عین الفقر: قسط7

عین الفقر: قسط7

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد مبارک ہے: ’’اِستغراقِ مع اللہ میں میری ایک حالت ایسی بھی ہوتی ہے کہ وہاں نہ کسی مقرب فرشتے کی رسائی ہے اور نہ ہی کسی نبی ٔ مرسل کی ‘‘-[1]

 فرمانِ حق تعالیٰ ہے: (اے رسول مکرم ! ) ہم نے آپ کیلئے روشن فتح عطا فرمائی تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کے سبب سے گناہ بخشے، آپ کے اگلوں کے اور آپ کے پچھلوں کے‘‘- [2] جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اِس مقام پر پہنچے تو اتنی کثرت سے تعبد و شکرانہ ادا کرنے لگے کہ کسی اور کی کیامجال؟ فرمایا کرتے تھے: ’’کیا مَیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟‘‘ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: ’’ہر وہ باطن باطل ہے جو ظاہر کے خلاف ہے‘‘-

بیت: ’’پہلے علم حاصل کر پھر میدانِ معرفت میں قدم رکھ کہ حضورِ حق میں جاہلوں کی کوئی گنجائش نہیں‘‘-

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: ’’جو شخص بغیر علم کے زہد و ریاضت اختیار کرتا ہے وہ آخر کا ر پاگل ہو کر مرتا ہے یا کفر کی موت مرتا ہے‘‘-

بیت: ’’علمِ حق روشن نور ہے ، اُس کی مثل اور کوئی نور نہیں، علم ہو تو باعمل ورنہ بے عمل علم کی ضرورت نہیں جو محض گدھے پر لدے ہوئے بوجھ کی مثل ہے‘‘-

فرمانِ حق تعالیٰ ہے : ’’سو جو ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کا صلہ دیکھے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ اس کا عذاب دیکھے گا‘‘- [3]

(جاری ہے)


[1]حدیث مبارک میں آیا ہے : ’’ایک رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اُٹھ کر گھر سے نکلے- حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا)تجسس میں اُن کے تعاقب میں چلی گئیں، دیکھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جنت البقیع میں جا کر بیٹھ گئے ہیں - حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) واپس پلٹنے لگیں تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُن کی آہٹ پا کر فرمایا: ’’کون ہے؟‘‘حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے عرض کی: ’’مَیں عائشہ ہوں‘‘- فرمایا: ’’کون عائشہ؟‘‘عرض کی : ’’ابو بکر کی بیٹی‘‘-فرمایا: ’’کون ابو بکر؟‘‘عرض کی : ’’محمد (ﷺ) کا غلام‘‘- فرمایا: ’’کون محمد (ﷺ)؟‘‘ اِس پر حضرت عائشہ صدیقہؓ خاموش ہوکر واپس پلٹ گئیں-حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی واپسی پر اِس معاملہ پر بات ہوئی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: ’’لِیْ مَعَ اللّٰہِ وَقْتٌ لَّا یَسَعُ فِیْہِ مَلَکٌ مُّقَرَّبٌ وَّ لَانَبِیٌّ مُّرْسَلٌ‘‘

’’اللہ تعالیٰ کے ساتھ میری ایک حالت ایسی بھی ہوتی ہے کہ جہاں کسی مقرب فرشتے یا نبی ٔمرسل کی بھی گنجائش نہیں ہوتی‘‘-

[2](پارہ:26، الفتح:1-2)

[3](پارہ: 30، الزلزال :7-8)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر