اقتباس

اقتباس

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

’’اِنْ یَّنْصُرْکُمُ اللہُ فَلَا غَالِبَ لَکُمْ ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْۢ بَعْدِہٖ ط وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ‘‘

’’اگر اللہ تعالیٰ  تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا  اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو ایسا کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ  ہی پر بھروسہ چاہیے‘‘-(آلِ عمران:160)

رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’حضرت محمد بن کعب قرظی (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں  کہ جو شخص سب سےزیادہ طاقتور بنناچاہتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ پہ توکل کرےاورجو سب سے باعزت ہونا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے (یعنی تقوٰی اختیار کرئے ) (مستدرک للحاکم، كِتَابُ الْأَدَبِ)

فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :

’’ بڑے  لوگوں کی بربادی لغزشوں کی وجہ  سے ہے،زاہدوں کی تباہی خواہشات میں مبتلاہونے کی وجہ سے ہے، ابدال کی ہلاکت خلوتوں میں فکر و  خطرات لاحق ہونے کی وجہ سے ہے اورصدیقین کی بربادی اِدھر اُدھر توجہ کرنے کی وجہ سے ہے-صدیقین کا شُغل ومصروفیت  صرف اپنے قلوب کی حفاظت  میں رہنا ہے اس لیے کہ وہ شاہی آستانہ پہ سونے والے ہیں -وہ دعوت کے مقام پہ کھڑے ہونے والے ہیں کہ مخلوق کو  اللہ عزوجل کی معرفت کی طرف بُلانے والے ہیں ،وہ ہمیشہ  پُکارتے اورکہتے ہیں کہ اے قلوب ! اے ارواح! اے انسان ! اے جن ! اے بادشاہ (حقیقی )کے طلبگاروچلوشاہی دروازے کی طرف -تم اس کی ذاتِ اقدس کی طرف اپنے قلوب کے قدموں کے ساتھ بڑھو ،اپنے تقوٰی  وتوحید اور معرفت واعلیٰ پرہیزگاری  کے ساتھ اس کی طرف  بڑھو اور دنیا وآخرت  میں  زہد اور ترک ماسوی اللہ کے قدموں کے ساتھ  آگے بڑھو -یہ ہے ان لوگوں کا شغل -ان کی ہمتیں مخلوق کی اصلاح میں مصروف ہیں -ان کی ہمتیں عرش سے لے کر تحت الثرٰی تک آسمان و زمین کو شامل ہیں -(الفتح الربانی)

فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:

د:دَلِیلاں چھوڑ وجودوں ہو ہُشیار فَقِیرا ھو
بَنھ توکّل پنچھی اُڈدے پلّے خرچ نہ زِیرا ھو
روز روزی اُڈ کھان ہمیشہ نہیں کردے نال ذَخیرا ھو
مولا خرچ پوہنچاوے باھوؒ جو پتھر وچ کِیڑا ھو (ابیاتِ باھو)

فرمان قائداعظم محمد علی جناحؒ :

ایمان ، اتحاد، تنظیم

’’آپ کو ایک بے مثال صورت ِ حا ل کا سامنا ہے -پس اپنی تنظیم کیجئے -آپ اس وقت تک کچھ حاصل نہیں کرسکتے جب تک آپ متحدہوکر فرد واحد کی طرح حوصلے سے کھڑے نہیں ہوجائیں گے اور مستقل مزاجی اور یقین کامل کے ساتھ آگے نہیں بڑھیں گے-آپ سے حقائق سے نمٹنے کا مطالبہ ہے آپ کو عالمانہ بحث مباحثے کی ضرورت نہیں‘‘- (عیدالاضحیٰ  پرقوم کے نام پیغام کراچی ،24 اکتوبر 1947ء)

فرمان علامہ محمد اقبالؒ:

اس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہے
ملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہے
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا (بانگِ درا)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر