اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
’’قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْرًا‘‘
’’آپ کہیے کہ اگر تمام انسان اور جن مل کر اس قرآن کی مثل لانا چاہیں تو وہ اس کی مثل نہیں لاسکیں گے خواوہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں‘‘-(الاسراء:88)
رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:’’تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھا س کو پالیا ایک یہ اللہ اور اس کا رسول (ﷺ) تما م چیزوں سے زیادہ عزیز ہوں اوریہ آدمی کسی سے محبت کرے تو محض اللہ عزوجل کی رضا کے لیے کرے اوریہ کہ اسے کفر میں لوٹ جانا اتنا ناپسند ہو جیسے آگ میں ڈالا جانا‘‘-(صحیح البخاری ،کتاب الایمان)
فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :
عارف اللہ عزوجل کے دروازے پہ کھڑا ہوتا ہے ،اللہ تعالیٰ کی معرفت کا علم اس کے سپر د کردیا گیا ہے اور اوراسے ایسے حالات سے خبردار کردیا گیا ہے کہ دوسرےاس سے واقف نہیں -اسے عطا کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ عطا کرتا ہے، اسے روک لینے کا حکم ہوتا ہے تو وہ روک لیتا ہے کھانے کا امرہوتا ہے تو وہ کھالیتا ہے، بھوکا رہنےکا حکم ہوتا ہے تووہ بھوکا رہتا ہے اسے کسی پر توجہ کرنے کا حکم ہوتا ہےاور کسی سے اعراض کرنے کا ،کسی سے نذر لینے کا حکم ہوتا ہے کسی پر خرچ کرنے کا ،اس کی مدد کرنے والا منصور ہوتا ہے اسے حقیر سمجھنے والا رسوا ہوتا ہے -اہل اللہ تمہاری طرف محض تمہارے لیے تمہارے فائد ے کیلئے آتے ہیں انہیں اپنی کوئی حاجت نہیں ہوتی، خلقت میں وہ کسی کے محتاج نہیں، وہ مخلوق کی رسیوں میں بل دیتے ہیں وہ ان کی عمارتوں کو مضبوط کرتے ہیں،ان پر شفقت و مہربانی کرتے ہیں، وہ دنیا وآخرت میں خدائی سردار ہیں- (فتح الربانی)
فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:
ایہو نفس اساڈا بیلی جو نال اساڈے سِدّھا ھُو
زاہد عالم آن ط نوائے جتھے ٹکڑا ویکھے تھِدّھا ھُو
جو کوئی اسدی کرے سواری اس نام اللہ دا لدّھا ھُو
راہ فقر دا مشکل باھُوؔؒ گھر مانہ سیرا ردّھا ھُو (ابیاتِ باھو)
فرمان قائداعظم محمد علی جناح ؒ :
ایمان ، اتحاد، تنظیم
’’دنیا کے انصاف اورعدل کے الفاظ نہایت خوش آئند محسوس ہوتے ہیں لیکن فی الحقیقت دنیا میں کیا ہورہا ہے؟ نہ کہیں عدل ہے اورنہ دوستی -جب آپ خود اتنے طاقتور ہوں کہ اپنے پیروں پر خود کھڑے ہوسکیں تو آپ کے پاس ضرورت سے زیادہ دوست ہوں گے اگر ایسا نہیں ہے تو نتائج سنگین ہوں گے یہ طاقت کی سیاست ہے جس کے بغیر آپ ایک قدم بھی نہیں چل سکتے‘‘ (دی ڈان ، 15 جولائی،1946ء)
فرمان علامہ محمد اقبالؒ:
بتان شعوب و قبائل کو توڑ
رسوم کُہن کے سلاسل کو توڑ
یہی دین مُحکم، یہی فتح باب
کہ دنیا میں توحید ہو بے حجاب (بالِ جبریل)