ہیروازم کا جدید تصوراور اسوہ سیدنا امام حسین(رضی اللہ عنہ)

ہیروازم کا جدید تصوراور اسوہ سیدنا امام حسین(رضی اللہ عنہ)

ہیروازم کا جدید تصوراور اسوہ سیدنا امام حسین(رضی اللہ عنہ)

مصنف: بابرجان خوازی خیل جون 2026

ہیرو ازم کا تصور ہمیشہ سے عالمی مفکرین کا موضوع رہا ہے اور ہر دور کے دانشور ایسے اقدار کا تعین کرتے رہے ہیں جن کو اپنا کر انسان اس تصور کا حقدار ٹھہرتا ہے- بحر حال تاریخ میں ہمیشہ سے یہ تصور ارتقاء پذیر رہا ہے جو وقت، حالات اور ثقافت کے ساتھ بدلتا رہا ہے- تاہم حسینی ماڈل کے سامنے آنے کے بعد اس تصور کیلئے وہ اخلاقی معیارات ، اصول اور اقدار قائم ہو گئے ہیں جن کو نظر انداز کرنا اب اہل فکر کیلئے آسان نہیں ہے-

قدیم معاشروں میں حکومتی اور عوامی تعلق کی نوعیت اور امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی فکری جدت:

زیر نظر مضمون کے موضوع پر بحث کرنے سے پہلے قدیم معاشروں میں حکومت اورعوام کے تعلق کی نوعیت اور اس تعلق میں امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے پیدا کی گئی فکری جدت کا ایک تقابلی جائزہ پیش کرنا ضروری ہے- حکومت اور عوام کا تعلق ہمیشہ سے سیاسی فلسفے کا بنیادی موضوع رہا ہے- قدیم معاشروں میں حکومتی جواز زیادہ تر طاقت، روایت اور مذہبی تقدیس پر مبنی تھا-اس تعلق میں عوام کی حیثیت اطاعت گزاررعایا تک محدود تھی اور یہ تعلق زیادہ تر یک طرفہ تھا جہاں حکومت ایک مقتدراورعوام تابع ہوتے تھے- اس تعلق کے تصور کی اخلاقی بنیادوں پر تشکیل ایک تدریجی عمل سے گزرا جہاں بلا شبہ فکر امام حسین(رضی اللہ عنہ) نے اس تعلق کو ایک نئی جہت عطا کی-

 قدیم مصراورمیسپوٹیمیا میں حکمران کو خدائی نمائندہ تصور کیا جاتا تھااورحکومتی اقدارکومذہبی تقدیس حاصل تھی- اس کے باعث عوام کی اطاعت ایک مذہبی فریضہ سمجھی جاتی تھی- ان کے ہاں عوامی شرکت اور سیاسی شمولیت کا تصورناپید تھا- قدیم یونان کی بات کی جائے تو وہاں اس تعلق کے تصور میں کچھ تبدیلی تو آئی مگریہ صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود تھی- مثلاً دانشوروں کی رائے یا صرف مردوں کی شمولیت وغیرہ - قدیم رومی سلطنت کودیکھا جائے تو اس میں قانونی نظام اور شہریت کے تصور نے کچھ ترقی ضرور کی تاہم اقتدار بدستوراشرافیہ کے ہاتھ میں مرتکز رہا- اس طرح ان معاشروں میں بتدریج عوامی حکومتی تعلق میں کچھ وسعت ضرور آئی مگر مساوات ، عوامی شمولیت اور ہم آہنگی کا فقدان رہا-

 اس کے برعکس امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے حکومت کے جواز کو اخلاقی اصولوں،عوامی رضا مندی اور انصاف سے مشروط کیا-

عوامی-حکومتی تعلق کو ایک اصولی اور اخلاقی بنیاد فراہم کی- جس کے تحت عوام محض اطاعت گزار رعایا نہیں اور نہ ہی حکومتی ظلم کے خلاف کھڑا ہونا سیاسی بغاوت ہے بلکہ یہ ایک اصولی اور اخلاقی ذمہ داری ہے- اس طرح آپؓ نے مزاحمت کو ایک اخلاقی فریضے کے طور پرپیش کیا-

 اس کے ساتھ ساتھ آپؓ عوامی شمولیت اور رضا مندی کی فکرسامنےلائے اور یہ اصول واضح کردیا کہ جبر سے حاصل کی گئی وفاداری عوامی رضا مندی کی عکاس نہیں ہو سکتی -لہٰذا عوامی رضا مندی کو حکومتی جواز کا بنیادی عنصر قرار دیا-

مزید آپؓ نے حکومت کے وراثت اورطاقت پر مبنی جواز کو چیلنج کیا اور اس کو عدل و انصاف اور اخلاقی اصولوں پر مبنی ہونے کا تصور پیش کیا -

اس تقابلی جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ آپؓ کی فکر محض ایک وقتی ردعمل نہیں تھا بلکہ یہ ایک ہمہ گیر اصولی مؤقف تھا جو قدیم سیاسی تصورات سے واضح طور پر مختلف تھا اور بعد کے سیاسی تصورات کے لیے مشعل راہ ہے- آپ کی فکری جد و جہدکے باعث یہ واضح ہوا کہ اقتدار کی اقدار کو اخلاقیات اور اصولوں کے تابع ہونا چاہیےنہ کہ اخلاقیات اور اصولوں کو فقط اہلِ اقتدار کی منشاء پہ چھوڑا جائے-

 عرب معاشرے میں ہیروازم کا تصور :

 اب عرب معاشرے میں ہیروازم کے ارتقائی تصورکا جائزہ لیتے ہیں اور اسے اسوۂ امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی روشنی میں پرکھتے ہیں- قبل از اسلام عرب معاشرے میں ہیروازم کو بہادری، قبائلی وفاداری اور جنگی مہارت سے جوڑا جاتا تھا- جبکہ اسلام نے اس تصور کو اخلاقی، روحانی اور اصولی بنیادوں پر استوار کیا- امام حسینؓ کی جد و جہد خصوصاً معرکہ کربلا اس نئے ہیروازم کے تصور کی اعلیٰ ترین مثال اور اظہار کے طور پر سامنے آیا جو تعلیماتِ اسلام سے واضح ہوا جس میں حق، عدل اور انسانی وقار کیلئے قربانی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے-

ہیرو ازم ہر معاشرے کا بنیادی تصور اور موضوع رہا ہے- عرب معاشرے میں ہیروازم کے تصور کے منفرد ارتقائی سفر یعنی کہ جاہلی دور کی قبائلی شجاعت سے لے کر اسلامی دور کی اخلاقی اور روحانی عظمت تک کی تبدیلی کا تجزیہ کیا جائے تو اسوہ امام حسینؓ اس سفر کا نکتۂ عروج ثابت ہوتے ہیں- جاہلی عرب معاشرے میں ہیرو وہ شخص ہوتا تھا جو جنگ میں بہادری دکھائے، اپنے قبیلے کی حفاظت کرے اور دشمن پر غالب آئے- عرب شعراء نے اس تصور کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا- یہ شعراء اپنے قبیلوں کے جنگجوں کی تعریف کرتے اور انہیں مثالی ہیرو کے طور پر پیش کرتے تھے- اس میں خاص نکتہ یہ ہے کہ اگرچہ بہادری کو سراہا جاتا تھا لیکن اس میں اخلاقی اصولوں کی واضح بنیاد موجود نہیں تھی- البتہ انتقام فخر اور قبائلی برتری اس تصور کے بنیادی محرکات تھے-

اس کے برعکس اسلام نے ہیروازم کی نئی تعریف متعارف کرائی جہاں ہیروازم کے تصور کو جسمانی بہادری سے نکال کر، آفاقی حق کی خاطر اصول پہ قائم رہتے ہوئے ،اخلاقی استقامت، صبر اور تقوٰی سے جوڑ دیا - اس تصور کا حامل وہ ہے جو حق پر قائم رہے نہ کہ وہ جو لازمی جنگ جیتے- اسوۂ امام حسین (رضی اللہ عنہ)کا قیام و عمل اس کی درست تشریح اور ترجمانی کرتا ہے – آپؓ نے قبائلی مفاد کی بجائے ایک آفاقی پیغام کی خاطر اصولی مؤقف اختیار کیا اور اس مؤقف کیلئے اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حق کی خاطر آخری حد تک جا کر ہیروازم کے تصور کو نئی معنویت عطا کی- اس طرح آپؓ نے اپنی فکری اور روحانی قوت کے ذریعے خود کو قربانی کے استعارے کے طور پر ثابت کیا -

ان دونوں تصورات کی بنیاد، مقصد، ذرائع اور نتائج میں واضح فرق ہے- ہیرو وہ نہیں جو لازمی طور پر جیت جائے بلکہ وہ ہے جو حق پر قائم رہے اور اصولی استقامت کو ترجیح دے-اسی طرح مزاحمت کا مقصد ذاتی یا قبائلی مفاد نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی اور ظلم کے خلاف ہونا چاہیے- پس علاقیت اور قبائلیت کی بجائے عالمگیریت، اصول اور اخلاقی اقدار کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے اور قربانی یا استقامت کا مظاہرہ اس ضمن میں عمل میں لانا چائیے-

دورجدید کا تصور ہیروازم:

 یہ تصور ایک ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے جو قدیم زمانے کے جنگجوں اور دیومالائی طاقت کے حامل شخصیت سے شروع ہو کر قرون وسطیٰ کے مذہبی اور روحانی شخصیت سے گزرتے ہوئے دور جدید کے انفرادی آزادی وعقل و دانش کے معیار کو اپناتے ہوئے موجودہ دور میں ایک اصلاحی سماجی اور روزمرہ ہیروازم کے فکری تصور تک پہنچا ہے- اس جدید تصور ہیرو ازم کا خاکہ بنانے میں مختلف ادوار کے فلاسفہ کی فکر نمایاں ہے- تاہم ان میں اہم اور زیادہ اثر رکھنے والے رجحانات بیان کیے جاتے ہیں -

کارل یونگ کا ہیروازم (Archetype،ہیرو ایک نفسیاتی علامت ہے) ایک جدید نفسیاتی نظریہ ہے- جوزف کیمبل کی Monomyth Hero کی Narrative Theory یعنی کہ ہیرو ایک سفر سے گزرتا ہے، زیادہ تر جدید ادب اور فلمیں اسی ماڈل پر بنتی ہیں- جان پال سارترے کا وجودی فلسفہ یعنی کہ ہیرو وہ ہے جو اپنی معنی خود پیدا کرے- کانٹ کے اخلاقی فلسفے اور فریڈرک نطشےکا ماڈل یعنی کہ انسان اپنی اقدار خود وضع کرتا ہے-

 جدید ہیروازم کی خصوصیات:

دور جدید کے تصورات کے مطابق ہیرو کی شخصیت میں جن خوبیوں کا پایا جانا ضروری ہے ،وہ درج ذیل ہیں :

  • اخلاقی جرات
  • ایثار
  • سماجی انصاف
  • اجتماعی مفاد

جدید فلسفہ اور نفسیات کے مطابق:

’’ ہیروازم وہ عمل ہے جس میں فرد خطرہ مول لیتا ہے، دوسروں کیلئے قربانی دیتا ہے، اخلاقی اصول کی خاطر اقدام کرتا ہے‘‘-[1]

’’ ہیروازم کی اہم خصوصیات میں جرأت، ایثار، اخلاقی استقامت اورعملی اقدام شامل ہے‘‘-[2]

’’جدید فلسفہ میں ہیروازم ایک سماجی عمل ہے اس کا مقصد انسانی فلاح اور اقدار کا تحفظ ہے‘‘-[3]

عالمی مفکرین کے ہاں تصور ہیروازم

عالمی مفکرین کے ہاں ہیروازم کا کوئی مشترک تصور موجود نہیں ہے بلکہ ہر فکری روایت میں اس کی بنیاد، مقصد اور معیار مختلف ہے- سب سے پہلے:

 اساطیری بنیاد:

قدیم یونانی تہذیب میں ہیرو وہ شخصیت ہوتی تھی جو دیوتاؤں سے قریب تعلق رکھنے کے باعث غیر معمولی طاقت رکھتا ہو اور جو عظیم جنگی کارنامے سرانجام دیتا ہو- مثال کے طور پرہرکولیس وغیرہ یہ ہیرو اکثر ٹریجڈی کا شکار ہوتے تھے یعنی عروج و زوال کا تصور-

کنفیوشس:

کنفیوشس کے تصور میں ہیرو وہ عظیم اور شریف انسان (Junzi) ہے جو معاشرتی اور خاندانی رشتوں میں کامل توازن اور ہم آہنگی پیدا کرے- اس کا ہیرو کوئی گوریلا نہیں بلکہ ایک اعلیٰ اخلاق کا پیکر ہے جو 'رسم و رواج اور فرض شناسی' (Ritual and Duty) کی پابندی کرتے ہوئے معاشرے کو امن کا گہوارہ بناتا ہے- یہاں ہیرو ازم ذاتی نمود و نمائش کے بجائے اجتماعی فلاح اور مسلسل خود احتسابی کا نام ہے-

گوتم بدھ :

گوتم بدھ کے ہاں ہیرو وہ روشن ضمیر انسان ہے جو انسانی دکھوں (Dukkha) کی حقیقت کو پا لے اور اپنی اندھی خواہشات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے- اس کا ہیرو ازم کسی بیرونی دشمن سے لڑنے کے بجائے، جہالت اور نفسانیت کے خلاف ’’روحانی بیداری‘‘(Spiritual Awakening) کا ایک طویل اور کٹھن سفر ہے-

سقراط:

سقراط کے نزدیک ہیرو وہ ہے جو حق اور سچائی کی تلاش میں اپنی جان کی بازی لگا دے- اس کا ہیرو ازم طاقتِ طبعیہ، حرکتِ جسمانیہ اور قوتِ غذائیہ کے بجائے 'اخلاقی اور فکری جرات' (Moral and Intellectual Courage) پر کھڑا ہے- سقراط کے ہاں ہیرو وہ ہے جو معاشرے کے فرسودہ عقائد پر سوال اٹھائے اور زہر کا پیالہ پی کر بھی حق اور اپنے اصولوں پر رتی برابر سمجھوتہ نہ کرے-

ارسطو:

ارسطو کے نزدیک ہیرو ایک عظیم شخصیت رکھتا ہے لیکن ایک داخلی کمزوری کا شکار ہوتا ہے اور اسی کمزوری کی وجہ سے زوال پذیر ہو جاتا ہے-ارسطو کے ہیرو کے عروج و زوال کا بنیادی نکتہ ادبی کیتھارسس یعنی جذباتی اثر قائم کر کے کمزوریوں پر قابو پانے کی ترغیب دینا ہے- یہ ہیرو ازم کے تصور کے ادبی و اخلاقی رجحان کے قریب ہے-

مارکس اوریلئس:

رومن ایمپائر کے فلسفی بادشاہ مارکس اوریلئس کے نزدیک ہیرو ازم کا مطلب اپنے نفس اور خواہشات کو تسخیر کرنا ہے- ایک سٹوئک (Stoic) ہیرو وہ ہے جو کائنات کے بدلتے حالات اور مصائب کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا رہے اور اپنا فرض نہایت سکون اور تمکنت کے ساتھ ادا کرے- اس کے ہاں ہیرو وہ ہے جو داخلی فتح (Inner Conquest) حاصل کرے اور جذبات کی رو میں بہنے سے قطعی انکار کر دے- جیسا کہ اس کا مشہور ترین قول ہے :

“You have power over your mind, not outside events. Realize this, and you will find strength”.

’’آپ کے پاس اپنے ذہن پر اختیار ہے ، بیرونی حالات پر نہیں - اس بات کو سمجھیں، اور آپ کو حقیقی طاقت مل جائے گی ‘‘-

 میکیاولی:

میکیاولی کی نظر میں ہیرو وہ حکمران ہے جو نہ صرف طاقت حاصل کرے بلکہ اسے برقرار بھی رکھے چاہے اس کیلئے اسے اخلاقیات کے اصولوں سے ہٹنا بھی پڑے- وہ اخلاقیات کا دوہرا نظام (Dual Standard of Morality) وضع کرتا ہے جس میں حکمران اور عوام کے لیے اخلاقیات کا معیار مختلف ہوتا ہے- میکیاولی سیاسی اور طاقت پر مبنی ہیرو ازم کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے-

 فریڈرک نطشے:

 ان کے مطابق ہیرو وہ ہے جو روایتی اخلاقیات رد کرے اور اپنی نئی اقدار خود تخلیق کرے- ہیروازم کا یہ نظریہ وجودی اورفلسفیانہ رجحان کی وکالت کرتا ہے-

 سارترے:

 ان کے نزدیک ہیرو وہ انسان ہے جو ذمہ دار آزادی رکھتا ہو، کسی پہلے سے طے شدہ معانی کے بغیر جیتا ہو اور اپنے انتخاب سے اپنی حقیقت بناتا ہو- یہ بھی وجودی رجحانات ہے-

 کال یونگ:

ہیرو کوئی حقیقی فرد نہیں بلکہ انسانی لاشعور کا ایک (Archetype) ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہوتا ہے یہ نفسیاتی ہیروازم کی مثال ہے-

 جوزف کیمبل:

 Monomyth ہیرو ایک عالمی کہانی ہے جو ایک سفر سے گزرتا ہے، خود کو چیلنج کرتا ہے، آزمائشوں (Adventure) سے گزرتا ہےاور تبدیل(transform) ہو کر واپس آتا ہے- اس کی بنیاد اساطیری فلسفہ پرہے اور جدید فلموں اورادب کی بنیاد زیادہ تر اس ماڈل پر ہے -

ان تمام نظریات کا مطالعہ کرنے سے یہ فکر سامنے آتی ہے کہ مغربی فلسفہ میں ہیرواپنےمعنی خود پیدا کرتا ہے اور اسلامی ماڈل، جس کی نمائندگی امام حسین (رضی اللہ عنہ) کرتے ہیں، میں ہیرو حق کے معانی کو زندہ کرتا ہے- مغربی مفکرین کے افکار اورشعوری تحریک اپنی اہمیت کے باوجود اخلاقی ابہام کا شکار رہتے ہیں- اسی باعث یہ ممکنہ طور پر ایک بہتر اخلاقی نظام قائم نہیں کر پاتے ہیں- ان کی تحریکوں میں کامیابی کسی اصول پہ قائم رہنے کی بجائے نتیجے سے جڑی ہوتی ہے- اس کے برعکس اسوۂ امام حسین (رضی اللہ عنہ) میں مزاحمت، جرأت، عظمت، معنی اور شعوری و نفسیاتی سفر کا ہر پہلو عالمگیری آفاقی اصولوں کے تابع ہوتا ہے اور ایک واضح اصولی اخلاقی انقلابی ماڈل پیش کرتا ہے- یہاں کامیابی کا معیار نتیجے کی بجائےان آفاقی اخلاقی اصولوں پہ قائم رہنا ہے- جہاں مزاحمت کسی نفرت یا تعصب کی بجائے کسی اصول مثلاً ناانصافی کے خلاف کی جاتی ہے اور اس کا واحد مقصد نظام کی تبدیلی یا حکمران کی برطرفی ہی نہیں بلکہ اقدار کی اصلاح بھی ہے-

دور جدید میں ہیرو ازم، انقلابی اور مزاحمتی تناظرمیں:

دور جدید کے ہیروازم کے تصور کے مزاحمتی اور انقلابی پہلو کو فکری اور عملی پیمانے پرپرکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کو اکثر سیاسی، سماجی اور ثقافتی بغاوت سے جوڑا جاتا ہے اور دور جدید میں یہ تصور ایک مزاحمتی اور انقلابی استعارے کے طور پر سامنے آتا ہے- مثلاًاکثر انقلابی سیاسی شخصیات جیسے چی گویرا، نیلسن منڈیلا وغیرہ جو جبر کے خلاف مزاحمت کرتے تھے، اسی طرح حقوق انسانی، صنفی مساوات اور ماحولیاتی تحفظ کی سماجی تحریکیں جو اسٹیٹس کو(Status quo) کو چیلنج کرتی ہیں-اس کے علاوہ میڈیائی علامتی و رومانوی اور جذباتی ہیرو ازم کے تصورات بھی پروان چڑھ رہے ہیں- تاہم سوال یہ ہے کہ آیا ہر مزاحمت یا انقلاب حقیقی معنوں میں اخلاقی بھی ہوتا ہے؟ کیا ان تحریکوں میں عالمگیریت، اصولی ثبات اور اخلاقی سمت مبہم رہتی ہے یا یہ واضح رہتی ہے؟

اسوۂ امام حسین(رضی اللہ عنہ) اصولی اور اخلاقی فکری انقلاب کی ایک ایسی مزاحمتی اور انقلابی مثال پیش کرتی ہے جس کا مقصد محض اقتدار کی تبدیلی ہی نہیں بلکہ ساتھ اقتدار کے اقدارکی تطہیر ہے-ان تصورات کو اسوۂ امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے عملی ہیروازم کے تصور کے تناظر میں دیکھا جائے، جس کی بنیاد اصولی مزاحمت، اخلاقی انقلاب، قربانی اور آفاقی مزاحمتی پیغام پر مبنی ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی مخصوص علاقائی یا قومی سیاسی مفاد کی بجائے ایک فاسد نظام کے خلاف تھی جو حق و باطل کے امتیاز پر مبنی تھی- یہ عالمگیریت کے اصول کی نشاندہی کرتی ہے-

مقصد حصول اقتدار کی بجائے اخلاقی اقدار کی بحالی کی جد و جہد تھی- اس کو Inward Revolutionیعنی انسان کے اندر حق کی بیداری کے جذبے کی بحالی کہتے ہیں-یہ اخلاقی سمت کی طرف اشارہ کرتی ہے- اس کے برعکس دور جدید کے یہ مزاحمتی و انقلابی ہیرو بیشتر اوقات اپنی توجہ صرف طاقت کے توازن کو بدلنے پر مرکوزرکھتےہیں-

 آپ اپنے نظریہ اور اصولی مؤقف پر نفع و نقصان اور نتائج کو خاطر میں لائے بغیر اصولی استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کیلئے قربانی کی آخری حد تک پہنچے - یہ اصولی ثبات کی گواہی ہے-

اسلامی ہیرو ازم: کثیر الجہتی صفات کا اجتماع اور جامعیت

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہیرو ازم کا تصور کسی اسطوراتی (Mythological)، محض مابعد الطبیعاتی (Metaphysical) یا کسی مخصوص جنونیت تک محدود اور یک رخا (One-dimensional) نہیں ہے، بلکہ یہ کثیر صفات کے اجتماع کا ایک نہایت متوازن، جامع اور عملی ماڈل ہے-  اسلام کا ہیرو محض طاقت کا مظہر یا میدانِ جنگ کا فاتح نہیں ہوتا، بلکہ اس کی ہیرو شپ کا آغاز اعلیٰ ترین اخلاقی اور انسانی اقدار سے ہوتا ہے-  اس کی سب سے روشن اور بے مثال دلیل یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام (ﷺ) نے کوہِ صفا پر جب اپنی دعوت کا آغاز کیا تو کوئی مافوق الفطرت دعویٰ کرنے کے بجائے اپنا جو اخلاقی استعارہ (Resume) پیش کیا، اس کی بنیاد صداقت اور امانت کی آفاقی صفات پر استوار تھی-  یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں ہیرو ازم کسی ایک مخصوص سانچے کا اسیر نہیں بلکہ مختلف اور متنوع شکلوں میں اپنے کمال پر نظر آتا ہے-

اسلامی ہیرو ازم کا اولین اور آفاقی خاکہ انبیائے کرام (علیھم السلام)کی سیرت میں اپنی مکمل ترین شکل میں جلوہ گر ہوتا ہے-  قرآنِ مجید کے بیان کردہ ہیروز محض کسی ایک مخصوص صفت کے حامل نہیں، بلکہ وہ انسانیت کی مجموعی تہذیبی ارتقاء اور روحانی بقا کے استعارے ہیں-  جہاں سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کی عظیم قربانی نفس کو شعوری طور پر حق کے سامنے قربان کر دینے کا اعلیٰ ترین ہیرو ازم پیش کرتی ہے، وہیں سیدنا ایوب اور سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کا بے مثل صبر، داخلی استقامت اور روحانی مزاحمت کا وہ کمال ہے جس کی نظیر مادی تاریخ میں نہیں ملتی-  اسلام کا ہیرو طاقت کے عروج پر بھی انتقام کا اسیر نہیں ہوتا، جس کا حتمی ثبوت سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا عفو و درگزر ہے- یہ تصورِ ہیرو ازم محض مابعد الطبیعاتی نہیں بلکہ مادی اور سائنسی شعور کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جیسا کہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کا جہاز (کشتی) ایجاد کرنا اور سیدنا داؤد (علیہ السلام) کا دفاعی مقاصد کیلیے زرہ بنانا، ہیرو ازم کے تکنیکی اور فلاحی پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہیں-  اسی طرح سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی بولیاں سمجھنا کائناتی ہم آہنگی کی علامت ہے، جبکہ حضرت ذوالقرنین کا طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک کا سفر محض علاقائی تسخیر نہیں، بلکہ عدلِ الٰہی اور حاکمیتِ حق قائم کرنے کی بے مثال جدوجہد ہے-  مزید برآں، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو فرعون کے جبر سے نجات دلانا سیاسی مزاحمت کی معراج ہے، اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام)کا زہد مادی دنیا کی رغبتوں سے مکمل بے نیازی کا وہ مقام ہے جو ایک ہیرو کو دنیاوی ہوس سے پاک کرتا ہے-

انبیائے کرام کے اس آفاقی ماڈل کے شانہ بشانہ، اسلامی ہیرو ازم کا تصور خواتین کی روحانی، فکری اور مزاحمتی اساس کے بغیر نامکمل ہے- اسلام نے عورت کو محض تاریخ کا خاموش کردار نہیں بلکہ حق کی بقا کا ایک فعال استعارہ بنایا ہے- فرعون کے جابرانہ اور استحصالی محل میں سیدہ آسیہ کی حمایتِ حق، دراصل ایک باطل نظام کے عین قلب میں نظریاتی بغاوت کا عظیم ترین ہیرو ازم ہے-  سیدہ ہاجرہ کی سعی (تلاشِ آب و بقا) ایک ماں کی وہ بے مثال جدوجہد اور توکل ہے جسے خالق نے رہتی دنیا تک کے لیے شعائرِ اللہ بنا کر حتمی عظمت بخش دی، جبکہ سیدہ مریم کی پاکدامنی معاشرتی تہمتوں کے خلاف تقدس کی وہ ڈھال ہے جو قیامت تک ایک روشن مثال بن گئی-  اسلامی تاریخ کا یہ روحانی سفر اس وقت اپنی معراج کو چھوتا ہے جب سیدہ آمنہ (علیھا السلام) مکہ کے خشک پہاڑوں میں بیٹھ کر شام کے محلات کو نور سے روشن ہوتا دیکھتی ہیں، جو دراصل ایک عظیم انقلاب کی فکری بصیرت (Vision) تھی- اسی تسلسل میں ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کی لازوال وفا اور بے دریغ قربانیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ تحریکِ حق کا ابتدائی اور سب سے بھاری بوجھ ایک خاتون کی استقامت نے اٹھایا-  علمی اور فکری میدان میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) کا تفقہ (گہرا فقہی شعور) دانشورانہ ہیرو شپ کا نقطہ کمال ہے-  اور جب بات طہارت، حیا ، پردہ داری اور ترکِ دنیا کی ہو، تو مخدومۂ کائنات، سیدۃ النساء العالمین بی بی فاطمۃ الزہراء (رضی اللہ عنہا) کا زہد، پردہ اور تمکنتِ شاہی وہ آفاقی معیار مقرر کرتے ہیں جو قیامت تک کے لیے روحانی اور اخلاقی ہیرو ازم کا غیر فانی ماڈل ہے-

اس ہمہ گیر ہیرو ازم کی عملی جھلک صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) اور اکابرینِ اسلام کی زندگیوں میں پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں ہے-  جہاں حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) کی بے لوث اور وفادارانہ دوستی ہیرو ازم کا ایک پرامن استعارہ ہے، وہیں حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کی حق و باطل میں قطعی فرق کرنے کی بصیرت، حضرت عثمان غنی (رضی اللہ عنہ) کی بے مثل حیا اور حضرت علی المرتضیٰ (رضی اللہ عنہ) کا بحرِ علم، اسلامی ہیرو کے مختلف مگر متوازی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں-  ہیرو ازم کا یہ تصور اس قدر وسعت پذیر ہے کہ اس میں جہاں ایک طرف حضرت امیر حمزہ (رضی اللہ عنہ) کی بے پناہ حکمت و شجاعت شامل ہے، وہیں دوسری جانب حضرت اویس قرنی (رضی اللہ عنہ) کی اپنی والدہ کی خاموش اور بے لوث خدمت بھی ہیرو ازم کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہے-  یہ ایک ایسا نظامِ اقدار ہے جس میں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رضی اللہ عنہ) کی امانت داری کو بھی وہی توقیر حاصل ہے جو حضرت بلال حبشی (رضی اللہ عنہ) کے بدترین تشدد کو صبر سے برداشت کر کے قولِ حق پر ثابت قدم رہنے کو حاصل ہے-

مزید برآں، یہ اصولی ماڈل اپنے اندر اس قدر توازن رکھتا ہے کہ اس میں ایک طرف حضرت ابوذر غفاری (رضی اللہ عنہ) کی درویشی، فقر اور دنیا سے بے رغبتی مستحقِ تحسین قرار پاتی ہے، تو عین اسی وقت حضرت خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ) اپنی ناقابلِ شکست جنگی حکمتِ عملی اور عسکری طاقت کے ساتھ ’’اللہ کی تلوار‘‘کے روپ میں ایک عظیم ہیرو تسلیم کیے جاتے ہیں-  اسی طرح، حضرت حذیفہ بن یمان (رضی اللہ عنہ) کا راز داری (Secret-keeping) میں کمال اور حضرت معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) کی اجتہادی و فکری صلاحیت، ہیرو ازم کے عملی، نفسیاتی اور دانشورانہ پہلوؤں کی تکمیل کرتے ہیں-  مہاجرین کا راہِ خدا میں اپنا سب کچھ ترک کر دینا اور انصارِ مدینہ کا بے مثال اخوت اور ایثار پر مبنی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرنا، اسلامی ہیرو ازم کی وہ اجتماعی اور سماجی جہتیں ہیں جو کسی اور تہذیب کے تصورِ ہیرو ازم میں یاں یکجا نہیں ملتیں-  ان تمام صفات کا مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اسلام کا ہیرو کسی ایک زاویے تک محدود نہیں، بلکہ وہ زندگی کے ہر میدان میں اصول، اخلاق اور حق کی سربلندی کا داعی ہے-  ہیرو ازم کی یہی وہ تمام متفرق مگر کامل صفات ہیں جو اپنے نقطہ عروج پر میدانِ کربلا میں اسوۂ حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ)کی صورت میں یکجا ہو کر ایک ابدی اور آفاقی مزاحمتی ماڈل کی صورت اختیار کر گئیں-

تصورِ مردِ مومن: علامہ اقبال کے ہیرو ازم کا فکری جوہر

علامہ اقبال کا تصورِ ’’مردِ مومن‘‘ درحقیقت انہی انبیائے کرام، مقدس خواتینِ اسلام اور اکابرِ صحابہ کی کثیر الجہتی صفات کا ایک جامع اور شعوری تسلسل ہے-  اقبال کا ہیرو (مردِ مومن) نطشیائی فلسفے کے سپر مین کی طرح محض طاقت کا اندھا پجاری یا اخلاقیات سے عاری حکمران (میکیاولی کا ہیرو) نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسا مجسمۂ حق ہے، جو جلال اور جمال کا ایک کامل امتزاج ہے- اقبال کا مردِ مومن ان آفاقی کرداروں کو اپنا آئیڈیل مانتا ہے جن کی بنیاد میں کامل یقین، صبر اور باطل نظاموں کے خلاف بے خوف مزاحمت شامل ہو۔ وہ ایک طرف فقر، درویشی، حیا اور بے لوث قربانی جیسی قلبی اقدار کا امین ہوتا ہے، تو دوسری جانب تسخیرِ کائنات اور حاکمیتِ حق کے لیے ایک ناقابلِ شکست فکری اور عسکری قوت کا درجہ بھی رکھتا ہے- بالفاظِ دیگر، اقبال کا تصورِ ہیرو ازم تاریخِ اسلام کی ان تمام متفرق اعلیٰ صفات یعنی طہارت، شجاعت، عشق اور عدل کا وہ نقطۂ کمال ہے، جہاں ایک انسان محض طاقت کا مظہر نہیں رہتا، بلکہ کائنات کیلئے سراپا رحمت اور فاسد نظاموں کیلئے ایک ابدی شمشیرِ برہنہ بن جاتا ہے-

 جب اقبال کا یہ تصورِ مردِ مومن تاریخ میں اپنی حتمی اور مجسم شکل تلاش کرتا ہے، تو اس کی نظریاتی اور عملی معراج اسوۂ امام حسین پر آ کر مکمل ہوتی ہے-  گویا اسلامی ہیرو ازم کے تمام تر آفاقی تصورات کی انگوٹھی میں حسینی مزاحمت ہی وہ ابدی نگینہ ہے، جس کے بغیر حق کی بقا اور عشقِ الٰہی کا کوئی خاکہ مکمل نہیں ہوتا -

مغربی/ جدید اوراسلامی/حسینی فلسفہ ہیرو ازم کا تقابلی جائزہ:

ممکن ہے کہ یہ دونوں روایات اخلاقی جرأت، انصاف اور انسانی وقار کے تصور سے خالی نہ ہوں لیکن ان کی بنیاد اور عملی ترجیحات واضح طور پرمختلف رہی ہیں-اس کیلئے اسلامی اور مغربی دونوں فلسفوں میں اخلاقیات کے بنیادی ماخذ یعنی (Foundation of Ethics) کے تصورکوسمجھنا ضروری ہے- اسلامی فلسفے میں اخلاقیات کا بنیادی ماخذ وحی اور اس کا سرچشمہ خدا کا علم ہے جبکہ مغربی فلسفے میں اس کی بنیاد عقل اور اس کا سرچشمہ انسانی فکر و تجربہ ہے- دوسرا مغرب اخلاقیات کے تصور کو فائدے اور نقصان کے تناظرمیں دیکھتا ہے- جیسا کہ جیریمی بینتھم، جان سٹؤرٹ مل وغیرہ- اسلام اخلاقیات کو نفع اور نقصان کے ترازو میں تولنے کی بجائے اسے اصول کی نگاہ سے دیکھتا ہے- مغرب اداروں اور قانون کے ذریعے حقوق کو نافذ کرتا ہے جبکہ اسلام انہیں ان بیرونی اقدامات کے ساتھ ساتھ ایک اخلاقی عزم اور قربانی کے جذبے کی نگاہ سےدیکھتا ہے- مغرب کا زور ظاہری ذرائع پر ہے جبکہ اسلامی نقطہ نظر میں ظاہری ذرائع کے ساتھ ساتھ اندرونی روحانی انقلاب کو بھی ضروری سمجھتا ہے-

جدید تصور کے وجود میں آنے کی بنیاد (Ontology) میں مرکز نظر انسان ہے- یعنی اس تصور کے خاکے کا خالق وہ خود ، اس کیلئے اصول و ضوابط طے کرنے والا وہ خود اور اس کے لیے حق و باطل کے معیار قائم کرنے والا خود ہے- اب چونکہ اس کی وجودی بنیاد کا مرکز ہی انسان ہے تو ہیروازم کے تصور کا خاکہ بنانے کیلئے اس کے علم کا ذریعہ (Epistemology) بھی انسانی عقل و تجربات سےحاصل ہوتا ہے ، جس میں اتنی گنجائش ہے کہ ہٹلر ، سٹالن، مودی اور نیتن یا ھو جیسے سارے سفّاک قاتل اپنی اپنی قوموں کے ہیرو بن جاتے ہیں - پس انسانی عقل و دانش ہی ہیرو ازم کیلئے اخلاقی معیاراور اس کا بنیادی خاکہ وضع کرتی ہے- جیسا کہ دور جدید کے مختلف فلسفوں مثلاً وجودیت(Existentialism)، مفادیت پسندی (Utilitarian) وغیرہ سے ظاہر ہوتا ہے- اسی سبب ان کے وضع کردہ اخلاقی معیار کو نسبتی غیر یقینی تصور اخلاق (Relative Moral Standard) کہا جائے گا- چونکہ اس تصور کا مرکز انسان ، اس کی بنیاد عقلِ ثابت کی بجائے سفاکوں کی سہولت کار عقل اور اس کیلئے درکار اخلاقی معیارات اٹل نہیں توان بنیادوں کے زیرِ اثر اس کے مقاصد انسان مائل اورمحض انسانی سماجی اصلاح و فلاح قرار پاتا ہے جو کہ ظاہری دنیا تک محدود ہے- لہٰذہ نتیجتاً ان کی طرف سے پیش کردہ قربانی اور کامیابی کے معیارات بھی دنیاوی اثرات اور نتائج کے تناظر میں واضح کیےجاتے ہیں-

 اس کے برعکس اگر حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) سے کوئی ہیرو ازم کا فلسفہ اخذ کیا جائے تو اس کی دلیل میں مرکز خدا اور اس کی خوشنودی ہے- اسی لیے ہیروازم کے تصورکا خاکہ بنانے کیلئے بنیادی ذریعہ علم و عقلِ کامل، احکاماتِ الٰہی و اقدار ہے - اسی وجہ سے اس فلسفے کے اخلاقیات کا معیار بھی مختلف ہے یعنی ان اخلاقی اقدار کی پاسداری کیلئے جدوجہد و قربانی ہوگی جو قرآن و سنت کے ذریعے واضح کر دی گئی ہیں- یہ اخلاقی اقدار(Objective Moral Truth) یعنی کہ اصل اور معروضی اخلاقی سچائی ہے - پس اس فکر کے زیر اثر مقصد بھی انسانی سماجی اصلاح کے ساتھ ساتھ دین و حق کا تحفظ و بقاء ٹھہرتا ہے- تاہم ہیرو ازم کی تمام تر خصوصیات اور خوبیوں کو اس ضمن میں عمل میں لایا جائے گا نہ کہ کسی عارضی دنیاوی مقصد کے لیے- حسینی کامیابی کا معیار بھی نتائج پہ منحصر نہیں بلکہ اصول پہ قائم رہنے سے جڑا ہے- جو دنیاوی اثر کے ساتھ ساتھ ابدی حقانیت کا متلاشی ہے-

ہیروازم کے جدید تصورمیں جوبھی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں ان کی مثال آپؓ کے عمل میں نظر آتی ہے اور آپؓ انہیں خصوصیات کے مظہر نظر آتے ہیں لیکن اصل فرق دونوں تصورات کے مرکز و محور، بنیاد و مقصد اور اخلاقی، قربانی و کامیابی کے معیار میں ظاہر ہوتا ہے- مرکزیت کے حوالے سے دورِجدید کے ماڈل مفاد مائل (Interest Centered) ہیں- مثلاً آفاقی تعبیر شدہ حق کی خاطر یا احکامِ الٰہی کے تحت قرار شدہ باطل کے خلاف پوزیشن لینے میں اوراس کیلئے خطرہ مول لینے میں اور مفادات سے تعبیر شدہ معاشرے کی بھلائی کے تصور کے لیے خطرہ مول لینے میں فرق ہے- اسی طرح وضع کردہ اخلاقیاتِ الٰہی جو کہ اٹل اور آفاقی ہے (Absolute Moral Truth) کیلئے جرات اور قربانی کا مظاہرہ کرنا اور بات ہے اور مفادات کی سیاست کے تحت پروان چڑھائے جانے والی اخلاقی توضیحات کے ذریعے وضع کردہ اخلاقیات کے اصولوں کیلئے عملی اقدامات کرنا اور بات ہے- پس جدید ماڈل کو شناخت مغربی تصور ’’نیشن سٹیٹ‘‘ کے تحت وجود میں آنے والی سیاسی/حکومتی مشینری دیتی ہے جبکہ حسینی ماڈل کو شناخت خدا اور تاریخ سے ملتی ہے-

٭٭٭


[1]Franco, Z., Blau, K., & Zimbardo, P. (2011). Heroism: A Conceptual Analysis.

[2]MacLennan, N. (2021). Heroism – What Is It?

[3]Shevchenko, O. (2024). Philosophical concept of heroism

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر