حضرت ابراہیم بن ادھمؒ فرماتے ہیں: ’’جب تک تُو اپنی اولاد کو یتیم او ر ازواج کو بیوہ نہیں کر لیتا ، خود کو کتے کی مانند خاک میں نہیں رُلا دیتا ؟ گھر بار کو راہِ خدا میں خرچ نہیں کر دیتا،’’ لَنْ تَنَالُواالْبِرَّ‘‘[1]کو ہر وقت مدِّنظر نہیں رکھتا، ’’یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗ‘‘[2] کا مصداق بن کرظاہر و باطن میں اللہ تعالیٰ کی دوستی حاصل نہیں کر لیتا اور اللہ تعالیٰ سے رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْاعَنْہٗ [3]کی سند حاصل نہیں کر لیتا تو تیرا یار کہاں تجھ سے راضی ہے؟ ‘‘فقیر باھُو کہتا ہے کہ راہِ فقر میں اِستقامت کی ضرورت ہے نہ کہ ہوائے نفس و کرامت کی کہ اِستقامت مرتبۂ خاص ہے اور کرامت مرتبۂ حیض و نفاس ہے- سن میرے یار ! طالب اللہ کا بھلا حیض و نفاس سے کیا کام ؟ پہلے قلب ِسلیم حاصل کر اور پھر تسلیم و رضا اختیار کر -
بیت:’’ جو لوگ تسلیم و رضا کی چھری سے ذبح ہوجاتے ہیں اُنہیں ہر لمحہ غیب سے ایک نئی زندگی عطا ہوتی رہتی ہے ‘‘-
حضور علیہ الصلوٰاۃ والسلام کا فرمان ہے: ’’جس گھر میں کتا ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے ‘‘-دل گھر کی مثل ہے، ذکر اللہ فرشتے کی مثل ہے اور نفس کتے کی مثل ہے- جو دل حُبِّ دنیا کی ظلمت میں گھر کر خطرات ِ شیطانی اور ہوائے نفسانی کی آماجگاہ بن چکا ہو اُس پر اللہ تعالیٰ کی نگاہِ رحمت نہیں پڑتی اور جس دل پر اللہ تعالیٰ کی نگاہِ رحمت نہ پڑے وہ سیاہ و گمراہ ہو کر حرص و حسد و کبر سے بھر جاتا ہے- حسد کے باعث قابیل نے ہابیل کو قتل کر ڈالا، حرص نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو دانہِ گندم کھلا کر بہشت سے نکلوا دیا اور کبر نے ابلیس کو مرتبۂ لعنت پرجا پہنچا یا-(پارہ:23، سورۃ ص:78) جو دل خانۂ ہوس بن جاتا ہے وہ ہر وقت حرص و حسداور کبر و غرور سے پُر رہتا ہے اور کمینی دنیا کی خاطر پریشان رہتا ہے- حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: ’’ایک ہی دل میں دین و دنیا جمع نہیں ہو سکتے جس طرح کہ آگ اور پانی ایک ہی برتن میں جمع نہیں ہوتے ‘‘-
بیت : ’’اگر زبان پر تسبیح جاری ہو اور دل گاؤخر (خیالات ِ دنیا)میں غرق ہو تو ایسی تسبیح کیا اثر دکھائے گی؟ ‘‘
فقیر وہ ہے جو آنکھیں بند کرے تو کونین کے اٹھارہ ہزار عالم کا مشاہدہ کرے-فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’( آپ کی)نظر نہ کج ہوئی نہ بہکی‘‘-(پارہ:27، النجم: 17) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: ’’ مَیں فقرِ مکبّ(مُنہْ کے بل گرانے والے فقر)سے اللہ کی پناہ مانگتا ہیں‘‘-حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اِس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ خدا اُس فقیری سے پناہ دے جو حصولِ دنیا کی خاطر اہل ِدنیا کے سامنے سرنگوں کر دے-جو فقیربکثرت مالِ دنیا جمع کر کے اُس پر اِستغنا کرتا ہے وہ گویا فرعون ہے، جو اُس پر بخل کرتا ہے وہ گویا قارون ہے، جو اُس پر فخر کرتا ہے وہ گویا نمرود ہے اور جو اُس کی عزت کرتا ہے وہ گویا شداد ہے- فرمانِ حق تعالیٰ ہے : ’’وہ مومنوں پر نرم ہوں گے اور کافروں پر سخت ہوں گے ، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے‘‘-(پارہ: 6، المائدہ: 54) سن تجھے اللہ تعالیٰ نے اشرف بنایا ہے جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے : بیشک ہم نے اولاد آدم کو فضیلت دی-(پاره:15، بنی اسرائیل:70) اور تجھے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں‘‘(پاره :27 ، الذّاریات: 56)-یعنی اپنی معرفت و پہچان کے لئے پیدا کیا ہے-پس عابد و عارف وہ ہے جو خود کو عبادت کے اِس درجہ پر پہنچائے-فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’ اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیے کہ آپ کے پاس پیغام اجل آجائے‘‘ (پارہ: 14، الحجر:99)- شیخ محی الدّین حضرت شاہ عبدالقادر جیلانیؒ کا قول ہے: ’’جس نے حصول الوصول کے بعد عبادت کا ارادہ بھی کیا تو بے شک اُس نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا ‘‘-[4]
سن ! جو شخص مرتبۂ عبودیت سے نکل جاتا ہے اور مرتبۂ ربوبیت پر پہنچ کر فنا فی اللہ ہو جاتا ہے وہ ہر وقت مشاہدہ ٔ جمالِ حق میں غرق رہتا ہے،ایسے میں اُ س کا عبادتِ مجاہدہ سے کیا کام؟
ابیات :(1) ’’ مَیں بے سر ہو کر بے مثل و بے مثال ذاتِ حق کے مشاہدہ میں غرق رہتا ہوں- یہ وہ مقام ہے کہ جہاں وجود و وصال کا نام ہی باقی نہیں رہتا‘‘-
(2) ’’جب تک تُو اپنی ہستی کو فنا نہیں کر دیتا سراسر ہوائے نفس کا قیدی بنا رہے گا، ایسے میں تُو لِیْ مَعَ اللّٰہِ کے مرتبے تک کہاں پہنچ سکتا ہے؟‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے: ’’ مَیں جس چیز کو بھی دیکھتا ہوں اُس میں اللہ ہی اللہ دیکھتا ہوں کہ ہر چیز کی عین (حقیقت)اللہ ہی ہے‘‘-حدیث ِ قدسی میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے : ’’ مَیں اپنے بندے کے ساتھ اُس کے گمان کے مطابق پیش آتا ہوں،اب میرا بندہ جیسا چاہے میرے ساتھ گمان رکھے‘‘-سو جب وہ میری ذات کا گمان اپنی ذات کے اندر کرتا ہے تو بے شک وہ مجھے پا لیتا ہے-فرمانِ حق تعالیٰ ہے : ’’اور خود تمہارے نفسوں میں بھی (نشانیاں) ہیں تو کیا تم نہیں دیکھتے‘‘ (پارہ:27، الذاریات:21)- البتہ اِس راہ میں صرف اِنسان ہی چل سکتا ہے کہ اِنسان اگر چشمِ بصیرت کھول لے تو ہر وقت ذاتِ حق کے مشاہدہ میں غرق رہتا ہے ورنہ حدیث ِ قدسی میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے : ’’خلقت کے لحاظ سے تو گدھے اور اِنسان کو ایک ہی جنس (اربعہ عناصر)سے پیدا کیا گیا ہے‘‘-جس شخص کو معرفت ِ حق تعالیٰ حاصل نہیں اور وہ سلک سلوکِ تصوف کو نہیں جانتا ، اُس نے چاہے ہزاروں کتابیں کیوں نہ پڑھ رکھی ہوں وہ جاہل ہی رہتا ہے کہ اُس کی زبان زندہ مگر دل مردہ رہتا ہے اور وہ محض علم کا بوجھ اُٹھانے والا جانور ہی ہوتا ہے-فرما نِ حق تعالیٰ ہے: ’’اور ہم (اس کی) شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں‘‘ -(پارہ:26، سورۃ ق:16)
(جاری ہے)
[1]تم ہرگز نیکی نہیں حاصل کرسکو گے حتی کہ اس چیز سے خرچ کرو جس کو تم پسند کرتے ہو -(پارہ:4، آلِ عمران:92)
[2](ایسی قوم)جس سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کرے گی -(پارہ:6، المائدہ: 54)
[3]اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے-(پارہ:30، البینات:8)
[4]طالب ِمولیٰ جب تمام منازلِ سلوک طے کر کے غرق فنا فی اللہ ہو کر بقا باللہ ہو جاتا ہے تو اُس کی بشریت فنا ہو جاتی ہے اور وہ دوئی سے نکل کر یکتائی میں پہنچ جاتا ہے، یعنی عبودیت سے نکل کر ربوبیت میں پہنچ جاتا ہے- اِ س مقام پر باطن میں اعمالِ بندگی کا خیال بھی کفر و شرک باللہ ہوتا ہے- لیکن ظاہر میں اِس قدر ہوشیار ہوتا ہے کہ اعمالِ شریعت کے فرض و واجب و سنّت و مستحب کی ادائیگی میں ہرگز کوتاہی نہیں کرتا- الغرض یہ سراسر باطن کی ایک کیفیت ہے، اِس کا اِطلاق ظاہر پر نہیں ہوتا- اگر کوئی اِس قول کی آڑ لے کر اعمالِ شریعت ترک کرتا ہے تو وہ جھوٹا و منافق و راہزن و زندیق ہے- نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْھَا-