کو ملانے والا ایک نہایت اہم سمندری راستہ ہے جو باب المندب اور نہرِ سویز (Suez Canal) کے ذریعے عالمی تجارت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے- دنیا کی تقریباً 12 فیصد سمندری تجارت نہرِ سویز سے گزرتی ہے جبکہ باب المندب سے ہر سال ہزاروں جہاز اور روزانہ لاکھوں بیرل تیل منتقل ہوتا ہے، اس لیے یہ راستہ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے- اسی وجہ سے امریکہ، یورپی ممالک، چین اور علاقائی طاقتیں یہاں اپنی بحری موجودگی (Naval Presence) برقرار رکھتی ہیں-[6]
یمن، جو بحیرۂ احمر کے کنارے واقع ہے، طویل جنگ اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے- 2014-15ء میں حوثیوں (Houthis) کے اقتدار پر قبضے کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے 2015ء میں ایک مشترکہ اتحاد (Saudi-UAE Coalition) قائم کیا، جسے مغربی حمایت بھی حاصل تھی- حوثیوں کو ایران کا حمایت یافتہ گروہ سمجھا جاتا ہے، جس سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا- 2025ء میں یمن کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی کیونکہ سعودی عرب اور یو اے ای کے مفادات میں اختلافات سامنے آئے-یمن میں سعودی عرب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور صدارتی قیادت کونسل کی حمایت کرتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات علیحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل (Southern Transitional Council – STC) کی پشت پناہی کرتا ہے- اسی دوران اسرائیل کے فضائی حملوں اور حوثیوں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں نے بحیرۂ احمر کی سلامتی کو مزید متاثر کیا، جس سے یمن کا بحران ایک وسیع علاقائی تنازعہ بن چکا ہے اور اس کے اثرات عالمی تجارت اور خطے کے امن پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں- [7]
مزید برآں، مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی اور زرعی معیشت میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے- اس خطے کے پاس دنیا کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر (proven oil reserves) کا تقریباً 48 فیصدموجود ہے، جن میں سعودی عرب، عراق اور متحدہ عرب امارات سرفہرست ہیں، جبکہ عالمی قدرتی گیس (natural gas) کے ذخائر کا تقریباً 40 فیصد حصہ ایران اور قطر میں پایا جاتا ہے- ہائیڈروکاربن کے علاوہ یہ خطہ عالمی غذائی تحفظ (global food security) کیلئے بھی نہایت اہم ہے کیونکہ دنیا کے فاسفیٹ (phosphate) کے ذخائر کا 50 فیصد سے زائد حصہ مراکش، اردن اور مصر میں موجود ہے، جو بڑی سپلائی کرنے والی ریاستیں ہیں- اس کے ساتھ ساتھ، مشرقِ وسطیٰ تیزی سے اپنی توانائی کی حکمتِ عملی کو متنوع (energy diversification) بنا رہا ہے اور شمسی توانائی کے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جو عالمی شمسی صلاحیت کا تقریباً 25 فیصد بنتے ہیں، جبکہ سعودی عرب، یو اے ای اور عمان میں اس شعبے میں بڑی تبدیلیاں جاری ہیں- [8]
سعودی عرب کا کردار :
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ حالات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امن اور سیکیورٹی کس قدر نازک اور غیر یقینی ہو چکی ہے- قطر، جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور جہاں امریکی فوجی اڈے اور بحری اثاثے موجود ہیں، اس کے باوجود 9 ستمبر 2025ء کو دوحہ میں حملہ ہوا اور چھ افراد مارے گئے، جبکہ اسی وقت قطر مسلسل جنگ کے خاتمے کے لیے حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا، تو یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت بن گیا کہ بڑی طاقتوں کی موجودگی بھی مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی- اسی واقعہ کے بعد مسلم ممالک میں شدید ردِعمل سامنے آیا اور او آئی سی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اجتماعی مزاحمت کا اظہار کیا گیا- یہ صورتحال اس سوچ کو تقویت دیتی ہے کہ انفرادی ریاستی سیکیورٹی کے بجائے اجتماعی سکیورٹی زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے اور اسی تناظر میں سعودی عرب نے اپنی دفاعی پالیسی پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ایک منظم دفاعی شراکت داری کی بنیاد رکھی- [9]
اسی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ پر 17 ستمبر 2025ء کو دستخط کیے گئے، جو ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے درمیان طے پایا- اس معاہدے کے مطابق: ’’ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا‘‘-اس معاہدے میں مشترکہ دفاع، انٹیلیجنس شیئرنگ، فوجی تربیت اور دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے- دفاعی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ صرف دو ریاستوں کے درمیان تعلقات تک محدود نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی نئی سیکیورٹی آرکیٹیکچر کی بنیاد رکھتا ہے، جہاں اب ریاستیں بیرونی طاقتوں پر مکمل انحصار کے بجائے علاقائی اور اسلامی شراکت داریوں کے ذریعے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کی طرف بڑھ رہی ہیں- [10]
متحدہ عرب امارات کا کردار :
خطے کی سلامتی کی صورتحال نے متحدہ عرب امارات کو اپنی علاقائی حکمتِ عملی پر نظرِثانی کرنے پر مجبور کیا ، کیونکہ یمن، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی تزویراتی رقابت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے- اگرچہ 2015ء میں دونوں ممالک نے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی کی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ان کی ترجیحات مختلف ہوتی گئیں اور ان کا اتحاد کمزور پڑ گیا-
2025ء کے آخر میں صورتِ حال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب امارات کی حمایت یافتہ ایک علیحدگی پسند جماعت نے ان علاقوں پر قبضہ کر لیا جو سعودی حمایت یافتہ گروہوں کے زیرِ کنٹرول تھے- اس کے جواب میں سعودی عرب نے امارات کے اسلحہ کے ایک ذخیرے کو نشانہ بنایا، جس کے بعد امارات نے اپنی افواج یمن سے واپس بلا لیں- اس طرح یمن، باہمی تعاون کے میدان سے نکل کر دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ طاقت کی کشمکش کا مرکز بن گیا[11] جس کے نتیجے میں امارات نے صرف روایتی علاقائی شراکت داری پر انحصار کو خطرناک تسلیم کیا- اسی تناظر میں امارات نے اپنی پالیسی کو وسعت دی اور ایسے نئے شراکت داروں کی تلاش شروع کی جو اسے سیاسی توازن، دفاعی تحفظ اور معاشی استحکام فراہم کر سکیں-
اسی حکمتِ عملی کے تسلسل میں امارات نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو ایک نئے درجے تک پہنچایا، جو ’’بُچر آف گجرات‘‘ نریندر مودی اور محمد بن زاید النہیان کی ملاقاتوں اور معاہدات کی صورت میں سامنے آیا- یہ پیش رفت محض تجارت یا دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کی نئی تشکیل کی علامت ہے- امارات اس راستے سے ایک ایسے شراکت دار کی طرف بڑھ رہا ہے جو اسے علاقائی تنازعات، سعودی دباؤ اور غیر یقینی سلامتی کے ماحول میں سیاسی استحکام، خودمختاری اور بقا کی ضمانت دے سکے- یوں بھارت کے ساتھ مضبوط تعلق دراصل امارات کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے [12]
ایران اسرائیل کے درمیان کشیدگی :
گزشتہ 15برسوں میں مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری سائے کی جنگ (Shadow War) [13]ایک خفیہ تنازعہ سے بڑھ کر براہِ راست اور ہولناک تصادم میں بدل چکی ہے- اس کشیدگی کا آغاز 2010ء میں اسٹکس نیٹ (Stuxnet) [14] جیسے پیچیدہ سائبر حملوں سے ہوا، جس نے ایران کے نتنز جوہری مرکز کو شدید نقصان پہنچایا -[15] اس کے بعد اسرائیل نے بیریئر ڈاکٹرائن[16] کے تحت ایران میں متعدد خفیہ آپریشنز کیے، جن میں اہم جوہری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور ڈرون حملے شامل تھے تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے -[17] اسرائیل کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ایک جوہری ایران اس کی بقا کے لیے وجودی خطرہ ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا پروگرام مکمل طور پر پُر امن مقاصد کیلئے ہے -[18]
جون 2025ء میں کشیدگی نے ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کیا جب اسرائیل نے ’’آپریشن رائزنگ لائن‘‘کے نام سے ایران کے جوہری اور دفاعی انفراسٹرکچر پر براہِ راست فضائی حملے کیے- ان حملوں میں ایران کے میزائل سسٹمز اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے -[19] یہ پہلا موقع تھا جب دہائیوں پر محیط خفیہ جنگ ایک کھلے میدانِ جنگ میں تبدیل ہوئی، جس کے نتیجے میں دونوں جانب انسانی جانوں کا ضیاع اور معاشی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا-اسرائیل کی یہ حکمتِ عملی صرف دفاع تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ خطے میں اپنی بالادستی (hegemony) قائم کرنے کیلئے لبنان میں حزب اللہ اور شام و یمن میں ایرانی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی کوشش ہے - [20]
28 فروری 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بڑا فوجی حملہ شروع کیا، جسے بالترتیب آپریشن ایپک فیوری (Operation Epic Fury) اور آپریشن روئرنگ لائن (Operation Roaring Lion) کا نام دیا گیا- اس کارروائی کے نتیجے میں تہران میں موجود رہائش گاہ پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای (Ayatollah Ali Khamenei) کی شہادت کی تصدیق کی گئی ہے- ایرانی سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام، بشمول پاسدارانِ انقلاب (Islamic Revolutionary Guard Corps – IRGC) کے سربراہ کی شہادت کی بھی تصدیق کی ہے-
اس کے فوری ردِعمل میں ایران نے اپنی تاریخ کا ’’سب سے شدید‘‘ حملہ قرار دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں موجود 27 امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے، جن میں بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کے اڈے شامل تھے، جبکہ اسرائیل کے فوجی ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ان حملوں کو جوہری کشیدگی کو روکنے اور ممکنہ نظام کی تبدیلی کی حوصلہ افزائی کیلئے پیشگی اقدام قرار دیا ہے- [21]
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور کئی اعلیٰ حکام کی شہادت کی اطلاعات ہیں، نے پورے خطے کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے- اگرچہ امریکی حکام اسے ’’رجیم چینج وار‘‘[22]قرار نہیں دے رہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی ملک کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانا کھلی مداخلت اور خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے- اس کے نتیجے میں ایران نے نہ صرف اسرائیل بلکہ خلیجی ممالک اور امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تنازع اب دو ملکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے-[23]سینکڑوں ایرانی شہریوں، جن میں بچے بھی شامل ہیں، کی ہلاکت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جنگ کا اصل نقصان عام انسانوں کو اٹھانا پڑتا ہے-
اس جنگ کے فوری اثرات خطے کی سلامتی پر نمایاں ہو رہے ہیں- آبنائے ہرمز[24]میں تیل کی ترسیل تقریباً رک گئی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کم از کم 8 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو عالمی معیشت کیلئے خطرناک اشارہ ہے- ایران کی جانب سے قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں حملوں نے خلیجی ریاستوں کو ایک نئی سیکیورٹی سوچ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے- اگر ایران میں قیادت کا خلا پیدا ہوتا ہے یا ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوتا ہے تو عراق اور لیبیا کی طرح طاقت کا خلا شدت پسند گروہوں اور علاقائی پراکسی جنگوں [25]کو جنم دے سکتا ہے، جو پورے خطے کیلئے طویل المدتی خطرہ بن سکتا ہے -[26]
سیاسی سطح پر بھی صورتحال پیچیدہ ہے- ایک طرف امریکی صدر مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، تو دوسری طرف ایران نے بات چیت سے انکار کیا ہے- اقوامِ متحدہ نے ان حملوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے- اگر امریکہ اور اسرائیل کی پالیسی طاقت کے ذریعے حل تلاش کرنے پر قائم رہی تو اس سے نہ صرف خطے میں امریکہ کے اتحادی دباؤ میں آئیں گے بلکہ عالمی سطح پر اعتماد اور سفارتی توازن بھی متاثر ہوگا- مشرقِ وسطیٰ کی پائیدار سلامتی صرف فوجی کارروائیوں سے نہیں بلکہ سنجیدہ مذاکرات علاقائی خودمختاری کے احترام اور انسانی جانوں کے تحفظ سے ہی ممکن ہے -[27]
فلسطین میں اسرائیلی مظالم :
فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے- مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر، زمینوں پر زبردستی قبضے اور شہریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کو مسلسل مشکلات کا شکار بنایا ہوا ہے- انسانی حقوق کی معتبر تنظیمیں تسلیم کرتی ہیں کہ فلسطینیوں کو بنیادی شہری حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے، اور ان کے خلاف نسلی امتیاز کیا جاتاہے -2023ء کے بعد جاری عسکری کارروائیوں نے ان مظالم کو ایک نئے اور ہولناک درجے تک پہنچا دیا ہے- غزہ پٹی (Gaza Strip) پر اسرائیل کی بھاری بمباری اور مکمل محاصرے نے شہری ڈھانچے کو بری طرح تباہ کر دیا ہے، جس سے ہسپتال، اسکول اور پانی و بجلی کی تنصیبات ناکارہ ہو گئی ہیں- اقوامِ متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات زیرِ سماعت ہیں، بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے- [28]
انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس کے مطابق، خوراک اور پانی کی فراہمی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے اقدامات نے غزہ میں انسانی تباہی کو مزید بڑھا دیا ہے- امریکہ نے تاریخی طور پر اسرائیل کی فوجی، مالی اور سفارتی سطح پر غیر مشروط حمایت جاری رکھی ہے، جو خطے میں اسرائیلی بالادستی کو برقرار رکھنے کا بنیادی ستون ہے- سالانہ اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں ویٹو پاور کا استعمال کر کے امریکہ نے اسرائیل کو عالمی احتساب سے تحفظ فراہم کیا ہے -[29] فروری 2026ء کے تازہ ترین حالات کے مطابق، امریکی انتظامیہ کے ’’سیف زونز‘‘ کے قیام کے دعووں کے باوجود مہلک ترین ہتھیاروں کی فراہمی مسلسل جاری رہی، جس نے اسرائیل کی توسیعی پسندانہ (Expansionist) اور جارحانہ پالیسیوں کو تقویت بخشی-
فروری 2026ء میں غزہ کے انسانی بحران کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کچھ نئے اقدامات کیے گئے ہیں- ان میں ’’غزہ پیس بورڈز‘‘جیسے پلیٹ فارمز شامل ہیں جن کی بنیاد جنوری 2026ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں رکھی گئی- ان بورڈز کا مقصد تمام فریقین کو ایک میز پر لا کر فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی ترسیل اور تعمیرِ نو کیلئے ایک مساوی حکمتِ عملی (Equitable Strategy) مرتب کرنا ہے -[30] اسی طرح، اقوامِ متحدہ نے ایک ’’ایمرجنسی پیس فریم ورک‘‘پر زور دیا ہے جس میں سرحدی امن زونز اور بلا تعطل امدادی راہداریوں کا قیام شامل ہے، تاہم اسرائیلی سیکیورٹی تحفظات کے باعث ان تجاویز پر عمل درآمد میں بدستور رکاوٹیں حائل ہیں-[31]
تنقیدی جائزہ :
مشرقِ وسطیٰ کی اسٹریٹیجک اہمیت کئی دہائیوں سے عالمی جغرافیائی سیاست (global geopolitics) کا بنیادی ستون رہی ہے، کیونکہ یہ خطہ ایک طرف عسکری کشیدگی کا مرکز اور دوسری طرف عالمی معیشت کا اہم ذریعہ رہا ہے- سرد جنگ (Cold War) کے دوران یہ خطہ سپر پاورز کے درمیان جوہری مقابلہ آرائی (nuclear standoff) میں ایک اہم حیثیت اختیار کر گیا تھا- مثال کے طور پر 1962ء کا کیوبن میزائل بحران (Cuban Missile Crisis) اسی وقت حل ہوا جب امریکہ نے خفیہ طور پر اس بات پر رضا مندی ظاہر کی کہ وہ ترکی (Turkey)جو نیٹو (NATO) کا اتحادی اور مشرقِ وسطیٰ کے قریب واقع ملک ہے،اس سے اپنے جوپیٹر جوہری میزائل ہٹا لے گا اور اس کے بدلے سوویت یونین نے کیوبا سے اپنے میزائل واپس لے لیے تھے- [32]
اس کے علاوہ ، خطے میں موجود توانائی کے وسائل نےاس کی اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہے، خاص طور پر 1973ء کے تیل پابندی بحران (1973 Oil Embargo) کے دوران، جب اوپیک (OPEC) کے عرب رکن ممالک نے یومِ کپور جنگ (Yom Kippur War) میں اسرائیل کی حمایت کے ردِعمل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو تیل کی ترسیل روکا اور اسے ’’تیل کے ہتھیار‘‘کے طور پر استعمال کیا- جس سے عالمی سطح پر شدید معاشی بحران پیداہوا، تیل کی قیمتیں چار گنا بڑھ گئیں اور مغربی ممالک کو اپنی توانائی کی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ سفارتی تعلقات پر مستقل نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر دیا- [33]
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا 25-26 فروری 2026ء کو اسرائیل کا دورہ اُس منصوبے کے پس منظر میں سمجھنا چاہیے جسے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو (Benjamin Netanyahu) نے ’’ہیکساگون آف الائنسز‘‘ کا نام دیا- اس منصوبے میں بھارت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جبکہ یونان (Greece) اور قبرص (Cyprus) سمیت چند عرب، افریقی اور ایشیائی ممالک کو بھی شامل کرنے کی بات کی گئی ہے- یہ دورہ اس طرف بھی اشارہ دیتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست صرف نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ سکیورٹی اور مفادات پر مبنی نئے اتحادوں کی طرف جا رہی ہے- اسرائیل بھارت کو بحیرہ روم (Mediterranean) سے لے کر ہند و بحرالکاہل (Indo-Pacific) تک ایک پل کے طور پر دیکھ رہا ہے، تاکہ وہ ایران (Iran) کی قیادت میں بننے والے شیعہ محور (Shia Axis) اور اسرائیل پر تنقید کرنے والے ممکنہ سنی محور (Sunni Axis) کا مقابلہ کر سکے- اس دورے سے بھارت کا کردار خطے میں بڑھ گیا-
اس تبدیلی کے بعد خطے میں نئے اتحاد واضح ہونے لگے ہیں- اسرائیل (Israel) نے نہ صرف یونان (Greece) اور قبرص (Cyprus) سے تعلقات مضبوط کیے بلکہ خلیجی ممالک سے بھی روابط بڑھائے، جو اب پرانے عرب اتحادوں تک محدود نہیں رہے- دوسری طرف ترکی (Turkiye) اسرائیل کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب نے 2025ء میں پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس معاہدہ کیا، جس سے ایک الگ سکیورٹی تعاون کا ڈھانچہ بن رہا ہے- خلیج تعاون کونسل کے ممالک اسرائیل، بھارت اور اپنے روایتی اتحادیوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی بھارت کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں- اس طرح خطے میں واضح تقسیم کے بجائے مختلف اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اتحاد سامنے آ رہے ہیں-
پاکستان کے لیے یہ صورتحال زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے- ایک طرف اسے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وعدے نبھانے ہیں، دوسری طرف ایران کے ساتھ تعلقات بھی برقرار رکھنے ہیں، خاص طور پر جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہو- پاکستان کی معیشت بڑی حد تک خلیجی ممالک پر انحصار کرتی ہے، اس لیے اسے بہت محتاط پالیسی اپنانا ہوگی- بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان کیلئے سکیورٹی کے خدشات بھی پیدا کر سکتے ہیں- مختصر یہ کہ مودی کا یہ دورہ صرف دو ملکوں کے تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اس نے پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر اثر ڈالا ہے، جس کا اثر پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بھی پڑ رہا ہے- [34]
امریکہ اور چین کے درمیان نایاب معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی پر بڑھتی ہوئی مسابقت نے ایک نئی ’’گریٹ گیم‘‘ کو جنم دیا ہے- اس غیر یقینی صورتِ حال کے ردِعمل میں یورپی رہنماؤں، خصوصاً فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، نے یورپ کی دفاعی خودمختاری کا مطالبہ کیا تاکہ یورپ اپنی سلامتی کے معاملات میں امریکہ پر مکمل انحصار نہ کرے-[35] اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اپنی سیکیورٹی شراکت داریوں کو متنوع بنا رہے ہیں- اس تمام پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا تیزی سے ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں ریاستیں غیر یقینی اور طاقت کی سیاست پر مبنی ماحول میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں-[36]
اختیامیہ :
مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی کا سوال محض نظری مباحث تک محدود نہیں بلکہ بقا اور خودمختاری سے جڑا ہوا عملی چیلنج ہے- وینزویلا کے خلاف امریکی اقدامات اور اس کے برعکس گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی اتحاد کا مشترکہ مؤقف اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ جہاں اتحاد کمزور ہو وہاں بیرونی مداخلت نسبتاً آسان ہو جاتی ہے- مزید برآں، خطے میں اسرائیل اور بھارت کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات، سعودی عرب اور ترکیہ کے پاکستان کے ساتھ تعاون، متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان قریبی روابط، نیز مغربی طاقتوں کی مستقل عسکری و سیاسی موجودگی نے طاقت کے توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے- اسرائیل اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری کشیدگی نے بھی بقا کی سیاست اور پاور اسٹرگل کو تیز کیا ہے، جس کے نتیجے میں ریاستیں اجتماعی دفاع اور اسٹریٹجک اتحادوں کی طرف مائل ہو رہی ہیں- موجودہ عالمی و علاقائی ماحول اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ جو ریاستیں تنہائی کا شکار رہتی ہیں وہ زیادہ متاثر ہوتی ہیں-لہٰذا مسلم دنیا سمیت تمام علاقائی قوتوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ انفرادی پالیسیوں کے بجائے مربوط، ادارہ جاتی اور اجتماعی سلامتی کے نظام کو مضبوط بنائیں تاکہ بیرونی دباؤ اور داخلی عدم استحکام کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے-
٭٭٭
[1]Marc Lynch, What Is the Middle East? The Theory and Practice of Regions (Cambridge: Cambridge University Press, 2025), https://doi.org/10.1017/9781009557870.
[2] Office of the Historian, U.S. Department of State, “The Creation of Israel, 1948,” Milestones in the History of U.S. Foreign Relations, 1945–1952.
[3] Al Jazeera, “What Is Greater Israel, and How Popular Is It Among Israelis?,” Al Jazeera, February 26, 2026, accessed March 1, 2026,
https://www.aljazeera.com/news/2026/2/26/what-is-greater-israel-and-how-popular-is-it-among-israelis.
[4]Middle East Institute, “The Abraham Accords: Background and Context,” MEI.edu, accessed March 1, 2026,
[5]Al Jazeera, “All the Countries Israel Attacked in 2025 — Animated Map,” Al Jazeera, December 29, 2025, accessed March 1, 2026,
[6] International Crisis Group, Calming the Red Sea’s Turbulent Waters, Middle East Report No. 248, March 21, 2025,
[7] Council on Foreign Relations, “War in Yemen,” Global Conflict Tracker, accessed February 26, 2026,
https://www.cfr.org/global-conflict-tracker/conflict/war-yemen?utm_source
[8] International Energy Agency (IEA), World Energy Investment 2025, “Middle East” section, IEA, Paris, accessed March 1, 2026, https://www.iea.org/reports/world-energy-investment-2025/middle-east.
[9] Kristian Coates Ulrichsen, “Israel’s Attack on Qatar and the Failure of GCC Defense Cooperation,” Arab Center Washington DC, October 14, 2025,
[10] “Pakistan says defense pact with Saudi Arabia elevated brotherly ties to ‘new heights,’” Arab News Pakistan, February 25, 2026, https://www.arabnews.pk/node/2634433/pakistan.
[11] Jonathan Panikoff, “The Real Risks of the Saudi-UAE Feud: Regional Rivalry Will Raise Tensions Far Beyond the Gulf,” Foreign Affairs, February 6, 2026
[12] Middle East Eye. “India and UAE Sign Mega Defence Pact, Agree to Deepen Nuclear Cooperation.” January 20, 2026.
[13] Shadow Warوہ خفیہ یا پوشیدہ جنگ ہے جس میں دونوں ممالک براہِ راست نہیں لڑتے بلکہ جاسوسی، سائبر حملے اور خفیہ آپریشنز کے ذریعے ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں
[14] Stuxnet ایک بہت پیچیدہ کمپیوٹر وائرس تھا جس کا مقصد ایران کے جوہری سنٹری فیوجز (centrifuges) کو خراب کرنا اور انہیں غیر معمولی رفتار سے گھمانا تھا
[15]The Iran Primer. (2021, April 12). Israeli sabotage of Iran’s nuclear program.
https://iranprimer.usip.org/blog/2021/apr/12/israeli-sabotage-iran%E2%80%99s-nuclear-program
[16] Barrier Doctrine ایک اسرائیلی حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور فوجی طاقت کو محدود کر کے خطے میں اپنی حفاظت اور بالادستی قائم کرنا ہے
[17]Citrinowicz, D. (2026, February 23). Israel’s strategic consensus on Iran — and its risks. Stimson Center.
https://www.stimson.org/2026/israels-strategic-consensus-on-iran-and-its-risks/
[18]Royal United Services Institute (RUSI). (2026). Understanding the Israel-Iran conflict. https://www.rusi.org/explore-our-research/publications/commentary/understanding-israel-iran-conflict
[19]Borger, J., Beaumont, P., & Parent, D. (2025, June 13). Israeli strikes hit more than 100 targets in Iran including nuclear facilities. The Guardian. https://www.theguardian.com/world/2025/jun/13/israel-strikes-iran-nuclear-program-netanyahu
[20]Public Seminar. (2025, April). The vision of hegemony driving Israel’s regional policy.
https://publicseminar.org/2025/04/israel-and-iran-foreign-policy/
[21] BBC News, “What We Know About the Joint US-Israel Attack on Iran,” BBC, February 29, 2026, accessed March 1, 2026, https://www.bbc.com/news/articles/cx2dyz6p3weo.
[22] Regime Change War: ایسی جنگ جس کا مقصد کسی ملک کی موجودہ حکومت یا قیادت کو ختم کر کے نئی حکومت قائم کرنا ہوتا ہے
[23]Council on Foreign Relations. (2026, March 2). War spreads across the Middle East.
[24] آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz): یہ ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے جو خلیج فارس (Persian Gulf) کو عمان کی خلیج (Gulf of Oman) سے جوڑتی ہے اور عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
[25] Regional proxy wars علاقائی پراکسی جنگیں): ایسی جنگیں جہاں ممالک براہِ راست لڑنے کے بجائے دوسرے گروہوں یا ملکوں کو سپورٹ کر کے اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے ہیں)
[26]Atlantic Council. (2026). Experts react: How the US war with Iran is playing out around the Middle East.
[27]Al Jazeera. (2026, March 2). Ayatollah Ali Khamenei’s assassination will likely backfire. Here is why.
[28]Oxfam International. Occupied Palestinian Territory and Israel – Oxfam.
https://www.oxfam.org/en/what-we-do/countries/occupied-palestinian-territory-and-israel
[29]Council on Foreign Relations. (2024). U.S. Aid to Israel in Four Charts. cfr.org/article/us-aid-israel-four-charts
[30]Ferragamo, M. (2026, February 24). A guide to the Gaza peace deal. Council on Foreign Relations.
https://www.cfr.org/articles/guide-trumps-twenty-point-gaza-peace-deal
[31]Office of the Historian, United States Department of State, “Milestones: 1961–1968 — The Cuban Missile Crisis, October 1962,” accessed March 1, 2026, https://history.state.gov/milestones/1961-1968/cuban-missile-crisis.
[32]Office of the Historian, United States Department of State, “Milestones: 1961–1968 — The Cuban Missile Crisis, October 1962,” accessed March 1, 2026, https://history.state.gov/milestones/1961-1968/cuban-missile-crisis.
[33]Office of the Historian, United States Department of State, “Milestones: 1969–1976 — Oil Embargo, 1973–1974,” accessed March 1, 2026, https://history.state.gov/milestones/1969-1976/oil-embargo.
[34] Hussain, Abid. “Why Indian PM Modi’s Israel Visit Matters for Pakistan’s Security.” Al Jazeera, February 25, 2026. https://www.aljazeera.com/news/2026/2/25/why-indian-pm-modis-israel-visit-matters-for-pakistans-security.
[35] Euronews, “Macron to Outline France’s Contribution to Europe’s Nuclear Deterrence,” February 25, 2026,
[36] “World in an Age of Impunity,” Dawn, February 2026, https://www.dawn.com/news/1967822.