عصرِ حاضر کا معاشرہ کثیرالجہتی بحرانوں سے دوچار ہے جن میں اخلاقی زوال، سیاسی عدم استحکام، معلوماتی انتشار، معاشی ناہمواری اور نظامِ تعلیم کی کمزوریاں نمایاں ہیں- یہ بحران محض انتظامی یا تکنیکی نہیں بلکہ بنیادی طور پر اخلاقی، فکری، سماجی، معاشی اور معاشرتی نوعیت کے ہیں- انسانی تاریخ میں کچھ واقعات وقت کی قید سے آزاد ہو تے ہیں اور وہ صرف ماضی کا حصہ نہیں رہتے بلکہ ہر دور کے ضمیر کو جھنجھوڑتے رہتے ہیں -سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی جدو جہد ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتی ہے جس میں مزاحمت، اخلاق اور شعور ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں- جب تاریخ ،کربلا کے صحرا میں رُکتی ہے تو وقت تھم جاتا ہے لیکن اس واقعہ کی گونج صدیوں کا سفر طے کر کے آج کے دور تک پہنچتی ہے- یہ محض تلواروں کی جنگ نہیں تھی بلکہ ایک بیانیے کی جنگ تھی- اگر ایک طرف طاقت کا بیانیہ تھا تو دوسری طَرف اذاؔنِ حق کا پرچار کرنے والے جانثار- اِس واقعہ نے حق و باطل میں واضح فرق کی وہ لکیر کھینچی ، جو قیامت تک قائم رہے گی-
آج کا نوجوان بھی سچ اور جھوٹ، انصاف اور مفاد، شعور اور بے حسی کے بیانیوں کے درمیان کھڑا ہے، جہاں حسینیؓ فکر اس کیلئے ایک واضح راستہ متعین کرتی ہے- سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے سن 61ھ میں مقام کربلا پر دُنیا اور لوگوں کے حالات کے بارے میں فرمایا:
’’ جو معاملہ درپیش ہے تم اسے دیکھ رہے ہو اور بیشک دُنیا تبدیل ہو گئی ہے جو کہ اچھی حالت سے نکل کر بُری حالت کی طرف چلی گئی ہے اور دُنیا سے اچھائی نے پیٹھ پھیر لی ہے‘‘-
بوقت واقعۂ کربلا محبوب کریم (ﷺ) کو رُخصت ہوئے ابھی 50 سال ہوئے تھے، جبکہ آپ (ﷺ) سے براہ راست فیضیاب ہونے والے بزرگ صحابہ بھی اُس وقت موجود تھے جن سے لوگ رہنمائی لے سکتے تھے- لیکن دُنیا کی رنگینیوں نے ایسا جادو چلایا کہ خاندانِ نبوت کا مقام و مرتبہ بھی بھول گئے-[1]مقام کربلا پر جو اِمام حسین (رضی اللہ عنہ) اور اُن کے رُفقاء کے ساتھ کیا گیا، تاریخ نے اس سے بد تر ظلم زمین پہ نہیں دیکھا -
فِکر حسینؓ، بنیادی طور پر ایک جامع اخلاقی اور سماجی نظریہ ہے جو عصر ِ حاضر کے متعدد ساختی بحرانوں کا تجزیاتی مطالعہ فراہم کرتی ہے- یہ تحقیق درج ذیل تین بنیادی نظریاتی ستونوں (Framework) پر قائم ہے- جن میں اخلاقی مطلقیت (Moral Absolutism) اخلاقی مزاحمت (Ethical Resistance Theory) اور اصولی قیادت (Principled Leadership Model) شامل ہیں- یہ فریم ورک اس مفروضے پر مبنی ہے کہ دورِ جدید کے مسائل کو محض سیاسی یا معاشی وجوہات کے تناظر میں نہ دیکھا جائے، بلکہ اِ نہیں اِخلاقی اورفِکری انحطاط و انحراف کے زاویے سے بھی پرکھا جائے-
1- اخلاقی مطلقیت (Moral Absolutism)
اخلاقی مطلقیت سے مراد وہ نظریہ ہے جس کے مطابق بعض اخلاقی اقدار جیسے عدل، حق، سچائی اور دیانت کسی مخصوص وقت، حالات یا معاشرے کے تابع نہیں، بلکہ یہ وقت کی قید سے آزاد آفاقی (universal) حیثیت رکھتے ہیں- اگر اخلاقی اقدار کا جائزہ فِکر حسینؓ سے لیا جائے تو تحقیق (آپؓ کے خطوط) سے پتا چلتا ہے کہ، سیدالشہداء امام حسینؓ نے یزید کی بد اعمالیوں اور اخلاقی گراوٹ کے باوجود لوگوں کو تشدد پر نہیں اُبھارا- ہاں اتنا ضرور کیا کہ اپنا ہاتھ مبارک یزید پلید کے ہاتھ میں نہیں دیا اور بیعت یزید سے انکار کر دیا- جو کہ حقیقتاً بَقائے اسلام کی جنگ تھی، جس کی آبیاری آپؓ نے اپنے اور اپنے رُفقاء کے خون سے کی-[2] اس تصور کے تحت ’’حق‘‘ کو حالات کے مطابق تبدیل ہونے والا یا مفاد کے تابع سمجھنے کی بجائے ایک مستقل اور غیر متغیر قدر ماننا چا ہیئے-
عصر حاضر میں اخلاقی نسبیت (Moral Relativism) کا رجحان بڑھ رہا ہے، جیسا کہ:
- سچائی کو مفاد کے مطابق بدلا جاتا ہے-
- طاقت کو حق کا معیار سمجھا جاتا ہے-
- غلط کو ’’جائز‘‘ مانا جاتا ہے-
اخلاقی مطلقیت اس رجحان کو چیلنج کرتی ہے اور یہ مؤقف پیش کرتی ہے کہ:
- اخلاقی اصولوں کی بنیاد، مفاد نہیں بلکہ حقیقت ہے-
- سچائی کو حالات کے تابع کرنا اخلاقی انحراف کے مترادف ہے-
- جبکہ حق کو طاقت یا اکثریت سے نہیں ماپا جا سکتا-
فِکر حسین ؓ انہیں اُصولوں کی دلالت پیش کرتی ہے کہ ’’حق‘‘ کو کسی بھی سیاسی یا سماجی دباؤ کے تابع نہیں کیا جا سکتا- اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اخلاقی مطلقیت صرف نظریہ نہیں بلکہ عملی رویے کا نام ہے-
2- اخلاقی مزاحمت
(Ethical Resistance Theory)
اخلاقی مزاحمت سے مراد وہ تصور ہے کہ جس کے تحت ظلم، نا انصافی اور طاقت کے غیر اخلاقی استعمال کے خلاف آواز بلند کرنے کو محض ایک اختیاری عمل نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ مانا جاتا ہے- یہ نظریہ غلط چیز پر خاموشی سادھنے (passive acceptance) کی بجائے متحرک انکاری (active resistance) بننے پر زور دیتا ہے-
آج کل معاشرے میں ایک اہم مسئلہ خاموش تماشائی (culture of silence) بننا ہے- جہاں لوگ:
- ناانصافی دیکھ کر بھی خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں-
- طاقتور کے خوف سے سچ نہیں بولتے-
- ظلم کو معمول سمجھ لیا جاتا ہے-
- مظلوم کو خاموش رہنے پر زور دیا جاتا ہے-
یہ رویہ سماجی سطح پر نا انصافی کو بڑھاوا دیتا ہے جو کہ معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتا ہے- لوگوں کے عقائد و نظریات صرف اور صرف وقتی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں - جبکہ اخلاقی مزاحمت اس رویے کو رد کرتے ہوئے بنیادی اصول مہیا کرتی ہے کہ:
- مزاحمت صرف سیاسی عمل نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے-
- ظلم کے خلاف خاموشی خود ایک اخلاقی ناکامی ہے-
- انصاف کے قیام کیلئے عملی اقدامات ضروری ہیں-
کربلا میں مزاحمت ایک فعال (active) اور اصولی عمل کے طور پر سامنے آئی، جہاں نا انصافی اورظلم و بر بریت کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی گئی-کربلا کا جہاد قیام تھا جو غاصبیت، کفر، تاریکی، منافقت اور فسق کے خلاف، دو شہزادوں کی نہیں بلکہ دو نظریات اور دو سوچوں کی جنگ تھی- یہاں مسئلہ صرف حکومت کا نہیں تھا بلکہ اسلام کی زندگی کا تھا ، جس کی آبیاری امام حسینؓ نے اپنے اور اپنے رُفقاء کے خون سے کی-[3] فِکر حسینؓ سے یہ تصور آج کے سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی مسائل کے حل کے تناظر میں اخلاقی مزاحمت کی بنیاد فراہم کرتا ہے-
3- اصولی قیادت
(Principled Leadership Model)
اصولی قیادت سے مراد ایک ایسی لیڈرشپ ہے جو ذاتی مفادات، اقتدار یا وقتی فائدے کی بجائے اخلاقی اصولوں کو ترجیح دے کر اجتماعی فلاح و انصاف کے لئے کام کرے- فقؔر شبیری سے نسبت کا دعویٰ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم گفتار کے غازی بننے کی بجائے رسم شبیری ادا کرنے کے لئے 'میں' اور 'انا' کا خول اُتار پھینکیں-[4] اس تصور میں قیادت کو ایک ’’طاقتی منصب‘‘ کی بجائے ’’اخلاقی ذمہ دار ‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے-
عصرحاضر میں قیادت کا بحران ایک نمایاں مسئلہ ہے، جہاں:
- فیصلے اُصولوں کے بجائے مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں-
- قیادت ذاتی مفادات کے تابع کام کرتی ہے-
- اور عوامی فلاح کو نظر انداز کیا جاتا ہے-
ایسی قیادت جو اصولوں پر قائم رہے وہی اِن بحرانوں کا متبادل ماڈل پیش کرتی ہے- جیسا کہ:
- قیادت کو جوابدہ (accountable) ہونا چاہیے-
- قیادت کو ذاتی فائدے کے بجائے اجتماعی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے-
- فیصلے اخلاقی اصولوں پر مبنی ہونے چاہئیں-
حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی قیادت، سچائی، ایفائے عہد اور حب الوطنی جیسے استعاروں کا منبع نظر آتی ہے، جن میں:
- آفاقی و حقیقی اُصولوں کو اقتدار پر ترجیح دینا-
- اجتماعی مفاد کو ذاتی مفادات پر فوقیت دینا-
- قیادت کا ہر وقت قربانی کے لئے تیار رہنا-
مَرد حُر اپنی روشن ضمیری اور کمال تصرف سے ہر آنے والے فتنے کو بھانپ لیتا ہے اور اپنی قوم کو دام فریب میں آنے سے بچا لیتا ہے- دورِ جدید کے فتنوں سے بچانے کے لئے فکر حسین ؓ سے مزین مرد حُر کی رہنمائی درکار ہے جو کسی نہ کسی شکل میں ہر دور میں موجود رہی ہے- بھلا جو نفسانی خواہشات کے بندھنوں کا اسیر ہو اور خواہشات نفس کے ہاتھوں کھلونے کی حیثیت رکھتا ہو، وہ بھلا دین اور عزت کا محافظ کیسے ہو سکتا ہے، اور نہ ہی اُمّت کی باگ ڈور اُس کے حوالے کی جا سکتی ہے-[5] یہ ماڈل دور جدید کے سیاسی اور سماجی نظام کے لئے ایک متبادل اور بہترین فریم ورک فراہم کرتا ہے- یہ تینوں تصورات ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ یکساں طور پر مربوط نظام کا ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں- جیسا کہ:
- اخلاقی مطلقیت: حق کی بنیاد فراہم کرتی ہے-
- اخلاقی مزاحمت : حق کے دفاع کا طریقہ فراہم کرتا ہے-
- اصولی قیادت: حق کو اجتماعی سطح پر نافذ کرنے کا نظام فراہم کرتی ہے-
یوں یہ فریم ورک فِکر حسینؓ کے تناظر میں ایک مکمل اخلاقی و سماجی نظام تشکیل دیتا ہے جو فرد، معاشرہ اور ریاست، تینوں سطحوں پر قابل اطلاق ہے- آج کم و بیش 1400 سو برس گزرنے کے باوجود سیدنا امام حسین(رضی اللہ عنہ) کا پیغام، فکر اور فلسفہؔ حق و صداقت دین اسلام کی سربلندی کا روشن باب ہے- جس نے بھی آپؓ کے افکار و نظریات سے استفادہ کیا وہ کامیاب و کامران ٹھہرا-
٭٭٭
[1]اسماعیل خان نیازی، مفتی محمد،(جولائی،2024ء)،’’سید الشہداء حضرت امام حسین () کے خطوط و خطبات کا اجمالی جائزہ،مشمولہ،’’مرآۃالعارفین انٹرنیشنل‘‘
[2](ایضاً)
[3]ذیشان دانش، محمد،(جولائی،2024ء)،’’نواسہ رسولؐ شانہ رسولؐ پر ‘‘مشمولہ،’’مرآۃالعارفین انٹرنیشنل‘‘چیف ایڈیٹر سلطان احمد علی، لاہور،العا رفین پبلی کیشنز
[4]منظور حسین ، مفتی محمد،(جولائی،2024ء)،’’فقر شبیری ‘‘مشمولہ،"’’مرآۃالعارفین انٹرنیشنل‘‘
[5]ضیاءالدین ، میاں محمد،(جولائی،2024ء)،’’سیدنا امام حسین (): نظریہ توحید کے پیامبر‘‘ مشمولہ،’’مرآۃالعارفین انٹرنیشنل‘‘