1995ء میں ورلڈ بینک کے اعلیٰ عہدہ دار اسماعیل سیراگیلڈین (Ismail Serageldin)نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ:
’’آئندہ صدی کی جنگیں پانی کے مسئلے پہ لڑی جائیں گی، ماسوائے کہ ہم اس بیش بہا اور حیات بخش وسیلے کے نظم و نسق کے متعلق اپنا نقطہ نظر بدل نہ لیں‘‘-
پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قوموں کی زندگی، معیشت، زراعت اور بقا کا ضامن ہوتا ہے- دنیا میں جہاں کہیں بھی پانی کے وسائل مشترکہ ہوں، وہاں تنازعات کا پیدا ہونا فطری امر سمجھا جاتا ہے- پانی کی وجہ سے تنازعات انسانی تاریخ کے قدیم ترین اور مسلسل جاری رہنے والے مسائل میں شمار ہوتے ہیں- قدیم میسوپوٹیمیا (موجودہ عراق) میں تقریباً 2500 قبلِ مسیح میں لُگاش اور اُوما نامی شہر ریاستوں کے درمیان دریائے دجلہ اور فرات کے پانی اور آبپاشی کی نہروں کے کنٹرول پر طویل جنگیں لڑی گئیں، جو آبی وسائل پر پہلا منظم تاریخی تنازع سمجھا جاتا ہے- جدید دور میں بھی پانی عالمی سیاست کا اہم حصہ رہا ہے، جیسے 1960ء کی دہائی میں مشرقِ وسطیٰ کے عرب اسرائیل تنازع کے دوران دریائے اردن کے پانی پر شدید کشیدگی پیدا ہوئی- اسرائیل کے ’’نیشنل واٹر کیریئر‘‘ منصوبے اور عرب ممالک کی جانب سے پانی کے رخ کو موڑنے کی کوششوں نے خطے میں تناؤ بڑھایا اور اسے 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے اہم عوامل میں شامل کیا جاتا ہے- اسی طرح جنوبی امریکہ میں دریائے کاؤکا (Cauca River) پر ڈیموں اور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کی وجہ سے مقامی آبادی، کسانوں اور حکومتی اداروں کے درمیان شدید تنازعات اور طویل احتجاجی تحریکیں دیکھنے میں آئیں، جو پانی کے ماحولیاتی اور معاشی اثرات کو ظاہر کرتی ہیں- موجودہ دور میں دریائے نیل ایک بڑے تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں مصر، سوڈان اور ایتھوپیا کے درمیان گرینڈ ایتھوپین رینیسنس ڈیم کے باعث آبی حصے اور بہاؤ پر اختلافات موجود ہیں اور یہ معاملہ مسلسل سفارتی کشیدگی کا سبب بن رہا ہے- اسی طرح ترکی، شام اور عراق کے درمیان دریائے دجلہ اور فرات کے پانی پر بھی طویل عرصے سے اختلافات جاری ہیں، خاص طور پر ترکی کے ’’جنوب مشرقی اناطولیہ پراجیکٹ ‘‘ (GAP) کے تحت بنائے گئے ڈیموں کے باعث شام اور عراق کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس پر بارہا سفارتی تناؤ پیدا ہوا ہے- یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ پانی انسانی تہذیبوں، ریاستی تعلقات اور بین الاقوامی سیاست میں ہمیشہ سے ایک حساس عنصر رہا ہے-
جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی پر تنازعہ بھی اسی نوعیت کا ایک حساس مسئلہ ہے، جس نے کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کیا ہوا ہے- ان تنازعات کو روکنے کے لیے 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا جسے بین الاقوامی معاہدوں میں ایک کامیاب معاہدہ تصور کیا جاتا رہا ہے- اس معاہدے میں عالمی بینک نے ضامن اور ثالث کا کردار ادا کیا تھا تاکہ دونوں ممالک پانی جیسے بنیادی مسئلے پر جنگ یا کشیدگی سے بچ سکیں- لیکن حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے مسلسل ایسے اقدامات کیے گئے جنہوں نے نہ صرف اس معاہدے کی روح کو نقصان پہنچایا بلکہ پورے خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا-
خاص طور پر کشمیر میں تعمیر کیے جانے والے بھارتی ہائیڈرو پاور منصوبے، پانی کے بہاؤ میں ردوبدل اور یک طرفہ فیصلوں نے پاکستان کے تحفظات کو مزید بڑھایا- حال ہی میں آنے والے بین الاقوامی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کو مضبوط کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ بھارت کی کئی کاروائیاں معاہدے کی روح اور قانونی حدود سے متصادم تھیں- اگرچہ بھارت نے حسبِ روایت اس فیصلے کو ماننے سے انکار کیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کی سفارتی، قانونی اور اخلاقی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے-[1]
سندھ طاس معاہدہ(سندھ طاس معاہدہ) کا پس منظر:
1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی مسائل پیدا ہوئے جن میں پانی کا مسئلہ سب سے اہم تھا- تقسیم کے وقت دریاؤں کا نظام اس انداز میں تقسیم ہوا کہ دریاؤں کے ہیڈورکس بھارت کے پاس چلے گئے جبکہ ان پانیوں پر انحصار کرنے والی زرعی زمینیں پاکستان میں موجود تھیں- 1948ء میں بھارت نے بعض نہروں کا پانی بند کر دیا، جس سے پاکستان میں شدید تشویش پیدا ہوئی- اس واقعے نے واضح کر دیا کہ اگر پانی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل نہ کیا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان مستقل کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے-اسی تناظر میں عالمی بینک کی ثالثی میں کئی سال مذاکرات ہوئے اور بالآخر 1960ء میں پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے کراچی میں سندھ طاس معاہدہ پر دستخط کیے- اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حوالے کیے گئے جبکہ تین مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے- بھارت کو مغربی دریاؤں پر محدود استعمال کی اجازت دی گئی، مگر اسے پانی کے بہاؤ کو روکنے یا پاکستان کے حصے کے پانی کو متاثر کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا-یہ معاہدہ کئی جنگوں، سیاسی بحرانوں اور کشیدگی کے باوجود قائم رہا، جسے اس کی کامیابی کی دلیل سمجھا جاتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بھارت نے مختلف منصوبوں کے ذریعے اس معاہدے کی حدود کو چیلنج کرنا شروع کر دیا-
بھارت کے متنازع منصوبے اور پاکستان کے تحفظات:
گزشتہ دو دہائیوں میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں متعدد ہائیڈرو پاور منصوبے شروع کیے، جن میں بگلیہار ڈیم، کشن گنگا پروجیکٹ اور رتلے ڈیم خاص طور پر قابل ذکر ہیں- پاکستان نے ان منصوبوں پر یہ اعتراض اٹھایا کہ بھارت ان ڈیموں کے ذریعے پانی ذخیرہ کرنے اور بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے، جو سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی ہے- پاکستان کا مؤقف یہ تھا کہ اگر بھارت کو پانی کے بہاؤ پر مکمل اختیار مل گیا تو وہ مستقبل میں پاکستان کے زرعی علاقوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے- پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے اور زراعت کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے- اس لیے پانی کے بہاؤ میں معمولی تبدیلی بھی لاکھوں ایکڑ زمین، خوراک کی پیداوار اور بجلی کی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے-بھارت نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا کہ اس کے منصوبے’’Run of the River‘‘ نوعیت کے ہیں اور معاہدے کے مطابق ہیں، مگر پاکستان نے عالمی فورمز پر مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ بھارت معاہدے کو ہمیشہ غلط طریقے سے اپنے مفاد کے مطابق ڈھالتا رہا ہے-
حالیہ بین الاقوامی فیصلہ اور پاکستان کی قانونی و سفارتی کامیابی:
پاکستان کی جانب سے یہ مقدمہ 2016 میں بھارت کے خلاف سندھ طاس معاہدہ کے تحت دائر کیا گیا تھا- عدالت نے 27 جون 2025، 8 اگست 2025 اور 15 مئی 2026 کے مختلف فیصلوں میں پاکستان کے مؤقف کو قانونی تقویت دیتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا اور مغربی دریاؤں پر اس کے پانی کنٹرول کرنے کے اختیارات محدود ہیں-
15 مئی 2026ء کو نیدرلینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم کورٹ آف آربیٹریشن نے سندھ طاس معاہدہ سے متعلق ایک اہم سپلیمنٹری ایوارڈ جاری کیا- یہ فیصلہ رٹلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے ڈیزائن اور پانی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے تنازعے سے متعلق تھا- حال ہی میں قائم ہونے والی کورٹ آف آربیٹریشن نے پاکستان کے مؤقف کو بڑی حد تک درست قرار دیا- عدالت نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان کو بھارتی منصوبوں پر اعتراض اٹھانے کا قانونی حق حاصل ہے اور معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی فورمز کا استعمال جائز ہے- فیصلے میں یہ واضح کیا گیا کہ بھارت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو پانی کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کریں-
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی پابندی دونوں ممالک پر لازم ہے- یہ فیصلہ کئی حوالوں سے پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا- بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو چیلنج کیا گیا عالمی قوانین اور معاہدوں کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا گیا- پاکستان نے طاقت کے بجائے قانون اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کیا- یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کوئی ریاست بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنا مقدمہ پیش کرے تو عالمی ادارے اس کی آواز سنتے ہیں-
بھارت کی ہٹ دھرمی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی:
کورٹ آف آربیٹریشن کے حالیہ فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے بی جے پی کی انتہا پسند بھارتی حکومت نے کہا ہے کہ یہ عدالت غیر قانونی طور پر قائم کی گئی تھی اور اس کے فیصلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں- جیساکہ بے جی پی کی حکومت کے دباؤ تلے بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت نے کبھی بھی اس نام نہاد عدالت کی قانونی حیثیت، اختیارِ سماعت یا فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا- ان کے مطابق پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ کے اصل طریقۂ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا، جبکہ معاہدے کے تحت پہلے غیر جانبدار ماہر (Neutral Expert) کے ذریعے مسئلہ حل ہونا چاہیے تھا- بھارت کا مؤقف ہے کہ کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو پاور منصوبوں پر پاکستان کے اعتراضات سیاسی نوعیت کے ہیں اورکورٹ آف آربیٹریشن کا فیصلہ بے اثر اور ناقابلِ قبول ہے-
بھارت کا یہ ہٹ دھرمانہ اور ابلیسی تکبر کا رویہ نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ ایک بڑی نام نہاد جمہوریت ہونے کے بھارتی دعوے پر بھی سیاہ دھبہ ہے- بھارت کی یہ پالیسی نئی نہیں ماضی میں بھی بھارت کئی بین الاقوامی معاملات میں یکطرفہ رویہ اختیار کرتا رہا ہے- کشمیر کا مسئلہ ہو، جونا گڑھ پہ غاصبانہ قبضہ ہو، اقلیتوں کے حقوق کی پامالی ہو یا پانی کے تنازعات، بھارت اکثر طاقت کے استعمال اور سیاسی دباؤ کو ترجیح دیتا ہے- پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین دونوں کے خلاف ہے- اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کوئی بھی ملک دوسرے ملک کی بنیادی ضروریات کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کر سکتا- اگر بھارت پانی جیسے مسئلے کو سیاسی ہتھیار بناتا ہے تو اس سے پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے-[2]
پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار:
اس پورے تنازعے میں پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا- پاکستان کبھی جنگ یا طاقت کے استعمال کا حامی نہیں رہا بلکہ ہمیشہ سفارتکاری، پُرامن مذاکرات اور قانونی فورمز کو ترجیح دی ہے- یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے لیتی ہے- اس لیے پاکستان نےعالمی بینک سے رجوع کیا،عدالتِ ثالثی میں مقدمہ پیش کیا،اقوام متحدہ میں مسئلہ اٹھایااور مسلسل مذاکرات کی بات کی یہ رویہ ایک ذمہ دار ریاست کی علامت ہے- پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ خطے میں امن چاہتا ہے مگر اپنے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا-
سندھ طاس معاہدہ کی پاکستان کے لیے اہمیت:
سندھ طاس معاہدہ آج کے دور میں پاکستان کیلئے صرف پانی کی تقسیم کا ایک معاہدہ نہیں بلکہ اس کی معیشت، غذائی تحفظ، توانائی، ماحولیاتی استحکام اور قومی سلامتی سے جڑا ایک بنیادی اسٹریٹجک فریم ورک بن چکا ہے- پاکستان کی زرعی معیشت کا بڑا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی، پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے- گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، بارشوں کے غیر متوازن نظام، خشک سالی اور شدید سیلابوں نے دریاؤں کے بہاؤ کو غیر یقینی بنا دیا ہے جس کے باعث زراعت، غذائی تحفظ اور ہائیڈرو پاور کی پیداوار شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے-
دوسری جانب بھارت کی طرف سے مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں، پانی ذخیرہ کرنے کے تنازعات اور معاہدے کی تشریح سے متعلق اختلافات نے اس مسئلے کو مزید حساس بنا دیا ہے- حالیہ برسوں میں پانی جنوبی ایشیا میں ایک نہایت اہم عنصر بن گیا ہے، جہاں موسمیاتی تبدیلی، علاقائی سیاست اور آبی سفارت کاری ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں- اسی لیے سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے محض ایک قانونی معاہدہ نہیں بلکہ اس کی معاشی بقا، سیاسی استحکام اور مستقبل میں آبی تحفظ کی بنیاد تصور کی جاتی ہے-
عالمی برادری کی ذمہ داری:
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پانی کے تنازعات مستقبل میں جنگوں کا سبب بن سکتے ہیں- اگر بی جے پی جیسی تشدد پسند پارٹیوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے والے بھارت جیسے ممالک کو بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کی اجازت دی گئی تو عالمی نظام کمزور ہو جائے گا-عالمی برادری، اقوام متحدہ اور عالمی بینک کو چاہیے کہ بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ معاہدے کی پابندی کرے، پانی کو سیاسی ہتھیار بنانے سے روکا جائے اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کیلئے فعال کردار ادا کیا جائے-
مستقبل کے امکانات و خدشات:
اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھتا ہے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے- لیکن اگر دونوں ممالک مذاکرات اور قانون کے راستے کو اپنائیں تو یہ مسئلہ حل بھی ہو سکتا ہے-پاکستان کو چاہیے کہ اپنے آبی ذخائر بہتر بنائے،نئے ڈیم تعمیر کرے، پانی کے ضیاع کو روکےاور عالمی سطح پر اپنا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرتا رہے- دوسری جانب بھارت کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پانی جیسے حساس اور مشترکہ وسائل کے مسائل طاقت، دباؤ یا یکطرفہ اقدامات سے نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین، باہمی اعتماد اور سفارتی تعاون کے ذریعے ہی پائیدار انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں-
اختتامیہ:
سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن اور تعاون کی علامت سمجھا جاتا تھا مگر بھارت کے حالیہ جارحانہ غیر قانونی اقدامات نے اس معاہدے کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے- حالیہ بین الاقوامی فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی قانونی اور اخلاقی فتح ہے، جس نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے عالمی قوانین کے مطابق جدوجہد کر رہا ہے- بھارت کی جانب سے فیصلے کو تسلیم نہ کرنا اس کی ہٹ دھرمی اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں سے انحراف کی عکاسی کرتا ہے- پانی جیسے حساس مسئلے پر ضد اور سیاسی مفادات پورے خطے کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں-
پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر صبر، سفارتکاری اور قانونی راستہ اختیار کیا جو قابلِ تحسین ہے- اب عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف، بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرے- غرضیکہ پانی زندگی ہے اور زندگی کو سیاست یا طاقت کی جنگ کا حصہ بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم کے مترادف ہے- سندھ طاس معاہدہ کا احترام ہی جنوبی ایشیا کے امن، ترقی اور استحکام کی ضمانت بن سکتا ہے-
٭٭٭
[1]https://climate-diplomacy.org/magazine/conflict/water-wars-within-preventing-subnational-water-conflicts
[2]https://www.tribuneindia.com/news/india/india-rejects-hague-court-ruling-on-indus-water-treaty-says-pact-remains-in-abeyance/