ابیات باھوؒ: مُرشد کامِل اوہ سہیڑیئے جہڑا دو جگ خُوشی وِکھاوے ھو

ابیات باھوؒ:  مُرشد کامِل اوہ سہیڑیئے جہڑا دو جگ خُوشی وِکھاوے ھو

ابیات باھوؒ: مُرشد کامِل اوہ سہیڑیئے جہڑا دو جگ خُوشی وِکھاوے ھو

مصنف: Translated By M.A Khan جولائی 2026

م:مُرشد کامِل اوہ سہیڑیئے جہڑا دو جگ خُوشی وِکھاوے ھو
پہلے غم ٹُکڑے دا مَیٹے وَت ربّ دا راہ سمجھاوے ھو
اِس کَلر وَالی کندھی نوں چَا چَاندی خاص بناوے ھو
جِس مُرشد اِیتھے کُجھ نہ کیتا باھوؒ او کُوڑے لارے لاوے ھو

Adopt such murshid kamil, who presents happiness in both worlds Hoo

Firstly eradicates the fear of earning then shows me the path toward Rabb Hoo

Turn this wall of saline earth into pure silver Hoo

Such murshid who is unable to do anything here Bahoo he gives false hopes Hoo

Murshid kamil oah suhai’Riye jeh’Ra do jag ‘Khushi wikhaway Hoo

Pehlay gham ‘Tuk’Ray da mai’Tay wat rab di rah samjhaway Hoo

Is kalar wali kandhi no’H cha chandi ‘Khas banaway Hoo

Jis murshid aithay kujh nah kita Bahoo oh ku’Ray laray laway Hoo

تشریح: 

:’’اے باھُو ! مرشد وہ ہے جو طالب کو راہِ حق پر گامزن کر کے حضور نبی رحمت(ﷺ( کی مجلس میں پہنچا دے‘‘-(عین الفقر)

حضرت سُلطان باھوؒ کی تعلیمات ِفقر کے مطابق مرشد صاحب تلقین ہوتا ہے جو طالب کے باطنی وجود کا ربط اللہ عزوجل سے یوں جوڑتا ہے کہ  بظاہر وہ دنیا میں رہ کردنیاوی معاملات سر انجام دے رہا ہوتا ہے لیکن اس کے ہر عمل کو قبولیت اوررضائے الٰہی کی سند حاصل ہوتی ہے اور وہ طالب اللہ کو اس کا مشاہدہ بھی کرواتاہے جیساکہ آپؒ فرماتے ہیں :’’صاحب ِ قلب مرشد دونوں جہان کا تماشا قلب کی طے میں کھول کر دکھا دیتا ہے ‘‘(اسرار القادری)-

2:’’مرشد ِکا مل سب سے پہلے اِسی دیو ِخبیث، مصاحب ِ ابلیس کو تصورِ اسم اللہ ذات کی تلوار سے قتل کرتاہے اور جب یہ دیو نفس مرجاتاہے تو بندے اور ربّ کے درمیان سے بیگانگی کا پردہ ہٹ جاتاہے اور بندہ ہر وقت بلا حجاب دیدارِ پروردگار کرتا ہے- ‘‘(نورالھدٰی)- مزید ارشادفرمایا :’’مرشد ِکامل اُسے کہتے ہیں جو طالب ِنجس نجاست اہل ِنفس خراب حال کو ایک ہی نظر سے حرص و طمع و عجب وکبر و ہوا سے پاک کر کے اپنی توجہ سے معرفت ِالٰہی بالقا تک پہنچا دے‘‘-(امیرالکونین)

3: دراصل انسانی وجود کی مثال اس کائنات کی طرح ہے اس لئے اس کو عالم اصغر بھی کہتے ہیں ،اس میں جہاں نفس امارہ وخواہشاتِ نفسانیہ وغیرہ کی طرح مضر اشیا ء ہیں وہاں اس میں اللہ عزوجل نےکافی خزائن بھی رکھے ہیں اور ان خزائن کی چابیاں اللہ پاک نے مرشد کامل اکمل مکمل جامع نورالھدٰی کے دست ِ اقد س میں رکھ دی ہیں جیساکہ آپؒ فرماتے ہیں :’’جس طرح کسی عامل اُستاد کے بغیر پارہ کشتہ ہو کر کھانے کے قابل نہیں ہوتا اُسی طرح عطائے مر شد ِکامل کے بغیر معرفت ِتوحید ِاِلٰہ ہرگز حاصل نہیں ہوتی کیونکہ وجودِ انسانی ایک طلسم کدہ ہے جسے صاحب ِطلسمات مرشد ہی کھول کر خزائن ِاِلٰہی بخش سکتا ہے اورصاحب ِمعما مرشد ہی وجود کے معما کو حل کر سکتا ہے- اللہ بس ما سویٰ اللہ ہوس‘‘ – (اسرارالقادری)

4: ’’نامرد مرشد ِناقص طالب اللہ سے آج کل کے وعدے کرتاہے‘‘(نورالھدٰی)-

 اس سارے بیت مبارک میں مختلف استعاروں اور مثالوں سے مقام ِ مرشد کو بیان کیا گیا-مزیدآپؒ فرماتے ہیں :’’پس وسیلۂ مرشد دراصل حضور نبی رحمت(ﷺ)سے وسیلہ بوسیلہ دست بیعت ہے جو مرشدانِ اہل ِہدایت اؤلیا ء اللہ فقرائے کامل شروع ہی سے اَصحابِ کبار (رضی اللہ عنھم) کی طرح ایک دوسرے کے قائم مقام ہو کر کرتے چلے آرہے ہیں اور قیامت تک کرتے چلے جائیں گے-جو کوئی اِس میں شک کرے وہ زندیق ہے اور لوگوں کو راہِ ر استی سے بھٹکانے والا ہے جس شخص کا مرشد نہیں وہ ہوائے نفس کا قیدی ہے - مرشد حضور نبی رحمت(ﷺ) کی بارگاہ مبارک میں پہنچاتاہے ، جس کا مرشد نہیں وہ شیطان کا مرید ہے اور جسے مرشد مل گیا وہ ہم مرتبۂ بایزید ؒہے،جس شخص کا مرشد نہیں وہ خودی کے جال میں گرفتار ہو کر خود نمائی پر اُتر آتاہے ورنہ مرشد اُسے وحدتِ خدا کا اِستغراق بخشتا ہے ،کوئی مجتہد بھی بے پیر و بے مرشد نہیں ہوا -مجتہد حضرات نے علمِ روایت کا فیض مرشد کی تعلیم و تلقین و ہدایت ہی سے پایا-پس معلوم ہوا کہ علمِ روایت محض نفس کشی اور ہدایت کی خاطر ہے-جو شخص باطن میں حیات النبی ؐ و مجلس ِنبوی (ﷺ)کی حضوری اور اہل ِ ہدایت مرشد ِکامل سے دست بیعت کا منکر ہے وہ کافر ہے کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے :’’اے ایمان والو ! تقویٰ اختیار کرو اور قربِ اِلٰہی کی خاطر وسیلہ تلاش کرو‘‘- (کلیدالتوحیدکلاں)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر