کلام
|
زان پس حسین حجت حق در میان نهاد |
اس (یعنی حضرت امام حسَّن) کے بعد حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حقانیت کی ایک روشن دلیل اور حجت بنا کر لوگوں کے درمیان رکھا، لیکن منکروں نے اپنی جہالت کے باعث حسد و عداوت کے تیر کمان میں رکھ لیے-
|
حق ز اولیا مقام ذبیح الهیش داد |
اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کرام میں امام حسینؑ کو (حضرت اسماعیلؑ کی مانند )’’ذبیحِ الٰہی‘‘ کا مقام عطا فرمایا اور ان کے امور کی باگ ڈور اپنی مشیتِ کاملہ کے سپرد رکھی-
|
حلقی که بوسه گاه نبی بود ظلم عهد |
وہ گلا جسے رسولِ اکرم(ﷺ) محبت و شفقت سے بوسہ دیا کرتے تھے، اُسی گلے پر اس دور ِ سلطنت کے ظلم اور امت کی بے وفائی نے زہر آلود تلوار رکھ دی-
|
ذبح عظیم اشاره به قتل حسین بود |
قرآن مجید میں مذکور ’’ذبحِ عظیم‘‘ درحقیقت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی عظیم قربانی کی طرف اشارہ تھا، یہ اللہ تعالیٰ کا وہ خاص احسان تھا جو اپنے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام)پر فرمایا-
|
تعبیر کرد ازان به بلای مبین خلیل |
حضرت ابراہیم (علیہ السلام)کی آزمائش کو قرآن مجید نے بلائے مبین سے تعبیر فرمایا ، کیونکہ امام حسین (رضی اللہ عنہ)کے کربلا کے غم کو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل و جان میں ودیعت کر دیا تھا-
|
گرچه به صدق وعده براهیم را ستود |
اگرچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام)کو وعدے کی سچائی اور فرمانبرداری پر سراہا، لیکن امام حسین(رضی اللہ عنہ) نے وفاداری کی شرط کو عملاً سامنے رکھ دیا-
|
دادش مقام صبر و رضا تا شهید شد |
اللہ تعالیٰ نے امام حسین(رضی اللہ عنہ) کو صبر و رضا کا ایسا بلند مقام عطا فرمایا کہ وہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے اور ’’نفسِ مطمئنہ‘‘ کے ساتھ جنت میں تشریف آوری فرمائی-
|
می راند در بلا و محن نفس جاهدش |
ان کا مجاہد نفس مصائب اور آزمائشوں کے میدان میں ثابت قدم رہا، یہاں تک کہ ان کی روح بلندیوں کی طرف پرواز کر کے آسمانوں سے بھی اوپر جا پہنچی-
|
شد حاصلش عذوبت روح از عذاب تن |
جسمانی تکالیف کے نتیجے میں ان کی روح کو پاکیزگی اور لطافت حاصل ہوئی اور جب انہوں نے اپنے جسم کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیا تو ان کی جان اور بھی زیادہ عزیز و مکرم ہو گئی-
|
حق مشهد حسین محل شهود ساخت |
اللہ تعالیٰ نے امام حسین(رضی اللہ عنہ) کے مزار کو اپنی تجلیات اور روحانی مشاہدات کا مرکز بنا دیا، دنیا کی مشقتوں اور رنج و الم کے درمیان گویا فردوس کا نمونہ رکھ دیا-
|
ابن زیاد سک به صلاح یزید شوم |
بدبخت منحوس یزید کے مشورے اور ارادے سے ابنِ زیادِ خبیث اور ذلیل نے ظلم و کینہ کی تلوار اہلِ بیتؑ کے مقدس خاندان کے مقابل کھڑی کر دی-
|
شط فرات راند ز طوفان کربلا |
دریائے فرات کربلا کے ہولناک طوفانِ غم کا منظر بن گیا اور پھر امام حسین (رضی اللہ عنہ)کا مقدس سر خون کے دھاروں میں تر کر دیا گیا-
٭٭٭