پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات مذہب، تاریخ اور ثقافت پر مبنی ہیں- صدیوں سے دونوں خطوں کے لوگ ایک دوسرے کی روحانی، فکری اور ثقافتی اشتراک سے جڑے ہوئے ہیں- پاکستان کے شہر ٹیکسلا اور پشاور کے خانقاہوں سے، افغانستان اور پھر شمال میں ترمذ اور موجودہ ازبکستان تک لوگ جایا کرتے تھے- اسی طرح سمرقند اور بخارا سے نکلنے والی فکری اور روحانی دانش نے پاکستان کی سرزمین کے لوگوں کی زندگیوں کو روشن کیا اور کر رہی ہے، جو دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی وجہ بھی ہے- مغل سلطنت جس کی جڑیں وسطی ایشیا میں تھیں، اس بنیاد کو مزید مضبوط کیا- اس کے علاوہ اردو اور ازبک زبانوں میں 3ہزار سے زیادہ ایک جیسے الفاظ ہیں، اسی لیے دونوں ملکوں کے لوگوں کے تعلقات آج کے دور سے نہیں بلکہ بہت پرانے اور گہرے ہیں- [1]پاکستان نے 20 دسمبر 1991ء میں ازبکستان کی روس سے آزادی کے بعد اسے تسلیم کیا اور تاشقند میں اپنا سفارتی مشن قائم کیا اور 10 مئی 1992ء کو سفارتی تعلقات قائم ہوئے- جبکہ ازبکستان نے جولائی 1994ء میں اسلام آباد میں سفارتخانہ قائم کیا- تعلقات کا آغاز 1992ء میں ازبکستان کے پہلے صدر اسلام کریموف کے سرکاری دورے اور اس موقع پر دستخط ہونے والے معاہدوں سے ہوا، جن میں پانی کے وسائل، بجلی، آبپاشی و زمین کی بحالی، ڈاک و مواصلات، بینکوں کے نمائندہ دفاتر کے تبادلے اور سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق معاہدے شامل تھے- یوں باہمی احترام، سیاسی روابط، بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات اور علاقائی استحکام و ترقی میں مشترکہ دلچسپیوں پر مبنی دو طرفہ تعلقات کی بنیاد رکھی -[2]
اردو - ازبک زبان کی مماثلت :
اردو اور ازبک زبانوں میں تاریخی مماثلت ہے، خصوصاً املاء، الفاظ کے ذخیرے، محاورات اور کہاوتوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے- ازبک رسم الخط صدیوں تک عربی میں رہا، بعد ازاں رومن اور پھر سیرلک (وہ رسم الخط جو روسی، ازبک اور کئی دیگر زبانوں میں استعمال ہوتا ہے) میں بدلا-[3] دونوں زبانوں میں تقریباً 3 سے 5ہزار مشترکہ الفاظ پائے جاتے ہیں جو زیادہ تر اسم اور صفت ہیں اور عربی الفاظ عموماً فارسی کے ذریعے منتقل ہوئے- الفاظ کی یہ یکسانیت زندگی کے ہر شعبے جیسے تجارت، ادب، قانون، کھانے پینے اور ریاستی نظام میں نظر آتے ہیں- اس کے علاوہ، دونوں زبانوں میں کئی کہاوتیں اور محاورے تقریباً ایک جیسے ہیں، جیسے اردو کا ’’تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے‘‘ اور ازبک کا ’’قارساک اکی کوئلدن چقادی‘‘ (Qarsak ikki qo’ldan chiqadi)-
- Qarsak = تالی
- ikki qo’ldan = دونوں ہاتھ سے
- chiqadi = نکلتی ہے / بجتی ہے
یہ لسانی قربت طویل المدتی عوامی روابط، بازاروں، شادیوں اور روزمرہ میل جول کا نتیجہ ہے - [4]
روحانی وراثت اور تاریخی پس منظر:
ازبکستان اور پاکستان کے تعلقات کی جڑیں روحانی اور تاریخی پہلو میں پیوست ہیں- فرغانہ وادی، جو ازبکستان کے سب سے زرخیز علاقوں میں شمار ہوتی ہے، جو مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کی جائے پیدائش ہے، وسطی ایشیا کی اہم گزرگاہ اور تاریخی طور پر افغانستان اور برصغیر کی جانب فتوحات کا راستہ بھی رہی ہے- کوکند[5] کے آخری خان چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے، جو اسے قدرتی دفاع بھی فراہم کرتے ہیں- یہ وادی نہ صرف کھیتی باڑی اور پھلوں کی پیداوار کے لیے مشہور ہے بلکہ صدیوں سے شاہراہِ ریشم کا اہم حصہ رہی ہے، جہاں سے تجارت اور ثقافتی تبادلے ہوتے رہے ہیں- تاریخی طور پر یہ علاقہ کئی عظیم شخصیات کا مسکن رہا ہے، جن میں مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر نمایاں ہیں، جنہوں نے یہیں سے برصغیر کی جانب فتوحات کا آغاز کیا- اسی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت کی وجہ سے فرغانہ وادی وسطی ایشیا اور برصغیر کے تعلقات میں ایک پل کی حیثیت رکھتی ہے- یہ تاریخی اور ثقافتی رشتے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک گہرا پس منظر فراہم کرتے ہیں -[6]
پاکستان کی وادی سندھ کی تہذیب اور ازبکستان کی پرانی تہذیبیں جیسے سغدیانہ (Sogdiana) اور باختریا (Bactria) دونوں میں مختلف علاقوں اور قوموں کی ثقافتیں ہیں- دونوں ملکوں میں فرق کے باوجود ایک ساتھ رہنے کا اصول پایا جاتا ہے-ازبکستان میں، ازبک، تاجک، کاراکالپک (Karakalpaks) اور پاکستان میں پنجابی، سندھی، بلوچی، پشتون سب اپنی اپنی پہچان رکھتے ہیں- دونوں کی ثقافت میں عوامی روایات (Folk Traditions)، دستکاری، صوفی کلام اور موسیقی (Mystic Poetry & Music)، کڑھائی (Embroidery)، اور قالین بنائی کی روایت آج بھی ملتی ہیں -[7]
ازبکستان کے شہر سمرقند اور بخارا طویل عرصے تک اسلامی تعلیم و تدریس کے اہم مراکز رہے ہیں- جنہوں نے برصغیر کے علماء پر گہرا اثر ڈالا- تاریخی شاہراہِ ریشم (Silk Road) نے دونوں خطوں کے درمیان تجارت اور ثقافتی تبادلے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے-جہاں تاجر، علماء اور صوفی بزرگ ایک خطے سے دوسرے خطے کا سفر کرتے تھے- مغل سلطنت کے بانی، ظہیرالدین بابر، جنہوں نے شمالی ہند کو فتح کر کے 1526ء میں مغلیہ سلطنت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی اور اپنے آبائی وطن سے بھی گہرے روابط قائم رکھے- بعد ازاں کئی مغل بادشاہ وسطی ایشیا سے علماء، فنکار اور معمار ہندوستان بلاتے رہے، جس سے دونوں خطوں کے درمیان ثقافتی تعلق مزید مضبوط ہوا -[8]
وسطی ایشیاء، خاص طور پر آج کے ازبکستان سے، صدیوں پہلے لوگ برصغیر آئے اور اپنے ساتھ فنون، ثقافت، تجارتی راستے، حنفی فقہ اور صوفی ادب ساتھ میں لائے- سمرقند اور بخارا جیسے شہر اُس وقت علم، فن اور تجارت کے بڑے مرکز تھے- شاہراہِ ریشم کے ذریعے کپڑے، دستکاری اور خوبصورت فن پاکستان تک پہنچا- وسطی ایشیا کے فن میں شیشے کی کاریگری، پتھر پر نقش و نگار، لکڑی کی کندہ کاری اور رنگین گنبدوں والی مساجد مشہور تھیں- ان کا اثر آج بھی لاہور کی بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ اور مزارات میں دیکھا جا سکتا ہے- اسی طرح، ازبک صوفی شاعر جیسے امیر خسرو اور مرزا اسد اللہ غالب اور علشیر نوائی کی شاعری نے اردو کو مزید خوبصورت اور گہرا بنایا، اور یہ اثر آج بھی پاکستان کی شاعری اور صوفی روایت میں زندہ ہے -[9]
اسی طرح سلسلہ مبارکہ نقشبندیہ ، جس کی بنیاد وسطی ایشیا میں بخارا کے بزرگ سلطان الاولیا خواجہ خواجگان حضرت بہاؤالدین نقشبند نے رکھی، روحانی و فکری طور پر سمرقند اور بخارا ہمیشہ سے گہری علمی و صوفیانہ روایت سے وابستہ رہا ہے- یہ روایت بارہویں صدی میں خواجہ عبد الخالق غجدوانی سے شروع ہو کر پندرھویں صدی میں خواجہ عبید اللہ احرار کے دور میں وسطی ایشیا کے سیاسی و سماجی ڈھانچے تک پہنچی-
امام بخاریؒ، جن کا اصل نام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاری تھا، 194ھ (810ء) میں بخارا میں پیدا ہوئے- 16 برس کی عمر میں بڑے محدثین کی کتب ازبر کر لیں- 17 برس کی عمر میں تدریسِ حدیث شروع کی اور آج پاکستانی معاشرے میں آپ کو علم و دیانت کی علامت اور احادیثِ صحیحہ کے سب سے معتبر منبع کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے -[10]
سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ (1198ء–1292ء) بخارا میں پیدا ہوئے اور سلسلۂ نسب کے اعتبار سے نقوی سادات میں سے تھے- آپ کے سرخ لباس پہننے کی کثرت کے باعث ’’سرخ پوش‘‘ کا لقب پایا- آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تبلیغِ اسلام اور سفر میں گزارا اور سندھ و جنوبی پنجاب کے کئی قبائل مثلاً سومرو، سما، سیال، چدھڑ، داہر اور وڑار کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کیا-[11]
ان صوفیانہ تحریکوں نے برصغیر کے دینی و فکری ماحول میں شریعت کی پابندی، تصوف کی باطنی اصلاح اور معاشرتی نظم پر زور دیا- یوں سمرقند و بخارا کی صدیوں پرانی روحانی میراث، علمی تسلسل اور صوفیانہ اثرات نہ صرف پنجاب، دہلی اور دیگر علاقوں میں راسخ ہوئے بلکہ آج کے پاکستان کے مذہبی و فکری ڈھانچے کا اہم حصہ بن گئے، جس سے وسطی ایشیا کے ساتھ ایک گہرا روحانی و تہذیبی رشتہ قائم ہوا -[12]
علامہ اقبال نےبھی وسطی ایشیا کے بارے میں اپنے خطبہ الہ آباد میں کہا کہ جس طرح مصر کی پشت افریقہ اور چہرہ عرب دنیا کی طرف ہے، ویسے ہی برصغیر کا شمال مغربی حصہ (آج کا پاکستان) بھارت کی طرف پشت اور اسلامی دنیا و وسطی ایشیا کی طرف چہرہ رکھتا ہےاور یہاں کے معاشرتی و ثقافتی پہلو بھی انہی خطوں سے ملتے ہیں- اقبال نے وسطی ایشیا کی میراث کو اپنا مستقبل قرار دیا- اقبال لکھتے ہیں:
“I have found my future in this legacy of Central Asia; you too may see your future from my eyes because the fire of those towering personalities burns inside my eyes”.
’’میں نے اپنے مستقبل کو وسطی ایشیا کی اس میراث میں پایا ہے، تم بھی میرے آنکھوں سے اپنا مستقبل دیکھ سکتے ہو کیونکہ ان بلند شخصیات کی آگ میری آنکھوں میں جل رہی ہے‘‘-
23 مارچ 1940ء، قراردادِ پاکستان میں قائداعظم نے لالہ لاجپت رائے کا وہ خط یاد دلایا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر مسلمان ایک ریاست بنا لیں تو وہ وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں سے جڑ جائیں گے اور پرانے تاریخی رشتے دوبارہ قائم ہو جائیں گے- چونکہ قائد اعظم جانتے تھے کہ پاکستان کا رخ وسطی ایشیا اور اسلامی دنیا کی طرف ہوگا - [13]
علامہ اقبال کی شاعری کسی ایک قوم تک محدود نہیں بلکہ اس میں آزادی، حریت اور خودی کا آفاقی پیغام ہے، جسے دنیا بھر کی اقوام اپنے لیے رہنمائی کا سرچشمہ سمجھتی ہیں- اسی تناظر میں 2023ء میں تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز (TSUOS)میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت ریکٹر گُلچہرہ رخسیئے وا ، نے کی اور پاکستان کے سفیر احمد فاروق مہمانِ خصوصی تھے- اس موقع پر اردو شعبہ کے طلبہ نے اقبال کا کلام پیش کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان و ازبکستان کے دیرینہ فکری و تہذیبی تعلقات آج بھی مضبوط ہیں -[14]
ازبکستان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات:
پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے بعد دنیا بھر کی حکومتوں کا مقصد پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے، جو ماحولیاتی تحفظ، معاشی خوشحالی اور سماجی برابری پر مبنی ہے- پائیدار انفراسٹرکچر ایسا نظام فراہم کرتا ہے جو طویل عرصے تک قائم رہ سکے اور معیارِ زندگی بہتر بنائے- قدرتی، سماجی اور معاشی وسائل کو نقصان نہ پہنچائے- وسطی ایشیائی خطے میں تجارتی راہداریوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی بہتری سے تجارت، روزگار اور معیارِ زندگی میں اضافہ ہوگا-[15] اگر پاکستان اور ازبکستان وہ تجارتی راستہ بحال کریں جو ماضی میں شاہراہِ ریشم تھا اور آج اسی طرح سی پیک (CPEC) دونوں ممالک کے لیے ایک اسٹریٹجک موقع فراہم کرسکتا ہے، جو نہ صرف چین، پاکستان اور ازبکستان کو جوڑ سکتا ہے بلکہ وسطی ایشیا کو گرم پانیوں تک رسائی دے کر خطے میں تجارتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو فروغ دےگا-
ازبکستان، جو وسطی ایشیا کی دوسری بڑی معیشت اور سب سے بڑی منڈی ہے- 2021ء اسلام آباد میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تُختائیف نے میڈیا بریفنگ میں پاکستان اور ازبکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے سیاسی، تجارتی، سرمایہ کاری، سیاحت اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کو اجاگر کیا- انہوں نے وزیرِاعظم پاکستان کے دورہ ازبکستان کو سراہا، جس میں سائنس و ٹیکنالوجی، نوجوانوں کی پالیسی، تعلیم اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل سمیت کئی معاہدے طے پائے اور ٹرانس افغان ریلوے منصوبے پر پیش رفت پر زور دیا گیا- تاشقند-لاہور اور تاشقند-اسلام آباد پروازوں کے آغاز سے سیاحت اور تعلیم کو فروغ ملے گا -[16] پاکستان اور ازبکستان کی دو طرفہ تجارت 126.05 ملین ڈالر رہی، جس میں پاکستان کو برآمدات (Export) 88.18 ملین ڈالر اور پاکستان سے درآمدات (Import) 37.87 ملین ڈالر تھیں، جب کہ پچھلے 5-6 سال کے دوران یہ سالانہ صرف 15 سے 20 ملین ڈالر کے درمیان تھی- 2023 میں تجارتی حجم بڑھ کر 250 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا اور 2024 میں یہ 400 ملین ڈالر سے زیادہ ہو گیا، جبکہ ازبکستان میں پاکستانی سرمایہ کاری سے 130 مشترکہ منصوبے فعال ہیں- 2025ء کے پہلے نصف میں دو طرفہ تجارت 253.7 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2024ء کی اسی مدت کے مقابلے میں 123 فیصد اضافہ ہے- اس عرصے میں لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں تین بڑی تجارتی نمائشیں منعقد ہوئیں، لاہور اور کراچی میں ’’ازبکستان-پاکستان ٹریڈ ہاؤسز‘‘ قائم کیے گئے، دونوں ممالک کے بینکوں کے درمیان ادائیگی کے نظام پر پیش رفت ہوئی اور ترجیحی تجارتی معاہدے[17] کے تحت اشیا کی تعداد 17 سے بڑھا کر 100 کرنے کی تجویز دی گئی، ساتھ ہی کراچی اور گوادر بندرگاہوں کو علاقائی تجارت کیلئے استعمال کرنے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے– اس کے علاوہ دونوں ممالک نے ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کو تیز رفتاری سے وسعت دینے اور آئندہ دو برس میں باہمی تجارت کو دو ارب ڈالر تک بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے- [18]
امریکہ میں ہونے والا دہشت گردی کے 11/9 کے واقع کے بعد دونوں ملک دہشت گردی کے خاتمے، انتہا پسندی روکنے اور امن قائم رکھنے میں ایک ساتھ کام کر رہے ہیں- وہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے رکن بھی ہیں، جہاں سلامتی، تجارت اور ترقی پر تعاون ہوتا ہے - [19]
دونوں ریاستوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تجارت، تعلیم، سیاحت اور سائنس و ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا جا رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ، مشترکہ علاقائی ریلوے منصوبہ فاصلے کم کر کے لوگوں اور منڈیوں کو قریب لا سکتا ہے اور خطے میں معاشی سرگرمیوں کو نئی توانائی دے سکتا ہے- عوامی سطح پر روابط بڑھانے کے لیے طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تعلیمی و تحقیقی منصوبے، ثقافتی پروگرام اور پیشہ ورانہ تربیت نہ صرف انسانی وسائل کی ترقی کا ذریعہ بنیں گے جس سے باہمی اعتماد اور سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ ملے گا- [20]
پاکستان کی بندرگاہیں ازبکستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی دیتی ہیں اور ٹرانس افغان ریلوے جیسے منصوبے علاقائی تجارت و ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں- دونوں ممالک دفاع، سکیورٹی اور انسدادِ دہشتگردی میں تعاون بڑھا رہے ہیں، جبکہ حالیہ دورۂ وزیرِاعظم پاکستان کے دوران نوجوانوں، دفاع، سائنس و ٹیکنالوجی، ویزا سہولت، جڑواں شہروں (لاہور–بخارا) اور لاہور–تاشقند پروازوں جیسے معاہدے ہوئے، جو رابطہ کاری، تجارت اور توانائی تعاون میں اضافہ کریں گے- ازبکستان کے توانائی وسائل اور پاکستان کی ضروریات کا امتزاج صنعتی و معاشی استحکام میں مددگار ہوگا، اور یہ شراکت داری وسطی ایشیا کو جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے جوڑ کر خطے میں سرمایہ کاری، ترقی اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنائے گی-[21]
صدر ازبکستان کا دورہ پاکستان
ممالک کے درمیان تعاقات کو مزید تقویت ازبکستان کے صدر ، شوکت مرزیایوف نے 5 تا 6 فروری 2026 کو پاکستان کا دورہ کیا جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ازبک صدر نے ایک تاریخی پروٹوکول (Protocol) پر دستخط کیے، جس کا مقصد آئندہ پانچ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو دو ارب ڈالر تک بڑھانا ہے- اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا جو باہمی مشاورت کے ذریعے اہم شعبوں کی نشاندہی کر کے ایک پانچ سالہ روڈمیپ تیار کیا گیا ہے - جس میں تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط، تعلیم، ثقافت، اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ ازبکستان–افغانستان–پاکستان ریلوے منصوبہ کو خطے میں تجارت اور رابطہ کاری کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا گیا، جو سفر اور مال برداری کے وقت کو مہینوں سے کم کر کے چند دنوں تک محدود کر سکتا ہے[22]-
دورے کے دوران28 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں پر دستخط کیے گئے، جن میں دفاع(Defence)، انسدادِ دہشت گردی (Counter-Terrorism)، منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام (Drug Trafficking Control)، آفات کا انتظام(Disaster Management)، ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change)، زراعت (Agriculture) معدنیات و ارضیاتی علوم(Mining and Geosciences)، ادویات کی ریگولیٹری نگرانی(Pharmaceutical Regulation)، کھیل (Sports)، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی و آئی ٹی، سائبر سکیورٹی(Cybersecurity)، مصنوعی ذہانت، تعلیم و تحقیق (Education & Research) اور قیدیوں کی منتقلی (Transfer of Sentenced Persons) شامل ہیں-اس کے علاوہ سمندری تجارت (Maritime Trade) کے فروغ کے لیے کراچی، گوادر اور پورٹ قاسم پر ترجیحی بندرگاہی سہولتیں(Preferential Port Access)، صنعتی تعاون(Industrial Cooperation)، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار(SMEs) اور ترجیحی تجارتی معاہدے( (Preferential Trade Agreementکی اشیاء کی فہرست میں توسیع کے معاہدے بھی طے پائے- جامعات ، تحقیقی اداروں، شہری انتظامیہ اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط کیلئے مشترکہ بزنس کونسل اور انٹرریجنل فورم (Interregional Forum) کا قیام بھی عمل میں آیا-[23]
یہ دورہ طلبہ کے تبادلے، تعلیمی تعاون اور ثقافتی پروگرامز (Cultural Programs) کے ذریعے عوامی سطح پر روابط (People-to-People) کے فروغ کے نئے مواقع پیدا کرے گا، جو بالآخر دونوں ریاستوں کے لیے اقتصادی انضمام(Economic Integration)، علاقائی استحکام اور پائیدار ترقی کے تناظر میں مشترکہ فائدے کا باعث بنے گا-
دوطرفہ تعلقات میں درپیش مسائل:
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ دونوں ممالک کی کوئی براہِ راست سرحد نہیں اور ان کے درمیان تجارتی و زمینی رابطے افغانستان کے راستے ممکن ہیں- وسطی ایشیائی ممالک اپنی آزادی کے بعد سے عرب سمندر (Arabian Sea) اور جنوبی ایشیا تک رسائی چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی تجارت بڑھا سکیں-اگرچہ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ، چین کی بندرگاہیں یا خنجراب پاس (جو سردیوں میں برفباری کی وجہ سے بند ہو جاتا ہے) استعمال کرنا مشکل اور وقت طلب ہے، لیکن پاکستان ان کے لیے سب سے مختصر اور تیز راستہ فراہم کرتا ہے- وسطی ایشیا توانائی سے مالا مال ہے جبکہ جنوبی ایشیا کو توانائی کی ضرورت ہے، اس لیے بہتر علاقائی روابط دونوں کے لیے فائدہ مند ہیں- لیکن افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری سیاسی اور سلامتی کے مسائل اور 2021ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے باوجود بعض غیر ریاستی عناصر (Non-state Actors)، مفاد پرست ٹولوں (Pressure Groups) اور داخلی سیاسی عدم (Internal Political Instability)استحکام کی موجودگی اس منصوبے کی پیش رفت میں چیلنجز پیدا کر رہی ہے-ساتھ ہی، وسطی ایشیا میں بڑی طاقتوں کا اثر و رسوخ اور بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بناتی ہے- اس لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک مل کر کثیرالجہتی تعاون بڑھائیں اور افغانستان میں امن قائم کرنے کو ترجیح دیں تاکہ خطے میں ترقی اور تجارت کے مواقع حقیقت بن سکیں-[24] وسطی اور جنوبی ایشیا کی اہمیت اس وقت بڑھ گئی ہے کیونکہ امریکہ اور چین کا مقابلہ تیز ہو رہا ہے- چین اپنے تجارتی راستے بڑھا رہا ہے تاکہ مغرب کی ممکنہ پابندیوں کا مقابلہ کر سکے- گوادر بندرگاہ اور سی پیک کے ساتھ پاکستان-افغانستان -ازبکستان ریلوے منصوبہ اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں - [25]
حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، پاکستان نے 26 تا 27 جولائی 2025ء کو اسلام آباد میں ایک اہم علاقائی سیکیورٹی کانفرنس کی میزبانی کی، جس کا موضوع ’’Strengthening Bonds, Securing Peace‘‘ یعنی ’’روابط کو مضبوط بنانا، امن کو محفوظ بنانا‘‘ تھا- اس اجلاس میں امریکہ کے Centcom chief جنرل مائیکل کُرِلا، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی - اجلاس کا مقصد وسطی اور جنوبی ایشیا میں امن و تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز جیسے دہشت گردی، سائبر خطرات اور پرتشدد انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے شراکت داری کو مضبوط کرنا تھا- پاکستان کی عسکری قیادت نے بدلتے ہوئے علاقائی حالات اور سرحد پار خطرات کے پیشِ نظر گہرے عسکری تعاون (military cooperation)، اسٹریٹجک ڈائیلاگ (strategic dialogue) اور باہمی اعتماد کی ضرورت پر زور دیا- اس موقع پر پاکستان نے خود کو ایک فعال اور ذمہ دار شراکت دار (partner) کے طور پر پیش کیا، جو مستقبل کے علاقائی کاؤنٹر ٹیررازم (counter-terrorism) ڈھانچے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے- اس تناظر میں آئندہ ماہ اسلام آباد میں مجوزہ پاک-امریکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈائیلاگ اور رواں سال کے اوائل میں ایک اہم غیر ریاستی عنصر کی امریکہ کو حوالگی کو بھی پاکستان کے اس نئے سفارتی و سیکیورٹی جھکاؤ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے -[26]
اختتامیہ :
پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور معاشی روابط کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں، جو دونوں ممالک کے عوام کو گہرے روحانی اور فکری رشتوں سے جوڑتے ہیں- موجودہ دور میں یہ تعلقات تجارتی، دفاعی، تعلیمی اور سیاحتی شعبوں میں وسعت پا رہے ہیں، جو خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں- مشترکہ تاریخی ورثہ اور ثقافتی قربتوں کے باعث پاکستان اور ازبکستان نہ صرف اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہے ہیں بلکہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان معاشی اور سیاسی تعاون کو بھی فروغ دے رہے ہیں، جس سے خطے میں امن، خوشحالی اور بین الاقوامی روابط کو فروغ ملنے کے روشن امکانات پیدا ہو رہے ہیں-
٭٭٭
[1]Kabilova, Gulnora Radzhabovna, Dilbar Abdullaevna Igamberdieva, and Zarina Khamzaevna Kobilova. “New Uzbekistan: Cooperation of Uzbekistan with Asian Countries.” European International Journal of Multidisciplinary Research and Management Studies 3, no. 12 (2023): 98–102.
[2]Embassy of the Islamic Republic of Pakistan. “Pakistan & Uzbekistan Relations.” Pakistan Embassy, Tashkent. Accessed August 11, 2025. https://pakembassytashkent.org.pk/pakistan-uzbekistan-relations/.
[3]Umarova, Mohira Azim qizi. “Uzbek Kinship Words and Their Translation into Urdu Language.” Current Research Journal of Philological Sciences 2, no. 5 (May 2021): 113–116.
[4]Ergasheva, K. “Historical Similarities between Urdu and Uzbek Languages.” Ekonomika i Sotsium [Economy and Society], no. 6(85), part 1 (2021): 89–93.
[5]کوکند خانہ دارالسلطنت ایک وسطی ایشیائی ریاست تھی جو 1709ء سے 1876ء تک موجود رہی- یہ وادیٔ فرغانہ کے بیشتر حصے پر مشتمل تھی اور موجودہ ازبکستان، کرغیزستان اور تاجکستان کے علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی- اس کی معیشت زراعت، ریشم سازی اور قافلہ تجارت پر مبنی تھی، جبکہ ثقافتی لحاظ سے یہ فارسی و ترک روایات کا مرکز رہی- 1876ء میں روسی سلطنت نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا-
[6]Azmi, Razi. “Where the Past Meets the Present: The People, Places and Stories of Central Asia.” Dawn, September 29, 2017.https://www.dawn.com/news/1360175.
[7]Hameed, Muhammad, and Muzaffar Ahmad. 2017. "Regionalism—Facts and Fears—National Perspective." Ancient Punjab 5: 46–55.
[8]Chaudhry, Samar Fatima. “Strategic Importance of Bilateral Relations between Pakistan and Uzbekistan.” Modern Diplomacy, March 20, 2025.
[9]Saeyd Rashed Hasan Chowdury, “The Reflection of Sufi Influence on the Mughal Empire (1526–1857): A Spiritual and Cultural Analysis,” Bilimname (2023).
[10]“Life of Imam Al-Bukhari: The Luminary Behind Sahih Al-Bukhari.” Islam Hashtag. January 22, 2025. Accessed September 10, 2025. https://islamhashtag.com/imam-al-bukhari/
[11]Auqaf & Religious Affairs Department, Government of the Punjab. “Hazrat Jalaluddin Surkh-Posh Bukhari.” Punjab Auqaf Organization. Accessed September 10, 2025. https://auqaf.punjab.gov.pk/jalaluddin-surkh-posh-bukhari
[12]Buehler, Arthur F. “The Development of the Naqshbandiyya-Mujaddidiyya in India: How the Panjab Became the Centre of Nineteenth-Century International Naqshbandi Activity.” Iqbal Review, April 1997.
https://www.allamaiqbal.com/publications/journals/review/apr97/7.htm.
[13]The Muslim Institute, "Pakistan's Relation with Central Asian States", Muslim Institute, August 28, 2024.
[14]Embassy of Pakistan, Tashkent. "Iqbal Day Celebrated at Tashkent State University of Oriental Studies." Embassy of Pakistan Tashkent, December 26, 2023.
[15]Ahmed, Waqas, Sharafat Ali, Timur Perkov, and Alisher Ismailov. “Decision Analysis of Transportation Corridors to Access Seaports from the Uzbekistan Perspective.” GeoJournal 88 (2023): 5537–5554.
[16]ousafzai, Farkhund. “Pakistan, Uzbekistan Deepen Strategic Ties Across Trade, Transit and Culture.” The Diplomatic Insight, August 7, 2025.
https://thediplomaticinsight.com/pakistan-uzbekistan-ties-trade-transit-culture/.
[17]مخصوص اشیا یا خدمات پر درآمدی و برآمدی محصولات (ٹیکس/ڈیوٹیز) کم یا مکمل طور پر ختم کر دی جاتی ہیں، تاکہ باہمی تجارت کو فروغ ملے-
[18]“Pakistan, Uzbekistan Agree to Fast-Track Expanded PTA,” Radio Pakistan, December 12, 2025, https://www.radio.gov.pk/12-12-2025/pakistan-uzbekistan-agree-to-fast-track-expanded-pta.
[19]Asif Ali, and Mahboob Hussain. “Pakistan Uzbekistan Relations: An Historical Evolution.” International Research Journal of Arts, Humanities and Social Sciences 2, no. 2 (2025): 122–128.
[20]Usmanov, Oybek Arif. Uzbekistan-Pakistan Regional Connectivity: Political, Economic, Humanitarian, and Academic Aspects. Keynote Address. Islamabad: NUST Institute of Policy Studies (NIPS), National University of Sciences and Technology, December 27, 2023.
[21]Chaudhry, “Strategic Importance of Bilateral Relations.”
[22] Web Desk, “Uzbekistan President Mirziyoyev Lands in Islamabad for Two-Day Visit,” The Express Tribune, February 5, 2026, https://tribune.com.pk/story/2590911/uzbekistan-president-mirziyoyev-lands-in-islamabad-for-two-day-visit.
[23] News Desk, “Pakistan, Uzbekistan Aim to Boost Bilateral Trade to $2bn within Next 5 Years,” Dawn, February 5, 2026, updated February 6, 2026, https://www.dawn.com/news/1971221.
[24]Rabbani, Asima. "Pakistan-Afghanistan-Uzbekistan Railroad Project: An Analysis of the Dynamics, Challenges, Implications and Suggestions for Addressing Challenges." The Pakistan Administration, a Journal of National School of Public Policy (NSPP) is proud to complete its third year and sixth issue of publication. Over the last three years, the journal has strived to contribute to the academic discourse surrounding public policy issues in the country. More importantly, all the content of the journal has been the work of civil servants who are under training at NSPP. (2025): 31.
[25]Ibid
[26]Baqir Sajjad Syed. “Pakistan Pitches Itself as Key Player in Regional Peace Dynamics.” Dawn, July 27, 2025.