واقعۂ کربلا ایک ایسا عظیم اور اندوہناک سانحہ ہے جو محض تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی فکری اور عملی سمت کا تعین کرنے والا معیار ہے- یہی وہ کسوٹی ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کون ظلم، غصب، دھاندلی، جبر، تشدد اور استبداد کے ساتھ کھڑا ہے اور کون عدل، حق، شرافت، اخلاق، کردار، علم اور حلم کی صف میں شامل ہے-
آج کا المیہ یہ ہے کہ سلف کا نام لیا جاتا ہے مگر خدمت ملوکیت کی ہوتی ہے، سلف صالحین کا حوالہ دیا جاتا ہے مگر مقصد بادشاہتوں کے استحکام کو دوام بخشنا ہوتا ہے- ظاہری طور پر اسلامی اور علمی حلیہ اختیار کیا جاتا ہے، مگر عملاً ڈاکوؤں، غنڈوں اور قاتلوں کے دفاع میں دلائل فراہم کیے جاتے ہیں- علم کا نام لیا جاتا ہے، علماء کے القاب اپنائے جاتے ہیں، مگر حقیقت میں علم کی روح کو مسخ اور اس کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہے-
علم اورعلماء کی بدترین توہین یہی ہے کہ کوئی شخص خود کو عالم کہے مگر علم کے تقاضوں سے بیگانہ رہے- علم یہ سکھاتا ہے کہ حق کو پہچان کر اس کا ساتھ دیا جائے، باطل کے مقابل ڈٹ کر کھڑا ہوا جائے، انصاف کو قائم رکھا جائے اور اخلاق و کردار کو زندگی کا جوہر بنایا جائے- عالم ہونے کا منصب درحقیقت حق کے ساتھ وابستگی کا نام ہے جبکہ علم کا حاصل عدل، اخلاق اور انسانی وقار کی پاسداری ہے-
آج اکابر و سلف صالحین کا نام لے کر جس استبداد، یزیدیت اور ظلم کی حمایت کی جاتی ہے، اس کے مقابل یہ امر واضح کرنا ناگزیر ہے کہ کربلا، اہلِ بیتِ اطہار اور حضور نبی کریم (ﷺ) کی آل کے بارے میں خود- اسلاف کا نقطۂ نظر کیا تھا- حیرت اس بات پر ہے کہ انہی اسلاف کے نام کو اوڑھ کر کس جرأت اور کس ڈھٹائی کے ساتھ اہلِ بیت کے دشمنوں اور یزید لعین کے دفاع کی جسارت کی جاتی ہے-
اس حقیقت کو سمجھنے کیلئے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کا ایک اصول رہنمائی فراہم کرتا ہے، جو آپؒ نے اپنے پنجابی بیت میں عطا فرمایا ہے:
|
’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ‘‘ سنیا دل میرے نِت ’’قَالُوْا بَلٰی‘‘ کوکیندی ھو |
ان اشعار کے ابتدائی دومصرعوں میں محبوبِ حقیقی سے وصال کی تڑپ اور ازلی عہد کی بے قراری کا بیان ہے- ’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ‘‘ کی صدا پر ’’قَالُوْا بَلٰی‘‘ کہنے والی روح جب اپنے اصل کی طرف لوٹنے کے اشتیاق میں مبتلا ہوتی ہے تو ’’حب وطن دی غالب ہوئی‘‘ کی یہی کشش اسے ایک لمحہ بھی چین نہیں لینے دیتی- یہی ازلی وعدہ، یہی عہدِ وفا، سیدنا حضرت امام عالی مقام (رضی اللہ عنہ)کو میدانِ کربلا تک لے جاتا ہے، جہاں یہ بے قراری اپنی معراج کو پہنچتی ہے-
|
قہر پووے تینوں رہزن دنیا توں تاں حق دا راہ مریندی ھو |
اس مصرعہ کے مفہوم میں یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ امامِ عالی مقام (رضی اللہ عنہ) کی ذاتِ گرامی کو اللہ تعالیٰ نے ایک معیار اور حدِ فاصل بنا دیا- آپ (رضی اللہ عنہ) کی قربانی نے حق و باطل کے درمیان ایسی لکیر کھینچ دی کہ جو حضرت امام عالی مقام (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ ہے وہ حق پر ہے، اور جوآپ (رضی اللہ عنہ) سے پھر گیا وہ حق سے منحرف ہو گیا-
یہاں اصل سوال یہی ہے کہ حضرت امام عالی مقام (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ وابستگی کی بنیاد کیا ہے اور آپ (رضی اللہ عنہ)سے انحراف کا سبب کیا ہے؟ حضرت امام عالی مقام(رضی اللہ عنہ) کی حمایت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ شعوری و ایمانی مؤقف ہے- حضرت امام عالی مقام (رضی اللہ عنہ) کا ساتھ اس لیے ہے کہ وہ قرآن مجید کے ساتھ ہیں، آپ (رضی اللہ عنہ) واقعۂ مباہلہ میں حق اور توحید کی دلیل بن کر سامنے آتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ (رضی اللہ عنہ) کو اپنی وحدانیت کی نشانیوں میں شامل فرمایا اور خود رسولِ کریم (ﷺ)نے ارشاد فرمایا:
’’حُسَيْنُ مِنِّيْ وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ‘‘[1]
’’حسین مجھ سے ہے اور مَیں حسین سے ہوں‘‘-
یہی نسبت آپ(رضی اللہ عنہ) کی حقانیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے اور اسی میں وہ معیار پوشیدہ ہے جس سے ہر دور میں حق و باطل کو پہچانا جاتا ہے-
حضرت امام عالی مقام(رضی اللہ عنہ) سے محبت اس نسبت کی بنا پر کی جاتی ہے کہ خود رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے عمل سے واضح فرمایا، کہ آپ (ﷺ)نے اس شہزادہ کو اپنے دوشِ عزت پر سوار کیا- یہ محبت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایک شعوری تعلق ہے- جنت کے حصول کیلئے عام انسان کو کسب اور محنت درکار ہوتی ہے؛ نمازیں، روزے، حج اور نیک اعمال اس کے ذرائع بنتے ہیں اور اگر یہ نہ ہوں تو جنت کا راستہ دشوار ہو جاتا ہے- اس کے برعکس جب صحابۂ کرامؓ کی جماعت پر نظر ڈالی جائے، جنہیں جنت کی بشارت عطا ہوئی، تو ان کی زندگی مجاہدہ، قربانی اور مسلسل جدوجہد سے عبارت نظر آتی ہے-
حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت ابو عبیدہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعید بن زید (رضی اللہ عنھم) وہ نفوسِ ذکیہ ہیں جنہوں نے سابقون الاولون ہونے کا حق ادا کیا- انہوں نے مکہ کے مظالم سہے، ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں، رسول اللہ (ﷺ) کی معیت میں جہاد کیا، عبادات بجا لائیں، صدقات و خیرات کیے اور اپنی جانیں اللہ کی راہ میں نچھاور کیں، تب انہیں جنت کی بشارت عطا ہوئی-
جبکہ دوسری طرف حضرت امام عالی مقام (رضی اللہ عنہ) کی عمر مبارک وصالِ نبوی )ﷺ( کے وقت ابھی ساڑھے چھ برس کے قریب تھی، نہ فرائض کی وہ تکمیل جو دیگر صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کے حصے میں آئی، نہ وہ طویل مجاہدہ جس کے نتیجے میں درجات بلند ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود ان کیلئے جو مقام متعین کیا گیا وہ محض جنت کی بشارت نہیں بلکہ یہ اعلان ہے کہ حضرات حسن و حُسین(رضی اللہ عنہ) جنتی جوانوں کے سردار ہوں گے- یہاں رتبہ محنت کے صلے میں نہیں بلکہ عطائے الٰہی کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، ایک ایسا مقام جو کسب سے ماورا اور انتخابِ ربانی کا مظہر ہے-
اسی بنا پر حضرت امام عالی مقام (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ وابستگی ایک اصولی مؤقف کی حیثیت اختیار کرتی ہے، جبکہ اس کے برخلاف جو مؤقف اختیار کیا جاتا ہے اس کی بنیاد محلِ سوال رہتی ہے- بعض تعبیرات میں اس واقعہ کو دو شہزادوں کے مابین ایک نزاع قرار دے کر اس کی معنویت کو محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ یہ تعبیر حقیقت کے جوہر کو سمیٹنے سے قاصر ہے- تاہم اگر اسی مفروضے کو وقتی طور پر قبول کر بھی لیا جائے تو بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ ان دو میں سے کس کا ساتھ اختیار کیا جائے اور اس انتخاب کی بنیاد کیا ہو-
ایک طرف وہ شہزادہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں آیۂ مباہلہ کے اندر اللہ کی وحدانیت کی دلیل بن کر سامنے آتا ہے، اس کی نسبت نصِّ قرآنی سے ثابت ہے اور اس کی حیثیت محض تاریخی نہیں بلکہ تائیدِ الٰہی کی حامل ہے- اگر معاملے کو سادہ کرکے اسے دو شہزادوں کے درمیان ایک نزاع قرار دے بھی دیا جائے تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ دیکھا جائے کس شہزادے کو قرآن کریم نے ترجیح اور تقدیس عطا کی؟ اس ایک سوال کا جواب ڈھونڈیئے ، بہت سے سوال حل ہو جائیں گے -
ہم تو حُسین کا ساتھ ان نسبتوں سے دیتے ہیں جو نصِ قرآنی میں آیا ہے اور جو کثیر احادیث مبارکہ میں موجود ہے -
اس کے بالمقابل دوسری طرف ایسے افراد نظر آتے ہیں جو جبر کے تحت یا مفادات کے اسیر ہو کر ایک ایسے نظام کے ساتھ وابستہ ہوئے جس کی بنیاد قوت، لالچ اور دنیاوی ترغیبات پر قائم تھی، انہیں رتبے دیے گئے، عہدے عطا ہوئے، درہم و دینار سے نوازا گیا اور جاگیروں کے ذریعے وابستہ رکھا گیا-
وقت گزرنے کے ساتھ وہ شخص باقی نہیں رہا جو یہ سب کچھ دیتا تھا، نہ وہ درہم و دینار رہے، نہ وہ عطائیں اور مناصب، مگر اس کے باوجود اس فکر کے حامی باقی رہے- یہ امر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جیسے حسینیت ایک زندہ روایت کے طور پر اپنے ماننے والوں میں جاری ہے، ویسے ہی یزیدیت بھی ایک ذہنیت کی صورت میں اپنے پیروکاروں میں منتقل ہوتی رہی ہے- کہیں نہ کہیں دنیاوی مفاد، اقتدار کی کشش اور سماجی حیثیت کی خواہش اس تسلسل کو قائم رکھتی ہے- یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے آپ کو اسلاف کے نام سے وابستہ کر کے دراصل ملوکیت کے مفادات کی حفاظت میں مصروف دکھائی دیتے ہیں-جن کے بارے میں حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
|
جے کر دین علم وچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ھو ُ |
آپؒ اپنے اس بیت شریف میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ دیتے ہیں کہ بہت سے اہلِ علم ایسے گزرے جو حضرت امام عالی مقام(رضی اللہ عنہ) کے سامنے آنے کے بجائے دنیاوی منفعت کے ہاتھوں مغلوب ہو گئے- یہ وہ رویہ ہے جس میں علم اپنی اصل روح کھو دیتا ہے اور اقتدار کے قدموں میں قربان ہو جاتا ہے- ایسے افراد کے بارے میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ علم جب دنیا کے عوض فروخت ہو جائے تو وہ اپنی قدروقیمت کھو دیتا ہے اور محض ایک ذریعۂ مفاد بن کر رہ جاتا ہے-
حسینیت دراصل عدل، انصاف، مساوات اور اخلاقی جرأت کا نام ہے، اور یہی وہ اقدار ہیں جن کے ساتھ استبداد، جبر اور ملوکیت کا نظام قائم نہیں رہ سکتا- اسی لیے اس فکر کی مخالفت دراصل ان اقدار کی مخالفت ہے جو انسانی وقار اور حق کی پاسداری کو ممکن بناتی ہیں-
اس کے برعکس وہ لوگ جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم (ﷺ) کی محبت راسخ تھی، جن کے سینوں میں اہلِ بیت کا عشق اور کتاب و سنت کی روشنی تھی، انہوں نے کبھی خود کو فروخت نہیں کیا- یہی اصل فرق ہے ان کے درمیان جو اپنے اصولوں کو دنیا کے عوض چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے درمیان جو ہر قیمت پر اپنے ایمان، اپنے علم اور اپنی وابستگی کی حفاظت کرتے ہیں-ان کے بارے میں حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
|
عاشقاں مول قبول نہ کیتی باھوؒ تونے کرکر زاریاں روندی ھو |
غور طلب امر یہ ہے کہ سانحۂ کربلا 61 ھ میں رونما ہوا، جب رسول اللہ (ﷺ) کے وصال کو تقریباً 50برس گزر چکے تھے- اس مختصر فاصلے کے باوجود وہی گلیاں موجود تھیں، وہی مسجد، وہی راستے، وہی درخت اور وہی بستیاں باقی تھیں جو نزولِ وحی کی شاہد رہی تھیں، جنہوں نے جبریلِ امین(علیہ السلام) کو آتے جاتے دیکھا تھا اور جن کے سامنے یہ فرمان نازل ہوا تھا:
’’قُلْ لَّآ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی‘‘[2]
’’آپ کہیے کہ میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا سوا قرابت کی مودت کے‘‘-
اس زمانے ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کی نگاہوں کے سامنے قرآن مجید تدریجاً نازل ہوا اور جنہوں نے اس کے معانی کو براہِ راست سنا اور سمجھا-
اس کے باوجود یہ سانحہ پیش آیا تو اہلِ علم نے اس آیت کے مفہوم کو واضح کرتے ہوئے بیان کیا کہ ’’ اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی‘‘سے مراد محض جذباتی محبت نہیں بلکہ ایسی محبت ہے جس میں حفاظت کا تقاضا مضمر ہو-
حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا :
’’إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى يَعْنِيْ أَنْ تَحْفَظُوْا قَرَابَتِيْ ‘‘[3]
’’ إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى‘‘ کا معنی یہ ہے کہ تم میری قرابت کی حفاظت کرو‘‘-
گویا مودّت اپنی حقیقت میں محافظت کو شامل رکھتی ہے،اگر حفاظت کا جذبہ موجود نہ ہو تو مودّت اپنی معنویت کھو دیتی ہے-
اسی پس منظر میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ جب یہ تعلیمات واضح تھیں، جب قرآن کریم کی آیات اور ان کی تشریحات لوگوں کے سامنے تھیں، تو پھر کیسے ممکن ہوا کہ امت کا ایک طبقہ اقتدار، خواہش اور دنیاوی جاہ و منصب کے پیچھے چل نکلا اور اس نے ان اصولوں کو نظر انداز کر دیا جو کتابِ الٰہی نے متعین کیے تھے- حتیٰ کہ اسی غفلت کے نتیجے میں اہلِ بیت اور قرابتِ نبوی(ﷺ) کے حقوق بھی پسِ پشت ڈال دیے گئے-
اہلِ سنت والجماعت کے معتبر مفسرین میں سے قاضی عمر البیضاویؒ ، جن کی تفسیر مدارس میں سبقاً پڑھائی جاتی ہے ، اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ:
’’إِلَّا الْمَوَدَّةَ ثَابِتَةٌ فِيْ ذَوِي الْقُرْبٰى مُتَمَكِّنَةٌ فِيْ أَهْلِهَا ‘‘[4]
’’میں تم سے ایسی مودت کا سوال کرتا ہوں جو میری اہل بیت کے لئے ثابت اور دائمی ہو‘‘-
مقصود یہ ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کی آل اور قرابت کے ساتھ ایسی مودّت اختیار کی جائے جو ’’ ثَابِتَةٌ‘‘ اور ’’مُتَمَكِّنَةٌ‘‘ ہو- اس تعبیر میں محض لفظی تاکید نہیں بلکہ ایک گہرا مفہوم پوشیدہ ہے-
’’ ثَابِتَةٌ‘‘سے مراد وہ محبت ہے جو پائیدار، برقرار اور غیر متزلزل ہو-ایسی محبت جس میں تسلسل ہو، جسے کوئی خلل لاحق نہ ہو، جو سچی اور آزمودہ ہو- اور ’’مُتَمَكِّنَةٌ‘‘ اس کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جو دل و جان میں راسخ ہو چکی ہو، جو مضبوطی کے ساتھ قائم ہو، جو انسان کی باطنی ساخت کا حصہ بن جائے- یہ وہ مودّت ہے جو وقتی جذبے یا وقتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا رشتہ ہے جو انسان کی زندگی میں اس طرح سرایت کر جائے کہ اس کے بغیر وجود کا تصور ادھورا محسوس ہو-یہی وہ معیار ہے جسے اسلاف نے بیان کیااور یہی وہ نکتہ ہے جو اس امر کو سمجھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ محض نام لینے سے نسبت ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اس نسبت کا حق ادا کرنا، اس کی حفاظت کرنا اور اسے اپنے وجود میں راسخ کرنا ہی اصل تقاضا ہے-
یہ وہی زمانہ تھا جب لوگ ان آیات اور احادیث کو یاد رکھتے تھے، وہ افراد موجود تھے جنہوں نے براہِ راست سید الانبیاء (ﷺ) کی زبانِ مبارک سے یہ احادیث سنی تھیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ایک مقام پر تین مرتبہ ارشاد فرمایا:
’’أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ أَهْلِ بَيْتِيْ‘‘
’’میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں‘‘-
’’أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ أَهْلِ بَيْتِيْ‘‘
’’میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں‘‘-
’’ أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ أَهْلِ بَيْتِيْ ‘‘[5]
’’میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں‘‘-
پھر آپ (ﷺ) نے امت کو واضح پیغام دیتے ہوئے ارشا دفرمایا:
’’لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰى أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَّفْسِهٖ وَيَكُوْنَ عِتْرَتِيْ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ عِتْرَتِهٖ وَتَكُوْنَ ذَاتِيْ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ ذَاتِهٖ وَيَكُوْنَ أَهْلِيْ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهٖ‘‘[6]
’’کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی جان سے بھی محبوب تر نہ ہو جاؤں اور میرے اھلِ بیت اسے اس کے اہل خانہ سے محبوب تر نہ ہو جائیں اور میری اولاد اسے اپنی اولاد سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جائےاور میری ذات اسے اپنی ذات سے محبوب تر نہ ہو جائے‘‘-
یہ سب کچھ ان کے علم میں ہونے کے باوجود تاریخ نے وہ مناظر دیکھے جو عقل کو حیران کر دیتے ہیں- اگر یہی تعلیمات حکمرانوں اور ان کے کارندوں کے سامنے پوری معنویت کے ساتھ موجود رہتیں تو کیا وہ واقعات پیش آ سکتے تھے جو سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ پیش آئے؟ وہ حضور مولا علی (رضی اللہ عنہ) جو دامادِ رسول تھے، جن کے بارے میں اُن کی محبت کو ایمان اور بغض کو نفاق کی علامت قرار دیا گیا، وہ مولا علی (رضی اللہ عنہ) جن کے ذکر اور دیدار کو رسول کریم (ﷺ) نے عبادت فرمایا، لیکن ان سب فضائل کے باوجود اُنہیں حالتِ نماز میں مسجدِ کوفہ میں شہید کر دیا گیا-اور یہ فعل کسی بیرونی دشمن نے نہیں بلکہ انہی لوگوں نے انجام دیا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے-
سیدنا امام حسن المجتبیٰ (رضی اللہ عنہ)، جنہیں رسول اللہ (ﷺ) نے اپنی امت کے لیے صلح کا وسیلہ قرار دیا، جنہیں جنتی جوانوں کا سردار فرمایا، جنہیں اپنی خوشبو فرمایا،انہیں زہر دے کر شہید کیا گیا- اس کے بعد بھی سلسلہ نہ رُکا، اقتدار کی خواہش اور دنیاوی حرص اس حد تک غالب آ گئی کہ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی تمام تعلیمات پسِ پشت ڈال دی گئیں- یہاں تک کہ کربلا میں وہ دل خراش سانحہ پیش آیا جس میں رسول اللہ (ﷺ) کے نواسے، ان کے اہلِ بیت اور ان کے معصوم اہل و عیال کو بے دردی سے شہید کیا گیا-
یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ وہ کون سی قوت تھی جس نے آنکھوں کو اندھا اور دلوں کو بے حس کر دیا، حالانکہ حق واضح تھا اور اس کے دلائل بھی روشن تھے- اس کا جواب اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ جب دنیا کی محبت، اقتدار کی حرص اور باطنی بغض انسان پر غالب آ جاتے ہیں تو وہ حق کو دیکھتے ہوئے بھی اس سے منہ موڑ لیتا ہے- یہی وہ کیفیت ہے جسے بیان کرتے ہوئے حضرت سلطان باھوؒ نے فرمایا:
|
قہر پووے تینوں رہزن دنیا توں تاں حق دا راہ مریندی ھو |
یعنی دنیا کا لالچ انسان کیلئے رہزن بن جاتا ہے اور اسے حق کے راستے سے ہٹا دیتا ہے-اسی بنا پر آقا کریم (ﷺ) نے اہلِ بیت کی مودّت کو لازم قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ (ﷺ) قَالَ: اَلْزِمُوْا مَوَدَّتَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَإِنَّهٗ مَنْ لَقِيَ اللهَ عَزَّوَجَلَّ وَهُوَ يَوَدُّنَا دَخَلَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِنَا، وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ : لَا يَنْفَعُ عَبْدًا عَمَلُهٗ إِلَّا بِمَعْرِفَةِ حَقِّنَا‘‘
’’حضرت حسن بن علی (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا: ہم اہل بیت کی محبت کو لازم پکڑوکیونکہ جو شخص اس حال میں اللہ سے ملا کہ وہ ہم سے محبت کرتا تھا تو وہ ہماری شفاعت کے صدقے جنت میں داخل ہوگااور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کسی شخص کو اس کا عمل فائدہ نہیں دے گا مگر ہمارے حق کی معرفت کے سبب‘‘-
یہ حدیث پاک اس امر کو واضح کرتی ہے کہ محبتِ اہلِ بیت محض ایک اضافی فضیلت نہیں بلکہ ایمان اور نجات کے باب میں ایک بنیادی تقاضا ہے- اگر علم اور عمل اس معرفت سے خالی ہوں تو وہ اپنی روح کھو دیتے ہیں اور محض ظاہری دعووں تک محدود رہ جاتے ہیں- اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے رویّے، اپنے عقیدے اور اپنی وابستگی کو اسی میزان پر پرکھے کہ آیا اس میں اہلِ بیت کے حق کی پہچان اور اس کے مطابق سچی مودّت موجود ہے یا نہیں-
اسی تناظر میں اصل سوال یہ ابھرتا ہے کہ اہلِ بیت کے حق کو کس طرح پہچانا جائے- اس کا جواب وہی ہے جو اسلافِ امت نے اپنے عمل اور اپنے فہم سے دیا- انہوں نے اس حق کو محض الفاظ میں نہیں بلکہ اپنے عقیدے، اپنے طرزِ فکر اور اپنے عملی رویّے میں ظاہر کیا، اور یہی وہ معیار ہے جس کی طرف رجوع کیے بغیر اس نسبت کی حقیقت کو سمجھنا ممکن نہیں-
اہلِ سنت کے فقہی مکاتب حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی، اپنے آئمہ کے ذریعے نہ صرف علمی روایت کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ اہلِ بیت کے ساتھ وابستگی اور ان کے حق کی پہچان کا عملی نمونہ بھی پیش کرتے ہیں- امامِ اعظم ابو حنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبلؒ ان چاروں آئمہ کی زندگیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ انہوں نے اہلِ بیت کی محبت کو محض ایک تاریخی بحث یا تفسیری نکتہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے اپنے عقیدے اور طرزِ عمل میں نمایاں کیا-
امام ابو حنیفہ، جن کا پورا نام نعمان بن ثابت الکوفی ہے، کوفہ میں مقیم تھے اور یہی وہ شہر تھا جہاں سیدنا زید بن زین العابدین بن حسین بن علی ابن ابی طالب (رضی اللہ عنہ)کی تحریک نے قوت حاصل کی- 122ھ میں جب امام زید نے بنو امیہ کے اقتدار کے خلاف خروج فرمایا تو اس وقت خلافت ہشام بن عبد الملک کے ہاتھ میں تھی اور سلطنت کا دائرہ عراق و حجاز سمیت وسیع خطوں تک پھیلا ہوا تھا- ایسے حالات میں امام زید (رضی اللہ عنہ)کی آواز پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور اسی موقع پر امام ابو حنیفہؒ نے ان کی تائید میں فتویٰ صادر کیا-
یہ محض ایک نظری حمایت نہ تھی بلکہ ایک عملی مؤقف تھا- امام ابو حنیفہؒ نے اپنے شاگردوں، اہلِ کوفہ اور اپنے متبعین کو ہدایت دی کہ وہ امام زید (رضی اللہ عنہ) کا ساتھ دیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ ایک حق پر مبنی قیام و اقدام تھا- ان کے متعدد شاگرد اور قریبی افراد اس تحریک میں شریک ہوئے اور میدانِ عمل میں اترے- خود امام ابو حنیفہؒ کسی عذر کے باعث براہِ راست شریک نہ ہو سکے، تاہم انہوں نے مالی معاونت کے ذریعے اپنی وابستگی کا اظہار کیا اور اس مقصد کیلئے 10000 درہم فراہم کیے، جو اس دور کے اعتبار سے ایک بڑی رقم تھی-
122 ھ کے اس واقعہ کے بعد 126ھ میں حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا-ہشام بن عبد الملک کی موت کے بعد مروان ثانی برسرِ اقتدار آیا، جو بنو امیہ کا آخری حکمران ثابت ہوا- اس کے دور میں عراق کی گورنری یزید بن عمر بن ہبیرہ کے سپرد کی گئی، جس نے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کیلئے علمی شخصیات کو عہدوں کی پیشکش کر کے ایک منظم نظام قائم کرنے کی کوشش کی- اسی سلسلے میں اس نے کوفہ میں مقیم امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کو بھی بلایا اور انہیں وزیرِ خزانہ جیسے اہم منصب سنبھالنے کی دعوت دی-
امام ابو حنیفہؒ کیلئے یہ محض ایک سرکاری عہدہ نہ تھا بلکہ ایک اصولی فیصلہ تھا، کیونکہ وہ بنو امیہ کی حکومت کو جائز نہیں سمجھتے تھے اور خلافت و امارت کے باب میں اہلِ بیت کے حق کے قائل تھے- چنانچہ انہوں نے اس پیشکش کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا- اس انکار کے بعد ان پر دباؤ بڑھایا گیا، اور اردگرد کے لوگوں نے بھی مصلحت کا مشورہ دیا کہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے یہ منصب قبول کر لینا چاہیے، مگر امامِ اعظم اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے-
ان کی استقامت کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے فرمایا اگر اسے یہ بھی گوارا ہو کہ وہ صرف کوفہ کی مسجدوں کے دروازے گن کر بتا دیں تو وہ یہ معمولی سا کام بھی اس کے حکم پر انجام نہیں دیں گے، چہ جائیکہ وہ اس کے نظام کا حصہ بنیں- اس واضح انکار کے نتیجے میں انہیں سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا اور تاریخ میں مذکور ہے کہ انہیں روزانہ کوڑے لگائے جاتے تھے، مگر اس تمام جبر کے باوجود انہوں نے اپنے اصول سے انحراف نہ کیا اور اپنے مؤقف پر قائم رہے-
132 ھ اموی دور کا خاتمہ ہوا، مگر اس کے ساتھ ہی ظلم و جبر کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا جس میں عباسی حکومت قائم ہوئی- ابتدا میں عبداللہ سفاح العباسی نے اعتدال کا تاثر دینے کی کوشش کی، لیکن جلد ہی اس کی حکمرانی میں وہی سختی اور جبر نمایاں ہونے لگا جس کی مثالیں پہلے گزر چکی تھیں- اس کے بعد 136 ھ میں اس کے انتقال کے ساتھ ابو جعفر منصور برسرِ اقتدار آیا اور اس کے عہد میں حالات نے مزید شدت اختیار کی-
اسی زمانے میں مدینہ منورہ کے لوگوں نے عباسی اقتدار کو قبول کرنے سے انکار کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ اہلِ بیت کی حمایت کریں گے- اس مقصد کیلئے سیدنا امام حسن مثنیٰ (رضی اللہ عنہ) کے پوتے اور امام حسن (رضی اللہ عنہ) کے پر پوتےامام محمد نفسِ زکیہ (رضی اللہ عنہ) کا انتخاب کیا- 145ھ میں انہوں نے عباسی حکومت کے خلاف اعلانِ حق بلند کیا-اس موقع پر امامِ اعظم ابو حنیفہؒ جو کوفہ میں موجود تھے، نے ایک بار پھر اہلِ بیت کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا- انہوں نے امام محمد نفسِ زکیہ (رضی اللہ عنہ) کی تائید میں فتویٰ دیا کہ وہ امیرِ برحق ہیں اور ان کی اطاعت کی جانی چاہیے-
اسی طرح مدینہ میں امام مالکؒ ، جو دارالہجرت کے امام کہلاتے ہیں، نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا کہ جبر کے تحت لی گئی بیعت شرعاً معتبر نہیں ہوتی اور لوگوں کو اہلِ بیت کی قیادت کی طرف متوجہ کیا-امام محمد نفسِ زکیہ(رضی اللہ عنہ) کی تحریک ایک بڑی اور مؤثر تحریک تھی، جس نے عباسی اقتدار کو سخت اضطراب میں مبتلا کر دیا- تاریخی روایات میں ذکر ملتا ہے کہ ابو جعفر منصور اس قدر ذہنی دباؤ کا شکار تھا کہ طویل عرصہ سکون سے نہ سو سکا اور اس کے دل میں مسلسل خوف و اندیشہ موجود رہا- تاہم بالآخر اس معرکے کا اختتام امام محمد نفسِ زکیہ(رضی اللہ عنہ) کی شہادت پر ہوا-
ان کے بعد ان کے بھائی امام ابراہیم نفسِ مرضیہ (رضی اللہ عنہ) نے قیام کیا اور امام ابو حنیفہؒ نے ایک مرتبہ پھر ان کی حمایت میں فتویٰ دیا اور ان کے مؤقف کی تائید کی- لیکن یہ تحریک بھی بالآخر دب گئی اور عباسی اقتدار نے اپنے تسلط کو برقرار رکھا- یہ تمام واقعات اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ اسلاف کے نزدیک اہلِ بیت کے حق کا ادراک محض نظری وابستگی نہ تھا بلکہ اس کے لیے واضح مؤقف اختیار کرنا اور اس پر قائم رہنا ضروری سمجھا جاتا تھا-
امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کے گرد ایک وسیع حلقۂ ارادت اور علمی اثر و رسوخ موجود تھا- ان کے شاگردوں اور متبعین میں ایسے افراد بھی شامل تھے جو معاشرتی اور سیاسی اعتبار سے مؤثر حیثیت رکھتے تھے اور یہی اثر تھا کہ جب امام ابراہیم نفسِ زکیہ (رضی اللہ عنہ) نے قیام کیا تو بہت سے بااثر لوگ عباسی اقتدار کو چھوڑ کر ان کے ساتھ جا ملے- جب یہ معرکہ اپنے انجام کو پہنچا تو ابو جعفر منصور نے مخالفین کو طلب کیا اور امام ابو حنیفہ کو بھی دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا-
دربار میں ان سے پوچھا گیا کہ مسلمانوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے، تو لوگوں نے امام اعظم کا نام لیا- اس پر منصور نے انہیں قاضی القضاۃ کا منصب پیش کیا، مگر امام ابو حنیفہ نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ وہ اس ذمہ داری کے اہل نہیں- منصور نے اسے انکار نہیں بلکہ عذر سمجھ کر اصرار کیا اور کہا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں، جس پر امام نے نہایت حکمت سے جواب دیا کہ اگر وہ جھوٹے ہیں تو جھوٹا شخص قضا کے منصب کا اہل کیسے ہو سکتا ہے- اس مکالمے کے بعد منصور غضبناک ہوا اور انہیں قید کر دیا گیا-
قید کے دوران انہیں سخت اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، روزانہ کوڑے لگائے جاتے، مگر اس کے باوجود وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹے- ان کی علمی حیثیت برقرار رہی اور ان کے شاگرد قاضی ابو یوسف اور امام محمد بن حسن شیبانی جیسے نامور اہلِ علم ان سے علم حاصل کرتے رہے- وقت گزرنے کے ساتھ ان کی شہرت اور اثر و رسوخ میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا گیا، جس نے حکمران کو مزید تشویش میں مبتلا کیا-
بالآخر اس اندیشے کے تحت کہ وہ آئندہ بھی اہلِ بیت کے حق میں آواز اٹھائیں گے، انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی گئی-روایات کے مطابق قید ہی میں انہیں زہر دیا گیا جس کے نتیجے میں ان کا انتقال ہوا- یہ تمام واقعات اس امر کی واضح دلیل ہیں کہ امام ابو حنیفہ کی اہلِ بیت کے ساتھ وابستگی محض قولی نہ تھی بلکہ عملی، مالی اور فکری ہر سطح پر قائم تھی- 122ھ سے لے کران کے وصال 145ھ تک ایک طویل عرصہ انہوں نے اسی استقامت کے ساتھ گزارا، نہ کسی ظالم اقتدار کا منصب قبول کیا اور نہ اپنے اصولوں سے انحراف کیا، بلکہ ہر حال میں اہلِ بیت کے حق کو ترجیح دی-
امام اعظم ابو حنیفہؒ کی اہل بیت اطہار (رضی اللہ عنھم) سے محبت کو بیان کرتے ہوئے امام ابن حجر ہیتمی ’’الصواعق المحرقہ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’وَكَانَ أَبُوْ حَنِيْفَةَ (ؒ) يُعَظِّمُ أَهْلَ الْبَيْتِ كَثِيْرًا وَّيَتَقَرَّبُ بِالْإِنْفَاقِ عَلٰى الْمُتَسَتِّرِيْنَ مِنْهُمْ وَالظَّاهِرِيْنَ حَتّٰى قِيْلَ إِنَّهٗ بَعَثَ إِلٰى مُتَسَتِّرٍ مِّنْهُمْ بِاِثْنٰى عَشَرَ أَلْفَا دِرْهَمٍ وَكَانَ يَحُضُّ أَصْحَابَهٗ عَلٰى ذٰلِكَ ‘‘
’’امام ابو حنیفہ اہل بیت کی بہت زیادہ تعظیم کرتے اور ان میں سے مستور الحال اور غیر مستور الحال احباب پر خرچ کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتے-یہاں تک کہا گیا ہے کہ امام ابو حنیفہ نے ان میں سے ایک مستور الحال فرد کو 12 ہزار درہم بھجوائے اور وہ اپنے شاگردوں کو بھی اس پر ابھارتے تھے(کہ وہ بھی اہل بیت اطہار کی خدمت کیا کریں )-
امام مالکؒ ، جو امامِ دار الہجرت کے لقب سے معروف ہیں اور اہلِ سنت کے جلیل القدر ائمہ میں شمار ہوتے ہیں، ان کی سیرت بھی اہلِ بیت کے ساتھ وابستگی اور ان کے حق کے ادراک کی روشن مثال پیش کرتی ہے- جس دور میں امام محمد نفسِ زکیہ(رضی اللہ عنہ) نے مدینہ منورہ میں قیام کیا،جو سیدنا امام حسن (رضی اللہ عنہ) کی آل پاک سے تھے،اسی وقت عباسی اقتدار اپنی بیعت کو مستحکم کرنے میں مصروف تھا- ایسے نازک حالات میں امام مالک نے ایک اصولی فتویٰ دیا کہ جبر کے تحت لی گئی بیعت شرعاً معتبر نہیں ہوتی، جیسے جبر کے تحت دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی- اس استدلال کے ذریعے انہوں نے واضح کیا کہ بیعت کا تعلق دل کی رضامندی سے ہے، نہ کہ طاقت کے دباؤ سے-اسی بنا پر انہوں نے لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ اپنی بیعت ایسے شخص کے ہاتھ پر رکھیں جو اہلِ بیت میں سے ہو اور جس کا حق واضح ہو، اور اس طرح انہوں نے امام محمد نفسِ زکیہ(رضی اللہ عنہ) کی تائید کا راستہ اختیار کیا- بعد ازاں جب ان کے بھائی امام ابراہیم نفسِ مرضیہ(رضی اللہ عنہ) نے قیام کیا تو اس موقع پر بھی یہی اصولی مؤقف برقرار رہا-
یہ مؤقف حکمرانوں کے لیے قابلِ قبول نہ تھا- مدینہ میں عباسی گورنر جعفر بن سلیمان تک شکایات پہنچائی گئیں کہ امام مالک اپنے فتاویٰ کے ذریعے لوگوں کو موجودہ اقتدار سے دور کر رہے ہیں- تواس نے حکم دیا:
’’فَأَمَرَ بِتَجْرِيْدِهٖ، وَضَرْبِهٖ بِالسِّيَاطِ، وَجُبِذَتْ يَدُهٗ حَتّٰى اِنْخَلَعَتْ مِنْ كَتِفِهٖ، وَارْتُكِبَ مِنْهُ أَمْرٌ عَظِيْمٌ‘‘[7]
امام مالک کوبرہنہ کر کےکوڑے مارنے کا حکم دیا گیا-چنانچہ انہیں مارا گیا،اوران کا بازو اتنی شدت سے کھینچا گیا یہاں تک کہ کندھے سے اتر گیا اور ان کے ساتھ بہت سنگین سلوک کیا گیا ‘‘-
اصل سبب یہی تھا کہ ان کی علمی حیثیت اور اثر و رسوخ کے باعث اہلِ حجاز کی ایک بڑی تعداد عباسی بیعت سے گریزاں ہو رہی تھی-یہ واقعات اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ اہلِ بیت کے ساتھ محبت اور ان کے حق کا اعتراف کسی ایک طبقے یا کسی مخصوص مکتبِ فکر تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ اہلِ سنت کے اکابر آئمہ کی عملی روایت کا حصہ تھا- یہ وہ ہستیاں تھیں جو فقہ، اجتہاد اور علم کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھیں، اور ان کا طرزِ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ اہلِ بیت اطہار (رضی اللہ عنھم)کی محبت اور ان کے حق کی پہچان ایک اصولی اور ہمہ گیر قدر ہے -
امام ابو عبداللہ محمد بن ادریس الشافعیؒ ، جو فقہِ شافعی کے بانی ہیں، ان کی سیرت بھی اہلِ بیت کے ساتھ قلبی وابستگی اور اصولی استقامت کی نمایاں مثال پیش کرتی ہے- ان کا زمانہ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کا دور تھا اور اسی عہد میں انہیں مصر میں منصبِ قضا پر فائز کیا گیا- مگر ہر دور کی طرح اس زمانے میں بھی ایسے افراد موجود تھے جو منصب کو امانت کے بجائے مفاد کا ذریعہ بنا چکے تھے اور ایک دیانتدار قاضی ان کے لیے ناگوار تھا-
جب امام شافعیؒ کی دیانت، عدل اور علمی وقار نے معاشرتی سطح پر اثر ڈالنا شروع کیا تو بعض عناصر نے ان کے خلاف سازشیں شروع کر دیں- اتفاقاً مصر میں کچھ سادات سے ان کی ملاقات کو بنیاد بنا کر خلیفہ کے پاس یہ خبریں بھیجی گئیں کہ امام شافعیؒ اہلِ بیت (رضی اللہ عنھم) کے ساتھ مل کر بغاوت کا ارادہ رکھتے ہیں- ان الزامات کے نتیجے میں انہیں گرفتار کر کے ہتھکڑیوں میں بغداد لایا گیا-
اس وقت کا ماحول اس قدر سخت تھا کہ سادات کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی تھیں اور امام شافعیؒ بھی اس فضا سے محفوظ نہ رہے- ان کے خلاف بھی سخت اقدام کا اندیشہ پیدا ہو گیا، مگر جب انہیں خلیفہ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے نہایت حکمت اور علم کے ساتھ اپنا مؤقف بیان کیا- اہلِ علم، خصوصاً ان کے اساتذہ نے سفارش کی کہ ایسے جلیل القدر عالم کو محض شبہات یا اہلِ بیت اطہار (رضی اللہ عنھم) سے نسبت کی بنیاد پر نقصان پہنچانا ایک بڑی محرومی ہوگی- چنانچہ ان کی جان بخشی ہوئی، لیکن ان پر یہ پابندی عائد کر دی گئی کہ وہ بغداد میں وعظ و خطاب نہیں کریں گے-
اس پابندی کے باوجود انہوں نے اظہارِ حق کا ایک نیا راستہ اختیار کیا- انہوں نے حبِ اہلِ بیت کو اپنے اشعار کا موضوع بنایا اور قصائد کے ذریعے اپنے جذبات و عقائد کو عام کرنا شروع کیا- یہ اشعار زبان زدِ عام ہوئے، لوگوں نے انہیں یاد کیا اور یوں علمی و ادبی انداز میں محبتِ اہلِ بیت کا پیغام پھیلتا چلا گیا- امام شافعی کا دیوان اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ ان کے نزدیک اہلِ بیت اطہار (رضی اللہ عنھم)سے محبت نہ صرف ایک دینی قدر تھی بلکہ ایک زندہ اور متحرک احساس تھا ، جسے وہ ہر حال میں بیان کرتے رہے-آپؒ فرماتے ہیں:
|
لَئِنْ کَانَ ذَنْبِیْ حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ |
’’پس اگر(حکمرانوں کی نظر میں) آل محمد(ﷺ) کی محبت میراگناہ ہے تویہ گناہ وہ ہے جس سے میں کبھی توبہ نہیں کروں گا‘‘-
|
ھُمْ شُفَعَائِیْ یَوْمَ حَشْرِیْ وَ مَوْقَفِیْ |
’’وہ (اہلبیت) میرے شفیع اورملجاوماویٰ ہیں میرے حشرکے دن، جب قیامت والے دن ان کی شان ظاہر ہوگی‘‘-
|
آلُ النَّبِیِّ ذَرِیْعَتِیْ |
’’آل نبی(ﷺ) بارگاہ الٰہی میں میراذریعہ اوروسیلہ ہیں ‘‘-
|
اَرْجُوْ بِھِمْ اُعْطٰی غَدًا |
’’اُمیدہے کل قیامت کے دن ان کے وسیلے سے مجھے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیاجائے گا‘‘-
|
تَأَوَّہَ قَلْبِیْ وَالْفُؤَادُ کَئِیْبُ |
’’میرادل غمزدہ ہوگیااورمیرا فوادشکستہ ہے:میری نینداڑگئی عجیب وغریب قسم کی بے خوابی ہے‘‘-
|
فَمَنْ مُّبْلِغٌ عَنِّی الْحُسَیْنَ رِسَالَۃً |
’’پس کون ہے جو میرا خط حضرت سیدّنا حسین ؓ تک پہنچائے والااگرچہ نفوس اورقلوب اسے ناپسندہی کریں‘‘-
|
ذَبِیْحٌ بِلَا جُرْمٍ، کَأَنَّ قَمِیْصَہُ |
’’آپؓ بغیر کسی جرم کے ذبح ہوئے، آپؓ کا کرتہ گویا سرخ رنگ سے رنگا ہواہے‘‘-
|
تَزَلْزَلَتِ الدُّنْیَا لِآلِ مُحَمَّدٍ |
’’دنیاآل محمد(ﷺ) کے لئے متزلزل ہوگئی قریب تھا کہ پہاڑوں کی سختی بھی زائل ہوجائیگی ‘‘-
|
وَ غَارَتْ نُجُوْمٌ وَّاقْشَعَرَّتْ کَوَاکِبُ |
’’(آلِ محمد (ﷺ)کے غم میں )ستارے غروب ہوگئے اور کواکب مرجھاگئے یہ پردے چاک ہوگئے اورگریباں پھٹ گئے‘‘-
|
یُصَلّٰی عَلَی الْمَبْعُوْثِ مِنْ آلِ ھَاشِمٍ |
’’یہ عجیب بات ہے کہ ہم بنوہاشم کے منتخب مرد(رسول کریم (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں جبکہ ان کی اولاد کواذیت پہنچاتے ہیں‘‘-
|
قَالُوْا تَرَفَّضْتَ قُلْتُ: کَلَّاؔ |
’’لوگوں نے کہاکہ آپ رافضی ہوگئے ہیں(میں نے جواب دیا)ہرگزنہیں رافضی مسلک نہ میرادین ہے نہ میراعقیدہ ہے‘‘-
|
لٰکِنْ تَوَلَّیْتُ غَیْرَ شَکٍّ |
’’لیکن بے شک میں توحضرت علیؓ سے دوستی رکھتاہوں جوتمام اماموں اور ہادیوں سے بہترہے‘‘-
|
اِنْ کَانَ حُبُّ الْوَلِیِّ رَفْضًا |
’’اگرحضرت علیؓ کی محبت سے انسان رافضی ہوجاتاہے تومیں سب سے بڑارافضی ہوں‘‘-
|
اِنْ کَانَ رَفْضًا حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ |
’’ (انہیں یہ کہہ دو) کہ اگرآلِ محمد(ﷺ) کی محبت کانام رفض ہے تو اس کائنات ارضی کے تمام جن وانس گواہ رہیں کہ میں رافضی ہوں ‘‘-
|
یَا آلَ بَیْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ حُبُّکُمْ |
’’اے اہل بیت رسول اللہ(ﷺ) !تمہاری محبت اللہ کے نازل کردہ قرآن مجیدمیں فرض قراردی گئی ہے ‘‘-
|
یَکْفِیْکُمْ مِنْ عَظِیْمِ الْفَخْرِ أَنَّکُمْ |
’’تمہارے عظیم المرتبت ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ جوتم پر درود نہ پڑھے اس کی نمازہی نہیں ہوتی‘‘-
امام شافعیؒ نے اپنے اشعار اور اقوال میں اس تضاد کی نشاندہی کی جس میں ایک طرف لوگ اپنے آپ کو عبادت گزار ظاہر کرتے ہیں، محمد رسول اللہ (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں، مگر دوسری طرف آپ (ﷺ) کی آل کے بارے میں ایسے رویّے اختیار کرتے ہیں جو اس درود کی روح کے منافی ہوتے ہیں- ان کے نزدیک یہ ایک گہرا فکری اور اخلاقی تضاد تھا کہ زبان سے محبت کا دعویٰ ہو اور عمل میں اس کے تقاضے پورے نہ کیے جائیں-
اسی تناظر میں انہوں نے اس بات کو واضح کیا کہ آلِ محمد (ﷺ) سے محبت کو کسی منفی تعبیر میں پیش کرنا یا اسے غلط معنی پہنانا دراصل اس تعلیم کے خلاف ہے جسے دین نے بطورِ قدر قائم کیا ہے- محبتِ اہلِ بیت اطہار (رضی اللہ عنھم)ایک ایسا اصول ہے جو انسان کے باطن، اس کے اخلاق اور اس کے رویّے میں ظاہر ہونا چاہیے-
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) سے حقیقی محبت اسی وقت معتبر ہو سکتی ہے جب ہمارے دلوں میں اہل بیت اطہار (رضی اللہ عنھم) کے لئے احترام اور محبت ہو- اس کے بغیر محبت کا دعویٰ ادھورا رہ جاتا ہے اور ایک عملی تضاد کی صورت اختیار کر لیتا ہے- اس اصولی موقف میں نہ شدت ہے اور نہ کسی کے لیے نفرت، بلکہ ایک فکری توازن ہے جو محبتِ رسول (ﷺ) اور محبتِ اہلِ بیت کو ایک ہی سلسلے کی کڑیاں قرار دیتا ہے-
بزبانِ بیدم وارثی:
|
بیدم یہی تو پانچ ہیں، مقصودِ کائنات |
چوتھے امام، سیدنا امام احمد بن حنبلؒ کی سیرت اور اقوال بھی اسی تسلسل کو واضح کرتے ہیں جس میں اہلِ بیت اطہار (رضی اللہ عنھم)کے ساتھ وابستگی ایک اصولی اور ایمانی تقاضے کے طور پر سامنے آتی ہے-ان کے بارے میں متعدد اکابر علماء، ابنِ حجر ہیتمی، قاضی ثناء اللہ پانی پتی، جلال الدین سیوطی، قاضی ابو لیلیٰ، علامہ ابنِ جوزیؒ جیسے آئمہ کرام نے روایات نقل کی ہیں، جنہیں حنابلہ کے بڑے طبقے نے بھی قبول کیا اور اپنی کتب میں محفوظ رکھا-
امام احمد کے پوتے صالح بن احمد بن حنبل فرماتے ہیں:
’’میں نے اپنے والد امام احمد بن حنبلؒ سے عرض کیا:کچھ لوگ ہمیں یزید کی طرف منسوب کرتے ہیں (یعنی ہم اسے اچھا سمجھتے ہیں)-تو امام احمدؒ نے فرمایا:
يَا بُنَىَّ هَلْ يَسُوْغُ لِمَنْ يُّؤْمِنُ بِاللهِ اَنْ يُّحِبَّ يَزِيْدَ وَلِمَ لَا يَلْعَنُ رَجُلٌ لَّعَنَهُ اللهُ فِىْ كِتَابِهٖ
’’اے بیٹے ! کیا کسی مومن کیلئے جائز ہے کہ وہ یزید سے محبت کرے؟ایک بندہ یزید پر لعنت کیوں نہ کرے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس پر لعنت کی‘‘-
میں نے عرض کی کہ ابا جان اللہ تعالی اپنی کتاب میں کہاں یزید پر لعنت کرتا ہے؟امام احمد نے فرمایا :جہاں اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرماتا ہے:
’’فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَہُمُ اللہُ فَاَصَمَّہُمْ وَ اَعْمٰٓی اَبْصَارَہُمْ‘‘ [8]
’’تم سے یہ بعید نہیں ہے کہ اگر تم کو زمین میں حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد کرو گے اور رشتے توڑ ڈالو گے-یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی تو ان کو بہرا بنادیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا‘‘-
تو امام احمدؒ نے فرمایا:کیا فسادِ فی الارض میں قتلِ حسینؓ سے بڑا بھی کوئی جرم ہوسکتا ہے؟[9]
امام جلال الدين السيوطیؒ (المتوفى: 911ھ) فرماتے ہیں:
’’لَعَنَ اللهُ قَاتِلَهٗ وَ اِبْنَ زَيَادٍ مَعَهٗ وَيَزِيْدَ أَيْضًا‘‘[10]
’’اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس (یعنی حسین کو) قتل کرنے والے پر اور اُسی کے ساتھ ابن زیاد اور یزید پر بھی‘‘ -
قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے ’’ تفسیر مظہری‘‘ میں یہاں تک لکھا ہے کہ :
حَيْثُ قُتِلَ اِبْنُ بِنْتِ رَسُوْلِ اللهِ (ﷺ) وَأَهَانَ عِتْرَتَهٗ وَافْتَخَرَ بِهٖ وَقَالَ هٰذَا يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ
جہاں رسول (ﷺ) کی بیٹی کے بیٹے کو قتل کیا گیا، اور اہلِ بیتِ نبوت کے دیگر افراد کو بھی قتل کیا گیا اور اہلِ بیت کی بے حرمتی کی گئی اور اس پر فخر محسوس کیا گیا، اور کہا گیا: ‘یہ دن بدر کے دن جیسا ہے-
اس نے ایک فوج بھیجی رسول (ﷺ) کے شہر مدینہ پر، اور ویسا ہی کچھ کیا جیسا واقعۂ حُرّة میں مدینہ اور اس کی مسجد (مسجد نبوی) کے ساتھ کیا گیا،جو آغازِ اسلام سے تقویٰ کی بنیاد پر قائم تھی اور وہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے- اس نے اللہ کے گھر (کعبہ) کے اطراف منجنیقیں نصب کیں اور ابن الزبیر جو حضرت ابوبکر کے نواسے تھے، اسے قتل کیا
’’حَتّٰى كَفَرَ بِدِيْنِ اللهِ وَأَبَاحَ الْخَمَرَ‘‘
’’یہاں تک کہ اس نے اللہ کے دین کا انکار کر دیا اور خمر (شراب) کو حلال قرار دیا‘‘-
یہ نام نہاد ملوکیتوں کے پروردہ جو یزید ملعون کے حق ہونے پہ استدلال کرتے ہیں اور واقعۂ کربلا میں حضرت امام عالی مقام (رضی اللہ عنہ) کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں-یاد رکھیں!اگر یزید لعین حق پہ حکمران ہوتا، تو نہ کربلا کا سانحہ ہوتا اور نہ مدینے کی بے حرمتی کا واقعہ پیش آتا- کیونکہ اگر یزید لعین حق پر ہوتا تو سب سے پہلے مدینہ منورہ کی حرمت قائم کرتا- مدینہ منورہ کی حرمت کا پامال ہونا یہ دلیل ہے کہ یزید لعین ناحق تھا- جب یزید لعین کا اقتدار ناحق ہے، تو قتلِ حسین بھی ناحق ہوا-
مدینہ منورہ شہرِ رسول تھا اور حُسین (رضی اللہ عنہ)جانِ رسول تھا-مدینہ منورہ میں رسول اللہ(ﷺ) کا جسد اقدس تھا اور امام حسین (رضی اللہ عنہ) میں رسول اللہ(ﷺ)کا خون تھا- تو وہ حکمران کیسے حق پہ ہو سکتا ہے جس نے شہرِ رسول (ﷺ) کو پامال کیا اور جانِ رسول(ﷺ)کو اذیت دی؟
مدینہ منورہ نے اسلام کو بڑھایا لیکن یزید بدبخت نے نسلی عصبیت کی بنیاد پر مدینہ منورہ کی حرمت کو پامال کیا-جیسا کہ سیدہ زینب (رضی اللہ عنہا) کے ساتھ یزید ملعون نے جو مکالمہ کیاوہ اس کی واضح دلیل ہے کہ یزید ملعون میں حسد، بغض اور نسلی عصبیت اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی- وگرنہ ایک امتی کی کیسے ہمت ہو سکتی ہے کہ وہ رسول اللہ(ﷺ) کے مبارک شجرے اور نسب پر طعن کرے-
اس لئے حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
|
جے کجھ ملاحظہ سرور(ﷺ) دا کردے تاں خیمے تمبو کیوں سڑدے ھو |
آلِ مصطفیٰ (ﷺ) کے ساتھ جو بغض ظاہر ہوا، اس کی جڑ دراصل اسی نسبت میں پیوست تھی جو انہیں رسولِ اکرم (ﷺ) سے حاصل تھی-یوں یہ محض اشخاص سے اختلاف نہ رہا بلکہ اس نسبتِ مقدس سے دوری اور انکار کی ایک شکل بن گیا- اسی طرح مدینہ منورہ، جو مرکزِ رسالت اور مظہرِ اسلام ہے، اس کے ساتھ روا رکھا گیا طرزِ عمل بھی اسی ذہنیت کا آئینہ دار ٹھہرتا ہے- اس تناظر میں واقعۂ کربلا اور مدینہ میں پیش آنے والے سانحات محض تاریخی واقعات نہیں بلکہ ایک اصولی حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ جہاں حرمتِ اہلِ بیت اور تقدسِ مدینہ پامال ہو، وہاں حق کا دعویٰ خود مشکوک ہو جاتا ہے-
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:
’’اَلْمَدِیْنَۃُ حَرَمٌ فَمَنْ اَحْدَثَ فِیْھَا حَدَثاً اَوْ اٰوٰی مُحْدِثاً فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَ الْمَلَائِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْن‘‘[11]
’’مدینہ حرم ہےلہٰذا جو شخص اس میں کوئی جرم کرے گا یا کسی مجرم کو پناہ دے گا ، اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے‘‘-
جو بھی مدینہ منورہ کے بارے میں بُرا سوچے تو آقا کریم (ﷺ) اللہ کے حضور یہ دعا فرماتے ہیں کہ:
’’اَللّٰھُمَّ مَنْ اَرَادَنِیْ وَ اَھْلَ بَلَدِیْ بِسُوْئٍ فَعَجِّلْ ھَلَاکَہٗ‘‘[12]
’’اے اللہ ! جو مجھ سے اور میرے شہر والوں سے برائی کا ارادہ کرے تو اسے جلداز جلد ہلاک فرما دے‘‘-
حضرت زید بن اسلم (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:
’’اَللّٰھُمَّ مَنْ اَرَادَ الْمَدِیْنَۃَ بِسُوْئٍ فَاذُبْہُ کَمَا یَذُوْبُ الرَّصَاصُ فِی النَّارِ اَوْ کَمَا یَذُوْبُ الْمِلْحُ فِی الْمَآئِ‘‘[13]
’’اے اللہ ! جو مدینہ سے کسی برائی کا ارادہ کرے تو اسے ایسے پگھلا دے جیسے سیسہ آگ میں پگھلتا ہے اور جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے‘‘-
حضرت سائب بن خلاد (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا:
’’اَللّٰھُمَّ مَنْ ظَلَمَ اَھْلَ الْمَدِیْنَۃِ وَ اَخَافَھُمْ فَاَخِفْھُمْ وَ عَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَ الْمَلَآئِکَتِہٖ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ‘‘[14]
’’اے اللہ ! جس نے اہلِ مدینہ پر ظلم کیا اور انہیں ڈرایا تو تُو بھی انہیں خوفزدہ کر دے اور اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو‘‘-
معتبر کتب اور صحیح روایات کی روشنی میں جب یہ واقعات سامنے رکھے جاتے ہیں تو سوالات خود اپنی شدت کے ساتھ ابھرتے ہیں:
- کیا مدینہ پر حملہ نہ ہوا؟
- کیا وہاں کے باشندوں پر ظلم نہ کیا گیا؟
- کیا مسجدِ نبوی کی اذان بند نہ ہوئی؟
- کیا اس کے تقدس کو مجروح نہ کیا گیا؟
- کیا اس شہر کی حرمت کو پامال نہ کیا گیا؟
یہ وہ سوالات ہیں جو تاریخ کے صفحات پر محض الفاظ نہیں بلکہ ایک دردناک حقیقت کے طور پر ثبت ہیں-
مدینہ، جو شہرِ رسول (ﷺ) ہے، جس کی گلیاں نسبتِ مصطفیٰ (ﷺ) سے معطر ہیں، اگر اسی شہر میں ظلم کی داستان رقم ہو، تو یہ واقعہ محض ایک سیاسی حادثہ نہیں رہتا بلکہ ایک عظیم اخلاقی سانحہ بن جاتا ہے- اسی لیے احادیثِ نبویہ میں اہلِ مدینہ پر ظلم اور انہیں خوف میں مبتلا کرنے والے کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے کہ ایسے شخص پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کے اعمال کسی درجے میں قبول نہیں-
اسی پس منظر میں اسلاف کے اکابر آئمہ امام ابوحنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام ابن حنبلؒ کے احوال اور اقوال واضح طور پر بتاتے ہیں کہ یہ واقعات محض اختلافات نہیں بلکہ یزید لعین نے بغضِ مصطفےٰ(ﷺ) میں یہ مظالم ڈھائے-اس لئے سانحۂ کربلاحق و باطل کے درمیان ایک واضح خطِ امتیاز کی حیثیت رکھتا ہے کہ حسین ؓ حق ہے اور یزید ملعون ہے-
یہی وہ مقام ہے جہاں یہ سوال اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ دین کا معیار کیا ہے؟ کیا محض کسی نام یا نسبت کا دعویٰ، یا وہ اصول جن میں حرمت، عدل اور نسبتِ رسول (ﷺ) کا احترام شامل ہے؟ جب ان اصولوں کو نظر انداز کیا جائے تو محبت کے دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں اور جب محبتِ اہلِ بیت کو تعصب یا مخالفت کی بنیاد پر رد کیا جائے تو یہ رویہ خود ایک گہرے فکری بحران کی علامت بن جاتا ہے-
سیدنا حضرت امام عالی مقام(رضی اللہ عنہ) کا حق پر ہونا،آپؓ کی یاد کو زندہ رکھنا، آپؓ کے غم میں اشک بہانا اور آپؓ کے پیغام کو سمجھنا دراصل اسی روایت کا تسلسل ہے جسے اسلافِ امت، آئمہ دین اور مجتہدین نے اپنے عمل سے واضح کیا-یہ محض ایک واقعہ کی یاد نہیں بلکہ اس اصول کی پہچان ہے جس کیلئے آپؓ نے ظلم، جبر اور استبداد کے سامنے ڈٹ کر قیام کیا-
تاریخِ امت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ جب بھی خارجی تسلط یا سامراجی قوتیں سامنے آئیں، ان کے مقابلے میں وہی طبقات سب سے زیادہ ثابت قدم نظر آئے جن کے دلوں میں روحِ دین زندہ تھی- سندھ میں پیر صاحب پگارو کی تحریک، لیبیا میں سنوسی تحریک، الجزائر میں امیر عبدالقادر کی جدوجہد، قفقاز میں امام شامل کی مزاحمت اور برصغیر میں فضلِ حق خیرآبادی کا فتویٰ،یہ سب اسی تسلسل کی کڑیاں ہیں جہاں دین محض عبادت نہیں بلکہ حریت، غیرت اور حق کی حفاظت کا عنوان بن جاتا ہے-
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ جب تک امت کے دلوں میں حضرت امام عالی مقام (رضی اللہ عنہ) کی محبت ایک زندہ حقیقت کے طور پر موجود رہی، وہ ظلم کے سامنے جھکنے کو تیار نہ ہوئی- اسی لیے مختلف ادوار میں ایسے فکری و سماجی رجحانات پیدا کیے گئے جن کا مقصد اس محبت کو محدود کرنا یا اسے کسی خاص دائرے میں مقید کرنا تھا، تاکہ امت کی اجتماعی قوت کو کمزور کیا جا سکے- مگر حقیقت یہ ہے کہ سیدنا حضرت امام عالی مقام(رضی اللہ عنہ) کی ذات گرامی کسی ایک گروہ یا طبقے کی میراث نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے مشترکہ شعور کی علامت ہے-
اس لیے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ حضرت امام عالی مقام (رضی اللہ عنہ) سے محبت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایک فکری اور ایمانی تقاضا ہے- یہ محبت قرآن کریم کے پیغام، رسول اللہ (ﷺ) کی نسبت اور دین کی روح سے جڑی ہوئی ہے- جب تک یہ محبت دلوں میں زندہ ہے، حق اور باطل کے درمیان امتیاز قائم رہتا ہے اور جب یہ کمزور پڑتی ہے تو فکری انتشار اور اخلاقی ابہام جنم لیتا ہے- یہی وہ معیار ہے جس کے ذریعے انسان اپنے مؤقف، اپنی وابستگی اور اپنی سمت کا تعین کرتا ہے-
خواجہ اجمیر فرماتے ہیں:
|
شاہ است حسین، بادشاہ است حسین |
’’شاہ بھی حسینؓ ہیں، بادشاہ بھی حسینؓ ہیں-دین بھی حسینؓ ہیں، دین کی پناہ بھی حسینؓ ہیں-سر دے دیا مگر اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں نہیں دیا -حقیقت تو یہ ہے کہ لا الہ کی بنیاد بھی حسینؓ ہیں‘‘-
اسلام نے اپنے آغاز ہی سے ایک واضح اور بنیادی نعرہ عطا کیا:’’لاالہ الا الله‘‘-یہی نعرہ اپنی عملی صورت میں اس اعلان تک پہنچا کہ ’’لا قیصر و لا کسریٰ‘‘ نہ کوئی قیصر باقی رہے گا اور نہ کوئی کسریٰ-یعنی اقتدار کا وہ موروثی اور جابرانہ تصور جس میں بادشاہت نسل در نسل منتقل ہوتی ہے، اسلام کے مزاج کے منافی ہے-
یہی وجہ ہے کہ جب اقتدار کی منتقلی کے لیے ازلی بد بخت یزید لعین کا نام سامنے آیا تو اس کے جواز میں یہ استدلال پیش کیا گیا کہ جیسے سیدنا ابوبکر(رضی اللہ عنہ) نے اپنی حیات کے آخری ایام میں سیدنا عمر (رضی اللہ عنہ)کو نامزد کیا تھا، اسی طرح امت کو بغیر امیر کے چھوڑنا مناسب نہیں،لہٰذا یزید لعین کی نامزدگی بھی اسی اصول کا تسلسل ہے-مگر اس استدلال کے جواب میں سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر(رضی اللہ عنہ) نے دوٹوک انداز میں اس فرق کو واضح کیا کہ یہ طرزِ عمل نہ حضرت ابوبکر(رضی اللہ عنہ) کا طریق ہے اور نہ حضرت عمر(رضی اللہ عنہ) کا، بلکہ یہ تو قیصر و کسریٰ کی روش ہے کہ باپ کے بعد بیٹا اقتدار سنبھالے-اسلام کا اصول اس کے برعکس ہے، جہاں قیادت نسبی وراثت نہیں بلکہ ذمہ داری اور امانت ہے-
اسی تناظر میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر اقتدار کو موروثی بادشاہت کی صورت میں قبول کر لیا جاتا تو ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کے عملی تقاضے مجروح ہوتے اور وہی قیصریت و کسریت دوبارہ زندہ ہو جاتی جسے اسلام نے مٹایا تھا-اس لیے سیدنا حضرت امام عالی مقام(رضی اللہ عنہ) کا مؤقف محض ایک سیاسی اختلاف نہیں بلکہ اسی اصول کی حفاظت تھا-آپؓ نے سر تو دے دیا مگر ایسے نظام کے آگے سرِ تسلیم خم نہ کیا جو اس بنیادی اعلان کے خلاف تھا-
اس لئے محبتِ حضرت امام عالی مقام(رضی اللہ عنہ) کی روایت بھی اسی اصولی شعور کے ساتھ امت میں منتقل ہوئی-برصغیر کی علمی و روحانی روایت میں خواجہ معین الدین چشتی اور حضرت سلطان باھوؒ جیسے اکابر نے اس محبت کو ایمان، معرفت اور عمل کے ساتھ جوڑا- یہ محبت کسی ایک طبقے یا گروہ کی میراث نہیں رہی بلکہ صدیوں سے ایک مشترکہ روحانی ورثے کے طور پر زندہ رہی ہے، جہاں ذکرِ حسینؓ کو حق، وفا اور استقامت کی علامت سمجھا گیا ہے-
اس لیے یہ دعا کریں کہ :
- یا اللہ! ہمیں حضور(ﷺ) کی آل اور حضور(ﷺ) کی عترت کی محبت نصیب فرمائے
- یا اللہ! اپنے اور اپنے محبوب کریم (ﷺ) کے نور کی طرف ہماری آنکھوں سے حجابات کو ہٹا دے
- یا اللہ! اس کے بچوں کی خیر کر جو رسول اللہ (ﷺ) کے بچوں کی خیر چاہتا ہے
- یا اللہ! دنیا میں، قبر میں، آخرت میں اس کا حامی ہو جا جو رسول اللہ(ﷺ)کے بچوں کا حامی ہو گیا
- یا اللہ! ان کی مدد فرما جو آلِ محمد(ﷺ) کے مددگار ہیں-
- یا اللہ! دشمنوں کے مقابل ان کا دفاع مؤثر کر دے جو حضور (ﷺ)کے بچوں کا دفاع کر تے ہیں-
- یا اللہ! انہیں ذلیل و رسوا فرما جو ذلیل و رسوا لوگوں کو رسول اللہ(ﷺ)کے بچوں پر ترجیح دیتے ہیں-
- یا اللہ! ایسے لوگوں کو کوئی غم نہ پہنچے جنہیں حضور (ﷺ) کے بچوں کا غم ہے
- یا اللہ! ہماری ان بیٹیوں بہنوں کے سروں کی چادروں کو سلامت رکھ جنہیں چادرِ زینبؓ کا غم ہے-
- یا اللہ! ان کے درجے اور فضیلتیں بلند فرما جو رسول اللہ (ﷺ) کے اور آپؐ کی آل کے درجے اور فضیلتیں بیان کرتے ہیں-
- یا اللہ! جو سیدنا علی اصغر(رضی اللہ عنہ) کی پیاس میں تڑپتے ہیں، انہیں بروزِ حشر ساقیِ کوثر کے مبارک ہاتھوں سے سیراب فرما-
- یا اللہ! جنہیں شبیہِ رسول سیدنا امام علی اکبر(رضی اللہ عنہ) سے محبت ہے، ان کا غم رکھتے ہیں، انہیں کثیر مرتبہ شبیہِ مصطفیٰ کے طفیل رخِ مصطفےٰ (ﷺ)کی زیارت نصیب فرما-
- یا اللہ! جن کے دل مودتِ آلِ محمد (ﷺ)سے روشن ہیں، دنیا میں ان کے چہروں کو روشن فرما، برزخ میں ان کی قبروں کو روشن فرما، آخرت میں ان کے انجام کو روشن فرما-
- یا اللہ! میں ان سے براءت کا اعلان کرتا ہوں جنہوں نے قتل اہل بیت پر ظالموں، غاصبوں اور آمروں سے موافقت اختیار کی-
یا اللہ! ہمیں دنیا میں بھی ان سے الگ فرما دے، برزخ میں ہماری روحیں ان سے دور رکھ اور آخرت کے دن ہمیں ان کے ساتھ حساب کے لیے کھڑا نہ کر-
- یا اللہ! جب تو رسول اللہ(ﷺ)اور آپ کی آل کے حبداروں کو کھڑا کرے تو حضور(ﷺ)اور آپ کی آل کے صدقے ہمیں حضور(ﷺ) اور آپ کی آل کے حبداروں میں کھڑا فرما-
- یا اللہ! ہمارے حال پر کرم فرما اورعلم کو ہمارے لیے وبالِ جان اور گمراہی نہ بنا-ہم ایسے نہ ہو جائیں جیسے علم نے نمرودی ، فرعونی اور یزیدی علماء کو کر دیا تھا-
- یا اللہ! اپنی، رسول اللہ (ﷺ) کی اور آپ کی آل کی معرفت عطا فرما-
٭٭٭
[1](سنن ترمذی، کتاب فضائل و مناقب)
[2](الشورٰی:23)
[3](تفسیر بغوی، زیر آیت الشورٰی:23)
[4](تفسیر بیضاوی، زیر آیت الشورٰی:23)
[5](صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ)
[6](شعب الایمان)
[7](اَلْاِنْتِقَاءُ فِیْ فَضَائِلِ الثَّلَاثَةِ الْآئِمَةِ الْفُقَهَاءِ)
[8](سورہ محمدؐ:22-23)
[9]( الصواعق المحرقہ/ تفسیر مظھری/ تفسیر روح المعانی/ المعتمد الاصول)
[10]( تاريخ الخلفاء)
[11]( صحیح مسلم، کتاب الحج)
[12](المصنف عبد الرزاق، کتاب لاشربۃ و الظروف)
[13](ایضاً)
[14](معجم الکبیر)