ہر دور میں صوفیاء عظام نے قرآن و حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے اپنی تصنیفات میں’’ ذکر و تصورِ اسم اللہ ذات‘ ‘پر کئی ابواب و فصول رقم فرمائی ہیں-انہوں نے اپنے اقوال و اشعار کے ذریعے سے ذکر و تصور ِ اسم اَللہُ کو عوام الناس تک پہنچایا تاکہ حضرت انسان معیتِ خداوندی و قربِ الٰہی کا مصداق بن سکے- اسم اللہ ذات سے مراد اسمِ اعظم ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذاتی اسم ہے جو صوفیا ء کرام کی تعلیمات کے مطابق اللہ کی ذات سے جدا نہیں ہے- جس کا ذکر و تصور ذاکر کو مذکور کی معیت عطا کر دیتا ہے- صوفیاء کے نزدیک ذکر و تصورِ ا سم اللہ ذات ایک زندہ اور بیدار حقیقت ہےجس سے قلب کو تسکین، روح کو انوار و تجلیات کا مشاہدہ اور معرفتِ حق حاصل ہوتی ہے-
تمام صوفیاء کرام خواہ وہ کسی بھی زبان یا علاقہ سے تعلق رکھتے ہوں ان کا مشن اور مقصد بھٹکی ہوئی ارواح کو منزلِ مقصود تک پہنچانا رہا ہے- مقالہ ہذا میں راقم نے تعلیماتِ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ میں موجود اسم اللہ ذات کے متعلق اختصار سے ایک تحقیقی جائزہ پیش کرنے کی جسارت کی ہے-
شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ کا فکری پس منظر:
شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ سندھ سے تعلق رکھنے والے دنیائے اسلام کے جلیل القدر صوفی شاعر اور عارفِ کامل تھے جن کا فکری و ادبی سرمایہ نہ صرف صوفیانہ شعری روایت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہےبلکہ برصغیر کی روحانی و تہذیبی تاریخ میں بھی ایک درخشندہ باب کی صورت میں محفوظ ہے-شاہ صاحبؒ کی شاعری میں اسمِ اللہ ذات کا ذکر بارہا ملتا ہے- ان کے نزدیک اسمِ اعظم باطنی قفل کو کھولنے والی کلید ہے- وہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی طالبِ مولیٰ ذکرِ الٰہی میں محو ہو جاتا ہے تو وہ قربِ حق میں کمال کو پہنچ جاتا ہے- شاہ صاحبؒ کا کلام دراصل ایک ایسے سالک کا روحانی سفرنامہ ہے جو اسمِ ذات کی جستجو میں مصروف رہتا ہے تو کبھی حق تعالیٰ کے وصال کی چاشنی و مٹھاس سے خود کو شیریں رکھتا ہے-
شاہ صاحبؒ کی ولادت 1689ء میں سندھ کے شہر ہالا میں ہوئی- ان کے والد، سید حبیب شاہؒ، اپنے عہد کے جید عالم اور بزرگ تھے- ابتدائی تعلیم آخوند نور محمد بھٹی سے حاصل کی جبکہ دینی اور شعری تربیت اپنے والد سے پائی- جوانی میں آپ نے گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک مٹی کے ٹیلے پر خلوت اختیار کی، جو ’بِھٹ‘ کہلاتا ہے- اسی نسبت سے انہیں ’بھِٹائی‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے- یہ ٹیلہ بعد ازاں روحانیت کا مرکز بن گیا اور وہاں زائرین و مریدین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا-حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ 1752ء میں 63 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے- ان کا مزار شریف بھٹ شاہ کے مقام پر واقع ہے-
ان کی تعلیمات کی اساس قرآنِ مجید، احادیثِ نبویؐ اور اکابرِ تصوف کے اقوال پر ہے- ان کا مجموعۂ کلام ’’شاہ جو رسالو‘‘عرفان، اخلاقیات، توحید اور محبتِ الٰہی کے خزائن سے لبریز ہے- اس رسالے کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ موسیقیت کے پیرائے میں’’سُروں‘‘ کی ترتیب پر مشتمل ہے جو شاہ صاحبؒ کی راگ اور دھنوں پر گہری بصیرت کا غماز ہے-
’’شاہ جو رسالو‘‘ تقریباً 30 سُروں پر مشتمل ہے- ان سُروں میں نہ صرف صوفیانہ اسرار و رموز کا بیان ہے بلکہ ان میں سندھ کی مقامی لوک داستانوں کو بھی روحانی معانی کے قالب میں ڈھالا گیا ہے- سسی پنوں، سوہنی ماہیوال، عمر ماروی اور لیلا چنیسر جیسی داستانوں کو انہوں نے اپنے کلام میں حکمت و عرفان کا پیرایہ عطا کیا، جب کہ واقعۂ کربلا کو انہوں نے عظمتِ قربانی کی علامت بنا کر پیش کیا- ان کے موضوعات میں حمد و نعت، محبت، امن، ضبط، ریاضت اور فطرت کی خوبصورتی کے تذکرے نمایاں ہیں-
محققین نے ان سُروں کی تعداد مختلف بیان کی ہے- کسی نے 27 کی تعداد بتائی ہے تو کسی نے 30کی تعداد اور کسی نے 32 کی تعداد لکھی ہے-
زیادہ تر محققین کا اتفاق 30 کی تعداد پر ہے -جن کی تفصیل یہ ہے:
|
|
|
تذکرہ اسم اللہ ذات اورکلام شاہ صاحبؒ سے چند منتخب ابیات :
حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی شاعری کم و بیش 30 سروں پر مشتمل ہے- جس میں سےایک سُر یَمن کَلیان ہے- اس سُر کی کل آٹھ (8) داستان ہیں- اس مقالہ کے لئے ان آٹھ داستانوں میں سے فقط داستان نمبر پانچ کا انتخاب کیا گیا - سر یَمن کَلیان کے علاوہ اگر 29 دیگر سروں (جن کے اشعار اس مقالے میں شامل نہیں ہے) میں جو اسم اعظم سے متعلقہ اشعار ہے اگر انہیں ایک جگہ جمع کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے -
آپ نے اپنے کلام میں قارئین کو درسِ وحدانیت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
|
جسي ۾ جبار جو، خفي خيمو کوڙ، |
’’جس دل میں جبار (اللہ تعالیٰ) کی عظمت کا خفیہ خیمہ ہو،
وہ اپنی زبان کو ہر وقت (چاروں پہر) پاکیزہ رکھتا ہے-سوچ اور غور و فکر کے ذریعے قرآن میں اسمِ اعظم پاتا ہے-(ایسے شخص کو) دوسرے دروازوں پر جانے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ اس کے اعمال ہی اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں۔ ‘‘-
یعنی کہ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ظاہر اور باطن کو الله پاک کی اطاعت و اتباع میں رکھے- جبار کا خیمہ لگانے سے مراد اہلِ علم یہ مراد لیتے ہیں کہ انسان کو اللہ پاک نے اپنے لئے پیدا فرمایا اور انسانی قلب اس کے انوار و تجلیات کی آماجگاہ ہے- لہٰذا قرآن مجید میں بھی الله پاک نے حضرت انسان سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے کہ وہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے-توحید کا تقاضا یہی ہے کہ ماسوا اللہ ہر شے سے دل کو پاک کرلیا جائے- اس کا ذریعہ اسم اعظم ہے جو مرشد کامل عطا فرماتا ہے-
شاہ صاحبؒ سالکِ راہِ حق کو تاکید فرماتے ہیں کہ ظاہری صورتحال کے بجائے باطنی کیفیت پر غور کرنا چاہئے- بعض سالک ظاہر میں کچھ اور نظر آتے ہیں لیکن ان کے دل اسم اعظم سے جگمگا رہے ہوتے ہیں- آپ فرماتے ہیں:
|
ظاهر ۾ زاني فڪر ۾ فنا ٿيا، |
’’وہ ظاہر میں زاہد نظرنہیں آتے ہیں حقیقت میں وہ روحانی خیال میں محو ہوتے ہیں – ان کو اندر کی سچی تعلیم کی طلب ہوتی ہے اور وہ ایک حرف حقانی والا وِرد دل میں کرتے رہتے ہیں ‘‘-
اس بیت میں شاہ صاحبؒ ایک منفرد انداز میں فکر دیتے ہیں کہ ظاہری صورت کو نہ دیکھا جائے کہ اس کے اندر کیا ہے بلکہ یہ دیکھا جائے جیسےبھڑ اور شہد کی مکھی ایک ہی پھول سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں- شہد کی مکھی شہد بنا کر شفا دیتی ہے اور ڈیمو مشکلات میں ڈالتا ہے حالانکہ دونوں دیکھنے میں ایک جیسے ہیں اور خوراک بھی ایک ہی پھول سے حاصل کرتے ہیں مگر دونوں کی فطرت الگ ہے-شاہ عبد اللطیف بھٹائی فرماتے ہیں بعض سالک ظاہر میں آپ کو زہد و تقویٰ کے ظاہری لباس میں نظر نہیں آئیں گے مگر حقیقت میں وہ فکر میں محو ہوتے ہیں –
کون سی فکر؟ وہ دراصل روحانی فکر میں محو ہوتے ہیں- وہ لوگ ہر وقت ذاتِ حق کے متلاشی ہوتے ہیں - ان کے اندر طلب مولیٰ ہوتی ہے اور ایک ہی حرف حقانی (یعنی اسم اعظم) کا اپنی سانسوں کے ذریعے دل میں ورد کرتے رہتے ہیں-
شاہ بھٹائی صاحبؒ حضرتِ انسان کے درد کو اجاگر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو اپنا مقصدِ حیات پانا چاہتے ہیں وہ عشق کی تختی یعنی اسم اللہ ذات کا تصور کرتے ہیں تاکہ انہیں معیتِ حق تعالیٰ نصیب ہوجائے-آپ فرماتے ہیں:
|
جن کي دور درد جو سبق سور پڙھڻ، |
’’جن کو باطن میں درد کے سبق کا دور نصیب ہوتا ہے وہ یہی سبق پڑھتے رہتے ہیں - وہ فکر والی تختی کو ہاتھ میں پکڑ کر خاموشی سے مطالعہ کرتے ہیں- یہ وہی ورق پڑھتے ہیں جس میں یار کے جمال کا مشاہدہ ہوتا ہے ‘‘-
شاہ لطیف سرکار فرماتے ہیں کہ عشاقانِ مولیٰ کا ایک ہی کام ہے کہ وہ اپنے عشق کا سبق ہر وقت دہراتے رہتے ہیں- ان کے ہاتھ میں اسم اللہ ذات کی تختی (تصور) ہوتی ہے جسےوہ دیکھتے ہیں اور اسم باری تعالیٰ کے جمال کا مشاہدہ کرتے ہیں- یہ وہ سبق ہے کہ جس کے مطالعے سے عشاق اپنے باطن میں اُتر کر معرفت و مشاہدہِ حق حاصل کرتے ہیں-
شاہ صاحبؒ مقصدِ حیات پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسان کا اس دنیا میں آنے کا جو اصل مقصد تھا اسے ہی آج انسان نے بھلا دیا- اسم اعظم کا تصور اور ذکر دراصل اسی مقصد کی تکمیل کرتا ہے جسے قرآن کریم نے پہلی وحی کے طور پر پیش فرمایا ہے- شاہ صاحبؒ اپنےایک بیت میں ارشاد فرماتے ہیں:
|
وسرئوم سبق، پھرين سٽ نه سنڀران، |
’’سبق میں بھول گیا، پہلی سطر بھی سنبھال نہ سکا- ابھی تک ہائے افسوس، میں اس ورق کا مطالعہ نہ کر سکا‘‘-
دراصل اس شعر کے پہلے مصرعے میں دو آیتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے- ایک آیتِ ’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْط قَالُوْا بَلٰیج شَہِدْنَا‘‘[1]اور دوسری ’’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ‘‘[2]ہے- اس شعر میں شاہ صاحبؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ آج انسان الست والے وعدے کو بھول گئے ہیں -دوسرا پہلا سبق یعنی اقراء والا بھی نہیں پڑھا- صوفیاء کرام کے نزدیک حضرتِ انسان یعنی روح اس دنیا میں آنے سے قبل لاہوت لامکان میں موجود تھی- جہاں تمام ارواح اللہ پاک کے انوار و تجلیات کا مشاہدہ کرتی تھیں اور یہی ارواح کا رزق تھا- اللہ پاک نے ارواح سے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا پالنے والا نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کہ بے شک ہم گواہی دیتے ہیں- المختصر ارواح کو اس دنیا میں امتحان کے لئے بھیجا گیا اور ان کے دلوں میں اسم اعظم رکھا گیا تاکہ ان کی محبت، صداقت اور عشق کا امتحان لیا جاسکے- شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ آج ہم وہ سب بھول بیٹھے ہیں کیونکہ روحانیت بیدار نہیں ہے- مزید فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم (ﷺ) پر پہلی وحی کا نزول ہمیں اسم اعظم پڑھنے کا ہی سبق دیتا ہے- پھر آپ افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ جس ورق کا مطالعہ کرنا تھا آج ہم نے اسی کو ترک کردیا ہے-
شاہ صاحبؒ طالبانِ حق کو اسمِ اعظم کے ذکر کی تلقین فرماتے ہوئے فرماتے ہیں:
|
سا سٽ ساريائون، الف جنهن جي اڳ ۾، |
’’وہ سطورپڑھ کہ جس کے آگے الف ہو- اس بات پر قائم رہ کہ دونوں جہان میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی مقصود نہیں- جنہوں نے یہ سامان (ہدایت) پالیا وہ رحمان تک پہنچ گئے‘‘-
شاہ صاحبؒ ’’اَللہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ‘‘[3]اور ’’اَللہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘[4] والی آیات کے مطالعے کا حکم دیتے ہیں-شاہ لطیف سرکار فرماتے ہیں کہ انسان کو ان سطور کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے جس میں اسم اعظم موجود ہو -آپ فرماتے ہیں دونوں جہاں میں ھو کے سوا کوئی مقصود نہیں ہے- جنہوں نے اسم اعظم کو اپنا ساتھی و راہبر بنالیا ان کو بارگاہِ الٰہی تک رسائی حاصل ہو گئی-
شاہ صاحبؒ اپنے بیت میں بیان کرتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرلیتا ہے اس کا نصیبہ نیکوکاروں کے ساتھ جڑ جاتا ہے- آپ فرماتے ہیں:
|
ٿيا رسيلا رحمٰن سين، سون ھين جي، |
’’وہ رحمان تک پہنچ گئے،اس سامان(اسم اعظم) کے ذریعے-پھر ان کو وصال کی وادی کی خوشنودی حاصل ہوگئی‘‘-
شاہ بھٹائی فرماتے ہیں کہ اسم اعظم وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے مالکِ حقیقی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے- جو اسم اعظم کے ذکر فکر میں محو رہتے ہیں انہیں جمعیتِ حق حاصل ہوجاتا ہے اور بباطن وہ معرفت و وصال کی خوشنودی سے سرفراز ہوجاتے ہیں- وہ اس حصار یا وادی میں پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ کامیاب اور خوش باش رہتے ہیں اور پھر ان پر کوئی غم یا خوف نہیں رہتا-
شاہ صاحبؒ ایک اور مقام پر تصورو ذکرِ اسم اللہ ذات کی تاکید کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں:
|
سٽ سا ئي سار، الف جنهن جي اڳ ۾، |
’’وہ ہی سطور پڑھ جس کے آگے الف ہو- بلاجواز دوسری کتاب کو نہ کھنگال‘‘-
اس بیت میں شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ عالم کے لئے جو مطالعۂ علم لازم ہے وہ الف کا سبق ہے- الف کے سبق سے مراد اسم اَللهُ ذات کا ذکر کرنا، اس کی فکر میں رہنا اور اس کے تصور سے کبھی روگردانی نہ کرنا ہے- صوفیاء کرام طلبِ علمی کا ہر گز انکار نہیں کرتے لیکن یہ انتباہ فرماتے ہیں کہ وہ علم جو اللہ سے دوری کا باعث بنے اس سے پرہیز بہتر ہے اور جو علم اللہ کے قرب و وصال کا ذریعہ بنے وہ ہی افضل اور لازم ہے-
اسی طرح ایک اور بیت میں فرمایا:
|
سٽ سا ئي سار، الف جنهن جي اڳ ۾، |
’’وہ ہی سطور پڑھ جن کے آگے الف ہو- میم سے یہ معلوم ہوا کہ بس وہی ورق پڑھ - بلاجواز دوسرے اوراق کو نہ کھنگال‘‘-
اس شعر میں شاہ عبداللطیف تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ اوپر والے شعر کا مفہوم سمجھاتے ہیں کہ الف پڑھنا ضروری ہے یعنی اسم اللہ ذات - آپ فرماتے ہیں کہ میم سے مراد معرفت الٰہی اور محبوب مصطفےٰ(ﷺ) کی ذات پاک ہے- آپ سالک کو ہدایت فرماتے ہیں کہ جب معرفتِ حق نصیب ہوجائے تو بلا جواز کتب گردانی کی ضرورت نہیں رہتی ہے-
حقیقتِ محمدیہ (ﷺ) اور نورِ رسالت (ﷺ) کے متعلق آپ فرماتے ہیں:
|
ميم مان معلوم ٿيو، الف آھين تون، |
’’میم سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ الف ہی ہے- اسی لئے اے میری پیاری ماں! میں نے یہ سارے اوراق چھانے‘‘-
اس شعر میں لطیف سرکار فرماتے ہیں کہ جب مجھے معرفت نصیب ہوئی تو یہ راز عیاں ہوا کہ میم کے برقعے میں الف پوشیدہ ہے اور وہ راز آپ(ﷺ)کی ذاتِ با برکات ہے- آپ فرماتے ہیں کہ اس نکتے کو پانے کی خاطر ہی میں نے تمام کتب کا مطالعہ کیا- جناب رسول اللہ (ﷺ) کی ذات مبارکہ نورِ الٰہی کا منبع ہے- آپ (ﷺ) ہی وجۂ تخلیقِ کائنات ہیں- آپ کی روح مبارکہ سے ہی تمام ارواح کو پیدا کیا گیا- آپ (ﷺ) کی ذاتِ مبارکہ سے اللہ پاک کے انوار و تجلیات کا ظہور ہوتا ہے-
علم کا مقصود و مطلوب ذاتِ اَللہُ تک رسائی ہے- اسی کے متعلق شاہ صاحب فرماتے ہیں:
|
ھيرائج ھينئن ۾، الف سندي اوڙ، |
’’دل کی سرزمین میں الف کا ہَل چلا- پھر تجھے کروڑوں کتابوں کی سمجھ آئے گی‘‘-
شاہ لطیف فرماتے ہیں اپنے سینے کی سرزمین کو ہموار کر اور دل میں ہل چلا یعنی اسم اعظم کا ذکر کر اور اس کا بیج دل کی سرزمین میں لگا- جب اس کی آبیاری ہوجائے گی تو باطن روشن ہوجائے گا اور تمام علوم منکشف ہوجائیں گے اور مخلص ذاکر کو علمِ لدنی نصیب ہوجائے گا- کیونکہ اللہ پاک نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام اسماء کا علم سکھا دیا ہے- ہر آدمی کے باطن میں سب پوشیدہ ہے- یہ عیاں اسم اعظم سے ہوتا ہے-
اسی طرح بسم اللہ شریف اور اسم اعظم کی شان میں شاہ صاحبؒ بیان فرماتے ہیں:
|
ڪوڙئين ڪتابن ۾ اکر مڙيو ئي ھيڪ، |
’’کروڑوں کتابوں میں ایک ہی حرف ہے- اگر تیرے پاس نیک نگاہ ہے تو تیرے لئے بسم اللہ ہی کافی ہے‘‘-
اس شعر میں شاہ لطیف فرماتے ہیں کہ تمام علوم اور کتب کا نچوڑ صرف ایک لفظ ہے- اگر سالک اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو پاک کرلے تواسے بسم اللہ شریف کا راز نصیب ہوجاتا ہے- بسم اللہ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کے اسم پاک سے آغاز کرنا-
شاہ صاحبؒ ایک اور بیت میں اسم اللہ ذات کی اہمیت کو اس انداز میں اجاگر فرماتے ہیں:
|
اکر پڙه الف جو، ٻيا ورق سڀ وسار، |
’’ایک ہی حرف (الف والا) پڑھ-باقی سب اوراق بھول جا- اپنے اندر کو صاف کر- تجھے (اور کچھ) پڑھنے کی ضرورت کیا ہے ‘‘-
اس شعر میں آپ ’’ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ عَلَّمَہُ الْبَیَانَ ‘‘[5] کی شرح میں فرماتے ہیں کہ انسان کو الف اللہ کا سبق پڑھنا چاہئے- باقی سب بھول جانا چاہئے- دوسرے مصرعے کے دو مطلب نکلتے ہیں- ایک اپنے اندر نفس شیطان اور دنیا کی ناجائز محبت کو اُجاڑ دینے کا حکم ہے اور روح کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کا فرمان ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنے باطن کو صاف کرنا لازم ہے تاکہ کثیر علوم پڑھنے کی ضرورت نہ پڑے- کیونکہ آدم کو الله پاک نے خود پڑھایا- روح کو وہ علم یاد ہے-
شاہ صاحبؒ اپنے مالکِ حقیقی کے حضور کرم کی عرض فرماتے ہیں اور طالبانِ مولیٰ کو اسم اللہ ذات پڑھ کراپنے باطن کے تصفیہ کی تلقین فرماتے ہیں-آپ نے اپنے ایک بیت میں ارشاد فرمایا:
|
پڙهڻ ته پروڙڻ، نه ته پڙهڻ آه مذاق، |
’’اگر پڑھتا ہے تو اس پر عمل بھی کر- مذاق کے مترادف نہ ٹھہر- محبوب کی طلب نے میرے اندر ڈیرہ لگالیا- اے پاک ذات، مجھے تو پار لگا-میں ایک بھی حرف نہیں جانتا‘‘-
شاہ صاحبؒ سالک کو نصیحت فرماتے ہیں کہ اگر تو نے علم سیکھا تو اس پر عمل پیرا ہو کہ بغیر عمل کے علم کا حصول محض مذاق ہے- آپ فرماتے ہیں کہ جس ذات نے تیرے دل میں بسیرا کیا ہے، اسی کا سبق پڑھ یعنی تصور اسم اللہ ذات کر- آپ التجا فرماتے ہیں کہ اے میرے مالک، تو ہی مجھے اُس پار لگا کہ میں در حقیقت ایک حرف بھی نہیں جانتا- علم حاصل کرنا، جاننا اور طلب کرنا نمی دانم کے مرتبے پر ہونا چاہئے کہ سوائے اللہ پاک کے انسان کچھ نہیں جانتا- جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اَللهُ بس ماسوا اللہ ہوس-
شاہ صاحبؒ اسم اعظم کے ذکر کو رات کے آدھے پہر بعد اٹھ کر کرنے کی تلقین فرماتے ہیں- آپ نے فرمایا:
|
فاذۡکروني اذکرکم، اھو سڳو سُور، |
’’اللہ فرماتا ہے تُو مجھے یاد کر، میں تجھے یاد کروں- ان سانسوں والی رسی کو چلا- رات کے آدھے پہر کے بعد اسم اعظم کا ذکر کر- یہ سانسوں والا چرخہ چلاتاکہ تُو محبوب کا مشاہدہ کرے‘‘-
شاہ سائیں اس بیت میں فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بندہ مومن کو ذکراللہ کی تاکید فرمائی ہے- طالب کو چاہئے کہ وہ اپنی دو سانسوں کو اللہ کے ذکر میں محو رکھے -اور تہجد میں ذکرو تصورِ اسم اللہ ذات کرے کہ جب عوام الناس نیند کرتے ہیں اور ہر طرف خاموشی و تاریکی ہوتی ہے- اس اسم اعظم کے ذکر سے طالب ذاتِ محبوبِ حق کا مشاہدہ کر لیتا ہے-
ذاکرِ اسم اللہ ذات کی شان بیان کرتے ہوئے شاہ عبداللطیف سرکار فرماتے ہیں:
|
تن تسبيح من مڻيون، دل دنبورو جن، |
’’انسان کا جسم تسبیح ہے، من منکا ہے اور دل تنبورہ (ساز) ہے-اس (ساز) کی تاروں کو وحدت کے ذکر میں بجا-جب وحدانیت کا راگ(ذکر) کرے گا تو پورے جسم کی رگوں میں ذکر جاری ہوجائے گا-اگر وہ سو بھی جائیں تو بھی ان کی نیند عبادت ہے‘‘-
اس شعر میں شاہ صاحبؒ نے انسان کے جسم کو ایک ساز سے تشبیہ دی ہے- آپ فرماتے ہیں کہ انسان کا تن تسبیح کی مانند ہے اور اس کا من (باطن)تسبیح کا دانہ ہے- جبکہ اس کی سانس جو دل میں آجارہی ہے وہ تنبورہ (ساز) والی تار بن جاتی ہے- جب وہ ا پنی سانسوں سے اسم اللہ ذات کا ذکر کرتا ہے تو پورے جسم کی رگوں اور ریشوں میں ذکر جاری ہوجاتا ہے-اگر ذاکر سوبھی رہا ہو تو اس کی نیند عین عبادت ہوتی ہے جیسے حضور (ﷺ) نے فرمایا’میری آنکھیں تو سوتی ہیں پر میرا دل( ہمیشہ ذکرِ الٰہی کرتا رہتا ہے) نہیں سوتا-‘
حرفِ آخر:
اگر حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام ’’شاہ جو رسالو‘‘ میں’’ تصور و ذکرِ اسم اللہ ذات‘‘ پر مکمل توجہی اور عمیق نظری سے تحقیق کی جائے تو باقاعدہ اس موضوع پر کئی جلدیں لکھی جاسکتی ہیں-ناچیز نے اس مقالہ میں چند ابیات کو قارئین کی نذر کیا ہے تاکہ شاہ صاحبؒ کے کلام میں اسم اعظم کی اہمیت کے متعلق پڑھا اور سمجھا جاسکے- اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی قلب اور آخرت سنوارنے کیلئے صوفیاء کرام کی تعلیمات کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے- آمین!
٭٭٭