خوف، دباؤ اور استقامت: واقعہ کربلاکا نفسیاتی مطالعہ

خوف، دباؤ اور استقامت: واقعہ کربلاکا نفسیاتی مطالعہ

خوف، دباؤ اور استقامت: واقعہ کربلاکا نفسیاتی مطالعہ

مصنف: وسیم فارابی جون 2026

ابتدائیہ:

خوف اور دباؤ ایسے نفسیاتی احوال ہیں جنہیں ہر انسان قدرتی طور پر محسوس کرتا ہے اور ان سے نمٹنے کی بھرپور کوشش بھی کرتا ہے- جدید علمِ نفسیات کے مطابق، انسان کئی وجوہات کی بنا پر خوف اور دباؤ کے تجربات سے گزرتا ہے ، ان سب تجربات میں بنیادی عنصر بچاؤ کا ہوتا ہے- جب انسان کو کسی شے سے اپنی جان، مال یا کسی بھی عزیز چیز کے چلے جانے کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تو انسان میں خوف اور خوف کے نتیجے میں دباؤ کا احساس پیدا ہوتا ہے- اس صورت حال میں انسان کے پاس دو راستے ہوتے ہیں کہ یا تو اس خوفناک صورتحال کا مقابلہ کرے یا پھر راہ فرار اختیار کرے- انسان کونسا راستہ اختیار کرتا ہے یہ انسان کی خودی کی اندرونی ساخت پر منحصر ہے- اس ساخت کی تشکیل میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں لیکن عمومی طور پر اس تشکیل کو دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے- پہلی قسم میں وہ لوگ آتے ہیں جن کی خودی کی تشکیل میں ظواہر کا کردار زیاد ہوتا ہے- ان کی عقل ظواہر سے رہنمائی لیتی ہے اور اسی بنیاد پر انسان کے عمل کی رہنمائی کرتی ہے- دوسری قسم میں وہ لوگ آتے ہیں جن کی خودی کی تشکیل میں نظریات کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے- ان کی عقل ظواہر کے ساتھ ساتھ نظریات سے بھی رہنمائی لیتی ہے اور وہ اسی بنیاد پر انسان کے عمل کی رہنمائی کرتی ہے- اس مضمون کا مقصد جدید علمِ نفسیات کے نظریات کو سامنے رکھتے ہوئے واقعۂ کربلا کا نفسیاتی جائزہ لینا ہے -

نظریاتی فریم ورک:

اس حصے میں وہ بنیادی نفسیاتی نظریات بیان کیے جائیں گے جن کی روشنی میں واقعۂ کربلا کو ایک نفسیاتی کیس اسٹڈی کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے- جدید علمِ نفسیات میں کسی بھی انسانی رویے کو سمجھنے کیلئے عموماً ایک ہی زاویہ کافی نہیں ہوتا بلکہ مختلف نظریاتی ماڈلز کو یکجا کر کے تجزیہ کیا جاتا ہے-

1-    ادراکی جائزے کا نظریہ :

(Cognitive Appraisal Theory)

یہ نظریہ Richard Lazarus نے 1984ء میں پیش کیا- اس نظریے کے مطابق، کسی محرِّک یا واقعہ (eliciting event) کی انسان جو تعبیر کرتا ہے وہی اس کے جذبات کی نوعیت کو متعین کرتی ہے- لہٰذا، ایک ہی واقعہ کی مختلف تعبیرات لوگوں میں مختلف جذبات پیدا کر سکتی ہیں -[1] فرض کریں کہ آپ اکیلے جنگل سے گزر رہے ہیں- آپ کو اچانک سامنے ایک ریچھ نظر آتا ہے- اب اس لمحے اصل فیصلہ کن چیز وہ ریچھ نہیں بلکہ آپ کی ذہنی تعبیر ہے- اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ یہ ریچھ خطرناک ہے اور آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے تو آپ پر فورًا خوف و دباؤ کے جذبات طاری ہو جائیں گے، دل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی اور آپ جان بچانے کی خاطر بھاگنے یا چھپنے کی کوشش کریں گے-

اگر آپ اس واقعہ کی یہ تعبیر کرتے ہیں کہ ریچھ نے آپ کو دیکھا ہی نہیں اور وہ خاموشی سے اپنے راستے پر چلتا جائے گا تو آپ بہت کم خوف و دباؤ کا شکار ہوں گے- اسی طرح اگر آپ ایک ماہرِ حیوانات ہیں تو آپ میں اس ریچھ سے متعلق جاننے کا تجسس پیدا ہوگا- آپ خوف و دباؤ کی بجائے تجسس اور جوش و خروش جیسے جذبات کو محسوس کریں گے-

2-    معنی اور وجودی نفسیات کا نظریہ :

(Logotherapy)

یہ نظریہ Viktor Frankl نے 1946ء میں پیش کیا- اس نظریے کے مطابق، انسان کی ایک بنیادی نفسیاتی ضرورت ’’معنی‘‘ کی تلاش ہے- شدید خوف اور دباؤ میں بھی انسان اسی وقت استقامت دکھا سکتا ہے جب وہ اپنی تکلیف کو کسی بڑے مقصد یا معنی کے ساتھ جوڑ دے- تکلیف بذاتِ خود انسان کو توڑتی نہیں بلکہ تکلیف کا ’’معنی‘‘ انسان کی نفسیاتی کیفیت کو متعین کرتا ہے- یوں معنی کی موجودگی دباؤ کونہ صرف قابلِ برداشت بلکہ بعض اوقات بامعنی بنا دیتی ہے -[2]

3-    اخلاقی شناخت اور اخلاقی ترقی کا نظریہ

Moral Identity and Development Theory

یہ نظریہ Kohlberg نے 1958ء میں پیش کیا-اس نظریے کے مطابق، انسان میں اخلاقی ارتقاء کے مطابق اخلاقی استدلال (moral reasoning) تین سطحوں سے گزرتا ہوا ترقی کرتا ہے- انسان اپنے بچپن سے ایک پختہ عمر تک، سادہ اصولوں کی پیروی سے شروع ہو کر اخلاقی بنیادوں پر مبنی سوچ اور مزید پیچیدہ آفاقی اصول تک پہنچتا ہے- ابتدائی مراحل میں انسان کی توجہ محض قوانین کی پابندی پر ہوتی ہے- درمیانی مراحل میں انسان تعلقات، سماجی توقعات اور ہم آہنگی کو اہمیت دیتا ہے جبکہ آخری مراحل میں انسانی سوچ زیادہ پیچیدہ ہو جاتی ہے اور آفاقی اصولوں اور اخلاقی اقدار کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں- [3]جس شخص میں یہ شناخت پختہ ہوتی ہے وہ بیرونی عناصر یا معاشرتی دباؤ کی بجائے آفاقی اصولوں اور اخلاقی اقدار کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے-

4-اطاعت اور سماجی دباؤ

(Obedience & Social Pressure)

یہ نظریہ Stanley Milgramنے 1960ء کی دہائی میں اپنے مشہور تجربات کے ذریعے واضح کیا- ان کے تجربے میں شرکاء کو یہ باور کرایا گیا کہ وہ ایک نفسیاتی تجربے کا حصہ ہیں جس میں انہیں ایک دوسرے شخص کی غلطیوں پر اسے بجلی کےجھٹکے دینے ہوں گے- جیسے جیسے شرکاء کو ہدایت دی جاتی، وہ مزید شدت کے ساتھ بجلی کے جھٹکے دیتے تھے- حالانکہ سامنے موجود شخص کی چیخیں اور تکلیف ان کو محسوس ہو رہی تھیں لیکن حیران کن طور پر بہت سے لوگ صرف اس لیے یہ عمل کرتے رہے کیونکہ ایک بااختیارقوت (Authority Figure) انہیں ایسا کرنے کا حکم دے رہی تھی- اس تجربے نے یہ ظاہر کیا کہ عام لوگ بھی محض بااختیار طاقت کی اطاعت میں ایسے کام کر سکتے ہیں جو ان کے ذاتی اخلاقی اصولوں کے خلاف ہوں- ملگرام کے مطابق، جب انسان خود کو حالتِ اطاعت(agentic state) میں پاتا ہے یعنی وہ خود کو صرف حکم پر عمل کرنے والا سمجھتا ہےتو وہ اپنے عمل کی اخلاقی ذمہ داری کو کم محسوس کرتا ہے اور یہی کیفیت اطاعتِ اختیار کو ممکن بناتی ہے -[4]

کربلا اور اس کے ظاہری خطرات:

1- سیاسی و سماجی صورتحال

سیدناامام حسین (رضی اللہ عنہ) کے دور میں اسلامی معاشرہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا تھا جہاں اسلامی سیاسی نظام بہت زیادہ طاقتور تو ہو چکا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی اس دور کی حکومت کی قانونی و دینی حیثیت پر اعتراضات بھی کھڑے ہو چکے تھے- اسی بنیاد پرحضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے یزید لعین کی بیعت کرنے سے انکار کیا کیونکہ یزید لعین کا انتخاب غیر قانونی طریقے سے کیا گیا تھا- یہ صورتحال اوراس دور کا سماجی ماحول بھی نفسیاتی دباؤ کو متاثر کرنے والا اہم عنصر تھا- اطاعت اور سیاسی وابستگی جیسے عوامل افراد کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈال رہے تھے- اس طرح فرد اکثر اپنے ذاتی اخلاقی فیصلے کی بجائے اجتماعی دباؤ کے تحت عمل کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، جسے جدید نفسیات میں Social Conformity اور Cognitive Dissonanceکہا جاتا ہے-[5]

2-طاقت کا عدم توازن

واقعہ ٔکربلا میں ایک واضح نفسیاتی و سماجی عنصر ’’طاقت کا عدم توازن‘‘ تھا- ایک طرف یزیدی طاقت اور عددی برتری موجود تھی جبکہ دوسری طرف ایک محدود مگر نظریاتی طور پر مضبوط گروہ تھا-جدید سماجی نفسیات میں یہ صورتحال اکثر اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ کمزور گروہ پر دباؤ زیادہ ہوتا ہے جبکہ طاقتور گروہ اطاعت اور کنٹرول کے ذریعے اثر انداز ہوتا ہے-یہی عدم توازن انسانی فیصلوں، خوف اور استقامت کے درمیان کشمکش کو شدید بنا دیتا ہے-

3- وجودی خطرہ

نفسیاتی لحاظ سے کربلا کی صورتحال کو ’’وجودی خطرہ‘‘ کہا جا سکتا ہے، یعنی ایسی حالت جس میں جان کا خطرہ، خاندان کی حفاظت کا خطرہ اور امام حسین (رضی اللہ عنہ)کے گروہ کی بنیادی بقا کا سوال تھا- جب یہ سب ایک ساتھ موجود ہوں تواس قسم کی صورتحال میں انسانی ذہن عام طور پر دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرتا ہےجس کا فوری اثر ’’Fight or Flight Response ‘‘ [6]کی صورت میں سامنے آتا ہے- یا تو یہ بقا کو ترجیح دیتا ہے یا پھر کسی بڑے مقصد یا اصول کی خاطر بقا کو ثانوی حیثیت دے کر مقصد کی بقا کیلئے صورتحال کا دلیری سے مقابلہ کرتا ہے- یہی وہ بنیادی نفسیاتی کشمکش ہے جو اس واقعے کو انسانی رویے کے مطالعے کے لیے اہم بناتی ہے-

واقعہ کربلا کا نفسیاتی جائزہ:

امام حسین (رضی اللہ عنہ) اور ان کے گروہ نے درج بالا خطرات کے باوجود یزید لعین کی بیعت کو تسلیم نہیں کیا اور اپنے قول اور فعل سے اس کی کھلے عام مخالفت کی- حتیٰ کے آخری دم تک لڑتے ہوئے سب نے اپنی جان قربان کر دی مگر یزید لعین کی بیعت کو اختیار نہیں کیا- اس گروہ کے اقوال، احوال اور افعال کو سامنے رکھتے ہوئے اس گروہ کی نفسیاتی خصوصیات درج ذیل ہیں:

1- مستحکم خودی

ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ آپؓ کی  خودی مستحکم تھی- خودی کے مستحکم ہونے کی وجوہات کو Kohlberg اور Viktor Frankl کے نظریات کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے- یہ ایسا گروہ تھا جس میں اخلاقی شناخت اور اصولوں کی پاسداری کا شعور بہت زیادہ پختہ تھا- دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ آپؓ کے  نزدیک زندگی کی اصل اس کے بامعنی ہونے سے مشروط ہے اور زندگی کو معنی ہمیشہ وہ نظریات دیتے ہیں جو آفاقی ہوں اور گروہِ انسانی کی رہنمائی کیلئے انہیں لازم قرار دیا جاتا ہو- اس لیے آپؓ Cognitive Dissonance اور Social Conformity کا شکار ہونے کی بجائے اپنے نظریات پر استقامت سے قائم رہے-

2- جرأت و بہادری

سیدناامام حسین (رضی اللہ عنہ)اور  آپؓ کے ساتھی درج بالا خطرات کا ادراک رکھتا تھے لیکن وہ ان خطرات کی وجہ سے کسی قسم کے خوف کا شکار نہیں تھے- اس بات کو Richard Lazarus کے نظریے سے سمجھا جا سکتا ہے- یہ گروہ دیکھ رہا تھا کہ یزیدی لشکر ان سے زیادہ طاقتور ہے، انہیں اپنی جان کے خطرے کا ادراک بھی تھا اور یہ بھی معلوم تھا کہ عوام یزیدی لشکر کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں لیکن انہوں نے اس ادراک کی تعبیر ویسی نہیں کی جو ایک عام انسان ایسی صورتحال میں کرتا- انہوں نے یہ تعبیر کی کہ یزید غاصب ہے اور یہ لشکر ایک ایسے شخص کی نمائندگی کرتا ہے جس کی مخالفت کرنا ہی واحد راستہ ہے- اس لیے امام حسین (رضی اللہ عنہ) اور آپؓ کے لشکر میں خوف کا جذبہ پیدا ہونے کی بجائے جرأت اور بہادری کا جذبہ پیدا ہوا-آپؓ نے موت کو شہادت،  تکالیف کو راحت اور مفاہمت کو ناحق سے تعبیر کیا اور ہر خوف سے آزاد ہوگئے- اس کیفیت کو Viktor Frankl اپنی ذات یا خودی سے بلند ہونے یعنی Self-Transcendence کا نام دیتا ہے جس میں انسان اپنے مقصد کی خاطر اپنی ذات اور اس کے مادی لوازمات کو فراموش کر کے صرف اپنے مقصد کو سامنے رکھتا ہے-

3- حق کی مفاہمت

امام حسین (رضی اللہ عنہ)نے سیاسی مصلحت پسندی اختیار کرنے کی بجائے حق کے ساتھ مفاہمت اختیار کرنے کو ترجیح دی-اسی بنیاد پر بعض لوگ اہلِ بیت کی سیاسی بصیرت پہ اعتراض کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ امام عالی مقام حق نما ہیں ان کا نظریہ اور حالات کو دیکھنے کا انداز عام افراد سے مختلف ہے کیونکہ آپؓ حق کی روشنی میں دیکھتے اور فیصلہ کرتے ہیں - یہ اہلِ بیت کی بنیادی خصوصیت بھی رہی ہے اور اسے ایک تاریخی روایت کی مثال سے مزید واضح کرتا چلوں کہ جب حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ)کو گورنری سے معزول کیا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ (رضی اللہ عنہ)نے آپ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی انہیں معزول مت کریں- حالات بہتر ہونے تک آپ انہیں گورنر رہنے دیں- حضرت علی (رضی اللہ عنہ)نے ان کے مشورے کو پسند کیا لیکن وہی کیا جو آپ کرنا چاہتے تھے- حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ مغیرہ مجھے معلوم ہے سیاسی مصلحت یہی ہے مگر میں وہی کروں گا جو حق ہے-

اس بات کا نفسیاتی پہلو Kohlberg اور Milgram کے نظریات کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے- امام حسین (رضی اللہ عنہ) اخلاقی اور اصولی طور پر اتنے مضبوط تھے کہ کسی بھی صورتِ حال میں اپنے اصولوں کے خلاف نہیں جاتے تھے - وہ عوامی مفاہمت یا سیاسی مصلحت کے نام پہ آفاقی نظریات پہ سمجھوتہ کرنے کی بجائے حق کی مفاہمت اختیار کرنے کو ترجیح دیتے تھے- وہ مشکل ترین حالات میں بھی صحیح اور غلط کا ادراک رکھنے اور اس کے مطابق فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتے تھے- Milgram کے تجربے نے اسی امر کو واضح کیا ہے کہ عوام جب حالتِ اطاعت اور کسی بیرونی طاقت کے زیرِ اثر ہوں تو وہ صحیح اور غلط کا فرق بھول جاتے ہیں- لیکن حضرت علی، امام حسین اور اہل بیت  اطہار (رضی اللہ عنھم)نے اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل سے مشکل ترین حالات میں حق کی مفاہمت اختیار کرتے ہیں-

4-یزیدی لشکر کی نفسیات

یزیدی لشکر کی نفسیات امام حسین (رضی اللہ عنہ)کی نفسیات کے عین مخالف تھیں- یزیدی لشکر حالتِ اطاعت میں تھا تو حق کی مفاہمت کی بجائے طاقتور کی مفاہمت اختیار کیے ہوئے تھا- ان میں اخلاقی شناخت اور خودی کا استحکام دونوں ہی کمزور تھے-انہوں نے صحیح اور غلط کی تمیز کو پس پشت ڈال دیا کیونکہ وہ ایک با اختیار قوت کے وجود سے مرعوب ہو چکے تھے- ان کے رہنما اعلیٰ انسانی اصول نہیں بلکہ یزیدی حکومت کا خوف اور حکومتی مراعات کا لالچ تھا جس کا ثبوت عمربن سعد اور شمر ملعون جیسے افراد کا اس لشکر کا سردار ہونا ہے- انہوں نے یزیدی حکومت کے خوف کو ویسے ہی تعبیر کیا جیسا کہ انہیں بظاہر نظر آیا کہ اگر یزیدی قوت کی مخالفت کی تو انہیں سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا اور حکومتی مراعات سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا- اس تعبیر نے ان پر خوف کو طاری کر دیا اس لیے انہوں نے حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ)اورآپؓ کے لشکر کو اپنا مخالف سمجھ کر ان کی سخت مخالفت کی اور بالآخر انہیں شہید کر کے اپنے خوف پر قابو پایا-

نتیجہ:

واقعۂ کربلا کے نفسیاتی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ دباؤ اور خوف جیسے جذبات کا پیدا ہونا مخصوص قسم کے تجربات کیلئے لازم نہیں ہے بلکہ انسان ان تجربات کی کیسی تعبیر کرتا ہے وہ تعبیر یہ تعین کرتی ہے کہ کس قسم کے جذبات انسان میں پیدا ہوں گے- انسان کسی تجربے کی کیسی تعبیر کرتا ہے اس کیلئے انسان کی رہنمائی اس کی خودی کی تشکیل، اخلاقی شناخت اور آفاقی اصول کرتے ہیں جو انسان کے شعور پر غالب ہو کر اس کی ذات کی تعمیر کرتے ہیں- سیدناامام حسین (رضی اللہ عنہ)نے اپنی مستحکم خودی، اعلیٰ اخلاقی شناخت اور آفاقی اصولوں پر کاربندی کی وجہ سے بظاہر دباؤ اور خوف کے تجربے کی ایسی تعبیر کی جس سے انہوں نے جرأت و بہادری سے استقامت کو اختیار کئے رکھی- مگر یزیدی لشکر نے غیر مستحکم خودی، اخلاقی شناخت کی غیر موجودگی اور آفاقی اصولوں کی بجائے مادی فوائد کو ترجیح دینے کی وجہ سے اسی تجربے کی ایسی تعبیر کی جس نے ان پردباؤ اور خوف کوطاری کر دیا- یعنی ایک گروہ قوت و تعداد میں کم ہونے کے باوجود بے خوف تھا اور دوسرا گروہ طاقتور ہونے کے باوجود خوفزدہ تھا- اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان خوف اور دباؤ کا شکار ہو کر صحیح اور غلط کی تمیز بھول جاتے ہیں اور حق کی مفاہمت کی بجائے طاقتور کی مفاہمت کر جاتے ہیں- امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے حق کو اختیا ر کیا اور ہر خوف اور دباؤ سے ماوریٰ ہو گئے -

اختتام کرنے سے قبل بیان کردہ ساری نفسیاتی کیفیات اور حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی استقامت کو ذہن میں رکھ کر علامہ محمد اقبال صاحب کے یہ اشعار دیکھئے:

٭ آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
٭ ہزار خوف ہوں لیکن زباں ہو دِل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
٭ ہو حلقہءِ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
٭ خاکی و نوری نہاد، بندہءِ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نياز
نقطہءِ  پرکارِ حق، مردِ خُدا کا يقيں
اور يہ عالم تمام، وہم و طلسم و مجاز

٭٭٭


[1]https://psu.pb.unizin.org/psych425/chapter/cognitive-appraisal-theory/

[2]https://positivepsychology.com/viktor-frankl-logotherapy/

[3]https://www.verywellmind.com/kohlbergs-theory-of-moral-development-2795071

[4]https://psychology.fas.harvard.edu/people/stanley-milgram

[5]https://www.apa.org/pubs/books/Cognitive-Dissonance-Intro-Sample.pdf

[6]https://www.health.harvard.edu/healthy-aging-and-longevity/understanding-the-stress-response

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر