مغربی بنگال میں ہندوتواسیاست کا عروج: ایک طائرانہ نظر

مغربی بنگال میں ہندوتواسیاست کا عروج: ایک طائرانہ نظر

مغربی بنگال میں ہندوتواسیاست کا عروج: ایک طائرانہ نظر

مصنف: محمد محبوب جولائی 2026

بھارتی ریاست مغربی بنگال، جس کی بنگلہ دیش کے ساتھ تقریباً 2200 کلومیٹر سے زائد سرحد ہے اور 100 ملین (27 فیصد مسلم) آبادی پر مشتمل ہے، بھارت کی اہم ترین ریاستوں میں سے ایک ہے- 4 مئی 2026ء کو، اس ریاست نے بھارت کی آزادی کے بعد اپنی سیاسی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی- جب اپریل 2026 ءمیں منعقد ہونے والے ریاستی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا، تو بھارتی جنتا پارٹی نے ایک بھاری کامیابی حاصل کرتے ہوئے 294 میں سے 207 نشستیں حاصل کیں اور مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا- مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی فتح کے بعد، ریاست، اپنے اہم سیاسی دور اور شہری بدامنی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے- یہ ریاست اُن چند ریاستوں میں سے ایک تھی جس نے بھارتیہ جنتا پارٹی  کے خلاف مزاحمت کی تھی اور اس جماعت نے کبھی مغربی بنگال ریاست میں کامیابی حاصل نہیں کی تھی-

انتخابات کے بعد مغربی بنگال میں کانگریس سمیت مختلف جماعتوں، بالخصوص ترنمول کانگریس نے  مرکزی حکومت پر سیاسی جبر اور پولیٹکل انجینئرنگ کے الزامات عائد کئے- ان الزامات میں اولاً، الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ذریعے، سیاسی انجینئرنگ کے تحت، اسپیشل انٹینسو ریویژن کو لاگو کر کے مجموعی طور پر 9.1 ملین ووٹرز کو انتخابی فہرستوں سے خارج کر دیا گیا، جو کہ رائے دہندگان کا 10 فیصد سے زیادہ بنتا ہے- بنگال الیکشن کے دوران 27 لاکھ کے قریب افراد کے ووٹ ڈالنے کے متعلق حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا اور وہ تمام افراد حق رائے دہی سے محروم رہے- الیکشن کمیشن کے اس فیصلے نے غیر متناسب طور پر مسلمانوں، تارک وطن مزدوروں اور غریب ووٹرز کو نشانہ بنایا- دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اضلاع کی اکثریت میں جہاں بی جے پی دہائیوں سے جدوجہد کر رہی تھی، الیکشن کمیشن کے اس فیصلے سے سب سے زیادہ لوگ متاثر انہی علاقوں میں ہوئے ہیں-

دی گارڈین کے مطابق، ناقدین نے اس عمل کو ایک ’’بے خون سیاسی نسل کشی‘‘ اور اقلیتوں کو بڑے پیمانے پر حق رائے دہی سے محروم کرنے سے تعبیر کیا ہے- اس سے قبل، انہی ہتھکنڈوں سے بی جے پی، بہار سمیت 9 سے زائد ریاستوں اور تین وفاقی علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کر چکی تھی- ریاست بہار میں 65 لاکھ لوگوں کو خارج کیا گیا- اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم اکثریت والے اضلاع الیکشن کمیشن کے فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جو مسلمانوں کو سیاسی عمل سے الگ تھلگ کرنے کے لیے بی جے پی کے طرز عمل کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے- (SABAR) انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کے مطابق، نندی گرام اور بھوانی پور کے کلیدی حلقوں کے اندر ووٹرز کا اخراج، ایک واضح فرقہ وارانہ عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے، ان دونوں حلقوں سے بی جے پی رہنما سوویندو ادھیکاری نے الیکشن لڑا تھا- نندی گرام میں ایک بڑی تعداد میں مسلمانوں کی آبادی جو 25 فیصد ہونے کے باوجود، انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے ناموں میں ان کا حصہ 95 فیصد سے زیادہ تھا-

اسی طرح بھوانی پور میں، جہاں یہ برادری آبادی کا 20 فیصد ہے، وہاں کل اخراج کا غیر متناسب طور پر 40 فیصد نمائندگی بنتی تھی- یہ اعداد و شمار انتخابی معرکے والے علاقوں میں اقلیتی ووٹرز پر ایک ٹارگٹڈ انتظامی توجہ کی نشاندہی کرتے ہیں، خاص طور پر بھوانی پور میں، جہاں ادھیکاری براہ راست ممتا بنرجی کو چیلنج کر رہے تھے-

بھارت کے دیگر حصوں کی طرح، مغربی بنگال میں بھی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو اکثر ’’دوسرے درجے کے شہری‘‘ کے درجے پر دھکیل دیا گیا ہے، کیونکہ وہ ایک ایسے منظر نامے میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں ان کی قومی وفاداری پر مذہبی شناخت کے زاویے سے مسلسل سوالات اٹھائے جاتے ہیں- اس بات کا زیادہ سے زیادہ امکان ہے کہ نئے نظام کے تحت باقاعدہ ادارہ جاتی نظام کے ذریعے پسماندگی پالیسیوں میں جھلکے گی، جیسا کہ ووٹر لسٹوں کے حالیہ انتظامی اخراج اور ’’بیرونی لوگوں‘‘ کے بیانیے سے ظاہر ہے، جو ایک ایسا ساختی متبادل پیدا کرتے ہیں جو اقلیتوں کی مساوی نمائندگی اور سماجی تحفظ تک رسائی کو محدود کرتا ہے-

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی 2026ء کی رپورٹ میں اپوزیشن کے سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے جانبداری کا حوالہ دیا، جس میں انتخابی فہرستوں میں مبینہ ووٹر فراڈ اور تضادات کے الزامات شامل ہیں-

مودی اور بی جے پی کی قیادت نے، مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران، اکثر مغربی بنگال کے مسلمانوں کو ’’گھس بیٹھیے‘‘  قرار دیا، جو کہ ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو بڑے پیمانے پر بی جے پی صدیوں سے یہاں آباد مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کیلئے استعمال کرتی آ رہی ہے- اس اصطلاح کو بنگالی مسلمانوں کے ساتھ جوڑ دینا انتہائی غلط ہے- بھارتی وزیر داخلہ اَمِیت شاہ نے اس عمل کو انتخابی فہرست کی تطہیر (پاک کرنے) کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا- بی جے پی قیادت نے ٹی ایم سی کو ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کیلئے ’’ہندو مخالف‘‘ جماعت کے طور پر پیش کیا-

بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے اتحاد اس وقت 28 ریاستوں میں سے 21 ریاستوں اور 1 وفاقی علاقے پر حکومت کر رہا ہے، جو بھارت کے تقریباً 72 فیصد زمینی رقبے پر محیط ہے-

اب، اگر ہم 2014ء سے بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی نشاندہی کی طرف متوجہ ہوں، تو گائے کے تحفظ کے نام پر غنڈہ گردی / ماورائے عدالت کارروائی (کاؤ ویجیلینٹزم) کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے ریاستی سرپرستی کے واقعات میں تیز رفتار اضافہ دیکھا گیا ہے، (ان واقعات میں سے 97 فیصد مئی 2014ء کے بعد رونما ہوئے ہیں)، تبدیلی مذہب کے خلاف قوانین (اتر پردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش، کرناٹک میں لو جہاد پر قانون سازی)، بلڈوزر جسٹس، خاص طور پر اتر پردیش میں، جسے ہیومن رائٹس واچ نے مسلم کمیونٹیز کو سزا دینے کے ایک طریقے کے طور پر شناخت کیا ہے اور مسلمانوں کا سماجی و اقتصادی بائیکاٹ شامل ہیں-

اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ان ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے- واشنگٹن میں قائم ایک تحقیقی گروپ، انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق، مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے نفرت انگیز تقاریر کے واقعات (جن میں سے 98.5 فیصد مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے) 2023 میں 668 سے بڑھ کر 2024 میں 1165 ہو گئے، جو کہ 74.4 فیصد اضافہ ہے- 2025 میں اس میں مزید 13 فیصد اضافہ ہوا، جس میں 1318 واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آئے- نفرت انگیز تقاریر کے تقریباً 80 فیصد یعنی 931 واقعات ان ریاستوں میں ہوئے جہاں بی جے پی یا اس کے اتحادیوں کی حکومت قائم تھی-

بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن نے بھی اپنی 2026ء کی تازہ ترین رپورٹ میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ (امریکی وزارت خارجہ) پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو ’’خصوصی تشویش کا ملک‘‘ قرار دے- رپورٹ میں بھارت کی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر پابندیاں عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، جو ہندو اکثریتی نظریہ ہندوتوا کی بنیادی تنظیم ہے- یو ایس سی آئی آر ایف نے سفارش کی کہ ٹرمپ انتظامیہ آر ایس ایس کے اثاثے منجمد کرے اور / یا اس کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگائے- رپورٹ میں مزید دعوی کیا گیا ہے کہ آر ایس ایس مذہبی آزادی کی شدید ’’خلاف ورزیوں‘‘ کی ذمہ دار ہے- ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ورلڈ رپورٹ 2026ء میں بیان کیا ہے کہ ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں بھارتی حکومت نے مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ’’تشدد کو معمول‘‘بنا دیا ہے اور ’’باقاعدہ منظم امتیاز‘‘ برتا ہے-

بھارت کی 21 ریاستوں میں بی جے پی کی قیادت میں ہندوتوا طاقت کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور اس میں استحکام، جس کی تائید مغربی بنگال کی تزویراتی ’’زعفرانئیت‘‘سے ہوتی ہے، کسی حقیقی کثیر الثقافتی (سیکولر) ماضی سے اچانک تبدیلی کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ یہ بھارت کی دیرینہ اکثریت پسندانہ اور توسیع پسندانہ رجحانات کی حتمی رونمائی ہے- دہائیوں تک، نئی دہلی نے آئینی سیکولرازم کا ایک احتیاط سے تیار کردہ لباس برقرار رکھا، پھر بھی ریاست کے بنیادی ڈھانچے مستقل طور پر اقلیت دشمن، خاص طور پر مسلم دشمن تعصبات کو پالتے رہے، انہی حقائق نے تاریخی طور پر بانیان پاکستان کے نزدیک پاکستان اور نظریہ پاکستان (دو قومی نظریہ) کی ضرورت کو درست ثابت کیا تھا- آج دنیا جس چیز کا مشاہدہ کر رہی ہے وہ کسی نئے تعصب کا ابھرنا نہیں ہے، بلکہ ایک تاریخی تسلسل کی جارحانہ ادارہ سازی اور اس میں شدت لانا ہے، روایتی سیاسی اشرافیہ، جیسے کانگریس اور موجودہ حکومت محض ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، جہاں مؤخر الذکر نے ایک آمرانہ، ہندو اکثریتی ایجنڈے کو کھلم کھلا نافذ کرنے کیلئے ماضی کے مصنوعی لباس کو بالکل اتار پھینکا ہے-

نتیجتاً، مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں موجودہ سیاسی ماحول ایک ایسے مرحلے کو ظاہر کرتا ہے جہاں ریاستی سرپرستی میں اسلامو فوبیا اب لبرل جمہوریت کے پردے کے پیچھے چھپا ہوا نہیں ہے، بلکہ اب تو اسے اقلیتی تحفظات کے آخری آثار کو ختم کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے- انتخابی اخراج کے ہتھکنڈوں، جیسا کہ ’’بنگال صفائی‘‘ (بنگال پرج) کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کا براہ راست بنا کر، موجودہ حکومت مؤثر طریقے سے اقلیتوں کو مٹانے کے ایک طویل مدتی منصوبے پر عمل پیرا ہے- اس کے ذریعے خفیہ پسماندگی سے کھلے فرقہ وارانہ ہیر پھیر کی طرف یہ واضح تبدیلی نہ صرف بھارت کے 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے فوری وجود کو خطرے میں ڈال رہی ہے، بلکہ یہ ایک متنوع جمہوریت کے طور پر بھارت کے عالمی تصور کو بھی تباہ کر رہی ہے- اس کی جگہ ایک کھلی استثنائی حکومت کو ظاہر کرتی ہے جو مکمل نظریاتی تسلط برقرار رکھنے کے لیے علاقائی استحکام کو قربان کررہی ہے- جیسا کہ 2026ء کے انتخابات میں دیکھا گیا، انتخابی فہرستوں سے لاکھوں اقلیتی ووٹرز کو خارج کرنے کے لیے ’’اسپیشل انٹینسو ریویژن‘‘ کا تزویراتی استعمال ہندوتوا کے ہتھکنڈوں میں ایک خوفناک ارتقا کی نشاندہی کرتا ہے- اس سوچے سمجھے منصوبے میں پہلے برادری کو جمہوری عمل سے بے دخل کیا جاتا ہے اور بعد میں، انہیں ملک ہی سے جسمانی اور انتظامی طور پر بے دخل کرنے کے لیے نشانہ بنایا جاتا ہے- یہ ’’بنگال صفائی‘‘ انتخابی مہم کے جارحانہ بیانیے کی عکاسی کرتی ہے، جہاں وزیر اعظم اور ریاستی رہنماؤں نے باقاعدہ حق رائے دہی سے محرومی کو جواز فراہم کرنے کے لیے مسلمانوں کو ’’گھس بیٹھیے ‘‘ کے طور پر پیش کیا-

مغربی بنگال میں حالیہ سیاسی پیش رفت کوئی الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ان اکثریت پسند اور انتہا پسندانہ پالیسیوں کی ایک فطری توسیع ہیں جو بی جے پی کی قیادت میں حکومت نے حالیہ برسوں کے دوران مسلمانوں کے خلاف مستقل طور پر نافذ کی ہیں- شہریت ترمیم ایکٹ کے نفاذ اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کی تجاویز سے لے کر امتیازی اینٹی کنورژن (تبدیلی مذہب کے خلاف) قوانین اور ریاستی سرپرستی میں تادیبی انہدام (بلڈوزر کارروائیوں) تک، بھارتی ریاست نے اپنی مسلم آبادی کو قانونی اور سماجی طور پر پسماندہ کرنے کے مقصد سے ایک ساختی فریم ورک  کی تعمیر میں برسوں لگائے ہیں- 2026 کے (بنگال پرج) بنگال میں انتخابی فہرستوں سے نام نکالنے کی مہم کے دوران بڑے پیمانے پر لوگوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا، دراصل اسی پرانے نظریاتی تصادم کا اگلا حکمت عملی حصہ ہے- اس کے ذریعے قانونی تعصب کو عملی شکل دے کر ، کمپیوٹر الگورتھم (ڈیجیٹل نظام) کی مدد سے لوگوں کو ووٹر لسٹوں سے باہر نکالا جا رہا ہے-

مغربی بنگال میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد مرشد آباد اور کولکتہ جیسے اضلاع میں انتخابات کے بعد کے تشدد میں فوری اضافہ اس بات کی مزید تصدیق کرتا ہے کہ اس نئے مینڈیٹ کے تحت، ریاستی سرپرستی میں ڈرانا دھمکانا سیاسی کنٹرول کا ایک معمول کا ہتھیار بن چکا ہے- یہ اندرونی تبدیلی علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے، خاص طور پر نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان پہلے سے نازک تعلقات کے لیے- بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے آفیشل فیس بک پیج نے خلیل الرحمن کا ایک بیان شائع کیا، جس میں متنبہ کیا گیا کہ:

’’اگر مغربی بنگال میں اقتدار کی تبدیلی کے دوران زبردستی دھکیلنے (پش ان) کے واقعات پیش آئے تو بنگلہ دیش کارروائی کرے گا‘‘-

اس سفارتی موقف کو بنگلہ دیش کے وزیر اعظم  طارق رحمن کے مشیر برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر نے مزید تقویت دی، جنہوں نے واضح طور پر صحافیوں کو مطلع کیا:

’’اگر لوگوں کو قتل کیا گیا اور سرحد پار دھکیلا گیاتو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے‘‘-

بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو اجنبی (غیر ملکی) قرار دے کر اور انہیں شہریت سے محروم کرنے کے لیے انتظامی مشینری کا استعمال کر کے، بی جے پی حکومت مشرقی سرحد پر ایک بڑے انسانی اور سفارتی بحران کو جنم دینے کا خطرہ مول لے رہی ہے- بڑے پیمانے پر ملک بدری یا ایک بہت بڑی ’’بے وطن‘‘ آبادی کی تشکیل کی جانب کسی بھی قدم کو نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ دنیا کی کسی بھی مہذب قوم کی طرف سے ایک معاندانہ اقدام کے طور پر دیکھا جائے گا، جو ممکنہ طور پر پورے جنوبی ایشیا کے سیکیورٹی ڈھانچے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے- ہندوتوا کا یہ بڑھتا ہوا تسلط نہ صرف بھارت کی حدود میں رہنے والے 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے لیے خطرہ ہے؛ بلکہ یہ ایک کثیر الثقافتی (سب کو ساتھ لے کر چلنے والی) عالمی آواز کے طور پر بھارت کے کردار کے خاتمے کا اشارہ بھی ہے- اب اس کی جگہ ایک ایسی مقامی اور انتہا پسند حکومت لے رہی ہے جو علاقائی امن اور جمہوری اصولوں کے مقابلے میں نظریاتی پاکیزگی (مخصوص مذہبی نظریات کی بالادستی) کو زیادہ اہمیت دیتی ہے- بھارت میں ہندوتوا کا عروج اب محض بیانیے تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ عدالتی اور ریاستی طاقت کے ذریعے مسلم تاریخی و مذہبی شناخت کو مٹانے کا ایک باقاعدہ ہتھیار بن چکا ہے- اس کی تازہ ترین مثال 14 مئی 2026ء میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا وہ حالیہ فیصلہ ہے جس کے تحت صدیوں پرانی کمال مولا مسجد کے احاطے (بھوج شالا) کو مکمل طور پر ہندو مندر قرار دے کر وہاں مسلمانوں کی جمعہ کی نماز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے- یہ اقدام اس وسیع تر ہندوتوا حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت بابری مسجد کے فیصلے کو ایک ماڈل بنا کر اب چن چن کر دیگر تاریخی مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ ’’نظریاتی پاکیزگی‘‘ کے نام پر اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق اور تاریخی ورثے سے محروم کر کے ملک کو ایک کٹر انتہا پسند ریاست میں تبدیل کیا جا سکے-

٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر