تاریخِ انسانی میں بے شمار ایسے واقعات ہیں جو ناقابل فراموش ہیں لیکن ان واقعات کی تعداد انگشت شمار ہی ہے جو زمانی حدود میں مقید نہیں رہ سکتے بلکہ فکر، شعور اور اخلاقی اقدار کے دائمی استعارے بن جاتے ہیں- واقعۂ کربلا ان واقعات کی معراج ہے- واقعہ کربلا فقط دس دن کی داستان نہیں ، یہ اپنا ماضی بھی رکھتا ہے اور مستقبل بھی -واقعہ کربلا کا یک جہتی مطالعہ کرنا جیسے مذہبی یا تاریخی سانحہ کے طور پر اس واقعہ کی معنوی وسعت کو محدود کرنے کے مترادف ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ واقعہ کربلا کو مجموعی طور پر سمجھنا شاید ممکن نہ ہو-اس لئے اس کی مختلف جہات کا مطالعہ از حد ضروری ہے - انہی جہات میں ایک جہت ضبطِ نفس، قوت ارادہ اور آزادیٔ ارادہ بھی ہے- کربلا درحقیقت انسانی ارادے، آزادیِ فکر اور اخلاقی جرأت کا ایسا نقطۂ عروج ہے جہاں انسان اپنی ذات، اپنے ایمان اور اپنے اختیار کے ساتھ ایک فیصلہ کن مکالمہ کرتا ہے- اس مکالمے کے نتائج رہنمائی کے وہ کہکشاں ہیں جس کی تابندگی 1400 برس گزر جانے کے بعد بھی ماند نہیں پڑی ، بلکہ جوں جوں علمِ انسانی ارتقائی منازل کو طے کرتے ہوئے شعور کے دریچوں کو وا کر رہا ہے، ہر دریچے میں کربلا سے رہنمائی کے مواقعوں کو ضیاء مل رہی ہے-
کیا کربلا محض قربانی کی داستان ہے؟ یا یہ قوتِ ارادہ (Willpower) ضبط نفس (Self-Control) اور آزادی ارادہ (Free Will) کی اعلیٰ ترین عملی تعبیر بھی ہے؟
قوت ارادہ (Will Power )
قوت ارادہ ’’ برے یا مشکل حالات میں اپنے افعال ، کو جاری رکھنا ، ہار نہ ماننا اور کوشش کرتے رہنے کانام ہے یہ ایک طاقت ہے جس میں انسان اپنے اہداف کو سامنے رکھتے ہوئے کوشش کو جاری رکھتا ہے اور حالات و واقعات کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتا جس کے باعث اس کی سعی میں کمی نہیں آتی- یعنی انسان اپنے افعال ، اعمال ، خواہشات اور جذبات اور خود حالات کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دے اور اپنی کوشش کو ترک نہ کرے اور اپنے اہداف سے پیچھے نہ ہٹے اس کو قوت ارادہ کہتے ہیں‘‘ - قوت ارادہ کو سمجھنے کے لئے حالات اور جز وقتی اہداف (Short Terms Goals) کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے -
مثلاً ایک انسان نظریاتی طور پر تو بہت پختہ ہے اور اپنی منزل و اہدا ف کے بارے میں خوب اچھی طرح جانتا ہے لیکن بعض اوقات کسی دباؤ یا حالات کے سامنے بے بس ہو کر وقتی طور پر کچھ ایسا کر جاتا ہے جو اس کی شخصیت سے میل نہیں کھاتا - رسول اکرم (ﷺ) کے زمانہ مبارک سے آج کی جدید تاریخ تک ایسی ان گنت مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ہم ان سب کی تفصیل میں جائے بغیر حضرت حر تمیمی ؒ کی مثال پر اکتفا کرتے ہیں - حُر کو ابن زیاد نے سب سے پہلے حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ)کے قافلے کی نگرانی پر مقرر کیا تھا جو ایک ہزار کے لشکر کے ساتھ چند نفوس کے خلاف میدان میں اترا - ابن زیاد سے احکامات لیتے وقت بھی وہ جانتا تھا کہ خانوادہ رسول (ﷺ) اہل حق ہیں اور حق نما بھی لیکن اس وقت حالات کا جبر اس پر حاوی ہو گیا اور وہ قوت ارادہ کی کمزوری کے باعث اس قبیح فعل کو سر انجام دینے کیلئے رضامند ہو گیا ، صبح عاشور وہ خود ، اپنے بھائی اور غلام کے ساتھ لشکر یزید لعین کو چھوڑ کر قافلہ حسینؓ میں شامل ہوا اور شہادت کو گلے لگایا- قوت ارادہ بنیادی طور پر ایک جز وقتی نفسیاتی عمل ہے جس کا دار و مدار ایک محدود وقت کیلئے ہو تا ہے- جدید نفسیات کے مطابق انسانی ذہن اس میں تھکاوٹ بھی محسوس کرتا ہے اور اپنے ہدف سے پیچھے بھی ہٹ جاتا ہے - ظاہر ہے جب حالات موافق نہ ہوں ، اہداف کا حصول مشکل ہو، توانائی زیادہ خرچ ہو رہی ہو اور مشکلات ختم نہ ہو رہی ہوں تو کسی بھی انسان کا تھک جانا ایک نارمل اور عین فطرت کے قریب ہے -
اگر ہم فکر اسلامی کی بات کریں تو یہاں ارادہ فقط ایک نفسیاتی کیفیت نہیں بلکہ ایک روحانی عمل ہے جسے نیت بھی کہا جاتا ہے اور اسی نیت ہی پر اعمال کی بنیاد ہے - یہ جتنی سچی اور طاقتور ہو خدا کے حضور عمل کی جزا ویسے ہی ملتی ہے - ارادہ جتنا سچا اور روح کے قریب تر اور خلاف ِ نفس ہو گا اسی قدر اس میں توازن ہو گا - جدید نفسیات کے مطابق بھی انسان اپنے ارادے کو ایک خاص ڈھب میں لانے کی پریکٹس کرے تو اس کے اعمال میں توازن اور مضبوطی زیادہ آ سکتی ہے-
المختصر! اگر انسان کی اقدار اور عادات میں ہم آہنگی ہو تو اس کے باعث بہترین انتخاب انسان کی فطرت بن جاتا ہے اور یہ قوت ارادہ اپنی تعریف کے مطابق ایک وقتی یا عارضی فیصلے میں کیفیت کی بجائے انسان کے کردار کی ایک بنیادی خوبی بن جاتا ہے -
ضبط نفس (Self-Control)
ضبط نفس سے مراد طویل المدتی اہداف کے حصول کیلئے اپنے جذبات، افعال، خواہشات اور ردعمل کو اپنے تابع کرنا ہے- ضبطِ نفس کی اصطلاح صوفیائے کرامؒ کے ہاں خواہش نفسانی کے خلاف چلتے ہوئے، نفس امارہ ، لوامہ اور ملہمہ کو نفس مطمئنہ، راضیہ و مرضیہ تک پہنچانا ہے- ان کے ہاں معرفتِ الٰہی کے حصول کیلئے اپنے نفس پر ضبط رکھتے ہوئے ہدف پر نگاہ رکھنا ضروری ہے- جبکہ کربلا میں ضبط نفس سے مراد حالات کے بدترین ہو جانے کے باوجود اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر ڈالنے کے بجائے اپنے افعال کی لگام کو اپنے ہاتھوں میں رکھنا ضبط نفس ہے -
سانحۂ کربلا میں کوئی اندرونی نفسانی کشمکش نہ تھی، بلکہ امامِ عالی مقام (رضی اللہ عنہ)تو پہلے ہی مقامِ رضیّہ و مرضیّہ پر فائز تھے-آپؓ تو جوانانِ اہلِ جنت کے سردار ہیں- اس لیے واقعہ کربلا خواہشِ نفس کی جنگ نہیں بلکہ حق، صبر، رضا اور الوہی مقصد کی تکمیل کا عظیم مظہر ہے-لہٰذا کربلا میں تو مصائب اور کشمکش بیرونی ہیں، امام عالی مقام ؑ کے خلاف حالات کا جبر مسلسل ہے ، ظلم کا بازار گرم ہے ، ہٹ دھرمی کی مثال اسفل السافلین کے مقام پر ہے، بے شرمی کا لاوہ پک رہا ہے ، بدتہذیبی کا سیل رواں ہے - ان بد ترین حالات میں بھی آپؓ نے اپنا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھا حالات کو نہیں سونپا- یزید لعین اور اس کے حواری یہی چاہتے تھے کہ کسی بھی طرح ہمیں امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی بیعت مل جائے تاکہ ہم اپنی بے جواز حکومت کو جواز دے سکیں لیکن آپؓ کے اس ضبط ِ نفس کو خواجہ معین الدین اجمیری ؒ نے کس خوب صور ت انداز میں پیش فرمایا :
|
شاہ است حسین، بادشاہ است حسین |
’’شاہ بھی حسینؓ ہیں، بادشاہ بھی حسینؓ ہیں-دین بھی حسینؓ ہیں، دین کی پناہ بھی حسینؓ ہیں-سر دے دیا مگر اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں نہیں دیا -حقیقت تو یہ ہے کہ لا الہ کی بنیاد بھی حسینؓ ہیں‘‘-
آزادیِ ارادہ (Free Will)
آزادیِ ارادہ سے مراد انسان کی وہ صلاحیت اور نظریات ہیں جس کے ذریعے وہ مختلف ممکنہ اعمال میں سے اپنی عقل، شعور، خواہش، اقدار اور فیصلے کی بنیاد پر کسی ایک عمل کا انتخاب کرتا ہے- یعنی انسان صرف بیرونی حالات کے تحت عمل نہیں کرتا بلکہ اپنے ارادے اور اختیار سے فیصلہ کرنے کی قوت رکھتا ہے- کربلا میں امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے جبر پر اختیار کو فوقیت دی - امام حسین () کا فیصلہ آپؓ کی آزادی ، خود مختاری اور حق کے ’’ شعوری انتخاب‘‘ کا فیصلہ ہے - یزید لعین کی جبری بیعت کے خلاف آپؓ کا انکار دراصل ایک اعلان تھا کہرہتی دنیا تک کو یہ بتایا جائے کہ انسان محض حالات کا اسیر نہیں -آپؓ کی اس حریت فکر نے حالات کا رخ موڑا اور حق و باطل کو علیحدہ علیحدہ کر دکھا یا -
حاصل کلام :
جیساکہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ اگر انسان کی اقدار اور عادات میں ہم آہنگی ہو تو اس کے باعث بہترین انتخاب انسان کی فطرت بن جاتا ہے اور یہ قوت ارادہ اپنی تعریف کے مطابق ایک وقتی یا عارضی فیصلے میں کیفیت کی بجائے انسان کے کردار کی ایک بنیادی خوبی بن جاتا ہے - اب اگر اسی عمل کی رہنمائی آقا پاک (ﷺ) کے گھرانہ مبارک اور خصوصا حسنین کریمین (رضی اللہ عنھم) کی مبارک زندگیوں سے لیں تو ہم جان جائیں گے کہ آپؓ کی اقدار اعلیٰ تھیں - یہ بات بھی اظہرمن الشمس ہے کہ آپؓ سے زیادہ اعلیٰ اقدار کسی کی ہو نہیں سکتیں ، آپؓ دوشِ رسالت (ﷺ) کے سوار تھے، آپؓ نے بابِ مدینۃ العلم کی آغوش میں پرورش پائی جو فقط عالم ہی نہ تھے بلکہ رجل کرار تھے ،جو جہاد کے دھنی تھے جو شجاعت کی مثال تھے ، جو اتنے بہادر اور جری تھے کہ بہادری کو ان پر ناز تھا ، آپؓ ابو ترابؓ تھے ، حکمت آپؓ کی گھٹی میں تھی ، آپؓ اخی رسول (ﷺ) تھے ، آپؓ کی والدہ جنت کی خواتین کی سردار عالمہ، فاضلہ، مطیع فرمانبردار، صابرہ اور شاکرہ تھیں - حسنین کریمین (رضی اللہ عنھم) کے اعلیٰ اوصاف اور حقانیت و عظمت کے لئے آیت تطہیر اور آیت ِمباہلہ کی گواہی کافی ہے-
حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ حالات کے جبر کو سب ہی قبول کر چکے تھے اور یہ جبر اب اپنے عروج پر پہنچ گیاتھا - اس کا آغاز تو مولائے کائنات حضرت علی (رضی اللہ عنہ) پر گھیرا تنگ کرنے سے ہوا اور آپؓ کو دار الحکومت مدینہ سے کوفہ تبدیل کرنا پڑا ، تین جنگیں مسلط کی گئیں ، آپؓ شہید ہوئے ، منصبِ خلافت امام حسن (رضی اللہ عنہ)کو سونپا گیا، لیکن آپؓ نے بشارتِ رسول (ﷺ) کی تکمیل میں صلح فرمائی اور خلافت سے دستبردار ہوئے تاکہ نانا جان کی اُمّت کا ناحق خون نہ بہے-منبروں سے سب و شتم کا سلسلہ چلا ، حق داروں کو حق سے محروم کیا گیا، منبر کو تخت میں بدلا گیا، یزید لعین کے لئے جبر و ظلم سے بیعت لی جانے لگی اور پھر رات کی تاریکی میں جبر و استبداد کے سائے میں امام عالی مقام (رضی اللہ عنہ) سے بیعت کا تقاضا کیا گیا -
یہ سالہا سال سے ہونے والا ظلم اپنے عروج پر تھا- آپ (رضی اللہ عنہ) کی بیعت کا مطلب ماضی میں ہوئے تمام غیر اسلامی و باغیانہ کاموں پر مہر حق ثبت کرناتھا -آپؓ جانتے تھے کہ بیعت کر کے خوشحال زندگی گزاری جا سکتی ہے - لیکن آپؓ نے اپنا اخلاقی فرض نبھایا اور جبر و ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور اپنے پورے کنبے اور ساتھیوں کے ساتھ خودکو راہ اسلام میں قربان کر دیا -لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی - یہ قوت ارادہ ، ضبط نفس ،کربلا کا تسلسل ہے جس کی شبیہ ِ احسن ہمیں دین بچانے کی خاطرحضرت سیدہ بی بی زینب پاک (رضی اللہ عنہا) کی ہمت، کاوش اور قوی آواز و کردار کی صورت میں نظر آتی ہے-
|
کتابِ عشق دو باب است کربلا و دمشق |
کربلا محض قربانی کا استعارہ نہیں بلکہ یہ انسانی ارادے کی وہ معراج ہے جہاں آزادیِ انتخاب، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی بصیرت ایک نقطے پر آ کر جمع ہو جاتی ہیں-
٭٭٭