ضابطہ مصطفوی ﷺ میں پانی کی اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں

ضابطہ مصطفوی ﷺ میں پانی کی اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں

ضابطہ مصطفوی ﷺ میں پانی کی اہمیت اور ہماری ذمہ داریاں

مصنف: لئیق احمد مارچ 2026

ماحولیاتی آلودگی سے مراد قدرتی ماحول (مثلاً ہوا، پانی اور مٹی) میں ایسے نقصان دہ مادوں یا آلودگیوں کا شامل ہونا ہے جو انسانی صحت، جنگلی حیات اور مجموعی ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں- یہ مظہر بنیادی طور پر مختلف انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے، جن میں صنعت کاری، شہر کاری، آبادی میں تیزی سے اضافہ، زرعی طریقے، معدنیاتی دریافت اور کان کنی وغیرہ شامل ہیں- ماحولیاتی آلودگی کے مضر اثرات نہ صرف معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بھی بنتے ہیں-[1] البتہ اس کا دائرہ انسان کی روح، فکر اور معاشرتی اقدار تک وسیع ہے- اسلام کی آفاقی تعلیمات اور سیرتِ طیبہ (ﷺ) ہمیں ماحول کی صفائی کے ساتھ ساتھ فکر کی پاکیزگی اور معاشرتی توازن کا درس دیتی ہیں تاکہ انسان مادی غلاظت اور روحانی کثافت سے آزاد ہو کر ایک پُرسکون زندگی بسر کر سکے - مقالہ ہذا میں ہم ماحولیاتی آلودگی کے محض ایک زاویے یعنی آبی آلودگی پانی کی اہمیت اور تحفظ پر نظروں کو مرکوز رکھنے کی کوشش کریں گے- آبی آلودگی سے مراد جھیلوں، دریاؤں، سمندروں اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں ایسے زہریلے مادوں کی شمولیت ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر بغیر کسی حفاظتی عمل(Treatment)کے پانی میں شامل کر دیے جاتے ہیں- [2] کائنات ہست و بود میں پانی قدرت کا وہ شاہکار ہے جس کے گرد زندگی کا تانا بانا بُنا گیا ہے- قرآنِ حکیم نے اس آفاقی سچائی کا اعلان ان الفاظ میں کیا ہے:

’’وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ط اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ‘‘[3]

’’اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا ہے- تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے‘‘-

پانی بقائے زیست کی اساس ہے جس کی حفاظت کو اسلام نے ایک اہم دینی فریضہ قرار دیا ہے- سیرتِ طیبہ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے پانی کے ضیاع کو سخت ناپسند فرمایا- پانی کی فراوانی بھی ہمیں اس کی بے جا بربادی کا لائسنس نہیں دیتی- آپ (ﷺ) نے صرف زبانِ مبارک سے ہی نہیں بلکہ اپنے عملِ پیہم سے بھی امت کو پانی کی بچت کا سبق دیا- حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)کی روایت آپ (ﷺ) کے اسی محتاط طرزِ زندگی کی گواہی دیتی ہے:

’’حضور نبی کریم (ﷺ) ایک مد (تقریباً 650 ملی لیٹر) پانی سے وضو ء فرماتے اور ایک صاع (تقریباً 2.75 لیٹر) یا پانچ مد پانی سے غسل کرتے تھے‘‘- [4]

پانی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ عظیم نعمت ہے جس پر زندگی کا دارومدار ہے- اس بیش بہا اثاثے کی قدر کرنا اور اسے ضائع ہونے سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے- حضور نبی کریم (ﷺ) نے پانی کے درست استعمال کے حوالے سے ایسی جامع تاکید فرمائی ہے جو آج کے جدید دور میں بھی مشعلِ راہ ہے- اسلام میں پانی کا بے جا استعمال (اسراف) سخت ناپسندیدہ ہے، چاہے انسان عبادت ہی کیوں نہ کر رہا ہو- حضرت ابن عمر (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں:

’’رسول اللہ(ﷺ) نے ایک شخص کو وضو کرتے دیکھا تو ارشاد فرمایا اسراف نہ کرو، اسراف نہ کرو‘‘ -[5]

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے:

’’ایک مرتبہ سرکار دو عالم (ﷺ) کا گزر حضرت سعد (رضی اللہ عنہ) پر ہوا جب کہ وہ وضو کر رہے تھے پس آپ (ﷺ)نے (انہیں دیکھ کر) فرمایا کہ اے سعد! یہ کیا اسراف (زیادتی ہے)؟ حضرت سعد (رضی اللہ عنہ)نے عرض کیا کہ کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا: ہاں! اگرچہ تم نہر جاری ہی پر (کیوں نہ وضو کر رہے) ہو ‘‘ -[6]

پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ اسے پاک صاف رکھنا بھی ضروری ہے- آپ (ﷺ) نے پانی کو نجاست سے بچانے کی سخت تاکید فرمائی ہے:

حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے ‘‘-[7]

حضرت جابر (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں:

’’رسول اللہ(ﷺ) نے جاری پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے‘‘-[8]

حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا:

’’اللہ اس بندے پر خوش ہوتا ہے جو کھانا کھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے یا جو بھی چیز پیئے اس پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرے‘‘ -[9]

نعمتوں کے چھن جانے سے بچنے کیلئے آقا کریم (ﷺ) کی یہ دعا ہمیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے- حضرت عبد اللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) دعا فرمایا کرتے تھے:

’’یا اللہ! میں تجھ سے تیری نعمت کے زائل ہو جانے، تیری عافیت کے پلٹ جانے، اچانک مصیبت آجانے اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں‘‘ -[10]

آبی آلودگی کے نقصانات:

پانی ایک بار آلودہ ہو جائے تو اسے دوبارہ صاف کرنا انتہائی مشکل، مہنگا اور بسا اوقات ناممکن ہوتا ہے- ایک محتاط اندازے کے مطابق عالمی سطح پر 80 فیصد گندا پانی بغیر کسی صفائی (treatment) کے ماحول میں چھوڑ دیا جاتا ہے-جس میں انسانی فُضلے سے لے کر زہریلے صنعتی مادے تک شامل ہوتے ہیں- تازہ پانی میں موجود ان آلودگیوں کی نوعیت ہی یہ طے کرتی ہے کہ آیا وہ پینے، نہانے یا زراعت کے قابل ہے یا نہیں- یہ آلودگی نہ صرف انسانی ضرورتوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ آبی حیات کے مسکن اور معیارِ زندگی کیلئے بھی خطرناک ہے- پانی کو آلودہ کرنے والے بڑے عوامل میں انسانی و حیوانی فضلہ، زرعی کھادوں سے نکلنے والے نائٹروجن اور فاسفورس، صنعتی کیمیکل اور بڑھتی ہوئی نمکیات شامل ہیں- مزید برآں، پلاسٹک اور ادویات کے باقیات جیسے جدید دور کے نئے کیمیائی مادے بھی پانی کے ذخائر کیلئے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھر رہے ہیں، جن کے طویل مدتی اثرات کا مکمل اندازہ لگانا ابھی باقی ہے- [11]

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق صنعت و حرفت، گھریلو ضروریات اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث سن 2050ء تک پانی کی عالمی مانگ میں 55 فیصد تک غیر معمولی اضافہ متوقع ہے- اسی طرح بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر خوراک کی طلب میں بھی 60 فیصد (اور ترقی پذیر ممالک میں 100 فیصد) اضافے کا خدشہ ہے- غربت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور ناقص انتظامی حکمتِ عملی وہ عوامل ہیں جو مستقبل میں پانی کے پائیدار انتظام اور انسانی بقا کے لیے ایک سنگین امتحان ثابت ہوں گے- [12]

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان جیسے ممالک میں تقریباً 80 فیصد امراض کا براہِ راست تعلق آلودہ پانی اور اس سے پیدا ہونے والی وبائی بیماریوں سے ہے- [13]ایک مثال دیکھیں کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق سال 2000 ء میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد تقریباً 5 لاکھ تھی جبکہ 2024 ءتک یہ بڑھ کر 14.6 ملین تک پہنچ گئی- سال 2025ء  کے ابتدائی 7 ماہ میں ہی دنیا کے 97 ممالک سے 4 ملین سے زائد کیسز اور 3000 سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں- [14]

تحقیقی رپورٹس کے مطابق، صاف پانی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے جنم لینے والے امراض مجموعی اموات کا تقریباً 33 فیصد بنتے ہیں جبکہ ایک اور مطالعہ بتاتا ہے کہ پاکستان میں 20 سے 40 فیصد بیماریوں کی بنیادی وجہ پانی کا غیر معیاری ہونا ہے- اس صورتحال کے پسِ پردہ فضلے کے غیر مناسب انتظام، آبی ذخائر کے تحفظ میں کمی، صفائی کے ناقص انتظامات، انسانی مداخلت اور عوامی شعور کی کمی جیسے عوامل کار فرما ہیں- [15]

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے سطحی آبی ذخائر کا دارومدار بنیادی طور پر دریائے سندھ پر ہےجو ہماری معیشت اور زندگی کی شہ رگ ہے- تاہم، موسمیاتی تغیرات دریائے سندھ کے بہاؤ پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں، جس سے پائیدار آبی وسائل پر دباؤ بڑھ گیا ہے- اگر خدانخواستہ دریائے سندھ کے بہاؤ میں 50 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے تو یہ عوامی صحت، ماحولیاتی تحفظ اور ملکی معیشت کیلئے ایک ہولناک صورتحال کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے- [16]

اگر پینے کے قابل یہ آبی ذخائر آلودگی کی نذر ہو جائیں تو نہ صرف انسانی صحت داؤ پر لگ جاتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی شدید زک پہنچتی ہے-صنعتی فضلہ اور سیوریج پانی میں آکسیجن کی مقدار (Dissolved Oxygen) کو ختم کر دیتے ہیں- تحقیق بتاتی ہے کہ جب آکسیجن ایک خاص حد سے کم ہوتی ہے تو مچھلیاں اور دیگر جاندار ہلاک ہونے لگتے ہیں جس سے مکمل’ڈیڈ زونز‘بن سکتے ہیں-بھاری دھاتیں (جیسے پارہ اور سیسہ) چھوٹی مچھلیوں کے جسم میں داخل ہوتی ہیں اور پھر بڑی مچھلیوں اور آخر کار انسانوں تک پہنچتی ہیں- اسے Biomagnification کہا جاتا ہے جو پورے ماحولیاتی نظام کو زہریلا کرسکتا ہے[17] جبکہ آبی آلودگی سے مرجان کی چٹانیں (Coral Reefs) اور آبی پودے تباہ ہو جاتے ہیں جو کہ مچھلیوں کی افزائشِ نسل کے لیے نرسری کا کام کرتے ہیں- اس سے حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) ختم یا پھر بری طرح متاثر ہو سکتی ہے- [18]

علاوہ ازیں جب دریا کا آلودہ پانی زمین میں رستا ہے، تو یہ قریبی علاقوں کے کنوؤں اور بورنگ کے پانی کو بھی زہریلا کرسکتا ہے- حتیٰ کہ بہاؤ میں کمی کی وجہ سے سمندر کا کھاری پانی دریا کے ڈیلٹا والے حصوں میں اندر داخل ہو جاتا ہے، جس سے میٹھا پانی بھی پینے اور زراعت کے قابل نہیں رہتا-

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) کی 2016ء کی رپورٹ کے مطابق ملک کے 23 بڑے شہروں میں کیے گئے ایک سروے سے یہ تشویش ناک صورتحال سامنے آئی تھی کہ ہمارے آبی ذخائر چار بڑے زہریلے اجزا کا شکار ہیں- ان میں سب سے زیادہ غلبہ بیکٹیریل آلودگی (69 فیصد) کا ہے جو وبائی امراض کا پیش خیمہ بنتی ہے- اس کے بعد خطرناک حد تک آرسینک 24 فیصد، نائٹریٹ 14 فیصد اور فلورائیڈ 5 فیصد کی شرح سے پائے گئے ہیں-

آبی الودگی سے بچاؤ کے لئے لائحہ عمل:

پانی قدرت کا وہ انمول عطیہ ہے جس کا کوئی متبادل نہیں- ذیل میں چند تحقیقی مقالات سے ماخوذ کچھ ایسی تدابیر پیش کی گئی ہیں جنہیں اپنا کر ہم نجی اور ملکی سطح پر اس نعمت کی حفاظت کر سکتے ہیں-

شہروں میں عوامی اور انتظامی نااہلی و بے ضابطگی کے باعث نالوں میں کچرے کے ڈھیر نے آبی و فضائی آلودگی میں انتہائی اضافہ کیا ہے، جسے کم اور ختم کرنے کے لئے انفرادی سطح سے کام کرنے کی ضرورت ہے-

استعمال شدہ پانی کا دوبارہ استعمال:

)Gray Water Recycling(

گھروں میں سبزیوں کو دھونے یا وضو کے بعد بچ جانے والے صاف پانی کو ضائع کرنے کے بجائے پودوں اور کیاریوں میں ڈالیں- گھر کے استعمال شدہ پانی کو گلیوں میں بہا کر تعفن اور بیماریاں پھیلانے کے بجائے اسے کیاریوں یا فصلوں کی طرف موڑ دیں تاکہ یہ کارآمد بن سکے-

قومی پالیسی کی ضرورت:

ملک کے آبی ذخائر کے تحفظ اور ان میں اضافے کے لیے ایک مؤثر قومی آبی پالیسی اور مربوط انتظامی ڈھانچے کی تشکیل ناگزیر ہے- یہ محض ایک ضرورت نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ ہے تاکہ پینے کے پانی کو آلودگی سے پاک کیا جا سکے اور نکاسیِ آب (سیوریج) کی بہتر سہولیات کے ذریعے ملک بھر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو جدید اور محفوظ بنیادوں پر استوار کیا جا سکے-

شجرکاری(Reforestation):

پاکستان سالانہ 2.1 فیصد جنگلات سے محروم ہو رہا ہے جس کی موجودہ شرح برقرار رہی تو اگلے 50برسوں میں ہم اس سبزے سے مکمل محروم ہو جائیں گے- جنگلات کا قیام نہ صرف بارشوں کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ درجہ حرارت میں اعتدال، سیلابوں کی روک تھام اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے بھی رگِ جاں کی حیثیت رکھتا ہے-

اسٹیم کار واش(Steam-based car washing):

ملک بھر میں پھیلے ہزاروں سروس اسٹیشنز نہ صرف میٹھے پانی کا بے دریغ ضیاع کرتے ہیں بلکہ زہریلے مواد سے ماحول کو بھی آلودہ کر رہے ہیں- بھاپ (Steam) کے ذریعے گاڑیوں کی دھلائی کا نظام اپنا کر ہم پانی کی بڑی مقدار بچانے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی کو بھی کم کر سکتے ہیں-

مصنوعی بارش(Artificial rain):

چین کی طرز پر پاکستان کو بھی ’’رین میکنگ نیٹ ورک‘‘ کی ضرورت ہے- سی پیک (CPEC) کے تحت چین کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم موسموں کو کنٹرول کرنے والی جدید ٹیکنالوجی حاصل کر سکتے ہیں- یہ ٹیکنالوجی خشک سالی کے خاتمے اور آبی ذخائر کی سطح بلند کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے-

سستے واٹر فلٹرز کی تنصیب:

ملک بھر کے آلودہ علاقوں میں کم لاگت کے واٹر فلٹرز نصب کیے جائیں تاکہ وہ غریب طبقہ جو مہنگا بوتل بند پانی خریدنے کی سکت نہیں رکھتا، صاف اور محفوظ پینے کے پانی سے مستفید ہو سکے-

جھیلوں کی بحالی:

پاکستان کی 60 جھیلیں آلودگی کے باعث اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں- ایشیا کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل ’’منچھر‘‘ سے مچھلیوں کی 14 اقسام کا ناپید ہونا ایک لمحۂ فکریہ ہے- ان جھیلوں کی بحالی سے نہ صرف سیاحت اور زراعت کو فروغ ملے گا بلکہ حیاتاتی تنوع (Biodiversity) کا بھی تحفظ ہوگا-

٭٭٭


[1]Husen, A. 2022. Environmental Pollution and Medicinal Plants. CBC Press.

https://www.routledge.com/Environmental-Pollution-and-Medicinal-Plants/Husen/p/book/9781003178866

[2]https://epd.punjab.gov.pk/water_pollution

[3](الانبیاء:30)

[4](سنن ترمذی،  رقم الحدیث:3956)

[5](سنن ابن ماجہ، کتاب الطہارۃ)

[6](ایضاً)

[7](ایضاً)

[8](المعجم الاوسط، رقم الحدیث:1749)

[9]( صحیح مسلم ،کتاب الذکر والدعا والتوبۃ)

[10](صحیح مسلم، کتاب الرقاق)

[11]UNDRR. Pollution. Water Contamination.

https://www.undrr.org/understanding-disaster-risk/terminology/hips/tl0302

[12]Int. J. Environ. Res. Public Health 2020, 17(22), 8518; https://doi.org/10.3390/ijerph17228518

[13]UNDP. The Vulnerability of Pakistan’s Water Sector to the Impacts of Climate Change: Identification of Gaps and Recommendations for Action. 2016.

https://www.pk.undp.org/content/pakistan/en/home/library/environment_energy/PakistanWaterSectorReport.html

[14]WHO, 2025. Dengue. https://www.who.int/news-room/fact-sheets/detail/dengue-and-severe-dengue

[15]Daud, M.K.; Nafees, M.; Ali, S.; Rizwan, M.; Bajwa, R.A.; Shakoor, M.B.; Arshad, M.U.; Chatha, S.A.S.; Deeba, F.; Murad, W.; et al. Drinking water quality status and contamination in Pakistan. BioMed Res. Int. 2017, 7908183

[16]Pappas, G. Pakistan and water: New pressures on global security and human health. Am. J. Public Health 2011, 101, 786–788

[17]Rind, K.H., Aslam, S., Memon, N.H. et al. Heavy Metal Concentrations in Water, Sediment, and Fish Species in Chashma Barrage, Indus River:

A Comprehensive Health Risk Assessment. Biol Trace Elem Res 203, 2226–2239 (2025).

https://doi.org/10.1007/s12011-024-04290-6

[18]Lin L, Yang H and Xu X (2022) Effects of Water Pollution on Human Health and Disease Heterogeneity: A Review. Front. Environ. Sci. 10:880246. doi: 10.3389/fenvs.2022.880246

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر