اکیسویں صدی کو 'میڈیا اور مارکیٹ ' کی صدی کہا جاتا ہے- جدید دُنیا میں اشتہارات صرف مصنوعات کی تشہیر کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ انسانی شعور، خواہشات، ثقافت اور سماجی اقدار کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر تے ہیں- جدید سرمایہ دارانہ نظام میں اشتہارات نے بذریعہ روایتی و سوشل میڈیا انسانی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو متاثر کیا ہے- اِس نظام نے میڈیا اور اشتہارات کو نا صرف کنزیومرازم (Consumerism) کے فرو غ کا مؤثر ہتھیار بنایا، بلکہ انسان کی شناخت کا پیمانہ اُس کی خریداری ، برانڈ ز اور ظاہری معیاراتِ کو قرار دیا ہے- اس پورے نظام میں عورت ’’صنف نازک‘‘ کو اکثر ایک کموڈٹی (Commodity) یا تجارتی شے کے طور پر پیش کرتے ہوئے اشتہاری معیشت کا مرکزی عنصر بنا دیا ہے، جہاں اس کی شخصیت، جسم، جذبات اور نسوانیت کو مصنوعات کی فروخت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے- یہ اشتہاری طریقہ کار نا صرف اخلاقی یا ثقافتی سطح پر بلکہ معاشی، نفسیاتی،سماجی، سیاسی، نظریاتی، ڈیجیٹل اور تہذیبی سطحوں پر اثر انداز ہوتا ہے-
یہ درست ہے کہ صنفِ نازک کو اللہ نے جذبات ، نسوانیت اور خوبصورتی سے نوازا ہے مگر اس کے ساتھ قدرت نے اُسے قائدانہ صلاحیتوں ، ذہانت اور ہنر کی دولت سے بھی نوازا ہے - کبھی سوچیں کہ کنزیومرازم میں عورت کی ذہانت و قیادت کے ان پہلؤں کو اجاگر کیوں نہیں کیا جاتا ؟ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ملکہ بلقیس کی خوبصورتی اور جذبات سے زیادہ اس کی ذہانت ، قوتِ فیصلہ اور معاملہ فہمی کو اُجاگر کیا ہے - حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی منصوبہ بندی، Risk لینے کی صلاحیت اور با اعتماد شخصیت کو نمایاں کیا ہے - حضرت شعیب علیہ السلام کی صاحبزادیوں میں مردم شناسی ، ہمت و محنت اور حیا و شرافت کو نمایاں کیا ہے -
کنزیومرازم: سرمایہ دارانہ کلچر کی پیداوار
کنزیومرازم ایک ایسا معاشی و سماجی رجحان ہے جس میں انسان کے اندر ضرورت سے زائد خواہشات پیدا کی جاتی ہیں تاکہ مارکیٹ اور سرمایہ دارانہ نظام مسلسل منافع حاصل کر سکے- اس کا آغاز صنعتی انقلاب کے بعد ہوا جب بڑے پیمانے پر مصنوعات تیار ہونا شروع ہوئیں- اس نظام میں ہر پیداوار کو لوگوں کی ضرورت بنا کر اشتہار بازی کی جاتی ہے جو ایک خاص طریقے سے طبقاتی تقسیم کو فروغ دیتی ہے- میڈیا اور اشتہارات لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ:
- خوبصورتی مخصوص برانڈ سے وابسطہ ہے
- کامیابی مہنگی اشیاء سے جُڑی ہے
- خوشی خریداری سے حاصل ہوتی ہے
- سماجی مقام ظاہری لائف سٹائل سے طے ہوتا ہے
یہی وجہ ہے کہ جدید اشتہارات میں انسانی جذبات، نفسیات اور خصوصاً خواتین کی ظاہری کشش کو استعمال کرتے ہوئے اشیاء فروخت کی جاتی ہیں-
کموڈیفکیشن (Commodification) کیا ہے؟
کموڈیفکیشن سے مراد کسی انسان، سماجی قدر یا جذبے کو خرید و فروخت کی شے کے طور پر پیش کرنا- سرمایہ دارانہ معیشت کو منافع برقرار رکھنے کے لئے مستقل صارفین درکار تھے- اِس مقصد کے لئے عورت کے حسن، جسم، جذبات اور نسوانیت کو مصنوعات فروخت کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جِسے عورت کی ’’ کموڈیفکیشن‘‘ کہا جاتا ہے- کارل مارکس کے نظریات کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام ہر چیز کو منافع میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، حتٰی کہ انسانی جسم اور اقدار بھی اس عمل سے محفوظ نہیں رہتے اور مارکیٹ کا حصہ بن جاتے ہیں- مارکس کے مطابق سرمایہ داری میں مصنوعات صرف اشیاء نہیں رہتیں بلکہ سماجی طاقت اور شناخت کی علامت بن جاتی ہیں- تھیوڈر ایڈورنو (Theodor Adorno) اور میکس ہارخیمر (Max Horkheimer) نے کلچرل انڈسٹری (Cultural Industry) کا تصور پیش کیا ، جس کے مطابق میڈیا عوام کو تنقیدی شعور دینے کی بجائے انہیں صارفین (Consumer) میں تبدیل کرتا ہے- اس کے علاوہ:
- میڈیا مصنوعی خواہشات پیدا کرتا ہے
- تفریح اور اشتہارات ذہنی کنٹرول کا ذریعہ بنتے ہیں
- عورت کو منافع کے لئے استعمال کیا جاتا ہے
مزید برآں! فیمینسٹ (Feminist)نظریات کے مطابق عورت کو اکثر کمزور، تابع، جذباتی اور جنسی کشش کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے- لورا ملوی (Laura Mulvey) کے مطابق میڈیا عورت کو مرد کی نظر (Male Gaze) سے پیش کرتا ہے، جہاں عورت ’’دیکھنے کی شے‘‘ بن جاتی ہے- جین بڈرلرڈ (Jean Baudrillard) کے مطابق جدید میڈیا ایک ہائپر ریئلیٹی (Hyperreality) پیدا کرتا ہے جہاں حقیقت اور مصنوعی دُنیا میں فرق ختم ہو جاتا ہے-مثلاً :
- فلٹر شدہ خوبصورتی
- اے آئی بیوٹی سٹینڈرڈز (Standards)
- انسٹا گرام لائف سٹائل
اسی طرح ڈیجیٹل دور میں خواتین تجارتی فیشن، بیوٹی سمبل، انفلیونسر پروڈکٹ اور بصری کشش کے طور پر استعمال ہوتی ہیں- 2025ء میں عالمی اشتہاری صنعت کی مالیت تقریباً 1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں بیوٹی انڈسٹری، فیشن انڈسٹری، کاسمیٹک برینڈز اور سوشل میڈیا ایڈورٹائزنگ نے اہم کر دار ادا کیا- عالمی اشتہاری صنعت میں ’’Sex Sells‘‘ کا نظریہ طویل عرصے سے استعمال ہو رہا ہے - تحقیقی مطالعوں کے مطابق جنسی نوعیت کے اشتہارات وقتی توجہ تو حاصل کرتے ہیں لیکن اکثر خواتین و حضرات میں منفی نفسیاتی اثرات پیدا کرتے ہیں جو معاشرتی بگاڑ کی ایک بنیادی وجہ ہیں-
بیوٹی انڈسٹری اور صنفی دباؤ:
بیوٹی انڈسٹری ،خواتین میں مسلسل عمر بڑھنے کا خوف، جلد کے ڈھلکنے کا ڈر، جسم کے لاغر ہونے کا خوف پیدا کرتے ہوئے اپنے اہداف (زیادہ منافع) کا حصول ممکن بناتی ہے- تحقیق کے مطابق بیوٹی انڈسٹری کے اشتہارات کی وجہ سے :
- نوجوان لڑکیوں میں منفی نفسیاتی و نظریاتی اثرات پیدا ہوتے ہیں
- کم و بیش 80 فیصد خواتین اپنی جسمانی ساخت سے مکمل مطمئن نہیں ہوتیں
- کاسمیٹک سرجری کا رجحان سوشل میڈیا کے بعد کئی گنا بڑھ چکا ہے
مندرجہ بالا وجوہات کی وجہ سے خواتین اپنی مادی زندگی، لباس،غیر حقیقی خوبصورتی، جسمانی ساخت اور لائف سٹائل کو مسلسل ڈسپلے کرنے کے دباؤ کا شکار نظر آتی ہیں- سن 2024 ء کی یونیسکو (UNESCO) کی ایک رپورٹ کے مطابق انسٹاگرام (Instagram) اور ٹک ٹاک (TikTok) جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز غیر حقیقی خوبصورتی کے معیارات کو فروغ دیتے ہیں- اسی رپورٹ کے مطابق، 32 فیصد لڑکیوں نے اعتراف کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال نے ان میں جسمانی احساس کمتری کو بڑھایا ہے- جبکہ سائبر بُلیئنگ کا شکار ہونے والی لڑکیوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے- یہ کلچر سیلف ورتھ (Self-worth) کو لائیکس (Likes)، فالورز (Followers) اور کمنٹس (Comments) سے منسلک کرتا ہے جو نا صرف نوجوان لڑکیوں بلکہ لڑکوں میں بھی ذِہنی دباؤ بڑھانے کا باعث بنتا ہے-
مزید برآں! سوشل میڈیا الگورتھمز انسانی نفسیات کو استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا یوزر کو اس کی چوائس کے مطابق زیادہ سے زیادہ مواد دکھاتے ہیں جو اس میں نفسیاتی دباؤ بڑھاتے ہوئے غیر حقیقی فیشن، جدت پسندی اور فحاشی کے طرف مائل کرنے کا موجب بنتے ہیں- جنوبی ایشیا ء میں گوری رنگت کو خوبصورتی سے جوڑنے کا رجحان نو آبادیاتی ذہنیت اور اشتہاری ثقافت کا نتیجہ ہے- جس کی وجہ سے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں احساس کمتری، رنگ و نسل پر امتیاز اور ذہنی انتشار بڑھ رہا ہے- تحقیق کے مطابق اس برینڈ بازی نے کم عمری میں میک اپ کلچر، کم کھانے کے رواج اورسماجی موازنے کو بڑھاوا دیا ہے- یہ اشتہار بازی مقامی ثقافتوں اور شناخت کو کمزور کرتے ہوئے، مغربی نظریات کو ہوا دیتی ہے جس کی وجہ سے معاشرہ، اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے-اِس دِکھاوے کی زندگی نے جہاں لوگوں پر معاشی دباؤ بڑھایا ہے وہیں معاشرتی اقدار کو بھی ٹھیس پہنچی ہے- لوگوں میں ایک ہیجان کی کیفیت طاری ہے جو کسی بھی طرح سے صحت مند اور ذہن ساز معاشرے کی اقدار نہیں- اشتہار بازی کے اس کلچر نے بے راہ روی، بے حیائی، عریانی اور فحش نظریات کو تقویت بخشی ہے، جو کہ سماجی رویوں میں تبدیلی کا ایک بنیادی موجب ہے-
اسلامی، اخلاقی او رتہذیبی پہلو:
اسلام عورت کو عزت دار انسان، باوقار شخصیت، سماجی شریک اور اخلاقی وجود کے طور پر دیکھتا ہے، نا کہ تجارتی شے کے طور پر- اسلامی اُصول، حیا، احترامِ انسانیت، عدل، اعتدال کا درس دیتے ہوئے استحصال کی ممانعت کرتے ہیں- اسی طرح،اسلام عورت کے تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کو منع کرتے ہوئے غیر اخلاقی تشہیری حربوں کو بھی روکتا ہے-
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اشتہارات بنائے جائیں جو عور ت کی ذہانت، قیادت، صلاحیت اور پیشہ ورانہ کردار کو اجاگر کریں- تعلیمی اداروں میں میڈیا لٹریسی متعارف کروائی جائے تاکہ نوجوان:
- تشہیری حکمتِ عملیاں سمجھ سکیں
- کنزیومرازم کے اثرات سے آگاہ ہوں
- تنقیدی سوچ پیدا کر سکیں
- غیر اخلاقی اشتہارات کا بائیکارٹ کریں
- صنفی توازن پر یقین رکھیں
- استحصالی مواد کے خلاف قانون سازی ضروری عمل ہے
حاصل کلام:
کنزیومرازم اور سرمایہ دارانہ اشتہاری نظام نے عورت کو محض ایک ’’کموڈٹی‘‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے- اشتہارات نا صرف مصنوعات فروخت کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ سماجی شعور اور صنفی تصورات کو بھی تشکیل دیتے ہیں جو کہ معاشرتی عدم مساوات، ذہنی دباؤ اور مادیت پسندی کو فروغ دیتے ہیں- اس لئے ضروری ہے کہ، میڈیا ، ریاست، تعلیمی ادارے اور معاشرہ مل کر ایسا اخلاقی اور متوازن میڈیا کلچر تشکیل دیں جہاں ہر انسان کو مثبت اور باوقار شہری کے طور پر رہنے کی مکمل آزادی ہو- حکومتی سطح پر اشتہاری انڈسٹری کے لئے باقاعدہ ایتھیکل گائیڈ لائنز (Ethical Guidelines) ، مرد و خواتین کی عزت و عصمت کےتحفظ کیلئے قوانین اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی باقاعدہ نگرانی بہت حد تک ان غیر موزوں، تحقیر امیز اور فحش مواد کی روک تھام میں کردار ادا کر سکتے ہیں- ایک متوازن، اخلاقی اور انسانی اصولوں پر مبنی ایسا اخلاقی ڈھانچہ درکار ہے جو عورت کو ’’جسم‘‘ یا ’’پروڈکٹ ‘‘ نہیں بلکہ باوقار ، خود مختار، اور مکمل انسان کے طور پر پیش کرے-
٭٭٭