دستک: پاکستان کے معاشی مسائل: قلیل مدتی پالیسی سے طویل مدتی وژن تک

دستک: پاکستان کے معاشی مسائل: قلیل مدتی پالیسی سے طویل مدتی وژن تک

دستک: پاکستان کے معاشی مسائل: قلیل مدتی پالیسی سے طویل مدتی وژن تک

مصنف: جولائی 2026

پاکستان کے معاشی مسائل: قلیل مدتی پالیسی سے طویل مدتی وژن تک

حال ہی میں حکومت پاکستان نے آئندہ مالی سال کیلئے 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد حجم کا سالانہ بجٹ پیش کیا ہے- کل بجٹ کا نصف سے زیادہ حصہ پرانے قرضوں اور   سود کی ادائیگی (Debt Servicing) کی نذر ہو جانے کے باعث جہاں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی دیکھنے کو مل رہی ہے وہیں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ،نوجوانوں کی جدید سائنسی تربیت، بنیادی و اعلیٰ تعلیم، صحت اور گرین انرجی جیسے پائیدار منصوبوں کیلئے کوئی خاطرخواہ رقم مختص نہیں ہوسکی -

1947ء میں آزادی کے وقت معاشی عدم استحکام اور وسائل کی شدید قلت کے باوجود پاکستان نے ابتدائی دہائیوں میں حیران کن معاشی کارکردگی کا مظاہرہ کیا- اگلی دو سے تین دہائیوں میں پاکستان کی اقتصادی پرواز اتنی تیز تھی کہ اس کی سالانہ معاشی ترقی کی اوسط شرح 6 فیصد تک جا پہنچی- مختلف خارجی و داخلی وجوہات کی بنا پر پاکستان کامیابی کی اس رفتار کو برقرار نہیں رکھ سکا اور 1990ء کی دہائی سے ملکی معیشت گراوٹ کا شکار ہونے لگی-حتیٰ کہ  اب ہماری سالانہ معاشی نمو سست ہو کر محض 3 سے 4 فیصد کے درمیان ہچکولے کھا رہی ہے- اس وقت ملکی معیشت کا کل حجم تقریباً 450 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، جبکہ اوسطاً ایک عام پاکستانی کی سالانہ بظاہر آمدنی یا فی کس انکم کا گراف فقط 1600 ڈالر کے ہندسے کو چھو رہا ہے-

جدید دور میں جہاں کثیر آبادی کو بہت سے چیلنجز کہ وجہ گردانا جاتا ہے وہیں اس  آبادی کو ایک اثاثہ کو طور پہ بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے بالخصوص جب کل آبادی کا 65 فیصد کے قریب نوجوانوں پہ مشتمل ہو- لیکن اس افرادی قوت سے فائدہ اسی وقت لیا جا سکتا ہے جب اسے تعلیم  اور جدید ہنر سے آراستہ کیا جائے-اس وقت ملکی مارکیٹ میں مناسب مواقع نہ ہونے کے باعث قریباً 25 ملین (اڑھائی کروڑ) افراد بے روزگاری کا شکار ہیں-  تعلیمی میدان میں ہماری بنیادی اور اعلیٰ تعلیم دونوں ہی جدید ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتیں- ملک میں پڑھنے لکھنے کی عمومی صلاحیت یا بالغوں کی حد تک خواندگی کی مجموعی شرح صرف 60 فیصد کے آس پاس رک گئی ہے-  تعلیم کے روایتی اور کمزور ڈھانچے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ہمارے ہاں ڈگریاں حاصل کرنے والے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے- سائنسی ریسرچ، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم میں فنڈز اور وژن کی اسی شدید کمی کے باعث پاکستان عالمی سطح پر انسانی ترقی کے انڈیکس (HDI)  میں  دنیا کے نچلے ممالک کی فہرست میں شامل ہے-پاکستان کی بقا تقاضا کرتی ہے کہ قلیل مدتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ ایک مربوط اور طویل مدتی قومی وژن ترتیب دیا جائے- جب تک ہم قومی وحدت کے ساتھ اپنی اسمارٹ افرادی قوت اور زرخیز زمین کو جدید سائنسی خطوط پر استوار نہیں کرتے، تب تک معاشی خودمختاری کا خواب ادھورا رہے گا-

پاکستان میں روزگار کا سب سے بڑا سہارا اب بھی زراعت ہی ہے، جہاں ملکی افرادی قوت کا تقریباً 37 فیصد براہِ راست کھیتوں سے وابستہ ہے- ایک محتاط اندازے کے مطابق مجموعی ملکی روزگار کا قریباً 60 سے 70 فیصد حصہ دیہی معیشت کی مرہونِ منت ہے- پاکستان کو موجودہ معاشی بحران اور مستقل بیرونی قرضوں کے چکر سے نکالنے کا واحد پائیدار راستہ یہی ہے کہ روایتی درآمدی معیشت کی بجائے مینوفیکچرنگ، آئی ٹی، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مبنی پیداواری ماڈل کی طرف بڑھا جائے- زراعت میں روایتی طریقوں کے ساتھ مختلف جدید زرعی ٹیکنالوجی کے طریقہ کار کو اپنانا ناگزیر ہے  - زرعی انقلاب پانی کا زیادہ مؤثر استعمال کرے گا، ہماری مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو سستا خام مال فراہم کرے گا، جو ملک میں موجود اڑھائی کروڑ بے روزگار افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کا سبب بنے گا-

 اس کے ساتھ ساتھ  انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ سب سے اہم جزو ثابت ہو سکتا ہے - پاکستان کی اکثریتی نوجوان آبادی کو اگر جدید کوڈنگ، مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کر دیا جائے، تو یہ افرادی قوت گھر بیٹھے ملکی برآمدات میں اربوں ڈالرز کا اضافہ کر سکتی ہے- لہٰذا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کلیدی شعبہ جات کو باہم جوڑ کر ایک ایسا پائیدار اور طویل مدتی قومی معاشی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس کی پالیسیاں حکومتیں بدلنے سے بھی تبدیل نہ ہوں اور یہ کسی طور قومی یکجہتی اور وحدت کے بنا ممکن نہیں-

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر