دل کی پاکی اور اللہ کا قرب

دل کی پاکی اور اللہ کا قرب

دل کی پاکی اور اللہ کا قرب

مصنف: صاحبزادہ سلطان احمد علی مارچ 2026

یہ ایک سادہ مگر عمیق حقیقت ہے کہ انسان جس سمت بھی قدم بڑھاتا ہے، جس شعبے کو بھی اختیار کرتا ہے، اس میں کامیابی اور بہتر کارکردگی کیلئے بنیادی تربیت ناگزیر ہوتی ہے- علم ہو یا عدلیہ، فوج ہو یا معاشرت، محنت مزدوری ہو یا کوئی معمولی سا کام،بغیر تربیت کے کوئی ذمہ داری درست طور پر ادا نہیں کی جا سکتی-

محض کتابیں پڑھ لینا، علم جمع کر لینا یا بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کر لینا کافی نہیں ہوتا- اگر ایک شخص کو کلاس روم میں داخل ہونے کے آداب معلوم نہ ہوں، طلبہ سے گفتگو کا سلیقہ نہ آتا ہو، تو وہ کبھی اچھا استاد نہیں بن سکتا- علم کے ساتھ ساتھ اس علم کے اظہار اور اطلاق کی تربیت بھی ضروری ہے-

اسی اصول کا اطلاق اس وقت اور بھی زیادہ گہرا ہو جاتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے- اللہ تعالیٰ کے راستے میں آگے بڑھنے کیلئے بھی محض نیت کافی نہیں، بلکہ ایک خاص تربیت درکار ہوتی ہے- جیسے فوج میں شمولیت اختیار کرنے والے فرد کو براہِ راست میدانِ جنگ میں نہیں اتارا جاتا، بلکہ پہلے اسے نظم و ضبط، جسمانی چُستی، ہتھیاروں کا استعمال، صبر، برداشت اور حالات کا سامنا کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، تب کہیں جا کر وہ جنگ کیلئے تیار ہوتا ہے-یہی تربیت دراصل انسان کو اس کے مقصد کیلیے مضبوط، سنجیدہ اور باکردار بناتی ہے،چاہے وہ مقصد دنیاوی ہو یا روحانی-

جب انسان اللہ پاک کے راستے پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ کس چیز کیلئے خود کو تیار کر رہا ہے؟

اولیائے کرام کے نکتہ نظر سے اس کا جواب یہ ہوگا  کہ اگر بندہ اللہ پاک کی صفات میں غور و فکر کرے تو منزل خود بخود آسان ہو جاتی ہے- صفاتِ الٰہیہ پر تدبر انسان کے باطن کو اس سفر کے لیے ہموار کر دیتا ہے-

مثلاً: اللہ پاک کی ایک صفت ہے ’’سبحان‘‘ - اللہ سبحان ہے، یعنی اللہ پاک ہے- ایسی پاکی جو کسی اور پاکی سے مشابہت نہیں رکھتی- جس طرح اس کی رحمت، اس کا علم اور اس کی قدرت لا محدود ہیں،نہ انہیں اعداد میں سمویا جا سکتا ہے، نہ زمان و مکان کی قید میں لایا جا سکتا ہے-اسی طرح اس کی پاکی بھی ہر حد، ہر پیمانے اور ہر قید سے ماورا ہے-وہ ہر نقص سے پاک ہے، ہر عیب اور ہر کمزوری سے منزہ ہے- اسے نہ اونگھ آتی ہے، نہ نیند- کائنات کی وہ تمام کیفیات جو مخلوق کے ساتھ وابستہ ہیں، اس کی شان سے یکسر بے تعلق ہیں کیونکہ وہ سبحان ہے-

اب اگر کوئی انسان تعلق باللہ کا ارادہ کرے، یہ چاہے کہ اس کا دل ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے جڑ جائے، وہ اس کا ایسا بندہ بنے جو دنیا میں بھی اس کی رضا حاصل کرے اور آخرت میں بھی اس کے فضل و کرم کا مستحق ٹھہرے،تو جب وہ صفتِ سبحان کے ساتھ اپنا تعلق استوار کرتا ہے تو ایک لازمی تقاضا اس کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اور وہ ہے پاکیزگی-

کیونکہ وہ خود پاک ہے، اس کی بارگاہ پاک ہے، اور اس بارگاہ تک رسائی کیلئے بھی پاکی درکار ہے- ظاہر کی پاکی بھی، باطن کی پاکی بھی؛ نیت کی صفائی بھی، عمل کی طہارت بھی- یہی پاکیزگی دراصل اس ’’سفرِ الیٰ اللہ‘‘کی پہلی اور بنیادی تیاری ہے-

جب بندہ اللہ پاک کی صفتِ علیم سے اپنا تعلق استوار کرتا ہے تو علیم تک پہنچنے کیلئے علم درکار ہوتا ہے-اللہ تعالیٰ کی ہر صفت بندے سے ایک خاص تیاری کا تقاضا کرتی ہے- جس صفت کے ذریعے بندہ اللہ کی طرف بڑھتا ہے، اسی صفت سے کچھ نہ کچھ حصہ، کچھ نہ کچھ فیض حاصل کرنے کیلئے اس  کے حصول کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرنا ہوتی ہے-

یہاں ایک نہایت اہم اور فکری سوال سامنے آتا ہے کہ کیا انسان واقعی نقائص اور عیبوں سے مکمل طور پر پاک ہو سکتا ہے؟

اس کا جواب بیک وقت نظری اور فکری سطح پر قابلِ فہم بھی ہے اور گہرے غور و فکر کا متقاضی بھی ہے-فلسفیانہ اور مثالی اعتبار سےیہ بات ممکن ہے کہ انسان تمام خطاؤں سے پاک ہو سکتا ہے- حتیٰ کہ جدید مغربی فلسفہ بھی اس امکان کو تسلیم کرتا ہے کہ انسان نظریاتی(ideologically) اور فلسفیانہ طور پر (philosophically)ایک بے عیب حالت کا تصور قائم کر سکتا ہے-

لیکن عملی زندگی میں یہ کیسے ممکن ہو کہ انسان اپنے تمام نقائص سے نجات پا لے؟

مثلاً اونگھ اور نیند کو لیجیے- اونگھ ایک ضرورت بھی ہے اور ایک نقص بھی، نیند بھی ایسی ہی کیفیت ہے- کیا انسان ان سے مکمل طور پر پاک ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے نہیں- پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بندہ ان فطری نقائص سے پاک نہیں ہو سکتا تو وہ ’’السبحان‘‘جو ہر نقص سے منزہ ہے، اس کی بارگاہ میں کیسے داخل ہوگا؟ اس کے حریمِ قرب اور حریمِ ناز تک رسائی کیسے ممکن ہوگی؟

اولیائے کرام کی تعلیمات کے مطابق: اگرچہ انسان اونگھ اور نیند سے پاک نہیں ہو سکتا، مگر یہ بالکل ممکن ہے کہ اس کی اونگھ اور اس کی نیند غفلت سے پاک ہو جائے- اس لئے اسے یوں کہا جائے گا کہ اصل مسئلہ نیند نہیں، غفلت ہے- اصل نقص اونگھ نہیں، بے خبری ہے-

جس طرح کہ سُلطان العارفین  حضرت سلطان باھوؒ نے فرمایا :

ہِک جَاگن ہِک جَاگ ناں جانن  ہِک جَاگدیاں ہی سُتّے ھو
ہِک سُتیاں جَا واصِل ہوئے ہک جاگدیاں ہی مُٹھّے ھو

جب بندہ بیداری کے عالم میں اللہ تعالیٰ کا ذاکر بن جاتا ہے، اپنی ظاہری اور باطنی پاکیزگی پر ثابت قدم ہو جاتا ہے تو بعید نہیں کہ یہی کیفیت اس کے عالمِ خواب میں بھی منتقل ہو جائے اور وہ نیند میں بھی اپنے مالک کی طرف متوجہ رہے-

جب تک بندہ اس پاکی اور پاکیزگی کو حاصل نہیں کرتا، اس وقت تک وہ اپنے السبحان محبوب کے قرب کے قابل نہیں ہوتا- پاکی کا یہ سفر ایک واضح آغاز رکھتا ہے اور وہ آغاز وضو ہے- وضو محض ایک ظاہری عمل نہیں، بلکہ تطہیر کا دروازہ ہے- وضو سے گناہ جھڑتے ہیں، بدن پاک ہوتا ہے اور انسان اس قابل بنتا ہے کہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو، قیام میں کھڑا ہو کر عبادت کرے-

اسی طرح غسل اس پاکی کے بنیادی درجات میں شامل ہے- وضو اور غسل، یہ دونوں طہارت کی ابتدائی شرائط ہیں- نجاست اور طہارت کا شعور، غلاظت اور ناپاکی سے بچاؤ، اپنے جسم کو پاک رکھنا،یہ سب وہ تقاضے ہیں جو جسم سے متعلق ہیں اور قرب کے ہر طالب  کیلیے اپنانا لازم ہیں-

لیکن یہ سفر یہاں رکتا نہیں- جیسے جیسے انسان آگے بڑھتا ہے، پاکی کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے- جسم کے بعد عقل کی طہارت ضروری ہو جاتی ہے اور پھر اس سے آگے قلب کی طہارت درکار ہوتی ہے- انسان جتنا اپنے منازل اور درجات میں ترقی کرتا ہے، اسی نسبت سے اس پر عائد شرائط بھی زیادہ گہری اور سخت ہوتی چلی جاتی ہیں-

ایک عام آدمی کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ نماز کے وقت باوضو جسم کے ساتھ مسجد میں داخل ہو- لیکن ایک خطیب، واعظ، عالم، استاد یا معلم کیلئے یہ لازم ہے کہ وہ صرف جسمانی طور پر باوضو نہ ہو، بلکہ اس کی عقل بھی وضو میں ہو، یعنی فکر صاف، نیت درست اور شعور پاک ہو-

یوں ہر درجۂ ترقی کے ساتھ ذمہ داری بڑھتی ہے- علم میں اضافہ، مرتبے کی بلندی اور اثر کی وسعت،یہ سب پاکیزگی کے مزید تقاضے لے کر آتے ہیں- جو جتنا آگے بڑھتا ہے، اس کے لیے پاکی اتنی ہی زیادہ شرطِ اول بن جاتی ہے-

اگر غور کریں تو مال اموال ہوں، رہن سہن ہو، معاملات ہوں یا عبادات،زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے پاکی کی شرط نہ رکھی ہو- ہر مقام پر قربِ الٰہی کا دروازہ طہارت و پاکیزگی سے کھلتا ہے-

مثال کے طور پر قرآنِ مجید کو لیجیے- اللہ تعالیٰ نے اس کتابِ عظیم کو چھونے کے لیے بھی پاکی کی شرط عائد فرمائی- کیونکہ یہ کتاب اس پاک ذات ’’سبحان‘‘ کی ہے- بھیجنے والا بھی پاک، کتاب بھی ہر عیب اور نقص سے پاک، لانے والا جبرائیل امین بھی پاک اور جس پر نازل ہوئی وہ مبارک ہستی، وہ سینۂ اطہر بھی ہر نقص سے  پاک -اس مبارک سینہ اطہر کےلئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’اَلَمْ نَشْرَحْ  لَکَ صَدْرَکَ‘‘[1]

’’ کیا ہم نے تمہارے لئے سینہ کشادہ نہ کیا‘‘-

جس زبان سے یہ کلام پاک ادا ہوا، اس زبان کو بھی خواہشِ نفس سے پاک کر دیا-ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی ؁اِنْ  ہُوَ  اِلَّا  وَحْیٌ  یُّوْحٰی‘‘[2]

’’اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے-وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے ‘‘-

پس جب یہ کتاب اتنی پاک نسبتوں سے وابستہ ہے، اتنی پاکیزگیوں سے معمور ہے، تو  اللہ پاک نے حکم فرمایا کہ:

’’ لَّا یَمَسُّہٗٓ  اِلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ‘‘[3]

’’اسے نہ چھوئیں مگر باوضو ‘‘-

یعنی جب تم اس کتاب کو چھونے لگو، اٹھانے لگو، تھامنے لگو، تو پہلے خود کو پاک کرو-

اسی طرح ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’وَ رَبَّکَ فَکَبِّرْ ؁وَ ثِیَابَکَ فَطَہِّرْ‘‘[4]

’’اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور اپنے لباس کو پاکیزہ رکھو‘‘-

یہ صرف لباس کی بات نہیں، یہ زندگی کے ظاہر کو پاک رکھنے کا اعلان ہے-

پھر اموال کے بارے میں ارشاد فرمایا:

’’خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً  تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیْہِمْ‘‘[5]

’’اے حبیب (ﷺ)! ان کے اموال میں سے صدقہ و زکوٰۃ وصول فرمائیں، تاکہ وہ بھی پاک ہوں اور ان کے مال بھی پاک ہو جائیں‘‘-

پس رسولِ اکرم (ﷺ) کا جو تزکیہ ہے، وہ محض نفس کا تزکیہ نہیں، نہ صرف ظاہر کی اصلاح ہے، بلکہ ایک ہمہ جہت تزکیہ ہے- آپ (ﷺ) نے ان کے مال کو پاک کیا، ان کے خیالات کو پاک کیا، ان کے باطن کو پاک کیا اور ان کے ظاہر کو پاک کیا-

السبحان کے ساتھ تعلق استوار کرنے کے لیے یہ پاکی حاصل کیسے ہوتی ہے؟

یہ پاکی دو بنیادی ذریعوں سے نصیب ہوتی ہے-یاد رکھیے، ہمارا سب سے بڑا مسئلہ باہر نہیں، ہمارے اندر ہے- وہ اندرونی مسئلہ جس پر قرآنِ مجید آ کر اختتام کرتا ہے، وہ ہے وسوسہ—دل کی آلودگی، فکر کی گندگی، نیت کی ناپاکی، سینے کا گرد و غبار -

وہ چیز جو ہمیں اللہ تعالیٰ سے دور کرتی ہے، ہمارے دل میں اس کی ذات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے، بلکہ خود ہمارے اپنے ایمان کو متزلزل کرتی ہے، اسے قرآن کریم وسوسہ کہتا ہے- یہ وہ خاموش حملہ ہے جو نہ صرف خدا سے ہمارے تعلق کو کمزور کرتا ہے بلکہ ہمیں اپنی ہی ذات اور اپنے ہی ایمان پر شک میں مبتلا کر دیتا ہے-

قرآنِ مجید کی ’’سورۃ الناس‘‘میں اس حقیقت کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:

’’قُلْ  اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ؁ مَلِکِ النَّاسِ ؁ اِلٰہِ  النَّاسِ ۙ؁ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ لا  الْخَنَّاسِ؁ الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ ؁‘‘[6]

’’تم کہو میں اس کی پناہ میں آیا جو سب لوگوں کا رب ہے،سب لوگوں کا بادشاہ ہے، سب لوگوں کا خدا ہے-اس کے شر سے جو دل میں بُرے خطرے ڈالے  اور دبک رہے -وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں ‘‘-

یہاں ایک نہایت نازک نکتہ سامنے آتا ہے: وسوسے کا مقام بھی سینہ ہے اور ایمان کا مقام بھی سینہ ہے- دونوں ایک ہی جگہ ٹھہرتے ہیں، مگر دونوں کا ساتھ ٹھہرنا ممکن نہیں- جب وسوسہ داخل ہوتا ہے تو ایمان کمزور پڑ جاتا ہے اور جب ایمان مضبوط ہو جاتا ہے تو وسوسہ پسپا ہو جاتا ہے-

اسی لیے اولیائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا ایمان مستحکم رہے اور وسوسوں کی کوئی یلغار تمہارے سینے سے ایمان کو کمزور نہ کر سکے، تو اس کا ایک ہی راستہ پاکی ہے -ظاہر کی بھی اور  باطن کی بھی-

 یہ پاکی محض انفرادی کوشش سے مکمل نہیں ہوتی- اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان کسی پاکیزہ مرشدِ کامل کی تربیت میں آ کر اپنے نفس کا تزکیہ حاصل کرے، تاکہ سینہ وسوسوں سے خالی ہو اور ایمان کے لیے کشادہ ہو جائے-

اللہ پاک نے قرآن مجید میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی:

’’رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰیط  قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ط قَالَ بَلٰی وَلٰکِن لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْط قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْہُنَّ اِلَیْکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْہُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاْتِیْنَکَ سَعْیًا‘‘

’’اے میرے رب ! مجھے دکھا تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا، اللہ نے فرمایا : کیا آپ کو یقین نہیں؟ عرض کیا کیوں نہیں۔ مگر تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے ، فرمایا: چار پرندے لیں اور ان کو خود سے مانوس کرلیں (پھر ان کو ذبح کرکے) ان کے جسم کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دیجئے پھر انہیں بلائیے وہ آپ کے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے ‘‘-

اولیائے کرام کی تعلیم کے مطابق: جب بندہ حقیقی پاکی اور باطنی طہارت کا ارادہ کرتا ہے تو اسے ایک موت کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے-یہ وہی حقیقت ہے جس کی طرف قرآن کریم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اشارہ کرتا ہے- پرندے دوبارہ زندہ ہوئے، مگر اس سے پہلے وہ موت سے گزرے اور یہ موت کسی عام کے ہاتھوں نہیں، بلکہ اس کے ہاتھوں واقع ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ کے اذن سے تزکیے کی ذمہ داری سونپی گئی ہو، جس کے سینے میں نور ہو-

یہ موت جسم کی نہیں، بلکہ نفس کی موت ہے- اسی کو صوفیائے کرام نے تزکیۂ نفس کہا اور اسی کو حدیثِ نبوی (ﷺ) میں یوں بیان فرمایا گیا:

’’مُوْتُوْا قَبْلَ أَنْ تَمُوْتُوْا‘‘[7] ’’ مرنے سے پہلے مر جاؤ‘‘-

مرنے سے پہلے مرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی انا، خواہش، ضد اور نفسِ امّارہ کو ختم کر دے- جب تک یہ زندہ رہتے ہیں، دل میں نہ پاکی ٹھہرتی ہے نہ ایمان نہ اطمینان- حضرت سلطان باھوؒ نے اسی حقیقت کو بیان کیا کہ جو لوگ اس ظاہری موت سے پہلے باطنی موت کے مرحلے سے گزر جاتے   ہیں، وہی حق کے راز کو پہچانتے ہیں-

اسی فلسفہ کوآپؒ  یوں بیان کرتے ہیں :

ایہہ تَن ربّ سَچّے دا حُجرا وِچ پَا فَقیرا جَھاتی ھو
ناں کر مِنّت خَواج خِضر دی تیرے اندر آب حیاتی ھو
شوق دا دیوا بال ہَنیرے مَتاں لَبھی وَست کھَڑاتی ھو
مرن تھِیں اگے مر رہے باھوؒ جِنہاں حَق دی رمز پِچھاتی ھو

پس اصل پاکی یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کے غلبے سے نکل آئے- یہی وہ موت ہے جو زندگی عطا کرتی ہے، یہی تزکیہ ہے جو قربِ الٰہی کا دروازہ کھولتا ہے اور یہی راستہ ہے جو انسان کو ’’السبحان‘‘ کے قرب کے قابل بناتا ہے-

موت سے پہلے موت کیا ہے ؟

ایک انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ خالی وجود نہیں ہوتا- وہ جس گھر میں پیدا ہوتا ہے، جس گلی میں پلتا ہے، جس ماحول میں سانس لیتا ہے، وہی ماحول آہستہ آہستہ اس کی شخصیت بناتا ہے- اگر گھر میں تکبر تھا تو اس نے اس میں سے حصہ لے لیا- اگر پڑوس میں بد نظری رائج تھی تو وہ بھی اس کے اندر سرایت کر گئی- اگر درسگاہ میں بدکلامی اور فحش گوئی عام تھی تو اس نے وہاں سے وہ لہجہ سیکھ لیا-جس دکان سے وہ سودا خریدتا تھا، اگر وہاں بے ایمانی تھی تو اس نے بھی تھوڑا سا وہ رنگ اختیار کر لیا- کھیل کے میدان میں حسد تھا تو وہ حسد اس کے دل میں اتر آیا- سفر میں کسی درشت مزاج سے ملا تو سختی سیکھ لی، کسی نرم دل سے ملا تو نرمی لے لی- کسی کو خدا سے بے خوف دیکھا تو دل میں غفلت آئی، کسی خدا سے ڈرانے والے کو سنا تو دین کا کچھ ذوق بھی پیدا ہو گیا-

یوں اس انسان کی پوری تشکیل اسی معاشرے کے اندر ہوئی- گھر، گلی، محلہ، مدرسہ، بازار، کھیل کا میدان، سڑکیں اور راہیں،یہ سب مل کر معاشرہ بنتے ہیں-اسی معاشرے سے اس نے اچھا بھی سمیٹا، برا بھی- معاشرے کی منتشر صفات اس کے وجود میں جمع ہو گئیں اور وہ خود ایک مرکب شخصیت بن گیا-

پھر ایک وقت آتا ہے کہ اسے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ موت ایک حقیقت ہے، قبر ایک مرحلہ ہے اور اس کے بعد حساب اور حشر ہے- یہی احساس اس کے دل میں اللہ کی طرف پلٹنے کا شوق پیدا کرتا ہے- یہی وہ موڑ ہے جہاں انسان کو یہ سمجھ آتی ہے کہ جو کچھ اس نے ماحول سے سمیٹا ہے، اب اسے پرکھنا بھی ہے، سنوارنا بھی ہے، اور پاک بھی کرنا ہے-

جب انسان اپنے تزکیے کے لیے قدم اٹھاتا ہے تو اصل امتحان شروع ہوتا ہے- تکبر کو چھوڑنا، حسد سے نکلنا، بدکلامی، بدنگاہی اور فحش گوئی کو ترک کرنایہ  ہرگز آسان مرحلے  نہیں ہیں- متکبر کا عاجز بن جانا، بخیل کا سخی ہو جانا، بگڑی ہوئی عادتوں کا بدل جانا دراصل ایک موت سے گزرنا ہے-

جو کچھ انسان نے اپنے ماحول سے سمیٹا ہوتا ہے، غلط عادتیں، برے رجحانات، اخلاقی کمزوریاں، وہ سب اس کے نفس کا سرمایہ بن چکے ہوتے ہیں- یہی وہ حالت ہے جسے صوفیاء کرام نفسِ امّارہ کہتے ہیں، وہ نفس جو برائی پر اکساتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم  فرماتا ہے:

’’اِنَّ  النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوْٓءِ  اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ‘‘[8]

’’ بیشک نفس تو بُرائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے‘‘-

تزکیے میں پہلی موت یہ ہے کہ انسان برائی کو برائی مان لے، اس سے نفرت کرے اور اس پر خود کو ملامت کرے- یہاں وہ نفسِ لوّامہ میں داخل ہوتا ہے، وہ نفس جو گناہ پر ملامت کرتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’وَ لَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ‘‘[9]

’’اور اس جان کی قسم جو اپنے اوپر بہت ملامت کرے‘‘-

پھر جب کسی کامل کی صحبت اور تربیت نصیب ہوتی ہے تو نفس مزید ترقی کرتا ہے اور نفسِ ملہمہ کے درجے تک پہنچتا ہے، جہاں نیکی اور بدی میں واضح تمیز پیدا ہو جاتی ہے، جیسا کہ  اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَ تَقْوٰىہَا‘‘[10]

’’پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی‘‘-

تزکیۂ نفس کا سفر دراصل ایمان کی تدریجی ترقی کا سفر ہے، اور اس میں ہر درجہ ایک باطنی موت کے بعد حاصل ہوتا ہے-

پہلی حالت نفسِ امّارہ کی ہے، جو انسان کو برائی پر اکساتا ہے- اس سے نکلنا پہلی موت ہے،جب بندہ برائی کو برائی مان لیتا ہے اور اپنے گناہوں پر خود کو ملامت کرنے لگتا ہے- یوں وہ نفسِ لوّامہ میں داخل ہو جاتا ہے، جیسا کہ قرآن نے قسم کھا کر اس کا ذکر کیا-

دوسری موت اس وقت واقع ہوتی ہے جب بندہ ملامت سے آگے بڑھ کر نیکی اور بدی میں واضح تمیز حاصل کر لیتا ہے، بدی کو ترک اور نیکی کو اختیار کرنے لگتا ہے- یہ نفسِ ملہمہ کا درجہ ہے، جہاں اللہ  تعالیٰ بندے کے دل میں تقویٰ اور فجور کی پہچان رکھ دیتا ہے-

تیسری اور بڑی موت وہ ہے جس کے بعد زندگی کا اصل سکون نصیب ہوتا ہے- یہاں اللہ  تعالیٰ بندے کو خوش خبری دیتا ہے:

’’ یٰٓاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ؁ ارْجِعِیْٓ  اِلٰی  رَبِّکِ رَاضِیَۃً  مَّرْضِیَّۃً ‘‘[11]

’’ اے اطمینان والی جان - اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی‘‘-

یہ مقامات صرف خواص کیلئے نہیں بلکہ ہر ایمان والے، خواہ وہ مزدور ہو، تاجر ہو، ملازم ہو یا کاشتکار،اس کو کم از کم اتنا ضرور چاہیے کہ اس کا نفس اسے گناہ پر ملامت کرے اور نیکی و بدی میں فرق قائم رکھے- اور ہر مومن کے دل میں یہ آرزو ہونی چاہیے کہ اللہ  تعالیٰ اسے نفسِ مطمئنہ عطا فرمائے-

اس کے بعد دو اور بلند درجے ہیں: راضیہ اور مرضیہ-راضیہ وہ ہے جو اللہ کے ہر فیصلے پر دل سے راضی ہو جائے- یہ خوشی نہیں، اس سے بلند کیفیت ہےکیونکہ خوشی عارضی ہوتی ہے، رضا دائمی ہوتی ہے- رضا کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنی چاہت کو اللہ کی چاہت میں گم کر دے، اور ہر حال میں یہی سمجھے کہ جو ملا، وہی بہتر تھااور نفسِ مرضیہ وہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ خود راضی ہو جائے-

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) رسول اللہ (ﷺ) سے روایت بیان کرتے ہوئے فرماتے  ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے (حدیث قدسی میں)ارشاد فرمایا:

’’میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا ایسا قرب حاصل کر لیتا ہے کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں

فَإِذَا أَحْبَبْتُهٗ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِيْ يَسْمَعُ بِهٖ وَبَصَرَهُ الَّذِيْ يُبْصِرُ بِهٖ وَيَدَهُ الَّتِيْ يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِيْ يَمْشِيْ بِهَا وَإِنْ سَأَلَنِيْ لَأُعْطِيَنَّهُ،   

’’پھر جب وہ میرا محبوب بن جاتا ہےتومیں اس کے کان ہوجاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہےاور میں اس کی آنکھیں ہوجاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہےاور میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہےاور میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہےاور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور بہ ضرور عطا کرتا ہوں‘‘-

یہی نفسِ مرضیہ ہے اور یہی تزکیۂ نفس کی معراج ہے-

کاملین کے مقامات بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کے درمیان گہرا فرق ہوتا ہے- صورت ایک ہوتی ہے، نام ایک ہوتا ہے، مگر باطن، اثر اور انجام مختلف ہوتے ہیں-

صوفیانہ اصطلاح میں شراب کی مثال لیجیے- نفسِ امّارہ بھی شراب پیتا ہے اور نفسِ مرضیہ بھی- دونوں مے خوار کہلاتے ہیں، مگر دونوں کی مے ایک نہیں- نفسِ امّارہ وہ ناپاک شراب پیتا ہے جو مٹی، لکڑی، لوہے یا کسی برتن میں بھری جاتی ہے اور خواہشات کو آلودہ کرتی ہے- جبکہ نفسِ مرضیہ وہ شراب پیتا ہے جو نور کی صورت آنکھوں سے اتر کر سینوں میں منتقل ہوتی ہے اور دل کو طہارت و قرب عطا کرتی ہے- شراب دونوں ہے، مگر ایک زوال ہے اور دوسری کمال-

اردو میں اس کا سب سے مقبول اظہار اعظم چشتی صاحب  کی زُبانی ہوا ہے :

طیبہ سے منگائی جاتی ہے سینے میں چھپائی جاتی ہے
توحید کی مے ساغر سے نہیں آنکھوں سے پلائی جاتی ہے

مولانا رومیؒ اس حقیقت کو ایک  دلچسپ حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ:

’’ایک شاعر نے بادشاہ کی شان میں قصیدہ لکھا- بادشاہ خوش ہوا اور اس نے ایک ہزار اشرفیوں کا انعام مقرر کیا- اس وقت وزیر،جس کا نام حسن تھا، وہ بادشاہ سے بھی زیادہ سخی نکلا، اس نے کہا بادشاہ سلامت! اس نے اس قدر اچھا قصیدہ پڑھا ہے اس کا انعام 10 ہزار اشرفیاں کر دیں جائیں - شاعر خوش ہو کر چلا گیا-

 مدت بعد وہی شاعر دوبارہ آیا- بادشاہ وہی تھا، اس نے نیا قصیدہ اسی عمدہ طریقے سے پڑھا تو بادشاہ نے کہا کہ میرے خزانے میں سے 1000 اشرفیاں اسے پھر دے دی جائیں-اس وقت جو  وزیر تھا وہ بدل چکا تھا، اتفاق سے اس کا نام بھی حسن ہی تھا، مگر طبیعت   میں یہ وزیر پہلے کے بر عکس نہایت بخیل تھا- اس نے بادشاہ سے عرض کیا کہ بادشاہ سلامت خزانے میں اس قدر بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے ، یہ عام سا شاعر ہے اس کا انعام مجھ پہ چھوڑ دیا جائے-

وزیر نے باہر جا کر اس  شاعر کو جان کی دھمکی دی  اور کہا کہ تم بغیر میری اجازت کے اس دربار تک پہنچے کیسے؟

شاعر عام سا آدمی تھا اس نے جان بخشی کی گزارش کی تو وزیر نے کہا کہ تمہارا انعام یہی ہے کہ تمہاری جان بخشی کر دی جائے اور ایک ہزار اشرفیوں کی بجائے 25 اشرفیاں تمہیں انعام میں دی جائیں -آئندہ کوئی قصیدہ لے کر دربار میں نہ آنا- اگر  آؤ گے تو اس سے زیادہ انعام نہیں ملے گا-شاعر نے دل گرفتہ ہو کر عرض کی: اے اللہ! دونوں حسن تھے، دونوں وزیر تھے، منصب اور دربار ایک تھا،پھر اجر میں یہ فرق کیوں؟

مولانا رومیؒ فرماتے ہیں: فرق نام اور عہدے کا نہیں، سخاوت اور بخل کا تھا‘‘-

نتیجہ یہ ہے کہ بندہ جب کسی سخی، صاحبِ دل اور کامل کی نسبت اختیار کرتا ہے تو اس کا معمولی عمل بھی غیر معمولی اجر پا لیتا ہے اور جب کامل کی صحبت سے محروم ہو جائے تو بہترین عمل بھی کم وزن رہ جاتا ہے-

اسی لیے اولیاء اللہ فرماتے ہیں: لوگو! اپنے آپ کو کسی  وقت کے ابراہیم سے مانوس کر لو،اپنے نفس کے پرندے کو کسی ابراہیم کی صحبت میں دے دو- اگر وہ تمہیں توڑ بھی دے، تمھاری حالت خستہ بھی  کردے، تب بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے وہ ایک اشارے میں تمہارے مردہ دل کو زندہ کر دے گا-

صوفیاء کرام کا کہنا ہے کہ نفس کی تطہیر، باطن کی پاکیزگی اور تعلقِ سبحان کی مضبوطی کے لیے انسان کو ایسی تربیت میں رکھنا چاہیے جہاں طہارت ملے، جہاں پاکی نصیب ہو اور جہاں سے طیب غذا ملتی ہو-

اور طیب غذا کے تین درجے ہیں:

  1. جسم کے لیے رزقِ حلال-
  2. عقل کے لیے قرآنِ کریم-
  3.  خیال، سانس اور باطن کے لیے ذکرِ الٰہی-

اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرمایا ہے:

’’وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ‘‘[12]

’’اور اپنے رب کا ذکر اپنے سانسوں کے ساتھ گِڑ گِڑا کر خفیہ طریقے سے بغیر آواز نکالے صبح و شام ذکر کرو اور غافلین میں سے مت بنو ‘‘-

یوں ذکر الٰہی کرنے کے چار اصول قائم ہوئے:

  1. رب  کے نام کا ذکر ہو
  2. سانسوں میں ہو
  3. عاجزی کے ساتھ ہو
  4.  خاموشی میں ہو

اس لئے اولیاء کرام فرماتے ہیں کہ ذکر ایسا ہونا چاہیے کہ جسم دنیا کے کاموں میں مصروف رہے، مگر انسان کی اصل ہستی ذکرِ الٰہی سے غافل نہ ہو -غفلت سے بچنے کا راستہ یہی ہے کہ انسان اپنی قوتِ ارادہ اور قوتِ خیال کو ذکر کے تابع کر دے-

قوتِ ارادہ اور قوتِ خیال کیسے بروئے کار آئیں گے؟

جب ذکر کریں، تو یاد رکھیں ہونٹ اور زبان جنبش نہ کرے، آواز پیدا نہ ہو- یہ ذکر خفیہ طریقے سے بغیر آواز کے ہوگا- سانس کے ساتھ اپنی قوتِ خیال اور تصور (imagination) کو ملا کر غور و فکر (contemplation) کے ساتھ  اس طرح پڑھیں کہ سانس اندر کھینچیں، دل میں پڑھیں: ’’اَللہُ‘‘-سانس باہر نکالیں، ہونٹ، زبان اور آواز بند رکھیں، دل میں پڑھیں: ’’ھُوْ‘‘-یوں ذکر چلتا رہے:’’اَللہُ ھُوْ‘‘… اَللہُ ھُوْ‘‘…-

یہ عمل انسان کو اس مقام پر لے آتا ہے جہاں اونگھ اور نیند میں بھی دل ذکر کے ساتھ مشغول رہتا ہے- یہ عمل نہ صرف نفس کی تطہیر ہے بلکہ مکمل روحانی حفاظت اور قربِ الٰہی کی ضمانت بھی ہے-

حضرت سخی سلطان باھوؒ نے اس ذکرِ پاک کو چنبے کی بوٹی سے تشبیہ دی ہے-وہ فرماتے ہیں:

الف: اللہ چنبے دی بوٹی، میرے من وچ مرشد لائی ھو
نفی اثبات دا پانی ملیس، ہر رگے ہر جائی ھو
اندر بوٹی مشک مچایا، جاں پھلاں تے آئی ھو
جیوے مرشد کامل باھو، جیں ایہہ بوٹی لائی ھو

یہ بوٹی دراصل اسم اللہ کی خوشبو ہے- چنبیلی کے پھول کی دو خصوصیات ہیں: سفید رنگ اور خوشبو- سفید رنگ نور کی طرف اشارہ کرتا ہے اور خوشبو وجود کو منور اور معطر کر دیتی ہے- اس لئے حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں کہ میرے  مرشد نے میرےدل میں یہ ذکر باندھ کر اسے روشنی اور خوشبو سے بھر دیا ہے-

یہی وجہ ہے کہ جب یہ ذکر وجود میں تاثیر کرتا ہے تو دل کی دنیا بدل جاتی ہے- نفس اپنی امارگی، ناپاکی اور برائی سے نکل کر ملامت اور پاکیزگی کی طرف آ جاتا ہے- کیونکہ پاکیزگی سے اطمینان حاصل ہوتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ‘‘

’’ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے‘‘-

اطمینان کے بعد بندہ اپنی چاہت اللہ کی چاہت کے سپرد کر دیتا ہے- پھر وہ نہ صرف خود راضی ہوتا ہے بلکہ اللہ بھی اسے راضی کر لیتا ہے- سوال و جواب، چاہت و ارادہ سب اللہ کے حضور قبول شدہ ہو جاتے ہیں-یہ ذکر، یہ بوٹی، انسان کے قلب و جان میں روشنی، خوشبو اور طہارت پیدا کرتی ہے، اور نفس کو نفسِ مطمئنہ کی طرف لے جاتی ہے-

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کا یہی مشن  اور مقصد ہے کہ انسان کے دل میں اللہ پاک کی محبت پیدا کی جائےاور انسان کو اللہ کے ذکر کی جانب رجوع دلایا جائے- یہ وہ جوہر ہے جو اولیاء کرام کی تعلیمات کا اصل ہے، جس کا مرکز اور بنیاد یہی ہے کہ اللہ  تعالیٰ کا ذکر قائم رکھا جائے، رسول اللہ (ﷺ) کی اطاعت و اتباع اختیار کی جائےاور حضور (ﷺ) کے قرب کو طلب کیا جائے-اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمالِ صالحہ کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس راہ پر ثابت قدم رکھے-آمین!

٭٭٭


[1](الشرح:1)

[2](النجم:3-4)

[3](الواقعہ:79)

[4](المدثر:3-4)

[5](التوبہ:103)

[6](الناس:1-5)

[7](تفسیر نعیمی ج:1، ص:408-- مکتبہ اسلامیہ لاہور)

[8](یوسف:53)

[9](القیامۃ:2)

[10](الشمش:8)

[11](الفجر:27-28)

[12](الاعراف:205)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر