فی زمانہ بعض ایسی فکری اور روحانی الجھنیں پیدا ہو چکی ہیں اور علمی انحطاط، فکری زوال اور علمی محنت کے ترک کر دیے جانے کے باعث لوگوں کے اذہان بنیادی دینی حقائق کے بارے میں بھی تشویش اور اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں- تعصبات، تنازعات، تفرقوں،جھگڑوں، تشدد پسندی اور ظلم کو اس قدر فروغ دیا گیا ہے کہ امت کا ایک بڑا طبقہ اصل دینی روح سے دور ہوتا چلا گیا- ایسے ماحول میں اولیاء اللہ کے منہج سے وابستہ کسی شخص کے لیے یہ امر ہرگز باعثِ دشواری نہیں کہ وہ اولیاءِ کرام کی اپنی تصانیف اور ان کی تعلیمات کو قبول کرے، کیونکہ ان بزرگوں کی تعلیمات قرآن و سنت اور سلفِ صالحین کے علوم پر قائم ہیں-
اگر حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ ،امام شہاب الدین سہروردیؒ کی ’’عوارف المعارف‘‘، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہیؒ کے ملفوظات ’’فوائد الفواد‘‘، حضرت عبد الرحمٰن جامیؒ کی ’’لَوائح‘‘ ، سیدنا غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی ’’فتوح الغیب، فتح الربانی اور سرّ الاسرار‘‘،حضرت مجدد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندیؒ کے مکتوبات، سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ کی کتب مبارکہ، شیخ الاکبر محی الدین ابن عربیؒ کی تصانیف، امام نجم الدین کبریٰؒ اور امام قشیریؒ کی کتب اور مقدمات کا مطالعہ کیا جائےتو اہلِ تصوف کے لیے ان تعلیمات کو قبول کرنے میں کوئی تردد اور دشواری باقی نہیں رہتی، کیونکہ یہ سب ایک ہی سرچشمۂ ہدایت سے فیض یاب ہیں-یہ حضرات مفسرین، محدثین، فقہاء، اور آئمۂ عقیدہ ہیں جنہوں نے قرآنِ مجید سے اس بنیادی اور اساسی فکر کو اخذ کیا جس پر اولیاء اللہ کی تعلیمات اور پورا روحانی نظام قائم ہے-
اولیاء اللہ کی تعلیمات کی بنیاد ’’دل‘‘ پر قائم ہے- صوفیاء اسے ’’اندر کی بات‘‘ کہتے ہیں- روحانیت کا پورا نظام، تزکیۂ نفس کی تمام منازل، معرفت کا سارا سفر اور باطن کی تمام کیفیات اسی دل کے گرد گھومتی ہیں-
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ایک دل وہ ہے جو جسمانی اور مادی وجود رکھتا ہے، جسے طب کی اصطلاح میں Physical Heart کہا جاتا ہے، اور جس کی معرفت اور بیماریوں کے علم کے ماہرین کارڈیالوجسٹ کہلاتے ہیں- یہ ظاہری اور جسمانی دل ہے- لیکن اولیاء اللہ جس ’’دل‘‘ کا ذکر کرتے ہیں، وہ وہی دل ہے جس کا ذکر قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں آیا ہے- انسان کے اندر ایک روحانی وجود ہے جو اسی ظاہری جسم کے اندر پوشیدہ ہے-
جب صوفیاء ’’الہام‘‘ اور ’’کشف‘‘ کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں تو ان کا تعلق اس ظاہری جسم یا مادی دل سے نہیں ہوتا، بلکہ انسان کے باطنی وجود اور روحانی قلب سے ہوتا ہے- کشف، الہام، مشاہدہ اور معرفت،یہ سب دل کی دنیا کے معاملات اور انسان کے اندرونی وجود کے احوال ہیں-
حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
|
شد اجازت باھُو را از مصطفٰےؐ |
’’مجھے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اجازت دی کہ مَیں خلق ِخدا کو تلقین کروں‘‘ -
اسی بنیاد پر آپؒ نے مرشدِ کامل کا معیار یہ بیان فرمایا کہ مرشد وہی ہے جسے حضور نبی اکرم (ﷺ)کی مجلسِ اقدس سے دعوت و تربیت کی اجازت، اذن اور سند عطا ہوئی ہو-
اسی طرح تصوف کی عظیم اور معرکۃ الآراء کتاب ’’فصوص الحکم‘‘ کے آغاز میں شیخ الاکبر محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں کہ انہیں حضور نبی کریم (ﷺ) کی بارگاہِ اقدس سے بذریعہ الہام اور تلقین وہ علوم عطا ہوئے جن میں سے بعض کو انہوں نے اس کتاب میں جمع کر دیا-
یہی دراصل مکاشفہ کی بنیاد ہے، یہی مشاہدہ کی اصل ہے- جب عرفاء عرش کے احوال بیان کرتے ہیں، عالمِ لاہوت کے واقعات ذکر کرتے ہیں، عالمِ ملکوت کی کیفیات کا تذکرہ کرتے ہیں، تو ان تمام امور کی اساس یہی باطنی قلب، روحانی ادراک اور الہامی شعور ہوتا ہے، جس کی اَساس قرآن و سنت پہ ہونے کو تمام اسلاف و اکابر نے تسلیم کیا اور اولیاءِ کاملین نے اپنے مجاہدات، ریاضات اور روحانی تجربات سے واضح کیا-
الہام کیا ہے ؟
امام السید الشریف الجرجانیؒ اپنی مشہور تصنیف ’’التعریفات ‘‘ میں الہام کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں:
’’اَلْإِلْهَامُ: مَا يُلْقٰى فِي الرُّوْعِ بِطَرِيْقِ الْفَيْضِ‘‘
’’الہام وہ چیز ہے جو دل میں فیضانِ الٰہی کے ذریعے ڈالا جائے‘‘-
وَقِيْلَ: اَلْإِلْهَامُ: مَا وَقَعَ فِيْ القَلْبِ مِنْ عِلْمٍ،’’ وَهُوَ يَدْعُوْ إِلَى الْعَمَلِ مِنْ غَيْرِ اِسْتِدْلَالٍ بِآيَةٍ، وَلَا نَظْرٍ فِيْ حُجَّةٍ‘‘
اور کہا گیا ہے کہ:الہام وہ (باطنی )علم ہے جو دل میں ڈالا جائےاور وہ (الہام )انسان کو کسی عمل کی طرف بغیر کسی آیت سے استدلال یا کسی دلیل و حجت پر غور و فکر کے آمادہ کرے‘‘-
امام ابنِ صلاحؒ کا شمار امتِ مسلمہ کے اُن عظیم آئمہ میں ہوتا ہے جنہوں نے حدیث، فقہ، عقیدہ اور تفسیر کے میدان میں غیر معمولی علمی خدمات انجام دیں- علمِ حدیث کے اصول پر جو چند نہایت معتبر، مقتدر اور مستند کتب لکھی گئیں، ان میں سب سے عظیم اور بنیادی کتاب مقدمہ ابن الصلاح ہے- یہ کتاب امام ابنِ صلاح شہرزوریؒ کی وہ شاہکار تصنیف ہے جسے بعد کے اکابر علماء نے نہ صرف قبولِ عام بخشا بلکہ اس پر شروحات، حواشی اور علمی تعلیقات کا ایک عظیم ذخیرہ مرتب کیا-امام عز الدین ابن جماعہؒ نے اس کی شرح لکھی، برہان الدین ابو اسحاق عباسیؒ نے اس پر کلام فرمایا، سراج الدین بلقینیؒ نے اس کی شرح تحریر کی، جبکہ امام بدر الدین زرکشی، امام زین الدین عراقی اور حافظ ابن حجر عسقلانیؒ جیسے جلیل القدر ائمہ نے اس پر حواشی اور تعلیقات لکھیں-
امام ابنِ صلاحؒ ’’الہام‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’وَأَمَّا الْإِلْهَامُ فَهُوَ خَاطِرٌ حَقٌّ مِنَ الْحَقِّ تَعَالٰى فَمِنْ عَلَامَتِهٖ أَنْ يَّنْشَرِحَ لَهُ الصَّدْرُ وَلَا يُعَارِضَهٗ مُعَارِضٌ مِّنْ خَاطِرٍ آخَرَ-وَاللهُ أَعْلَمُ‘‘
’’اور بہرحال الہام، تو وہ حق تعالیٰ کی طرف سے آنے والا ایک سچا خیال ہوتا ہے-اس کی علامت یہ ہے کہ دل اس سے کھل اٹھتا ہے (سینہ منشرح ہوتا ہے)اور اس کے مقابل کوئی دوسرا خیال اس کی مخالفت نہیں کرتا-اور اللہ زیادہ جاننے والاہے‘‘-
یعنی الہام کے مقابل کوئی دوسرا باطل خیال ٹکرانے والانہیں ہوتا، کیونکہ الہام کی ایک بنیادی علامت یہ ہے کہ وہ حق کی تصدیق کرنے والا ہوتا ہے-اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کوئی بھی شخص اٹھ کر کوئی دعویٰ کر دے اور لوگ اسے فوراً ’’الہام‘‘ سمجھ کر قبول کر لیں- ہر شخص کی کہی ہوئی بات الہام نہیں ہوتی- الہام کی شرائط ہیں، اس کے اصول ہیں اور اس کے لیے شرعی میزان موجود ہے-
اسی لیے امام ابنِ صلاحؒ نے الہام کی علامات بیان کرتے ہوئے یہ بنیادی شرط عائد کی کہ کوئی الہام ایسا نہیں ہو سکتا جو کتاب و سنت یا دین کی اصل بنیادوں کے خلاف لے جائے- اگر کوئی دعویٰ ایسا ہو جو قرآن، سنت اور شریعتِ محمدیہ (ﷺ) کے خلاف ہو تو وہ ہرگز الہام نہیں بلکہ استدراج اور گمراہی ہے-
اسی حقیقت کو شیخ الاسلام امام ابن حجر ہیتمیؒ نے’’فتاویٰ حدیثیہ ‘‘میں نقل فرمایا:
’’أَنَّ الْإِلْهَامَ حُجَّةٌ، أَيْ فِيْمَا لَا مُخَالَفَةَ فِيْهِ لِحُكْمٍ شَرْعِيٍّ ‘‘
الہام ہر اس چیز میں حجت ہے ، جس میں کسی شرعی حکم کی مخالفت نہ پائی جاتی ہو ‘‘-
لہٰذا اگر کوئی شخص ایسا دعویٰ کرے جس میں شریعت کی مخالفت موجود ہو، قرآن و سنت سے انحراف ہو، یا دین کے کسی قطعی حکم کے خلاف بات ہو، تو وہ الہام نہیں بلکہ باطل اور استدراج ہے-
الہام کے بارے میں یہ بنیادی اصول ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ الہام انسان کو حق سے دور کرنے کیلیے نہیں بلکہ حق کے قریب کرنے کیلیے آتا ہے اور حق شریعتِ محمدی (ﷺ)ہے-پس ہر وہ چیز جو انسان کو شریعت سے دور کرے، خواہ اسے الہام کا نام دیا جائے یا کسی اور عنوان سے پیش کیا جائے، وہ حقیقت میں الہام نہیں بلکہ باطل اور فریب ہے- ہر وہ الہام جو انسان کو شریعت کی موافقت، اتباع، محبت اور کامل پیروی کی طرف لے جائے، جو انسان کے اندر سنتِ نبوی (ﷺ) کی رغبت پیدا کرے، جو بندے کو تقویٰ، اطاعت، عبادت اور اتباعِ مصطفیٰ (ﷺ)کی راہ پر گامزن کرے، وہی ’’الہامِ صادق‘‘ ہے-
اولیاء اللہ ہمیشہ اسی الہام کی دعوت دیتے ہیں، ایسا الہام جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرے، رسول اللہ (ﷺ) کی اطاعت میں مضبوط کرے اور شریعتِ مطہرہ کی مکمل پیروی کا لباس پہنائے-
امام عبد الرؤوف مناویؒ جو عقیدہ، حدیث اور علومِ اسلامیہ کے جلیل القدر اماموں میں شمار ہوتے ہیں، الہام کے بارے میں نہایت لطیف اور دقیق گفتگو فرماتے ہیں:
’’اَلْإِلْهَامُ: مَا يُلْقٰى فِي الرُّوْعِ بِطَرِيْقِ الفَيْضِ، وَ يَخْتَصُّ مِنْ جِهَةِ اللهِ وَالْمَلَإِ الْأَعْلٰى، وَ يُقَالُ: إِيْقَاعُ شَيْءٍ فِي الْقَلْبِ يَطْمَئِنُّ لَهُ الصَّدْرُ، يَخُصُّ اللهُ بِهٖ بَعْضَ أَصْفِيَائِهٖ‘‘
’’الہام وہ چیز ہے جو فیضانِ الٰہی کے ذریعے دل میں ڈالا جاتا ہےاور یہ اللہ تعالیٰ اور ملأِ اعلیٰ (فرشتوں کی بلند جماعت) کی طرف سے خاص طور پر ہوتا ہے-یہ بھی کہا گیا ہے کہ:الہام کا مطلب ہے دل میں کسی بات کو ڈال دینا،جس پر سینہ مطمئن ہو جائے اور اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں میں سے بعض کو الہام کے ساتھ خاص فرماتا ہے‘‘-
یعنی الہام وہ خاص عطیہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یا ملاءِ اعلیٰ، یعنی فرشتوں کی بلند ترین جماعت کی طرف سے بندے کو نصیب ہوتا ہے-گویا الہام اللہ تعالیٰ کی ایک روحانی عطا ہے جو اس کے نیک اور برگزیدہ بندوں کے دلوں پر وارد ہوتی ہے- کبھی یہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کے قلب میں القا کیا جاتا ہے، جس میں کسی فرشتے یا واسطے کا دخل نہیں ہوتا- یہ کبھی ایک خیال کی صورت میں وارد ہوتا ہے، کبھی ایک کیفیت کی صورت میں اور کبھی ایک باطنی کلام کی شکل اختیار کر لیتا ہے- بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کی طرف فرشتوں کے ذریعے اس فیض کو نازل فرماتا ہے-
الہام یہ ہے کہ دل میں ایسی بات ڈال دی جائے جس سے سینہ مطمئن ہو جائے، اور اللہ تعالیٰ اپنے خاص اور پاکیزہ بندوں کو اس عطا کے ساتھ مخصوص فرما دیتا ہے- انسان کے دل میں کوئی ایسی کیفیت، کوئی ایسا خیال، کوئی ایسی روشنی پیدا ہو جائے جو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف مائل کرے، اس کے قرب کا شوق پیدا کرے، اس کی محبت کو بڑھا دے اور اس کے راستے پر چلنے کیلئے دل میں سکون اور اطمینان پیدا کر دے-
اس کی ایک سادہ اور عام فہم مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ جب حضرت سلطان باھوؒ کا یہ مشہور پنجابی بیت سنا جاتا ہے:
|
دِل دریا سمندروں ڈُوگھے کون دِلاں دیاں جانے ھو |
سننے والے کے دل پر ایک کیفیت طاری ہو جاتی ہے- انسان کے اندر ایک سکون، ایک سکینہ، ایک باطنی لطافت پیدا ہوتی ہے- دل دنیا سے ہٹ کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے لگتا ہے- انسان محسوس کرتا ہے کہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی طلب اور اس کی محبت بڑھ رہی ہےاور اس کا دل ایک روحانی تسکین پا رہا ہے-
اگر ایک بیت سن کر سننے والے کے دل پر سکون اور سکینہ طاری ہو جاتا ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ لکھنے والے کے دل پر وہ کیفیت نہ آئی ہو؟ اگر سننے والے کو اس سے روحانی راحت نصیب ہوئی، تو یقیناً لکھنے والے کے دل میں بھی وہ نورانی کیفیت پہلے وارد ہوئی ہوگی- یہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کلام محض نفس کی اِختراع نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے دل پر القا ہونے والی ایک باطنی کیفیت کا اظہار ہے-گویا الہام ہر شخص کے دعوے کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص عطا ہے جو اس کے اصفیاء، اولیاء اور صالح بندوں کو نصیب ہوتی ہے-
اسی طرح فقہِ حنفی کے عظیم محقق، امام ابن عابدین شامیؒ ، جن کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’رد المحتار علی الدر المختار (فتاویٰ شامی)‘‘ فقہِ حنفی کے عظیم ترین انسائیکلوپیڈیاز میں شمار ہوتی ہے، الہام کے مختلف درجات بیان کرتے ہیں- امام شامیؒ اپنے زمانے کے جلیل القدر فقیہ تھے اور جس طرح علمائے اہلِ حدیث قاضی شوکانیؒ کو حدیث میں بلند مقام دیتے ہیں، اسی طرح فقہائے احناف امام شامیؒ کو فقہ میں غیر معمولی مقام مقام دیتے ہیں-
امام شامیؒ الہام کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی بے شمار اقسام ہیں جن کو گنا نہیں جا سکتا، لیکن انہیں چند بڑی اصناف میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
پہلی قسم:ایسی قوتوں کا عطا کرنا جن کے ذریعے انسان اپنے نفع و مصلحت کی راہیں پہچان سکے،جیسے عقل، باطنی حواس اور ظاہری احساسات-
دوسری قسم:حق و باطل، اور اصلاح و فساد میں امتیاز کرنے والی نشانیاں اور دلائل قائم کرنا-
تیسری قسم:رسولوں کو بھیج کر اور آسمانی کتابیں نازل فرما کر ہدایت دینا-
چوتھی قسم:أَنْ يَّكْشِفَ عَلٰى قُلُوْبِهِمُ السَّرَائِرَ
دلوں پر پوشیدہ حقائق کو منکشف کر دینا،
وَيُرِيَهُمُ الْأَشْيَاءَ كَمَا هِيَ بِالْوَحْيِ أَوِ الْإِلْهَامِ أَوِ الْمَنَامَاتِ الصَّادِقَةِ وَهٰذَا مُخْتَصٌّ بِالْأَنْبِيَاءِ وَ الْأَوْلِيَاءِ
اور چیزوں کو جیسا کہ وہ حقیقت میں ہیں ویسا دکھا دینا چاہے یہ وحی کے ذریعے ہو، یا الہام کے ذریعے، یا سچے خوابوں کے ذریعے- یہ قسم خاص طور پر انبیاء اور اولیاء کے ساتھ مخصوص ہے‘‘-
پہلی قسم سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کو ایسی باطنی قوت عطا فرما دیتا ہے جس کے ذریعے ان پر نفع اور کامیابی کی راہیں واضح ہو جاتی ہیں- انسان کے دل میں حق اور باطل کی تمیز پیدا ہو جاتی ہے- وہ خیر کو خیر اور شر کو شر سمجھنے لگتا ہے- اس کا دل باطل سے ہٹ کر حق کی طرف مائل ہونے لگتا ہے-اگرچہ ایسا شخص ولایت کے کسی بلند درجے پر نہ بھی ہو، تب بھی یہ کیفیت الہام کی ایک ابتدائی قسم شمار ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں حق کی پہچان اور خیر کی رغبت پیدا فرما دی-
دوسری قسم سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو ایسی بصیرت عطا فرما دیتا ہے جس کے ذریعے وہ اصلاح اور فساد میں امتیاز قائم کر لیتا ہے- وہ حق اور باطل کے درمیان فرق کو پہچان لیتا ہے، اور اس کے دل میں خیر کی طرف میلان پیدا ہو جاتا ہے-
الہام کی تیسری قسم انبیاءِ کرام (علھیم السلام)کے ساتھ خاص ہے- اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو برحق کتابیں عطا فرمائیں، ان کی تائید کیلئے ملائکہ نازل فرمائے، ان کی تصدیق فرمائی اور ان پر آسمانی وحی نازل کی-
الہام کی چوتھی قسم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں کے دلوں پر پوشیدہ حقائق کو منکشف فرما دیتا ہے-وہ حقائق جو عام انسانی نگاہ سے اوجھل رہتے ہیں، جنہیں عام لوگ نہیں دیکھ سکتے، اللہ تعالیٰ اپنے بعض خاص بندوں کو ان کا مشاہدہ کرا دیتا ہے-یعنی اللہ تعالیٰ ان بندوں کو چیزیں ویسی ہی دکھا دیتا ہے جیسی وہ حقیقت میں ہوتی ہیں، انبیاء کو وحی کے ذریعے، اولیاء کو الہام کے ذریعے اور بعض لوگوں کو سچے خوابوں کے ذریعے-
اس کے بعد امام شامیؒ نے ’’رد المحتار‘‘ میں کاہنوں، نجومیوں، جادوگروں، رمّالوں اور مختلف قسم کے غیب دانی کے دعوے کرنے والوں کا تفصیلی رد فرمایا- آپ نے بیان کیا کہ بعض لوگ ستاروں کی چال سے مستقبل کی خبریں بتانے کا دعویٰ کرتے ہیں، بعض ہاتھوں کی لکیروں یا نقشوں کے ذریعے قسمت کا حال بیان کرتے ہیں، بعض رمّالی اور جفر کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں، اور بعض مختلف توہمات اور باطل علوم کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں-کیونکہ یہ سب کے سب شرعاً مذموم اور حرام ہیں،اور ان کاہنوں پر اور ان کی تصدیق کرنے والوں پر کفر کا حکم لگایا گیا ہے- اس بحث کے ختم ہونے کے بعد لکھتے ہیں :
’’وَأَمَّا مَا وَقَعَ لِبَعْضِ الْخَوَاصِّ كَالْأَنْبِيَاءِ وَ الْأَوْلِيَاءِ بِالْوَحْيِ أَوِ الْإِلْهَامِ فَهُوَ بِإِعْلَامٍ مِّنَ اللهِ تَعَالٰى‘‘
’’اور رہا وہ معاملہ جو بعض خاص بندوں مثلاً انبیاء اور اولیاء کو وحی یا الہام کے ذریعے پیش آتا ہے،تو وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر و اطلاع ہوتی ہے‘‘-
علامہ محمد اقبالؒ نے اسی حقیقت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا:
|
ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے |
یعنی اے انسان! تیرا مقام زائچے بنانے والے نجومی کیا جانے؟ تو زندہ شعور رکھنے والی مخلوق ہے، ستاروں کا غلام نہیں-
لہٰذا نجومیوں، جادوگروں اور کاہنوں کے علوم اور اولیاء اللہ کے کشف و الہام کو ایک سمجھنا سخت غلطی ہے-کیونکہ جادوگروں اور نجومیوں کے علوم شیطانی وسوسوں اور فریب پر قائم ہوتے ہیں، جبکہ اولیاء اللہ کا کشف و الہام رحمانی عطا اور نورِ الٰہی کا فیض ہوتا ہے- یہی وجہ ہے کہ نجومیوں کے علم اور اولیاءِ کرام کے کشف و الہام کو ایک جگہ جمع نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دونوں کی حقیقت، بنیاد اور مقصد بالکل مختلف ہیں-
عصر حاضر میں ایک نہایت سنگین فکری الجھن پیدا ہو چکی ہے، جس نے عام ذہنوں کو خلط ملط کر دیا ہے-علمی زوال، دینی تربیت کے فقدان اور فکری انتشار کے باعث بہت سے ایسے لوگ میدان میں آ گئے ہیں جن کا اصل تصوف، اصل شریعت اور سلف کے منہج سے کوئی تعلق نہیں، لیکن وہ مختلف عنوانات اور ظاہری نسبتوں کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں-
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو بعض لوگ جو حقیقت میں ’’عامل‘‘ یا غیر مستند طریقوں کے حامل تھے، وہ پہلے اپنے نام کے ساتھ عامل لکھتے تھے-لیکن جب معاشرے میں دینی شعور کمزور ہوا، علمی معیار ڈھیلا پڑ گیا اور اجازت و سند کا نظام کمزور ہوا، تو انحرافی اور غیر معتبر حلقوں نے اپنی پہچان بدلنا شروع کر دی- انہوں نے ’عامل‘ کے بجائے اپنے لیے ’پیر‘ اور ’صوفی‘ جیسے مقدس نام اختیار کر لیے، تاکہ عوامی اعتماد حاصل کر سکیں-
یہ وہ نازک مقام ہے جہاں علمی امانت داری اور فکری دیانت کا سوال پیدا ہوتا ہے- کیونکہ جب تصوف کا اصل علمی ڈھانچہ کمزور ہو جائے اور عوام میں صرف عقیدت باقی رہ جائے مگر تحقیق اور علم نہ رہے، تو پھر ہر شخص اپنی مرضی سے خود کو کسی نسبت میں داخل کر لیتا ہے ، جو ’’اُم الامراض‘‘ ہے-
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ حقیقی اولیاء اللہ، جن کا منہج قرآن مجید اور سنت نبوی (ﷺ) پر قائم ہے، وہ ہرگز ایسے غیر شرعی، غیر علمی اور توہماتی طریقوں کی نہ تصدیق کرتے ہیں، نہ تائید، نہ پیروی- بلکہ ان کا واضح مؤقف ان تمام باطل نسبتوں اور فاسد دعوؤں کے خلاف ہوتا ہے-
اولیاء اللہ کے منہج کو دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ تصوف کوئی الگ یا شریعت سے جدا راستہ نہیں، بلکہ شریعت کی باطنی روح ہے- یہی وجہ ہے کہ فقہاء، محدثین اور متکلمین کی اکثریت نے حقیقی تصوف کی تائید کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ راہ کتاب و سنت سے متصادم نہیں بلکہ اسی کی گہرائی ہے-
اسی لیے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ اگر تصوف کو سمجھنا ہے تو اسے اس کے مستند مصادر سے سمجھا جائے،یعنی اولیاءِ کاملین کی اپنی تصانیف، ان کی تعلیمات اور ان کا عملی منہج، نہ کہ ان افراد کے ذریعے جو نہ علمی سند رکھتے ہیں، نہ شرعی تربیت، اور نہ ہی سلف کے منہج سے واقفیت-نتیجتاً، اصل دعوت ہمیشہ یہی رہی ہے اور رہے گی کہ شریعت ہی بنیاد ہے اور حقیقی تصوف شریعت ہی کی باطنی تعبیر ہے-جو بھی اس بنیاد سے ہٹ کر کوئی راستہ اختیار کرے، وہ تصوف نہیں بلکہ محض ایک فکری یا عملی انحراف ہے-
امام جلال الدین سیوطیؒ جیسی ہمہ جہت علمی شخصیت، جو حدیث، تفسیر، فقہ، تاریخ اور ادب کے امام ہیں-اپنی کتاب ’’الحاوی للفتاویٰ‘‘ میں اپنے اکابر اور مشائخ کے طریقِ تصوف کی وضاحت کرتے ہوئے امام ابو الحسن شاذلیؒ کے حوالے سے ایک نہایت اہم نکتہ نقل فرماتے ہیں:
’’اَلشَّيْخُ أَبُوْ الْحَسَنِ الشَّاذِلِيُّ إِمَامُ أَرْبَابِ الْقُلُوْبِ فِيْ زَمَانِهِ الَّذِيْ كَانَ يُسْأَلُ مُعْتَمِدًا عَلَى الْإِلْهَامِ الْوَاقِعِ فِيْ قَلْبِهٖ، ذَاكَ إِلْهَامُهٗ صَوَابٌ لَّا يُخْطِئُ، وَبَعْدَ مَوْتَاتٍ مَاتَهَا فِي اللهِ‘‘
’’حضرت شیخ ابو الحسن الشاذلیؒ اپنے زمانے میں اہلِ قلوب کے امام تھے- جب ان سے سوال کیا جاتا تو وہ اپنے دل میں نازل ہونے والے الہام پر اعتماد کرتے تھے-ان کا وہ الہام بالکل درست اور خطا سے پاک ہوتا تھا کیونکہ وہ اللہ کی خاطر کئی موتیں مر چکے تھے‘‘-
الہام پر اعتماد کی اصل وجہ یہ تھی کہ امام شاذلیؒ تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور مجاہدۂ باطن کے اس بلند مقام پر فائز ہو چکے تھے جہاں نفس کی خواہشات مدھم پڑ جاتی ہیں اور دل حق کے نور سے منور ہو جاتا ہے-
تصوف کی زبان میں اس کیفیت کو یوں بیان کیا جاتا ہے کہ جب انسان مسلسل مجاہدہ کرتا ہے، نفس کی مخالفت کرتا ہے، عبادات اور اذکار میں استقامت اختیار کرتا ہے، تو اس کے اندر کی ظلمتیں کم ہو جاتی ہیں اور دل پر انوارِ الٰہی غالب آجاتے ہیں - اسی کو اہلِ سلوک بعض اوقات ’’صفائے قلب‘‘ اور ’’نورِ بصیرت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں-
اسی تناظر میں امام شاذلیؒ کی مشہور دعا حزب البحر کو بھی اہلِ تصوف میں ایک بلند روحانی مقام حاصل ہے- یہ دعا دراصل ذکر، دعا اور توکل کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو اہلِ سلوک کے نزدیک روحانی استقامت اور باطنی قوت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے- البتہ اصل حقیقت یہی ہے کہ اس کے اثرات کو شریعت کے دائرے میں رہ کر سمجھا جائے، نہ کہ اسے کسی غیر شرعی یا غیبی دعوے کی بنیاد بنا لیا جائے-
یہاں ایک بنیادی علمی نکتہ نہایت اہم ہے کہ الہام، وحی کے برابر نہیں ہوتا-وحی صرف انبیاءِ کرام (علھیم السلام) کے ساتھ خاص ہے، جو قطعی، معصوم اور شریعت کی بنیاد ہے- جبکہ الہام اولیاء اللہ کے لیے شریعت کے تابع باطنی رہنمائی ہے-
اسی لیے اہلِ سنت کے جلیل القدر آئمہ نے ہمیشہ یہ اصول بیان کیا ہے کہ:
- نبی معصوم ہوتا ہے، اس پر وحی نازل ہوتی ہے
- ولی معصوم نہیں ہوتا، اس پر الہام آ سکتا ہے
- لیکن ہر الہام شریعت کے تابع ہوگا، شریعت کے خلاف نہیں ہو سکتا-
یہی وہ نکتہ ہے جسے بعض لوگ غلط سمجھ کر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر ولی کو الہام حاصل ہو تو وہ نبی کے برابر ہو گیا-حالانکہ یہ اعتراض علمی طور پر کمزور اور تاریخی طور پر غیر معتبر ہے، کیونکہ امت کے تمام بڑے آئمہ،محدثین، فقہاء اور متکلمین اس پر متفق ہیں کہ کرامت، الہام اور روحانی کشف ہرگز نبوت کے مقام کے برابر نہیں ہوتے بلکہ اس کے تابع اور اس کے خادم ہوتے ہیں-جب کشف اور الہام نصیب ہی آقاکریم (ﷺ) کی کامل اتباع سے ہوتا ہے تو پھر برابری کیسے ؟
یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید میں انبیاء کے علاوہ بھی صالحین کے لیے غیر معمولی روحانی مظاہر (کرامات) کا ذکر موجود ہے، لیکن کہیں بھی ان کو نبوت کے برابر نہیں کہا گیا- بلکہ ان کا مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نیک بندوں کی صداقت کی علامت ہوں-
لہٰذا اصل علمی اصول یہ ہے کہ الہام اگر حق ہو تو شریعت کے تابع ہوتا ہے اور اگر شریعت سے متصادم ہو تو وہ الہام نہیں بلکہ وہم، فریب یا استدراج ہوتا ہے- یہی اہلِ سنت والجماعت، فقہاء، محدثین اور صوفیاءِ حق کا متفقہ منہج ہے کہ ہر روحانی تجربہ، ہر باطنی کیفیت اور ہر دعویٰ کتاب و سنت کی میزان پر پرکھا جائے گا-
الہام کا ثبوت قرآن کریم سے:
’’الہام‘‘ کا تصور محض صوفیانہ اصطلاح نہیں بلکہ خود قرآنِ کریم نے غیر نبی کے لیے بھی اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے- مزید یہ بیان بھی کسی مجازی یا دور از قیاس انداز میں نہیں، بلکہ انہی الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے جنہیں اہلِ علم نے صدیوں سے ’’الہام‘‘ کے مفہوم میں سمجھا اور بیان کیا ہے-
یہ اعتراض کہ اگر اولیاء اللہ کے لیے الہام کو مان لیا جائے تو ان کا درجہ انبیاء کے برابر ہو جائے گا، یہ کوئی نیا اعتراض نہیں ہے- تاریخ میں یہ اعتراض پہلے بھی کیا گیا اور امت کے اکابر نے واضح کیا کہ یہ طرزِ فکر معتزلہ اور خوارج کے منہج سے مشابہ ہے- اہلِ سنت والجماعت نے ہمیشہ یہ فرق قائم رکھا کہ
وحیِ نبوت، خاصۂ انبیاء ہےجبکہ الہام، اولیاءِ صالحین کے لیے ایک عطیۂ الٰہی ہو سکتا ہےلیکن دونوں میں مقام، حجیت اور عصمت کے اعتبار سے بنیادی فرق ہے-
پہلی آیت کریمہ
قرآنِ کریم میں اس کی ایک عظیم مثال سورۂ کہف میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام)اور حضرت خضر (علیہ السلام)کے واقعے میں بیان ہوئی ہے-
حضرت موسیٰ (علیہ السلام)نے حضرت خضر (علیہ السلام)سے عرض کیا کہ مجھے وہ ’’علمِ لدنی‘‘ سکھائیے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا ہے- پھر وہ معروف واقعات پیش آئے: کشتی میں سوراخ کرنا، ایک بچے کو قتل کرنا اور یتیموں کی دیوار کو بغیر اجرت تعمیر کر دینا-
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر موقع پر سوال کیا، کیونکہ ظاہری شریعت کے اعتبار سے یہ افعال غیر معمولی تھے- لیکن جب حضرت خضر (علیہ السلام)نے آخر میں حقیقت واضح کی-جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
’’وَمَا فَعَلْتُہٗ عَنْ اَمْرِیْط ذٰلِکَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْہِ صَبْرًا ‘‘[1]
اور میں نے (جو کچھ بھی کیا) وہ اَز خود نہیں کیا، یہ ان (واقعات) کی حقیقت ہے جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘‘-
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب انہوں نے اپنی طرف سے نہیں کیا، تو پھر کس کے حکم سے کیا؟
اس پر امام جلال الدين السيوطی (المتوفى: 911ھ) ’’اَلْإِكْلِيْلُ فِی اسْتِنْبَاطِ التَّنْزِيْل‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’وَهٰذِهِ الْقِصَّةُ أَصْلٌ فِيْ عِلْمِ الْحَقِيْقَةِ، وَأَنَّ الْمَشْرَعَ لَا يُنْكِرُ مَا جَرٰى عَلٰى مُقْتَضَاهَا وَاسْتَدَلَّ بِقَوْلِهٖ: وَمَا فَعَلْتُہٗ عَنْ اَمْرِیْ‘‘
’’اور یہ قصہ(حضرت موسٰی اور حضرت خضر(علیھم السلام)کے علمِ حقیقت کی اصل (بنیاد) ہے، اور شریعت نے اس پر مبنی جو کچھ واقع ہوا، اس کا انکار نہیں کیا-اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:’’اور میں نے یہ کام اپنی طرف سے نہیں کیا تھا‘‘-
امام جلال الدین سیوطیؒ حضرت موسٰی اور حضرت خضر (علیھم السلام)کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
’’مَنْ قَالَ بِنُبُوَّةِ الْخَضِرِ لِأَنَّهٗ يَقْتَضِيْ أَنَّهٗ أُوْحِيَ إِلَيْهِ، وَمَنْ قَالَ إِنَّهٗ وَلِيٌّ أَجَابَ بِأَنَّهٗ وَحْيُ إِلْهَامٍ وَّاسْتَدَلَّ بِهٖ عَلٰى حُجِّيَّةِ الْإِلْهَامِ‘‘
’’جن لوگوں نے حضرت خضر (علیہ السلام)کی نبوت کا قول کیا، ان کا استدلال یہ ہے کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان پر وحی نازل کی گئی-اور جنہوں نے کہا کہ وہ ولی تھے، انہوں نے جواب دیا کہ یہ وحیِ الہامی تھی، اور اسی کو حجیتِ الہام (الہام کے معتبر ہونے) پر دلیل بنایا‘‘-
یہ قصہ ’’علمِ حقیقت‘‘ کی اصل کو بیان کرتا ہےاور اس اختلاف کو دور کرتا ہے کہ اگر حضرت خضر (علیہ السلام) کو نبی مانا جائے تو یہ افعال وحی کے تحت تھے اور اگر انہیں ولی مانا جائے تو پھر یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض اولیاء کو بھی الہام اور باطنی رہنمائی عطا فرماتا ہے-
دوسری آیت کریمہ
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَ اَوْحَیْنَآ اِلٰٓی اُمِّ مُوْسٰٓی ‘‘[2]
’’اور ہم نے موسٰی کی ماں کو الہام فرمایا ‘‘-
یہاں قرآنِ کریم خود ’’وحی‘‘کا لفظ استعمال کر رہا ہے-
حضرت قتادہ (رضی اللہ عنہ)اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’وَحْيُ إِلْهَامٍ، فَقَذَفَ فِي قَلْبِهَا، أَلْهَمَتْهُ، لَيْسَ بِوَحْيِ النُّبُوَّةِ‘‘[3]
’’یہ الہام کی وحی تھی، پس اللہ نے اس کے دل میں ڈالی، اسے الہام کیا، یہ نبوت کی وحی نہیں تھی‘‘-
یہاں وحی سے مراد وحی تشریعی تو ہو نہیں سکتی-کیونکہ وحی تشریعی انبیاء (علیھم السلام)کا خاصہ ہے اور عورتوں میں اللہ تعالیٰ نے نبوت نہیں رکھی-جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْہِمْ‘‘[4]
’’اور (اے حبیبِ مکرّم!) ہم نے آپ سے پہلے (بھی) مَردوں کو ہی (رسول بنا کر) بھیجا تھا ہم ان کی طرف وحی بھیجا کرتے تھے‘‘-
سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’وَ مَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْہِمْ‘‘ [5]
’’اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مَردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے‘‘-
قرآن مجید کی ان دو آیات سے واضح ہو گیا کہ نبوت عورتوں میں نہیں ہے تو ظاہر بات ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ولیہ ہیں ، نبیہ نہیں ہیں-لیکن قرآن کریم نے وحی کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام)کی والدہ ماجدہ کی طرف کی ہے-لہٰذا!جب وحی کی نسبت غیر نبی کی طرف کی جائےتو پھر وہاں وحی سے مراد الہام ہوتا ہے-
جیسا کہ آئمۂ تفسیر، مثلاً یحییٰ بن سلام اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں ’’وحی‘‘ سے مراد ’’الہام‘‘ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ بات القا فرمائی کہ اپنے بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا کے حوالے کر دو، اور خوف نہ کرو-گویا قرآنِ مجید خود یہ حقیقت بیان کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض غیر نبی مگر صالح اور پاکیزہ بندوں کے دلوں میں الہام فرماتا ہے-
یہ محض امکان یا جواز کی بحث نہیں کہ’’ایسا ہو سکتا تھا‘‘، بلکہ یہ ایک واقعہ ہے جسے قرآنِ کریم بطورِ حقیقت بیان کر رہا ہے- یعنی یہ کوئی فرضی یا نظری مسئلہ نہیں بلکہ ایک امرِ واقعہ ہے جس کا ذکر خود کتابُ اللہ میں موجود ہے-
لہٰذا یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ غیر نبی کی طرف الہام کا آنا قرآن کریم سے ثابت ہے-یہ نبوت نہیں، بلکہ ایک عطیۂ الٰہی ہےاور اس کا مقصد بندے کو اللہ کی اطاعت، خیر اور حفاظت کی طرف رہنمائی دینا ہے-اسی لیے اہلِ سنت نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو اپنے نیک بندوں کے دلوں پر حق بات القا فرما سکتا ہے اور اس میں نہ کوئی شرعی قباحت ہے اور نہ ہی یہ نبوت کے مقام کے منافی ہے-
تیسری آیت کریمہ
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَأَوْحٰى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ‘‘[6]
’’اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیا‘‘-
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے ’’اَوْحٰی‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے- ’’اَلْهَمَ‘‘نہیں فرمایا حالانکہ ’’الہام‘‘ کا مفہوم بھی اسی سے نکلتا ہے- اس لفظ کا مادہ ’’وَحی‘‘ ہے- جب یہی وحی کسی نبی کی طرف ہوتی ہے تو وہ ’’وحیِ تشریعی‘‘ کہلاتی ہے، جس کے احکام کا انکار کفر ہے- لیکن جب یہی وحی غیر نبی کی طرف ہو تو وہ تشریعی نہیں ہوتی، البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حق اور سچا الہام ضرور ہوتی ہے، جس کا وقوع قرآن کریم سے ثابت ہے-
پس یہ محض امکان یا جواز کی بات نہیں کہ اللہ چاہے تو کسی غیر نبی کو الہام دے سکتا ہے، بلکہ یہ ایک ثابت شدہ قرآنی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غیر انبیاء بلکہ بعض اوقات حیوانات تک کی طرف بھی وحی اور الہام فرمایا-
مفسر شہیر یحییٰ بن سلام رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’قَوْلُهٗ: وَأَوْحٰى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَيْ أَلْهَمَهَا‘‘
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان “اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی فرمائی یعنی اسے الہام کیا‘‘-
اب ذرا غور کیجیے کہ قرآنِ مجید شہد کی مکھی کے لیے الہام کا اثبات کر رہا ہے- یہ کسی فرضی امکان کا بیان نہیں بلکہ ایک واقعہ ہے جو وقوع پذیر ہو چکا- اللہ تعالیٰ نے مکھی کو الہام فرمایا، اسے سکھایا، اس کی رہنمائی فرمائی-
تو سوال یہ ہے کہ جب قرآن ایک مکھی کے لیے الہام کو ثابت کر رہا ہے، تو اللہ کے نیک بندوں کے لیے الہام کا انکار کیوں کیا جاتا ہے؟
انسان کا مقام تو حیوانات سے کہیں بلند ہے- اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل عطا فرمائی، شعور دیا، نطق و بیان کی قوت دی اور فہم و ادراک سے نوازا- اگر ایک شہد کی مکھی اللہ کے الہام سے بہرہ ور ہو سکتی ہے تو ایک کامل بندۂ مؤمن جو بندگی، تقویٰ اور اطاعت میں اللہ کا مقرب ہو، اس کے لیے الہام کا ہونا کیسے ناممکن قرار دیا جا سکتا ہے؟
یہ بات عقل، فہم، ادراک اور خود قرآنِ مجید کے واضح بیان کے خلاف ہے کہ مکھی کے لیے الہام کو مان لیا جائے مگر اللہ کے صالح بندوں کے لیے اس کا انکار کر دیا جائے-
لہذا اس مسئلے کو تعصب سے نہیں بلکہ قرآن کریم، عقل، علم اور عام فہم (Common sense) کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے- اگر اللہ تعالیٰ اپنے کسی نیک بندے پر فضل فرمائے، اسے ہدایت، باطنی رہنمائی یا الہام سے نواز دے، تو اس میں کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا-
اللہ تعالیٰ جس پر چاہے اپنا فضل فرماتا ہے، اور جب وہ اپنے کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو اسے اپنی خاص عنایتوں سے نوازتا ہے- اس لئے انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی رحمت پر اعتراض کرنے کے بجائے اس کا شکر ادا کرے-
چوتھی آیت کریمہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ‘‘[7]
’’اور جب میں نے حواریوں کے دل میں (یہ) ڈال دیا کہ تم مجھ پر اور میرے پیغمبر (عیسٰی علیہ السلام) پر ایمان لاؤ‘‘-
اس آیت مبارکہ میں بھی ’’اَوْحَیْتُ‘‘کا لفظ بیان ہوا ہے جس کے معانی ہیں’’میں نے وحی کی یا میں نے القا کیا یا میں نے دلوں میں یہ بات اتاری‘‘-
امام ابن ابی حاتم رازی رحمہ اللہ ’’وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیّٖنَ‘‘ کی تفسیر میں امام حسن بصریؒ کا قول نقل کرتے ہیں :
رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهٗ قَالَ: أَلْهَمْتُهُمْ
’’امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ :’’میں نے ان کے دلوں میں الہام کیا‘‘-
یہاں توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ وحی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف نہیں بلکہ ان کے حواریوں کی طرف کی گئی- حواری نبی نہیں تھے، بلکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخلص ساتھی اور مددگار تھے-اس کے باوجود اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ان کی طرف ’’وحی‘‘ کی نسبت فرما رہا ہے، جس کا معنی مفسرین کرام نے ’’الہام‘‘ بیان کیا ہے-
قرآن کریم واضح طور پر یہ فرق بیان کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)نبی تھے، ان پر کتاب نازل ہوئی، انہیں انجیل عطا کی گئی اور یہ وحیِ نبوت تھی-دوسری طرف حواریوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان، تصدیق، نصرتِ دین اور ہدایت کے لیے الہام فرمایا- اس سے نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)کی نبوت پر کوئی فرق آیا اور نہ ہی حواری نبی بن گئے-لہٰذا معلوم ہوا کہ نبی پر وحی برحق ہے-ولی پر الہام بھی برحق ہے-دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں-لیکن دونوں کا درجہ، مقام اور نوعیت الگ الگ ہے-
اس لئے جب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کے دلوں میں الہام ڈال سکتا ہے، تو وہ اپنے محبوب کریم (ﷺ) کے صالح غلاموں، عاشقوں اور اولیاء کو بھی الہام کر سکتا ہے- اس میں کوئی تضاد نہیں، کوئی مغالطہ نہیں، اور نہ ہی یہ نبوت کے برابر ہے- قرآن کریم خود اس حقیقت کو بیان کر رہا ہے-لہٰذا لوگوں کایہ کہنا کہ ’’اللہ کسی ولی یا صالح بندے کو الہام نہیں دیتا ‘‘، یہ بات قرآنِ مجید کے ظاہر بیان کے خلاف ہے اور قرآن کا انکار ہے - کتاب اللہ تو غیر نبیوں کے لیے الہام کا اثبات کر رہی ہے- پھر اس کا کلی انکار کیسے درست ہو سکتا ہے؟
اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن بندوں سے راضی ہوتا ہے، ان کے دلوں میں خیر، ہدایت، نصرتِ دین اور اتباعِ حق کی کیفیت پیدا فرما دیتا ہے- حواریوں کے دلوں میں بھی یہی بات ڈالی گئی تھی تاکہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مددگار بنیں، ان کے دین کو آگے پہنچائیں، ان کی تعلیمات کی نصرت کریں اور لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچائیں-
جب اللہ تعالیٰ حواریوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین کی مدد کریں، تو وہ حضور نبی کریم (ﷺ) کے امتیوں کے دلوں میں بھی یہ جذبہ پیدا کر سکتا ہے کہ وہ دینِ مصطفیٰ کی نصرت کریں، محبتِ رسول کو عام کریں اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کریں-کیونکہ یہ نہ خلافِ قرآن ہے، نہ خلافِ سنت، بلکہ اس حقیقت کا انکار خود قرآن و سنت کے مزاج کے خلاف ہے-
یاد رکھیں!یہ راستہ کوئی نیا راستہ نہیں- یہ صرف چند مجذوبوں یا ملنگوں کی اختراع نہیں، بلکہ صدیوں سے اکابرِ امت، آئمہ عقیدہ ، محدثین، مفسرین، فقہاء، اولیاء، مجتہدین اور اہلِ علم اسی اصول کو مانتے آئے ہیں- دین کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اولیاء اللہ کی صحبت اور تربیت سے وابستہ رہتے تھے، کیونکہ یہ تربیت دلوں میں اخلاص، نرمی، محبت اور رجوع الی اللہ پیدا کرتی ہے-
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے اور میڈیا نے تصوف کی ایک مسخ شدہ تصویر پیش کی ہے- ڈراموں اور فلموں میں صوفی یا ملنگ کو اس انداز میں دکھایا جاتا ہے کہ گویا تصوف کا مطلب صرف دنیا سے کٹ جانا، عجیب لباس پہننا یا غیر معمولی حرکات کرنا ہے- حالانکہ حقیقی تصوف یہ نہیں-
حقیقی تصوف وہ ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت پر ہو- تمام معروف سلاسلِ تصوف، قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ اور شاذلیہ اسی قرآن و سنت پر قائم ہیں-تمام سلاسل کےنزدیک:
’’صوفی وہ ہے جو قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارے جس کے عقائد، اعمال اور افکار شریعت کے تابع ہوں‘‘-
لہٰذا تصوف کا حقیقی مقصد انسان کے باطن کی اصلاح، اللہ تعالیٰ کی محبت، اتباعِ رسول اور اخلاص پیدا کرنا ہے، نہ کہ شریعت سے آزادی حاصل کرنا-
اسی آیتِ مبارکہ کے تحت امام ابو اسحاق ثعلبی رحمہ اللہ نے اپنی ’’تفسیر الکشف والبیان‘‘ میں فرمایا:
’’وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوارِيِّيْنَ أَيْ أَلْهَمْتُهُمْ وَقَذَفْتُ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْوَحْيَ. وَالْوَحْيُ عَلٰى أَقْسَامٍ، وَحْيٌ بِمَعْنٰى إِرْسَالِ جِبْرِيْلَ إِلَى الرَّسُوْلِ وَوَحْيٌ بِمَعْنَى الْإِلْهَامِ كَالْإِيْحَاءِ إِلٰى أُمِّ مُوْسٰى وَالنَّحْلِ، وَ وَحْيٌ بِمَعْنَى الْأَحْلَامِ فِيْ حَالِ الْيَقَظَةِ فِي الْمَنَامِ‘‘[8]
اور جب میں نے حواریوں کو وحی کی یعنی میں نے انہیں الہام کیا اور ان کے دلوں میں وہ بات ڈال دی-پھر فرمایا کہ وحی کی کئی اقسام ہیں:وہ وحی جو جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے رسولوں پر نازل کی جاتی ہے ،(یہ انبیاء کے لیے خاص ہے)-وہ وحی جو الہام کے معنی میں ہوتی ہے، جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کو یا شہد کی مکھی (نحل) کو کی گئی-اور ایک وہ وحی جو خواب یا بیداری کے حال میں اشارہ و الہام کی صورت میں ہوتی ہے‘‘-
پس یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ انبیاء (علیھم السلام) کی وحی اور اولیاء کے الہام میں فرق ہے-دونوں نہ تو مساوی ہیں نہ متصادم ہیں یعنی برابر بھی نہیں اور ایک دوسرے سے ٹکراتے بھی نہیں-نبی کی وحی شریعت اور دین کا ماخذ ہے-ولی کا الہام صرف اس کیلئے رہنمائی اور اللہ کی عطا کردہ ایک نعمت ہے، جس کی صحت کا معیار ہمیشہ قرآن و سنت ہی رہا ہے-
پانچویں آیت مبارکہ:
اللہ تعالیٰ نے سورۂ مریم اور سورۂ آلِ عمران میں ایک نہیں بلکہ متعدد مقامات پر حضرت مریم (علیھا السلام) کی طرف الہام، بشارت اور فرشتوں کے ذریعے کلام کا ذکر فرمایا ہے-سورۂ مریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’فَاَرْسَلْنَآ اِلَیْہَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا قَالَتْ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ صلے لِاَہْبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا‘‘[9]
’’تو ہم نے ان کی طرف اپنی روح (یعنی فرشتہ جبرائیل) کو بھیجا سو (جبرائیل) ان کے سامنے مکمل بشری صورت میں ظاہر ہوا-(سیدہ مریم (علیھا السلام) نے) کہا: بیشک میں تجھ سے (خدائے) رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو (اللہ سے) ڈرنے والا ہے-(جبرائیل (علیہ السلام) نے) کہا: میں تو فقط تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، (اس لئے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں‘‘-
غور کیجیے! الفاظ حضرت جبرائیل (علیہ السلام)ادا کر رہے ہیں، مگر پیغام اللہ تعالیٰ کا ہے- جبرائیل امین اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مریم (علیھا السلام)کے پاس بشارت لے کر آئے- یہی تو وحی اور الہام کی اصل حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں تک اپنا پیغام مختلف ذرائع سے پہنچاتا ہے-
اگر یہی پیغام کسی نبی کی طرف آئے تو وہ ’’وحیِ نبوت‘‘ کہلاتا ہے اور اگر کسی ولی، صالح یا غیر نبی مرد یا عورت کی طرف آئے تو وہ ’’الہام‘‘ کہلاتا ہے-
حضرت مریم (علیھا السلام)نبیہ نہیں تھیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک برگزیدہ ولیہ تھیں-اس کے باوجود حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ان کے پاس آئے، ان سے گفتگو کی، انہیں بشارت دی اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا-اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے صالح بندوں سے فرشتوں کے ذریعے بھی کلام فرما سکتا ہے-
پھر سورۂ آلِ عمران میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ صلے اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ‘‘
’’اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! اللہ تمہیں اپنی طرف سے ایک (خاص) کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے- جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے وہ دنیا اور آخرت میں معزز ہے اور اللہ کے مقربین میں سے ہے‘‘-
یعنی فرشتوں کی پوری جماعت حضرت مریم (علیھا السلام) سے کلام کر رہی ہے- پس اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنی کسی ولیہ سے فرشتوں کے ذریعے کلام فرمائے، اسے بشارت دے، اس کے دل کو مطمئن کرے، یا اس پر اپنی رحمت کے آثار ظاہر فرمائے، تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے؟
یہ تمام آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ مختلف انداز سے اپنے بندوں کی رہنمائی فرماتا ہے-کبھی براہِ راست دل میں بات ڈال دیتا ہے، جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام)کی والدہ کے دل میں ڈالی-کبھی ایک معمولی مخلوق، جیسے شہد کی مکھی کو الہام فرماتا ہے-کبھی صالح بندوں کے دلوں میں ایمان اور نصرتِ دین کا جذبہ ڈالتا ہے، جیسے حواریوں کے ساتھ ہوااور کبھی فرشتوں کے امام حضرت جبرائیل کے ذریعے اور کبھی فرشتوں کی پوری جماعت کے ذریعے اپنی ولیہ بندی سے کلام فرماتا ہے، جیسے حضرت مریم (علیہ السلام) کے ساتھ ہوا-
لہٰذا یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنے فضل، کرم، رحمت، عطا اور انتخاب سے نواز دے- یہ اس کی قدرت، اس کی مشیت اور اس کے اختیار کا معاملہ ہے- کسی بندے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا پر اعتراض کرے کہ اس نے فلاں کو کیوں نوازا، فلاں کے دل میں ہدایت کیوں ڈالی، یا فلاں پر اپنا فضلِ الہام کیوں فرمایا-
جب قرآنِ مجید میں ان تمام واقعات کا وقوع ثابت ہے، تو پھر اس کے امکان کا انکار بے معنی ہو جاتا ہے- جس چیز کا واقع ہونا قرآن کریم سے ثابت ہو، اس کے بعد اس کے جواز پر بحث نہیں رہتی- پھر اس کا کلی انکار کرنا نہ علمی دیانت کے مطابق ہے اور نہ قرآنِ حکیم کے مزاج کے موافق-در حقیقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی رحمتیں مختلف انداز سے نازل فرماتا ہے اور اس کے فضل کے دروازے آج بھی بند نہیں ہوئے-
ماضی سے نکل کر اگر حال و مستقبل میں جھانکیں تو یہی بات حضور نبی اکرم (ﷺ) کے بعد بھی اہلِ استقامت اور صالحین کے حق میں قرآنِ مجید سے ثابت ہے-جیسا کہ سورۂ حم السجدہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَـنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ‘‘[10]
’’بے شک جن لوگوں نے کہا: ہمارا رب اﷲ ہے، پھر وہ (اِس پر مضبوطی سے) قائم ہوگئے، تو اُن پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور تم جنت کی خوشیاں مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا‘‘-
گویا قرآنِ مجید قیامت تک آنے والے اہلِ ایمان و استقامت کے لیے اس حقیقت کا اثبات کرتا ہے کہ ملائکہ ان پر نازل ہوتے ہیں، انہیں تسلی دیتے ہیں، بشارت سناتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں-
علامہ سید محمود آلوسی تفسیر روح المعانی میں ’’تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا‘‘ کی وضاحت کرتےہوئےلکھتے ہیں:
’’تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِيْمَا يَعُنُّ وَ يَطْرَأُ لَهُمْ مِنَ الْأُمُوْرِ الدِّيْنِيَّةِ وَالدُّنْيَوِيَّةِ بِمَا يُشْرَحُ صَدُوْرُهُمْ وَ يُدْفَعُ عَنْهُمُ الْخَوْفُ وَالْحُزْنُ بِطَرِيْقِ الْإِلْهَامِ كَمَا أَنَّ الْكَفَرَةَ يَغْوِيْهِمْ مَا قُيِّضَ لَهُمْ مِنْ قُرَنَاءِ السُّوْءِ‘‘
’’یعنی فرشتے ان پر اترتے ہیں اور دینی و دنیاوی مشکلات جو انہیں پیش آتی ہے ان میں ان کی یوں مدد کرتے ہیں کہ ان کے سینے کھول دیےجاتے ہیں اور بذریعہ الہام ان کے خوف وحزن کو دور کر دیا جاتاہے-جس طرح کافروں کو ان کے برے ساتھی برے کاموں پر اکساتے ہیں‘‘-
اسی حقیقت کو صوفیائے کرام، اولیائے عظام اور اہلِ معرفت نے اپنے ذوق، تجربے اور مجاہدات کے ذریعے بیان کیا ہے-امام غزالی کے شاگرد خاص ، قاضی ابو بکر بن العربی (جو ائمہ مالکیہ میں سے ہیں) نے اپنی کتاب ’’قانون التأویل‘‘ میں فرمایا:
’’ذَهَبَتِ الصُّوفِيَّةُ إِلٰى أَنَّهٗ إِذَا حَصَلَ لِلْإِنْسَانِ طَهَارَةُ النَّفْسِ فِيْ تَزْكِيَّةِ الْقَلْبِ وَقَطْعُ الْعَلَائِقِ وَحَسْمُ مَوَادِ أَسْبَابِ الدُّنْيَا مِنَ الْجَاهِ وَالْمَالِ وَالْخُلْطَةِ بِالْجِنْسِ وَالْإِقْبَالِ عَلَى اللهِ تَعَالٰى بِالْكُلِّيَّةِ عِلْمًا دَائِمًا وَعَمَلًا مُسْتَمِرًّا كُشِفَتْ لَهُ الْقُلُوبُ وَرَأَى الْمَلَائِكَةَ وَسَمِعَ أَقْوَالَهُمْ وَاطَّلَعَ عَلٰى أَرْوَاحِ الْأَنْبِيَاءِ وَسَمِعَ كَلَامَهُمْ‘‘[11]
صوفیاء کا کہنا ہے کہ جب انسان کو نفس کی پاکیزگی اور دل کا تزکیہ حاصل ہو جائے-اور دنیاوی اسباب کے ذرائع ، جیسے تعلقات، رغبتیں اور وابستگیاں، منقطع کر دے، عزت و جاہ، مال و دولت، اور ہم جنس لوگوں کی کثرتِ صحبت سے الگ ہو جائےاور پوری توجہ کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائےیعنی علم میں دوام اور عمل میں پائیداری پیدا کرے،تو اس پر دلوں کے اسرار منکشف ہو جاتے ہیں،اور وہ فرشتوں کو دیکھتا ہے اور ان کی باتیں سنتا ہے،اور انبیاء کی ارواح پر مطلع ہوتا ہے اور ان کے کلام کو سنتا ہے‘‘-
یہی وہ مقام ہے جسے اہلِ تصوف ’’کشف‘‘ اور ’’الہام‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں-
اسی مضمون کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث قدسی سے ہوتی ہے جس اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندہ کیلئے فرماتا ہے:
’’فَإِذَا أَحْبَبْتُهٗ:كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِيْ يَسْمَعُ بِهٖ، وَ بَصَرَهُ الَّذِيْ يُبْصِرُ بِهٖ، وَ يَدَهُ الَّتِيْ يَبْطِشُ بِهَا وَ رِجْلَهُ الَّتِيْ يَمْشِيْ بِهَا وَ إِنْ سَأَلَنِيْ لَأُعْطِيَنَّهٗ‘‘[12]
’’پس جب مَیں (اللہ) اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں،تو میں اُس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے،اور اُس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے،اور اُس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے،اور اُس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے،اور اگر وہ مجھ سےسوال کرے (مانگے )تو میں ضرور اُسے عطا کرتا ہوں‘‘-
امام فخر الدین رازی ’’تفسیر کبیر‘‘ میں اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:
’’وَ هٰذَا الْخَبَرُ يَدُلُّ عَلٰى أَنَّهٗ لَمْ يَبْقَ فِيْ سَمْعِهِمْ نَصِيْبٌ لِّغَيْرِ اللهِ وَلَا فِيْ بَصَرِهِمْ وَلَا فِيْ سَائِرِ أَعْضَائِهِمْ إِذْ لَوْ بَقِيَ هُنَاكَ نَصِيْبٌ لِّغَيْرِ اللهِ لَمَا قَالَ أَنَا سَمْعُهٗ وَبَصَرُهٗ‘‘
’’یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ایسے بندوں کے کانوں میں غیرِ اللہ کیلئے کوئی حصہ باقی نہیں رہتا،نہ ان کی آنکھوں میں، اور نہ ہی ان کے کسی اور عضو میں کیونکہ اگر ان میں غیرِ اللہ کا کوئی حصہ باقی ہوتا،تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ:میں اس کا کان ہوں، میں اس کی آنکھ ہوں‘‘-
یعنی بندے کے وجود پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا نزول ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع ہو جاتے ہیں-
اہلِ تصوف کے نزدیک ’’کشف‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی انسان شریعت سے آزاد ہو جائے، بلکہ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ دل سے حجابات اٹھ جائیں، حقائقِ ایمان واضح ہو جائیں اور بندہ اللہ تعالیٰ کی معرفت، قرب اور محبت میں ترقی پا جائے-
حق کی طرف سے کسی حقیقت کی خبر ملنا،کسی باطنی کیفیت کا منکشف ہونا،کسی امر کے متعلق دل میں یقین اور نور پیدا ہونا،یا کسی خیر کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی حاصل ہونا،یہ سب کشف اور الہام کی مختلف صورتیں ہیں، جن کا قرآنِ مجید غیر انبیاء کے لیے بھی اثبات کرتا ہے-
لیکن یہاں ایک نہایت اہم حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ تصوف کی بنیاد محض کشف و کرامات پر نہیں- تصوف کی اصل بنیاد ظاہر اور باطن کی طہارت ہے -
ظاہری طہارت شریعت سکھاتی ہے جیسےوضو، غسل، پاکیزگی، حلال و حرام کی تمیز، عبادات و معاملات کی اصلاح-یہ سب علماءِ شریعت کی تعلیمات کے ذریعے حاصل ہوتا ہے-لیکن باطن کی طہارت بھی ہے جیسا کہ دل کو حسد، تکبر، بغض، ریا، حرص اور دنیا پرستی سے پاک کرنا،دل میں اللہ کی محبت پیدا کرنا،اخلاص، تقویٰ اور رجوع الی اللہ پیدا کرنا-یہ کام مرشدِ کامل، عارفِ باللہ اور اہلِ تربیت انجام دیتے ہیں-
جس طرح جسم کی پاکی کے بغیر عبادت مکمل نہیں ہوتی، اسی طرح دل کی پاکی کے بغیر معرفتِ الٰہی اور قربِ خداوندی کے راستے طے نہیں ہوتے-اسی لیے اولیائے کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ’’سبوح‘‘ اور ’’قدوس‘‘ ہے، یعنی ہر نقص اور آلودگی سے پاک- لہٰذا جو بندہ اس پاک ذات سے تعلق جوڑنا چاہتا ہے، اسے بھی ظاہر و باطن دونوں اعتبار سے پاکیزگی اختیار کرنا ہوگی-
اندر باہر کی یہی پاکیزگی تصوف کی اصل روح ہے، یہی اولیاء اللہ کا طریق ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس میں شریعت، طہارت، محبتِ الٰہی، اتباعِ رسول اور اصلاحِ باطن سب جمع ہو جاتے ہیں-
ہمارے حضور مرشدِ کریم سر پرست اعلیٰ اصلاحی جماعت حضرت سلطان محمد علی صاحب (دامت برکاتہم العالیہ) ہمیشہ یہ تعلیم عطا فرماتے ہیں کہ ظاہر اور باطن کی حقیقی پاکیزگی اللہ تعالیٰ کے ذکراور اس کے ساتھ قلبی تعلق پیدا کرنے سے حاصل ہوتی ہے- جب بندہ اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتا ہے، اپنے خیالات کو اس کی رضا کے تابع بناتا ہے، اس کی محبت کو اپنے وجود پر غالب کرتا ہے، اور استقامت کے ساتھ اس کے راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہے، تو رفتہ رفتہ اس کا ظاہر بھی نورانی ہو جاتا ہے اور باطن بھی پاکیزگی سے منور ہونے لگتا ہے-
اصلاحی جماعت کی دعوت بھی یہی ہے کہ انسان اپنے ظاہر اور باطن دونوں کی اصلاح کرے شریعت کی پابندی کے ساتھ اپنے دل کو بھی پاک کرے، اپنے اخلاق کو سنوارے، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور محبت کو اپنی زندگی کا مرکز بنائےاور حضور نبی اکرم (ﷺ)کی سچی اتباع کے ذریعے قربِ الٰہی کے راستے پر گامزن ہو-
٭٭٭
[1](الکہف:82)
[2](القصص: 7)
[3]( تفسير يحيى بن سلام، زیر آیت القصص:7)
[4](الانبیاء: 7)
[5]( النحل:43)
[6](النحل: 68)
[7](المائدة:111)
[8](اَلْكَشْفُ وَالْبَيَان عَنْ تَفْسِيْرِ الْقُرْآن، زیر آیت المائدہ:111)
[9](مریم :17-19)
[10](حم السجدہ:30)
[11](الحاوي للفتاوي/ سبل الهدى والرشاد)
[12](صحیح بخاری، کتاب الرقاق)